ایک لمحے کی توجہ نہیں حاصل اس کی
اور یہ دل کہ اسے حد سے سوا چاہتا ہے
تھک گیا ہے دل وحشی میرا فریاد سے بھی
جی بہلتا نہیں اے دوست تیری یاد سے بھی
٭…٭…٭
اے ہوا کیا ہے جو اب نظم چمن اور ہوا
صید سے بھی ہیں مراسم تیرے ،صیاد سے بھی
٭…٭…٭
کیوں سرکتی ہوئی لگتی ہے زمیں یاں ہر دم
کبھی پوچھیں تو سبب شہر کی...
ایک سردار جی نئی نئی سائیکل پر اپنی بہن کے ساتھ جا رہے تھے ۔
ان کے ایک دوست نے ان کی بہن کو دیکھا تو غلط فہمی میں مبتلا ہو گیا اور آواز لگائی،
اوہو ، معشوقاں !
سردار جی تاؤ کھا گئے، بولے، معشوق ہوگی تیری ، میری تو بہن ہے !
:p:p:p
پٹھان میں تمہارے لیے سب کچھ چھوڑ دوں گا۔
لڑکی: امی، ابو
پٹھان: ہاں
لڑکی: اپنے دوست
پٹھان: ہاں
لڑکی: نسوار
پٹھان: او باجی گھر جاؤ تمہارا ابو پریشان ہوتا ہوگا…………….
پہلا دوست: ایک بار افریقہ کے جنگل میں مجھے اور میری بیوی کو آدم خور قبائیلوں نے گھیر لیا ۔ ان کے سردار نے مجھے دیکھ کر کہا کہ وہ چالیس سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کو نہیں کھاتا ۔
دوسرا دوست: اچھا پھر؟
پہلا دوست: پھر کیا یہ زندگی میں پہلا موقع تھا جب میری بیوی نے اپنی عمر کے بارے میں سچ بولا ۔