اپنے جڑواں بھائی سے جعلی شادی اورسہاگ رات کو ہونی والی دونوں بہن بھائی کی اصل چدائی کے چند ہفتے بعد سعدیہ نےمحسوس کیا کہ اس کی ماہواری رک گئی ہے۔ اس کے نپل زیادہ حساس ہو گئے تھے، صبح کی ہلکی متلی نے اسے بتا دیا۔ اسنے کامران سے بتایا۔ دونوں نے فیصلہ کیا کہ ڈاکٹر سے چیک اپ کروا لیں۔ مانچسٹر کے ایک...
پھر کامران اٹھا۔ اس نے اپنی بہن کو آہستہ سے پلٹا، پیٹ کے بل بستر پر لٹا دیا۔ سعدیہ کی بھاری، گداز، گول گانڈ سامنے آ گئی—نرم، چمکتی ہوئی، درار کے دونوں طرف موٹی پھاڑیاں۔ کامران نے دونوں ہاتھوں سے وہ پھاڑیاں کھولیں، انھیں چوڑا کیا، اوراپنی بہن کی گانڈ کی کنواری موری کو دیکھنے لگا۔ چھوٹی، تنگ، بند،...
کامران کی انڈین منگیتر کچھ دیر خاموش کھڑی رہی۔ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ پھر اس نے آہستہ سے اپنی بائیں ہاتھ کیانگوٹھی اتاری
وہ انگوٹھی جو کامران نے اسے چند مہینے پہلے پہنائی تھی۔ اس نے اسے میز پر رکھ دیا، گلوب کے بالکلپاس۔ اس کی آنکھوں میں غصہ بھی تھا، شکست بھی، اور ایک عجیب سا سکون بھی۔ اس نے...
اگلے دو تین دن اور راتیں سعدیہ نے اس بارے میں خوب سوچا۔ کمرے میں اکیلی لیٹی رہتی، کبھی دیوار کی طرف منہ کیے،کبھی چھت کو تکتی ہوئی۔ دل کہتا تھا—یہ غلط ہے، یہ حرام ہے، یہ اپنا سگا جوڑوے بھائی ہے۔ دماغ کہتا تھا—لوگ کیا کہیں گے ، خاندان کیا کہے گا، لیکن رات جب اندھیرا ہوتا تو جسم بولنا شروع کر...
جی سر اپ نے غلطی کی طرف توجہ دلا کر اچھا کیا ہے اس میں برا ماننے والی کوئی بات نہی
اصل میں مجھے لگتا ہے کے جب میں فانٹ کا سائز بڑا کرتا ہوں تو چند الفاظ اپس میں گڈ مڈ ہو جاتے ہیں
میں کوشش کروں گا کے ائیندہ ایسا نہ ہو
باقی اپ اور دوسرے سب دوستوں کے کمنٹس اور سپورٹ کا بہت بہت شکریہ
سعدیہ کی سہیلی نے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے آہستہ سے کہا، انگلیاں اب بھی اس کی ران پر رکھی ہوئی تھیں،
“میں تجھے ایک عورت کے بارے میں بتاؤں۔ وہ ایک ایرانی کارڈ ریڈر عورت ہے۔ اس کا نام مہرین ہے۔ وہ ایک خاص قسمکے گلوب میں دیکھتی ہے… کرسٹل بال جیسا۔ جو بھی پوشیدہ چیز ہو، جو بھی خیال یا واقعہ حقیقت کے...
پھر کچھ دن بعد ایک صبح وہ اپنی سہیلی کے ساتھ پارک کے قریب ایک کھلی سبز جگہ پر ایکسرسائز کرنے آئی۔ یوگا میٹ بچھائی،سانس کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی، لیکن جسم پہلے سے بے چین تھا۔
سعدیہ میٹ پر لیٹی ہوئی اپنے جسم کو سٹریچ کر رہی تھی۔ ٹانگیں کھلی ہوئی تھیں، کمر زمین سے ہلکی سی اٹھی ہوئی۔ اس کی پائجامے...
جوڑواں بہن بھائی کا انوکھا پیار
تیس سالہ سعدیہ ایک ایسی پاکستانی عورت تھی جسے دیکھ کر آنکھ ٹھہر جاتی۔ دلکش چہرہ، گہری سیاہ آنکھیں جن میں ایک خاموشسی اداسی اور خاموش سی خواہش دونوں بستی تھیں، لمبے سیاہ بال جو اکثر وہ سیدھا باندھتی یا ڈھیلا چھوڑ دیتی۔ جسم بھرپور اوربھرا ہوا تھا — بھاری، گول، بھری...
اخری پارٹ
لاہور، ماڈل ٹاؤن۔ گھر اب پہلے والا گھر نہیں رہا تھا۔ گھر دیواروں نے سب دیکھ اورسن لیا تھا، کمرے کے بستروں نے سب سہہ لیا تھا، اور خاموشی اب پردہ نہیں رہی تھی۔
جمعہ کی وہ بارش والی رات سے لے کر اسلام آباد کی سفید چادر تک، ہر رشتہ ایک ہی آگ میں پگھل چکا تھا۔
فوزیہ اب حامد کے کمرے میں...
پارٹ دس
باپ اور بیٹی کی اس سہاگ رات کو ان کے درمیان دوسری بار کی چدائی پہلی چدائی سے بھی گہری اور گندی تھی۔
خالد نے اپنی بیٹی کو الٹا کر تکیے پر منہ دبایا۔
سعدیہ کے سفید کولہے ابھرے ہوئے، رانوں کے درمیان اس کی جوان چوت اب بھی پہلی بار کے رس سے چمک رہی تھی — سرخ، پھیلی ہوئی، ہلکی سی کانپتی...
پارٹ نو
اس شام خالد اور سعدیہ پانچ بجے موٹروے پر نکلے۔ اور رات نو بجے میریٹ ہوٹل اسلام آباد پہنچے۔ ایک بڑے، سنگل بیڈ والے سوٹ میں چیک ان ہوا۔ سامان رکھتے ہی خالد نے اپنے ہینڈ کیری سے ایک بلیک شاپنگ بیگ نکالا اور سعدیہ کا ہاتھ پکڑ کر ہوٹل کے نچلے فلور پر موجود مہنگے بیوٹی پارلر کی طرف لے گیا۔...
پارٹ آٹھ
رات کے دو بجے گھر میں ایک عجیب سی خاموشی چھائی ہوئی تھی، لیکن اس خاموشی کے نیچے چار کمروں میں الگ الگ آگ سلگ رہی تھی۔
حامد کے کمرے میں روشنی بند تھی۔ صرف کھڑکی سے چاند کی ہلکی سی روشنی اندر آ رہی تھی جو بستر پر پڑے ہوے
ماں بیٹے کی ننگے جسموں پر پڑ رہی تھی۔ حامد کی امی اپنے جوان بیٹے...
پارٹ سات
دوسری طرف گھر کی سب سے چھوٹی بیٹی مریم اس دن کالج میں بیٹھی ہوئی تھی اس دن چونکہ چودہ فروری
ویلائنٹان ڈے یعنی لورز کا دن تھا
اس لیے کلاس کی تقریباً ہر لڑکی کے ہاتھ میں سرخ گلاب اور چاکلیٹ کے خوبصورت باکس تھے۔ کچھ لڑکیاں اپنے بوائے فرینڈز کے میسج دکھا دکھا کر باتیں کر رہی تھیں، کچھ...