• 📚 لوو اسٹوری فورم ممبرشپ

    بنیادی ڈیل

    وی آئی پی

    5000
    تین ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    وی آئی پی پلس

    8000
    چھ ماہ کے لیے
    ٹاپ پیکیج
    👑

    پریمیم

    20000
    چھ ماہ کے لیے

Life Story خاکسترِ تمنا( ایک داستان )

Man mojiMan moji is verified member.

Staff member
Super Mod
Joined
Dec 24, 2022
Messages
10,743
Reaction score
344,469
Points
500
Location
pakistan
Gender
Male

قسط نمبر 1


کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ " عاشق بن کر اپنی زندگی برباد مت کرنا " . . .
لیکن وقت كے ساتھ ساتھ بربادی تو طے ہے...، جس کا انتخاب میں نے خود کیا . . .
میں نے وہ سب کچھ کیا...، جس کے زریعے میں خود کو برباد کر سکتا تھا....، اور رہی سہی کسر میرے تکبر نے پوری کر دی تھی . . .
اپنی زندگی كے سب سے اہم چار سال برباد کرنے كے بعد میں آج اِس مقام پر تھا کہ اب کوئی بھی مقام حاصل نہیں کیا جا
سکتا....، پاپا چاہتے تھے کہ میں بھی اپنے بڑے بھائی کی طرح پڑھ لکھ کر بڑا آدمی بن جاؤں . . .
لیکن میں نے اپنی زندگی كے اس اہم وقت میں جب میں کچھ کر سکتا تھا....، میں نے یوں ہی برباد کر دیا....، گھر والے ناراض ہوئے....، تو میں نے سوچا کہ تھوڑے دن ناراض رہیں گے بعد میں سب ٹھیک ہو جائیگا . . .
لیکن کچھ بھی ٹھیک نہیں ہوا....، سب کے طنز دن با دن بڑھنے لگے . . . برباد...، ناکارہ کہہ کر بلاتے تھے سب مجھے گھر میں . . .
اور ایک دن تنگ آ کر میں گھر سے نکل گیا اور اسٹیل ٹاؤن آ گیا اپنے ایک دوست كے پاس...،
یہاں آنے سے پہلے سننے میں آیا تھا کہ میرا بڑا بھائی ظفر بیرون ملک جانے والا ہے...، اور اسکے ساتھ شاید موم ڈیڈ بھی جائیں . . . لیکن مجھ سے کسی نے نہیں پوچھا . . . شاید وہ مجھے یہی چھوڑ کر جانے كے پلان میں تھے . . .
خیر مجھے خود فرق نہیں پڑتا اِس بات سے....، اور آج مجھے اسٹیل ٹاؤن آئے ہوئے تقریباً دو مہینے سے اوپر ہو چکے ہے.....،
میرا بھائی بیرون ملک گیا کہ نہیں...، میرے ماں باپ بیرون ملک گئے کہ نہیں....،
اس بارے میں مجھے کچھ نہیں پتہ اور نہ ہی میں نے ان دو مہینوں میں کبھی جاننے کی کوشش کی اور جہاں تک میرا اندازہ تھا وہ لوگ مجھے مرا ہوا تسلیم کر کے شاید ہمیشہ كے لیے میرے بڑے بھائی كے ساتھ بیرون ملک چلے گئے ہونگے . . .
اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ دُنیا کا سب سے بیکار...، سب سے بڑا بے وقوف....، حتی کہ سب سے بڑا چوتیا کون ہے...، تو میں بنا ایک پل گنواے اپنا ہاتھ اوپر کھڑا کر دونگا اور بولوں گا . . .
" میں ہوں " . . .
اگر کسی کو اپنی زندگی جان بوجھ کر برباد کرنی ہو تو وہ بے شک میرے پاس آ سکتا تھا....، اور بے شک میں اسکی مدد بھی کرتا . . .
اسٹیل ٹاؤن آئے ہوئے مجھے دو مہینے سے اوپر ہو گیا تھا....، جہاں میں رہتا تھا....، وہاں سے تقریباً بیس کلو میٹر کے فاصلہ پر اسٹیل مل کے اندر ایک ایک نیا نیا پلانٹ شروع ہوا تھا . . .
کافی دھکے مکے کھا کر کسی بھی طرح کر کے میں نے وہاں اپنی نوکری پکی کی....، بڑی ہی بدذات قسم کی نوکری تھی....،
بارہ گھنٹے تک اپنے جسم کو آگ میں تپانے كے بعد بس گزارا ہو جائے اتنا ہی پیسہ ملتا تھا . . .
خیر مجھے کوئی شکایت بھی نہیں تھی . . . جیسے جیسے وقت گزر رہا تھا...، میں اس پلانٹ کی آگ میں جل رہا تھا....، جینے كے سارے اَرمان ختم ہو رہے تھے....، اور جب کبھی آسمان کی طرف دیکھتا تو صرف دو جملے میرے منہ سے نکل پڑتے . . .
آسمانوں كے فلک پر کچھ رنگ آج بھی باقی ہے . . .! ! !
جانے ایسا کیوں لگتا ہے کہ زندگی میں کچھ اَرمان آج بھی باقی ہے . . . ! ! !
اور میری سب سے بڑی بدقسمتی یہ تھی کہ میرا نام بھی اَرمان تھا....، جس کے اَرْمان پورے نہیں ہوئے...، یا پھر یوں کہنا ٹھیک ہوگا کہ میرے اَرمان پورے ہونے كے لیے کبھی بنے ہی نہیں تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

" ارمان . . . ارمان . . . اٹھ جا ...، ورنہ لیٹ ہو جائیگا " . . .

شاکر نجانے کب سے مجھے اٹھانے کی کوشش میں لگا ہوا تھا....، اور جب میں نے بستر نہیں چھوڑا تو ہمیشہ کی طرح آج بھی اس نے پانی کی ایک بوتل اٹھائی اور
سیدھے میرے چہرے پر انڈیل دی . . .

میں :
ٹائم کتنا ہوا ہے . . .

آنکھیں رگڑتے ہوئے میں اُٹھ کر بیٹھ گیا...، اور گھڑی پر نظر دوڑائی...، صبح كے آٹھ
بج رہے تھے . . . بھاری من سے میں نے بستر چھوڑا اور باتھ روم میں گھس گیا . . . .
شاکر میرے بچپن کا دوست تھا اور اسی کی وجہ سے میں اسٹیل ٹاؤن میں تھا....، جہاں ہم رہتے تھے....، وہ ایک سوسائٹی تھی....، جو کہ شہر سے تھوڑا دور بنی ہوئی تھی....،
اِس سوسائٹی میں کئی بڑے بڑے امیر لوگ بھی رہتے تھے....، تو کچھ میری طرح گھٹ گھٹ کر زندگی گزارنے والوں میں سے بھی تھے . . .
میرے ساتھ کیا ہوا....، میں نے ایسا کیا
کیا....، جس کی وجہ سے سب مجھ سے دور ہو گئے....، یہ سب شاکر نے کئی بار جاننے کی کوشش کی . . . لیکن میں نے ہر بار ٹال دیا . . .
شاکر پریس میں کام کرتا تھا...، اسکی حالت اور اسکے شوق دیکھ کر اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ اسکی تنخواہ کافی موٹی ہوگی اور اگر مجھے کبھی کسی چیز کی ضرورت ہوتی تو وہ بنا کچھ کہے مجھ پر پیسے لٹا دیتا.....،
یہ جانتے ہوئے بھی کہ میں اسکے پیسے کبھی واپس نہیں کرونگا . . .

شاکر :
اب ناشتہ کیا خاک کرے گا...، ٹائم نہیں بچا ہے . . .

میں باتھ روم سے نکلا ہی تھا کہ اس نے مجھے ٹوکا . . .

شاکر :
اور پی رات بھر شراب...، کمینے خود کو دیکھ....، کیا حالت بنا رکھی ہے . . .

میں :
اب تو صبح صبح بھاشن مت دے . . .

میں نے جھلاتے ہوئے کہا . . .

شاکر :
اکڑ دیکھو اِس لڑکے کی...،

شاکر بولتے بولتے رک گیا....، جیسے اسے کچھ یاد آ گیا ہو . . . وہ تھوڑی دیر رک کر بولا . . .

شاکر :
وہ تیری بچی آئی تھی....، صبح صبح . . .

میں :
کون . . .

میں جانتا تھا کہ وہ کس کی بات کر رہا ہے...، لیکن پھر بھی میں نے انجان بننے کی کوشش کی . . .

شاکر :
نیلم . . .

میں :
نیلم . . .

میں نے اپنا موبائل فون اٹھایا...، تو دیکھا کہ نیلم کی بہت ساری مس کالز آئی ہوئی تھی . . .

میں :
کیا بول رہی تھی وہ . . .

شاکر :
مجھ سے تو بس اتنا بول كر گئی کہ...، اَرمان جب اٹھ جائے تو مجھے کال کر لے . . .

میں :
اوکے . . .

نیلم ہمارے ہی سوسائٹی میں رہتی تھی...، وہ ان عیاش لڑکیوں میں سے تھی...، جن کے والدین كے پاس بیشمار دولت اور جاگیر ہوتی ہے...، جسے وہ اپنے دونوں ہاتھوں سے بھی لٹائے تو بھی ان کے بینک بیلنس پر کوئی فرق نہیں پڑتا . . .
نیلم سے میری پہلے ملاقات سوسائٹی كی پارک میں ہی ہوئی تھی....، اور جلد ہی ہماری یہ پہلی ملاقات بستر پر جا کر ختم ہوئی....،
نیلم ان لڑکیوں میں سے تھی....، جن کا ہر گلی...، ہر محلے میں مجھ جیسا ایک بوائے فرینڈ ہوتا ہے...، جسے وہ اپنی ہوس مٹانے كے لیے استعمال کرتی ہے . . .
اِس سوسائٹی میں میں نیلم کا بوائے فریںڈ تھا..، یا پھر یوں کہنا بہتر ہوگا کہ میں اسکا ایک طرح سے غلام تھا . . .
وہ جب بھی....، جیسے بھی چاہے میرا استعمال کر کے اپنے جسم كی ہوس کو پورا کرتی تھی . . .
دِل میں کئی بار آیا کہ اسے چھوڑ دوں...، اس سے بات کرنا بند کر دوں....، لیکن میں نے کبھی ایسا کچھ بھی نہیں کیا . . .
کیونکہ نیلم كے ساتھ بستر پر گزرا ہوا ہر ایک لمحہ مجھے اپنی برباد زندگی سے بہت دور لے جاتا تھا....، جہاں میں کچھ لمحے كے لیے سب کچھ بھول سا جاتا تھا . . .

شاکر :
چل ٹھیک ہے...، ملتے ہے بارہ گھنٹے كے بعد . . .

شاکر نے مذاقیہ انداز میں کہا . . .
ہر روز کی طرح میں آج بھی اسٹیل مل کے اس پلانٹ میں اپنا خون جلانے كے لیے نکل پڑا.....،
میں ابھی کمرے سے نکلا ہی تھا کی نیلم کا کال پھر سے آنے لگی . . .

میں :
ہیلو . . .

میں نے کال ریسیو کی . . .

نیلم :
گڈ مارننگ شہزادے . . . اٹھ گئے آپ . . .

میں :
اتنی عزت سے کوئی مجھ سے بات کرے...، اسکی عادت نہیں مجھے . . . کال کیوں کی . . .

نیلم :
اوہ ہو . . . تیور تو ایسے ہے جیسے سچ میں شہزادے ہو . . . آج موم ڈیڈ رات میں کسی پارٹی كے لیے جا رہے ہے . . گھر بلکل خالی ہے . . .



میں :
ٹھیک ہے....، رات کو كھانا کھانے كے بعد میں آ جاؤنگا . . .

کچھ دیر تک نیلم کی طرف سے کوئی آواز نہیں آئی اور جب میں کال کٹ کرنے والا تھا تبھی وہ بولی . . .

نیلم :
كھانا....، میرے ساتھ ہی کھا لینا . . .

میں :
ٹھیک ہے ...، میں آ جاؤنگا . . .

نیلم نے مجھے آج رات اپنے گھر پر بلایا تھا....، جس کا مطلب واضح تھا کہ آج مجھے اسکے ساتھ اسی كے بستر پر سونا ہے . . .
نیلم سے بات کرنے كے بعد میں اسٹیل مل کے اس پلانٹ کی طرف چل پڑا...، جہاں مجھے بارہ گھنٹے تک اپنا خون جلانا تھا.....،
میں ہر رات اِس آس میں سوتا ہوں کہ....، صبح ہوتے ہی میرا کوئی بھی خاص دوست میری گانڈ پر لات مار کر اٹھائے گا اور پھر گلے لگا کر بولے کہ . . .

" اٹھ جا کتے...، جو کچھ بھی ہوا....، وہ سب ایک خواب تھا . . . اب جلدی سے چل....، پہلا پیریڈ چڑیل کا ہے...، اگر لیٹ ہوئے تو ہتھیار پکڑ کر پورے پیریڈ باہر کھڑا
رہنا پڑیگا " . . .

لیکن حقیقت کبھی سپنے یا خواب میں تبدیل نہیں ہوتے . . . میں نے اپنے ساتھ بہت برا کیا تھا . . .
یہ بھی ایک حقیقت تھی . . . . جس اسٹیل مل کے پلانٹ میں میں کام کرتا تھا...، وہاں میری کسی سے کوئی جان پہچان نہیں تھی اور نہ ہی کبھی میں نے ان سے ملنے کی کوشش کی . . . . جب کبھی ایک دوسرے کی مدد درکار ہوتی تو
" اوئے . . . گرین شرٹ والے بھائی . . . بلیو شرٹ والے بھائی " . . .
یہ سب بول کر اپنا کام چلا لیتے . . . اس دن میں رات کو نو بجے اپنے روم میں
آیا . . . شاکر مجھ سے پہلے آ چکا تھا . . .

شاکر :
چل ....، ہاتھ منہ دھو لے . . پھر شراب پیتے ہے . . .

ایک ٹیبل کی طرف شاکر نے اشارہ کیا...، جہاں شراب کی بوتل رکھی ہوئی تھی . . .

میں :
میں آج نیلم كے گھر جا رہا ہوں . . .

شاکر :
ارے واہ . . . مطلب آج پوری رات...، لائیو میچ ہونے والا ہے . . .

میں :
لائیو میچ تو ہوگا...، لیکن تماشائی صرف ہم دونوں ہونگے . . .

شاکر :
بہن چود...، مجھے ابھی تک یہ سمجھ نہیں آیا کہ نیلم جیسے ہائی پروفائل لڑکی...، تجھ سے کیسے سیٹ ہو گئی . . میں مر گیا تھا کیا . . .

شراب کی بوتل کو کھولتے ہوئے شاکر نے کہا . . .

شاکر :
اَرمان ...، ایک کام کر . . . تو نیلم سے شادی کر لے . . . لائف سیٹ ہو جائے گی . . .

میں :
مشورہ اچھا ہے ....، لیکن مجھے پسند نہیں . . .

شاکر :
تو پھر ایک اور سریا اٹھا كر گانڈ میں ڈال لے.....، زندگی اور بھی اچھی ہو جاۓ گی . . .

چرتے ہوئے شاکر بولا . . .

میں :
میں چلتا ہوں . . .

یہ بول کر میں کمرے سے باہر آیا . . .
نیلم کی طرح میں بھی چاہتا تھا کہ وہ ہر رات میری ساتھ ہی گزارے...، یہی وجہ تھی کہ میں نے اسے ابھی تک چھوڑا نہیں تھا . . . اور ایک طاقتور انسان سے سیکس کرنے کی آرزو نے بھی اسے مجھ سے باندھ رکھا تھا . . .
وہ ہمیشہ جب بھی مجھ سے ملتی تو یہی کہتی کہ...، تمھارے ساتھ بہت مزہ آتا ہے اور اسکے ایسا کہنے كے بعد میں ایک بناوٹی مسکراہٹ اس پر پھینک كے مارتا ہوں....، جسکا نشانہ ہر بار ٹھیک لگتا ہے . . .

نیلم :
کم . . .

نیلم نے دروازہ کھولتے ہوئے کہا....، اور میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے جلدی سے اندر کھینچ لیا . . .

میں :- ( من ہی من میں )
صبر کر تھوڑی دیر . . .

میں نے اندر ہی اندر کئی گالیاں نیلم کو دی . . اندر آ کر ہم دونوں ڈائیننگ ٹیبل پر بیٹھ گئے.....، وہ میرے سامنے والی کرسی پر بیٹھی مجھے شرارت بھری نظروں سے دیکھ رہی تھی....، میں نے بھی اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالی اور اشارہ کیا کہ میں تیار ہوں . . .
میرا اشارہ پا کر وہ اچانک سے اٹھی اور کھانے کی پلیٹ کو ڈائیننگ ٹیبل پر رکھا کر سیدھے میرے اوپر بیٹھ گئی . . .

نیلم :
تم ڈاکٹر ہو . . .

اپنے گہری لال رنگ كی شرٹ کے بٹنوں کو کھولتے ہوئے اس نے مجھ سے پوچھا . . .

میں :
نہیں....، میں وطن عزیز کا صدر ہوں . . . کچھ کام تھا کیا . . .

میں نے بھی اپنی کھانے کی پلیٹ ڈائینگ ٹیبل پر رکھی اور اسکی جینس کا لاک کھولتے ہوئے بولا . . . اس نے اپنے دونوں ہاتھوں سے میرے سَر کو پکڑا اور پیار سے سہلانے لگی . . .

نیلم :
اَرمان....، تم جانتے ہو مجھے سب سے زیادہ کیا پسند ہے . . .

میں :- ( من ہی من میں )
چدائی . . .

میں من ہی من میں چیخا اور نیلم کی طرف دیکھ کر نہ میں سَر ہلایا...، اب میری نظر نیلم كے چہرے سے ہوتے ہوئے اسکے سینے پر جا اٹکی...، جہاں اسکی چھاتی كے دونوں پھول باہر نکلنے كے لیے بےتاب ہو رہے تھے . . .
نیلم کی نازک گوری کمر کو سہلاتے ہوئے میں نے پکڑا اور اسے اوپر اٹھا کر اسکی جینس کو اسکے گھٹنوں سے بھی نیچے کر دیا....، اب وہ میرے سامنے صرف ریڈ برئیزر اور پینٹی میں تھی....، اسکے گورے چٹے بدن پر یہ رنگ قیامت ڈھا رہا تھا . . .
میرے سینے کو سہلاتے ہوئے نیلم نے میری شرٹ کو اُتَار کر پھینک دیا اور بے تحاشہ میرے سینے کو چومنے لگی....، اِس وقت میرے ہاتھ اسکی چھاتیوں پر اٹکے ہوئے تھے...، میں نے نیلم كے سینے كے ان دونوں ابھاروں کو زور سے پکڑا اور دبا دیا . . .

نیلم :
اوھ . . دهت . . .

وہ بناوٹی غصے كے ساتھ بولی . . .

میں :
نائس برا...، کافی اچھا لگ رہا ہے...، تم پر . . .

اسکی برئیزر کو اسکے جسم سے الگ کرتے ہوئے میں نے کہا . . .

نیلم :
اگر یہ برا....، میرے جسم پر اتنا ہی اچھا لگ رہا تھا تو پھر اسے اتارا کیوں . . .

میں :
کیونکہ اِس برا كے پیچھے جو چیز ہے وہ اس سے بھی خوبصورت ہے . . .

اسکی چھاتیاں اب میرے سامنے ننگی تھی...، اور میں اسکے مموں کو جب چاہے جیسے چاہوں دبا سکتا تھا.....،
ویسے تو میں خود کو اسکا غلام مانتا تھا تھا...، لیکن چدائی کرتے وقت وہ میری غلام ہو جاتی تھی . . .
نیلم كے سینے كے ایک ابھار کو میں نے پیار سے اپنے منہ میں بھر لیا اور دوسرے کو تیزی کے ساتھ مسلنے لگا . . .

نیلم :
منع کیا نہ . . . آہ اوں . . .

میرا ہاتھ ہٹاتے ہوئے وہ بولی . . .

نیلم :
کتنی بار منع کیا ہے...، زیادہ تیزی سے
مت دبایا کرو . . .

میں اِس وقت نیلم سے بحث نہیں کرنا چاہتا تھا...، اس لئے میں نے اسکی بات مان لی اور اپنے ایک ہاتھ کو اسکی چھاتی پر سے ہٹا لیا اور اپنے ہاتھوں سے نیلم کی ننگی پیٹ کو سہلاتے ہوئے اسکی چوت پر اپنا ایک ہاتھ رکھ دیا . . .
میرے ایسا کرنے پر وہ کسی مچھلی کی طرح اُچھل پڑی اور سیسکاریاں لینی لگی......،
میری پینٹ میں بنے ہوئے ابھار کا اسے احساس ہو گیا تھا...، وہ مدہوش سی آواز میں بولی . . .

نیلم :
جلدی . . پلیز . . . آئی کانٹ ویٹ موڑ . . .

میرے لنڈ کو پینٹ كے باہر سے ہی سہلاتے ہوئے نیلم نے کہا . . .
اسکی آواز میں مدہوشی سی تھی . . . جو مجھے بھی مدہوش کر رہی تھی . . .
میں نے نیلم کو اوپر اٹھایا اور میں خود وہاں کھڑا ہو گیا....، کرسی کو پیچھے کرنے كے بعد وہ میرے سامنے گھٹنوں پر بیٹھی اور میری طرف دیکھتے ہوئے میرے لنڈ پر اپنا ہاتھ پھیرنے لگی....، اسکے بعد اس نے میرے لنڈ کو پینٹ سے باہر نکالا اور اپنے ہاتھوں میں تھام کر آگے پیچھے کرنے لگی . . .

نیلم :
تم جانتے ہو ....، تم میں سب سے خاص چیز کیا ہے . . .

میرے لنڈ کو اپنے ہاتھوں سے سہلاتے ہوئے اس نے مجھ سے پوچھا . . .



میں :
لنڈ . . .

نیلم :
بالکل سہی جواب اور آپکو ملتی ہے ایک عدد چوت...، جسے آپ آج رات بھر رگڑ سکتے ہے . . .

نیلم کے ان چند جملوں نے مجھے اور بھی زیادہ پاگل اور مدہوش کر دیا اور ایک یہی وقت تھا....، جب مجھے اسکی چدائی کرنے كے علاوہ اور کچھ بھی یاد نہیں رہتا...،
انہی چند لمحات كے لیے میں آج بھی نیلم كے ساتھ تھا . . .

میں :
میرے انعام کو پردے میں کیوں رکھا ہے . . .

ایسا کہتے ہوئے میں نے اسی وقت نیلم کو پکڑ کر زمین پر لٹا دیا....، اور اسکے رس بھری گلابی چوت کو پردے سے باہر کیا . . .
یہ سب کچھ میں نے اتنی جلدی کیا کہ
نیلم حیران رہ گئی . . . اور پھر مسکراتے ہوئے بولی . . .

نیلم :
بہت جلدی ہو رہی آپکو . . .

میں :
قسم سے تو چیز ہی ایسی ہے . . .

میرے ایسے کہتے ہی وہ خوشی سے مچل اٹھی ....، نیلم کو زمین پر لیٹا کر میں نے ایک بار پھر اسکی چھاتیوں کو مسلنا شروع کیا . . .

نیلم :
آہ. . اوھ . . .

نیلم کا خوبصورت جسم مچل رہا تھا اور وہ شہوت كی انتہاہ کے اختتام پر پہنچ کر اپنے آرگیزم کو دستک دے رہی تھی....،
وہ اِس وقت اتنی مدہوش ہو گئی تھی کہ وہ خود كے ہاتھوں سے اپنے سینے
كے ابھاروں کو رگڑنے لگی اور مجھے اشارہ کیا کہ....، میں وہ سب کچھ کروں....، جس کے لیے آج رات میں یہاں آیا تھا . . .
میں نے نیلم کی گوری چکنی کمر کو پکڑا اور اسے اپنے لنڈ كے ٹھیک اوپر بیٹھا لیا...، اسکی چوت اِس وقت میرے لنڈ كے لمس كے لیے تڑپ رہی تھی . . .
میں نے اسکی تڑپ کم کرنے كے لیے اپنے ہاتھوں سے اسکی چوت کو تھوڑا سا پھیلایا اور سیدھا اپنا لنڈ ایک تیز دھکے كے ساتھ اندر گھسا دیا . . .

نیلم :
اوھ . . آہاں . .

اپنی انگلی کو دانتوں سے دباتے ہوئے وہ بولی...، اس كا چہرہ اِس وقت لال
پیلا ہو رہا تھا.....،
میں زمین پر لیٹا ہوا تھا اور نیلم میرے اوپر بیٹھی ہوئی اپنی گانڈ ہلا کر مزے لوٹ رہی تھی . . .
اِس طرح اسکا درد بھی کچھ کم ہو گیا تھا....، اور اب وہ مستی بھری سیسکاریاں لے رہی تھی . . .
میں نے ایک بار پھر سے اپنی سب سے پسندیدہ جگہ کو پکڑا اور زور زور سے دبانے لگا . . اور تیز رفتاری سے اپنا لنڈ اسکی چوت كے اندر باہر کرنے لگا.....،
کبھی نیلم میرے ہاتھوں کو پکڑ لیتی تو کبھی اپنی چکنی گانڈ کو مٹکاتے ہوئے
آگے پیچھے کرتی . . .
میرے تیز دھکوں كے ساتھ اسکی سیسکاریاں بھی بڑھتی جا رہی تھی....،
اسی دوران میں نے اسکے مموں کو کئی بار بہت تیزی کے ساتھ رگڑا...، اتنا تیزی سے کہ اسکی مستی بھری سیسکاریوں میں اب درد جھلک رہا تھا.....،
لیکن یہ درد وہ اپنی بھاری گانڈ کو آگے پیچھے کر کے سہہ رہی تھی....، ہم دونوں اِس پوزیشن میں بہت دیر تک رہے....، اسکے بعد میں نے نیلم کو الگ کیا اور گھٹنے پیچھے کی طرف موڑ کر بیٹھ گیا اور اسکی رانوں کو سہلاتے ہوئے اسے بھی اپنے اوپر بیٹھا لیا . . .

نیلم :
س س س . . . یہ کیا کر رہے ہو . . .

نیلم حیرت سے بولی . . .

میں :
کچھ نہیں ...، بس اپنا کام کر رہا ہوں . . .

اسکے ننگے بدن پر کس کرتے ہوئے میں بولا اور پھر اپنے لنڈ کو اسکی چوت پر ٹکایا اور ایک زوردار دھکہ مارا . . .
اِس پوزیشن میں میں پہلی بار نیلم کو چود رہا تھا....، اس لئے وہ تیار نہیں تھی....، اور جیسے ہی میرا لنڈ پورا اندر گھسا وہ درد كے مارے زور سے چیخی....، وہ درد سے تڑپ اٹھی اور مجھ سے چھوٹنے کی کوشش کرنے لگی....، لیکن میں نے اسکی کمر کو کس کر پکڑا اور اسکی چوت میں لنڈ اندر باہر کرنے لگا . . .
نیلم نے اپنے ہاتھوں سے میرے لنڈ کو
نکالنے کی بھی کوشش کی....، لیکن اسکے ہاتھ میرا کام بگاڑتے اس سے پہلے ہی میں نے اسکے دونوں ہاتھوں کو پکڑ کر پیچھے سے جکڑ لیا....، اب اسکے پاس لاچار ہو کر چدنے كے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں
تھا.....،
نیلم کی سیسکاریاں اِس دوران لگاتار نکل رہی تھی....، جو مجھے اور بھی گرم کر رہی تھی.....، نیلم کی سیسکاریوں میں درد صاف جھلک رہا تھا . . .
میں نے نیلم کو زمین پر واپس لٹایا اور اسکی ٹانگوں کو پکڑ کر اسے خود كے طرف کھینچا....، اسکے بعد میں نے اسکی دونوں ٹانگوں کو اوپر اُٹھا کر اسکی طرف
موڑ دیا....، جس سے اسکی چوت میرے سامنے کی طرف آ گئی اور بنا ایک پل گنواے میں نے اپنا لنڈ اندر ڈال دیا.....،
نیلم کی چیخ ایک بار پھر پورے گھر میں گونجی....، اسکا گورا بدن....، درد اور مستی سے لال پیلا ہو رہا تھا . . .



نیلم :
میں . . اب . . . آہ . . . اَرمان . . . آئی لو یو . . . . س س س . . .

نیلم جھڑ گئی اور اسکی گلابی چوت سے پانی باہر رسنے لگا....، اب میں نے اسکے گالوں کو تیزی سے سہلایا . . اور سختی کو ساتھ نیلم سے لپٹ کر اور بھی تیزی سے اپنا لنڈ گھسانے لگا . . .
وہ مجھے روکنے کی کوشش کرنے
لگی...، لیکن میں نہیں رکا اور لگاتار اپنا لنڈ اسکی چوت میں دیتا رہا....، اور کچھ دیر كے بعد میں بھی جھڑ گیا . . .
میں اور نیلم اب بھی ایک دوسرے سے لپٹے ہوئے تھے . . . ہم دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر نجانے کیا دیکھ رہے تھے . . .
پھر اس نے ایسا کچھ کہا...، جس کا میں نے کبھی تصور تک نہیں کیا تھا . . . . . . . .



جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Back
Top