قسط نمبر 41
ریاض عاقب کوہلر
”تم جانتے نہیں کہاں گھسنے کی غلطی کر بیٹھے ہو۔“وہ ابتدائی جھٹکے سے سنبھل گیاتھا۔
”اچھا....“استہزائی انداز میں کہتے ہوئے میں نے پستول جیب میں منتقل کیااور جھپٹ کر اس کی گردن دائیں بازو کی گرفت میں لیتے ہوئے مخصوص جھٹکا دیا۔
گردن چھڑانے کو وہ زور سے تڑپا اور پھر ہاتھ پاﺅں ڈھیلے چھوڑ دیئے۔ امید تھی اس نے گھنٹے ڈیڑھ تک ہوش میں نہیں آنا تھا،لیکن میں اسے یونھی چھوڑنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتا تھا۔اسی کی قمیص سے اس کے ہاتھ پشت پر باندھ کر میں نے ازار بند سے پاﺅں باندھے او ر شلوار اس کے منہ پر باندھ دی۔
فارغ ہو کرمیں نے ذیلی دروازہ کنڈی کیا اور محتاط انداز میں اندرونی عمارت کی طرف بڑھا۔ دروازے کے دائیں جانب گیراج تھا جس میں دو کاریں کھڑی تھیں ۔چھوٹا سا صحن اور پھر ڈرائینگ روم کا دروازہ تھا۔ لکڑی کا منقش دروازہ کھول کر میں پستول تانے اندر داخل ہومگر ڈرائینگ روم خالی پڑا تھا۔بائیں جانب غالباََباورچی خانہ تھا۔وہاں کسی کے گنگنانے کی آواز آرہی تھی۔باورچی خانے سے ملحق کھانے کا کمرہ تھا،اس کے ساتھ ایک خواب گاہ بنی تھی جس کا دروازہ بند تھا۔خواب گاہ اور کھانے کے کمرے کے درمیان سیڑھیاں اوپر کو جا رہی تھیں ۔
میرے قدم باورچی خانے کی جانب اٹھ گئے۔وہ چولھے کی جانب متوجہ تھا اور دروازے کی جانب اس کی پیٹھ تھی،دروازے سے اندر ہوتے ہی میں نے زقند بھری،اس سے پہلے کہ وہ سنبھلتایا کچھ سمجھنے کے قابل ہوتامیں نے پستول کو سائیلنسر سے پکڑ کر مضبوط دستے سے اس کے سر کی سختی کا اندازہ کیا۔
”اوغ۔“کی آواز سے وہ لہرا کر نیچے گرنے لگامگر اسے فرش پر گرنے سے پہلے میں نے تھام لیا تھا۔ وہ انڈہ فرائی کر رہا تھا۔توے کو چولھے سے اتار کر میں نے نیچے رکھ دیا کہ انڈہ جل کر بدبو پیدا کر سکتا تھا۔ کچھ لوگوں کی قوت شامہ بہت تیز ہوتی ہے۔ایسا کوئی نمونہ ،جائزہ لینے کو ادھرجھانک سکتا تھا۔پلیٹ میں ایک دو اور انڈے بھی تیار پڑے تھے۔یقینا وہ تمام کا ناشتا تیار کر رہا تھا۔
اسے بھی چوکیدار کی طرح باندھ کر میں نے باوچی خانے کا دروازہ باہر سے بند کیااور خواب گاہ کی طرف بڑھ گیا۔خوش قسمتی سے دروازہ مجھے کھلا ملا مگر اندر کوئی موجود نہیں تھا۔
باہر نکل کر میں محتاط انداز میں سڑھیوں کی طرف بڑھااور دبے قدم اوپر چڑھنے لگا، نصف سیڑھیاں ہی طے کر سکا تھا کہ ایک شخص پکارتا ہوا سیڑھیوں کے سرے پر نمودار ہوا۔”سنیل،کتنے گھنٹے لگ جائیں گے۔“
اس کے نیچے جھانکتے ہی میں سامنے تھا۔
”کون ہوتم۔“باآواز بلند کہتے ہوئے اس نے جیب میں ہاتھ ڈال کرہتھیار نکالنا چاہا۔
ہلکی سی ”ٹھک۔“کے ساتھ اس کے سر میں روشندان کھل گیا تھا۔اسے زخمی کرنے پر اکتفا کر کے میں خطرہ مول نہیں لے سکتا تھا۔
دھڑام سے نیچے گرتے ہوئے وہ ایڑیاں رگڑنے لگا۔
”سریش!کیا بات ہے۔“ایک اور آواز ابھری۔میں زقند بھر کر اوپر پہنچا۔ اسی وقت ایک شخص دروازہ کھول کر باہر نکلا۔مجھے دیکھتے ہی اس نے پیچھے مڑ کر چھلانگ لگانا چاہی مگر گلاک کی گولی اسے مہلت دینے پر تیار نہیں تھی۔ایک اور ”ٹھک نے اسے اوندھے منہ گرا دیا تھا۔اس منزل پر تین کمرے ایک گولائی میں بنے تھے۔ درمیان میں ہال نماخالی جگہ ڈرائینگ روم اور ٹی لاﺅنج وغیرہ کا کام دے سکتی تھی۔وہاں گہرے سبز رنگ کا قالین بچھا کر صوفہ سیٹ رکھے گئے تھے۔
میں بھاگ کر کھلے دروازے کی طرف بڑھا۔ایک لمحہ دروازے پر ٹھہر کر میں نے سماعتوں سے اندر کی سن گن لی اور پھر ایک دم سامنے ہو کر دوبارہ دیوار سے ٹیک لگا لی۔مگر اس سرسری نظر میں کمرہ خالی نظر آیا تھا۔
لمحہ بھر ٹھہر کر میں زقند بھر کر اندر گھسااورچابک دستی سے گھوم کر پورے کمرے کا جائزہ لے ڈالا۔مگر کمرہ خالی تھا۔غسل خانے میں بھی جھانکا مگر کوئی نظر نہ آیا۔
میں چوکیدار سمیت چار بندوں کو ناکارہ کر چکا تھا۔اور میرے خیر خواہ کے بہ قول وہاں تین سے چار افراد ہی موجود تھے۔
باہر نکل کر میں نے بقیہ دو کمروں کا جائزہ لیا۔دونوں کا دروازہ باہر سے قفل تھا۔میں سیڑھیاں چڑھ کر مزید اوپر پہنچا۔چھت پر صرف ایک کمرہ بنا تھا۔اس کے سامنے تھوڑا سا برآمدہ اور باقی چھت خالی تھی۔البتہ چوکندی (مکان کی چھت کی تین چار فٹ کی چار دیواری)بنی تھی۔چھت والے کمرے کوبھی باہر سے کنڈی کیا گیا تھا۔میں نے دروازہ کھول کر اندر جھانکنا مناسب سمجھا،مگر کمرہ خالی نظر آیا۔
میں نیچے اترا ،مقفل دروازوں کی چابیاں مجھے ایک لاش کی جیب سے مل گئی تھیں ۔
پہلا کمرہ خالی پڑا تھا،البتہ اس کی سجاوٹ وآرائش میں مبالغے سے کام لیا گیا ہے۔یقینا کمرہ کسی خصوصی شخصیت کے لیے تھا۔گو سامان تو وہی تھاجیسا کسی بھی اچھی خواب گاہ کا ہوسکتا ہے۔ لیکن سامان کا معیار بہت عمدہ تھا۔جہازی حجم کا ڈبل بیڈجو خصوصی طور پر بنوایا گیاتھا۔قیمتی صوفہ سیٹ،اعلیٰ معیار کے دروازے و کھڑکیوں کے پردے،اے سی ،فرج، دبیز قالین جس میں پاﺅں دھنستے ہوئے محسوس ہوں ۔ دروازے کی بغل میں لگی سنگھار میز پر خوشبو،کریم ،لوشن،باڈی سپرے وغیرہ درجنوں کی تعداد میں دھرے تھے۔چھت کی عمدہ سیلنگ کرکے خوب صورت نقش کاری کی گئی تھی۔
سرسری نظر دوڑا کر میں باہر نکل آیا۔اب آخری کمرہ باقی تھا۔ اور لورا براﺅن کو وہی ہونا چاہیے تھا۔ اندر قدم رکھتے ہی میں نے اطمینان کا گہراسانس لیا تھا۔کمرہ ہر قسم کے سامان سے عاری تھا۔بس فرش پر قالین بچھا ہوا تھا اور اس پر لورا براﺅن بندھی ہوئی پڑی تھی۔دروازہ کھلنے کی آواز پر اس طرف متوجہ ہوئی۔مجھ پرنظر پڑتے ہی اس کے ہونٹوں سے مسرت بھرا۔”ریجا۔“نکلا تھا۔
”کیسی ہو کیپٹن۔“مسکراتے ہوئے میں قریب ہوا اور چاقو سے اس کی بندشیں کاٹنے لگا۔
”مجھے کیسے ڈھونڈا؟“اس کے چہکتے لہجے میں جستجو پوشیدہ تھی۔
”اگرسوچتی ہو ڈیٹ کا وعدہ کر کے چھپ جاﺅ گی تو ایسا ممکن نہیں ہے۔“شرارتی لہجے میں کہتے ہوئے میں اس کی بندشیں کاٹ کر پیچھے ہٹا۔
وہ اٹھتے ہوئے ایک دم مجھے لپٹی اور وارفتگی بھرے لہجے میں مستفسر ہوئی۔”سچ میں میرے ساتھ ڈیٹ پر جانا چاہتے ہو۔“
”نن ....نہیں تو....مذاق کر رہا تھا۔“میں گھبراتے ہوئے اس کی گرفت سے نکلا۔
اس کا نقرئی قہقہ بلند ہوا۔”جانتی تھی ان تلوں میں تیل نہیں ہے۔“
میں نے اسے خطرے سے آگاہ کیا۔”گپ شپ بعد میں ہوتی رہے گی فی الحال ہم خطرے کی حدود میں ہیں ،بلکہ سچ کہوں تو مجھے معلوم ہی نہیں تمھیں پکڑنے والے کون ہیں ۔“
”یہاں تک کیسے پہنچے۔“وہ ایک دم سنجیدہ ہو گئی تھی۔
”کسی خیر خواہ نے رہنمائی کی ہے۔“کہتے ہوئے میں نے جیب سے رقعہ نکال کر اس کی جانب بڑھا دیا۔
”کیسے پڑھوں ؟“اردو میں لکھے رقعے کو الٹ پلٹ کر دیکھتے ہوئے اس نے حیرانی ظاہر کی۔
”معذرت خیال نہیں رہا تھا۔“نادم انداز میں کہتے ہوئے میں نے چٹھی واپس لے لی۔
اس نے اشتیاق ظاہر کیا۔”آپ خودپڑھ کر سنا دیں ۔“
”کچھ لوگ چھپ کر میری نقل وحرکت پر نظر رکھے ہوئے ہیں ۔اپنی حفاظت کے خیال سے وہ سامنے نہیں آنا چاہتے،البتہ پیغام بھیج کر میری رہنمائی کر دی۔اور میرے خیال میں اتنا کافی ہے۔“
”مگر وہ ہیں کون؟“لورا کی حیرانی برقرار رہی۔
دروازے کی طرف مڑتے ہوئے میں نے منہ بنایا۔”تمھیں اندازہ نہیں ہے۔“
وہ میرے پیچھے قدم بڑھاتے ہوئے بولی۔”گویا ممبئی میں پاکستانی جاسوس موجود ہیں ۔“
میں اطمینان سے بولا۔”ممبئی میں اسرائیل کی موساد،امریکہ کی سی آئی اے،روس کی کے جی بی وغیرہ بھی موجود ہوں گے۔“
”شاید میرا سوال برا لگا۔“وہ افسردگی سے بولی۔
تیزی واحتیاط سے سیڑھیاں اترتے ہوئے میں ہنسا۔”احمقانہ سوال کا اور کیا جواب دیتا۔“
”غلطی سے کام تو آجاتے ہو،مگر احسان اتنے جتلاتے ہو کہ آئندہ کو تمھاری مدد لینے سے توبہ کرنے کو دل چاہتا ہے۔“
اسے جواب دیے بغیر میں باورچی خانے میں گھسا۔سنیل نامی شخص اب تک بے ہوش تھا۔ اس کے سر پر میں نے پانی کا جگ الٹایا۔
ہڑبڑاتے ہوئے اس نے آنکھیں کھول دی تھیں ۔
تبھی لورا براﺅن کی نگاہ اس کے چہرے پر پڑی۔طیش بھرے انداز میں قریب ہوئی اور ہونٹوں پر پھول بکھیرتے ہوئے اسے ٹھوکروں پر رکھ لیا۔گالیاں بکنے میں وہ یوں بھی ماہر تھی۔مجھے اندازہ کرنے میں دیر نہ ہوئی کہ سنیل ،لورا براﺅن کے ساتھ نازیبا حرکات کا مرتکب ہو چکا تھا تبھی وہ شعلہ بنی ہوئی تھی۔نہ معلوم سنیل کو انگریزی کی اتنی گہری و دقیق گالیوں کا ادراک ہوبھی رہا تھا یا نہیں ،البتہ لورا براﺅن کی ٹھوکریں گالیوں کی عمدہ تشریح کو کافی تھیں ۔
وہ بے چارہ بھی کیا کرتا جب اتنی خوب صورت و پرکشش لڑکی قابو میں آئے تو کمزور کردار مردوں کا ہاتھوں پر اختیار نہیں رہتا۔
”اس کی خاطر مدارت کرو میں دوسرے کو لے آﺅں ۔“لورابراﺅن کی اشتعال انگیزی میری نظر میں جائز تھی اس لیے اسے کھلی چھوٹ دے کر باہر نکل آیا۔
چوکیدار کو ہوش آچکا تھا۔جسم کو جھٹکے دیتے ہوئے وہ خود کو آزاد کرنے کی ناکام کوشش کررہا تھا۔مجھے دیکھتے ہی۔”اوں ....اوں ۔“کر کے باضابطہ احتجاج کرنے لگا۔
میں نے پاﺅں کھول کر، آزار بند اس کے جکڑے ہوئے ہاتھوں پر باندھا اور قمیص کھول کر اس کا لنگوٹ باندھ دیا ورنہ پہلے تو وہ مادر زاد برہنہ پڑا تھا۔
”اب بغیر چوں وچرا کیے آگے بڑھو ،ذرا سی غلط حرکت تمھیں ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتی ہے۔“ پستول کی نال سے میں نے اسے اندر کی طرف ٹہوکا دیا۔
وہ مرے مرے قدموں سے چل پڑا۔لورا سنیل کو گھسیٹ کر ڈرائینگ روم میں لے آئی تھی۔اس کے چہرے پر خوف و ہراس چھایا ہوا تھا۔سامنے کے دو تین دانت ٹوٹے ہوئے نظر آرہے تھے۔ناک سے بھی خون بہہ رہا تھا،یقینا لورا نے اس کی اچھی خبر لی تھی۔میں نے چوکیدار کے منہ سے کپڑا کھولا اور دونوں کو اکٹھا بٹھا دیا۔
”شروع ہو جاﺅ۔“ نشست سنبھالتے ہوئے میں نے پستول کی نال لہرا کر حکم دیا۔
سنیل ہکلا کر بولا۔”کک....کیا؟“
”تم اچھا نہیں کر رہے،جانتے نہیں ہم کون ہیں ۔“چوکیدا ر نے دھمکی دی۔
”اس نے تمھیں نہیں چھیڑا تھا۔“میں نے مسکراتے ہوئے لورا کو دعوت دی۔
”چھیڑنا معنی نہیں رکھتا۔“نشست چھوڑتے ہوئے وہ چیل کی طرح جھپٹی اور چوکیدار کو ٹھوکروں پر رکھ لیا۔دو تین لمحوں میں چوکیدار کی اکڑ فوں غائب ہو چکی تھی۔لرزتے ہوئے بولا۔
”معاف کر دو پلیز،میں نے تمھیں اغواءنہیں کیا،میں تو ملازم ہوں ۔“
لورا کی سمجھ میں اس کی بات نہیں آئی تھی۔میں فوراََ بولا۔”رکو مادام،اگر انھوں نے تفصیل بتانے سے انکار کیا تو پھر تمھیں زحمت دوں گا۔“
پھولے ہوئے سانس لیے وہ بیٹھ گئی۔میں سنیل کو مخاطب ہوا۔
”بغیر کچھ چھپائے سب کچھ اگل دوکہ تم نے کیوں میری ساتھی کو اغواءکیا۔
اس نے تھوڑی اڑی کی ،لیکن لورا جلد ہی اسے راہ راست پر لے آئی تھی۔اس کی بند زبان کھلی اور ساری گتھی سلجھ گئی۔اس نے جو تفصیل بتائی اس کا لب لباب یہ تھا کہ ان کا تعلق ایک مجرم ٹولے سے تھا۔اور دلچسپ بات یہ کہ ٹولے کا سرغنہ پولیس کا حاضر سروس تھانے دار تھا۔اس گروہ کے زیادہ تر افرادجیپ تراشی، ڈکیتی، اسمگلنگ، نشہ آورادویات ،موٹر سائیکل و گاڑی چوری جیسی واردتوں میں ملوث تھے۔گزشتہ کل لورا براﺅن جس ٹیکسی میں بیٹھی وہ راستے میں خراب ہو گئی تھی۔مجبوراََ اسے ٹیکسی تبدیل کرنا پڑی۔ بدقسمتی سے اس نے ٹیکسی میں بیٹھتے وقت ماسک چہرے سے ہٹا یاہوا تھا۔ تبھی اس پر سنیل کی نظر پڑئی اور اس نے فوراََ پہچان لیاکیوں کہ شکلا کے حکم پر لورابراﺅن کی تصویر تمام تھانوں میں پہنچائی گئی تھی تاکہ میرے ساتھ پولیس والوں کو لورا براﺅن کو بھی پہچاننے میں آسانی رہے۔میری تصاویر اور وڈیو تو خیر ٹی چینلز پر دکھائی گئی تھیں ،البتہ لورا براﺅن کا سرسری سا ذکر ہوا تھا بغیر نام اور تصویر کے ساتھ۔تھانے دار ریوندرمترانے تصویر کی کاپی پولیس والوں کے ساتھ اپنے گروہ کے کارندوں کو بھی دی تھی۔کیوں کہ لورا براﺅن کی تصویر دیکھتے ہی خبیث لٹو ہو گیا تھا۔وہ ایک عیاش شخص تھا۔یہ مکان بھی اس کی عیاشی کا اڈہ تھا۔اس نے اپنے کارندوں کو سارے کام چھوڑ کرلورا کی تلاش پر لگا دیا۔ جونھی سنیل کی نظر لورا پر پڑی وہ ٹیکسی کے تعاقب میں چل پڑا۔ساتھ ہی اپنے قریبی ساتھیوں کو بھی بلا لیا۔ساتھی زیادہ دور نہیں تھے۔ اور موٹر سائیکل ان کے پاس تھی ،انھوں نے سنیل تک پہنچنے میں دیر نہیں لگائی تھی۔انھیں لورا براﺅن کے بارے ضروری معلومات معلوم تھیں تبھی منصوبہ بندی سے اسے شکار بنایا۔ممبئی کی بھیڑ میں جب تک لورا اپنے ٹھکانے تک پہنچتی وہ موٹرسائیکل کی سوار ی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کے قریب پہنچ گئے تھے۔ایک سرخ اشارے پر جب ٹیکسی رکی سنیل نے عقبی شیشے کے کھلے ہونے کا فائد اٹھا کر ایک دم زود اثر بے ہوشی کا سپرے لوراکے چہرے پر کیااور لورا بغیر مزاحمت کے بے ہوش ہو گئی۔جب تک ڈرائیوراحتجاجی آواز بلند کرتا،سنیل کا ساتھی سریش عقبی سیٹ پر بیٹھ کر ڈرائیور کی پیٹھ پر پستول کی نال ٹیک چکا تھا۔اس کے بعد وہ آسانی سے لورا براﺅن کو اس مکان میں لے آئے تھے۔ اب لورا کی خوش قسمتی تھی کہ تھانے دار ریوندر متراعارضی طور پر ممبئی سے باہر تھا۔ لورا کے ہاتھ آنے کی خبر سنتے ہی ریوندر نے اسے قید رکھنے کی ہدایت کی۔اس کی آمد شام تک متوقع تھی۔آج کی رات وہ لورا براﺅن سے اپنی ہوس پوری کرتا اورپھر اسے را کے حوالے کیا جاتا۔یہ بھی ممکن تھا وہ خبیث ایک رات کافی نہ سمجھتا اور لورا کو چند راتیں مسلسل عذاب کاٹنا پڑتا۔سنیل اور اس کے ساتھی ریوندر کے شکار پر ہاتھ تو صاف نہیں کر سکتے تھے،البتہ تھوڑی بہت بے ہودگی سے باز نہیں آئے تھے۔ اسی وجہ سے لورا ان پر تپی ہوئی تھی۔بے چاری یہ نہیں جانتی تھی کہ اصل اذیت سے بچ گئی تھی،جو ریوندر مترا جیسے ذہنی مریض کے ہتھے چڑھ کر اسے پہنچنا تھی۔
میں لورا کی طرف متوجہ ہوا۔”معلومات تو نچوڑ لیں ،اب ان کا کیا کریں ؟“
اس نے منہ بنایا۔”میرے پلے تو کچھ نہیں پڑا۔“
میں نے تفصیل کا نچوڑ اسے بھی بتا دیا۔
نشست چھوڑ کر وہ سنیل کے قریب پہنچی،ایک ہاتھ اس کے سر پر اور دوسرا ٹھوڑی پر رکھ کر مخصوص جھٹکا دیا۔سنیل اذیت سے ہاتھ پاﺅں جھٹکنے لگا تھا۔
وہ نشست سنبھالتے ہوئے اطمینان سے بولی۔ ”دو آدمی ہیں ،ایک کا فیصلہ میں نے کر دیا ہے دوسرا تمھارے ذمہ۔“
چوکیدار کا رنگ خوف سے زردپڑ گیا تھا۔تھرتھر کانپتا ہوا بولا۔”بھگوان کاواسطہ مجھے چھوڑ دو۔“
میں نے پوچھا۔”رنوندر مترا کو کیا بتاﺅ گے،یہاں کیا ہوا تھا۔“
”بھگوان کی سوگندھ،جو آپ کہیں گے وہی بتاﺅں گا۔“وہ قسمیں کھانے لگا۔
لورا کی طرف مڑتے ہوئے میں نے الجھن ظاہر کی۔”مجھے اس کی ہلاکت کی وجہ نہیں مل رہی۔“
اس نے حیرانی سے پوچھا۔”کیا چھوڑنا نقصان دہ ہوگا؟“
”تبھی تو مشورہ کیا ہے۔“
اس نے خیال ظاہر کیا۔”یہ اپنے سرغنہ کو زیادہ سے زیادہ اس واقعے کی تفصیل ہی بتا سکتا ہے۔اور میرا نہیں خیال اس میں ہمیں نقصان پہنچنے کا احتمال ہے۔“
”تو پھر اس بے چارے کو کیوں مارا۔“ سنیل کی لاش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے میں نے منہ بنایا۔”تمھارے جسم کو چھونے کی اتنا کڑی سزا تو نہیں بنتی تھی۔“
اس نے سنجیدگی سے دلیل دی۔”مجھے چھونے کی سزا یہ پہلے ہی کاٹ چکا تھا،لیکن ایسے افراد معاشرے کا ناسور ہوتے ہیں ۔جن کا علاج کاٹنے کے علاوہ نہیں ہوسکتا۔جبکہ چوکیدار ایک عام ملازم ہے۔وہ براہ راست جرائم میں ملوث نہیں ہے۔“
میں نے متفق ہوتے ہوئے کہا۔”پھر تلاشی لے کر نکلتے ہیں ۔“اس نے اثبات میں سر ہلادیا
چوکیدار کی مشکیں کس کر وہیں پھینکا اور سرعت سے تلاشی لینے لگے۔ریوندر مترا کی خواب گاہ میں مضبوط لوہے کی تجوری نظر آئی ،پستول کی دو گولیاں ضائع کرنے پر قفل کھل گیا تھا۔وہاں نوٹوں کی چند گڈیوں کے علاوہ اس کے کافی کالے کرتوتوں کے ثبوت موجود تھے۔ہم نے رقم قبضے میں کی، ساری دستاویزات ڈرائینگ روم میں لا کر رکھیں اور وہاں موجود شراب کی بوتلیں توڑ کر خواب گاہ کے سامان کو آگ لگا دی۔الکوحل کی وجہ سے آگ بھڑک اٹھی تھی۔امید یہی تھی کہ دھواں اور شعلے دیکھتے ہی لوگ متوجہ ہوتے اور آگ بجھانے آتے۔ایسے حادثات پر میڈیا کے نمائندے سرعت سے موقع پر پہنچتے ہیں ۔اور یوں ڈرائینگ کی میز پر موجود ریوندر کے کالے کرتوتوں کی دستاویزات کسی ایسے پاس جانے کی امید موجود تھی جو اسے کھڈے لائن لگا دیتا۔
ہم تیزی سے باہر نکل کر اپنی کار کے پاس پہنچے اگلے چند منٹ میں ہم کھولی کی جانب روانہ ہو گئے تھے۔لورا عقبی نشست پر بیٹھنے کے بجائے لیٹ گئی تھی۔ڈیڑھ دو گھنٹوں میں ہم اپنے ٹھکانے پر موجود تھے جسے گزشتہ کل میں نے غیر محفوظ سمجھتے ہوئے چھوڑ دیا تھا۔مگر لورا کی بازیابی کے بعد وہاں رہنے میں بہ ظاہر کوئی خطرہ نظر نہیں آرہا تھا۔
اطمینان حاصل ہوتے ہی میں لورا کو ڈانٹنے لگا۔”تم اتنی غیر ذمہ داری اور حماقت کا مظاہرہ کیسے کر سکتی ہو۔ بہروپ نہ ہونے کے باوجود ماسک اتار کر بیٹھی تھیں ۔اور اتنی آسانی سے دو تین اچکوں کے ہاتھ چڑھ گئیں گویاگھریلو خاتون ہو۔“
ندامت سے سر جھکاتے ہوئے وہ دھیرے سے بولی۔”غلطی ہو گئی۔“
میں تپتے ہوئے بولا۔”شکر کرومجھے تمھارے محبس(قید خانے)کا پتا چل گیا تھا ورنہ آج رات جو کچھ ہوتا تم شکلا کی درندگی کو بھول جاتیں ۔“
وہ ہونٹ کاٹتے ہوئے خاموش رہی۔اور ایسا پہلی بار ہو رہا تھا کہ وہ ندامت کے اظہار کے ساتھ جوابی طنز سے باز رہی تھی۔
”تمھاری شکل ایسی ہے کہ لاکھوں میں بھی پہچانی جاﺅ گی۔مقامی زبان سے بھی ناواقف ہو،ایسے میں زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہوتی ہے۔“اسے نادم پا کر میں نے چند نصیحتیں جھاڑنا ضرری سمجھا۔
مجھے گہری نظروں سے گھورتے ہوئے اس نے قریب آکر نشست سنبھالی اور میرا ہاتھ تھامتے ہوئے ممنونیت سے بولی۔
”شکریہ ریجا،تمھاری وجہ سے میری جان اور عزت بچی۔آئندہ ایسی بے پروائی کا مظاہر نہیں کروں گی۔“
”سب سے پہلے تو تمھارا حلیہ تبدیل کرنا ہوگا۔“نرمی سے اس کی گرفت سے ہاتھ چھڑاتے ہوئے میں بیگ کی طرف بڑھااورمیک اپ بکس نکال لایا۔
اسے رنگ تبدیل کرنے والی لوشن کی بوتل پکڑا کر میں دوسرا ضروری سامان نکالنے لگا۔بغیرچوں چرا کیے اس نے لوشن کی شیشی پکڑی اور کہنیوں تک ملنے لگی۔پھر چہرے، گردن اور گردن سے نیچے کا علاقہ جو قمیص سے نظر آسکتا تھا کوبھی سانولا کر دیا۔ میں نے سیاہ لینز اس کی آنکھوں پر چڑھائے،ستواں ناک کو موٹا کرنے کو مخصوص اسپرنگ اندر ڈالے۔بالوں کو لوشن سے سیاہ کیااور لورا نے ایک بار پھر مقامی دوشیزہ کا روپ دھار لیا۔وہ لوشن اسپرٹ کے استعمال ہی سے صاف ہوتا تھا۔پانی ،صابن وغیرہ کا اس پر کوئی اثر نہیں پڑتا تھا۔
حلیہ تبدیل کر کے اس نے آئینے میں صورت دیکھی اور شرارت سے مسکرائی۔”ریجا،سچ بتاﺅاس حالت میں خوب صورت لگتی ہوں یا اصل شکل میں ۔“
میں اطمینان سے بولا۔”دونوں حالتوں میں نہایت بد صورت۔“
اس نے برہمی ظاہر کی۔”لڑکیوں کو ایسے مذاق بالکل اچھے نہیں لگتے۔“
میں ہنسا۔”مذاق کون کم بخت کر رہا ہے۔“
اس نے ہونٹ سکیڑے۔”کسی بے ہودہ سے پوچھنا ہی غلط ہے۔“
”تودھریندر شکلا یا ریوندر مترا سے پوچھ لیتیں ۔“
”بکواس بند کرو۔“تکیہ پھینکتے ہوئے وہ چلائی۔
میں نے فوراََ موضوع تبدیل کیا۔”اچھا مذاق چھوڑو اور آگے کا لائحہ عمل بتاﺅ۔“
”یہ سب تمھاری وجہ سے ہوا ہے،ہمارا منصوبہ نوے فیصد مکمل ہو گیا تھا۔نہ تم اس دھوکے باز میجر کی رعایت رکھتے اور نہ یہ سب کچھ ہوتا۔“
میں تلخ ہوا۔”بکواس نہ کرو وہ میری بہن ہے۔“
اس نے استہزائی انداز میں کہا۔”منہ بولی،بلکہ نقلی بہن ہے جسے صرف اپنے فائدے ،نقصان سے غرض ہے۔“
میں بگڑگیا۔”اس کا خلوص پرکھنے کو تمھیں کس نے قاضی بنایا۔“
وہ اپنی لے میں شروع رہی۔”مشرق کی احمقانہ روایات دیکھ کر ہنسی آتی ہے۔“
میں تپ کر بولا۔”اور اپنے گریبان میں جھانکنے کو کسی نے منع کیا ہے۔“
وہ اپنے موقف پر ڈٹی رہی۔”ہم تمھاری طرح بے وقوف نہیں ہیں کہ فضول اخلاقیات میں اپنے فائدے نقصان کو نہ جانچ سکیں ۔“
”ان فضو ل اخلاقیات ہی کی بدولت تم عزت و جان بچا پائی ہو۔
وہ بپھر کر بولی۔”اسے اخلاق نہیں اصول کہتے ہیں ،اگر تم پکڑے جاتے تو میں بھی تمھیں چھڑانے کی کوشش کرتی۔ ہمارا مشن ایک ہے۔میں تمھارے شانہ بہ شانہ لڑ رہی ہوں ۔را کی میجر اور میرا موازنہ کرنا تمھاری غلط و احمقانہ سوچ ہے۔“
میں طنزیہ انداز میں بولا۔”شکلا کو مارنا میرا مشن کب سے ہو گیا۔اور حب الوطنی کا تقاضا اور اپنے پیشے سے ایمان داری کا تقاضا یہی ہے جو ممتا دیدی کر رہی ہیں ۔اگر انھوں نے پاکستان کو نقصان پہنچانے کی نیت سے سرحد عبور کی توان کی راہ میں پہلی رکاوٹ میں بنوں گا۔باقی تمھارا اور ان کا موازنہ نہیں ہوسکتا۔بلاشبہ تمھارے مقابلے میں میرا ووٹ ہمیشہ ممتا دیدی کو جائے گا۔“
اس کے چہرے پر غم و غصہ نمودار ہوا۔”تم میری توہین کر رہے ہو۔“
”تم خود مجھے اس نہج تک لائیں ۔میری بہن کے متعلق بکواس کرو گی تو....
ع میں بھی منہ میں زبان رکھتا ہوں ۔“
وہ شاکی ہوئی۔”تو تمھارے نزدیک میری یہ اہمیت ہے۔“
”جب تمھارے نزدیک میرے پیاروں کی کوئی اہمیت نہیں تو مجھ سے کیوں امید رکھتی ہو۔“
”ہاں رکھتی تھی امید،کیوں کہ بغیر کسی لالچ و غرض کے تم نے میرا ساتھ دیا،مجھے اتنی اہمیت دی۔ خیال رکھا،مان دیا ،عزت دی۔میری خاطر جان خطرے میں ڈالی۔نہ کوئی تقاضا کیا،نہ مطلب ظاہر کیا،نہ مجھ پر ہوس بھری نگاہ ڈالی۔سمجھنے لگی تھی کہ مجھ سے محبت کرتے ہو۔غلط فہمی میں مبتلا ہو گئی تھی کہ مجھے چاہتے ہو۔بے شک میں تمھیں نہیں چاہتی لیکن تمھاری اچھائی اور ہمدردی نے میرے دل میں بھی تمھاری عزت ،وقار و پسندیدگی بھر دی تھی۔ شکریہ کہ میری آنکھیں کھول دیں ۔پہلے ہی دن واضح کر دیتے تو تمھیں زحمت نہ دیتی۔سوچا تھا مشن کے اختتام پر تمھارے ساتھ ڈیٹ پر جانا تمھاری خدمت کا معاوضا ہوگا۔مگر میں بے وقوف تھی۔معذرت ریجا صاحب!آئندہ اپنی جنگ خود لڑوں گی۔زیادہ سے زیادہ ہار ہی مقدر بنے گی ناں ،یوں بھی اپنی عزت ،دولت و مقام تو گنوا چکی ہوں ،اکیلی جان کا کیا کروں گی۔“اس کی آنکھوں میں نمی نمودار ہوئی۔اور نشست چھوڑ کر وہ بیرونی دروازے کی طرف بڑھ گئی۔
میرا ماتھا ٹھنکا،یقینا اسے لاعلمی میں رکھنا میری حماقت تھی۔اگر اسے معلوم ہوتا کہ شکلا کے خلاف اس کی مدد میں اپنی غرض سے کر رہا ہوں تو وہ دل میں کبھی غلط فہمیاں نہ پالتی۔انڈیا میں اس کی حیثیت بے یارو مددگار لڑکی کی تھی۔اور میری مدد کو کوئی دوسرا رنگ دینا اتنا بھی غلط نہ تھا۔یوں بھی عورت کی فطرت میں ہے کہ کوئی اسے توجہ کے قابل جانے اور مدد پر کمربستہ رہے تو اس کے لیے دل میں لطیف جذبات پال لیتی ہے۔یہ تو شکر تھا اس نے اپنی محبت کا اعتراف نہیں کیا تھا۔
”ایک منٹ لورا۔“ سرعت سے قریب پہنچ کر میں نے اس کی کلائی تھامی۔”میری آخری بات سن لو پھر چلی جانا۔“
”کوئی ضرورت نہیں ۔“گلو گیر لہجے میں کہتے ہوئے اس نے کلائی چھڑانا چاہی۔
”میری طرف دیکھو۔“میں نے کندھوں سے پکڑ کر رخ اپنی جانب موڑا۔اس کی آنکھوں میں تیرتی نمی نکلنے کو بے تاب تھی۔
”سچ بتاﺅ،کیا دو بیویوں کے ہوتے ہوئے میرے پاس کسی سے محبت کی گنجائش ہے۔“میں نے مزاحیہ انداز اپناتے ہوئے اسے ہنسانا چاہا۔
زخمی نظروں سے مجھے گھورتے ہوئے اس نے سر جھکا لیا تھا۔
”آﺅ تمھیں حقیقت بتاﺅں کہ شکلا کے خلاف کیوں تمھاری مدد کی۔“اس کے کندھوں پر بازو رکھ میں دوستانہ انداز میں چلاتے ہوئے چارپائی تک لایا،ساتھ بٹھا کر اس کا ہاتھ تھاما اور پیار سے سہلاتے ہوئے بولا۔
”میری انڈیا آمد کا مقصد شکلا کو انجام تک پہنچاناہے۔قدرت نے ہمیں اکٹھا کر دیا، بلا شبہ تمھارا ساتھ بہت قیمتی اور مفید تھا۔ایک سنائپر کا بغیر کسی معاوضے و اجرت کے میسر آجانا نعمت غیر مترقبہ سے کم نہیں ۔تبھی تمھیں اتنی اہمیت دی،عزت دی اور خیال رکھا۔اس میں تمھارے لڑکی ہونے یا خوب صورت و پر کشش ہونے کی کوئی وجہ شامل نہ تھی۔البتہ تمھیں چھیڑنے کو کبھی کبھار مذاق کر لیتا کہ دو دوستوں کے بیچ ایسی گپ شپ چلتی رہتی ہے۔ورنہ ایمان سے بتاﺅ کبھی میرے اطوار سے کوئی ایسی خواہش جھلکتی نظر آئی جس سے شبہ پڑے کہ تم سے جسمانی تعلقات کا تمنائی ہوں ۔“
وہ غیر یقینی سے بولی۔”جھوٹ نہ بولو،شکلا سے تمھاری کیا دشمنی ہے؟“
”شکلا کے کردار پر بات کرنا یقینا وقت کا زیاں ہوگا،تم اسے قریب سے دیکھ و پرکھ چکی ہو۔یہ خبیث کافی عرصہ کشمیر کے محاذ پر تعینات رہ چکا ہے۔وہا ں اس کے مظالم کی فہرست بہت طویل ہے۔اور مجھے ایک مجاہد ہی نے اس کے خلاف کام کرنے کی درخواست کی ہے۔میری یہاں آمد میں پاکستانی سرکار کی منشا یا ضرورت شامل نہیں ہے۔بلکہ اسے تم کسی کا ذاتی بدلہ لینے کی خواہش سمجھ سکتی ہو۔میرے ساتھ ایک مددگار بھی آیا تھاجوایک حملے میں شہید ہوگیااس کے بعد میں اکیلا تھا۔تمھارے ساتھ کو خوش قسمتی جانا۔بس اپنامشن خفیہ رکھنے کو حقیقت چھپائے رکھی،کیوں کہ میں نہیں چاہتا تھاپکڑے جانے پر تم ذرا سے تشدد پر سب کچھ اگل دو۔“
”اپنے اللہ کی قسم کھاﺅ کہ تم سچ کہہ رہے ہو۔“
میں خلوص دل سے بولا۔”اللہ پاک کی قسم میری انڈیا آمد میں شکلا کا خاتمہ بھی شامل ہے۔“
وہ مشکوک لہجے میں بولی۔”بھی کا کیا مطلب؟“
”شکلا کی موت کے بعد ایک اور کام بھی کرنا ہے،مگر اس کے بارے جاننا تمھارے لیے ضروری نہیں ۔“
اس کے چہرے پر مسرت ابھری۔میری پیٹھ میں مکا مارتے ہوئے وہ چلائی۔”دھوکے باز،مجھے الو بنائے رکھا۔“
میں نے شرارتی لہجے میں کہنا چاہا۔”وجہ تمھیں پتا ہے،میرا مطلب ڈیٹ........“
میرا ہاتھ تھامتے ہوئے وہ ممنونیت سے بولی۔”اعتماد کرنے کا شکریہ ریجا۔اور وعدہ کرتی ہوں شکلا کی موت کے بعد تم دوسرے مشن میں مجھے شانہ بہ شانہ پاﺅ گے۔اور ہاں مجھے تمھاری دوستی پر ہمیشہ فخر رہے گا۔“
”تو اب اگلا لائحہ عمل طے کرتے ہیں ۔“میں نے اسے موضوع کی طرف گھسیٹا۔
وہ اپنی چارپائی کی طرف بڑھ گئی۔ کمبل لپیٹ کر اس نے تکیے پر کہنی ٹیکی۔”کرن چاولہ کو دوبارہ گھیرنے کے بارے کیا خیا ل ہے۔تمھاری باجی ہر وقت تو اس کے ہمراہ نہیں ہوتی۔“
میں نے نفی میں سرہلایا۔”اب دفتر کے علاقے میں اسے گھیرنے کا خیال ایسے ہی بھول جاﺅجیسے ایس آر ون کی درستی کا خیال دماغ سے نکال چکی ہو۔کرن چاولہ جیسا خبیث بار بار قابو نہیں آیاکرتا۔باقی اس سے کوئی دشمنی تو ہے نہیں کہ قتل کرنے کا منصوبہ بنایاجائے۔“
لورا پوچھنے لگی۔”کیا اسے ہمارے مقصد کی سن گن ہو گئی تھی۔“
”نہیں ،اب تک ہم نے دستاویزات کی بات نہیں چھیڑی تھی۔“
”کوئی ماہر قفل شکن ڈھونڈ کر اس کی تجوری کھولنے کی کوشش کرنے کے بارے کیا خیال ہے۔“
”ایسا ماہر کہاں سے ڈھونڈیں گے۔اور پھر اس کے دفتر کا رخ کرنا بھی تو خطرے سے خالی نہیں ۔ اگر تجوری میں شکلا کے خلاف ثبوت موجود ہیں تویقیناتجوری کی حفاظت سے وہ غافل نہیں ہوگا۔“
لورا نے احتجاج کیا۔”تم مفروضوں پر بات کر رہے ہو۔“
”ایسا بس تمھیں لگتا ہے مادام!ورنہ یقین کروشکلا کے خلاف ثبوت جمع کرنے کے بارے کرن چاولہ نے ہزار بار سوچاہو گا۔اور اکٹھے کرنے کے بعد ان کی حفاظت کا خاطر خواہ بندوبست بھی ضرور کیاہو گا۔یہی وجہ تھی کہ پہلے بھی میں نے اسے دور سے گھیرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔“
وہ پرخیال لہجے میں بولی۔”ایک اور منصوبہ میرے ذہن میں شروع دن سے ہے،مگر ڈرتی ہوں تمھارے اخلاقیات نہ آڑے آجائیں ۔“
میں نے اسے اکسایا۔”مقصد کے حصول کو کئی اخلاقی قدروں کی قربانی دینا پڑتی ہے۔اس لیے تم بے فکر ہو کر پھوٹو۔زیادہ سے زیادہ انکار ہی کروں گا ناں ۔“
”انڈیاآمد سے پہلے میں نے اس کے بارے معلومات اکھٹی کی تھیں ۔شکلا کی ایک کمزوری ایسی ہے جس پر عام لوگوں کی نظر نہیں جاتی یا اس کے ڈر سے کوئی اس طرح توجہ نہیں دیتا۔“
”بولتی رہو۔“اس کے خاموش ہونے پر میں نے شہہ دی۔
وہ چند لمحوں کے توقف کے بعد بولی۔”اپنی نواسی پری اسے جان سے پیاری ہے۔سنا ہے اپنی سگی بیٹی کو اس خبیث نے خود قتل کرایا تھا۔بعد میں پچھتاوں کی لپیٹ میں آگیااور کفارے میں بیٹی کی محبت نواسی کی طرف منتقل ہو گئی۔اگر اسے اغواءکر لیں تو تمام مطالبات منوا سکتے ہیں ۔“
میں سوچ میں پڑ گیا۔لورا براﺅن کا منصوبہ میرے لیے بہت فائدہ مند تھا۔نجانے پہلے میرا دھیان اس طرف کیوں نہیں گیا تھا۔
وہ شرارتی انداز میں ہنسی۔”تم نے بھی اس سے شادی کی خواہش ظاہر کی تھی۔شادی نہ سہی شکلا سے بدلہ لینے کو تمھیں پورا موقع دوں گی۔“
میں بپھر کر بولا۔”کیا تمھارے دماغ میں اتنا گند اور غلاظت بھری ہے۔“
وہ کھل کھلا کر ہنسی۔”مذاق کر رہی تھی یار!“
میں چارپائی پر لیٹ کر کمبل میں گم ہو گیا۔لورا براﺅن کا منصوبہ مجھے پسند آیا تھا۔
وہ ندامت سے بولی۔”اچھا سوری ناں ،آئندہ ایسا نہیں کہوں گی۔اور تم نے خود ہی منصوبہ سننے میں دلچسپی ظاہر کی تھی ،اب خفا تو نہ ہوجاﺅ۔“
میں نے وضاحت کی۔”اس منصوبے سے کون احمق اختلاف کر رہا ہے۔تمھاری بکواس پر غصہ آگیا تھا۔“
”سچ۔“اس کے لہجے میں تعجب انگیز مسرت تھی۔
”تمھیں بہت پہلے یہ تجویز بتانا چاہیے تھی،خواہ مخواہ اتنا وقت ضائع کرایا۔“
وہ پر جوش لہجے میں بولی۔”اب آئے گا مزا۔“
جاری ہے
قسط نمبر 42
ریاض عاقب کوہلر
رات کو کھانے کے بعد ہم پرماانصاری کو ڈھونڈنے کا لائحہ عمل طے کرنے لگے۔شکلا کی کوٹھی ہم دیکھ چکے تھے۔اور یہ بھی جانتے تھے کہ وہاں پرما موجود تھی۔مگر کوٹھی میں داخل ہو کر پرما کو اغواءکرنے کی کوشش کرنا خودکشی کہلائی جاتی۔ بیس پچیس جنگجو اکٹھے کر لیتے تب بھی حتمی کامیابی کی ضمانت نہیں دی جا سکتی تھی۔سب سے بہترین طریقہ ہمیں تعاقب کا لگا۔پرما زیر تعلیم تھی اورلازماََ کالج جاتی ہو گی۔یہ علیحدہ بات کہ درجن بھر محافظوں کی موجودی یقینی تھی۔
منصوبہ بنا کر ہم جلد ہی سو گئے تھے۔اگلے دن صبح سویر ے کھولی چھوڑ کر قریبی ہوٹل میں پہنچے اور ناشتا کر کے شکلا کی کوٹھی کی طرف چل پڑے۔صبح سویرے ٹریفک بھی کم تھی تبھی شکلا کی کوٹھی تک زیادہ وقت نہیں لگا تھا۔
کوٹھی کے قریب کوئی ایسی جگہ موجودد نہیں تھی جہاں رک کر ہم نگرانی کر سکتے۔قلعہ نما کوٹھی کی اونچی دیواروں پر چاروں طرف کیمرے نصب تھے۔کسی بھی کیمرے میں ہماری مشکوک نقل حرکت دیکھے جانے پر لینے کے دینے پڑ سکتے تھے۔کوٹھی ایسی جگہ واقع تھی جہاں تین سڑکیں لگ رہی تھیں ۔ اگر کوٹھی کے داخلی دروازے کی طرف جانے والی روش کو چوتھی سڑک تسلیم کیا جائے تو وہ چوراہا بن رہا تھا۔ہم ایک جگہ رک نہیں سکتے تھے۔یہ بھی معلوم نہ تھا کہ پرما صاحب نے کوٹھی سے نکل کر کس جانب کا رخ کرنا تھا۔مجبوراََہم چکر کاٹنے لگے۔گو ایسا کرنا بھی خطرناک تھا کہ بار بار ایک کار جب کوٹھی کے سامنے سے گزرتی تو کسی کو بھی شک ہو سکتا تھالیکن امید تھی ٹریفک کی کثرت نے ہمیں اس خطرے سے محفوظ رکھا۔کیوں کہ لمحہ بہ لمحہ ٹریفک میں اضافہ ہو رہا تھا۔
وہ تیسرا چکر تھا جب کوٹھی کے سامنے گزرتے ہوئے اس کا بڑا دروازہ کھلاایک جیپ برآمد ہوئی جس میں چار افراد سوار تھے۔اس کے پیچھے سرخ رنگ وکالے شیشوں والی کار تھی۔اور اس کے عقب میں ایک اور جیپ تھی اس میں چھے افراد بیٹھے تھے۔ان کا رخ ہم سے مخالف جانب تھا۔میں نے رفتار بڑھا کر جلد سے جلد یوٹرن تک پہنچنے کی کوشش کی مگر ٹریفک اتنی زیادہ ہو گئی تھی کہ میری کوشش کامیاب نہیں ہوئی تھی۔جب تک یوٹرن سے چکر کاٹ کر آتے مطلوبہ گاڑیاں غائب ہوچکی تھیں ۔ہم اندازے سے چلتے رہے۔بار بار اشاروں پر رکنے کی وجہ سے ہماری رفتار سست تھی۔آگے جا کردو سڑکیں دائیں ،بائیں نکل رہی تھیں جبکہ سڑک سیدھا آگے بھی جا رہی تھی۔
”میرا خیال ہے سیدھے چلتے جاﺅ۔“لورا کے مشورے پرمیں سیدھا نکلتا گیا۔اگلے چوک پر سرخ بتی پر کار جونھی روکی،لورا پرجوش انداز میں چلائی۔”وہ رہے،دائیں طرف مڑ رہے ہیں ۔“
میں نے فوراََ دایاں اشارہ جلانا شروع کر دیا۔بتی سبز ہوتے ہی میں نے کوشش کر کے رفتار بڑھائی، تھوڑا آگے جاتے ہی عقبی جیپ کے قریب ہو گئے تھے۔پہچانے جانے کا ڈر نہیں تھا کہ ہمارا حلیہ کافی بدلاہوا تھا۔ لورا تو بالکل ہی نہیں پہچانی جارہی تھی جبکہ مجھے کوئی بہت قریبی ہی پہچان پاتا۔
مزید دس منٹ بعد گاڑیاں بڑی سڑک سے اتر کرایک بڑی عمارت کی پختہ روش پر چڑھ گئیں ۔وہ ایک بہت بڑاپرائیویٹ ہسپتال ا و ریسرچ سنٹر تھا۔اسی کے ساتھ میڈیکل کالج بھی تھا۔میں سیدھا نکلتا گیاکہ اندر جانے کا کوئی فائدہ نہ تھا۔کیوں کہ ایک توہم نے پرما کو باہر ہی سے اغواءکرنے کاارادہ کیاہوا تھا،دوسرا اس وقت ان کے پیچھے کوئی دوسری کار نہیں مڑی تھی اور میں مڑ کر خود کو ان کی نظروں میں نہیں لانا چاہتا تھا۔
ایک ہوٹل کے پاس سے گزرتے ہوئے میں نے پارکنگ کی طرف کار موڑی ،تھوڑی دیر بعد ہم ”فیملی کیبن“ میں آمنے سامنے بیٹھے تھے۔کافی کے ہمراہ کچھ کھانے پینے کے لوازمات کا بتا کرمیں مطلب کی بات پر آیا۔
”اگلی جیپ میں چار ،عقبی میں چھے اورتین ڈرائیوریہ ہوئے تیرہ افراد،شاید پرما کے ہمراہ کوئی خصوصی محافظ بھی موجود ہویوں ہدف کا دفاع کرنے والوں کی افرادی قوت چودہ افرادہو گی۔“
لورا نے کہا۔”رہائش سے میڈیکل کالج تک کوئی ایسی سڑک نظر نہیں آئی جہاں انھیں سنائپر رائفل کی مددسے گھیرا جا سکے۔“
میں نے لقمہ دیا۔”کوٹھی سے نکلتے وقت حملہ کرنا بالکل بے کار جائے گا،کیوں کہ انھیں آسانی سے مدد مل جائے گی۔“
لورا نے تجویز پیش کی۔”چھٹی کے وقت پارکنگ میں انھیں گھیرا جاسکتا ہے ،لیکن ایسی صورت میں چند آدمیوں کی مدد درکار ہو گی جو میرے خیال میں دھرمو دادا سے مل جائے گی۔“
میں نے انکار میں سر ہلایا۔”دھرمو دادا کو اس جنگ میں گھسیٹنے کا مطلب اسے دردناک انجام سے دوچار کرنا ہوگا۔کیوں کہ اس سے ہماری واقفیت کوئی ڈھکی چھپی نہیں رہی۔پہلے اگر اس کے پاس ہم سے ناواقفیت کا بہانہ تھاجو اب نہیں رہے گا۔اور شکلا سے ٹکر لینا اس کے بس سے باہر ہے۔شکلا کے پاس ذاتی، سرکاری اور زیر زمین حلقوں کی طاقت موجود ہے۔“
لورا نے دلیل دی۔”ضروری نہیں کہ وہ خود آئے اس کے آدمی بھی مدد کرسکتے ہیں ۔“
”کسی ایک آدمی کی شناخت دھرمودادا کاانکشاف کردے گی۔اور پھر اس طرح بہت زیادہ ہلاکتوں کا بھی اندیشہ ہے۔گولی قصوروار و بے گناہ میں تمیز نہیں کیا کرتی۔ اگر یہ سوچ رہی ہو کہ راج کماری پرما کے محافظ جوابی فائرنگ میں لاغرضی برتیں گے تو میں تمھاری کم فہمی پر افسوس کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتا۔“
لورا اپنی تجویز پر ڈٹی رہی۔”دھرمو دادا نہ سہی ،ممبئی تو مجرموں سے بھرا پڑا ہے۔رقم خرچ کرنے پر کئی مددگار ڈھونڈے جا سکتے ہیں ۔“
”شکلا کی نواسی کو اغواءکرنے کی جرا¿ت کوئی نہیں کرے گا۔“میں متفق نہ ہوا۔
بیرا چائے اور لوازمات کی ٹرے کے ساتھ اندر آیالورا ہونٹ بھینچ کر خاموش ہو گئی۔ ہم نہایت دھیمی آواز میں گفتگو کر رہے تھے یوں جیسے دو پریمی سرگوشیاں کرتے ہیں ۔یقینا بیرے نے بھی ہمارے جڑے سر دیکھ کر یہی سمجھا ہو گا کہ گوشہءتنہائی میسر آتے ہی دو محبت کرنے والے باتوں کی تشنگی مٹا رہے ہیں ۔ہمارے سامنے ٹرے رکھ کر وہ خاموشی سے باہر نکل گیا۔
”اگر انھیں اغواءہونے والی کے بارے آگاہ نہ کریں تب تو ممکن ہے۔“لورا اپنے موقف سے ہٹنے کو تیار نہ تھی۔
”ممبئی شہر میں انجان افراد پر اعتبار نہیں کیاجا سکتا۔اگر دھرمو دادا کو بیچ میں لا کر کسی کو ڈھونڈیں تب بھی دھرمودادا تو ملوث ہو جائے گا ناں ۔کوئی عام معاملہ ہوتا تو خطرہ مول لیتا،مگر یہاں پرما کا معاملہ ہے،شکلا سے کوئی بعید نہیں کہ پاگل پن میں کیا کچھ کر گزرے۔“
”تو کیا کریں ۔“اس نے گیند میرے کورٹ میں پھینکی۔
”پہلے قراولی پوری کر لیں پھر کچھ سوچتے ہیں ۔اب تک یہ معلوم نہیں ہوا کہ محافظ اس کے ہمراہ کالج کے اندر جاتے ہیں ،پارکنگ میں رک جاتے ہیں یا کچھ ساتھ ہوتے ہیں اور بقیہ باہر بیٹھ جاتے ہیں ۔“
لورا اثبات میں سرہلا کر کافی کی چسکی لینے لگی۔چند لمحوں کے توقف کے بعد تجویز پیش کی ”ہدف کافی مشکل لگتا ہے۔ میرے خیال میں کرن شکلا کے دفتر پر دھاوابولنا آسان رہے گا۔“
میں پرما کو اغواءکرنے کے منصوبے سے نہیں ہٹ سکتا تھا کہ یہ میرا اصل مشن تھا۔فوراَدلیل کا سہارا لے کر میدان میں اتر آیا۔ ”کرن چاولہ کے پاس ایسی دستاویزات کا ہوناجن کے بل بوتے شکلا کو آسانی سے دھونس میں لیا جا سکے ایک ایسی اطلاع ہے جو تصدیق شدہ نہیں ہے۔کیوں کہ راجپوت دادا نے وہ دستاویزات اپنے آنکھوں سے نہیں دیکھیں ۔بالفرض ایسی دستاویزات کا وجود تسلیم بھی کرلیں تو ان کا کرن چاولہ کے دفتر میں ہونا یقینی نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے کرن چاولہ نے بعد میں وہاں سے ہٹا دی ہوں ۔جبکہ پرما بی بی کے ذریعے شکلا کو آسانی سے قابو کیا جاسکتا ہے۔“
وہ طنزیہ انداز میں بولی۔”پہلے تو کرن چاولہ پر حملے کے حق میں اچھل رہے تھے،اب پری کا ذکر آتے ہی ان دستاویزات کے وجود اور اثر ہی کے منکر ہوگئے ہو۔“
”پرما والی تجویز تم نے بعد میں پیش کی ،پہلے پتا ہوتا کہ پرما کے ذریعے شکلا پر دھونس جمانا آسان رہے گا،تو میں کبھی بھی کرن چاولہ پر ہاتھ نہ ڈالتا۔“
وہ شرارتی انداز میں بولی۔”تم سچ مچ تو اس چھوکری پر لٹو نہیں ہو۔“
میں خفگی سے بولا۔”اتنے لمبے ساتھ کے بعد بھی میرا کردار تمھاری نظر میں سوالیہ نشان بنا ہے تو تمھاری ذہنیت پر سوائے افسوس کے کیا کر سکتا ہوں ۔“
وہ نادم ہوئی۔”اے ریجا!مذاق کر رہی تھی یار۔“
میں برہم ہوا۔”بے ہودہ مذاق کو تمھیں میں ہی ملا ہوں ۔“
اس نے آنکھیں نکالیں ۔”اور تم....جو بھی بکواس کرو اجازت ہے۔کبھی ڈیٹ کی پیش کش،کبھی حقوق زوجیت کی بجا آوری کی باتیں ،کبھی شکلا اور ریوندر مترا کے طعنے۔“
میں نے فوراََ چپ سادھ لی کہ لورا کا احتجاج بجا تھا۔مگر وہ میرے جذبات سے ناواقف تھی۔ اصل میں پرما انصاری اپنے والد کی وجہ سے میرے لیے بہت زیادہ مکرم و معزز تھی۔لیکن شروعات میں بہ طور مذاق پرما کو اپنی بیوی بنانے کا کہہ چکا تھایقینا میری وہی بکواس اس کی یاداشت میں محفوظ تھی۔تبھی پرما کا ذکر لے بیٹھتی تھی۔
”سوری کہو۔“مجھے چپ دیکھ کر اس نے حکم صادر کیا۔
میں نے برجستہ کہا۔”سوری۔“وہ کھل کھلا کر ہنس دی تھی۔
”چلیں ۔“میں نے نشست چھوڑی۔وہ سرہلاتے ہوئے کھڑی ہوگی۔بل چکا کر ہم ہوٹل سے نکل آئے۔تھوڑی دیر بعد ہم واپس روانہ تھے۔
”کے ایچ نارینہ ہسپتال اینڈ ریسرچ سنٹر“ کی عمارت پانچ چھے منزلہ اور کافی بڑی تھی۔سڑک کے جنوب کی طرف دو رویہ روش ہسپتال کی عمارت کی طرف جا رہی تھی۔جس میں آنے اور جانے کی راہ الگ الگ تھی۔شرقی جانب بہت بڑاکھیل کا میدان تھا۔غربی جانب پارکنگ بنی تھی۔ساتھ ہی سبزہ زار تھا۔وہاں پرما کی کار اور اس کے محافظوں کی جیپیں نظر آگئی تھیں ۔
جیپوں میں کوئی بھی موجود نہیں تھا،نہ ڈرائیور،نہ کوئی محافظ۔میڈیکل کالج کی عمارت ہسپتال سے ملحق ہی تھی۔لوگوں کی آمدورفت جاری تھی۔ہم مدہم لہجے میں گفتگو کرتے ہوئے اندر داخل ہوئے۔
میں نے کہا۔”میرے اندازے میں محافظوں کو ہسپتال یا کالج کی کنٹین میں ہونا چاہیے۔ کیوں کہ پرما کا انتظار وہ پارکنگ میں بیٹھ کر نہیں کر سکتے اور نہ کالج میں اس کے ہمراہ بیٹھنے کی گنجائش نکل سکتی ہے۔زیادہ سے زیادہ اکیلا محافظ اندر جاسکتا ہے اوروہ بھی یقینا کلاس روم سے باہر ہوگا۔“
وہ متبسم ہوئی۔”پیش گوئیاں کب سے شروع کر دیں ۔“
”اسے پیشن گوئی نہیں تجربہ کہتے ہیں ۔“
وہ مزاحیہ لہجے میں بولی۔”اپنے پھٹیچر تجربے سے تم برٹش آرمی کی آفیسر کو متاثر نہیں کر سکتے۔“
میں ترکی بہ ترکی بولا۔”آفیسر کسی قابل ہوتی تو اس کا کورٹ مارشل نہ ہوا ہوتا۔“
اس نے طنز کیا۔”تم سے ضرور اختلا ف کرتی مگرمیرا اپنا اندازہ یہی ہے۔مشرقی لوگوں نے محافظ بس خانہ پری اور دکھاوے کو رکھے ہوتے ہیں ۔“
میں انتظامیہ کے ایک فرد سے کنٹین کا رستہ پوچھنے لگا۔چار پانچ منٹ بعد ہم کنٹین میں تھے۔ اندر پرما کے مسلح محافظوں کو دیکھتے ہی میرے لبوں پر مسکراہٹ دوڑ گئی تھی۔
وہ جل کر بولی۔”میں نے بھی یہی کہا تھا۔“
میں فخر سے بولا۔”مگر میرے کہنے کے بعد، الحمداللہ اب میں دعویٰ کر سکتا ہوں کہ ہمارے سپاہی تمھارے افسروں کے برابر ہوتے ہیں ۔“
وہ نخوت سے بولی۔”تمھارے آفیسر بھی ہمارے آفیسر ز کی برابری کا دعویٰ نہیں کر سکتے کجا جوان۔“
میں اطمینان سے بولا۔”شواہد کو دیکھو،ہوا میں تیر نہ چلاﺅ۔“
”تین ڈرائیوراور دس محافظ،تمام یہیں پر موجود ہیں ۔“ان سے تھوڑے فاصلے پر نشست سنبھالتے ہوئے وہ دبے لہجے میں بولی۔
میں نے اندازہ لگایا۔”مطلب اس کے ساتھ کوئی خصوصی محافظ موجود ہے یا وہ اکیلی ہے۔“
لورا نے مشورہ دیا۔”بہتر ہوگا میڈیکل کالج کے اندر جا کر جائزہ لے لیں ۔“
”چلو۔“میں کھڑا ہوگیا۔
ہم باہر نکل آئے۔ایک کمرے کے سامنے سے گزرتے ہوئے وہ تیزی سے بولی۔”رکو۔“اور غڑاپ سے اندر گھس گئی۔دروازے پر ڈاکٹر وردان سنگھ کا نام اور آگے ڈگریوں کی لمبی قطار لکھی تھی۔کھڑکی کے شیشے سے چیمبر خالی نظر آرہا تھا۔لورا کا اندر گھسنا مجھے حیران کر رہا تھا۔سوچا شاید ڈاکٹر اس کا واقف کار ہے۔
کھڑکی کے شیشے سے لورا ڈاکٹر کی کرسی کی طرف بڑھتی نظر آئی۔اور پھر کرسی کی پشت پر لٹکا ڈاکٹروں کا سفید کوٹ اور میز پررکھا ”اسٹیتھوسکوپ “اٹھا کر وہ سرعت سے باہر نکلی۔دروازے سے باہر آنے تک وہ کوٹ پہن کر اسٹیتھوسکوپ گلے میں لٹکا چکی تھی۔
میرے ساتھ قدم ملاتے ہوئے وہ مسکرائی۔”امید ہے اب پہرے داروں کے سوالوں سے جان چھوٹ جائے گی۔“
”اگر اصل حلیے میں آجاﺅ تو ویسے ہی کوئی کچھ نہیں پوچھے گا۔کیوں کہ ہماری طرف حکمران قوم سے کچھ پوچھنا گستاخی کے زمرے میں آتاہے۔“
” یہی سمجھانے کی کوشش تو کر رہی تھی کہ تم لوگ ،ہم جیسی ذہانت و عقل نہیں رکھتے۔“
میں طنزیہ انداز میں بولا۔”ذہانت یا چالاکی ومکاری۔“
وہ کھلکھلائی۔”جو سمجھو،لیکن یاد رہے چالاکی و مکاری بھی ذہانت کے بل بوتے ہی پر آتی ہے۔“
”مکاری کے پیچھے دھوکا و فریب کارفرما ہوتا ہے اور ایسی ذہانت تمھیں ہی مبارک۔“
ہم کالج کے قریب پہنچ گئے تھے۔کے ایچ نارینہ ہسپتال اینڈ ریسرچ سنٹر کے کالج اور ہسپتال کی عمارت اکھٹی ہی تھی۔وہ دروازے پر موجود پہرے دار کی طرف متوجہ ہوئی۔”فائنل کے طلبہ آپریشن تھیٹر میں مصروف ہوں تو تمھیں وہاں جانے کی اجازت ہوتی ہے۔“اس کافصیح انگریزی میں پوچھا ہوا فضول سوال پہرے دار کے سر پر سے گزر گیا تھا۔
وہ ہکلایا۔”جج....جی میم....“
میں نے طنزیہ انداز اپنایا۔”اس بے چارے کو کیا پتا کسی ذمہ دار سے پوچھو۔“
”تو چلیں ۔“وہ کندھے اچکاتے ہوئے آگے بڑھ گئی۔ہمارا مقصد بس پہرے دار کے استفسار سے بچنا تھا۔یوں بھی ہم پاکستان و انڈیا میں نچلے طبقے پر رعب جھاڑنے کو انگریزی بولنے سے عمدہ کوئی طریقہ نہیں ۔
جدید سہولیات سے مزین میڈیکل کالج میں کثیر تعداد میں طلبہ موجود تھے۔وہاں پرما کو ڈھونڈنا مشکل تھا کہ ہمیں اس کی کلاس ہی معلوم نہ تھی۔دوسروں سے معلومات لینے میں بھی کئی قباحتیں تھیں ۔ہم دائیں بائیں دیکھتے ہوئے آگے بڑھنے لگے۔ایک کلاس روم کے باہر مجھے کالے تھری پیس سوٹ میں ملبوس ،مضبوط بدن کا جوان چوکس کھڑا نظر آیا۔میں نے لورا کی طرف دیکھا،وہ بھی فوراََ میری طرف متوجہ ہوئی تھی۔لبوں پر مسکراہٹ بکھیرتے ہوئے اس نے اثبات میں سرہلادیا تھا۔یہ اسی کا محافظ ہی لگتا ہے۔
کمرے سے آگے بڑھتے ہی میں نے کہا۔”میرے ذہن میں ایک تجویز آئی ہے۔“
”کیا؟“اس کے لہجے میں اشتیاق تھا۔
اور میں دھیمے لہجے میں اپنا منصوبہ بتانے لگا۔تفصیل کے اختتام پر اس کی آنکھوں کی چمک سوا ہو گئی تھی۔”میرا خیال ہے انتظار کرنا فضول ہو گا۔“اس نے متفق ہونے میں دیر نہیں کی تھی۔
”چلیں ۔“میں نے واپسی کا اشارہ کیا۔مختلف راہداریوں سے گزرتے ہم واپس اسی محافظ کے پاس پہنچے۔اب وہ ایک بینچ پر بیٹھا تھا،مگر یوں کہ اسے کھڑا ہونے کو دیر نہ لگتی۔
”کون ہو تم اور یہاں کیا کر رہے ہو؟“اس کے قریب قدم روکتے ہوئے لورا نے قدرے درشت لہجے میں پوچھا تھا۔
نشست چھوڑتے ہوئے اس نے فوراََ تعارف کرایا۔”مادام،میں راج کماری پرما کا محافظ ہوں ۔“
”کون راج کماری۔اور کسی طالب علم کو اپنے ساتھ محافظ لانے کی اجازت کس نے دی۔“ برہمی سے کہتے ہوئے وہ میری طرف متوجہ ہوئی۔ ”مسٹر مہتہ !کیا تمھارے علم میں یہ تھا۔“
میں نے نفی میں سرہلایا۔”نہیں مادام۔“
لورا اسے مخاطب ہوئی۔”مسٹر ،تمھیں ہمارے ساتھ جانا ہوگا۔“
محافظ دلیری سے بولا۔”میں راج کماری کواکیلا نہیں چھوڑ سکتا۔البتہ جنرل رندھیر شکلا سے آپ کی بات کروا سکتا ہوں ۔“
میں اردو میں بولا۔”اتنی تگ و دو کی ضرورت نہیں ،مادام نے کون ساتمھیں پورا دن روکنا ہے۔ان کے آفس میں بیٹھ کر جنرل صاحب سے بات کر لیں گے،بلکہ مادام کی بات کروا لیں گے تاکہ اپنی آنکھوں سے محترمہ کی بے عزتی بھی سن سکیں ۔نئی نئی آئی ہے اور کچھ زیادہ ہی پر پرزے نکال رہی ہے۔“میرا انداز کسی مجبور ماتحت کا ساتھا جسے اپنے دیس میں بدیسی آقا سے واسطہ پڑا ہواہو۔
لمحہ بھر کے توقف کے بعد وہ کندھے اچکاتا ہوا ہمارے ساتھ چل پڑا۔ایک خالی کمرہ ہم پہلے تاڑ آئے تھے۔اسے لیے ہم سیدھا وہیں گھسے۔میں سب سے پیچھے تھا۔اندر داخل ہوتے ہی میں نے دروازہ بھیڑاساتھ ہی سائیلنسر لگاگلاک ،کوٹ کی جیب سے میرے ہاتھوں میں منتقل ہوگیاتھا۔
دروازے کے بند ہونے کی ”کلک“ ہوتے ہی وہ پھرتی سے پیچھے مڑا۔اس کا کسرتی بدن اور پر اعتماد چہرہ واضح کر رہا تھا کہ وہ مشکل ہدف تھا تبھی میں نے ہتھیارکا استعمال ضروری سمجھا تھا۔مجھے پستول بکف دیکھ کر اس کے چہرے پر غصہ ابھرا۔وہ مجھ سے تین چار قدم دور تھا۔اسے جارحانہ موڈ میں دیکھتے ہی میں اطمینان سے بولا۔
”یقین کرواپنے ہاتھ اٹھا کر جان بچانا گھاٹے کا سودا نہیں ہے۔“
وہ برہمی سے بولا۔”تم جانتے نہیں کتنی بڑی غلط........اوغ۔“سر پر لگنے والی ضرب سے وہ بات مکمل نہیں کر سکا تھا۔لورا اچھی طرح جانتی تھی کہ ہمارے پاس مکالمے بازی میں ضائع کرنے کا وقت نہیں تھا۔تبھی اس نے پستول کے دستے سے اس کا سر بجانے میں خاصی قوت صرف کی تھی۔
ہاتھ پاﺅں ڈھیلے چھوڑتے ہوئے وہ لمبا پڑ گیا تھا۔میں نے سرعت سے اس کی ٹائی کھول کر ہاتھ جکڑے اور بوٹوں کے تسموں کو آپس میں باندھ کر پاﺅں جکڑ دیئے۔ٹخنوں تک آتے بوٹ بغیر ہاتھ استعمال کیے اتارنا ممکن نہ تھا۔
اسے گھسیٹ کر ایک میز کے نیچے چھپایا اور باہر نکل آئے۔پرما کے کلاس روم تک ہم جیسے اڑ کر پہنچے تھے۔ایک ایک لمحہ قیمتی تھا۔میں باہر رک گیا،لورا نے اندر گھستے ہی پوچھا۔
”راج کماری پرما....“
”یس مادام۔“پرما کی سریلی آواز آسانی سے مجھ تک پہنچی تھی۔
لورا نے آواز میں پریشانی و بے چینی سموتے ہوئے کہا۔”تمھیں قریب آکر میری بات سننا چاہیے۔“
اسٹیتھوسکوپ ، سفید کوٹ اور فصیح انگریزی نے کسی کو استفسار کی جرا¿ت نہیں دی تھی۔
”خیریت تو ہے ڈاکٹر۔“پرما کی آواز میں اندیشے تھے۔
”بے بی پریشان نہ ہو،ڈاکٹر سنبھال لیں گے۔عمر بڑھنے کے ساتھ ایسے حادثے معمول کی بات ہیں ۔“
”آپ پہلے ہی ہمیں بہت زیادہ ڈرا چکی ہیں ۔“پریشان کن لہجے میں کہتے ہوئے وہ دروازے تک پہنچی۔
”شکلا صاحب کو دل کا دورہ پڑا ہے۔اور انھوں نے آپ سے ملنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔آپ کو میرے ساتھ چلنا ہوگا۔“تیز لہجے میں کہتے ہوئے لورا باہر نکلی۔
پرما نے باہر آتے ہی دائیں بائیں دیکھا۔”چندن کہاں گیا؟“
”کون چندن؟“لورا انجان بن گئی تھی۔
”ہمارا محافظ ہے۔“پرماسخت گھبرائی ہوئی لگ رہی تھی۔میں چند قدم دور انجان بنا کھڑا رہا۔دو آدمیوں کو دیکھ کر وہ بدک سکتی تھی۔
”بے شک اسے کال کر لومگر خدارا دیر نہ کرو،شکلا صاحب کی حالت خاصی مخدوش ہے۔“بہ ظاہر لورا نے اسے مرضی کرنے کی اجازت دی مگر شکلا کی ناگفتہ بہ حالت کا ذکر کر کے جلدی کرنے کی ترغیب بھی دے ڈالی تھی۔
لورا کے ساتھ قدم ملاتے ہوئے پرما نے پوچھا۔”گرینڈپا کو کس وقت دورہ پڑاہے۔“
لورا نے کہا۔”تھوڑی دیر پہلے ہی انھیں یہاں لایا گیا ہے،فی الحال ”آئی سی یو“ میں ہیں ۔“
میں چند قدم کے وقفے سے ان کے عقب میں چلنے لگا۔پرما خود میڈیکل کی طالبہ تھی اور لورا اچھی خاصی تضاد بیانی کر چکی تھی ،مگر پرما دھیان نہیں دے سکی تھی۔لورا ایک طرف شکلا کی حالت کو مخدوش اور اس کا آئی سی یو میں داخل ہونابتا رہی تھی ، ساتھ ہی اس کا پرما سے ملنے کی خواہش ظاہر کرنا بتا رہی تھی۔
کالج سے نکلتے ہی میں چوکنا ہو گیا تھا۔لوگوں کی آمدو رفت جاری تھی۔ہمارے عقب میں دو آدمی آرہے تھے،جونھی وہ ایک وارڈ میں گھسے،میں نے پیچھے دیکھ کر عقب کے محفوظ ہونے کو یقینی بنایااور پرما کے قریب ہو کرایک دم اس کے سر پر پستول کا دستہ رسید کرتے ہوئے پستول جیب میں ڈال لیا۔
وہ گہری کراہ کے ساتھ زمین بوس ہو گئی تھی۔سامنے کچھ فاصلے پر چند بندے آرہے تھے ،مگر کوئی ہماری طرف متوجہ نہیں تھا۔
”کیا ہوا۔“تشویش بھری آواز میں کہتے ہوئے میں جھکا اور اسے بازوﺅں میں بھر کر اٹھا لیا۔
”شاید دورہ پڑا ہے،اسے ایمرجنسی میں لے جانا پڑے گا۔“لورا بدحواسی میں کہتے ہوئے آگے بڑھ گئی۔دو کمرے چھوڑ کر سرجیکل وارڈ تھا۔وہاں اسٹریچر نظر آئے۔لورا نے ایک اسٹریچر سیدھا کیااور میں نے فوراََ پرما کو اوپر لٹا کر اپنا کوٹ اس کے چہرے و چھاتی پر ڈال دیا تھا۔
ہسپتال میں اکثر افراتفری ہی مچی رہتی ہے۔مریضوں کا آنا جاناتسلسل سے جاری ہوتا ہے۔اس لیے ہماری حرکت مشکوک نہیں لگ رہی تھی۔سونے پر سہاگا لورا براﺅن کا ڈاکٹروں والا حلیہ تھا۔
داخلی دروازے سے نکل کر ہم پارکنگ کی طرف بڑھے۔میرے دل میں اس کے محافظوں کا خطرہ موجود تھا۔گو پہلے تمام کینٹین میں بیٹھے تھے،مگر ان کی پارکنگ میں واپسی غیر یقینی نہیں تھی۔ہماری قراولی ادھوری تھی۔پوری معلومات حاصل کیے بغیر ہم نے ہدف پر ہاتھ ڈالاتھا اور قریبا کامیابی کے نزدیک تھے۔اگر کوئی گڑبڑ ہوجاتی تو بھاگنا مشکل ہو جاتا۔شکلا ہر چوک پرناکے لگوا سکتا تھا۔ہماری کار کی حالت بھی اتنی اچھی نہیں تھی کہ تیز رفتاری کا مظاہرہ کر سکتے۔اور سب سے بڑھ کر ہمیں مغوی کو ٹھکانے تک لے جانا تھا ،اپنی ذات تک ہمیں بھاگنے میں کوئی مسئلہ نہ ہوتا لیکن پرما کو ساتھ پھرانا تبھی ممکن تھا کہ ہم چپکے سے کام کر جاتے۔
یہی خیال شاید لورا براﺅن کے دماغ میں بھی اٹھا تھا۔پختہ روش کے ساتھ مجھے اسٹریچر روکنے کا اشارہ کرتے ہوئے وہ بولی۔”کار پارکنگ سے باہر لے آﺅ۔“
اس کی احتیاط مجھے پسند آئی تھی۔میں لمبے ڈگ رکھتا ہوا پارکنگ کی طرف بڑھ گیا۔ایک جیپ کی عقبی نشست پر چار محافظ بیٹھے گپیں ہانک رہے تھے۔ہماری احتیاط پسندی کام آگئی تھی۔میں نے تو کار بھی ان کی جیپ کی بغل میں کھڑی کی تھی۔ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر میں نے ان پر اچٹتی ہوئی نگاہ ڈالی اور کارپارکنگ سے باہر لے آیا۔لورا بے چینی سے منتظر تھی۔ہم نے فوراََ اسے عقبی نشست پر منتقل کیا،لورا اس کا سر گود میں لے کر بیٹھ گئی تھی۔ڈرائیونگ سنبھالتے ہوئے میں نے کار آگے بڑھا دی۔اسٹریچر سنبھالنے کا وقت نہیں تھا۔ویسے بھی پارکنگ کے قریب چند اسٹریچر رکھے ہوئے نظر آئے تھے،جو یقینا خستہ حال مریضوں کو اندر لے جانے کو رکھے گئے تھے۔
جونھی بڑی سڑک پر چڑھے،پرما باآواز بلند کراہی۔میں نے عقبی شیشے میں جھانکاوہ اٹھنے کی کوشش کرتی نظر آئی تھی۔مگر لورا نے اس کی گردن کی رگ مسلتے ہوئے دوبارہ بے ہوش کر دیا تھا۔
میں درمیانی رفتار سے چلتا گیا کہ تیزرفتاری لوگوں کو متوجہ کرتی ہے۔ہمیں چلتے ہوئے آدھا گھنٹا ہوا تھا کہ پرماکا موبائل فون بجنے لگا۔لورا نے اس کے” شولڈر بیگ “ سے فون نکال کر بند کر دیا کہ آن ہونے کی حالت میں ہمیں موبائل فون کے ذریعے ڈھونڈا جا سکتا تھا۔
میں نے مشورہ دیا۔”بہتر ہوگااپنا کوٹ اتار دو اور پرما کو بھی سیٹ سے ٹیک لگا کر بٹھا دو۔“
”ٹھیک کہہ رہے ہو۔“لورانے عمل کرنے میں دیر نہیں لگائی تھی۔اس نے اپنا کوٹ اور اسٹیتھواسکوپ کار کے فرش پر پھینکا اور پرما کو سیٹ سے ٹیک لگا کر بٹھا دیا۔اب بہ ظاہر یوں لگتا تھا جیسے وہ نیند میں ہو۔
مجھے معلوم تھا کہ جلد ہی ہماری تلاش میں تیزی آنے والی تھی اور اس سے پہلے اپنے ٹھکانے پر پہنچنا ضروری تھا۔مزید گھنٹے بھر کی ڈرائیونگ کے بعد ہم بہ خیریت منزل پر پہنچ گئے تھے۔کھولی کے سامنے کارروک کر ہم نے احیتاط سے پرما کو اندر منتقل کیا۔اور پھر میں نے کار مخصوص جگہ پر کھڑی کر دی۔کار کا رنگ ،ماڈل اور حالت ایسی تھی کہ اس جیسی ہزاروں کاریں ممبئی میں موجود تھیں ۔اس لیے کار تبدیل کرنے کی بہ ظاہر کوئی وجہ نظر نہیں آرہی تھی۔
لورا ،پرما کے ہاتھ پاﺅں ہتھکڑیوں میں جکڑ کر اس کے منہ پر ٹیپ چپکا چکی تھی۔مجھ سے زیادہ وہ پر جوش تھی۔گو پرما کو تکلیف دہ حالت میں دیکھ کر مجھے دکھ ہوا تھا،مگر کیا کرتا کہ مجبوری تھی۔انصاری صاحب کی شہزادی کو میں شہزادیوں کی طرح نہیں رکھ سکتا تھا۔اگر وہ تعاون کرنے پر آمادہ ہو جاتی تو اسے مکمل آرام و سہولت میسر کرنے کی کوشش کرتا مگر اب ایسا ممکن نہ تھا۔اڑتی اڑتی جو خبریں مجھ تک پہنچی تھیں ان کے مطابق اپنی بیٹی اور انصاری صاحب کی بیوی پاروتی شکلا کوشکلا ہی نے قتل کرایا تھا۔اس شقی القلب سے بیٹی کی شوہر سے وفاداری برداشت نہیں کی گئی تھی۔ایک پاکستانی جاسوس کو بہ حفاظت فرار کرانے والی اس کی نظر میں ملک دشمن تھی۔تبھی اسے گھر پہنچنے سے پہلے ہی ایکسیڈنٹ میں مروا دیا تھا۔اور پھر بیٹی کی موت کے بعد اس کی محبت کا بہاﺅنواسی کی طرف مڑ گیا تھا۔پرما کو ساتھ رکھنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ پاکستان و مسلمانوں سے نفرت کی وجہ سے وہ انصاری صاحب کو سخت ناپسند کرتا تھاتبھی باپ سے اس کی پیاری اولاد چھین لی تھی۔اور ناممکن تھا کہ اس نے پرما کے ذہن میں والد کے خلاف زہر نہ بھرا ہوورنہ پرما انصاری صاحب سے رابطے کی کوشش ضرور کرتی۔اسے نانا کے پاس مطمئن دیکھ کر اور اس کی بیماری کا سن کر پرما کی پریشانی دیکھ کر یقین ہوجاتا تھا کہ وہ پاکستان جانے پر کسی صورت آمادہ نہ ہوتی۔
لورا نے پوچھا۔”اب کیا کریں ؟“
”سب سے پہلے حلیہ تبدیل کرتے ہیں ۔ہسپتال و کالج میں کیمرے لگے ہیں اور یقینا اب تک شکلا کیمروں کی وڈیو دیکھ چکاہوگا۔“
لورا نے اشتیاق ظاہر کیا۔”کیا لگتا ہے اس نے مجھے پہچان لیا ہوگا یانہیں ۔“
میک اپ بکس کھولتے ہوئے میں نے کندھے اچکاے۔”کیا فرق پڑتاہے۔“
”فرق تو پڑتا ہے،میں چاہتی ہوں اس کی نیندیں اڑ جائیں ۔“
میں نے کہا۔”وہ تو تمھیں نہ پہچاننے پر بھی اڑ جائیں گی۔کیوں کہ نیند اڑنے کا سبب پرما کا اغواءہے۔ کس نے اغواءکیایہ ثانوی رہ جاتا ہے۔“
وہ غصے سے بولی۔”دوسروں کی عزت خراب کرنے والے کی جب اپنی عزت پر بنے گی تو اسے دوسروں کی تکلیف کا احساس ہوگا۔میں اس کی نواسی کا وہ حشر کروں گی کہ یہ درندہ قبر میں بھی اپنے کیے پر پچھتائے گا۔“
میں نے مطعون کیا۔”مجھے نہیں لگتا،کیپٹن لورا براﺅن اتنی ظالم و ناانصاف ہو گی کہ ایک درندے کا بدلہ معصوم لڑکی سے لینا چاہے گی۔“
اس نے کہا۔”سانڈوں کی لڑائی میں گھاس کا کچلا جاناقانون قدرت ہے۔“
میں طنزیہ انداز میں بولا۔”تم سانڈ نہیں ،ہرنی ہو۔“
وہ بے پروائی سے بولی۔” بکرے کو چارہ بناکر شیر کا شکار کرنے والے کا مطمح نظر بکرے کی زندگی نہیں شیر کی موت ہوتی ہے۔“
”پرما کا کوئی بال بانکا بھی نہیں کر سکتا۔تم شکلا کو دھمکانے کو جتنی لفظی گولہ باری کرنا چاہو پروا نہیں ۔ عملاََ پرما کو ہاتھ بھی نہیں لگاﺅ گی۔“
مجھے گھورتے ہوئے اس نے طنز کیا۔”کیوں کھان لڑکی سے بھی زیادہ پیاری لگنے لگی ہے۔“
”میں بے گناہ کی صورت دیکھ کر مدد کرنے کا قائل نہیں ہوں ۔اگر پرما تمھاری طرح بد صورت ہوتی پھر بھی اسے کچھ نہ ہونے دیتا۔“
”ریجا اور بکواس نہ کرے۔“اس نے آنکھیں نکالیں ۔
”ہوش سے کام لو،لورا۔پرما بے قصور و بے گناہ ہے۔ایک معصوم پر ظلم کرتے ہوئے ترس نہیں آئے گا۔“
”اس کے نانا کو ظلم ڈھاتے وقت مجھ پر ترس آیا تھا۔کیا میں بے قصور نہ تھی۔“وہ حجت بازی پر اتر آئی۔
میں نے فضول دماغ کھپائی کے بجائے ٹی وی آن کیا اور چہرے کی مرمت کرنے لگا۔دھرمو دادا کی مہربانی سے اب ہم اپنا حلیہ تبدیل کرنے پر قادر ہو گئے تھے۔لورا نے بھی سانولی رنگت ختم کر کے گندمی رنگ اپنایا۔ آنکھوں پر نیلے لینز چڑھائے۔بالوں کو بھورا کیا۔مصنوعی جبڑے ڈال کر گالوں کی ہڈی کو مزید ابھارااور نئی لورا بن گئی۔میں بھی نئے حلیے میں آگیا تھا۔
مختلف چینل کھنگالنے کے باوجود ٹی وی پر ہمارے متعلق کوئی خبر نہیں چلی تھی۔یقینا شکلا خاموشی سے کام میں لگا تھا۔
ہم بہ مشکل شکل تبدیل کر پائے تھے کہ پرما زور سے کراہی اور پھر آنکھیں کھول دیں ۔اس نے اٹھنے کی کوشش کی مگر صرف کسمسا کر رہ گئی تھی۔
جاری ہے
قسط نمبر 43
ریاض عاقب کوہلر
ہم بہ مشکل شکل تبدیل کر پائے تھے کہ پرما زور سے کراہی اور پھر آنکھیں کھول دیں ۔اس نے اٹھنے کی کوشش کی مگر صرف کسمسا کر رہ گئی تھی۔
”تمھارا منہ کھول رہی ہوں ،اگر چیخنے چلانے کی کوشش کی توبھیجا اڑا دوں گی۔سمجھ میں آیا کہ نہیں ۔“ اس کی آنکھوں کے سامنے زگانہ نائین ایم ایم لہراتے ہوئے لورا سفاک لہجے میں بولی تھی۔
پرما کی آنکھوں میں خوف چھلکا اور اس نے زور سے سر ہلا کر سمجھنے کا عندیہ دیا تھا۔
اس کے ہونٹوں سے ٹیپ اتار کر لورا کرسی گھسیٹ کر قریب ہوئی۔
”میں کیپٹن لورا براﺅن ہوں ۔ذراحلیہ بدلا ہوا ہے ورنہ تم میرے نام سے اچھی طرح واقف ہو۔ ہڈیوں سے چمڑا اتارنا مجھے اچھی طرح آتا ہے۔اورتمھارا چمڑا اتارنے سے پہلے تو لباس اترے گا۔اور اس کے بعد........خیر بچی نہیں ہو تمھیں پتا ہوگا ایک جوان لڑکی کو دشمن کی قید میں کون سی اذیتوں سے واسطہ پڑسکتا ہے۔“
وہ ہکلائی۔”مم....مگر ہمارا قصور....؟“خوب صورت شوخ آنکھوں میں خوف ابھر آیا تھا۔
لورا غرائی۔”کیوں کہ تم ایک درندے کی اولاد ہو....“
”اپنے باپ سے ہم بھی اتنی نفرت کرتے ہیں جتنی آپ....جب اس کے ظلم سے اپنی بچی اور بیوی محفوظ نہ رہیں تو آپ کس شمار میں ہیں ۔مگر اس کے مظالم ہمارے کھاتے میں تو نہ ڈالیں ۔“وہ لورا کی بات کو سمجھ نہیں پائی تھی۔لورا نے اسے شکلا کی اولاد پکارا تھااور اس نے سگا باپ سمجھ لیا تھا۔پرما کے انداز سے ظاہر ہو رہا تھا کہ انصاری صاحب کے خلاف شکلا نے اس کے دل میں کتنا زہر بھر دیا تھا۔
لورا نے دانت پیسے۔”باپ نہیں ،تمھاری ماں کے باپ کا ذکر کررہی ہوں ۔میرادشمن رندھیر شکلا ہے۔“
”گرینڈپا....مم....مگر وہ تو آپ کے کاروباری ساتھی ہیں ناں ۔“یقینا پرما کو لورا اچھی طرح یاد تھی۔
”وہ سو¿ر،میرا ساتھی نہیں ؛میری انا،خودداری وعزت کا قاتل ہے۔اور جو ظلم اس نے مجھ پر ڈھایا، تم پر ٹوٹے گا۔جتنی اذیت اس نے مجھے دی،تمھیں اتنی ہی تکلیف کاسامنا کرنا پڑے گا۔جو حال میرا اس نے کیا ویسا ہی حشر تمھارا کیا جائے گا۔ تمھیں کئی مردوں کے سامنے نہ پھینکا تو کہنا۔“
پرما گڑگڑائی۔”پپ....پلیز....ہمیں کیوں سزا دے رہی ہیں ۔آپ کے ساتھ زیادتی کرنے پر ہم نے تو گرینڈ پا کو نہیں اکسایا۔ہم تو آپ کو جانتے بھی نہیں ،بس ایک ہی سرسری سی ملاقات ہوئی تھی....“
لورا نے بے نیازی سے کندھے اچکائے۔”تمھاری بے گناہی میرے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی۔“
میں مخل ہوا۔”لورا شکلا کا فون نمبر لے کر اس سے بات کرو،اس بے چاری کو دھمکانے سے کیا ہوگا۔“
مجھے گھورتے ہوئے وہ غرائی۔”ریجا !تم بیچ میں نہ آﺅ تو بہتر ہوگا۔“
میں اردو میں پرما کو مخاطب ہوا۔”فکر نہ کرو،میری موجودی میں کوئی آپ کاکچھ نہیں بگاڑ سکتا۔“
اس کے چہرے پر چمک ابھری اور وہ لجاجت سے بولی۔”تت....تو آپ ہمیں چھوڑ دیں .... گرینڈ پا آپ کو مالا مال کر دیں گے۔“
”صرف یہ وعدہ کر سکتا ہوں کہ آپ کی جان اور عزت پر ہلکی سی آنچ بھی نہیں آنے دوں گا۔باقی شکلا کے کرتوتوں سے آپ واقف نہیں ہو،ورنہ اس کے پاس جانے کے بجائے کنوئیں میں چھلانگ لگانا بہتر سمجھتیں ۔“
لورا طیش میں آکر بولی۔”ریجا انگریزی میں بات کرو۔“
میں مسکرایا۔”ہمیں اپنی زبان میں بات کرنا اچھا لگتا ہے۔“
”اے لڑکی تم میری بات سنو۔“لورا کا ہاتھ اس کی ریشمی زلفوں کی طرف بڑھا۔میں نے ایک دم لورا کا ہاتھ پکڑ کر دور جھٹک دیا تھا۔
”ہوش میں ہو۔“
”تت....تم،ریجا....“لورا ششدر رہ گئی تھی۔
میں نے قطع کلامی کی۔”جو سلوک شکلا سے کرنا ہے اس کا نشانہ پرما کو نہ بناﺅ۔میں نے کسی بے گناہ کے خلاف تمھارا ساتھ نہیں دیا تھا۔“
وہ چلائی۔”دفع ہو جاﺅ،مجھے تمھاری مدد کی کوئی ضرورت نہیں ۔“
میں اطمینان سے بولا۔”پرما میرے ساتھ جائے گی۔“
”اور میں تمھارے بھیجے میں گولی اتار دوں تب....؟“لورا نے ایک دم سائیلنسر لگا زگانہ مجھ پر تان لیا تھا۔
میں بے پروائی سے بولا۔”گولی چلانے کی جرا¿ت ہے۔“
وہ اعتماد سے بولی۔”نک کے قاتل کے لیے میرے دل میں ذرابرابر ہمدردی نہیں ہے۔“
”اپنا یہ شوق بھی پورا کر لو،مگر میری زندگی میں پرما پر ہاتھ اٹھانا تو کجا کوئی ٹیڑھی نگاہ سے بھی نہیں دیکھ سکتا۔“
وہ بپھر کر بولی۔”آخر کیوں ؟“
”کیوں کہ تمھارا ساتھ میں نے انصاف کے حصول کو دیا تھا۔اوراب پرما سے شکلا کا نمبر معلوم کروتاکہ اپنا مقصد پورا کر سکیں ۔“
”ریجا ،تم نہیں جانتے شکلا کے خلاف میرے دل میں کیا الاﺅ روشن ہے۔میں اس سے تعلق رکھنے والی ہر چیز،ہر انسان بلکہ جانور تک کو نیست و نابود کرنا چاہتی ہوں ۔جس اذیت سے میں گزری ہوں وہ صرف میں جانتی ہوں ........ یا۔“ لمحہ بھر توقف کر کے اس نے فقرہ مکمل کیا۔” تمھارا خدا۔“
”میں نے قریب ہوا، اس کے ہاتھ سے پستول لے کر اس کی جیب میں ڈالااور بازو سے پکڑ کر باہر لے آیا۔داخلی دروازے کے ساتھ کھڑے ہوکر میں نے کمرے سے تھوڑا فاصلہ پیدا کیااور معنی خیز لہجے میں پوچھا۔”تم میرے مشن کے بارے جاننے کی خواہش مند تھیں ناں ؟“
اس کے چہرے پر تعجب ابھرا۔”مگر اس لڑکی کا تمھارے مشن سے کیا تعلق....؟“
میں نے انکشاف کیا۔”اسی کا حصول تو میرا مشن تھا۔“
وہ بوکھلاتے ہوئے بولی۔”کک....کیا مطلب؟لگتا ہے اس کی صورت دیکھ کر ریجھ گئے ہو۔“
میں صاف گوئی سے بولا۔”بلا شبہ تم سے خوب صورت نہیں ہے۔“
وہ الجھن آمیز لہجے میں بولی۔”ریجا !صاف صاف بتاﺅ کیا چاہتے ہو۔“
”یہ پرما شکلا نہیں ،پرما ملہوترا،بلکہ پرما انصاری ہے۔اس کے باپ کا نام بریگیڈئرفہیم اسلم انصاری ہے۔وہ بھارت میں طویل عرصے تک جاسوس بن کر رہے۔پرما کی ماں سے ان کی شادی پیشہ ورانہ مجبوری کے تحت ہوئی مگر وہ بیوی سے بہت محبت کرتے تھے۔پرما بھی انھیں جان سے پیاری تھی۔شاید وہ ساری زندگی بھارت میں گزار دیتے،مگر بدقسمتی سے ان کا راز فاش ہو گیا۔اس سے پہلے کہ گرفتاری عمل میں آتی ، بیوی کے ذریعے انھیں اپنا بھانڈا پھوٹنے کی خبر پہنچ گئی۔اور بیوی ہی کی مدد سے وہ فرار ہونے میں کامیاب ہوئے۔ شکلا کو جونھی بیٹی کے کارنامے کی خبر ملی اس نے پاروتی کے قتل کا حکم صادر کر دیا۔اور پرما کی ماں بے چاری گھر زندہ نہ لوٹ سکی۔بیٹی کی موت کے بعد شکلا ،نواسی کو اپنے پاس لے گیا۔انصاری صاحب نے بہت کوششیں کیں کہ اپنی بیٹی کو پاسکیں ،مگر ان کی راہ میں شکلا کا منحوس وجود رکاوٹ بنا رہا۔شکلا نے نہ صرف باپ کو بیٹی سے ملنے سے روکے رکھا بلکہ پرما کے ذہن میں ایسا زہر بھرا کہ آج اس معصوم کو اپناباپ ایک قاتل اور ظالم شخص دکھائی دیتا ہے۔جب انصاری صاحب کی دو تین کوششوں کے باوجود کامیابی نہ ہوئی تو انھوں نے مجھے شکلا کے خاتمے اور پرما کی بازیابی کو بھیجا۔میرے ساتھ ایک کمانڈو بھی آیا تھا جو ایک معرکے میں شہید ہو گیا۔پھر تم ملیں اور باقی کہانی تمھیں معلوم ہے۔“
گہرا سانس لیتے ہوئے اس نے میرا ہاتھ تھاما۔”ویسے اس بارے اجمالاََ تو مجھے بھی پتا تھا،بہ ہرحال اب کیا چاہتے ہو؟“
”تم شکلا سے رابطہ کر کے اپنا کام نکلواﺅ،پھر اسے قتل کر کے پرما کو ساتھ لے جاﺅں گا۔امید ہے اس کی ہلاکت کے بعد زیادہ رکاوٹوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔“
لورا صاف گوئی سے بولی۔”میں چاہتی تھی پرما پر تشدد کی وڈیو اسے بھیجوں تاکہ وہ مزاحمت نہ کر سکے۔“
”اسے پرما کی بندھی ہوئی حالت کی تصویر دکھانا کافی ہوگا۔“
اس نے تھکے تھکے لہجے میں متفق ہونے کا اعلان کیا۔” کوشش کر کے دیکھ لیتے ہیں ۔“
”تو چلو۔“میں نے کمرے کی طرف قدم بڑھائے۔
”اے ریجا!خفا تو نہیں ہو تم پر پستول تانا....“میرا ہاتھ تھامتے ہوئے اس نے ندامت ظاہر کی۔
میں مسکرایا۔”کسی بے وقوف کی بات پر غصہ کرناکہاں کی عقل مندی ہے۔“
وہ منہ بناتے ہوئے بولی۔”تم سے معذرت کرنا ہی فضول ہے۔“
میں کھل کھلاتے ہوئے اندر گھس گیا۔پرما منتظر نظروں سے دروازے کی جانب متوجہ تھی۔
کرسی سنبھالتے ہی لورا نے کہا۔”اپنے نانا کا نمبر بتاﺅ۔“
اس نے بے بسی ظاہر کی۔”ہمیں یاد نہیں ہے،ہمارے موبائل فون میں لکھا ہوگا۔“
”موبائل فون پر پاس ورڈ لگا ہوا ہے۔“
”پاروتی ....“اس نے اداس لہجے میں اپنی ماں کا نام لیاتھا۔
”ریجا بات سنو۔“لورا دروازے کی طرف بڑھ گئی۔صحن میں نکل کر وہ دبے لہجے میں بولی۔
”یہاں سے بات کی تو منکشف (لوکیٹ)ہو جائیں گے۔“
میں نے کہا۔”بات چیت تم نے کرنا ہے اور تمھیں اکیلا جانے نہیں دے سکتا۔“
”بالکل،پرما کی نگرانی بھی تو ضروری ہے۔“
میں نے مشورہ دیا۔”ہاتھ پاﺅں جکڑے ہیں ،منہ پر ٹیپ چپکا کر نکل جاتے ہیں ۔البتہ اسے یہی باور کرائیں گے کہ ایک آدمی یہیں ہے۔“
اس نے اتفاق کرتے ہوئے اثبات میں سرہلادیا۔ہم واپس پرما کے پاس پہنچ گئے۔
”تمھارا نانا اس وقت کہاں ہو گا؟“لورا نے دوبارہ تفتیش شروع کر دی۔
اس نے نفی میں سرہلایا۔”ہمیں نہیں پتا۔“
لورا نے پوچھا۔” مستقل ممبئی میں ہوتا ہے یا کسی اور شہر میں ٹھکانہ بنا رکھا ہے۔“
جواب ملا۔”عموماََ سفر میں رہتے ہیں ،یہاں بھی آنا جانا لگا رہتا ہے،البتہ دوسرے شہروں کی نسبت یہاں زیادہ وقت گزارتے ہیں ۔“
”یہاں اس کی کیا روزمرہ ہوتی ہے؟“
پرما نے کہا۔”باہر کا تو پتا نہیں ، البتہ گھر میں ہمیں وقت دیتے ہیں ،لائبریری میں گھسے رہتے ہیں یا آرام کرتے ہیں ۔“
لورا چند ضروری و غیر ضروری سوال پوچھ کر میری طرف متوجہ ہوئی۔”ریجا!بہتر ہوگا تم شکلا سے بات کرنے چلو جاﺅ۔“
”ٹھیک ہے۔“اثبات میں سرہلاتے ہوئے میں نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ ”پرما کا موبائل فون مجھے پکڑاﺅ۔“
موبائل فون میری طرف بڑھا کر اس نے پرما سے پوچھا۔”لڑکی،میرا آرام کا موڈ ہے۔ تمھیں کوئی حاجت ہے تو پوری کر لو،بعد میں ذرا سی آواز آئی تو یاد رہے تمھیں چھڑانے کو ریجا یہاں نہیں ہوگا۔“
وہ منمنائی۔”ہمیں تازہ دم ہونا ہے۔“
لورا نے اس کی ہتھکڑیاں کھول کر کہا۔”تمھارے پاس پانچ منٹ ہیں ۔“
کلائیوں کو مسلتے ہوئے وہ بیت الخلاءمیں گھس گئی۔بیت الخلاءاور غسل خانہ اکٹھے ہی تھے۔روشندان موجود تھا،مگر اس سے بہ مشکل بلی ہی گزر سکتی تھی۔
پرما کے غسل خانے میں گھستے ہی میں باہر نکل آیا تاکہ اسے لگے میں چلا گیا ہوں ۔میں پارکنگ کی طرف بڑھ گیا۔جب تک کار اسٹارٹ کر کے کھولی کے سامنے پہنچتالوراباہر آگئی تھی۔کھولی کا بیرونی دروازہ بھی تالا کر کے اس نے میرے ساتھ نشست سنبھال لی۔
کار آگے بڑھتے ہی اس نے پوچھا۔”کیا ترتیب ہو گی؟“
”تم بات کرو گی،طویل گفتگو نہ کرنا۔چند دھمکیاں دے کر مطالبہ پیش کر نا اور پھر نکل بھاگیں گے۔“
”جانا کہاں ہے؟“
میں نے کہا۔”ایسی جگہ جہاں بھیڑ زیادہ ہو،تاکہ ہمیں آسانی سے نہ ڈھونڈا جا سکے۔“
”ٹھیک ہے۔“اس نے اثبات میں سر ہلادیا۔سہ پہر ہو گئی تھی۔گھنٹے بھر کے سفر کے بعد میں نے ایک بڑے شاپنگ پلازا کی پارکنگ میں کار روکی اور ہم اندر گھس گئے۔ایک دکان میں زیر لباس نسوانی استعمال (انڈر گارمنٹس)کی چند چیزیں لے کر لورا ”ٹرائی روم۔“ میں گھس گئی۔ میں دروازے پر کھڑا ہو گیا تاکہ وہ آسانی سے بات کر سکے۔
اس نے پرما کا موبائل فون آن کر کے شکلا کو کال ملا لی۔میرے کانوں میں اس کی ہلکی ہلکی آواز آرہی تھی۔اور جس طرح وہ طیش میں بات کر رہی تھی یقینا شکلا کے اندیشے مزید بڑھ جانا تھے۔
دس منٹ بات کر کے اس نے رابطہ ختم کیااور موبائل فون بند کرکے نکل آئی۔اتنا وقت نہیں تھاکہ خریداری کر سکتے۔تمام چیزیں وہیں چھوڑ کر ہم باہر نکل آئے۔اگلے پانچ منٹ میں کار میں بیٹھ کرہم پارکنگ سے نکل آئے تھے۔بازار سے نکلنے میں ،میں نے سرعت کا مظاہر ہ کیا تھا۔بڑی سڑک پر چڑھتے ہی لورا کی طرف متوجہ ہوا۔
”کیا رہا؟“
وہ طمانیت سے بولی۔”گڑگڑارہا تھا۔یقین مانو ریجا،اس فرعون کالجاجت بھرا لہجہ سن کر سینے میں ٹھنڈ پڑ گئی ہے۔“
میں منہ بناتے ہوئے بولا۔”تفصیل بتاﺅ۔“
”پہلے تو خبیث نے خوشی کا اظہار کیا کہ شاید نواسی کی کال ہے۔میری آواز سنتے ہی سانپ سونگھ گیا تھا۔ اسے کھری کھری سنا کر میں نے اپنا سوئیٹزر لینڈ بینک کااکاﺅنٹ نمبر بتایااور بیس ملین پاﺅنڈ کا ہرجانہ طلب کیا ہے،دوسری صورت میں پرما کے ساتھ جو کچھ ہو سکتا ہے اس کی دوتین مثالیں دیں ۔تاکہ سور کے ہوش ٹھکانے لگیں ۔ منتیں کرنے لگا کہ اتنی رقم اس کے اکاﺅنٹ میں بھی نہ ہو گی۔مگر میں جانتی ہوں جھوٹ بک رہا تھا۔ قریباََ اتنی رقم تو اسے ہمارے سودے میں بچ رہی تھی۔اس سے پہلے بھی جانے کتنے سودے کر چکا ہوگا۔ایسے بد کرداروں کے سوئیٹزر لینڈ کے بینک اکاﺅنٹ پیسوں سے لبالب بھرے پڑے ہیں ....“
میں نے قطع کلامی کی۔”راضی ہوا کہ نہیں ۔“
”منتوں کے بعد دھمکیوں پر اتر آیا کہ اگر میں نے اتنے پیسے نکلوا بھی لیے تو وہ بعد میں میرے خلاف کارروائی کر سکتاہے۔“لورا کا قہقہ بلند ہوا۔”بے وقوف کو کیا معلوم کہ بچے گا تو کچھ کرنے کے قابل ہو گا ناں ۔“
میں نے بے چینی ظاہر کی۔”طے کیاہوا؟“
”پانچ دن کی مہلت مانگ رہا تھا۔تین دن کی مہلت دی ہے اس کے بعد لیت ولعل کی تو پرما کی پہلی وڈیو ارسال کروں گی۔“
میں نے کہا۔”پرما پر تشدد کا خواب بھول جاﺅ۔“
وہ اطمینان سے بولی۔”تشدد بھی نہیں کروں گی اور وڈیو بھی ایسی بنے گی کہ شکلا کا سکون و آرام غارت ہو جائے گا۔“
میں نے خیال ظاہر کیا۔”مجھے لگتا ہے وہ خبیث اپنا نقصان نہیں ہونے دے گا۔“
”اگر اسے پرما کی فکر نہیں ہے تو ایسا سوچا جا سکتا ہے۔“
”تمھاری سمجھ میں میری بات نہیں آئی۔وہ رقم ایس آر ون رائفلوں کو خریدنے کی مد میں ادا کرے گا تاکہ اپنا نقصان انڈین حکومت کے خزانے سے پورا کر سکے اور تمھارا مطالبہ بھی پورا ہو۔“
”ویری گڈ،اس طرف تو میرا دھیان ہی نہیں گیا تھا۔ایس آر ون رائفلیں میرے کس کام کی ،اگر یوں وہ منہ مانگی رقم ادا کرنے پر تیار ہوجائے توبہتر ہوگا۔بلکہ اس نے ایسا نہ کہاتو میں خود یہ تجویز سامنے رکھوں گی۔ سچ میں تم بہت ہوشیار ہو۔“اس نے پرجوش انداز میں میری پیٹھ تھپتھپائی۔
”تو مانتی ہوناپاکستانی سپاہی کی سوچ برطانوی فوج کے آفیسر سے زیادہ ہوتی ہے۔“
وہ کشادہ دلی سے بولی۔”صرف تمھارے بارے یہ دعویٰ تسلیم کرسکتی ہوں ۔“
میں نے موضوع تبدیل کیا۔”شکلا،پرما کو تلاش کرنے کو پوری طاقت استعمال کرے گا۔تمام میسر ذرائع ہماری تلاش میں جھونک دے گا،اس لیے ہمیں بہت زیادہ احتیاط و چوکسی کی ضرورت پڑے گی۔“
وہ مسکرائی۔”اپنے تیئں تو کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کر یں گے،باقی تمھارے اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیتے ہیں ۔“
اب اللہ پاک کا بابرکت نام وہ عقیدت سے لینے لگی تھی۔البتہ اللہ پاک کو پکارتی میری نسبت سے تھی۔
واپسی پر پرما ہمیں بہ خیریت ہی ملی تھی۔قریبی مارکیٹ سے میں نے لورا کے لیے ایک نیا بستر خریدنا ضرروی سمجھا تھا کہ اس کے بستر پر پرما قابض ہوگئی تھی۔
پرما جاگ رہی تھی ممکن ہی نہ تھا اسے نیند آجاتی۔کھولی میں تین ہی چارپائیاں دستیاب تھیں اور تیسری چارپائی جھلنگابنی تھی اس کی نواربھی دو تین جگہ سے ٹوٹی ہوئی تھی۔
”راج کماری صاحب اس پر آرام کریں گی۔“لورا نے جھلنگا چارپائی پر سونے سے انکار کر دیا تھا۔
میں نے نفی میں سرہلایا۔”یہ میرے لیے رہنے دو۔“
وہ بپھر کر بولی۔”تم کیوں جھلنگاچارپائی پر سوﺅ گے۔“
میرے ہونٹوں پر مسکراہٹ ابھری۔”کیا تم نہیں جانتیں ۔“
”زہر لگتی ہے تمھاری ہنسی۔“بیویوں کے سے انداز میں مجھے کوستے ہوئے وہ جھلنگا چارپائی کی طرف بڑھی۔
میں نے اسے بازو سے پکڑا۔”سختیاں برداشت کرنا مرد کا کام ہوتا ہے عورت کا نہیں ۔“
وہ برہم ہوئی۔”تمھاری عورتیں گھر بیٹھی ہیں ۔“
”اچھا پانچ منٹ صبر کرو میں نئی چارپائی خرید لاتا ہوں تاکہ وجہ ہی کو قتل کر دوں ۔“
پرما پر قہر آلود نظر ڈال کر وہ غرائی۔”وجہ پرانی چارپائی نہیں ہے۔“
”اور وجہ ایک معصوم لڑکی بھی نہیں ہے۔“اسے اپنی چارپائی پر دھکیل کر میں باہر نکل آیا۔چارپائی اور رات کا کھاناخریدنے میں مجھے دس پندرہ منٹ سے زیادہ نہیں لگے تھے۔
واپسی پر لورا ،پرما کو دھمکاتی ہوئی ملی تھی۔نجانے کیوں وہ پرما پر برہم تھی۔حالاں کہ اچھی طرح جانتی تھی کہ شکلا کے کرتوتوں کی جوابدہ پرما نہیں ہو سکتی تھی۔
پرانی چارپائی صحن میں پھینک کر میں نے نئی چارپائی پر بستر لگایا۔لورا خاموش ہو گئی تھی۔پرما کی آنکھوں میں مجھے ہلکی نمی تیرتی نظر آئی۔میں نے کڑی نظر سے لورا کو گھورا۔اس نے ڈھیٹوں کے انداز میں کندھے اچکا دیے تھے۔
میں نے پرما کی ہتھکڑیاں کھول کر اسے ہاتھ منہ دھونے کا کہا تاکہ کھانا کھاسکیں ۔
وہ منمنائی۔”ہمیں بھوک نہیں ہے۔“
اس کی پیٹھ تھپتھپاتے ہوئے میں اردو میں بولا۔”کہا ناں آپ کو کوئی بھی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔نہ عزت ،نہ جان کو۔ہماری دشمنی شکلا سے ہے۔آپ بالکل بے گناہ و بے قصور ہو۔ اب اٹھو اور تازہ دم ہو جاﺅ۔“
مجھ پر ممنونیت بھری نظر ڈال کر وہ غسل خانے میں گھس گئی۔میں نے دو چارپائیاں ملا کر ان پر کھانا چن دیا۔
”آجاﺅ۔“میں نے لورا کو آواز دی۔
وہ قریب آئی۔”تم اپنی حرکتوں سے باز نہیں آﺅ گے۔“
مجھے حیرانی ہوئی۔”کیا ہوا؟“
وہ پست آواز میں بولی۔”اسے کیا تسلیاں دے رہے تھے۔جب کہہ دیا کچھ نہیں کہوں گی تو زبانی کلامی دھمکانے پر تمھیں اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔“
میں طنزیہ انداز میں بولا۔”تمھیں کیا معلوم میں اسے تسلیاں دے رہا تھا یا کوئی اور بات کر رہا تھا۔“
”اردو نہیں جانتی ،تمھاری حرکتیں دیکھ کر اندازہ تو کرسکتی ہوں ۔“
”کیا سہمی ہوئی لڑکی کو تسلی دیناغلط ہے،جبکہ لڑکی کے بے گناہ و بے قصور ہونے کا یقین ہو۔“
وہ بے پروائی سے بولی۔”اولاد کو والدین کا بویا کاٹنا پڑتا ہے۔“
”وہ ایک عظیم مجاہد کی بیٹی ہے ، شکلا کی نہیں ہے۔بلکہ شکلا تو اس کی ماں کا قاتل ہے۔“
”تم نرا سر درد ہو۔اگر مجبور نہ ہوتی تو تمھارے ساتھ ایک پل نہ ٹھہرتی۔“
میں بیزاری سے بولا۔”مجبوری کیسی،دفع ہوجاﺅ۔شکلا کو پرما کے نام پر بلیک میل کر کے جو لینا ہے حاصل کرو۔پرما کی فکر نہ کرومیں اسے سنبھال لوں گا اور ان شاءاللہ اب شکلا اس کی صورت نہیں دیکھ سکے گا۔“
وہ استہزائی انداز میں بولی۔”اوے ہوئے....اتنی پسند آگئی ہے کہ کیپٹن لورا براﺅن بھی کباب میں ہڈی لگنے لگی ہے۔اور یہ بھول گئے کیسے للچاتے ہوئے ندیدے پن سے ڈیٹ پر جانے کی درخواست کیا کرتے تھے۔“
چٹخنی کھلنے کی آوازپر میں دبے لہجے میں بولا۔”کوڑھ مغزاس کے سامنے ایسی بکواس نہ کر دینا۔“
ہونٹوں پر استہزائی مسکراہٹ بکھیرے وہ خاموش ہو گئی۔
پرما باہر آئی۔سرخ وسفید چہرے پر پانی کے قطرے پھول پر پڑی شبنم کی طرح لگ رہے تھے۔اس نے تولیہ استعمال نہیں کیا تھا۔یقینا نفیس سیٹھ زادی کوکسی دوسرے کا تولیہ استعمال کرنا قباحت لگ رہی تھی۔بلکہ وہ عام سا بستر،غریبوں کا غسل خانہ و بیت الخلائ،مرمت کی متقاضی دیواروں والی کھولی جس کے فرش کاناقص پلستر جگہ جگہ سے اُکھڑا تھا۔یقینا وہ مقام اس کے لیے کسی عقوبت خانے سے کم نہ تھا۔لورا جیسی تربیت یافتہ اور عملی زندگی گزارنے والی سنائپر وہاں آکر چیخ پڑی تھی۔پرما تو نازوں میں پلی شہزادی تھی۔جسے نہ گرمی سے پالا پڑا تھا نہ سردی سے واسطہ۔گرمیوں میں ہر جگہ اے سی میسر ہوتا تو سردیوں میں ہیٹر۔اس کھولی سے تو اس کے ملازموں کی رہائش بھی کئی گنا بہتر ہو گی۔
وہ قریب آکر بیٹھ گئی۔مجھے دکھانے کو اس نے دو تین نوالے زہر مار کیے ،بلاشبہ پریشانی نے اس کی بھوک اڑادی تھی۔میں نے زیادہ اصرار نہ کیا کہ اس کی حالت سے بھی واقف تھااور یہ اندیشہ بھی تھا کہ میرے اصرار کو فکرمندی جانتے ہوئے لورا بکواس نہ شروع کر دے۔
وہ پرما کو گھٹیا درجے کے قیدی سے زیادہ اہمیت دینے پر تیار نہ تھی۔جبکہ انصاری صاحب سے عقیدت کی وجہ سے مجھے پرماکی فکر تھی۔میں اسے ہلکی سی تکلیف پہنچانے پر راضی نہ تھا کجا اسے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا یا اس کی ہتک کی جاتی۔
بیٹی انصاری صاحب کو جان سے عزیز تھی۔ پرما کا ذکر کرتے وقت ان کے ہونٹوں پر شفقت بھرے تبسم کاابھرنا، آنکھوں میں پرما کی جدائی پر نمی کا چھلکنا، چہرے کا حسرت و یاس کی تصویر بن جاناظاہر کرتا تھاکہ پرما انھیں کتنی پیاری تھی۔پرما کی محبت ہی تھی کہ وہ شکلا جیسے ڈائنو سار سے ہار ماننے کو تیار نہیں تھے۔
”ہمیں ہتھکڑیوں میں تکلیف ہو رہی ہے۔شاید سو نہ سکیں ۔“لورا جونھی برتن سمیٹ کر اٹھی، پرما ہولے سے منمنائی۔بے چاری لورا کے رویے کی وجہ سے خوفزدہ تھی۔حالاں کہ ہم جنس ہونے کے ناتے اسے لورا کا سہارا لینے کی ضرورت تھی،مگر لورا کے بار بار جھڑکنے،دھمکانے اور اظہار نفرت کے بعد اس کا میرے ہمدردی بھرے رویے پر میری طرف متوجہ ہونا اچنبھے کی بات نہ تھی۔
لورا برتن دھونے صحن میں نکل گئی۔
میں نے ندامت ظاہر کی۔”یہ ہماری مجبوری ہے ورنہ آپ کو کبھی تکلیف نہ پہنچائی جاتی۔“
وہ لجاجت سے بولی۔”جب تک آپ موجود ہیں تب تک تو یونھی رہ سکتے ہیں ناں ۔بے شک آپ دروازے کواندر سے تالا کر دیں ۔“
میں متبسم ہوا۔”وعدہ کرتی ہو کہ بھاگنے کی کوشش نہیں کرو گی۔“
سر جھکا کر وہ اٹکتے ہوئے بولی۔”جج....جی ہم وعدہ کرتے ہیں نہیں بھاگیں گے۔“شاید پہلی بار جھوٹ بولنا پڑا تھا جو ہکلا گئی تھی۔
اسے کرید کر نادم کرنے میں دلچسپی نہ تھی۔اثبات میں سرہلاتے ہوئے کہا۔”اچھا سو جاﺅ،میں جاگ رہا ہوں ۔“
چہرے پر شکرگزاری کا گہرا اثرلیے وہ لیٹ گئی۔
لورا نے اندر آتے ہی برتن ایک طرف رکھے اوراسے کڑے تیوروں سے گھورتے ہوئے ہتھکڑی اٹھا لی۔
میں جلدی سے بولا۔”فی الحال رہنے دو کیپٹن۔“
”سچ میں ۔“اس کے چہرے پر بے یقینی ابھری۔
”میں جاگ رہا ہوں ۔“
وہ برہمی سے بولی۔”اس کے لیے کب تک جاگو گے۔“
میں اطمینان سے بولا۔”آرام کرویہ تمھارا درد سر نہیں ہے۔“
وہ طنزیہ لہجے میں بولی۔”تم ہو نا میرا درد سر۔“
”ایک آدمی کا جاگنا ضروری ہے۔“
اس نے منہ بگاڑا۔”تمھارے جاگنے پر نہیں ،لڑکی کے نہ بندھے ہونے پر معترض ہوں ۔“
”کیا خیال ہے تمھارے اعتراض کی مجھے پروا ہوگی۔“
وہ استہزائی اندازمیں بولی۔” ایک بریگیڈئر کا ایسے سپاہی کو اپنی ڈاکٹر بیٹی کا رشتا دیناجوپہلے سے دو بیویوں کا شوہرہو ،یقینا احمقانہ اور لچر سوچ ہے۔“
میں نے تیز لہجے میں اسے ٹوکا۔”بکواس کی ضرورت نہیں ،شکلا بریگیڈئر نہیں جنرل ہے۔“ساتھ ہی آنکھ مار کراسے انصاری صاحب کا ذکر نہ کرنے کا اشارہ کر دیا۔
اس نے تپتے ہوئے کہا۔”کوئی انہونی ہو گئی توتمھیں گولی مارنے سے بھی نہیں چوکوں گی۔“
میں نے اس کے اندیشے کو درخور اعتناءنہیں جاناتھا۔میرا مطمح نظرپرما کو حتی الوسع آرام پہنچانا تھا۔میں صبح بھی سو سکتا تھا۔یوں بھی دو تین دن ہم نے باہر نہیں نکلنا تھا۔ ٹی وی کی میز اپنی چارپائی کے قریب کر کے میں نے آواز دھیمی کی اور خبریں دیکھنے لگا۔نامعلوم دہشت گردوں کی وجہ سے پولیس جگہ جگہ پر چھاپے مار رہی تھی۔مختلف سڑکوں پر پولیس کے ناکے اور چیک پوائنٹ قائم ہو گئے تھے۔پرما کے اغواءکی خبر کسی چینل پر نہیں آئی تھی، البتہ میڈیکل کی ایک نامعلوم طالبہ کی پراسرار گمشدگی کا ذکر دو تین چینلوں نے کیا تھا۔
تھوڑی دیر بعد ہی لورا کے گہرے سانس میری سماعتوں میں گونجنے لگے۔پرما کی آنکھیں بھی بند تھیں ۔خبروں کا تکراراور بار بارگھوم پھر کر پرانی گفتگو کا دہرایاجانا زیادہ دیر برداشت نہ ہوسکا مجبوراََ مجھے چینل تبدیل کرنا پڑا۔اور میں نے ایک دستاویزی فلم لگا لی۔رات دبے پاﺅں سرکنے لگی۔اسی دوران غنودی کاہلکا سا جھٹکا لگا،آرام دہ بستر پر مسلسل جاگنا بھی کارِ دار بن جاتا ہے۔میں پرما کے ہاتھ پاﺅں جکڑنے کے ارادے سے اٹھا۔تاکہ تھوڑی نیند لے لوں وہ کمبل میں غائب تھی صرف موہنا چہرہ ہی باہر نظر آرہا تھا۔چہرے پر اتنی معصومیت اور الہڑ پن چھایا تھا کہ میں اسے نیند سے جگانے کا حوصلہ نہ کر سکا۔
دروازے کو صرف باہر سے تالا کیا جا سکتا تھا کیوں کہ اندر زنجیر کے بجائے چٹخنی لگی تھی۔ مجھے اور کچھ نہ سوجھا اور حفظ ماتقدم کے طور پر اپنی چارپائی کو دروازے کے سامنے بچھا دیا۔
میری نیند ایسی نہ تھی کہ پرما میرے اوپر سے گزر کر دروازے سے باہر چلی جاتی اور میں سویا رہتا۔اس کے باوجود میں نے لمبا پڑنے کے بجائے گھٹنوں میں سر دے کر بیٹھنا ضروری سمجھا تھاکیوں میں خطرہ مول لینے کے حق میں نہ تھا۔پرما کے حصول کے بعد میرا مشن تقریباََ مکمل ہو گا تھا،بس اب شکلا کے خاتمے کا منصوبہ بنانا تھاتاکہ بھارت سے فرار ہونے میں آسانی ہوتی۔پرما کے ماموں کویقینا اس کی اتنی پروا نہ ہوتی جتنی نانا کو تھی۔
بیٹھے بیٹھے ہی میں اپنی پلوشے کے پاس پہنچ گیا تھا۔جوں جوں وقت گزر رہا تھااس کی یاد چھاتی کا پھوڑا بنتی جا رہی تھی۔ انڈیا آمد کے بعد مجھے آرام کے اوقات کم ہی میسر رہے تھے۔اور یہ میرے لیے بہتر تھا کہ مصروفیت اس کی جان لیوا یادوں سے چھٹکارے کا باعث بنتی تھی۔اب تو جدائی کے ساتھ اس کی خفگی کا احساس بھی دل و دماغ پر کچوکے لگاتا رہتا تھا۔
آنکھیں بند کرنے کے بعد میں اس کے تصورات میں کھو جاتا،گزری باتیں دہراتا،اس کی اداﺅں میں ڈوب جاتا،اس کے روٹھنے منانے سے لطف اندوز ہوتا،اس کی کھنکتی ،گنگناتی ہنسی دھیان میں لاتا،دبی دبی سرگوشیوں کے لیے سماعتوں کو وا کرتا، اس کے گرم مہکتے سانسوں کی پھوارکو محسوس کرتا،اس کا میری انگلیوں کو چٹخانایاد کرتا۔میرے ہاتھ اس کی ناک،کان،ریشمی زلفوں کے لمس کا احساس کرتے،یہاں تک کہ میں نیند میں ڈوب کر ایسے جہان میں پہنچ جاتا جہاں نہ اس کی خفگی موجود تھی اور نہ جدائی سے واسطہ تھا۔
اس کی سب سے بڑی کمزوری گدگدی تھی۔بغل یا پیٹ میں انگلی چبھونے سے وہ یوں اچھلتی تھی جیسے بجلی کا کرنٹ یا بچھو کا ڈنک لگا ہو۔چھوٹی موٹی خفگی کو دور کرنے کا یہ تیر بہ ہدف نسخہ تھا۔ میں پوچھتا....”موڈ ٹھیک کرتی ہو یا کروں گدگدی۔“ اور وہ فوراََ خفگی ختم کر دیتی تھی۔
سپنوں کی دنیا ایسی جگہ ہے جہاں غم کم اور خوشیاں بے بہا ہوتی ہیں ۔انسان کی بہت سی تشنہ خواہشات خواب نگر میں پوری ہو تی ہیں ۔میری آنکھیں بھی نیند میں پلوشے کی دید سے بہرہ مند ہوتیں ،قوت شامہ اس کی خوشبو سے فیض یاب ہوتی اور سماعتیں میٹھی سرگوشیوں سے متمتع ہوتیں ۔بیٹھے بیٹھے میں بھی سپنوں کی دلکش دنیا میں پہنچ گیا۔پلوشے میرا سر گود میں رکھے بالوں میں انگلیاں پھیر رہی تھی۔اس کے لبوں پر پشتو زبان کا گیت مچل رہا تھا۔اچانک اس نے پوچھا....
”راجو پانی پیو گے۔“
”نہیں ۔“
”مجھے تو پیاس لگی ہے۔“اس نے ہاتھ بڑھا کر میز پر سے جگ اٹھایااور جونھی گلاس بھرنے لگی،جگ اس کے ہاتھ سے پھسلا....ایک دم میں نے کہنیاں سامنے کر کے جگ کو روکنے کی کوشش کی اور اسی وقت میرے سر پر قیامت ٹوٹ پڑی۔شیشے کا جگ سر کے عقبی حصے سے ٹکرایا۔”اوغ۔“کی زور دار آواز سے میں دائیں جانب جھکا اور چارپائی سے نیچے گر گیا۔میری آنکھیں وا ہوئیں ،وہ پرما تھی۔مجھے جگ رسید کر کے اس نے جگ چارپائی پر پھینکا ،چارپائی کو ایک جانب ہٹا کر چٹخنی کھولنے لگی۔
میں ایک جھٹکے سے اٹھامگر زور کا چکر آیا اور دوبارہ گر گیا۔
جاری ہے
قسط نمبر 44
ریاض عاقب کوہلر
میں ایک جھٹکے سے اٹھامگر زور کا چکر آیا اور دوبارہ گر گیا۔سر پر ہاتھ پھیرا توخون بہہ رہا تھا۔مگر پرما کا بھاگ جانا ہمارے سارے منصوبے پر پانی پھیر دیتا۔لورا براﺅن کی عادت تھی کہ وہ چہرہ کمبل میں چھپا کر سوتی تھی۔اسی وجہ سے ہلکی پھلکی کھٹ پٹ اسے سنائی نہیں دی تھی۔یا جاگی بھی تھی تو میری پہرے داری پر بھروسا کرتے ہوئے چہرے سے کمبل نہیں ہٹایا تھا۔
پرما چٹخنی کھول کر باہر کوبھاگی۔میں کوشش کر کے ڈگمگاتا ہوا اٹھا،پہلے لورا کو اٹھانے کا سوچا،مگر اس کے سنبھلنے تک پرما کے دور نکلنے کا خطرہ تھا،اس لیے خود ہی اس کے پیچھے بھاگ پڑا۔سر میں دھماکے ہورہے تھے اور تیزی سے حرکت کرنا بہت مشکل لگ رہا تھا۔
پرما بیرونی دروازہ کھول کر باہر جا چکی تھی۔میں ننگے قدم ہی بھاگا تھا،دروازے سے باہر کوئی نوکیلی چیز پاﺅں کے تلوے میں چبھی مگر وہ وقت ایسی باتوں پر دھیان کا نہیں تھا۔قدم روک کر میں نے پاﺅں پر ہاتھ پھیرا وہ کیل تھی۔کیل نکال کردور پھینکی اوردوبارہ بھاگ پڑا۔
”سٹیریٹ لائیٹ“کی روشنی میں وہ ہوا کے جھونکے کی طرح اڑتی نظر آئی۔اس نے کالی جینز پر سفید کُرتااور اس پرکالے ہی رنگ کاعمدہ کوٹ پہنا ہوا تھا۔
بھاگتے ہوئے اس نے چند بار۔”مدد....مدد....“کی آواز بلند کی مگروہ محلہ ایسا نہیں تھا جہاں رات کے اس وقت جاگنے کا رواج ہوتا۔غریب ،مزدور طبقہ لوگ تھے جو سردی سے بچنے کو بستروں میں چھپے تھے۔
میں بھی زخمی پاﺅں کی پروا کیے بغیر بھاگا،سر کی چوٹ کو بھی میں نے پس پشت ڈال دیا تھا۔حالانکہ یوں لگ رہا تھا جیسے کوئی باکسنگ دستانے پہن کر میرے سر میں مسلسل مکے مار رہاہو۔پاﺅں میں بھی کیل چبھنے سے سخت جلن اور درد ہورہا تھا۔
مختصر گلی عبور کر کے وہ سڑک پر نکلی اور شاید اس کی قسمت عروج پر تھی کہ جیسے سڑک پر چڑھی،گاڑی کی تیز روشنی میں نہا گئی۔وہ سرخ رنگ کی آلٹو تھی۔
”پلیز مدد کرو....“باآواز بلند کہتے ہوئے پرما ہاتھ اٹھا کر کار کے سامنے کھڑی ہو گئی تھی۔
کار رکی ،عقبی دروازہ کھلا اور وہ سرعت سے اندر گھس گئی۔
اس کے کار کے سامنے رکتے ہی میں پارکنگ کی طرف دوڑ پڑا تھا۔کیوں کہ کسی نوجوان لڑکی کا لفٹ کو اٹھا ہوا ہاتھ کم ہی مایوس لوٹتا ہے۔اور لڑکی جب پرما کی طرح بھرپور جوان اور معصوم و من موہنے رخ کی مالک ہو تو ”لفٹ “نہ ملنے کا گمان صفر فیصد رہ جاتا ہے۔
گلی میں دو گھروں کے درمیان خالی جگہ تھی جہاں تین چار کار یں پارک تھیں ۔ وہ کاریں دن بھر بہ طور ٹیکسی چلائی جاتیں ۔کچھ ٹیکسیاں دن بھر پارک رہتیں اور رات کو نکالی جاتیں ۔میں اپنی کار ہمیشہ ایسی جگہ پارک کرتا جہاں ناگہانی صورت میں جلدی بھاگا جا سکے اور میری یہ احتیاط کام آگئی تھی۔کار اسٹارٹ کر کے میں باہر لایااور سڑک پر چڑھتے ہی رفتار بڑھا دی۔مقام شکر تھا کہ سڑک خالی پڑی تھی۔یہ سڑک ساحل سمندر کی طرف جاتی تھی۔جلد ہی کار کی عقبی بتیاں نظر آئیں ،لیکن قریب پہنچنے سے پہلے کار سڑک سے اتر کر عمارتی سلسلے میں گھس گئی تھی ۔اس کے گلی میں داخل ہوتے ہی میں نے رفتار مزید بڑھا دی تھی،کیوں کہ میرے پہنچنے سے پہلے کار کسی مکان میں گھس جاتی تو تلاش کرنامسئلہ بن جاتا۔
مطلوبہ جگہ پہنچ کر میں نے بھی کار سڑک سے اتاری،سامنے طویل گلی خالی نظر آرہی تھی۔گلی کافی کشادہ تھی۔میں تیز رفتاری سے آگے بڑھتا گیا،مگر موڑ مڑتے ہی رکنا پڑا کہ دور دور تک کار کا نام و نشان بھی نہ تھا۔کار ایک جانب لگا کر میں نیچے اترا۔اندازہ یہی تھا کہ کار گلی موڑ سے پہلے ہی کسی مکان کے اندر گئی تھی۔
زیادہ تر مکانوں کے صحن میں بلب روشن تھے۔اگر سارے مکانوں کا جائزہ لیتا تو شاید صبح ہوجاتی۔ مجھے سخت پریشانی ہو رہی تھی۔اگر پرما کو لانے والا پولیس کو فون کر دیتا تو میری وہاں موجودی سخت خطرناک ہو سکتی تھی۔
”اگر اس کی نیت پرما پر بگڑ گئی پھر؟“ایک روح فرسا خیال میرے دماغ میں جاگا۔ایسا ہو جاتا تو میں ساری زندگی خود سے نظریں نہ ملا پاتا۔پرما جیسی لڑکی پر کسی کی نیت کا بگڑنابعیدا زقیاس نہ تھا۔اپنے اول الذکر اندیشے پر کہ وہاں پولیس نہ پہنچ جائے،مجھے واپسی کا خیال آیا تھا۔مگر پرما کی عزت خطرے میں محسوس کرتے ہی میری ساری حسیں بیدار ہو گئی تھیں ۔میں پیدل ہی پیچھے چل پڑا۔ہر مکان کے دروازے سے جھانک کر میں صحن میں نظریں دوڑاتااور دوسرے مکان کی طرف بڑھ جاتا۔کار گیراج ہی میں پارک ہوتی ہے اور عموماََگیراج کا دروازہ نہیں ہوتا۔
پانچ چھے مکان ہی دیکھ پایا تھا کہ اچانک میرے حساس کانوں میں کسی لڑکی کے چیخنے کی آواز آئی۔ میرے دل کی دھڑکن بڑھ گئی تھی۔اندازے کے مطابق میری جگہ سے دوسرا مکان تھا۔میں بھاگ کر اس مکان کے سامنے پہنچا،اس کا گیٹ لوہے کا تھا۔اچھل کر میں نے دیوار کا اوپری سرا پکڑا اور بازوں کے زور سے اوپر اٹھ کر صحن میں جھانکا۔وہاں سفید رنگ کی ٹویوٹا میرا منہ چڑا رہی تھی۔نیچے اتر کر میں ساتھ والے مکان کی دیوار سے جھانکا۔صحن میں کھڑی سرخ آلٹو دیکھتے ہی میرا دل خوشی سے بھر گیا تھا۔احتیاط بلائے طاق رکھتے ہوئے، میں بازوﺅں کے زور پر اوپر اٹھ گیا۔نیچے اترتے ہی گلاک کی تلاش میں میرا ہاتھ جیب میں رینگا،مگر یاد آیا پستول تو تکیے کے نیچے رہ گیا تھا۔کار کی ڈگی میں دو سنائپر رائفلیں موجود تھیں ،مگر اتنا وقت نہیں تھا کہ واپس جا کر رائفل لا سکتا۔پرما کی چیخ نے میرے اندیشے بڑھا دیے تھے اور ضائع کرنے کو ایک سیکنڈ بھی نہیں تھا۔میں تیز رفتاری سے اندرونی عمارت کی طرف بڑھا۔پاﺅں ننگے ہونے کی وجہ سے چاپ دب گئی تھی۔
وہ درمیانے حجم کا مکان تھا۔اندرونی عمارت کے دروازے پر چھوٹی سی بارہ دری بنی تھی،جس کا مقصد لکڑی کے دروازے کو بارش کے پانی سے محفوظ رکھنا تھا۔دروازے کے دائیں بائیں دو کھڑکیاں تھیں جن میں جالی لگی تھی۔دروازے کے قریب ایسی آواز آئی جیسے کسی کا منہ بند کیا جائے اور وہ ناک سے۔”اوں .... اوں ۔“کی آواز نکالے۔اب میرا اندیشہ حقیقت کا روپ دھار چکا تھا۔یقینااس بدبخت سے پرما کا حسن گلو سوز برداشت نہیں ہو سکا تھا۔
البتہ ایک بات حیرانی میں ڈال رہی تھی کہ آخر گھر میں اس کے علاوہ کوئی نہ تھا جو اسے ٹوکنے کی کوشش کرتا۔بہ ہرحال وہ وقت سوچوں میں کھونے کا نہیں تھا۔دروازے پر دستک دینے سے وہ کبھی دروازہ نہ کھولتا۔دروازے کو توڑنا بھی آسان نہ تھا۔میری جیب میں تیز دھار چاقو موجود تھا،میں نے بغیر کسی تاخیر کے چاقو کھول کر کھڑکی کی جالی پر لگی پٹی اتاری اور دو تین جھٹکے دے کر جالی کھینچ لی۔عقب میں شیشے کی کھڑکی تھی۔مکا مار کر اوپر والا شیشہ توڑا اور ہاتھ اندر ڈال کر چٹخنی کھول دی۔شیشے کے ٹوٹنے کی آواز پر اندرونی دروازہ کھولا جانے لگا، تب تک میں اندر داخل ہو گیا تھا۔شیشے کی کرچیوں نے میرے پاﺅں کا بوسا لیا،مگر وہ چھوٹے موٹے زخموں پر دھیان دینے کا وقت نہ تھا۔ڈرائینگ روم میں روشنی ہو رہی تھی۔دروازے سے برآمد ہونے والاچہرہ ایک نوجوان کا تھا۔نیچے کالی چست پتلون اور بالائی بدن برہنہ تھا۔مجھے دیکھتے ہی اس کی آنکھوں میں حیرانی کے ساتھ وحشیانہ چمک ابھری۔
وہ دھاڑا۔”کون ہو تم۔“
جواب دیے بغیر میں زقند بھر کر قریب ہوا،میرے سر کی ٹکر اس کی چھاتی میں لگی اور وہ اچھل کر اندر جاگرا۔
میرے داخل ہونے تک وہ کھڑا ہو گیا تھا۔مگر اندر صورت حال دیکھتے ہی مجھے ٹھٹک کر رکنا پڑا۔وہ اکیلا نہیں تھا۔اس کے دو ساتھی اور بھی تھے۔ایک میز پر شراب کی کھلی ہوئی بوتل پڑی تھی۔اور اس کے دونوں ساتھی زیر جامے میں بیٹھے شراب نوشی کر رہے تھے۔پرما بیڈ پر بندھی پڑی تھی،یوں کہ اس کا بالائی بدن برہنہ تھا اور نیچے صرف زیر جامہ رہ گیا تھا جو شاید چند سیکنڈ ہی کا مہمان تھا۔اگر میں بروقت نہ پہنچتا تو وہ بھی اتر گیا ہوتا۔پرما کی آنکھوں سے مسلسل آنسو بہہ رہے تھے،مجھے دیکھتے ہی وہ۔”اوں ....اوں ....“ کر کے زور زور زور سے مچلنے لگی۔اس کے منہ پر رومال بندھا تھا تبھی بے چاری چیخ نہیں پا رہی تھی۔
میں نے سرسری نظر اندر دوڑا ئی۔نیچے گرا ہوا لڑکا کھڑا ہوگیا تھا۔وہ انداز سے باقی دونوں کا سرغنہ لگتا تھا،تبھی تو پرما پر پہلا حق اس کا تسلیم کیا گیا تھا۔اس کے دونوں ساتھی بھی کھڑے ہو گئے تھے۔میرے جارحانہ تیور ان کی نظر میں غیر اہم تھے۔
سرغنہ بولا۔”بہتر ہو گا جان بچا کر بھاگ جا۔ورنہ ٹکڑے کر گٹر میں بہا دوں گا۔“
پرما کی حالت دیکھتے ہی میرے دماغ پر سرخ چادر چھا گئی تھی۔کسی مظلوم لڑکی کو بے حرمت کرنے والے درندوں پر مجھے کبھی ترس نہیں آیا۔میں جواب دیئے بغیر اس کی طرف بڑھا۔اس نے ہاتھ بڑھا کر میرا گریبان تھامنے کی کوشش کی،میں نے اسے ایسا کرنے دیا،جونھی اس کی گرفت مضبوط ہوئی،دائیں ہاتھ سے میں نے اس کا ہاتھ پکڑا اور بایاں ہاتھ زور سے کہنی پر مارا،وہ گھومنے پر مجبور ہو گیا تھا، ساتھ ہی میں نے زور دار جھٹکا دیا۔اس کے ہونٹوں سے بلندچیخ نکلی،جوڑ سے اس کا کندھا نکل گیا تھا۔
وہ چیختے ہوئے گھٹنوں کے بل بیٹھا،سرعت سے ایک ہاتھ اس کی ٹھوڑی پر اور دوسرا سر پر رکھ کر میں نے دونوں ہاتھ مخالف اطراف میں کھینچے۔اوراس کا چہرہ پشت کی طرف موڑ دیا۔
”کھٹاک۔“کی زور دار آواز سے اس کی گردن کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی۔فرش پر گر کر وہ اذیت سے ہاتھ پاﺅں جھٹکنے لگا۔
اس کے ساتھیوں میں سے ایک نے شراب کی بوتل اٹھا کرآدھی توڑی اور بقیہ بوتل خنجر کی طرح میری طرف تان لی۔ان کے چہرے پر خوف نمودار ہو گیا تھا،لیکن اتنی جلدی ہار ماننے کو تیار نہ تھے۔
پہلے کو انجام تک پہنچاتے ہی میں ان دونوں کی طرف بڑھا۔بوتل والابھی اناڑی انداز میں آگے ہوا۔ جونھی اس کا بوتل والاہاتھ میری پہنچ میں آیا،میں نے جھپٹ کرایک ہاتھ سے اس کی کلائی پکڑی اور دوسرا ہاتھ اس کی کہنی کے قریب رکھ کر مخصوص انداز میں موڑا،اسے معلوم ہی نہیں ہوا تھا کہ بوتل کا ٹوٹا ہوا سرا کیسے اس کے پیٹ کی جانب مڑ چکا تھا۔دوسرے ہی لمحے زوردار جھٹکے سے میں نے بوتل اس کے پیٹ میں اتار دی۔
زوردار انداز میں چیختے ہوئے وہ دہراہوا ،اسی وقت میرا گھٹنا زور سے اٹھ کر اس کے ماتھے سے ٹکرایا۔
دوسری چیخ کے ساتھ وہ کولہوں کے بل نیچے گرا اور لمبا لیٹ گیا۔میں نے اپنی ایڑی پوری قوت سے بوتل پر ماری اور مکمل بوتل اس کے پیٹ میں چلی گئی۔اسی دوران تیسرا لڑکا مجھ پر حملہ آور ہوچکا تھا۔میں نے اس کے وار کو کہنی پر روکااور ایک دم قریب ہوتے ہوئے اس کی ٹانگوں کے بیچ گھٹنا اٹھا دیا۔
زوردار۔”اوغ“کے ساتھ وہ رکوع کے بل جھکا،میرا بازو فوراََ ہی اس کی گردن سے لپٹ گیا تھا۔دوسرے بازو سے اپنی کہنی تھامتے ہوئے میں نے زوردار جھٹکا دیا اور۔”کڑکڑکڑ....‘کی بھیانک آواز کے ساتھ اس کا جسم بھی اذیت سے تھرتھرانے لگا تھا۔
گہرا سانس لیتے ہوئے میں اٹھا،پرما میری طرف متوجہ تھی اس کی آنکھوں میں دہشت ثبت ہوچکی تھی۔وہ ایسی حالت میں نہیں تھی کہ اسے دیکھ سکتا۔خبیثوں نے اس کی قمیص پھاڑ کر بدن سے علیحدہ کی تھی۔اس کا کوٹ اٹھاکر میں نے اس کابالائی بدن ڈھانپااور چاقو سے اس کی ہاتھ پاﺅں کی بندشیں کاٹ دیں ۔
آزاد ہوتے ہی اس نے منہ پر بندھا رومال کھولا اور وہ گلو گیر آواز میں ۔”شکریہ ....بہت بہت شکریہ....سوری.... سوری ....“کہتے ہوئے اٹھ بیٹھی۔
کوٹ نیچے گرااور میں نے جلدی سے رخ موڑ لیا۔
میرے دونوں پاﺅں سے خون بہہ رہا تھا۔سر سے بہنے والا خون اب رک گیا تھا۔اس کی پھٹی ہوئی قمیص بیڈ سے نیچے پڑی تھی۔میں نے قمیص سے پٹیاں پھاڑ کر دونوں پاﺅں پر لپیٹ لیں ۔جائزہ لینے پراندازہ ہوا ان کے سرغنہ کے جوتے مجھے فٹ آسکتے تھے۔جوتے پہن کر میں نے اس کی طرف دیکھے بغیر پوچھا۔”تیار ہو۔“
وہ منمنائی۔”جج....جی جی۔“
میں اس کی طرف مڑا۔پتلون و جیکٹ پہن کر اس نے کندن بدن ڈھانپ لیا تھا۔میرے دیکھنے پر وہ سر جھکا کریوں کھڑی ہوگئی جیسے اسکول کی بچی کو سخت گیر استاد کا سامنا کرنا پڑجائے۔
تینوں مقتولوں کے لباس کی تلاشی لے کر میں نے ان کے موبائل فون نکالے اور بند کر کے جیب میں ڈال لیے کہ شکلا سے بات چیت کو ہمیں ان موبائل فون کی ضرورت پڑ سکتی تھی۔
”چلو۔“میں نے اسے دروازے کی طرف بڑھنے کا اشارہ کیا۔
اس نے جھجکتے ہوئے دروازے کی طرف قدم بڑھا دیے۔میں اس کے ساتھ لگ کر چل پڑا کہ دوبارہ بھاگ نہ سکے۔اعتبار کے قابل تو وہ پہلے بھی نہیں تھی اور نہ کوئی قیدی اعتبار کے قابل ہوتا ہے۔البتہ مجھے اب خاطر خواہ سبق مل گیا تھا۔
یقینا نشے میں دھت تین نوجوانوں کو جب اتنی خوب صورت لڑکی ایسی بے بسی کی حالت میں ملی تو انھیں اخلاقیات وغیرہ بھول گئے تھے۔اور پہلی فرصت میں انھوں نے بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے چاہے۔اب ان کی بدقسمتی کہ حیوانی جذبات میں وہ لڑکی کو پکڑنے والوں سے غافل ہو گئے تھے۔ان کے گمان میں بھی نہ تھا کہ میں وہاں پہنچ جاﺅں گا۔
”ادھر۔“گلی میں نکلتے ہی میں نے اسے ہدایت دی۔
وہ خاموشی سے کار کی طرف بڑھ گئی۔میں بالکل چوکس تھا ،لیکن وہ جس حادثے سے گزر چکی تھی یقینا وقتی طور پر بھاگنے کا نہیں سوچ سکتی تھی۔
بدقسمتی سے جونھی ہم کار کے نزدیک پہنچے،گلی کے موڑ سے چوکیدار نمودار ہوا۔
”پپ....پلیز مدد کرو،یہ ہمیں زبردستی لے جارہا ہے۔“پرما نے مدد مانگنے میں دیر نہیں کی تھی۔
اگر وہ رائفل تان لیتا تو میں مشکل میں پڑ سکتا تھا۔جونھی پرماملتجی ہوئی،میں نے لحظہ ضائع کیے بغیر ایک قدم آگے لیا ،میرے دائیں ہاتھ کا دائروی مکا پوری قوت سے چوکیدار کی ٹھوڑی کی طرف بڑھا۔
”اوغ۔“زوردار کراہ کے ساتھ وہ منہ کے بل گرا تھا۔
پرما ایک دم مڑ کر بھاگی،مگر میں نے زقند بھر کر اسے چھاپ لیا تھا۔
”پلیز ہمیں چھوڑ دو۔“میرے بازوﺅں میں آتے ہی وہ مچلتے ہوئے دہائیاں دینے لگی۔
”خاموش۔“میں نے اسے ڈانٹا۔
”اگر ہمیں گرینڈ پا تک لے جاﺅ تو وعدہ کرتی ہوں تمھیں منہ مانگا انعام دلواﺅں گی۔“رونے سے کام نہ بنتا دیکھ کر وہ لالچ دینے پر اتر آئی تھی۔
وہ جان بوجھ کر یا انجانے میں کافی زور زور سے بول رہی تھی۔اگر سوچ سمجھ کر اونچا بول رہی تھی تو اس کی چالاکی میں کوئی شبہ نہیں رہ جاتا تھا۔یقینا وہ لوگوں کو متوجہ کرنے کی کوشش میں تھی۔کار میں بیٹھ کر وہ راستے میں بھی میرے لیے مسئلہ کھڑا کر سکتی تھی۔مجبورا مجھے اس کی زبان خاموش کرنا پڑی۔ گردن پر بازو کا مخصوص دباﺅ ڈال کراسے عارضی طور پر خاموش کر دیا تھا۔اسے پیچھے بٹھانے کے بجائے ،اگلی نشست پر بٹھایااور خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھال کر چل پڑا۔ہم دوتین کلومیٹر سے زیادہ نہیں آئے تھے۔اس سڑک پر رات کے وقت ٹریفک نہ ہونے کے برابر ہوتی تھی اور یہی وجہ تھی کہ مجھے پرما کے حصول میں کامیابی ہوئی تھی۔
کھولی کے سامنے میں نے جونھی کار روکی،لورا متوحش سی باہر نکلی۔”کہاں گئے تھے،پرما ملی کہ نہیں ۔ تمھیں آوازیں دی تھیں کم از کم مجھے بھی ساتھ لے جاتے۔“ایک ہی سانس میں کئی سوالات پوچھتے ہوئے اس نے قریب ہو کر کار کے اندر جھانکا۔چونکہ کیبن کی بتی بجھی ہوئی تھی اس لیے اسے دور سے نظر نہیں آرہا تھا۔پرما کو دیکھتے ہی اس نے اطمینان بھرا سانس لیا۔
میں نے پہلے والے سوالوں نظر انداز کر دیا تھا وہ مزید سوالوں پر جری ہوئی۔”کیسے پکڑا؟....اور اتنی دیر کیوں لگا دی۔“
”اگر دو منٹ صبر کر لو تو سب کچھ بتا دوں گا۔“بیزاری سے کہتے ہوئے میں نے پرما کو بازوﺅں میں بھرلیا۔
اس نے کہا۔”میں کار پارک کرتی ہوں ۔“
میں جواب دیے بغیر آگے بڑھ گیا۔اسے بستر پر لٹا کر میں اپنی چارپائی پر بیٹھا اور بوٹ اتار کر پٹیاں کھولنے لگا۔اطمینان ہوتے ہی زخموں کا درد بڑھ گیا تھا۔میرے بوٹ اتارنے تک لورا لوٹ آئی تھی۔
”دیکھ لیا ہمدردی کا انجام،پڑی گئی ہے سینے میں ٹھنڈ۔اور اچھابننے کا ناٹک کرو۔سچ کہتے ہیں سپاہیوں میں عقل ہوتی تو فوج میں عہدہ دار نہ بنائے جاتے۔“باآواز بلند مجھے کوستے ہوئے اس نے پرما کے ایک ہاتھ میں ہتھکڑی ڈال کر دوسرا سرا چارپائی کے فریم کو لگا دیا۔
میں خاموش رہا کہ لورا حق بہ جانب تھی۔اسے جکڑ کر وہ طبی بکس اٹھا لائی۔سنائپر ابتدائی طبی امداد کا سامان جنگلوں ،پہاڑوں صحراﺅں میں ساتھ پھراتے ہیں ،وہاں تو سامان اٹھانے کی کوئی دقت نہ تھی۔
اسپرٹ سے میرے سر کا زخم کا صاف کرتے ہوئے وہ ہنسی۔”نشانہ تو کافی اچھا ہے راج کماری کااور ہاتھوں میں جان بھی ہے،بس ریجا ہی کچھ زیادہ ڈھیٹ تھا کہ بے ہوش نہ ہوا۔“
”معذرت یار!غلطی ہوگئی۔“میں نے ندامت ظاہر کرنے میں حرج نہیں سمجھا تھا۔
ایک نظر پرما پر ڈالتے ہوئے وہ شرارتی لہجے میں بولی۔” اتنی خوب صوررت تو نہیں ہے کہ تم ہوش حواس ہی گم کر بیٹھو۔“
میں شاکی ہوا۔”واقعی ،ایسا ہی سمجھتی ہو۔“
لورا کا قہقہ بلند ہوا۔”اندازہ ہی لگا سکتی ہوں ،اصل وجہ تمھیں معلوم ہوگی کہ کیوں اتنا خطرہ مول لیا۔“
میں چڑ کر بولا۔”حالاں کہ وضاحت کر چکا ہوں ۔“
اس نے قینچی سے زخم کے منہ کے بال کاٹے اور پائیوڈین سے صفائی کرنے لگی۔”تم نے بتایا نہیں کیا ہوا تھا۔“
میں نے مختصراََ واقعہ دہرا دیا۔
”میں جاگ گئی تھی۔جب کھولی سے نکلی تو تم کار میں بیٹھ چکے تھے۔میرے آوازیں دینے پر بھی نہ رکے۔مجبوراََ لوٹنا پڑا۔اور سچ کہوں تو سخت پریشان اور دل گرفتہ تھی ۔تم پربھی اتنا غصہ آیا ہوا تھاکہ اگر پرما کے بغیر لوٹتے توپٹائی سے بھی باز نہ آتی۔“
”میں خود بہت پشیمان تھا۔کیوں کہ پرما اگر شکلا کے ہاتھ چڑھ جاتی پھر اس کا حصول ممکن نہ رہتا۔“
لورا نے منہ بنایا۔”پرماکا ٹھکانہ معلوم ہونے کے بعد تمھیں تھوڑی دیر کرنا چاہیے تھی،کم از کم اسے بھاگنے کا پھل تو وصول ہوجاتا۔تم تو ایسے باولے ہوئے تھے جیسے تمھاری محبوبہ ہو۔سر وہ زخمی کر گئی تھی اور پاﺅں تم نے خود کرا لیے۔“
میں بھناتے ہوئے بولا۔’احمقوں کو کیا سمجھانا۔“
لورا کی کھنکتی ہنسی ابھری۔”سچ کہہ رہی ہوں ،تم سے تو کچھ ہو نہیں سکتا،ان بے چاروں کومرنے سے پہلے اپنی حسرت ہی پوری کرنے دیتے۔“
میں طنزیہ لہجے میں بولا۔”تمھارے لیے بھی کافی لوگوں کے دل میں حسرتیں پلتی رہی ہیں ، کبھی انھیں نوازنے کا سوچا؟....الٹا شکلابے چارے کی چھوٹی سی جسارت پر اس کی جان کے درپے ہوئی ہو۔“
وہ ڈھٹائی سے بولی۔”انھیں مارنے پر تو معترض نہیں ہوں ۔میرا نقطہ نظرانھیں وجہ قتل مہیا کرنے کاتھا۔“
میں نے کہا۔”سرائیکی کہاوت ہے۔’ماری تے الہاری،ہک برابر ہیے۔“
اسے اردو کی سمجھ نہیں آتی تھی سرائیکی خاک پلے پڑتی۔سوالیہ انداز میں بولی۔”کیا؟“
”مطلب،کسی کوتھپڑ مارنے کو ہاتھ بلند کرنااور تھپڑ مارناایک جیسا ہی ہے۔اس لیے ایسے درندوں کاقتل ان کی مذموم خواہش پوری ہونے کے بعد جائز ہے توایساکرنے کی کوشش کے بعد بھی ناجائز نہیں ہونا چاہیے۔“
میرے سر پر پٹی باندھ کر وہ پاﺅں کے تلووں کو اسپرٹ سے صاف کرنے لگی۔”بہ ہرحال اب میرے اور پرما کے بیچ دیوار نہ بننا۔ایسی لڑکی کو سدھانے کومجھے سختی کرنا پڑے گی۔“
”پاگل نہ بنو،بے گناہ اسیر بھاگنے کی کوشش سے مجرم نہیں بنتا۔“
”ریجا دماغ خراب نہ کرو۔“ایک پاﺅں پر پٹی لپیٹ کر وہ دوسرے پاﺅں کی طرف متوجہ ہوئی۔
میں ہنسا۔”خراب چیز کو ٹھیک کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔اور میں ہمت نہیں ہاروں گا۔“
وہ درشتی سے بولی۔”بے ہودہ سپاہی۔بہتر ہوگا مجھے چند دن اپنے نانا کی لاڈلی کے ساتھ اکیلا چھوڑ دو۔“
میں نے شرارتی قہقہ بلند کیا۔”تمھارے بنا چند دن کیسے رہ پاﺅں گا۔“
”شروع ہو گئی ریجا کی بکواس۔“طبی بکس سے درد کش اور سکون آور گولیاں نکال کر اس نے میری جانب بڑھا دیں ۔
پانی سے گولیاں لے کر میں آرام کو لیٹ گیا۔پرما کو سنبھالنے کو لورا موجود تھی۔
٭٭٭٭٭
اگلے دو دن سکون سے گزرے۔بس پرما کی وجہ سے کبھی کبھار میری اور لورا کی لڑائی ہوجاتی۔وہ اسے ہلکی پھلکی پھینٹی لگانے پر تلی رہتی اور میں ایسا کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا تھا۔سر پر بندھی پٹی دیکھ کر پرما پہلے دن مجھ سے بات کرنے پر جھجکتی رہی،مگر جب میں نے مطعون نہ کیا تو نارمل ہو گئی۔
اس دوران ٹی وی پر میرے ہاتھوں مرنے والے تینوں کی پراسرار موت کی خبر بھی چلی۔پھٹی ہوئی زنانہ قمیص،کٹی ہوئی رسیاں ، کھڑکی کا ٹوٹاشیشہ اور بکھرا ہوا خون۔ان کے جرم سے پردہ اٹھا رہا تھا۔ان کے قتل کے پس پردہ جو کہانی بیان کی جا رہی تھی وہ حقیقت سے اتنی بھی دور نہیں تھی۔بس یہ فرق تھا کہ وجہ پرما کے بجائے وہ لورا کو سمجھ رہے تھے۔ خون کے نمونے سے مجھے پہچان لیا گیا تھا۔ ان کے تیئں لڑکوں نے میری ساتھی کو اغواءکیااور باندھ کر بے حرمت کرناچاہاجبکہ میں نے اچانک وہاں پہنچ کر انھیں قتل کر دیا۔لیکن چوکیدار کے بیان کے مطابق میرے ساتھ موجود لڑکی نے اس سے مدد مانگی تھی،جو ظاہر کر تا تھا کہ لڑکی میری ساتھی نہیں تھی۔اگر شکلا نے پرما کے اغواءکو میڈیا پر اچھالا ہوتا تو انھیں اندازہ کرنے میں دشواری نہ ہوتی۔اس کے علاوہ بھی واقعے میں چند کڑیاں غائب تھیں جن کے بارے طرح طرح کے اندازے لگائے جا رہے تھے۔میں خبریں عموماََ پرما کے سونے کے بعد دیکھا کرتا۔کیوں کہ میں نہیں چاہتا تھا پاکستان کا نام سن کر اس کا دماغ اپنے باپ کی طرف متوجہ ہو اور وہ مجھے ان کا آدمی سمجھے۔میری حتی الوسع کوشش یہی تھی کہ اسے اپنے بارے بے خبر رکھوں ۔
اب پرما کے ہونٹوں پر بھی لورا ٹیپ چپکائے رکھتی۔میرے زخم اتنے کاری نہیں تھے کہ ٹھیک ہونے میں زیادہ وقت لیتے۔
تیسرے دن ہمیں پھر شکلا سے بات کرنے کی ضرورت تھی۔میں جانتا تھا پرما کے موبائل فون نمبر پر ایجنسی کی گہری نظر ہونا تھی۔جونھی موبائل آن ہوتاہماری جگہ کا پتا چل جاتا۔مگر اس کا حل میں نے سوچا ہوا تھا۔
پرما کو سکون آور دوائی کھلا کر اس کے ہاتھ پاﺅں ہتھکڑی میں جکڑے اور ہم باہر نکل آئے۔اس دن اپنی کار کے بجائے ہم رکشے میں بیٹھ گئے۔گھنٹے بھر کے سفر کے بعد میں نے لورا کو ایک بھیڑ والی جگہ پر اتارا اور خود آگے بڑھ گیا۔پندرہ منٹ بعد میں دوسرے بازار میں اترااور تھوڑی تلاش کے بعد ایک عوامی بیت الخلاءمیں گھس گیا۔پرما کا موبائل فون آن کر کے میں نے بیت الخلاءہی میں چھپایا اور باہر نکل آیا۔
تھوڑی دیر بعد میں دوسرا رکشا پکڑ کر واپس جا رہا تھا۔لورا ایک ہوٹل میں کونے والی میز پر بیٹھی میری منتظر تھی۔ہوٹل میں اکا دکا ہی گاہک نظر آرہے تھے۔میرے پہنچتے ہی لورا نے میرے لائے ہوئے تینوں موبائل میں سے ایک آن کیااور شکلا کا نمبر ملانے لگی۔دوسری گھنٹی پر کال وصول کر لی گئی تھی۔بغیر کسی تمہید کے وہ مطلب کی بات پر آئی۔
”کیا سوچاہے۔“اس کا جواب سنتے ہی وہ دبے لہجے میں غرائی۔
”شاید تمھیں نواسی عزیز نہیں ہے۔“
”رقم کم نہیں ہو سکتی مسٹر۔اگر تم نے زیادہ آئیں بائیں کی تو تمھاری نواسی کی ایسی وڈیوز مارکیٹ میں لے آﺅں گی کہ راتوں رات شہرت کی بلندی پر پہنچ جائے گی۔اتنی شہرت شاید کسی پورن اداکارہ کو بھی نہ ملی ہو گی جو تمھاری نواسی چند دنوں میں کما لے گی۔“
لمحہ بھر کے توقف کے بعد بولی۔”بہانے نہیں چاہئیں ۔“اور اس کی بات سننے لگی۔
”پانچ ملین پاﺅنڈمیرے اکاﺅنٹ میں جمع کراﺅ،باقی ایس آر ون تمھیں اسی قیمت پر ملے گی جس پر ہمارا معاملہ طے ہوا تھا۔“
”گھٹیا انسان دو ہزار پاﺅنڈ تم دھونس جما کر لے رہے تھے۔رائفل کی اصل قیمت پانچ ہزار پاﺅنڈ ہے۔“
چند لمحے اسے سننے کے بعد وہ حتمی لہجے میں بولی۔”پانچ ملین میرے اکاﺅنٹ میں جمع کراﺅاور فی رائفل چار ہزار پاﺅنڈڈیوڈ کو بھجوا دو۔رائفلیں وہ بھیجوا دے گا۔اگر وہیں سے خود وصولنا چاہو توبھی کوئی اعتراض نہیں ۔اور یاد رکھنااب تمھارے پاس مہلت نہیں رہی۔“
ذرا سے توقف کے بعد بولی۔”فی الحال تو وہ بالکل ٹھیک ہے۔اگر تعاون کرو گے تو اسے خراش بھی نہیں آئے گی۔دو دن پہلے اسے میں نے جس مکان میں رکھا تھا وہاں چند اوباش لڑکے پہنچ گئے۔انھوں نے پرما کو چھونے کی کوشش کی ،بلکہ اس کی قمیص پھاڑی اور نتیجے میں جان سے گئے۔آئندہ بھی اس کی طرف اٹھنے والا ہاتھ توڑ دیا جائے گا،اگر تم تعاون کرو گے تو........ورنہ میں خود گروہ در گروہ لڑکے اس کی تنہائی میں بھیجوں گی اور........“ ہلکا سا وقفہ لے کر اس نے فقرہ مکمل کیا۔”خیر اس کا تمھیں خوب تجربہ ہے کہ بندھی ہوئی بے بس لڑکی کے ساتھ کیاکچھ ہو سکتا ہے۔“
لمحہ بھر اس کی بات سن کر وہ نفرت سے بولی۔”تمھاری گھٹیا آہ زاری سننے کا موڈ نہیں ہے۔تم جیسے حرامی صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں ۔ہماری تلاش کی سرگرمی ختم کرنے میں تمھاری بھلائی ہے۔اور اب ڈیوڈ کے ذریعہ گفتگو ہو گی۔“شکلا کا جواب سنے بغیر اس نے رابطہ منقطع کیا۔دو سو کا نوٹ نکال کر میز پر رکھا ،موبائل فون بھی وہیں چھوڑااور ہم دروازے کی طرف بڑھ گئے۔وہاں مزید ٹھہرنا خطرناک ہو سکتا تھا۔
واپسی پر پرما سوتی ہوئی ملی تھی۔
میں نے کہا۔”میرا خیال ہے ممبئی چھوڑنے کا وقت آگیا ہے“
”کیوں ؟“لورا چونکی۔
”اسے شکلا کے حوالے تو نہیں کر سکتا اور جہاں تک میرا خیال ہے رقم کی ادائی کے بعد اگر اسے پرما نہ ملی تو جنون میں آکر کچھ بھی کر سکتا ہے۔“
وہ ہنسی۔”اب کون سا جنون میں نہیں ہے۔اور یہ ٹھکانہ کافی مفید رہا ہے،میرا نہیں خیال یہاں سے جانا عقل مندی ہو گی۔“
”ہم نے شکلا کا شکار کرنے کو مارا مارا پھرنا ہے۔اور اس کھولی میں پرما کو مستقل نہیں رکھا جاسکتا۔ مسلسل نشہ آور ادویات کے زیر اثر رکھنا بھی نقصان دہ ہوگا۔اگلے مرحلے سے پہلے ہمیں پرما کا مناسب بندوبست کرنا ہوگا۔“
وہ شرارتی انداز میں بولی۔” گولی مار کر جان چھڑاﺅ۔“
”مشورہ مانگا ہے،بکواس کرنے کا نہیں کہا۔“
”پتا نہیں مردوں پر لڑکیوں کا خیال رکھنے کا بھوت کیوں سوار رہتا ہے۔“وہ مجھے چھیڑنے سے باز نہیں آرہی تھی۔
اچانک پرما بڑبڑائی ، پھر کروٹ بدلنے کی کوشش کی مگر ہتھکڑی کی وجہ سے ناکام ہوئی اور ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی۔نیند کے خمار سے اس کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں ۔
مجھ پر نظر پڑتے ہی اس کے منہ سے بے ساختہ نکلا۔”پانی۔“
میں نے سرعت سے پانی کا گلاس بھرا اور اسے پکڑا دیا۔
”شکریہ۔“ کہہ کر اس نے گلاس منہ کو لگا لیا۔
اس کے گلاس واپس کرنے پر میں نے پوچھا۔”اور۔“
اس نے اثبات میں سر ہلایا۔”آدھا گلاس دے دیں ۔“
پانی پلا کر میں نے اس کی ہتھکڑی کھولی تاکہ تازہ دم ہو جائے۔وہ غسل خانے کی طرف بڑھ گئی۔
اس کی واپسی تک میں نے کھانا چن دیا تھا۔عموماََ ہم اکٹھے ہی کھانا کھاتے تھے۔اب پرما بھی ٹھیک ٹھاک کھانے لگی تھی۔بلکہ ناشتے وغیرہ کو اس نے چند فرمائشی چیزوں کا بھی تقاضا کیا تھا جولورا کے ناک بھوں چڑھانے کے باوجود میں خرید لایا تھا۔شہد،مکھن،بریڈ،پنیر،جیم،امپورٹڈ بسکٹ و پیسٹریاں ،مخصوص برانڈ کے جوس اور اسی طرح کے کچھ اور لوازم اتنے مہنگے بھی نہیں تھے کہ انصاری صاحب کی بیٹی کی خواہش کو ٹھکرا دیتا۔ وہ اپنی اہمیت سے ناواقف تھی ورنہ بہت زیادہ حکم چلاتی۔
کھانے کے بعد لورا نے اسے جکڑ دیا تھا۔اب وہ ذرا سا بھی خطرہ مول لینے کو تیار نہ تھی۔اور اس معاملے میں میری نرمی کو کسی خاطر نہیں لاتی تھی۔چونکہ پرما کے بھاگنے کی قباحتیں میرے لیے بھی انجان و ناقابل فہم نہ تھیں تبھی اس معاملے میں لورا سے اختلاف نہیں کر سکتا تھا۔
جاری ہے
قسط نمبر 45
ریاض عاقب کوہلر
کھانے کے بعد لورا نے اسے جکڑ دیا تھا۔اب وہ ذرا سا بھی خطرہ مول لینے کو تیار نہ تھی۔اور اس معاملے میں میری نرمی کو کسی خاطر نہیں لاتی تھی۔چونکہ پرما کے بھاگنے کی قباحتیں میرے لیے بھی انجان و ناقابل فہم نہ تھیں تبھی اس معاملے میں لورا سے اختلاف نہیں کر سکتا تھا۔
کھانے کے بعد وہ چائے یا کافی ضرور پیتی تھی۔کھانا گرم کرنے اور چائے وغیرہ بنانے کو میں چھوٹا سا گیس سلنڈر خرید لایا تھا۔کافی بنا کر میں نے ایک مگ لورا اور دوسرا اس کی جانب بڑھادیا۔
کافی کی چسکی لیتے ہوئے وہ مستفسر ہوئی۔”آپ کہاں گئے تھے؟“
میں نے ذومعنی انداز میں پوچھا۔”کس نے کہا ہم کہیں گئے تھے۔“
اس نے بہترین تجزیہ کیا۔”ناشتے کے بعد ہمارا اتناگہری نیند سونا اوربہ مشکل کھانے کے وقت آنکھ کھلنا۔ثابت ہوتا ہے کہ آپ نے ہمیں چائے میں سکون آور دوائی پلائی تھی۔اور ایسا تبھی کیا جائے گا جب ہمیں اکیلا چھوڑ کر کہیں جانا ہو۔“
لورا نے آنکھیں نکالیں ۔”ریجا کیا پوچھ رہی ہے،مجھے بتاﺅ تاکہ اس کی طبیعت صاف کروں ۔“
لورا کو گھورتے ہوئے میں نے سخت لہجے میں کہا۔”تمھارا آرام کرنا زیادہ مناسب رہے گا۔“
پرما متعجب ہوئی۔”یہ ہر وقت مرچیں کیوں چبائے رکھتی ہے۔“
میں نے کہا۔”آپ کے نانانے جو سلوک اس کے ساتھ کیا اس کے بعد یہ پوچھنا عجیب لگتا ہے۔“ ہمیں اردو میں مصروفِ گفتگو دیکھ کر لورا لیٹ گئی تھی۔
وہ استہزائی انداز میں بولی۔”ایسا بھی کیا کر دیا کہ اس کا غصہ اترنے میں نہیں آرہا۔“
حالاں کہ لور اسے اچھی طرح شکلا کی درندگی سے آگاہ کر چکی تھی۔اس کا لہجہ و انداز مجھے اچھا نہیں لگا تھا۔اسے گھورتے ہوئے میں تیکھے لہجے میں بولا۔”اس نے وہی کیا ہے جو اس دن تین لڑکے آپ کے ساتھ کرنا چاہتے تھے۔آپ کی قسمت اچھی تھی کہ میں بروقت پہنچ گیا ورنہ آپ کو عملی ثبوت بھی مل چکا ہوتا۔“
اس نے غیر یقینی ظاہر کی۔”آپ بس گرینڈ پا پر الزام تراشی کر رہے ہیں ۔“
میں غصہ ضبط کرتے ہوئے بولا۔”تصور کرو اگر پامال ہونے کے بعد کچھ ایسے ہی تبصرے آپ کوان لڑکوں کی قریبی رشتا دار وں سے سنناپڑ جاتے۔“
”لاوارث نہیں ہیں ہم۔اورایسوں کی گرینڈ پا وہ درگت بناتے کہ شمشان گھاٹ میں بھی پناہ نہ ملتی۔“
میں طنزیہ انداز میں بولا۔”زیادہ لاوارث آپ کو کیپٹن لورا براﺅن لگ رہی ہے۔“
اس نے ٹون بدلی۔”تو گرینڈ پا سے بدلہ لے نا،ہمارا کیا قصور ہے۔“
میں نے فلسفیانہ انداز میں کہا۔”ہماری فوج میں محاورہ مشہور ہے کہ سوکھی کے ساتھ گیلی کو بھی جلنا پڑتا ہے۔مطلب جب ایک غلطی کرتا ہے تو اس کے قریب رہنے والے بھی سزا کے حق دار ٹھہرتے ہیں ۔“
وہ متعجب ہوئی۔”آپ فوجی ہیں ۔“
میرا سر پیٹنے کو جی چاہا ،کیوں کہ خود کو چھپائے رکھنے کو میں شکلا تک سے بات نہیں کر رہا تھا۔نہ پرما کو بتانے کا ارادہ تھا کہ میں انصاری صاحب کا بندہ ہوں ،کیوں کہ میری بات پر وہ کبھی یقین نہ کرتی۔اسے پاکستان لے جانا کافی مشکل ثابت ہونے والا تھا۔
میں نے بات سنبھالی۔”فوجی ہونا بہت برا ہے کیا؟“
نفی میں سرہلاتے ہوئے دل گرفتگی سے بولی۔”بھارت ماتا کے سپوت سے یہ توقع نہیں تھی کہ مجرموں کا ساتھ دے گا۔“
”اپنے نانا کے کرتوت دیکھو،ایک لڑکی کی عزت خراب کی بلکہ جو رائفلیں بیچنے آئی تھی وہ بھی اس سے ہتھیانا چاہیں کیا ایسے بدکار کے خلاف مظلوم لڑکی کا ساتھ دینا جرم ہے۔“
وہ مدلل انداز میں بولی۔”آپ قانونی جنگ لڑ کر اسے حق دلا سکتے تھے۔ایک مظلوم لڑکی کی خاطر دوسری مظلوم پر زیادتی کرنا کہاں کاانصاف ہے۔“
بلاشبہ اس کی دلیل بر حق تھی لیکن وہ پوری حقیقت سے آگاہ نہیں تھی۔اس کے اغواءکا اصل مقصد شکلا سے انتقام لینانہیں اسے باپ تک پہنچانا تھا۔البتہ اسے فی الحال یہ بتانا ممکن نہ تھا۔اور خاموش ہونا ہار ماننے کی علامت تھا۔میں بات بناتے ہوئے بولا۔
”قانونی جنگ کا لطیفہ آپ نے کافی اچھا سنایا ہے۔باقی آپ کو قید کرنے کے علاوہ یہاں کیا زیادتی کی ہے۔“
”قید ہونا تھوڑی زیادتی ہے۔“وہ گلو گیر ہوئی۔”کیا آپ نہیں جانتے ہمارے ہاں لڑکی کا اغواءہونا اس کے کردار پر کتنے سوالیہ نشان اٹھاتا ہے۔اور پھرہمارا تعلق جس اونچے طبقے سے ہے کیا ایسی جگہ پر رہنا ہمارے لیے اذیت سے کم ہوگا۔“
اس کے سوالوں کا جواب میرے پاس نہ تھا،لیکن خاموش رہنامناسب نہ لگا۔”ہم سے جتناہو سکتا ہے آپ کو آرام پہنچا رہے ہیں ۔باقی آپ کے طبقے میں ایسی باتوں کو اہمیت نہیں دی جاتی۔“
وہ بیزاری سے بولی۔” کافی کاایک اور مگ مل سکتا ہے۔“
اور میں سرہلاتے ہوئے اٹھ گیا۔
٭٭٭٭٭
رات کے کھانے کے بعد لورا نے باہر جا کر ڈیوڈ سے بات کی، اسے ساری صورت حال سے آگاہ کر کے شکلا کا نمبر دیا اور اس سے بات چیت کرنے کا کہا۔دو تین دن کے اندر سارے معاملات طے پا گئے تھے۔
میں کھولی کے صحن میں ایک پرانی سی کرسی پر بیٹھا تھا جب لورا رقم ملنے کی خوش خبری لیے تمتماتے چہرے کے ساتھ اندرپہنچی۔
”تھوڑی سی جگہ دو۔“مجھے دھکیل کر وہ ساتھ ہی جڑ کر بیٹھنے لگی۔
” دوسری کرسی لاتا ہوں ۔“میں کمرے میں گھس گیا،ایسی بے باکی و بے تکلفی مجھے گوارا نہ تھی۔ وہ لڑکا تھی نہ میں نامرد کہ یوں جڑ کر بیٹھنے میں قباحت نہ ہوتی۔اس کی معاشرت اسے یہ اجازت دے سکتی تھی،میرا مذہب ایسی بے ہودگی کی اجازت دینے پر تیا رنہ تھا۔
”لڑکی تم ہو یامیں ۔“جونھی کرسی لا کر سامنے بیٹھا اس نے ناک بھوں چڑھائی۔”تمھاری ایسی حرکتیں دماغ خراب کر دیتی ہیں ۔“
”میرے افعال کو درد سر بنانے کے بجائے مطلب کی بات پر آﺅ۔اور بتاﺅ اتنی خوش کیوں ہو۔“
ایک دم اس کا موڈ ٹھیک ہوا،کرسی آگے کھسکا کر اس نے میرا ہاتھ پکڑااور مسرت بھرے لہجے میں بولی۔”شکلا نے ادائی کر دی ہے۔“
میں نے خوشی ظاہر کی۔”مبارک ہو۔“
وہ تفصیل بتانے لگی جس کا لب لباب یہ تھا کہ :
لورا کے اکاﺅنٹ میں اس نے صرف ایک ملین پاﺅنڈ بھیجے تھے۔لورا کے لیے وہ رقم بھی غنیمت تھی۔ڈیوڈ کو فی رائفل ساڑھے تین ہزار پاﺅنڈ کی ادائی ہوئی تھی۔اور ایک رائفل پر ڈیڑھ دو ہزارپاﺅنڈ کا منافع کافی تھا۔یوں بھی رائفلیں ان کے لیے نرا سر درد ہی تھیں ۔
جونھی ادائی ہوئی،لورا نے ڈیوڈ کو غائب ہوجانے کا کہا۔چھپنے کا مقام انھوں نے پہلے سے چنا ہوا تھا۔ اسی دن ڈیوڈ برطانیہ سے رفو چکر ہو گیاتھا۔لوراالبتہ شکلا کو انجام تک پہنچانے کی متمنی تھی۔
تفصیل بتا کر اس نے خلوص سے پوچھا۔”بتاﺅ کتنی رقم چاہیے۔“
”کس لیے؟“میں نے حیرانی ظاہر کی۔
”بلا شبہ تمھارا ساتھ نہ ہوتا تو کامیاب نہ ہو پاتی۔مجھے ملنے والی رقم پر تمھارا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا میرا۔اور سچ کہوں تو سوئیٹزر لینڈ والے اکاﺅنٹ میں رقم تمھارے لیے رکھوائی ہے۔“
”ہم دونوں کا مقصد ایک تھا اس لیے اکٹھے ہوئے تھے۔تمھیں رقم چاہیے تھی اور مجھے پرما۔دونوں نے جو چاہا پا لیا۔اب دونوں کو شکلا کی موت درکار ہے اس لیے اگلا لائحہ عمل سوچو۔“
”نصف ملین پاﺅنڈ تمھیں خوشی سے دے رہی ہوں ۔“
” جائز سمجھتا تو یقینا خوشی سے وصول کرتا۔“
وہ معترض ہوئی۔”شکلا نے بھی تو ظلم و زیادتی سے یہ رقم اکٹھی کی تھی تو ہمارے لیے کیوں جائز نہیں ۔ ڈکیت سے چھیننا ڈاکا نہیں کہلاتا۔“
”تمھارا فلسفہ میری سمجھ میں نہیں آئے گا اور میری مذہبی تعلیمات تمھارے سر پر سے گزر جائیں گی تو کیوں نہ اس موضوع کو ترک کر دیں ۔شکریہ کہ تم نے خلوص دل سے میرا حصہ دینا چاہا۔اور میں ہنسی خوشی اپنے حق سے دستبردار ہوتا ہوں ۔“
”تم کبھی کبھی مجھے بہت زیادہ الجھا دیتے ہو،بھلااتنی رقم کو کون ٹھکرا سکتا ہے۔“
”تمھیں حرام حلال کا فلسفہ نہیں سمجھا سکتا۔“
وہ بے باکی سے بولی۔”ریجا میں بہت خوش ہوں اور تم فائدہ اٹھا سکتے ہو۔“
اس کے ہاتھ کی پشت کو تھپتھپا کر میں خلوص سے بولا۔”تمھیں خوش دیکھ کر جو خوشی ہو رہی ہے وہ کافی ہے۔“
اس نے شرارتی قہقہ بلند کیا۔”ایسی باتیں کر کے مجھے پھنسا نہیں سکتے۔بہتر ہو گا اپنی دوبیویو ں پر قانع رہو۔بلکہ یہ مشورہ بھی دوں گی کہ پرما کے آگے پیچھے پھرنابند کردو۔“
”سچ کہوں تومیری دونوں بیویاں بہت پیاری ہیں ،میرا بہت خیال رکھتی ہیں ۔اورمجھ سے اتنی محبت کرتی ہیں جس کا میں حق دار نہیں ہوں ۔“
اس نے اشتیاق سے پوچھا۔” ایک ساتھ دو بیویاں کیسے مل گئیں ۔ تم دھوکے باز نہیں لگتے پھر اپنی پہلی بیوی کو دھوکا دے کر دوسری شادی کیسے کی۔اگر دھوکا نہیں دیا تو پہلی بیوی راضی کیسے ہوئی جبکہ وہ تم سے محبت کی دعوے دار بھی تھی۔“
میں نے جان چھڑانا چاہی۔”لمبی کہانی ہے۔“
وہ بے پروائی سے بولی۔”پھربھی سننا چاہوں گی۔“
گہرا سانس لے کر میں اسے روما سے ملنے،بچھڑنے پھر پلوشہ سے ٹکرانے ایک ساتھ قبیل خان کا مقابلہ،پلوشہ سے شادی ،اپنی گرفتاری،پلوشے کی فرضی موت،روما کادوبارہ ملنااور پلوشہ کی واپسی تک کی کہانی جزوی تفصیل سے سنا دی۔وہ مسحور بیٹھی سنتی رہی۔میرے چپ ہوتے ہی پوچھا۔
”اب آپس میں لڑتی نہیں ۔“
میں نے نفی میں سرہلایا۔”روما بہت اچھی،صابر اور پر خلوص لڑکی ہے۔پلوشے کو چھوٹی بہن سمجھتی ہے۔ اگر روما بھی پلوشے کی طرح ہوتی تو یقینا میں مشکل میں پڑ جاتا۔مگر وہ پلوشے کی کسی بات کا برا ہی نہیں مناتی اس وجہ سے پلوشے کو بھی اس کا وجود برداشت کرنا آسان ہو گیا ہے۔“
وہ شرارتی لہجے میں بولی۔”مگر یاد رکھنا،پرما بالکل بھی ایسی نہیں ہے۔اوریہاں اس لیے بچ گئے تھے کہ اسے بھاگنے کی جلدی تھی،تبھی دوبارہ جگ نہ اٹھایا۔“
میں ترکی بہ ترکی بولا۔”چھوڑو پرما کو اپنی بات کرو۔“
”یہ انگور کھٹے ہیں ۔“زبان نکال کر مجھے چڑاتے ہوئے وہ کمرے میں گھس گئی تھی۔
٭٭٭٭٭
اگلے دن دوپہر کا کھانا کھا کرمیں لورا کو پرما کے پاس چھوڑ کرباہر نکل آیا۔کار میں نے وہیں چھوڑ دی تھی۔رکشا لے کر میں موٹر سائیکل بارگین پر پہنچا اور ایک پرانی موٹر سائیکل خرید لی کہ بعض اوقات کار سے موٹرسائیکل زیادہ مفید رہتی ہے۔
دھرمو داداکی تلاش کا آغاز میں نے وشواس سنگھ کی حویلی سے کیا تھا۔دھرمو دادا کے سبھی کارندوں میں میری سب سے زیادہ گپ شپ و بے تکلفی اسی کے ساتھ تھی۔اور وہ دھرمو دادا کا خاص آدمی ہونے کے ساتھ اس کا قریبی دوست بھی تھا۔وہاں پہنچنے تک اندھیرا ہو گیا تھا،اس کے باوجود حویلی میں گھسنے کو میں نے عقبی دیوار کا استعمال کیا تھا۔اس کی خواب گاہ تک میں اچانک ہی پہنچا تھا۔
دستک کے جواب میں دروازہ کھولتے ہی وہ حیرت سے اچھل پڑا تھا۔
”کک....کون ہو تم؟“
”نہیں پہچانا۔“اس کا ہاتھ پکڑ کر میں نے باہر کھینچا کہ خواب گاہ میں اس کی دھرم پتنی (بیوی)موجود تھی۔گو سکھوں اور ہندوﺅں میں پردے وغیرہ کا کوئی تصور موجود نہیں ،مگر مجھے مناسب نہیں لگا تھا۔
بازو پھیلا کر اس نے مجھے گرفت میں لیا۔”ابے سیدھے راستے سے کیوں نہیں آیا۔“
”نگرانی کا ڈر تھا،اس لیے عقبی دیوار سے آنا پڑا۔“
وہ کھل کھلا کر ہنسا۔”اورکوئی بلونگڑا تمھیں ٹھوک دیتا پھردادا کو کیا جواب دیتا۔“اپنے کارندوں اور دوسرے غنڈوں کو وہ مذاق میں بلونگڑے کہا کرتا تھا۔
میں مزاحیہ انداز میں بولا۔”خیر اتنا آسان شکار بھی نہیں ہوں کہ کسی سکھ کے ہاتھوں ضائع ہو جاﺅں ۔“
”لگتا ہے تم نے کھانا نہیں کھایا تبھی الٹی سیدھی ہانک رہے ہو۔“خوش دلی سے ہنستے ہوئے اس نے پتنی کو آواز دی۔”پریتو!میرا بیلی آیا ہے اور یقین مانو پھر سے بھوکا ہو گیا ہوں ۔“
مجھے بھوک محسوس ہورہی تھی اس لیے تکلفاََ بھی انکار نہیں کیا تھا۔
پریت کور ایک خوش شکل سکھ لڑکی تھی۔ان کی شادی کو دو تین سال ہی ہوئے تھے۔وہ عمر میں وشواس سنگھ سے کافی چھوٹی تھی۔دوران تعلیم ایک امیر زادے نے چند دوستوں کے ساتھ مل کر اسے اغواءکیا کہ پریت کور نے اس کے چھیڑنے پر یونیورسٹی کی کینٹین میں اسے تھپڑ جڑ دیا تھا۔ان کا ارادہ پریت کور کے ساتھ زبردستی رنگ رلیاں منا کر رات رنگین بنانے کا تھا۔ان کی بد قسمتی کہ وشوااس سنگھ اپنے کسی دشمن کے تعاقب میں ساحل سمندرکے ویران کاٹج کی طرف جا نکلا جہاں وہ پریت کور کو بے لباس کر چکے تھے۔وشواس سنگھ ایک روایتی ڈاکو تھا۔ جو لوٹ مار کو جائز لیکن عورت کے ساتھ زبردستی کو گناہ عظیم سمجھتا تھا۔امیرزادے اور اس کے ساتھیوں کی رات رنگین ہونے کے بجائے بدن رنگین ہو گئے تھے۔وشواس سنگھ نے انھیں زخمی کرنے پر اکتفا کرنے کے بجائے انجام تک پہنچانا ضروری سمجھا تھا۔پریت کور کو اس نے اسی وقت گھر پہنچادیا تھا۔گھر والے اس کی گمشدگی پر سخت پریشان تھے۔اور بدنامی کے خوف سے ایف آئی آر کٹوانے بھی نہیں گئے تھے۔پریت کو زندہ سلامت پاکر وہ وشواس سنگھ کے حد درجہ ممنون و شکرگزار ہوئے۔وشواس سنگھ نے انھیں ،پریت کور کے غائب ہونے کی خبر اپنے تک محدود رکھنے کی ہدایت کی اور وہاں سے نکل آیا۔البتہ پریت کور کے والد کے اصرار پر اپنا موبائل فون نمبر انھیں دے دیا تھا۔بہ ظاہر کہانی یہیں ختم ہو گئی تھی۔لیکن یونیورسٹی کا طالبہ کا دل وشواس سنگھ کی دلیری اور عورت کااحترام کرنے والی صلاحیت پر مر مٹا تھا۔وشواس سنگھ کا حال احوال پوچھنے کے بہانے اس کی کالیں آنا شروع ہو گئیں ۔وشواس سنگھ بھی بچہ نہ تھا۔لیکن ایک شریف لڑکی کو دھوکا بھی نہیں دینا چاہتا تھا۔اس نے بغیر لگی لپٹی رکھے پریت کور کو اپنے بارے سب کچھ بتا دیا تھا۔پر کہتے ہیں لڑکی کا دل جب کسی پر آجاتا ہے تو فائدے نقصان کی بات اسے کم ہی سمجھ میں آتی ہے۔اس کے پاگل پن کے سامنے بھی وشواس سنگھ نہ ٹک سکا اور اب وہ اس کی دھرم پتنی تھی۔
پر تکلف کھانا کھا تے ہوئے میں مطلب کی بات پر آیا۔”دھرمو دادا کہاں ملے گا؟“
وہ متبسم ہوا۔”تمھارے حالیہ کارنامے کی وجہ سے اس کی سخت نگرانی ہورہی ہے۔مجھ پر بھی چند دن گہری نگاہ رکھی گئی،مگر ہمارا دامن صاف تھا اس لیے کسی نے چھیڑنے کی کوشش نہ کی۔اور اب دوسرا دن ہے نگرانی بھی ختم کر دی گئی ہے۔البتہ دھرمو داداکا پیچھا وہ اتنی آسانی سے نہیں چھوڑیں گے۔“
میں صاف گوئی سے بولا۔”اس معاملے میں تمھیں گھسیٹنا نہیں چاہتاتھامگر اب مجبوری آن پڑی ہے۔“
وہ خلوص دل سے بولا۔”تم بغیر مجبوری کے بھی ہماری مدد کے حق دار ہو۔“
میں نے اطمینان ظاہر کیا۔”جانتا ہوں ،اسی لیے تو ادھر کا رخ کیاہے۔“
وہ تحسین آمیز انداز میں بولا۔”ویسے شکلا جیسے بندے سے ٹکر لینامتعجب کرنے والا ہے۔“
میں نے اشتیاق آمیز لہجے میں پوچھا۔”تم تک کیا خبر پہنچی ہے۔“
”اڑتی اڑتی خبر یہی پہنچی ہے کہ تم نے اس کی نواسی کو اغواءکیا ہے۔جسے ڈھونڈنے کوکتے ،بلے اور سورمتحرک ہیں ۔کیا سچ میں تم ایسا کر چکے ہو۔“(کتے وہ ایجنسی والوں کو کہتا تھا،سور پولیس والوں کو اور بلونگڑے ڈاکوﺅں کو)
میں نے اثبات میں سرہلایا۔”اس خبر کو جھٹلا نہیں سکتا۔“
”صاف کہوں تو اس خبر سے مجھے خوشی نہیں ہوئی۔مردوں کی لڑائی میں مظلوم لڑکی کو گھسیٹنے کو میں مردانگی نہیں سمجھتا۔“
میں متبسم ہوا۔”بالکل صحیح سمجھتے ہو۔“
وہ الجھن آمیز لہجے میں بولا۔”تمھارے قول و فعل کے تضاد کو کیا نام دوں جبکہ تم خبر کی تصدیق بھی کر رہے ہو۔“
میں اطمینان سے بولا۔”میں نے خبر کے سچے ہونے کا اعتراف کیا ہے،یہ کب کہاہے کہ تم تک مکمل خبر پہنچی ہے۔اور ادھوری بات سے غلط نتیجہ تونکلے گانا۔“
اس نے منہ بنایا۔”پھر تمھی خبر و نتیجے میں مطابقت پیدا کر دو۔“
میں نے مثال دیتے ہوئے پوچھا۔”اگر اللہ پاک تمھیں بیٹی کی رحمت سے نوازے اور پھر انڈیا سرکار تمھیں کسی جرم کی وجہ سے پکڑنا چاہے،مگر تم پریت کور بھابی کی مدد سے انڈیا سے نکلنے میں کامیاب ہو جاﺅ۔ تمھارا سسر اپنی بیٹی کے فعل کو شوہر سے وفاداری کے بجائے ملک سے غداری گردانتے ہوئے اسے قتل کرا دے اور تمھاری بیٹی کو اپنی سرپرستی میں لے کراس کے دل و دماغ میں یہ غلط فہمی بھر دے کہ اس کی ماں کو تم نے قتل کیاہے۔ساتھ ہی اسے سکھ کے بجائے ہندو بنادے،تم بیٹی کی واپسی کا مطالبہ کرو اور وہ تمھیں کھری کھری سنا دے تب تم کیا کرو گے؟“
”سکھ اگر اتنے عقل مند ہوتے تو ان پر اتنے لطیفے نہ بنتے۔اس لیے بجھارتوں کے بجائے صاف صاف بتاﺅ کہنا کیا چاہتے ہو۔“
”کوئی بجھارت نہیں ہے،جو تمثیل دی ہے اس پر اپنا ردعمل بیان کرو۔“
”میری بیوی کو قتل کرنے والاچاہے اس کا باپ کیوں نہ ہومیرے ہاتھوں انجام کو پہنچے گا۔اور میری بیٹی کی پرورش میرا حق ہے جو میں بیوی کے علاوہ کسی کو تفویض نہیں کر سکتااس لیے اس کے حصول کو کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں کروں گا۔باقی اس کے مذہب پر ڈاکا ڈالنا اور اسے، مجھے ملنے سے روکناہر فعل ایسا ہے کہ ذمہ دار کا قتل ہونا بنتاہے۔“
میں نے نتیجہ نکالا۔”اللہ تمھیں ہدایت دے،یہی کام میں نے کیا ہے۔“
وہ متعجب ہوا۔”شکلا تمھارا سسر تو نہیں ہو سکتا ہے۔“
میں اطمینان سے بولا۔”شکلاجس کا سسر ہے میں اس کا نمائندہ ہوں ۔باقی لڑکی بالکل محفوظ ہے، اس پر قید ہونے کے علاوہ کوئی ظلم زیادتی نہیں ہوئی۔اور اسے قید میں رکھنا میری مجبوری ہے۔تاکہ بہ حفاظت اسے والد تک لے جاﺅں ۔“
اس کے چہرے پر مسرت بھری چمک ابھری۔”یقین مانو چند دن کے ساتھ میں تمھیں غیور،حوصلہ منداور جری پایا تھا۔لیکن ایک لڑکی کے اغواءپر مجھے سخت اعتراض تھا۔اب تم نے میرے دل کا بوجھ ہلکا کر دیا ہے۔“
میں نے کہا۔”تو کام کی بات کریں ۔“
”جو کام دھرموداداکے ذمہ لگانا ہے،مجھے بتا دو۔ا سے ملنا مناسب نہ ہوگا۔“
”پرماکو چنددن سنبھالنا ہوگا۔کوئی ایسی جگہ جہاں شکلا کے آدمی و مددگار نہ پہنچ سکیں ۔“
وہ مستفسر ہوا۔”پرما،مَغویہ کا نام ہے؟“
میں نے اثبات میں سرہلایا۔”ہاں ۔“
”سمجھو یہ کام تو ہو گیا۔اور کچھ ؟“
”اچھی سی چائے پلادو۔“
وہ ہنسا۔”اس کام میں تمھاری بھابی سے بہتر کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔“اور پھر بیوی کو آواز دینے لگا۔ ”اوئے پریتو!پھر تمھاری ضرورت پڑ گئی ہے۔“
چائے پینے کے دوران اور بعد میں ہماری گفتگو جاری رہی۔ساری تفصیلات طے کر کے میں نے واپسی کو پر تولے۔
”رات یہیں کر لیتے،یقین مانو تمھاری بھابی دیسی گھی کے پراٹھے بہت اچھے بناتی ہے۔جب گھر کی لسی اور ساگ بھی مل جائے توکیا ہی کہنے۔“
”ایسے لالچ نہ دو وشواس سنگھ،یہ نہ ہو مشن پسِ پشت ڈال کر یہیں پکے ڈیرے ڈال لوں ۔“
وہ خلوص سے بولا۔”اس سے بڑی خوشی کیا ہو سکتی ہے۔“
میں نے نفی میں سرہلایا۔” یہاں رہنا مناسب نہیں ۔تم بس کوئی خفیہ رابطہ نمبر دے دو،کیوں کہ میں نہیں چاہتا،تمھارا موبائل فون نمبرزیر نگرانی (انڈر آبزرویشن)ہواور ہم پھنس جائیں۔
وہ بے تکلفی سے بولا۔”پریتو کا نمبر دے دیتا ہوں ۔“
”تم ہر وقت اس کے پاس تو نہیں ہوتے۔“
وہ اطمینان سے بولا۔” وہ کال کر کے مجھے مطلع کر سکتی ہے۔“
”ٹھیک ہے ،کل کا دن تم انتظام وانصرام کا جائزہ لوپرسوں ان شاءاللہ ہم وہیں پہنچ جائیں گے۔“ میں پریت کور بھابی کا موبائل فون نمبر لے کر اس سے الوداعی معانقہ کر کے نکل آیا۔باہر نکلنے کو بھی میں نے دروازہ استعمال نہیں کیا تھا۔
٭٭٭٭٭
واپسی پر پرما مجھے نیند میں نظر آئی۔لورا ٹی وی دیکھ رہی تھی۔نقلی داڑھی ،بڑی مونچھیں وغیرہ اتار کر میں اصل حلیے میں آیا کہ میک اپ میں مسلسل رہنا بے چینی و کوفت بھرا تھا۔
دن بھر کی کارگزاری ،مختصراََسنا کر میں نے پرما کو وشواس سنگھ کے پاس پہنچانے کا پوچھا۔
لورا بے نیازی سے بولی۔”اب میرے لیے مس پرما کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہی۔اسے آزاد کرتے ہو، بیچتے ہوئے یا کہیں چھپاتے ہو یہ تمھارا درد سر ہے۔“
میں بھناتے ہوئے بولا۔”قرض نہیں مشورہ مانگا ہے۔“
وہ کھل کھلا کر ہنسی۔”شکلا کے خلاف میدان میں اترنے کو ضرروی ہے کہ پرما کا دم چھلہ ہمارے ساتھ نہ لگا ہو۔“
دروازے پر زوردار دستک ہوئی۔ہم حیرانی سے اچھل پڑے تھے۔پستول کے جیب میں ہونے کی تسلی کر کے میں دروازے کی طرف بڑھ گیا۔لورا بھی میرے ساتھ ہی تھی۔اس کی نظر دیوار وں پر تھی۔
میں نے دروازے کے قریب جا کرپوچھا۔”کون؟“
جواب نہ ملنے پر میرے اعصاب تن گئے تھے۔”کون ہے؟“میں نے دوبارہ زبان کھولی۔
اچانک موبائل فون کی گھنٹی نے متوجہ کیا۔ایک بار تو اچھل کر میں پیچھے ہٹا تھا۔موبائل فون دروازے کی نچلی درز سے کسی نے اندر کھسکایا تھااور اب اسی پر کال آرہی تھی۔
”ہیلو۔“محتاط انداز میں موبائل فون اٹھا کر میں نے کان سے لگالیا۔
ایک سرد لہجہ میری سماعتوں میں گونجا”تمھیں ڈھونڈ لیا گیا ہے۔اورتمھارے پاس بھاگنے کو پانچ دس منٹ سے زیادہ وقت نہیں ہے۔موبائل فون گندے نالے میں پھینک دینا۔“ایک ہی سانس میں اطلاع، منصوبہ اور ہدایت سنا کر اس نے رابطہ منقطع کر دیا۔اطلاع ایسی نہ تھی کہ میں تفصیل پوچھنے میں وقت ضائع کرتا۔ میرے خفیہ خیرخواہوں کے پاس وضاحتوں کا وقت تھا نہ میرے پاس سننے کی مہلت۔
”کیپٹن پانچ منٹ میں نکلنا ہے،کار یہیں لے آﺅ۔“میں بھاگ کر اندر گھسا۔لورا وضاحت چاہے بغیر باہر نکل گئی تھی۔وہ موقع محل اور صورت حال کو اچھی طرح سمجھتی تھی۔ اورایسے مواقع پر وقت ضائع کرنے کی عادی نہیں تھی۔
سب سے پہلے میں نے پرما کے سر سے کمبل کھینچا۔اس نے ہڑبڑا کر اٹھنے کی کوشش کی ،مگر میں نے اس کی گردن بازو کے شکنجے میں کس کر مخصوص دباﺅ ڈالا۔وہ زور سے تڑپی اور پھر ہاتھ پاﺅں ڈھیلے چھوڑ دیئے۔
میں نے ہتھکڑی چارپائی سے کھول کر اس کے ہاتھ پاﺅں جکڑے اورمنہ پر کپڑا باندھ دیا۔پھر ضروری سامان کا بیگ کندھے میں ڈال کر اسے کمبل سمیت بازوﺅں میں بھر ااور سرسری نظر اندر دوڑا کر دروازے کی طرف بڑھ گیا۔میرے دروازے تک پہنچنے تک لور ا کار لے آئی تھی۔
بیگ اورپرما کو ڈگی میں ڈال کر میں نے ڈگی قفل کی۔گلی میں دو کاریں سڑک کی طرف روانہ دکھائی دیں ۔ایک کار کی روشنیاں عقب میں بھی نظر آرہی تھیں ،مگر ان کی رفتار دیکھ کر مجھے خطرے کی کوئی بات نظر نہ آئی۔
”گاڑی ان کاروں کے بیچ لگا لو،اب کال پر بات ہو گی۔“لورا کوہدایت دے کر میں اندر گھس گیا۔
موٹر سائیکل صحن میں کھڑی تھی۔میں دوبارہ کمرے میں گھس گیا۔ سامان کو آگ لگائے بغیر جانا مناسب نہ تھا گووقت کی کمی تھی اورسامان میں ایسی اشیاءموجود نہ تھیں جنھیں جلاناناگزیر ہوتا۔بستر،جوتوں اورکھانے پینے کی اشیاءکے علاوہ کوئی قابل ذکر چیز موجودنہیں تھی۔ سنائپر رائفلیں اور ضروری سامان پہلے سے کار کی ڈگی میں بند ہوتا تھا۔صرف چھوٹا سا بیگ ہم پاس رکھتے جس میں رقم اور میک اپ کا سامان ہوتا تھا۔
جلدی سے چارپائیوں کو گھسیٹ کر ایک دوسرے پر پھینکا،اندر موجود تمام چیزوں کو ایک جگہ ڈھیر کیا،گیس سلنڈر کو آگ لگا کر چارپائی کے نیچے رکھااور باہر نکل آیا۔
موٹرسائیکل پکڑتے وقت خفیہ مددگاروں کے موبائل فون کا خیال آیاجو انھوں نے نالے میں پھینکنے کا کہا تھا۔ میں نے دوبارہ اندر گھس کر موبائل فون بھی آگ میں پھینکااور موٹر سائیکل کو پکڑ کر دروازے سے نکلنے لگا۔غیر ارادی طور پر نگاہ گلی سڑک ملاپ کی طرف اٹھی۔تیز رفتاری سے آتی تیز روشنیوں نے میری ٹانگوں میں بجلی بھر دی تھی۔لیکن جتنی بھی تیزی کرتاتیز رفتار گاڑیوں سے بچنا ممکن نہیں رہا تھا۔
کک مار کر موٹرسائیکل اسٹارٹ کی اور گیئر لگا کر چل پڑا۔سامان ضائع کرنے کی احمقانہ احتیاط پسندی اور جاسوسوں کے نقش قدم پر چلنے کاشوق میری گردن پھنسانے والا تھا۔مسلسل گیئر لگا کر میں چوتھے گیئر میں موٹر سائیکل بھگانے لگا۔مگر عقب میں پھیلی تیز روشنی ظاہر کر رہی تھی کہ کم از کم ایک کار نے کھولی کے سامنے رکنے کی غلطی نہیں کی تھی۔
موٹر سائیکل اس قابل نہ تھی کہ میں کار کا مقابلہ کر پاتا،روشنیاں لمحہ بہ لمحہ قریب آرہی تھیں اور میری بدقسمتی سے وہ گلی کافی طویل اوربالکل سیدھی تھی۔میری جان تبھی بچ سکتی تھی کہ کوئی تنگ گلی نظر آتی جس میں کار نہ چل پاتی۔ایجنسی والوں کے پاس یوں بھی نئی اور عمدہ کاریں ہوتی ہیں ۔اور میں ایک ایسی ہی کار سے مقابلے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔
کار قریب پہنچ گئی تھی۔ڈرائیورکا ارادہ بالکل واضح تھا۔وہ مجھے ٹکر مار کرروکنے کی تگ و دو میں تھا۔ میرے پاس موٹر سائیکل روکنے کا موقع بھی نہیں رہا تھا، ایک دم بریک لگانے سے بچت نظر آرہی تھی نہ رفتار آہستہ کرنے کی گنجائش تھی۔
اور پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔کار موٹر سائیکل کے عقبی پہیے سے ٹکرائی،میں ذہنی طور پر اس حادثے کے لیے تیار تھا۔ہینڈل چھوڑ کر اچھلااور جونھی زمین سے قدم ٹکرائے لوٹ لگاکر خود کو زخمی ہونے سے بچانے کی تگ ودو کرنے لگا۔موٹر سائیکل پھسلتی ہوئی دیوار سے جا ٹکرائی تھی۔ڈرائیور نے زور دار بریک لگا کر کار روکی اور میرے سنبھلنے سے پہلے کار کا دروازہ کھولتے ہوئے اندھی و طوفان کی طرح برآمد ہوا۔میرے پاس ہاتھا پائی کا وقت نہیں تھا۔دوسرے لوگوں کے پہنچنے سے پہلے مجھے کار میں موجود لوگوں کو ناکارہ کر کے بھاگنا تھا۔
میرا ہاتھ فوراََ جیب میں رینگا،مگر کار سے برامد ہونے والا شخص یقینا چھلاوہ تھا۔ ہاتھ کوٹ سے باہر آنے سے پہلے اس کی زوردار ٹکر میری چھاتی میں لگی اور میں کولہوں کے بل نیچے گر گیا۔
الٹی قلابازی لگاکر میں فوراََ اٹھا ،ساتھ ہی جیب سے سائیلنسر لگا گلاک برآمدکیا،مگرہاتھ سیدھا بھی نہیں کر پایا تھا کہ ڈرائیور نے لات گھمائی۔اس کے بوٹ کی ایڑی میرے دائیں ہاتھ سے ٹکرائی ، پستول اڑ کر دور جاگراتھا۔
”میں نے سنی سے تمھیں زندہ چھوڑنے کا وعدہ کیا ہے،اپاہج نہ بنانے کی کوئی شق معاہدے کا حصہ نہیں ہے۔“ ایک منحوس آواز نے میری سماعتوں میں زہر انڈیلا۔کار کی تیز روشنی کی وجہ سے اس کی شکل واضح نہیں دکھائی دے رہی تھی،تبھی اسے پہچان نہیں سکا تھا۔ وہ اکیلا ہی تھااور حقیقت تو یہ تھی کہ کار سے چار افراد کے برآمد ہونے پر مجھے اتنی پریشانی کا سامنا نہ ہوتا جو اس اکیلے شخص کے ٹکرانے سے ہونے والا تھا۔وہ انتہائی،نڈر، مکار، پھرتیلا اور بہترین لڑاکا تھا۔کچھ دشمن ایسے ہوتے ہیں جن سے خالی ہاتھ لڑنا سراسر گھاٹے و نقصان کا باعث بنتا ہے۔ اور کرن چاولہ کا شمار انھی دشمنوں میں ہوتاتھا۔ممتا دیدی کی وجہ سے وہ ایک بار بچ نکلا تھااور آج اسی دن کا بدلہ چکانے پہنچ گیا تھا۔
جاری ہے
قسط نمبر 46
ریاض عاقب کوہلر
وہ انتہائی،نڈر، مکار، پھرتیلا اور بہترین لڑاکا تھا۔کچھ دشمن ایسے ہوتے ہیں جن سے خالی ہاتھ لڑنا سراسر گھاٹے و نقصان کا باعث بنتا ہے۔ اور کرن چاولہ کا شمار انھی دشمنوں میں ہوتاتھا۔ممتا دیدی کی وجہ سے وہ ایک بار بچ نکلا تھااور آج اسی دن کا بدلہ چکانے پہنچ گیا تھا۔
میری حقیقی صلاحیت اچھا نشانے بازہونا ہے۔جسمانی داﺅ پیچ میں ناقابلِ شکست ہونے کا دعوے دار میں کبھی نہیں رہا۔ گو خود کو موم کا پتلا بھی نہیں سمجھتااور الحمداللہ تب تک خالی ہاتھ بھی کسی سے مار نہیں کھائی تھی۔لیکن کرن چاولہ معافی دینے کے چکر میں نہیں تھا۔اس سے ہاتھا پائی کرتے وقت جیت کا پلڑاجھکانا کافی دشوار تھا۔
چند گاڑیوں کی روشنی بھی اس طرف آنے لگی تھی جو یقیناکرن چاولہ کے ساتھی تھے۔اگر وہ پہنچ جاتے تو میرے بچنے کی جو چند فیصد امید تھی وہ بھی دم توڑ جاتی۔
وہ بہ مشکل بات ختم کرپایا تھا کہ میں نے پہل کرتے ہوئے اس پر چھلانگ لگائی،میرا گھٹناخطرناک انداز میں اس کی پسلیوں کی طرف بڑھا۔
کہنیوں کا کراس بنا کر اس نے وار سہارا اور پھر ایک دم میرے گریبان میں ہاتھ ڈال کر ،خود کو زمین پر گراتے ہوئے اس نے میرے پیٹ میں دایاں پاﺅں ٹکایا اور میں اڑتے ہوئے قریبی مکان کے دروازے سے جاٹکرایاتھا۔
نسوانی چیخ بلند ہوئی اور میں دروازہ کھولنے والی عورت کو لیے نیچے گر گیا تھا۔بے چاری شاید ہنگامے کی وجہ معلوم کرنے نکل رہی تھی۔عورت کو سنبھالنے اور اس کی خیریت دریافت کرنے کی مہلت نہیں تھی۔اس کی ”ہائے وائے۔“ سے کان بند کرتے ہوئے میں نے ایک دم اٹھ کردروازے کو اندر سے کنڈی کیا اور بھاگ کر دائیں جانب کی دیوار پر چڑھ گیا۔
کرن چاولہ نے لات مار کر دروازہ کھولنے کی کوشش کی اور ناکام ہو کر دیوار پھلانگ کر اندر گھسا۔ تب تک میں دیوار سے ہو کر برآمد ے کے چھجے سے چمٹا،اور چھت پر چڑھ گیا۔
مڑ کر دیکھنے پرکرن چاولہ اسی دیوار پر نظر آیا۔منڈیر سے اینٹ اٹھا کر میں نے زور سے گھمائی،نشانہ اس کا سر تھا،مگرخالی ہاتھ کا نشانہ، رائفل کی طرح درست نہیں نکلا تھا۔اینٹ اس کی چھاتی سے ٹکرائی اور وہ سنبھلنے کی کوشش میں نیچے گرگیا،اس کا انجام دیکھنے کو میں نہیں رکاتھا۔وہ غریبوں کی بستی تھی زیادہ تر مکانوں کی چھتیں ایک دوسرے سے جڑی تھیں ۔میں اوپر ہی اوپر بھاگ پڑا تھا۔
اگلی چھت پر پہنچتے ہی میں نے بھاگتے بھاگتے مڑ کر دیکھاکرن پہلی چھت پر پہنچ گیا تھا۔دونوں کی دوڑ شروع ہوئی۔کہتے ہیں چیتا، ہرن سے تیز رفتار ہوتا ہے۔لیکن جب جان پر بن آتی ہے تو اکثر اوقات ہرن، چیتے کو جل دے کر نکل جاتا ہے۔بلا شبہ کرن چاولہ کوچیتا گرادن کے میں خودکوہرن نہیں کہہ رہا۔لیکن اس کے پیچھے ایجنسی کے درجن بھر منجھے ہوئے ایجنٹ تھے۔اور چودہ پندرہ دشمن مل کر میرے لیے اس سے کہیں زیادہ خطرناک تھے جتنا ایک چیتا، ہرن کے لیے ہو سکتا ہے۔
سات آٹھ چھتوں کو عبور کرنے کے بعد مجھے خلا نظر آیاجو گلی کا تھا۔جب گلی کی ضرورت تھی تو نظر نہیں آرہی تھی اور اب نقصان دہ تھی تو ایک دم ظاہر ہو گئی تھی۔
اس علاقے کا سرسری جائزہ میں نے لیا ہوا تھا۔اور بڑی گلی کے علاوہ باقی گلیاں نو دس فٹ سے زیادہ چوڑی نہیں تھیں ۔اب نامعلوم وہ گلی نو دس فٹ ہی تھی یا زیادہ چوڑی تھی ،میں رفتار کم کیے بغیر آگے بڑھتا گیا۔ آخری قدم منڈیر پر پڑا اور گلی کا خلا ہوا میں تیرتے ہوئے میرے قدم دوسری چھت سے ٹکرائے، گرتے ساتھ جسم کی حرکت کو جاری رکھتے ہوئے میرے دونوں ہاتھ آگے بڑھے اور چھت پر لوٹ لگاتا ہوا میں دوبارہ کھڑا ہو کر دوڑ پڑا۔اگلی چھت پر کودتے وقت مجھے عقبی چھت پر ”دھپ۔“کی زوردار آواز سنائی دے گئی تھی۔
چند مزید چھتیں پھلانگنے کے بعد کرن چاولہ کے پاﺅں کی آواز نزدیک سنائی دینے لگی تھی۔تبھی آگے مجھے ایک اور خلا نظر آیا اور اس بارگلی نہیں خالی پلاٹ تھا۔میں نے قدموں کی رفتار دھیمی کی اور پھر ایک دم مڑ کر گھٹنا اٹھا دیا۔
تیز رفتاری کے باوجود اس نے قدم روک کر میرے گھٹنے کے سامنے ہاتھ کرنے کی کوشش کی مگر اچٹتا ہوا وار اس کے پیٹ میں لگ گیا تھا۔
تکلیف براداشت کرتے ہوئے اس نے اچھل کر مجھے ٹکر مارنا چاہی،میں ایک دم سامنے سے ہٹا وہ اپنی جھونک میں آگے بڑھا،تبھی میری لات اس کی تشریف سے ٹکرائی۔وہ اوندھے منہ گرنے لگا۔مگر ایک دم ہاتھ نیچے ٹیک کر وہ لڑھکتا ہوا اٹھ گیا۔اس کے سنبھلنے سے پہلے میں نے اچھل کر اس کے پیٹ میں لات مارنے کی کوشش کی،مگر وہ سنبھل چکا تھا۔جسم کو دہرا کرتے ہوئے اس نے میری ضرب کو ہلکا کیاساتھ ہی اس کے ہاتھوں نے برق رفتاری سے میری پنڈلی پر گرفت جمائی اور مجھے گھما کر اچھال دیا۔میں لڑھکتا ہوا منڈیر کے قریب پہنچااور کنارے پر ہاتھ جما کر نیچے لٹکتے ہوئے کود گیا۔
زمین پر پاﺅں لگتے ہی میں پھر بھاگا۔مگر قدم دو لیتے ہی کرن کے نیچے کودنے کا دھماکا سنائی دے گیا تھا۔شاید دو تین قدم دوڑ کر اس نے لمبی چھلانگ لگائی تھی۔شاید اس لیے کہا کہ مجھے نظر نہیں آیا تھا،البتہ کمر پر اس کے سر کی بھرپور ٹکر لگی تھی، جس سے اندازہ یہی ہوا کہ اس نے ہوا میں تیرتے ہوئے وار کیا تھا۔
میں اوندھے منہ گرا،ایک دم کروٹ تبدیل کر کے میں نے دائیں ٹانگ سکیڑ ی اور جونھی وہ مجھے چھاپنے کو جھکا اس کی چھاتی پر رسید کر دی۔وہ پیٹھ کے بل گرا، اس کی چھاتی پر سوارہوتے ہوئے میں نے زوردار مکا اس کے چہرے پر رسید کیا،مگر اس نے کہنی سامنے لا کر چہرے کو بچا لیا تھا۔میں نے تابڑ توڑ چند وار کیے،مگر اس کے چہرے کو نشانہ نہ بنا سکا۔اور پھر اچانک ہی میرے بازو کو گرفت میں لیتے ہوئے اس نے دوسرے بازو کے زور سے مجھے نیچے پھینکا۔اب وہ اوپر تھا۔اس کا پہلا مکاخاصی قوت سے میرے جبڑے سے ٹکرایا،میرے منہ میں خون بھر گیا تھا۔لیکن اس کے دوسرے وار کو میں نے کہنی پر سہار لیا تھا۔اگر دوسرا مکا بھی لگ گیا ہوتا تو میری مدافعت دم توڑ جاتی۔
اس کے مسلسل مکوں کو کہنیوں اور بازو پر سہار کر میں نے گھٹنے اکھٹے کیے اور ایک دم اس کے دونوں ہاتھوں کو گرفت میں لیتے ہوئے زور دار ٹکر اس کی ناک پر رسید کردی۔اس کے ہونٹوں سے ہلکی سی سسکی برآمد ہوئی، تیزی میں سستی کا دخول ہوا اور میں نے اسے گھما کر نیچے پھینکااور دوبارہ سوار ی گانٹھ لی۔مگر میرے مکا مارنے سے پہلے اس نے ٹانگوں اور نچلے دھڑ کو جھٹکا دے کر الٹی قلابازی کھائی ،میں اس کے سر کے اوپر سے ہو کر عقبی جانب جاگرا۔ وہ میرے اوپر سے ہوتا ہوا سیدھا کھڑاہو گیاتھا۔
میں نے تیزی سے اٹھنے کی کوشش کی مگر اتنی دیر میں اس نے سنبھل کر میرے چہرے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی،اٹھنے کی وجہ سے اس کی لات میری چھاتی سے ٹکرائی۔میں کولہوں کے بل گرااور اس کی اگلی ٹھوکر لگنے سے پہلے الٹی قلابازی کھا کر کھڑا ہو گیاتھا۔
تب تک وہ میرے پیٹ میں مارنے کو لات گھما چکا تھا۔کہنیوں کا کراس بنا کر میں نے اس کی زور دار ضرب کو سہارا اور اس سے پہلے کہ وہ پیچھے کھینچ پاتااس کی ٹانگ پر دونوں بازوﺅں کی گرفت بنا کر اسے زمین پر دے مارا۔لیکن جونھی اسے چھاپنے کو جھکا،اس نے اپنی ٹانگیں آکٹوپس کی طرح میری گردن سے لپٹ دی تھیں ۔میں نے فوراََ دایاں بازو اس کی ٹانگوں سے گزار کر گردن کو بے پناہ دباﺅ سے چھٹکارا دیااور پھر گھٹنوں پر زور دے کراسے اوپر اٹھایااور ایک دم اس کی پیٹھ زمین پر دے ماری۔
اسی وقت ہم تیز روشنی میں نہا گئے تھے۔مگر روشنی نے ہماری لڑائی کو انجام تک نہیں پہنچایا تھا۔میں نے دوبارہ پہلے والی حرکت دہرا کر اس کی پیٹھ زمین سے ٹکرائی۔اس کے پاﺅں کی گرفت خود بہ خود میری گردن پر ڈھیلی پڑ گئی تھی۔ایک دم سر کو اس کی ٹانگوں سے نکالتے ہوئے میں پیچھے ہوااور اس سے پہلے کہ وہ اٹھ پاتا اسے چھاپ لیا۔مگر گرفت جمانے سے پہلے اس نے بازﺅں سے پکڑ کر مجھے گھما کر نیچے کرلیا تھا۔
”رک جاﺅ،ورنہ گولی مار دوں گی۔‘وہ ممتا دیدی کی آواز تھی۔بہ ظاہروہ وقت آن پہنچا تھا کہ ایک بہن کے سامنے ایک جانب بھائی اور دوسری جانب وطن اور محبوب کے چناﺅ کا مرحلہ تھا۔اگر بات صرف میری اور کرن چاولہ کی ہوتی تو وہ ضرور مخمصے میں پڑتی،مگر دیش کی محبت اس کی نس نس میں بھری تھی۔مجھے ذرا بھر بھی امید نہیں تھی کہ وہ گولی چلاتے ہوئے جھجکے گی۔
البتہ ہم دونوں گھتم گھتا تھے۔کرن چاولہ سخت جان حریف تھااور امید یہی تھی کہ میرے مقابلے کو اسے کسی مدد نہ لینا پڑتی۔جیت کا ہما اس کے سر پر چکرا رہا تھا۔میں خاطر خواہ مزاحمت کر رہا تھا،لیکن میری جنگ جارحانہ کے بجائے مدافعاتی تھی۔کیوں کہ میری ترجیح لڑائی کے بجائے فرار ہونا تھا۔
ممتا دیدی چلائیں ۔”راج!....راہی....پیچھے ہو جاﺅ دونوں ۔“مگر اس وقت لڑائی چھوڑنا ،کرن چاولہ کے لیے نہیں میرے لیے نقصان دہ تھا۔
لڑھکیاں کھاتے ہوئے میں اوپر ہوا،میرا زوردار گھونسا نشانے پر لگا تھا،کرن کا سر زمین سے ٹکرایا، میرا اگلا گھونسا بھی اسی رفتار سے نیچے آیا،مگر اس نے کہنی آگے کر لی۔دو تین مکے کہنیوں پر روک کر اس نے میرے ہاتھ تھام لیے تھے۔اس کی کوشش مجھے دور اچھالنے کی تھی۔
تبھی ہمیں علیحدہ نہ ہوتے دیکھ کر ممتا دیدی ذراقریب ہوئیں ۔ایک اور گاڑی نزدیک پہنچ گئی تھی۔ میں نے سرعت سے فیصلہ کرتے ہوئے زور لگا کرکرن چاولہ کا سر ممتا دیدی کی جانب موڑا،اس کی ٹانگوں پر سے جسم کا دباﺅ کم کر کے اسے موقع دیا کہ مجھے پیچھے اچھالے۔اورمیری تدبیر کامیاب رہی تھی۔کرن چاولہ نے بجلی کی سی سرعت سے میرے پیٹ پر پاﺅں ٹکایا اور مجھے پیچھے اچھال دیا۔
زمین پر لوٹ لگاتے ہوئے میں ممتا دیدی کے قریب ہوا،اس وقت وہ چاہتیں تو مجھے گولی مار سکتی تھیں ، مگر ان کی حتی الوسع کوشش یہی تھی کہ مجھے زخمی نہ ہونا پڑے،تبھی نظر انداز کر گئیں اور یہ شفقت انھیں مہنگی پڑی تھی۔
ایک دم جھپٹتے ہوئے میں نے پستول چھینااوراچھل کر ان سے دور ہٹا کہ وہ مجھے لپٹ کر قابو کرنے کی کوشش کر سکتی تھیں ۔اتنا تو انھیں بھی یقین تھا کہ میں کم از کم ان پر گولی نہیں چلاﺅں گا۔
وہاں پہنچنے والی نئی کار سے دوافراد برآمد ہوئے،دونوں کے ہاتھوں میں پستول تھے۔
”خبردار....“وہ زوردار انداز میں دھاڑے،مگر ان کے منہ سے الفاظ اور میرے پستول کی نال سے گولی ایک ساتھ نکل تھی۔مسلسل دو مرتبہ لبلبی دبا کر میں نے ان کے پستول والے ہاتھوں کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔ اور جان بوجھ کر پستول کے بجائے ہاتھوں پر گولی ماری تاکہ وہ عارضی طور پر ناکارہ ہوجائیں ۔مجھے ناکامی نہیں ہوئی تھی۔
تیز کراہوں سے انھوں نے زخمی ہاتھ کو بغل میں دبا لیا تھا۔
”راج نہیں ۔“ممتا دیدی میری جانب دوڑیں ۔
جھکائی دے کر میں نے جان بچائی،ساتھ ہی میری نظروں نے کرن چاولہ کو ڈھونڈا۔میرے ہاتھوں میں پستول آتے ہی اس نے دیوار کی آڑ لینے کو چھلانگ لگائی تھی۔اور جب میں اس کی طرف متوجہ ہوا تب تک وہ آڑ لے چکا تھا۔اسے نشانہ بنانے کی کوشش فضول تھی۔نئی آنے والی کار کے اگلے پہیوں پرایک ایک گولی گولی ضائع کر کے میں فوراََ ممتا دیدی کی کار کی طرف بھاگاکہ فرار ہونے کا اس سے سنہری موقع نہیں مل سکتا تھا۔ممتا دیدی بھی مجھے پکڑنے کودوڑیں ،مگر ان کے قریب آنے سے پہلے میں ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ چکا تھا۔افراتفری میں وہ کار کو چلتا چھوڑ کر نیچے اتری تھیں ۔کاریں کی بتیاں روشن تھیں ۔
پستول جیب میں ڈال کر میں نے ہینڈ بریک آزاد کی اور گیئر لگاتے ہوئے ایکسی لیٹر پر پاﺅں دبا دیا۔مگر تب تک ممتا دیدی دوڑ کر اندر گھس آئی تھیں ۔
”راج !کار روکو....تمھیں کہہ رہی ہوں روکو کار ورنہ مجھ سے برا کوئی نہ ہوگا۔“ میرے ہاتھوں سے اسٹیئرنگ چھیننے کی کوشش کرتے ان کی دھمکیاں بھی جاری رہیں ۔
میں نے انھیں جواب دینے کے بجائے کار کو تیسرے گیئر میں ڈالا اور ایکسی لیٹر مکمل دبا دیا۔سڑک قریب ہی تھی۔لیکن میں اطمینان سے ڈرائیو نہیں کر پا رہا تھا۔ممتا دیدی کی کوشش سے کار لہرائی۔انھیں لگا میں کہیں ٹھوک دوں گا۔اسٹیئرنگ چھوڑ کر وہ پیچھے ہٹیں ،ساتھ ہی ان کا زوردار تھپڑ میرے چہرے پر لگا۔
”راج!....بے شرم ،بے حیاکاررکو۔“غصے سے مارے ہوئے تھپڑ میں بھی چاہت پنہاں تھی ورنہ وہ تربیت یافتہ تھیں ،تھپڑ کے بجائے کراٹے کا داﺅ پیچ بھی آزما سکتی تھیں ۔مسلسل دو تین تھپڑ کھا کر بھی جب میں نے کم کرنے کے بجائے رفتار بڑھادی تووہ دوبارہ اسٹیئرنگ پر جھپٹیں اور پھر کار کو ڈگمگاتا پا کر مجھے بازوﺅں میں بھرنے کی کوشش کرنے لگیں ۔ تاکہ اسٹیئرنگ سے ہاتھ چھوٹنے پر میں رکنے پر مجبور ہو جاﺅں ۔ہم سڑک پر چڑھ کر فرلانگ بھر آگے آگئے تھے۔اگر فوری طور پر ممتا دیدی کا حل نہ کرتا تو انھوں نے مجھے گرفتار کرا دینا تھا۔
ایکسی لیٹر سے پاﺅں ہٹا کر میں نے بریک دبائی اور ہینڈ بریک کھینچ کر ممتا دیدی کے ہاتھوں کو تھام لیا۔
”راج ،تمھیں میرے سر کی قسم،بھاگنا چھوڑواور نیچے اترو۔وعدہ کرتی ہوں تمھیں کچھ نہیں کہا جائے گا۔ ہم نے بس برطانوی چڑیل کو پکڑنا ہے۔یقین کرو میرا۔“ہاتھوں کو میری گرفت سے آزاد کرانے کی جہد کرتے ہوئے وہ مسلسل بول رہی تھیں ۔وہ لڑائی بھڑائی کی ماہر تھیں مگر مجھ پر ہاتھ نہیں اٹھا رہی تھیں ۔ نہ میں انھیں چوٹ پہنچانا چاہتا تھا۔اور چوٹ پہنچائے بغیر ان سے جان چھڑانا ناممکن لگ رہا تھا۔گو میرے پاس تو پستول بھی موجود تھا۔لیکن ممتا دیدی کے خلاف پستول نکالنے کامطلب اپنی گردن پھنسانا تھا۔میں تو ان پر گولی نہ چلا سکتا،شاید وہ دیش کی محبت ایسا کر گزرتیں ۔
اسی چھینا جھپٹی میں اچانک ایک ترکیب ذہن میں آئی۔میں نے فوراََ انھیں بانہوں کے گھیرے میں لے لیا۔بلا شبہ وہ بہت زیادہ پرکشش اور خوب صورت جسم کی مالک تھیں ،مگر ان سے لپٹتے وقت مجھے ہمیشہ یونھی لگتا تھا جیسے پھوپھو جان یا امی جان کے گلے لگنے پر احساس ہوتا ہے۔
”دیدی ،آپ سمجھنے کی کوشش کیوں نہیں کرتیں ........“ان کے ذہن کو بھٹکانے کی خاطر میں نے گفتگو جاری رکھی تاکہ انھیں پتا نہ لگے کیا کر رہاہوں ۔”کوئی آپ کی بات نہیں سنے گا۔انڈیا سرکار آپ کی ملازم نہیں مالک ہے اور........“میرے بولنے سے ان کی مزاحمت ہلکی ہوئی،انھیں لگا ایک بھائی ،بہن کو گلے لگا کر جذباتی دھونس جمانے کی کوشش کر رہا ہے۔مگر میرا منصوبہ کوئی اور تھا۔ہلکا سا اچک کر میں نے کمر سے ان کے کوٹ کو پکڑااور ایک دم کوٹ کو اوپر کی طرف کھینچااور ان کے سر سے گزار کر کوٹ سامنے لے آیا،ساتھ ہی کوٹ کوچکر دے کر اس کے ہاتھوں کو مزید جکڑ دیا۔یوں کہ اس کے بازو ﺅں سے کوٹ نہیں اترا تھا۔بالکل آخری لمحے میں انھوں نے مچل کر میری گرفت سے نکلنا چاہا مگر دیر ہو گئی تھی۔
وہ میرے بازوﺅں کے گھیرے میں تھی اس لیے کوٹ کو اتار یا پہن نہیں سکتی تھیں ۔”فیشن ایبل فٹ کوٹ “ کو اتارنے ،پہننے میں ویسے بھی ذرا سی دقت ہوتی ہے۔اور اس وقت توکوٹ نے ہتھکڑی کی طرح ان کے ہاتھوں کو جکڑ لیا تھا۔اور میں انھیں موقع نہیں دے رہا تھا کہ وہ کوٹ اتار پھینکیں یا پہن کر ہاتھوں کو آزاد کرا لیں ۔انھیں بازو ﺅں ہی میں جکڑے ہوئے میں دروازے کی جانب کھسکا۔اور دروازہ کھول کرانھیں ساتھ لیے نیچے اتر گیا۔وہ جان چھڑانے کو زور زور سے مچل رہی تھیں ،ساتھ ہی روہانسا ہو کر بولنے لگیں ....
”راج!بے شرم ،بے حیا بہت پٹو گے ،اب مجھ سے رعایت کی توقع نہ رکھنا۔میں تمھیں چھوڑوں گی نہیں ۔بہتر ہوگا شرافت سے میرے ساتھ چلو........“
انھیں آرام سے سڑک پر بٹھا کر میں برق رفتاری سے کار میں گھسا اور دروازہ فوراََ قفل کر دیا۔ کوٹ زیادہ سے زیادہ دو تین سیکنڈ ہی انھیں الجھا سکا تھا۔اور وہ قلیل وقت میرے لیے کافی تھا۔وہ دروازے کے ہینڈل سے پکڑ کر مسلسل جھٹکے دیتے ہوئے مجھے پکار رہی تھیں ۔
”راج،رکو....میں تمھیں کہہ رہی ہوں رک جاﺅ۔پلیز مان جاﺅ تمھاری جان خطرے میں ہے۔“وہ باﺅلی ہو کر دروازے سے چمٹی تھیں ،اچانک انھیں خیال آیا اور کار کو سامنے سے روکنے کو وہ آگے بڑھیں ،اگر یہ خیال انھیں پہلے آجاتا تو میرے لیے مسئلہ کھڑا کر سکتی تھیں ۔
مگر تب تک میں اسٹیئرنگ پر بیٹھ کر ہینڈ بریک کو آزاد کر کے کار آگے بڑھاچکا تھا۔چند قدم ساتھ دوڑ کر انھیں نے آخری حد تک کوشش کی اور پھر کار آگے نکل گئی۔اس کے بعد بھی وہ مجھے آوازدے کر چیختے ہوئے بھاگتی رہیں ۔آگے سڑک صاف تھی اور وہاں سے جلد از جلد دورجانا ہی مجھے بچاسکتا تھا۔
شاید ان کی دوسری کاروں نے گلی کے دوسرے سرے کو غلاف (کور)کیا ہوا تھاتاکہ میں اس جانب سے نہ بھاگ سکوں ۔یہ بھی ممکن تھا وہ ان کھولیوں میں لورا براﺅن کی تلاش میں لگے ہوتے۔آگ بجھانے کی کوششوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔بہ ہرحال کچھ بھی تھاان کا اکٹھ میرے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا۔ کرن چاولہ کو خود پر اعتماد تھا۔بلا شبہ اس کا اعتماد بے جا نہ تھا۔اگر ممتا دیدی حماقت نہ کرتیں اور اپنے ساتھیوں کا انتظار کر کے انھیں مجھے جکڑنے کا موقع دیتیں تو میں اب تک حراست میں ہوتا۔
سڑک پر مسلسل آگے بڑھنا کسی طور مناسب نہ تھا۔ان کے لیے سڑک پر تعاقب کرنا اور ناکا لگاکر میری حرکت کو روکنا نہایت آسان تھا۔اس لیے جتنی جلدی میں سڑک چھوڑ دیتا بہتر تھا۔ڈیڑھ دو کلومیٹر آگے آتے ہی میں سڑک سے اتر کر چوڑی گلی میں گھس گیا۔لیکن صرف سڑک سے اترنا بھی مسئلے کا حل نہیں تھا۔وہ” را “کی کار تھی اوراس میں آلہ نشاندہی (انڈیکیٹر)کی موجودی کو نظر انداز نہیں کیا سکتا تھا۔البتہ میری کوشش صرف جلدی سے اس علاقے سے باہر نکلنا تھا۔تین چار گلیوں سے گزرنے کے بعد بھی کوئی سفر کا متبادل ذریعہ نہیں ملاتھا۔رات چونکہ کافی بیت چکی تھی اس لیے گلیوں میں نقل و حرکت نہ ہونے کے برابر رہ گئی تھی۔میری کوشش کسی موٹر سائیکل سوار کو شکار کرنے کی تھی،مگر موٹر سائیکل والا کوئی نہ ملاالبتہ ایک کار کو دیکھ کر میں نے قسمت آزمائی کا فیصلہ کیا۔اور اپنی کارچوڑی گلی کے ایک طرف کرتے ہوئے نیچے اترا۔ سامنے سے آنے والی کارقریب پہنچ گئی تھی۔میرے ہاتھ اٹھانے پر اس نے فوراََ بریک لگائی تھی۔وجہ یہی تھی کہ میں جس شاندار کار سے اترا تھااس کا مالک اچکا یا نچلے درجے کا ڈکیت نہیں ہوسکتاتھا۔
شیشہ نیچے کر کے اس نے باہر جھانکا۔وہ ایک خوش شکل لڑکی تھی۔سفید کوٹ دیکھ کر مجھے اندازہ لگانے میں دیر نہ ہوئی کہ وہ ڈاکٹر تھی اور اپنی شفٹ ختم کر کے آرہی تھی۔اس نے سر پر کالے رنگ کی گرم ٹوپی رکھی ہوئی تھی جبکہ اسی رنگ کامفلر نما دوپٹا اس کے گلے میں پڑا تھا۔۔”جی۔“وہ مستفسر ہوئی۔
”تھوڑا سا پٹرول مل جائے گا جو مجھے پٹرول پمپ تک پہنچا دے۔“میں نے یہ تاثر دیا گویا میری کار میں پٹرول ختم ہو گیا ہے۔میں براہ راست پٹرول ختم ہونے کا بھی کہہ سکتا تھا لیکن حتی الوسع میری کوشش یہی ہوتی کہ جھوٹ نہ بولوں ۔گو عام زندگی میں جھوٹ ایک لعنت اور غیر اخلاقی و گری ہوئی حرکت ہے،مگر جاسوس کی زندگی میں ہر دم ایسے مسائل جنم لیتے ہیں کہ جھوٹ بولنا اس کے لیے ناگزیر ہو جاتا ہے۔لیکن ایسے حالات میں بھی میں الفاظ کے چناﺅ پر دھیان دیتاتھا کہ جھوٹ بولنے کے بجائے مخاطب کے دماغ میں من چاہا مطلب گھسیڑوں ۔
اس نے نفی میں سر ہلایا۔”معذرت خواہ ہوں بھائی۔“
میں درخواست گزار ہوا۔” کسی قریبی پٹرول پمپ تک لے جاسکتی ہیں ۔“
اس کے یاقوتی ہونٹوں پر رسمی مسکراہٹ ابھری۔”بھائی !ڈیوٹی ختم کر کے آرہی ہوں اور سخت تھکی ہوئی ہوں ۔ آپ تھوڑا آگے چلے جائیں سڑک زیادہ دور نہیں ہے وہاں سے ٹیکسی یا لفٹ مل جائے گی۔“
مجھے پہلے سے یہی امید تھی۔کسی عورت کا اجنبی مرد کولفٹ دینا کافی مشکل تھا۔قیمتی کار کی وجہ سے رکی ضرور تھی ،لیکن اس سے زیادہ اعتبار وہ نہیں کر سکتی تھی۔
”شما چاہتا ہوں بہن جی،لیکن مجبوری ہے۔“میں نے ایک دم پستول نکال کر اس پر تان لیا۔
”کک....کیا چاہتے ہو؟“اس کی آنکھوں میں خوف ابھرا۔
میں اطمینان سے بولا۔”صرف لفٹ۔“
وہ ہکلاتے ہوئے بولی۔”بب ....بھائی میں ایک ڈاکٹر ہوں ....عوام کی خدمت گار۔ ڈیوٹی سے آ رہی ہوں ۔کیا اپنے خدمت گاروں کو یوں تکلیف دی جاتی ہے۔“
میں اطمینان سے بولا۔”لفٹ لینا کون سی تکلیف ہے۔آپ عوام کی خدمت گار ہیں اور میں تھوڑی سی خدمت ہی کا متقاضی ہوں ۔“
وہ لرزتے ہوئے بولی۔”آ....آپ بے شک کار لے جائیں ....مم....مگر....“
”وعدہ کرتا ہوں ذرا سی بھی تکلیف نہیں دوں گا۔آپ میرے لیے بہن کی طرح قابل احترام ہیں ۔ بھائی کے لیے چند کلومیٹر سفر کی زحمت کر لیں ۔“
وہ گڑگڑائی۔”پپ....پلیز....“یقینا اس لمحے کو کوس رہی ہو گی جب میرے لیے کار روکی تھی۔
”سنا نہیں ۔“پستول کی نال سے میں نے اسے ڈرائیونگ سیٹ چھوڑنے کا اشارہ کیا۔
وہ جلدی سے دوسری سیٹ پر منتقل ہو گئی۔
”مجھے معاف کر دینا۔“ندامت بھرے لہجے میں کہتے ہوئے میں نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی اور کار آگے بڑھادی۔وہ اپنے ہاتھ اضطراری انداز میں مروڑ رہی تھی۔
”یقین کرو،مجبور نہ ہوتا تو آپ کو کبھی تکلیف نہ پہنچاتا۔درحقیقت میری جان کو خطرہ ہے۔میری کار کو دشمن پہچانتے ہیں اس لیے آپ کی کار میں بیٹھنا پڑا۔اور جونھی کوئی ٹیکسی وغیرہ نظر آئی آپ کو جانے دوں گا۔“
گہرا سانس لیتے ہوئے وہ خاموش رہی۔شک ہونے کے باوجود وہ یقین کرنے پر مجبور تھی۔
تھوڑا آگے جاتے ہی میں دوسری گلی میں مڑا جو آگے جا کر سڑک سے مل رہی تھی۔
”آپ کا نام پوچھ سکتا ہوں ۔“اسے مانوس کرنے اور جھجک دور کرنے کو میں نے خود ہی بات چیت شروع کی۔دوستانہ انداز میں بات چیت سے اس کا خوف کسی حد تک دور کیا جا سکتا تھا۔مناسب نہیں تھا کہ جب تک ٹیکسی نہ ملتی وہ بے چاری اذیت میں مبتلا رہتی۔یہ بھی ممکن تھا چلتی گاڑی سے چھلانگ لگا دیتی۔یا پولیس وغیرہ کی جیپ دیکھ کر مدد کو پکارنا شروع کر دیتی۔
وہ دھیرے سے بولی۔”ڈاکٹرسُجاتامکھر جی۔“
میں نے اگلا سوال پوچھا۔”کس چیز کی ڈاکٹر ہیں ۔“
وہ سادگی سے بولی۔”انسانوں کی۔“
میں بے اختیار قہقہ لگا کر ہنس پڑا۔وہ جھینپتے ہوئے بولی۔”میرا مطلب میڈیکل اسپیشلسٹ ہوں ۔“
میں نے بہ ظاہر سنجیدگی سے کہا۔”آج کل طب کے شعبے نے بہت ترقی کر لی ہے،تو کیا کوئی ایسی دوائی بھی ایجاد ہوئی ہے جو کسی کی یادوں کوبالکل ختم نہیں تو کم از کم مدہم کر سکے۔“
اس کے ہونٹوں سے حیرانی بھرا ”جی “نکلا تھا۔
میں نے وضاحت کی۔”مجھے اپنی بیوی بہت پیاری ہے اور آج کل بہ حالت مجبوری ہمارے درمیان عارضی دوری پیدا ہو گئی ہے۔کیا کوئی ایسا طریقہ ہے کہ چند ماہ کے لیے اسے بھلا سکوں ؟“
اس کے لبوں پر مدہم سی مسکراہٹ ابھری۔”یقیناآپ کو ماہر نفسیات (سائیکا ٹرسٹ)کی ضرورت ہے۔“
میں نے منہ بنایا۔”بیزاری بھرے بھاشن سننے سے بہتر ہے،حالات سے سمجھوتہ کر لوں ۔“
وہ صاف گوئی سے بولی۔”میں بھی تو سکون آور دوائی کے علاوہ کوئی سہائتانہیں کر سکتی۔“
چونکہ میرا مقصد اسے اذیت بھری سوچوں سے چھٹکارا دلانا تھا اس لیے لا ینحل و بے کار موضوع پر گفتگو جاری رکھی۔اس دوران ہم نے تین چار کلومیٹر کا فاصلہ طے کر لیا تھا۔ ایک بس اسٹاپ پر دو ٹیکسیاں کھڑی نظر آئیں ۔
میں نے رفتار دھیمی کر کے کار سڑک سے اتاری اور ان سے کچھ آگے جا کر روک دی۔
اترنے سے پہلے میں نے ڈاکٹر سے پوچھا۔”کیا اپنی گرم ٹوپی اور دوپٹا مجھے دے سکتی ہیں ۔“
وہ حیرانی سے ہکلائی۔”کک....کس لیے؟“
میں متبسم ہوا۔”یقینا نشانی نہیں مانگ رہا۔باہر سردی زیادہ ہے اور امیدہے ایک ڈاکٹر کو کنٹوپ خریدنے میں دقت نہ ہوگی۔“
”سیدھا کہیں چہرہ چھپانے کو درکار ہے۔“معنی خیز انداز میں کہتے ہوئے اس نے گرم ٹوپی اور مفلر نما دوپٹا میری طرف بڑھادیا۔میرے نرم اور دوستانہ لہجے میں باتیں کرنے سے اس کی جھجک اور پریشانی دور ہو گئی تھی۔
ٹوپی سر پر رکھ کر میں نے دوپٹا مفلر کے انداز میں چہرے کے گرد لپیٹا۔”ڈاکٹر صاحب!ہوسکے تو معاف کر دینا۔آپ کا قیمتی وقت لیابہت بہت شکریہ۔اب ٹیکسی نظر آگئی ہے تو آپ کو مزید تنگ کرنا نہیں بنتا۔“ میں نے اترنے کو پر تولے۔
”بات سنیں ۔“میرے دروازہ کھولنے سے پہلے اس نے آواز دی۔
”جی۔“میں حیرانی سے مڑا۔کیبن بتی بند ہونے کی وجہ سے اس کا چہرہ واضح نظر نہیں آرہا تھا۔
”یادوں سے چھٹکارے کی دوا تو نہیں بنی البتہ خود کو مصروف رکھنے سے وقتی طور پر افاقہ ضرور ہو جاتا ہے۔بالکل ایسے ہی جیسے آپ نے مسلسل باتوں سے نہ صرف میرا خوف دور کیا،بلکہ مجھے چوٹ لگنے سے بھی محفوظ رکھا۔ اور یقینا یہ دریافت آپ خود پر بھی آزما رہے ہوں گے۔“ایک لمحہ توقف کر کے اس نے گہرا سانس لیا .... ”اورآپ بالکل صحیح سوچ رہے ہیں ،میں دروازہ کھول کر چھلانگ لگانے کا فیصلہ تقریباََکر چکی تھی۔“
”ڈاکٹر صاحب!میں نے بہ حالت مجبوری آپ کو تکلیف دی ورنہ کسی عوامی خدمت گار کو زحمت دینے کا میں سوچ بھی نہیں سکتا۔ آپ کا عورت ہونا مجھے مزید نادم کرنے والا تھااور بے شک مجھے خدشہ تھا کہیں آپ چلتی کار سے کود نہ جائیں ۔“
اسے کرید ہوئی۔”مجھے نہیں لگتا کوئی دہشت گرد اتنا سلجھا ہوااور خیال رکھنے والا ہو سکتا ہے۔میڈیا جھوٹ بول رہا ہے یا آپ نا تجربے کار دہشت گرد ہیں ۔“ وہ مجھے پہچان گئی تھی۔میڈیا نے میری تشہیر ہی اتنی کی تھی کہ اصل حلیے میں کسی کے ساتھ بھی تھوڑاوقت گزارلیتا اس نے پہچان لینا تھا۔
میں ہنسا۔”یہ وہ سوال ہیں جو آپ کو پہلے پوچھنا چاہئیں تھے۔اب توعلیحدہ ہونے کا وقت آگیا ہے۔“
وہ فلسفیانہ لہجے میں بولی۔”کسی کے بارے جاننے کا اشتیاق اور اس سے استفسار کا حوصلہ تبھی ہوتا ہے جب اجنبیت کی دیوار گرنے کے ساتھ بے تکلفی کا داعیہ بھی پیدا ہوجائے۔“
”خیر اجنبیت کی دیوار گرانے میں آپ کو ذرا سی دیر ہو گئی ہے۔اس لیے باقی باتیں اگلی ملاقات کے لیے چھوڑ دیتے ہیں ۔
”مجھے لگتا ہے آپ کو چند منٹ مزید کار سے نہیں نکلنا چاہیے۔“ سڑک کی طرف میری پیٹھ تھی۔اس کا انداز ایسا نہیں تھا کہ میں مڑ کر نہ دیکھتا۔سڑک پر دو کالی کاریں اور ان کے عقب میں پولیس کی تین جیپیں گزر رہی تھیں ۔کاریں اور ایک جیپ رکے بغیر آگے نکل گئیں البتہ پولیس کی دو جیپیں ٹیکسی کے قریب رک گئی تھیں ۔
ایک پولیس والا ٹیکسی ڈرائیوروں سے بات کرنے لگا ،دوسرے کا رخ ہماری کار کی طرف ہو گیا تھا۔ میرا ہاتھ جیب میں رینگا۔انھیں قتل یا زخمی کیے بغیر بھاگنا ممکن نہیں تھا۔ان کی تعداد دس تھی۔اور مجھے تویہ بھی معلوم نہیں تھاکہ پستول میں کتنی گولیاں باقی بچی ہیں ۔
سجاتا سرعت سے بولی۔”ہمیں باہر نکلے بغیر سیٹ بدلنا ہوگی۔“
سوچنے کا وقت نہیں تھا۔میں فوراََ ڈیش بورڈ کو پکڑ کردوسری طرف پہنچا اور وہ نیچے سے کھسک کر ڈرائیونگ سیٹ پر آگئی۔اس دوران ہمارے اجسام کا لمحے بھر کو اتصال ہوا تھا،لیکن حالات کی نزاکت دماغ پر قابض تھی۔پولیس کے ردعمل پر کیاکرنا تھا اس بارے کچھ بہتر نہیں سوجھ رہا تھا۔امکانِ، غالب یہی تھا کہ میری ورزش کا دوسرا راﺅنڈ شروع ہونے والا تھا۔پولیس ،را ایجنسی کے ساتھ مددگار بنی تھی اور یقینا ہنگامہ شروع ہوتے ہی وہ انھیں فوراََ سے پہلے مطلع کرتے۔
”تم دل کے مریض ہواور ہم ایمبولینس کے لیے رکے ہوئے ہیں ۔“دوسری سیٹ پر منتقل ہوتے ہی ڈاکٹر سجاتا دھیمے مگر تیز لہجے میں بولی اور اپنی جانب کا دروازہ کھول کر نیچے اتر گئی۔اس کا باہر نکلنامیرے لیے نقصان دہ تھا۔کیوں میں اسے یرغمال بنا کر بھاگ سکتا تھا۔ مجھ سے دور جا کر وہ باآسانی مجھے پکڑا سکتی تھی۔ ہماری مخبری پر اچھے خاصے انعام کا وعدہ انڈیا سرکار نے کر رکھا تھا۔مگر اب تیرکمان سے نکل چکا تھا۔ڈاکٹر سجاتا کے ردعمل سے پہلے حرکت کرنا مناسب نہ ہوتا۔
جاری ہے
قسط نمبر 47
ریاض عاقب کوہلر
ہماری مخبری پر اچھے خاصے انعام کا وعدہ انڈیا سرکار نے کر رکھا تھا۔مگر اب تیرکمان سے نکل چکا تھا۔ڈاکٹر سجاتا کے ردعمل سے پہلے حرکت کرنا مناسب نہ ہوتا۔
”بھگوان کاشکر ہے آپ آگئے۔“ڈاکٹر سجاتا وارفتگی سے کہتے ہوئے دو قدم بھر کر سپاہی کے قریب ہوئی۔ ”دیش کے محافظوں کو دیکھ کر کتنی خوشی ہوتی ہے یہ آج پتا چلا........ویسے میں ’سیون ہائیٹ ہسپتال‘کی ڈاکٹر سجاتامکھر جی ہوں ۔“ مسلسل بولتے ہوئے اس نے بے تکلفی سے مصافحے کو ہاتھ بڑھا دیا۔
اس کا لڑکی ہونا، ڈاکٹر ہونا،پولیس والے کی تعریف کرنا، اس کی آمد پر شکر گزاری کے کلمات ادا کرنااور پھراس سے مصافحہ کرنایہ تمام ایسے تیر تھے کہ ایک بھی ہدف سے خطا نہیں گیا تھا۔یہ نوازشات پولیس سپاہی کے دماغ میں پیوست ہوکر اس کی سوچ پر قابض ہو گئی تھیں ۔کار کا جائزہ لینا اسے بھول چکا تھا۔وہ خوش دلی سے بولا۔
”خیریت ڈاکٹر صاحب آپ یہاں کیوں رکی ہیں ۔“
ڈاکٹر سجاتاتفصیل بتاتے ہوئے بولی۔”میرے ساتھ ایک دل کامریض ہے۔اسے ’آشروادہارٹ ہاسپیٹل‘ پہنچانا ہے۔ہسپتال سے نکلتے وقت جلدی کی خواہش میں ایمبولینس کا انتظار نہ کر پائی کہ وہ دوسرے مریض کو چھوڑنے گئی ہوئی تھی۔اب راستے میں مریض کو زیادہ تکلیف ہونے لگی تو مجھے رکنا پڑا،کیوں کہ خصوصی ایمبولینس کے علاوہ اسے حرکت دینا مناسب نہ ہوگا۔اب ایمبولینس کو گھنٹی کر کے اس کا انتظار کر رہی تھی۔“
”ہمارے لائق کیا خدمت ہے۔“شاید سپاہی اس کی مکمل سہائتا کیے بغیر نہیں لوٹنا چاہتا تھا۔
”میں بس ان ٹیکسی ڈرائیوروں سے ڈری ہوئی تھی۔آپ تو جانتے ہیں اکیلی لڑکی کے لیے یہ کتنے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں ۔تبھی آپ کو دیکھ کر مسرت ہوئی۔امید ہے آپ یہاں گھنٹا ادھ ضرور رکیں گے۔“
”مہاراج کتنی تفتیش بقایا ہے۔“یقیناپولیس والے کے ساتھیوں کو جلدی تھی۔”ہم پریمی جوڑوں کو تنگ کرنے نہیں نکلے،یہ فضولیات بعد میں ہوتی رہیں گی۔فی الحال نکلنے کی کوشش کرو۔“
وہ معذرت خواہانہ لہجے میں بولا۔”ڈاکٹر صاحب !معذرت،مگر ہمارے پاس رکنے کا وقت نہیں ہے۔ کسی مجرم کا پیچھا کر رہے ہیں ۔البتہ فکر نہ کرو میں ٹیکسی ڈرائیوروں کو تنبیہ کر کے جاﺅں گا۔کسی میں اتنی جرا¿ت نہیں کہ شریف ڈاکٹر کو چھیڑ سکے۔“
”اپنا موبائل فون نمبر بتاتے جاﺅ تاکہ میں ضرورت پڑنے پر گھنٹی کر سکوں ۔“سجاتا اپنے ڈرامے کو حقیقت کا روپ دینے پر تلی تھی۔
کرخت لہجے میں پکارا گیا۔”مکیش کے بچے،وقت ضائع نہ کرو۔“
”آگیا سر۔“اپنے سینئر کو کہہ کر وہ جلدی جلدی اپنا موبائل فون نمبر سجاتا کو لکھوانے لگا۔”کال کر کے اپنی خیریت سے آگاہ کرتی رہنا،کوئی پریشانی نہ ہو پھر بھی۔“اپنے ساتھیوں کی طرف جاتے ہوئے بھی اس کی ہدایات جاری رہیں ۔
اس کے جیپ میں بیٹھنے تک سجاتا وہیں کھڑی رہی۔اور پھر واپس کار میں آگئی۔
میں تحسین آمیز لہجے میں بولا۔”آپ تو اچھی خاصی اداکارہ ہیں ۔“
وہ خوش دلی سے بولی۔”ممبئی میں ہر لڑکی،پہلے اداکارہ اور پھر کسی اور شعبے سے تعلق رکھتی ہے۔ ہیروئین بننے کا شوق بچپن ہی سے ہمارے دماغ میں کلبلانے لگتا ہے۔البتہ کامیابی خال ہی کسی کے نصیب میں لکھی ہوتی ہے۔“
میں متعجب ہوا۔”ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہو کر آپ ایک گھٹیا پیشے کوافضل جان رہی ہیں ۔“
وہ حسرت سے بولی۔”کامیابی کی معراج،دولت،شہرت اورعزت سمجھی جاتی ہے۔جسے تینوں حاصل ہو جائیں اس کی خوش قسمتی وبلند بختی میں کس کو شک ہو سکتا ہے۔اور ہماری فلم انڈسٹری کے ستاروں کے سر پر ان تینوں دیویوں کا سایہ ہے۔“
میں نے فضول موضوع سے جان چھڑائی کہ ایک غیر مسلم پر اسلامی تعلیمات ٹھونسنا اتنا بھی آسان نہیں ہوتا۔”آپ کو ڈھیر سارا دھنے واد کہہ کر مجھے جانا ہو گا۔“
وہ معنی خیز لہجے میں بولی۔”اگر راستے میں دوبارہ پولیس سے ٹکراﺅ ہوگیاپھر؟“
گو میں کہہ سکتا تھا کہ انڈیا میں گزشتہ چند ماہ سے مجھے پولیس،ایجنسیوں اور شکلا کے کتوں سے بچانے والی ڈاکٹر سجاتا نہیں تھی۔لیکن یہ بہت سخت الفاظ تھے اور کسی ایسے شخص کو جو خلوص دل سے میرے کام آچکا ہو یہ کہنا سراسر زیادتی تھی۔میں نے اسے زبردستی بے آرام کیا تھابلکہ خطرے میں ڈالا تھا۔اس کی وجہ سے پولیس والوں سے جان چھوٹی تھی۔ذرا سی تعریف یا حوصلہ افزائی سے میری عزت میں کمی نہ آتی۔
انکساری سے بولا۔”کوئی اور ڈاکٹر سجاتا مل جائے گی۔انڈیا میں کافی اصل ہیرو ، ہیروئینوں سے واسطہ پڑ چکا ہے۔“
میری تعریف نے اسے خوش کرنے کے بجائے اداس کر دیا تھا۔”کاش میں سچ مچ کی ہیروئین ہوتی۔مگر حقیقت تو یہ ہے کہ میری پاس خود پر فخر کرنے کو کوئی وجہ موجود نہیں ہے،البتہ ............“گہرا سانس لیتے ہوئے اس نے لمحہ بھر توقف کیااور پھر بات بدلتے ہوئے پیش کش کی۔”کہاں جانا ہے۔چاہو تو میں چھوڑ آتی ہوں ۔“
”آپ کو زحمت ہوگی۔“میں نے رسمی انکار مناسب سمجھا کہ پہلے ہی اس کا کافی وقت ضائع کر چکا تھا۔ ”اور ویسے بھی میرا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے کہ آپ مجھے جلدی سے چھوڑ کر لوٹ آئیں گی۔“
اس نے خیال ظاہر کیا۔”گویا آپ کا مقصد وقتی طور پر چھپنے کا ٹھکانہ ڈھونڈنا ہے۔“
”ایسا ہی ہے۔“میں نے اثبات میں سر ہلادیا۔
وہ اعتماد سے بولی۔”چند دن کے لیے ٹھکانہ دے سکتی ہوں ۔“
میں ششدر رہ گیا تھا۔”مگر آپ ایک ایسے شخص کو کیوں ٹھکانہ دیں گی جو انڈیا سرکار کا مجرم ہے۔اور پکڑا گیا تو آپ کو جواب دہی مشکل ہو جائے گی۔“
وہ ہلکے سے طنز سے بولی۔”تھوڑی دیر پہلے میں نے آپ کو پولیس سے بھی تو بچایا ہے۔اور تب بھی پکڑی جاتی تو مشکل میں پھنس سکتی تھی۔“
اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے میں نے نادم لہجے میں کہا۔”میں آپ پر شک نہیں کر رہا۔“
وہ اعتماد سے بولی۔”شک کی کوئی وجہ بھی نہیں بنتی۔“
”گھر والوں سے کیا کہیں گی؟“
وہ اطمینان سے بولی۔”وہ میرا مسئلہ ہے۔“
میں ہنسا۔”مسئلہ تو خیر میرا ہے۔“
”میرے بڑے بھیا اپنی نئی نویلی دلھن کے ساتھ ہنی مون منانے شملہ گئے ہوئے ہیں ۔مہینے کے لیے گئے تھے اب تک انھیں دو ہفتے بھی نہیں ہوئے۔ گھر کو تالے لگے ہیں کیوں کہ میں اپنے فلیٹ میں رہتی ہوں ۔“
میں رسمی تکلف سے بولا۔”آپ کا پہلا احسان بھی کافی بڑا ہے اورآپ مزید مقروض کرنے کے چکر میں ہیں ۔“
”بس جب احسان چکانے کا موقع ملے تو قدم پیچھے نہ ہٹانا۔“معنی خیز انداز میں کہتے ہوئے اس نے کار اسٹارٹ کی اور ریورس کر کے سڑک پر چڑھا دی۔مجھے اچنبھا ہوا تھالیکن مزید سوال سے گریز کرتے ہوئے میں لورا کو گھنٹی کرنے کوموبائل فون ٹٹولنے لگا۔جو تین حصوں کی شکل میں جیب سے باہر نکلا۔موبائل فون الگ، بیٹری الگ اور ڈھکن الگ۔کرن چاولہ سے لڑتے وقت ہی اس کی یہ حالت ہوئی تھی۔اور اس کے بعد مجھے موقع ہی نہیں مل سکا تھا کہ لورا کو گھنٹی کرنے کاسوچتا۔اطمینان ہوتے ہی اس کا خیال آیا تھا۔
بیٹری جوڑ کر ڈھکن بند کیااور بٹن دبانے سے موبائل فون کی اسکرین روشن ہو گئی۔لورا کا نمبر ڈائل کر کے فون کان پر رکھ لیا۔دو تین گھنٹیوں کے بعد اس کی محتاط” ہیلو۔“ابھری۔
میں نے چھوٹتے ہی پوچھا۔”کہاں ہو؟“
”بھاڑ میں ۔“وہ سخت تپی ہوئی تھی۔
میں اطمینان سے بولا۔”وہاں تمھیں مرنے کے بعد ٹھکانہ ملے گا فی الحال کہاں ہو۔“
وہ روہانسی ہوئی۔”کمینے آدمی، صبح سے جان سولی پر اٹکی ہے۔کم از کم تسلی کا ایک پیغام ہی بھیج دیتے۔“
میں نے چھیڑا”کیپٹن جھوٹ نہ بولو،آدھی رات تک تمھارے ساتھ تھاتو صبح سے کیسے جان سولی پر لٹک سکتی ہے۔“
وہ چیخی۔”بکواس بند کرو میں نے محاورتاََ کہا ہے۔“
”میرے لیے پریشان ہونے والی دو گھر میں بیٹھی ہیں ،تمھیں خون جلانے کی ضرورت نہیں ۔“
وہ چڑ کر بولی۔”ٹھیک ہے تو انھی کو گھنٹی کرو،میرا دماغ کیوں خراب کر رہے ہو۔“
”تفصیلات سننے کے بعد بک بک کر لینا، فی الحال یہ بتاﺅمحفوظ ٹھکانہ ملا یا نہیں ۔“
وہ جلے کٹے لہجے میں بولی۔”تمھاری لاڈلی کو بے ہوشی کا ٹیکہ ٹھوک کر ایک ہسپتال کی پارکنگ میں بیٹھی ہوں ۔ تمھیں کئی بار گھنٹی کی کوشش کی مگر نمبر بند جا رہا تھا۔اور میری سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کروں ۔ تم نے کچھ بتایا بھی تو نہیں تھا۔“
میں طعنہ زن ہوا۔”سینئر تم ہو یا میں ۔“
وہ دھمکی آمیز لہجے میں بولی۔”ریجا!افغانستان میں تمھیں جتنی گالیاں بکیں تھیں ساری یاد ہیں ۔ دہرانے پر مجبور نہ کرو۔“
میں کھل کھلا کر ہنسا۔”اچھا غصہ تھوکو اور پارکنگ سے باہر آﺅ۔میں تمھیں جگہ بتاتا ہوں ۔“اسے ہولڈ پر رکھ کر میں سجاتا کی طرف متوجہ ہوا۔”ڈاکٹر صاحب!اپنی ساتھی کو کہاں بلاﺅں ؟“
”اسے کہو ہند نگر میں پہنچے۔“
”ہند نگر پہنچو۔“
وہ بے بسی سے بولی۔”مجھے سمتوں کا ادرا ک ہورہا ہے نہ کسی کی بولی سمجھ میں آرہی ہے۔ڈرتی ہوں کسی کو انگریزی میں مخاطب کیا تو پہچانی نہ جاﺅں ۔“
میں نے پوچھا”تم ہو کہاں ؟“
اس نے ہسپتال کا نام بتایا۔”ڈی این اے ہسپتال۔“جو میں نے ڈاکٹرسجاتا کو بتا دیا۔
سجاتا نے تفصیل سے سمجھایا۔”اسے کہو ہسپتال کی شمالی جانب موجود سڑک پر چڑھے اور مغرب کو مڑ جائے۔یہ دہری سڑک آگے ویسٹرن ایکسپریس ہائی وے سے مل جائے گی۔یہ ویسٹرن ہائی وے پر جنوب کی جانب مڑ جائے ،راستے میں سائن بورڈ پڑھتی رہے تقریبا اڑھائی تین کلومیٹر آگے سڑک کے مغربی جانب ہند نگر آتا ہے۔بلکہ ’اویوفلیگ شپ‘ہوٹل کے قریب مغرب کو مڑ جائے۔آگے ہند نگر کا علاقہ ہے۔“
میرے بتانے پر لورا تسلی سے بولی۔”ٹھیک ہے۔“
”وہاں پہنچتے ہی گھنٹی کرنا۔“اسے ضروری ہدایت دے کر میں نے رابطہ منقطع کر دیا۔
سجاتا تحسین آمیز لہجے میں بولی۔”خاصے تعلیم یافتہ لگتے ہیں ۔“
میں طعنہ زن ہوا۔”انگریزی بولنا اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کی علامت ہے تو آپ بالکل ٹھیک کہہ رہی ہیں ۔“
وہ وثوق سے بولی۔”ہمارے ہاں تو تعلیم یافتہ افراد ہی انگریزی بولتے ہیں ۔اور سچ کہوں تو جس روانی سے آپ بات کر رہے تھے شاید میں بھی نہ کر پاﺅں ۔“
میں منہ بناتے ہوئے بولا۔”ہمارے ہاں جو آدمی ویزا لگوا کر کسی یورپی ملک پہنچ جائے اور وہاں بے شک بیرا،خاکروب ،باورچی یا ٹیکسی ڈرائیور وغیرہ بن کر معاش کمائے واپسی پر بہت اچھی انگریزی بولتا ہے۔“
وہ کھل کھلائی۔”تو آپ یورپ میں بیراگیری کرتے رہے ہیں ،ٹیکسی چلائی ہے یا شیف (باورچی) رہے ہیں ۔“
میں نے وضاحت کی۔”میرے کہنے کا مقصد ہے انگریزی فقط ایک زبان ہے۔اور اس کا اعلی تعلیم اور ذہانت سے کوئی تعلق نہیں ۔“
اس نے ہلکی سی خفگی ظاہر کی۔”اگر اپنے بارے کچھ نہیں بتانا چاہتے تو آپ کی مرضی۔“
اس کی کرید فوراََ میری سوچ کو ممتا دیدی کی طرف لے گئی۔وہ بھی مجھے ہمدرد بن کر ٹکرائی تھیں ،اگر ایجنسی کی کار میں سچ مچ آلہ نشاندہی لگا تھا تو ڈاکٹر سجاتا کا مجھ سے ٹکرانا اتفاق کے بجائے سوچا سمجھا منصوبہ ہوسکتا تھا۔ لیکن پھر خیال آیا کہ اس کا سامنے آنا یہ لازم تو نہیں کرتا کہ میں اپنی کار چھوڑ کر اسے روکوں گا۔اور پھر جن حالات میں میں کرن چاولہ سے جان چھڑا کر بھاگا تھا اس کے بعد ایسا سوچنا ہی حماقت تھی۔
مجھے خاموش پاکر اس نے بھی چپ سادھ لی تھی۔لگا وہ خفا ہو گئی ہے، میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔ ”ڈاکٹر صاحب !میرے بارے آپ کا میڈیا بڑی تفصیل سے سب کچھ بتا چکا ہے۔بلکہ روزانہ نئی سے نئی خبر چلا دیتا ہے۔“
وہ ترکی بہ ترکی بولی۔”تو آپ تسلیم کرتے ہیں کہ میڈیا درست کہہ رہا ہے تاکہ میں کار تھانے کی طرف موڑ سکوں ۔“
میں سرعت سے بولا۔”آپ کی مہربانی۔“وہ کھل کھلا دی تھی۔
مختلف سڑکوں سے گزرتے،موڑ کاٹتے ہم جب مطلوبہ کالونی میں پہنچے تو صبح کی اَذان ہو رہی تھی۔ ساری رات ہنگامے کی نذر ہو گئی تھی۔خوش قسمتی سے لورا ہم سے پہلے وہاں پہنچ گئی تھی۔سجاتا سے رہنمائی لے کر میں نے اسے ایک مخصوص جگہ رکنے کو کہاتھا۔قریب پہنچنے پر میں نے کار سے ہاتھ نکال کر لہرایا اور وہ ہمارے پیچھے چل پڑی۔
اس نے ایک چھوٹے مگر خوب صورت سے مکان کے سامنے کار روک دی۔ڈیش بورڈ سے چابیوں کا گچھا نکال کر اس نے دروازہ کھولااور لورا کو کار اندر لانے کا اشارہ کیا۔گیراج میں صرف ایک کار کھڑی کرنے کی جگہ تھی۔
ڈاکٹر سجاتا میرے قریب آئی ،چابیاں مجھے پکڑاتے ہوئے کہنے لگی۔”یہ تمام کمروں کی چابیاں ہیں ۔دروازہ اندر سے قفل کر دینا۔کوشش کرنا کوئی آواز وغیرہ پیدا نہ ہو۔دستک وغیرہ کے جواب میں بھی دروازہ نہ کھولنا۔ مجھے کوئی مسئلہ نہ ہو گاکیوں کہ میرے پاس چابیوں کا دوسرا سیٹ موجود ہے۔اور اپنا موبائل فون نمبربھی دے دیں تاکہ میں آتے وقت گھنٹی کردیاکروں گی۔“
”آپ واپس جا رہی ہیں ۔“مجھے اس کا لوٹنا اچھا نہیں لگا تھا۔گو اس کا رویہ دیکھ کر اعتبار نہ کرنے کی کوئی خاص وجہ نظر نہیں آرہی تھی۔پھر بھی میرا دل مطمئن نہیں ہورہا تھا۔
وہ اعتماد سے بولی۔”پانچ لاکھ اتنی بڑی رقم نہیں ہے کہ مجھے لبھا کر دھوکا دہی پرمائل سکے۔“ہمارے متعلق اطلاع دینے پر پانچ لاکھ انعام کا وعدہ کیا گیا تھا۔
میں نے بات بنائی۔”نن....نہیں ،میرا مطلب تھاہم اکیلے یہاں کیسے رہیں گے۔“
وہ صاف گوئی سے بولی۔”مجھے بھی آپ سے لالچ ہے۔اتنی ستی ساوتری نہیں ہو ں کہ ایک دہشت گرد کو نہ صرف پولیس سے بچانے کی تگ و دو کروں بلکہ اسے ٹھکانہ بھی مہیا کروں ۔“
”مجھے نہیں لگتا آپ کے کسی آسکوں گا۔“میں نے جھوٹے وعدے سے گریز کیا تھا۔
”میری کہانی سن کر انکار کریں گے تو اصرار نہیں کروں گی۔باقی کھانے پکانے کی اشیاءگھر میں موجود ہیں ،مزید کچھ ضرورت ہو تو گھنٹی کر لینا۔اب اجازت دو، سہ پہر یا رات کو ملاقات ہو گی۔“یہ کہتے ہوئے اس نے اپنا ملاقاتی (وزٹنگ)کارڈ میری جانب بڑھا دیا تھا۔
کارڈ لے کر میں نے اسے اپنا موبائل نمبر لکھوایااوردروازے کی طرف بڑھ گیا۔مزید تکرار کرنا مناسب نہیں لگا تھا۔لورا کار کے ساتھ ہی کھڑی تھی۔داخلی دروازہ بند کر کے میں اس کے قریب ہوا۔وہ بے صبری سے مستفسر ہوئی۔
”یہ کون تھی۔ اعتبار کے قابل ہے یا مزید آزمائش میں ڈالے گی۔“
میں الجھے ہوئے لہجے میں بولا”ڈاکٹر سجاتا نام ہے،اتفاق سے ٹکرائی اور خود ہی ٹھکانے کی پیش کش کر دی۔“
لورا نے پوچھا۔”تمھیں جانتی ہے،میرا مطلب اسے معلوم ہے ناتم پولیس کو مطلوب ہو۔“
”ہاں ۔“میں نے اثبات میں سرہلادیا۔
اس نے اندیشہ اگلا۔”تمھیں نہیں لگتاہم اپنی گردن پھنسا رہے ہیں ۔“
”اندر بیٹھ کر تفصیل سے بات کرتے ہیں ۔“میں نے چابیوں کا گچھا اس کی جانب بڑھایا۔”دروازہ کھولو میں پرما کو اندر لاتا ہوں ۔“
”اسے بانہوں میں بھرنے کے موقع کی تمھیں ہر وقت تلاش ہوتی ہے۔“شرارتی انداز میں کہتے ہوئے اس نے چابیاں پکڑیں اور ڈگی کی چابی میری طرف بڑھا دی۔
میں جلے بھنے انداز میں بولا۔”یہ سعادت تمھیں مبارک،میں دروازہ کھول لیتا ہوں ۔“
”یہ ہٹی کٹی بھینس مجھ سے کہاں اٹھے گی۔اور پھرتمھاری بد دعائیں سننے کابھی حوصلہ نہیں ہے نا۔“ مجھے چڑاتے ہوئے وہ اندرونی عمارت کی طرف بڑھ گئی۔
افسوس بھرے انداز میں سر ہلاتے ہوئے میں نے ڈگی کھولی،پرما کا جسم کمبل میں لپٹا تھا۔صرف چہرہ کمبل سے باہر تھا اور آنکھیں بند تھیں ۔وہ موٹی بھینس ہرگز نہیں تھی۔بلکہ اس کے مقابلے میں لورا زیادہ فربہ تھی۔ سچ کہوں تو جسمانی ساخت میں وہ میری پلوشے جیسی تھی۔لیکن اس کا موہنا چہرہ اور جسمانی کشش میرے لیے بے معنی تھی۔
الحمداللہ مجھے اپنے جذبات پر قابو حاصل تھا۔ورنہ جن حالات سے میں گزر رہا تھاکہ مختلف لڑکیوں سے اختلاط وجسمانی اتصال کے کثیر مواقع ملتے تھے۔وہاں پھسلنے کے امکانات سیکڑوں تھے۔لیکن میں نے کبھی آنکھوں یا ہاتھوں کو سستے پن کی اجازت نہیں دی تھی۔ بلاشبہ قعر مذلت میں گرنے کو کئی دلائل ،برہان اور بہانے مل جاتے ہیں ۔پرما مشرقی لڑکی سہی،لورا تو یورپین تھی۔ ان کی تہذیب و ثقافت میں گرل فرینڈ اور بوائے فرینڈ کو وہی درجہ حاصل ہے جو ہمارے ہاں میاں بیوی کا ہوتا ہے۔اورخیر سے اب تو پاکیزہ ،مقدس و عمدہ رشتا پاک و ہند میں بھی شروع ہو گیا ہے۔اونچے طبقے کے لبرل افراد کے ہاں گرل فرینڈ،بوائے فرینڈ کی اصطلاح اتنی عام بلکہ ضروری ہو چکی ہے کہ روزمرہ لگتی ہے۔ٹک ٹاک ،لائیکی جیسی حیاسوز و بے باک سائیٹوں نے بڑے پیمانے پر اس بول وبراز کو اعلیٰ و ارفع دوستی کا مقام عطا کیا ہوا ہے۔اور ایسا ہی چلتا رہا تو جلد ہی وہ وقت آنے والا ہے جب نکاح نرا بوجھ اور فالتو کی ذمہ داری لگے گی۔جب ایک اہم جسمانی ضرورت بغیر پابندیوں میں جکڑے پوری ہو رہی ہو تو کوئی بے وقوف ہے جو ہتھکڑیاں پہننے پر تیار ہو گا۔اورجب مشرق میں اس بے حیائی کے فروغ کی اتنی کوشش کی جارہی ہے تو مغرب میں کیا حال ہوگا۔جہاں غیر مرد سے جسمانی تعلقات تب تک غلط و ناجائز سمجھے جاتے ہیں جب کسی ایک فریق پر یہ فعل مسلط کیا گیا ہو۔وہاں شاد ی سے پہلے ہی لڑکی کھلے عام بلکہ ببانگ دہل زن و شو کا وظیفہ اداکر چکی ہوتی ہے۔کنواری یا غیرشادی شدہ ماں کی اصطلاح انوکھی یا قابل حیرت نہیں ہے۔ایسی تہذیب کی پروردہ لڑکی جو حسن وجمال میں بھی خاص مقام رکھتی ہو۔اس کے ساتھ تنہائی میں رہتے ہوئے اگر میں اپنے کسی فعل پر نادم یا شرمندہ نہیں تھاتو اللہ پاک کا کرم ہی تھا۔
پرما کو کمبل سمیت اٹھا کر میں نے ڈگی قفل کی اور اندر کو بڑھ گیا۔لورا ڈرائینگ روم کا قفل کھول کر اندر جاچکی تھی۔دروازے سے اندر داخل ہوتے وقت ڈرائینگ روم کی دائیں جانب باورچی خانہ پڑتاتھا۔اس کے دروازے کے ساتھ ایک گول میز اور اس کے گرد چار کرسیاں دستر خواں کی ضرورت پوری کر رہی تھیں ۔ڈرائینگ روم اور کھانے کی میز کے درمیان خوب صورت پردہ لٹکا کربٹوارا(پارٹیشن) کیا گیا تھا۔سامنے خواب گاہ تھی۔ بائیں دیوار کے ساتھ سیڑھیاں اوپر جا رہی تھیں ۔جن کے نیچے سٹور بنا ہوا تھا۔
لورا خواب گاہ میں تھی۔میں پرما کو اٹھائے اس کے پیچھے پہنچا۔مکان کی نسبت خواب گاہ کافی وسیع تھی۔عقبی دیوار کے ساتھ جہازی حجم کا ڈبل بیڈ پڑا تھا۔بیڈ شیٹ،تکیوں کے غلاف اورکمبل ہلکے بھورے رنگ کے تھے۔داہنی دیوار پر شادی شدہ جوڑے کی بڑی سی تصویر لگی تھی۔مرد کے خدوخال میں ڈاکٹر سجاتا کی شباہت جھلک رہی تھی۔لڑکی گہرے سرخ رنگ کے لہنگے میں تھی۔قیمتی زیورات سے لدی پھندی ،سر پر چھوٹا سا تاج ٹکائے وہ مشرقی دلھن کی عکاسی کر رہی تھی۔لورا تصویر کے آگے کھڑی مسلسل گھورے جا رہی تھی۔ خواب گاہ کے ایک کونے میں کمپیوٹر رکھا تھا۔اس کے ساتھ ہی دیوار پر انٹر نیٹ کا روٹر نظر آرہا تھا۔
میں نے پرما کو بیڈ پر لٹا کر کمبل صحیح طریقے سے اوڑھا دیا۔بیڈ کے داہنی جانب تین نشستی صوفہ رکھا تھا۔میں نے صوفے پر بیٹھ کر آنکھیں بند کر لیں ۔اچھی خاصی تھکن محسوس ہورہی تھی۔کل دوپہر کے بعد سے آرام نصیب نہیں ہوا تھا۔وشواس سنگھ سے ملنے جانا اور واپسی پر ہنگامے کی شروعات جو اَذان فجر کے ساتھ اختتام پذیر ہورہا تھا۔وشواس سنگھ کے ہاں کھایا پر تکلف کھانا بھی کب کا ہضم ہو چکا تھا۔سکون ملتے ہی نیند کی خواہش اور فریادِ معدہ کی شنوائی کے علاوہ کچھ نہیں سوجھ رہا تھا۔مگر اس سے پہلے اپنے محفوظ ہونے کی یقین دہانی باقی تھی۔ڈاکٹر سجاتا کا کردار عجیب اور انوکھا تھا۔کہاں تو وہ کار میرے حوالے کر کے بھاگنے کو تیار تھی اور اب اپنے گھر لے آئی تھی۔اسے ممتا دیدی کی طرح را کی ایجنٹ سمجھنا بھی کسی طرح نہیں جچ رہا تھا۔ہمارے ٹھکانے تک را کیسے پہنچی یہ سوچ علیحدہ سر درد تھی۔میرے خفیہ مددگار بہترین ساتھ دے رہے تھے۔مگر بالمشافہ ملاقات سے گریز کر رہے تھے۔ہمارے ٹھکانے تک را کا پہنچنا بھی حل طلب تھا۔آیا وشواس سنگھ کی اب تک نگرانی ہورہی تھی اور اس کی وجہ سے میں نظروں میں آگیا تھا،لورا سے کوئی غلطی ہوئی تھی،ہمارے پڑوسی وغیرہ میں کسی کو شک ہوا اور اس نے مخبری کی یا اس کے علاوہ کوئی وجہ تھی۔اس بارے میرے خفیہ مددگار ہی وضاحت کر سکتے تھے۔
لورا میری سوچوں میں مخل ہوئی۔”ریجا،تمھاری کھان بیوی اس سے بھی خوب صورت ہے۔“ میرے متوجہ ہونے پر اس نے ڈاکٹر سجاتا کی بھابی کی تصویر کی طرف اشارہ کیا۔
میں ہنسا۔”اس کی طرح سج سنور کر تم بھی اس سے خوب صورت لگو گی۔“
اس نے نتیجہ گھڑا۔”تمھارے کہنے کا مطلب ہے تمھاری بیوی مجھ سے بھی خوب صورت ہے۔“
”بات خوب صورت ہونے کی نہیں ،خوب صورت لگنے کی ہوتی ہے۔پیارو محبت کی بنیادخوب صورتی پر نہیں پسندیدگی پر قائم ہے۔اگر خوب صورتی کومعیار مقرر کر دیا جائے توساری دنیا کا ایک ہی محبوب بن جائے گا۔جو سب سے خوب صورت ہوگا۔“
میرے قریب نشست سنبھالتے ہوئے وہ کام کی بات پر آئی۔۔”کہیں ڈاکٹر سجاتا کا تعلق تمھارے خفیہ مددگاروں سے تو نہیں ہے۔“
میرے دماغ میں جھماکا ہوا،لگالورا کا اندازہ درست ہے۔مگر پھر خیال آیا کہ میرے مددگارکسی صوررت میرے سامنے آنے کا خطرہ مول نہیں لیں گے۔ان کی بہتری مجھ سے دور رہنے میں تھی۔میری انڈیاآمد مختصر وقت کے لیے تھی۔انھوں نے مستقل وہیں رہنا تھا۔یہ بھی ممکن تھا میرے خفیہ دوست میرے کسی ہمدرد یا خیرخواہ کی منشا کے تابع ہوتے۔وہ دھرموداداکے کارندے یا انصاری صاحب کے چاہنے والے بھی ہو سکتے تھے،جن کا مطمح نظر بس مجھ پر نظر رکھنا ہوتا کہ ضرورت پڑنے پر مدد کرسکیں ۔اور یہ مدد بھی مطلع کرنے اور خبر دینے تک محدود تھی ورنہ کرن چاولہ کے ساتھ جو سخت لڑائی ہوئی تھی اس میں کسی نہ کسی مددگار کو سامنے آنا چاہیے تھا۔
لمحے بھر کے توقف کے بعد میں نے نفی میں سرہلادیا۔”وہ مجھ سے کوئی کام لینا چاہتی ہے۔جیسے سورج سنگھ رقم کی خاطر ہماری مدد پرآمادہ ہوا تھا،یونھی ڈاکٹرسجاتا کو بھی کوئی غرض ہے۔“
وہ استہزائیہ انداز میں بولی۔”یہ غرض، وہ رقم نہ ہو جو ہمیں پکڑوانے پر سرکار کی طرف سے انعام دینے کا اعلان کیاجا رہا ہے۔“
”راستے میں اس کی وجہ سے میں پولیس سے بچنے میں کامیاب ہو ا ہوں ۔“
اس نے اندیشہ اگلا۔”شاید ہم دونوں کی گرفتاری اس کا مطمح نظر ہو۔“
میں نے نفی میں سرہلایا۔”ایسا ہوتا تو اب تک بھائی لوگ پہنچ چکے ہوتے۔“
وہ الجھن امیز لہجے میں بولی۔”کیا کرنا چاہیے؟“
میں نے کہا۔”کچھ سجھائی نہ دے تو انتظار کرنا زیادہ بہتر رہتا ہے۔“
وہ پرما کو گھورتے ہوئے تلخی سے بولی۔”یہ مصیبت ساتھ نہ ہوتی تو خطرہ مول لینے کی ضرورت ہی نہ پڑتی۔ہم آسانی سے شکلا کے خلاف میدان میں اتر سکتے تھے۔“
میں نے برہمی ظاہر کی۔”اس مصیبت کو میرے پاس چھوڑ کرتم جہاں چاہے دفع ہو سکتی ہو۔“
اس نے ناک بھوں چڑھائی۔”یہ تمھیں اتنی عزیز ہے کہ اس کی خاطر مجھ سے جھگڑ پڑتے ہوئے۔“
”شک ہی کیا ہے۔“میں نے اسے جھٹلانے کی کوشش نہیں کی تھی۔
”اس میں کون سے سرخاب کے پر لگے ہیں کہ تم ہوش و خرد سے بیگانہ ہو چکے ہو۔ “وہ سچ مچ تپ گئی تھی۔
میں درشتی سے بولا۔”اس کی خاطر میں گھر باراوروطن چھوڑ کر پچھلے چند ماہ سے پردیس میں دربدر ہو رہا ہوں ، میرا ساتھی شہید ہو چکا ہے۔را کے عقوبت خانے میں طرح طرح کے عذاب جھیل چکا ہوں ۔جبکہ اس کا حصول میرا مشن ہے۔ اس کی حفاظت میری ذمہ داری ہے۔اسے پاکستان لے جانامیرا فخر ہے۔ البتہ اپنے بارے کہہ سکتی ہو کہ تم میں کون سے سرخاب کے پر لگے ہیں جو اصل مشن کوپس پشت ڈال کر تمھارے اشاروں پر ناچتا رہوں ۔“
وہ بپھرتے ہوئے بولی۔”تم جیسا گھٹیا شاید ہی نظر سے گزرا ہوگا جو ہر تکرار میں احسان جتلانے لگتا ہے۔تم پر تھوکنا بھی گوارا نہ کرتی مگر افسوس مقامی بولی سے ناواقف ہوں ۔“
”احسان نہیں جتاتا،تمھاری حیثیت یاد دلاتا ہوں ۔خود غرض و مطلب پرست تم ہو میں نہیں ۔ایک ٹیم ہونے کے ناطے ہمارے پیش نظر تین مقاصد تھے۔تمھارے لیے رقم حاصل کرنا، میرے لیے پرما کواغواءکرنااور ہم دونوں کے لیے شکلا کا قتل۔اب اس معاہدے سے انحراف کون کر رہا ہے۔کسے پرما کا وجود گراں گزر رہا ہے؟“
”اس کا حصول فقط شکلا پر دھونس جمانے کو کیا تھا۔لیکن تم اس کے حسن پر مرمٹے اور جھوٹی کہانی گھڑ کر اسے ساتھ رکھنے پر بہ ضد ہو،کیوں کہ دو بیویوں پر بھی قناعت نہیں کر سکتے۔“
میں نے دانت پیسے۔”کیا زبردستی کسی لڑکی کو اپنایا جا سکتا ہے یا اس کی محبت حاصل کی جاسکتی ہے۔“
”تم جیسوں کی غرض محبت نہیں ہوس ہوتی ہے۔اور اس کے لیے لڑکی کی رضامندی نہیں بے بسی درکار ہوتی ہے۔اور یہی وجہ ہے جب ہم نے اسے اغواءکر لیا تھا تب تمھیں اپنا مشن یاد آیا۔کیوں کہ اسے دیکھتے ہی تمھیں سب کچھ بھول گیا تھا۔اگر اسے اغواءکرنا تمھارا مشن ہوتا تویہ مشورہ مجھے دینے کی ضرورت نہ پڑتی۔“
اسے صفائیاں دینا وقت کا ضیاع تھا۔میں کوفت بھرے لہجے میں بولا۔”ٹھیک کہا،لیکن حیرانی اس پر ہے کہ مجھ جیسے کے ساتھ رہنے کی تمھیں کیوں ضرورت پیش آئی۔تمھارا مشن پورا ہو چکا ہے اپنا رستہ ناپو۔“
”میرا مشن شکلا کو برباد کرنا ہے۔اس نے مجھے جس عذاب میں مبتلا کیا اس کا نتیجہ اس کی نواسی کو بھگتنا پڑے گا۔میں پرما سے اس کافخر و غرور ایسے چھینوں گی جیسے اس کے نانا نے میری عصمت چھینی۔اور پھر اس کی تشہیر کر کے شکلا کو اس کی اوقات یاد دلاﺅں گی۔“
میں ٹھنڈے دماغ سے بولا۔”اور پھر کیا ہوگا؟“
اس نے بے نیازی سے کندھے اچکائے۔”واپس لوٹ جاﺅ ں گی۔“
”ایک لڑکی ،یقینا دوسری لڑکی کی عصت دری نہیں کر سکتی۔اور میں ٹھہرا پرما کا عاشق تو اپنے منصوبے پر کیسے عمل کرو گی۔“
”انڈیا میں مردوں کی کمی نہیں ہے۔“
”پرما کے نانا نے تمھیں قتل تو نہیں کیا تھا ناں ۔“
”میں بھی اسے زندہ چھوڑ دوں گی۔“
”ٹھیک ہے جو کرنا ہے کر لو۔مگر مجھے یہ زندہ چاہیے۔جب تمھارا بدلہ پورا ہو جائے تو اسے میرے لیے چھوڑ دینا۔تمھارے پاس آج کا دن اور آنے والی رات ہے۔اس کے بعد میں اسے یہاں سے لے جاﺅں گا۔ اور براہ مہربانی آج کے بعد مجھے مخاطب کرنے کی ضرورت نہیں ۔“بے نیازی سے کہتے ہوئے میں نے نشست چھوڑی اور باہر نکل آیا۔
جاری ہے
قسط نمبر 48
ریاض عاقب کوہلر
”ٹھیک ہے جو کرنا ہے کر لو۔مگر مجھے یہ زندہ چاہیے۔جب تمھارا بدلہ پورا ہو جائے تو اسے میرے لیے چھوڑ دینا۔تمھارے پاس آج کا دن اور آنے والی رات ہے۔اس کے بعد میں اسے یہاں سے لے جاﺅں گا۔ اور براہ مہربانی آج کے بعد مجھے مخاطب کرنے کی ضرورت نہیں ۔“بے نیازی سے کہتے ہوئے میں نے نشست چھوڑی اور باہر نکل آیا۔
سخت بھوک محسوس ہو رہی تھی اور لورا سے فضول بحث کے بعد سر بھی درد کرنے لگا تھا۔ باورچی خانے میں گھس کر میں الماریاں کھنگالنے لگا۔ضرورت کی قریباََ تمام اشیاءپڑی تھیں ۔ڈیپ فریزر بھی مختلف اقسام کے جوسوں ، بوتلوں اور ملک پیک کے ڈبوں سے بھرا تھا۔چولھا جلا کر میں نے کیتلی میں چائے کا پانی رکھااور پرات میں آٹا گوندنے لگا۔
آٹا گوندنے تک چائے تیار ہو چکی تھی۔
”جلدی کرو سخت بھوک لگی ہے۔“لورا اندر آئی۔
میں خاموشی سے کام میں لگا رہا۔کیتلی اتار کرچولھے پر توا رکھا اور پیڑا بنانے لگا۔فوج کی نوکری نے ہر فن مولا کر دیا تھا۔
لورا نے چائے کی پیالی بھری اور وہیں ٹیک لگا کر کھڑی ہو گئی۔
”خفا ہو۔“ہلکی سی چسکی لیتے ہوئے وہ متبسم ہوئی۔
میں چپ رہا۔
وہ شرارتی انداز میں بولی۔”مجھے غصہ آگیا تھا،کیوں تم اسے مجھ سے زیادہ توجہ دینے لگے ہو اور یہ میں برداشت نہیں کر سکتی، آخر تمھاری بیویوں کے بعد میں ہی سب سے زیادہ تمھارے قریب ہوں ۔“
میں پیڑا بیلنے لگا۔
”اچھا سوری ناں ،بس تمھیں تنگ کر رہی تھی۔“پیالی رکھ کر اس نے میرے ہاتھ تھام لیے۔
ایک جھٹکے سے ہاتھ چھڑاتے ہوئے میں نے اسے پیچھے دھکا دیااور روٹی اٹھا کر توے پر ڈال دی۔
مجھے لمحہ بھر گھور کر وہ پیچھے مڑی اور باہر نکل گئی۔
پانچ چھے پراٹھے بنا کر میں نے چائے گرم کی اور تھرماس میں ڈال کر باہر نکل آیا۔لورا ڈرائینگ روم میں بیٹھی تھی۔اسے نظر انداز کرتا ہوامیں خواب گاہ میں گھس گیا۔پرما کی آنکھیں بند تھیں ۔پانی کے چھینٹے مار کر اسے ہوش میں لایا۔ہتھکڑی میں بندھے ہاتھ اٹھا کر اس نے توبہ شکن انگڑائی لی،میں نے فوراََنظریں جھکا لی تھیں ۔
”ہماری گردن کیوں دبائی تھی۔“اسے بے ہوش ہونا یاد تھا۔اور حواسوں میں آتے ہی اس نے پہلا سوال یہی کیا تھا۔
”وہاں چھاپہ پڑا تھا۔جلدی میں بھاگنا پڑا۔ گردن نہ دباتاتو سر میں کچھ مار کر بے ہوش کرنا پڑتااور مجھے پہلا طریقہ زیادہ موزوں لگا۔“
اس نے منہ بنایا۔”ہمیں وہیں چھوڑ دیتے۔کیا ساتھ لانا ضروری تھا۔“
اس کی ہتھکڑی کھولتے ہوئے میں اطمینا ن سے بولا۔۔”ضروری نہ ہوتا تو یقینا فالتو بوجھ ساتھ پھرانے کا ہمیں قطعاََ شوق نہیں ہے۔“
وہ مجھے تیکھی نظروں سے گھورتے ہوئے بولی۔”اورہماری سزا کب پوری ہو رہی۔“
سوال کا جواب میرے پاس نہیں تھا اس لیے گول کر گیا۔”غسل خانہ سامنے ہے تازہ دم ہو جاﺅ کہ ناشتا ٹھنڈا ہورہا ہے۔“
گہرا سانس لیتے ہوئے اس نے خواب گاہ میں نظر دوڑائی۔” نئی جگہ نظر آرہی ہے۔“اس نے پر تعیش خواب گاہ کو پسندیدگی سے دیکھا۔
میں نے کہا۔”سوچا قیدی کے شایانِ شان جگہ ڈھونڈنا چاہیے۔“
وہ استہزائی انداز میں ہنسی۔”ہماری خواب گاہ دیکھ لیتے تو ایسا کہنے کا حوصلہ نہ کر پاتے۔“
میں نے ڈانٹا”آپ کو دلھن یا مہمان بنا کر نہیں قیدی بنا کر لائے ہیں ۔“
وہ بد تمیزی سے بولی۔”تم جیسے ،ہمیں دلھن بنانے کا خواب بھی نہیں دیکھ سکتے ،کجا جاگتے میں ایسا سوچ سکیں ۔“
پہلی بار اس نے یوں بد تمیزی سے بات کی تھی۔مجھے برا تو لگا مگر برداشت کرنا پڑنا۔پہلے بھی وہ بہ ظاہر مہذبانہ انداز میں گفتگو کرتی تھی ورنہ اپنے اغواءکرنے والے شخص کو عزت دینا کسی طرح نہیں جچتا۔ میرے لیے بھی اس کی اہمیت انصاری صاحب کی لاڈلی ہونے کی وجہ سے تھی۔ورنہ اس کا حسن و امارت مجھے متاثر کرسکتے تھے نہ شکلا کی طاقت و اختیار ڈرا سکتے تھے۔
میرے جواب کا انتظار کیے بغیر وہ غسل خانے کی طرف بڑھ گئی تھی۔میں نے شیشے کی خوب صورت میز بیڈ کے قریب رکھی اور اس پر ناشتا چن دیا۔
وہ تھوڑی دیر بعد برآمد ہوئی چہرہ دھوکر وہ تولیہ استعمال نہیں کرتی تھی۔یقینا چند دنوں کی قیدسے اس کی نوابانہ عادات نہیں چھوٹ سکتی تھیں ۔آرمی آفیسر کی بیٹی ہونے کے ناتے شروع دن سے اسے کسی چیز کی کمی نہیں آئی تھی۔اور اب تو اس کے سر پر شکلا کا سایہ تھا۔حرام کی دولت سے اس نے اتنی آسائشیں اور سامانِ عیاشی اکٹھا کر رکھا تھاکہ اپنی دنیا ہی کو جنت بنا ڈالا تھا۔
پراٹھوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اس نے چائے کی پیالی اٹھائی اور بیڈ ریسٹ سے ٹیک لگا کر ہلکی ہلکی چسکیاں لینے لگی۔
میں نرمی سے بولا۔”پراٹھا کھالو۔“
”تم نہیں جانتے ناشتے میں کیا لیتے ہیں ۔“اس کا لہجہ پہلے کی طرح بد تمیزی بھرا تھا۔
دل چاہا لورا کو بلا کر اس کی طبیعت صاف کرالوں ،مگر پھر انصاری صاحب کا مشفق چہرہ میری نظروں کے سامنے نمودار ہوا۔ان کی حسرت بھری آوازمیری سماعتوں میں نوحہ بن کر گونجی۔”پرما ملہوترا میری بیٹی ہے، میری ننھی شہزادی ،جان سے پیاری پری ہے۔“
میں طنزیہ لہجے میں بولا۔”جب تک انڈے ،مکھن، پنیر ،شہد اور ڈبل روٹی وغیرہ نہیں آجاتی بھوکی رہو گی یا خیالی پلاﺅ بنانے کی ترکیب سیکھ لی ہے۔“
اس نے میرے سر پر بم پھوڑا۔”امید ہے جلد ہی گرینڈ پا ہمیں ڈھونڈ لیں گے تب ایک پاکی گھس بیٹھے کی کیا درگت بنتی ہے یہ اپنی آنکھوں سے ضرور دیکھیں گے۔“شاید اسے لورا نے بتایا تھا کہ میں پاکستانی جاسوس ہوں ۔مگر پھر خیال آیا اس نے ٹی وی پر سنا ہو گا۔گزشتہ کل میں وشواس سنگھ کو ملنے گیا تھا تب شاید لورا کے چینل وغیرہ تبدیل کرتے وقت اس کی نظر پڑی تھی۔بے چاری کے پلے اردو یا ہندی نہیں پڑتی تھی تو انڈین خبریں کیسے سنتی۔
”شاید انگریزی چینل لگایا ہو۔“ایک اور خیال میرے دماغ میں پیدا ہوا۔پاکستان اور انڈیا میں انگریزی میں بھی خبریں پیش کرنے کا رواج ہے۔غلامی سے آزاد ہوئے پون صدی ہونے کو ہے لیکن انگریزی زبان کی غلامی سے ہم جان نہیں چھڑا سکے۔بلکہ اب توانگریزی اردو،ہندی اور دوسری مقامی زبانوں کو یوں نگلتی جا رہی ہے جیسے اژدھا اپنے شکار کو زندہ نگلتا ہے۔اردو کی ترویج و ترقی کی خاطر اٹھنے والی آواز نقار خانے میں طوطی کی آواز محسوس ہوتی ہے۔صاحبانِ اقتدار،میڈیا،عدالتیں ،سرکاری دفاترالغرض تشہیر و ترقی کا ہر زینہ انگریزی کے قبضے میں ہے۔جب اردو کو قومی و دفتری زبان قرار دینے کا فیصلہ ہی انگریزی میں لکھا گیا ہے تو اس سے بڑھ کر اردو کی خدمت سے کیاکھلواڑ ہو گا۔اوراس لحاظ سے ہندوستانی ہم سے بھی کئی قدم آگے ہیں ۔
مجھے سوچتا دیکھ کر وہ طنزیہ لہجے میں بولی۔”تمھیں کیالگا ہم ایک مسلے کو نہیں پہچان پائیں گے۔“
میں اچنبھے سے بولا۔”میرے پاکستانی یا انڈین ہونے سے تمھیں کیا فرق پڑتا ہے۔“
وہ زہر خند ہوئی۔”بھارت ماتا کا سپوت اتنا گھٹیا ،بزدل و بے غیرت نہیں ہو سکتا کہ مظلوم لڑکی کو حبس بے جا میں رکھ کر ظلم ڈھا ئے۔“آگے جھک کر اس نے خالی پیالی میز پر رکھ دی تھی۔
میں ترکی بہ ترکی بولا۔”بھارت ماتا کے سپوت کیا کچھ کر سکتے ہیں اس کے لیے کبھی کشمیر جا کر وہاں کی عورتوں کے دکھڑے سن لو،امید ہے افاقہ ہوگا۔“
”ہونہہ!“اس نے طنزیہ ہنکارا بھرا۔”تم کہو گے اورہم مان لیں گے۔“
شاید میرا دن ہی برا تھا کہ لورا کے بعد پرما کی بھی ہرزہ سرائی سننا پڑ رہی تھی۔گو لورا کی بکواس میرے نزدیک کسی اہمیت کی حامل نہیں تھی لیکن پرما کی بدگمانی اور نفرت خاصی دشواری لانے والی تھی۔میں نے اس کا دل انصاری صاحب کی طرف سے صاف کرنا تھایہاں میں ہی بے اعتبارو قابل نفرت ہو گیا تھا۔
”اور چائے ڈالوں ؟“مجھے اس کے علاوہ کچھ نہ سوجھا تھا۔
میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے وہ دلیری سے بولی۔”اور اب تم سے ڈر نہیں لگتا،جو کر سکتے ہو کر لو۔“
”شاید سمجھتی ہو کہ پاکستانی فوجی کسی لڑکی کی عزت پر ہاتھ نہیں ڈال سکتا۔“
وہ نفرت سے بولی۔”نہیں بلکہ گھٹیا دشمن سے رحم کی بھیک مانگناہمیں نہیں سکھایا گیا۔“بلاشبہ شکلا کے زیر سایہ پرورش پانے والی کے دل میں پاک فوج کے بارے ایسی نفرت کا ہوناحیران کن نہیں تھا۔
اس دوران میں تین پراٹھے ہڑپ گیا تھا۔بقیہ پراٹھے اور چائے کا تھرماس اٹھا کر میں باہر نکلا،لورا ڈرائینگ روم کے صوفے پر لیٹی تھی۔ناشتے کے برتن میز پر رکھ کر میں خاموشی سے مڑ گیا۔خواب گاہ کی عقبی کھڑکی جدید طرز کی بنی تھی۔جس میں مکمل شیشے کا استعمال ہوا تھا۔اور وہاں سے بھاگنا آسان تھا۔اس لیے پرما کو کھلا چھوڑنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتا تھا۔
میں نے ہتھکڑی اٹھا کر اس کے ہاتھ پشت کی طرف جکڑے،کیوں کہ سامنے سے ہتھکڑی لگاتا تو وہ پھر بھی شیشہ کھول لیتی۔
وہ نفرت سے بولی۔”تم جیسے ڈرپوک ،فقط کمزور لڑکی ہی کو دلیری دکھا سکتے ہیں ۔“
گو میری بہادری و دلیری وہ اس وقت دیکھ چکی تھی جب میں نے اس کی عزت بچائی تھی۔لیکن اسے یہ باور کرا کے مجھے کیا ملتا۔کسی کی نفرت کو بحث و تکرار سے کم نہیں کیا جا سکتاتھا۔
میں قدرے برہمی سے بولا۔”میری دلیری و بہادری کو چھوڑو،البتہ اپنی زبان کوقابو میں رکھو۔تاکہ کسی بری صورت حال کا سامنا نہ کرنا پڑ جائے۔“
وہ حقارت سے بولی۔”ہمیں تم سے نفرت ہے،کیوں کہ تم ہو ہی اس قابل؛احمق، بے ہودہ، واہیات، گھٹیا،ذلیل اور سخت قسم کے برے شخص ہو۔“
میں بے پروائی سے بولا۔”سوچاتھا کچھ نیا بتاﺅ گی۔“
”نیا یہ ہے کہ جونھی گرینڈ پا ہمیں ڈھونڈلیں گے،تمھارے سر میں گولی ہم ہی اتاریں گے۔“
میں نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا۔”سوچ لو ابھی میرے قبضے میں ہو۔“
وہ بپھر گئی۔”تم ہمارا کیا بگاڑ لو گے۔“
یقینا میں اس کے دل میں اپنی عزت پیدا نہیں کر سکتا تھا،لیکن اس کی زبا ن کو تمیز سے گفتگو کرنا ضرور سکھا سکتا تھا۔
میں نے استہزائی لہجے میں پوچھا۔”کیاواقعی ایسا ہی ہے جیسا آپ کہہ رہی ہیں ؟“اس کی بدتمیزی کے باوجود میں احترام ہی سے مخاطب کر رہا تھا۔
”شک ہے کیا۔“اس نے بہ ظاہر اعتماد سے کہا مگر لہجے کا کھوکھلا پن واضح تھا۔
”ٹھیک ہے،اگر آپ کی نظر میں اتنا گندا،گھٹیا اور اوباش ہوں تو اچھا بننے کی اداکاری کی کیا ضرورت ہے۔“میں نے آگے بڑھ کر دروازہ قفل کیا،اپنا کوٹ اتار کر صوفے پر پھینکا اور قمیص کے بٹن کھولنے لگا۔
وہ گڑبڑاتے ہوئے ہکلائی۔”دد....دروازہ کیوں قفل کیا....کک....کیاکرنا چاہتے ہیں آپ؟؟؟“ تم، تمھارا کہنا اسے فوراََبھول گیا تھا۔
”بچی نہیں ہو،آپ کو اندازہ ہونا چاہیے میں کیا کرنے والا ہوں ۔“اطمینان بھرے انداز میں کہتے ہوئے میں نے قمیص بھی اتار دی تھی۔اب بالائی بدن پر صرف بنیان رہ گئی تھی۔
”آ....آپ ....ایسا نہیں کرسکتے۔آپ نے وعدہ کیا تھا ہماری عزت و جان محفوظ رہے گی۔آپ تو مسلمان ہیں ناں اور مسلمان وعدہ خلافی تو نہیں کرتے۔“مجھے جارحانہ موڈ میں دیکھتے ہی اس کی تیزی طراری ہوا ہو گئی تھی۔چند منٹ پہلے اکڑ خانی دکھانے والی منتوں ، ترلوں پر آگئی تھی۔اب ایک دم مسلمان کی وعدہ ایفائی بھی اسے یاد آگئی تھی۔بلاشبہ کسی بھی شریف لڑکی کے لیے سب سے بڑی دھمکی یہی ہو سکتی تھی۔شاید مار پیٹ اور تشدد وہ برداشت کر لیتی،مگر عزت گنوانا اتنا آسان نہیں ہے۔
”میرے وعدے کی اہمیت تب ہوتی جب آپ کے نزدیک میری کوئی اہمیت ہوتی۔“سکون سے کہتے ہوئے میں بیڈ کی طرف بڑھا۔
وہ جلدی سے دوسری جانب اتر کر گلوگیر ہوئی۔”پلیز معاف کر دیں ۔ہم تو بس اپنی حد جانچ رہے تھے، کہ آپ کہاں تک ہماری باتوں کو برداشت کر سکتے ہیں ۔شما چاہتے ہیں ،غلطی ہو گئی۔آئندہ آپ کو موقع نہیں دیں گے۔“شوخ آنکھوں میں نمی بھر گئی تھی۔اگرہاتھ پشت پر نہ بندھے ہوتے تو اس نے جوڑ لینے تھے۔
انصاری صاحب کے ناتے بلاشبہ وہ میرے لیے بہت اہم تھی۔ویسے بھی دیکھا جائے تو وہ مظلوم اور میں ظالم کے روپ میں تھا۔ایک معصوم اور بے بس حوا زادی کو دھمکانے اور رعب میں رکھنے کا میں کبھی قائل نہیں رہا۔ مگر اس کی زبان کی گرہ کچھ زیادہ ہی ڈھیلی پڑ گئی تھی اس وجہ سے چھوٹا سا ناٹک کرنا پڑ گیا تھا۔ورنہ حقیقت تو یہی تھی کہ میں اسے خراش لگنے بھی نہیں دے سکتا تھا۔اور بہ ظاہر میں ظالم سہی مگر اصل میں اس کا سچا خیرخواہ تھا۔ اسے معلوم ہی نہ تھا کتنی بڑی غلط فہمی میں مبتلا تھی۔
گہرا سانس لے کر میں نے مصنوعی برہمی پر قابو پانے کا عندیہ دیا۔اس کی نم آنکھوں اور لرزتے ہونٹوں کو دیکھتے ہوئے میرا دل ہمدردی سے بھر گیا تھا۔لہجے میں نرمی پیدا کرتے ہوئے میں بولا۔
”بے شک عزت دل میں ہوتی ہے۔اور میں چاہتا بھی نہیں ہوں آپ کے نزدیک معزز ومکرم ٹھہروں ۔لیکن ظاہری گفتگو میں سنبھل کر بولنا مفید رہتا ہے۔ اچھی طرح جانتی ہواس قید میں آپ کاتھوڑا بہت خیر خواہ صرف میں ہوں ۔کیپٹن لورا براﺅن میری بہترین دوست ہے مگر آپ کی وجہ سے خفا ہے۔وہ اپنی توہین کا بدلہ ویسے ہی لینا چاہتی ہے جیسے اس پر بیتی، ہدف آپ ہیں ۔ اوراس کے راستے کی دیوارفقط میں ہوں ۔“
وہ ہکلائی۔”آ....آپ بہت اچھے ہیں ۔“
میں صاف گوئی سے بولا۔”آپ کی اس بات میں اتنی ہی سچائی ہے جتنی نہیں بھاگوں گی کے وعدے میں تھی۔“
وہ سرجھکاتے ہوئے منمنائی۔”آپ کو دوبارہ موقع نہیں دیں گے۔“
”یہی مناسب ہو گا۔“میں نے قمیص اور کوٹ پہن لیا تھا۔اس کے چہرے پر اطمینان نمودار ہوا اور وہ دوبارہ بیٹھ گئی۔
وہ کمرہ اس کے لیے مناسب نہیں تھا۔میں کسی ایسے کمرے کی تلاش میں باہر نکلا جس میں کھڑکی موجود نہ ہوتی۔یوں اسے ہتھکڑی لگانے کی ضرورت نہ پڑتی۔کیوں کہ میں نے محسوس کیا تھا اسے ہتھکڑی میں سخت الجھن ہوتی تھی۔بلکہ ہتھکڑی تو ایسی آفت کا نام ہے کہ عادی مجرم بھی اس سے تنگ پڑ جاتے ہیں وہ بے چاری تو نرم نازک لڑکی تھی۔ایسی کلائیاں گجروں کے لیے بنی ہوتی ہیں نہ کہ ہتھکڑی کے لیے۔
میں دروازہ کھول کر باہر نکلا،لورا براﺅن ناشتے کو جڑی تھی۔مجھ پر سرسری نظر ڈال کر وہ بے نیازی سے چائے کی پیالی کی طرف متوجہ ہوگئی۔میں بھی اسے نظر انداز کر کے سیڑھیاں چڑھنے لگا۔
دوسری منزل پرآمنے سامنے دو خواب گاہیں بنی تھیں ۔ان کے درمیان ہال نما جگہ بن رہی تھی جسے ڈرائینگ روم کی شکل دی گئی تھی۔انگریزی حرف یو کی شکل میں تین صوفہ سیٹ پڑے تھے، ان کے سامنے شیشے کی خوب صورت میزیں سجی تھیں ۔صوفوں کے پہلوﺅں میں نازک تپائیاں رکھی گئی تھیں ،سامنے کی دیوار پر بڑی اسکرین کی ایل ای ڈی لگی تھی۔فرش پر سلیٹی رنگ کا عمدہ قالین بچھا تھا۔عقبی دیوار میں شیشے کی بڑی کھڑکی تھی۔ کھڑکی پر دبیز پردے لٹکے تھے اور دائیں بائیں گملا سٹینڈ رکھے ہوئے تھے۔گملوں میں گہرے سبز رنگ کے ہاتھ بھر اونچے پودے لگے تھے۔جن کا نام بہ ہرحال میں بالکل نہیں جانتا۔
وہاں چھت پر جانے کو سیڑھیاں موجود تھیں ۔سیڑھیوں پر رہتے ہوئے میں نے چھت کا جائزہ لیا۔ اور واپس دوسری منزل پر آگیا۔
خواب گاہوں میں کوئی کھڑکی موجود نہ تھی۔دونوں میں ایک سنگل بیڈ،دو فوم والی کرسیاں رکھی تھیں ۔ کمرے کے فرش پر قالین بھی بچھے تھے۔ غسل خانہ بھی منسلک تھا۔بلاشبہ پرما کو قید رکھنے کودونوں کمرے بہترین تھے۔
میں نیچے پہنچا،لورا نے بیڈ سنبھال لیا تھا۔پرما خفیف سی صوفے پر بیٹھی تھی۔یقینا لورا نے اسے ڈانٹ پلائی تھی۔
میں نے پرما کو اٹھنے کا اشارہ کیا۔”چلو میرے ساتھ۔“
”کک....کہاں ؟“نظریں چراتے ہوئے وہ ہکلائی۔
میں نرمی سے بولا۔”اپنی خواب گاہ میں ۔“
وہ سرجھکائے میرے ساتھ چل پڑی۔ خواب گاہ میں لے جا کر اس کی ہتھکڑی کھولی۔”یہاں آرام کرو۔میں باہر لیٹاہوں ،کچھ ضرورت پڑے تو دروازہ کھٹکھٹا دینا۔“
وہ دھیرے سے بولی۔”نئے کپڑے اور گرم پانی چاہیے ہوگا۔نجانے کتنے دن ہو گئے ہمیں نہائے ہوئے ، اب تو بدن سے بو آنے لگی ہے۔“
” غسل خانے میں گیزرلگا ہے آن کرو لو،تھوڑی دیر میں پانی گرم ہو جائے گا۔میں کپڑے لاتا ہوں ۔“دروازہ باہر سے بند کر کے میں نیچے آگیا۔
لورا اطمینان سے سو گئی تھی۔غسل خانے کے سامنے ڈریسنگ روم بنا تھا۔جس کی مکمل دیوار تین الماریوں پر مشتمل تھی۔الماریوں کے نیچے جوتو ں کے ریک تھے۔دو الماریاں زنانہ لباس اور ایک مردانہ کپڑوں سے بھری ہوئی تھی۔زنانہ لباسوں میں ساڑھیاں ،تھری پیس سوٹ،زنانہ جینز،پاجامے،شلوار سوٹ۔اور نجانے کیا کیا اقسام موجود تھیں ۔
پرما پہلی مرتبہ اسکرٹ میں نظر آئی تھی۔اور دوسری مرتبہ اسے اغواءکرتے دیکھ پایا جب وہ جینز میں تھی۔اندازہ یہی تھا کہ اسے مغربی لباس پسند تھا۔مگر میں نے اس کے لیے شلوار قمیص پسند کی تھی کیوں کہ یہ ایسا لباس ہے جس میں ناپ کی کافی گنجائش نکل آتی ہے۔جبکہ مغربی لباس میں ایسی گنجائش نہیں ملتی۔ اس میں درست پیمائش زیادہ ضروری خیال کی جاتی ہے۔
”اتنا بے ہودہ رنگ ہم نے کبھی نہیں پہنا۔“بینگنی رنگ کے کپڑے دیکھتے ہی اس نے ناک بھوں چڑھائی تھی۔
”تحفہ نہیں دے رہا ضرورت پوری کر رہا ہوں ۔اور آپ بھی قیدی ہیں دعوت میں نہیں جا رہیں ۔“ لباس بیڈ پر پھینک کر میں باہر نکلنے کو مڑا۔
وہ سرعت سے بولی۔”دو تین جوڑے کپڑے لے دینے سے آپ غریب نہیں ہوں جائیں گے۔اور فکر نہ کریں ،جتنا ہم پر خرچ کرو گے ،گرینڈ پا سے ملتے ہی ساراسود سمیٹ لوٹا دیں گے۔باقی یہ کپڑے کسی کے استعمال شدہ لگتے ہیں ۔ہم کسی اور کے کپڑے نہیں پہن سکتے۔“اس نے کپڑے کرسی پر پھینک دیے تھے۔
میں نرمی سے بولا۔”پھر انتظار کرو۔“
”تولیہ بھی منگوا لینا۔اور کچھ کھانے لائق بھی۔“اس نے بے تکلفی سے فرمائش کی۔میں جواب دیے بغیر باہر نکل آیا۔
دروازہ باہر سے بند کر کے میں کھڑکی کے پاس کھڑا ہو کر باہر کا جائزہ لینے لگا۔وہاں سے داخلی دروازے اور سامنے کی گلی پر نظر رکھی جا سکتی تھی۔جب تک ڈاکٹرسجاتا کی طرف سے اطمینان حاصل نہ ہو جاتامجھے چین نہیں آسکتا تھا۔تھکن کے باوجود میں لورا کے اٹھنے سے پہلے سو نہیں سکتا تھا۔
تھوڑی دیر کھڑکی کے سامنے گزار کر میں چھت پر چڑھ گیا۔مگر کھلے عام پھرنا مناسب نہیں تھا اس لیے سڑھیوں کے ساتھ پانی کی ٹینکی کی آڑ لے کر دائیں بائیں کا جائزہ لیا۔فرار ہونے کے مناسب رستے کا تعین کیا اور دوسری منزل پر اتر آیا۔وہ ڈرائینگ روم پرما کی نگرانی کے لیے بہترین تھا۔
میں ٹی وی لگا کر خبریں دیکھنے لگا۔گزشتہ رات کے ہنگامے کے بارے کوئی واضح خبر نہیں چلی تھی۔ بس پولیس کا شہریوں کو تنگ کرنے کا ذکر ہو رہا تھا۔یقینا ہمیں ڈھونڈنے کو پولیس جگہ جگہ چھاپے مار رہی تھی، گاڑیوں کی تلاشی لے رہی تھی،پید ل چلنے والوں سے بازپرس کر رہی تھی۔اور پولیس کی ایسی کارروائیاں بلاشبہ عوام کے لیے مفید ہوتی ہیں ،کیوں کہ اسی طرح ہی دہشت گردی اور دوسرے غیر قانونی دھندوں پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ لیکن پولیس کی یہ چوکسی اور ایمانداری نہ پاکستان کے عوام کو راس آتی ہے نہ ہمارے پڑوسی اس سرگرمی کو پسند کرتے ہیں ۔
پونے بارہ بجے موبائل فون کی گھنٹی بجی۔ڈاکٹر سجاتا کی کال تھی۔ہیلو ہائے کے بعد پوچھنے لگی۔
”کوئی چیز چاہیے ہو تو آپ کی طرف ہی آرہی ہوں ۔“
میں بے تکلفی سے بولا۔”کافی سامان چاہیے۔“اور پھر اسے ناشتے کے ضروری سامان کے علاوہ پرما کے لیے دوسوٹ اور تولیہ لانے کا بتا دیا۔کپڑوں کے ناپ کے بارے استفسار پراعتماد سے اپنی جانِ حیات پلوشے کا ناپ بتا دیا تھا۔
ڈاکٹرسجاتا دو بجے کے قریب وہاں پہنچی تھی۔میں نے داخلی دروازہ کھولا۔وہ کار اندر لے آئی۔ گیراج میں تو جگہ نہیں تھی اس نے کار مختصر سے صحن ہی میں پارک کر دی۔
عقبی نشست سامان سے بھری ہوئی تھی۔سامان اندر منتقل کر کے ہم نچلے ڈرائینگ روم میں بیٹھ گئے۔ اب تک میں نے اسے پرما کے بارے کچھ نہیں بتایا تھا۔اور چونکہ خبروں میں اس کا کوئی تذکرہ نہیں ہوا تھا اس لیے ڈاکٹر سجاتا خود سے بھی اس کے بارے کچھ نہیں جانتی تھی۔
”جگہ پسند آئی۔“رسمی کلمات کی ادائی کے بعد اس نے خوش دلی سے پوچھا۔
میں صاف گوئی سے بولا۔”آپ کے رویے نے الجھایا ہوا ہے،ورنہ جگہ بہت عمدہ ہے۔“
اس کے چہرے کی رونق ماند ہوئی۔ہونٹ کاٹتے ہوئے اس نے چپ سادھ لی تھی۔تب وہ کافی دکھی دکھائی دے رہی تھی۔
”ڈاکٹر صاحب!یاد رہے پولیس اور ایجنسیاں مسلسل ہماری تلاش میں ہیں ۔اور معلوم نہیں کس وقت ہم تک پہنچ جائیں ۔ایسے حالات میں اندھاا دھند بھاگنا ہماری مجبوری بن جاتا ہے۔ بہتر ہو گا کہ کسی مناسب موقع کے انتظار کے بجائے جو کچھ کہنا ہے اگل دو۔ہاں یاناں کرنے میں دیر نہیں لگاﺅں گا۔“
”آپ کی ساتھی سوئی ہے؟“
میں نے اثبات میں سرہلایا۔”ہاں ،اگر جاگ رہی ہوتی تب بھی پروا نہیں تھی کہ بے چاری ہندی سے بالکل نا بلد ہے۔“
وہ مستفسر ہوئی۔”کیامیرا کام کرنے کو اس کی اجازت کی ضرورت پڑے گی؟“
میں نے اسے تسلی دی۔”اس کا انحصار آپ کے کام پر ہے۔اگر اکیلا میرے کرنے کا ہے تو اسے بتانے کی بھی ضرورت پیش نہیں آئے گی،ورنہ بے فکر رہو وہ میرے ساتھ ہے۔“
وہ الجھن آمیز لہجے میں بولی۔”مجھے نہیں پتا آپ اکیلا کر لیں گے یا دونوں کی ضرورت پڑے گی۔“
”آپ یہ سردردمیرے لیے رہنے دیں اور کام بتائیں ۔“
لمحہ بھر سوچ کر وہ ہچکچاتے ہوئے بولی۔”سیون ہائیٹ ہسپتال کا ایک سینئر ڈاکٹرمجھے بلیک میل کر رہا ہے۔اس کے پاس میری ایسی وڈیو ہے جو یو ٹیوب پر چڑھا دی تو میرے پاس آتما ہتھیا (خودکشی)کے علاوہ کوئی چناﺅ نہیں بچے گا۔“
میں نے دل ہی دل میں اپنے پاس موجود پیسوں کا حساب کرتے ہوئے پوچھا۔”کتنی رقم کا تقاضا کر رہا ہے۔“
وہ سرخ ہوتے ہوئے بولی۔”اسے رقم نہیں چاہیے۔“
میں نے اس کے محجوب چہرے سے نظریں ہٹائیں اور صوفے کی پشت پر سر ٹیکتے ہوئے پوچھا۔ ”کہیں اس کا مطالبہ مان تو نہیں لیا۔“
وہ شرم ،غصے اور دکھ بھرے لہجے میں کراہی۔”گزشتہ دو اتوارکی راتیں اذیت سہہ چکی ہوں ۔“
میں شاکی ہوا۔”اس کا مطالبہ پور ا کرنے کے بعد باقی کیا بچا۔“
”اب وہ زور دے رہا ہے مجھے اس کے دوستوں کو راضی کرنا پڑے گا۔اور درحقیقت وہ اس کے دوست نہیں گاہک ہیں ۔جن سے بھاری معاوضا لے کر مجھے پیش کرے گا۔میرے علاوہ بھی چند لیڈی ڈاکٹر اس کے چنگل میں پھنسی ہیں ۔جو کوشش کے باوجود جان نہیں چھڑا پا رہیں ۔ایک بار اس کے ہتھے چڑھ جانے والی اس دلدل سے نکلنے کی کوشش میں مزید دھنستی چلی جاتی ہے۔پہلے اس کے پاس میرا ایک وڈیو کلپ تھا۔اب دو تین فلمیں بنا چکا ہے۔“
میں نے حیرانی سے پوچھا۔”آپ پھنسیں کیسے۔“
وہ رنکھے لہجے میں گویا ہوئی۔”ڈاکٹر آدیتی ورماکافی عرصے سے اس کے چنگل میں پھنسی تھی۔اس بے غیرت نے آدیتی سے وعدہ کیا کہ اگر مجھے ورغلا کراس کے چنگل میں پھنسا دے تو آدیتی کی جان چھوڑ دے گا۔ آدیتی لالچ میں آگئی۔ مجھ سے تعلقات بڑھائے ،دوستی و بے تکلفی پیدا کی۔یہاں تک کہ دو تین ہفتوں میں ہماری گاڑھی چھننے لگی تھی۔پھر ایک رات اپنے ہاں تقریب میں بلا لیا۔دوستی نبھانے کو مجھے جانا پڑا۔کیا خبر تھی کہ اپنی گردن میں پھندہ ڈال رہی ہوں ۔تقریب میں اس کی گنی چنی سہیلیاں اور چند دوست ہی آئے تھے۔دوسروں کی ہمراہی میں میں نے بھی دو تین جام چڑھا لیے۔اس سے بے خبر کہ آدیتی میری شراب میں جذبات کو برانگیختہ کرنے والی دوائی کی اچھی خاصی مقدار شامل کر چکی تھی۔جونھی میں بہکنے لگی آدیتی مجھے کھینچ کر اپنی خواب گاہ میں لے گئی۔مجھے اپنے افعال پر قابو نہیں رہا تھا۔خواب گاہ میں بند کر کے پہلے تو وہ خود میرے جذبات کو مزید ابھارتی رہی ،جونھی میں ہوش و خرد سے بے گانہ ہوئی اس نے اپنے خصوصی ملازم کو گھنٹی کر کے وہیں بلا لیا۔اور تب تک میں فائدے نقصان کے احساس سے کوسوں دور جا چکی تھی۔تب میری طلب میں ذلت و غلاظت کے علاوہ کچھ شامل نہ تھا۔جب حواسوں میں آئی تو لٹ چکی تھی۔لیکن افسوس کرنے اور پشیمان ہونے سے میری عصمت یا فخر واپس نہیں آسکتا تھا۔رو دھو کر گھر آگئی۔دو دن نوکری پر بھی نہیں جا سکی تھی۔اور جس دن کام پر لوٹی تب پتا چلا کہ میرے پاﺅں کے نیچے زمین نہیں رہی تھی۔ ڈاکٹردیواشش کمار کے مطالبے سے بچنے کا ایک ہی رستہ بچا تھا اور وہ تھا آتما ہتھیا کرنا۔کوشش تو کی مگر زندگی کی محبت غالب رہی۔سوچا جب ایک بار برباد ہو چکی ہوں تو دوسری بار کڑوا گھونٹ پینے سے کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔ پہلے لا علمی وجہ بنی دوسری بار بے بسی۔مگر یہ میری بھول تھی کہ دیواشش جیسے درندے کے چنگل سے جان چھڑا نا ممکن ہوتاہے۔“اس کی خوب صورت آنکھوں سے پانی بہنے لگا تھا۔
”پانی لو۔“نجانے لورا کس وقت پہنچی تھی۔اسے روتے دیکھ کر پانی گلاس بڑھاتے ہوئے نرم لہجے میں بولی۔
وہ گلاس تھام کر ایک ہی سانس میں خالی کر گئی۔لورا باورچی خانے کی طرف بڑھ گئی تھی۔
میں مطلب کی بات پر آیا۔”اب بتاﺅ میں کر سکتا ہوں ۔“
وہ آزردگی سے بولی۔”ساری کہانی بتا تو دی ہے۔“
میں نرمی سے بولا۔”تفصیل بتائی ہے، مطمح نظر بیان نہیں کیا۔“
وہ دانت پیستے ہوئے بولی۔”دیواشش کمار کو قتل کر سکتے ہو۔“
”یہ کام تو آپ خود بھی کر سکتی تھیں ۔“
وہ استہزائی انداز میں بولی۔”کیا آپ کو اتنی ہمت و حوصلے والی لگتی ہوں ۔“
میں اطمینان سے بولا۔”کرائے کے کئی قاتل مل جاتے ہیں ۔“
”اگر وہ قاتل پکڑا جاتا تو میری عزت تو خیر کیا بچتی جیل کی سیر بھی کرنا پڑتی۔“
میرے مشورے جاری رہے۔”اپنے بھائی کو سب کچھ بتا دیتیں ۔ایک مرد ایسے معاملے کو اچھی طرح سنبھال سکتاہے۔“
اسی وقت لورا مگ میں چمچ گھماتی ہوئی میرے ساتھ آکر بیٹھ گئی۔وہ کافی کے لیے پیسٹ بنا رہی تھی۔
سجاتانے گہرے طنز سے تصدیق چاہی۔”یقینا آپ کے ہاں ایسے حادثے کے بعد بہن فوراََ اپنے بھائی کو اعتماد میں لیتی ہوگی ہے ناں ۔“
”غلطی کا عتراف کر لیتیں تو گنا ہ سے بچ جاتیں ۔“
وہ ندامت سے بولی۔”اپنی غلطی و حماقت پر پردہ ڈالنے کو گناہ کا سہارا لینا چاہا تھا،مگر نہیں جانتی تھی کہ پستی میں لڑھکنے والا تہہ میں پہنچنے سے پہلے نہیں سنبھل سکتا۔یقینا میری نجات بھی شمشان گھاٹ میں جا کر ہی ہوگی۔لیکن بدنامی سے نہیں بھاگ سکتی کیوں کہ دیواشش جیسا موذی میری موت کے بعد میری نازیبا وڈیوز کوبیچ کر پیسہ کمائے گا۔“
”میرے لیے دیواشش کے سر میں گولی اتارنا چنداں دشوار نہیں ہے۔لیکن دیواشش کی موت کے بعد بھی خطرہ آپ کے سرپر منڈلاتا رہے گا۔نجانے اس نے وڈیوز کہاں چھپائی ہوں گی۔اس کی موت کی وجوہات ڈھونڈنے والوں کی ان وڈیوز تک رسائی مشکل نہیں ہوگی۔اورتفتیش کرنے والوں میں کوئی بدخصلت شامل ہوا تھا تو آپ کا واسطہ کسی نئے دیواشش سے پڑ جائے گا۔“
وہ پھیکے لہجے میں بولی۔”اندازہ کر سکتی ہوں ۔“
جاری ہے
قسط نمبر 49
ریاض عاقب کوہلر
وہ پھیکے لہجے میں بولی۔”اندازہ کر سکتی ہوں ۔“
لورا لاتعلقی سے مگ میں چمچ گھمائے جا رہی تھی۔سردرد کے لیے پیسٹ والی کافی ،اچھی رہتی ہے۔ لیکن کافی کا پیسٹ بنانا بھی اچھا خاصا سر دردہے۔بہ قول شاعر....
درد سر کے واسطے صندل لگانا ہے مفید
اس کا گھسنا اور لگانا درد سر یہ بھی تو ہے
لورا نیند سے جاگ کر اپنی کسلمندی دور کرنے کو کافی پینا چاہ رہی تھی اور اس کی کسل مندی پیسٹ بنانے ہی سے دور ہو گئی تھی۔
میں سجاتا کی طرف متوجہ ہوا۔”اب بتاﺅ آپ کے لیے کیا کر سکتا ہوں ۔“
گہرا سانس لیتے ہوئے اس نے ماتھے پر ہاتھوں پر ٹیکا۔”آپ کا نرم لہجہ،خوش اخلاقی اور بات کرنے کا ڈھنگ ایسا تھا کہ میں جواء کھیلنے پر آمادہ ہو گئی۔سوچا آپ کے کام آکر بگڑا نصیب سدھار لوں گی۔“
لورا باورچی خانے کی طرف بڑھ گئی تھی۔
میں نے جھک کر سجاتا کے ہاتھ کی پشت کو تھپتھپایا۔”نصیب سدھارنا ربِّ کائنات کا کام ہے۔البتہ کوشش کی جا سکتی ہے۔اور بے فکر رہوان شاءاللہ تمھیں مایوس نہیں کروں گا۔“
مجھے عقیدت سے دیکھتے ہوئے وہ ممنونیت بھرے لہجے میں بولی۔”آپ کا تم کہنا مجھے اچھا لگا۔“
لورا ٹرے میں تین مگ سجائے نمودار ہوئی۔ہمارے سامنے ایک ایک مگ رکھ کر اس نے اپنامگ اٹھالیا۔
”شکریہ۔“ڈاکٹر سجاتا کافی کا مگ اٹھاتے ہوئے لورا کو مخاطب ہوئی۔
گردن میں ہلکا سا خم لاتے ہوئے لورا نے پھلجڑی چھوڑی۔”ریجا کی تسلیوں اور وعدوں کو سنجیدگی سے نہ لیناکہ خوب صورت لڑکیوں کوچکنی چپڑی باتوں سے بہلانا اس کی عادت ہے۔“
”کک....کیا مطلب۔“ڈاکٹر سجاتا بوکھلا گئی تھی۔
لورا نے منہ بنایا۔”الجبرے کا کلیہ یا جیومیٹری کا مسئلہ تو بتایا نہیں کہ وضاحت کی ضرورت پڑے۔“
ڈاکٹر سجاتا ششدر سی میری طرف متوجہ ہوئی۔میں اطمینان سے بولا”ا سے پوچھونا،میرے ساتھ کیوں وقت ضائع کر رہی ہے۔کہیں دفع ہو جائے۔“
لورا کا مترنم قہقہ گونجا۔”اکیلے میں منتیں کرنے اور ہاتھ جوڑنے سے بھی نہیں کتراتا،دوسروں کے سامنے اس کے ڈرامے دیکھو۔“
ڈاکٹرسجاتا ہونق بنی ہمیں گھور رہی تھی۔پھر اس سے رہا نہ گیاہندی میں بولی۔”مادام کی بات میری سمجھ میں نہیں آرہی۔“
”اندیشہ نہ کرو،اس کی بے ہودہ گوئی اور بکواس کی عادت بہت پرانی ہے۔“
لورا شرارتی انداز میں بولی۔”جھوٹا،اسی لیے اردو بول رہا ہے تاکہ مجھے اس کی بات سمجھ نہ آئے۔“
ڈاکٹر سجاتا کے چہرے پر پریشانی ابھری۔لورا نشست چھوڑ کر اس کے پہلو میں جا بیٹھی۔”بہ ہرحال پریشان ہونے کی ضررت نہیں ،میں ہوں ناں ۔اور بتاﺅ کیا مسئلہ ہے۔“
ڈاکٹر سجاتابولی۔”آپ کے ساتھی کو تفصیل بتا دی ہے۔“
”تو کیا سوچا ہے؟“لورا براہ راست مجھے مخاطب ہوئی۔
میں نے کہا۔”مشورہ کرتے ہیں ۔“
لورا مسرت سے چہکی۔”شکر ہے مجھ سے بات تو کی۔میں نے سوچا پکے خفا ہو گئے ہو۔“
”تمھاری حرکتیں تو ایسی نہیں کہ بندہ بات کرے۔“
”اچھا اب تو معافی تلافی ہو گئی ہے ،تو کیوں نا،کام کی بات کی جائے۔پہلے مجھے ڈاکٹر سجاتا کا مسئلہ بتاﺅپھر کوئی حل سوچتے ہیں ۔“
میں نے اجمالاََ بیان کیا۔”تمھارے والا مسئلہ ہے۔اسے بھی ایک شکلا ٹکراگیا ہے۔جو ان لمحات کو فلما کر بے چاری کو بلیک میل کر رہا ہے۔بس اس درندے سے جان چھڑانا چاہتی ہے۔“
وہ سکون سے بولی۔”سوچنا کیا ہے،سر میں گولی اتاروتاکہ اپنے ادھورے کام کی طرف متوجہ ہو سکیں ۔“
”اور اس کے قبضے میں جو وڈیو ہے اس کا کیا؟“
وہ ڈاکٹر سجاتا کی طرف متوجہ ہوئی۔”ذرا اس کا حدوداربعہ بیان کرو۔کہاں رہتا ہے،کس وقت چھٹی کرتا ہے،محافظ کتنے ہیں وغیرہ وغیرہ۔“
سجاتا نے تفصیل بتائی۔”صبح نو بجے ہسپتال پہنچتا ہے اور شام چاربجے چھٹی کرتا ہے۔سیون ہائیٹ ہسپتال سے تھوڑے ہی فاصلے پرشیواجی نگر میں اس کی بڑی سی کوٹھی ہے۔غیر شادی شدہ ہے۔گھر میں دو چوکیدار، ایک مالی،ایک باورچن ہر وقت موجود ہوتے ہیں ۔ایک ذاتی محافظ اورایک ڈرائیور بھی ہے جو ہسپتال کی طرف سے اسے ملے ہوئے ہیں ۔“
لورا نے بے باکی سے پوچھا۔”عورتوں کے بارے اس کی کوئی خاص پسند؟“
ڈاکٹر سجاتا نفرت بھرے لہجے میں بولی۔”خود توکالا بھجنگ ہے ،مگرگوری سفید عورتوں کا شیدائی ہے۔اسی لیے سانولی اور کالی رنگت والی عموماََ اس کے شر سے محفوظ رہتی ہیں ۔“ایک لمحے کے توقف کے بعد وہ حسرت سے بولی۔”کاش میری رنگت بھی سانولی ہوتی۔“
”کس چیز کا اسپیشلسٹ ہے؟“
”ماہر امراض قلب و جگر (Cardiologist)ہے۔“
وہ اطمینان سے بولی۔” ریجا اپنے رویے کی معافی مانگے باقی کام میں سنبھال لوں گی۔“
”ضرورت ہی نہیں ہے،تم آرام کرو۔“
”ذلیل ہو جاﺅ گے لیکن اپنی انانہیں چھوڑو گے۔“ناک بھوں چڑھاتے ہوئے وہ سجاتا کو مخاطب ہوئی۔ ”مجھے سفید کوٹ اور نئی کار چاہیے ہوگی۔تم میرے ساتھ چلو گی ، دور سے اس کی کوٹھی دکھا کر واپس آجانا۔ باقی ایسے کردار کو میں آسانی سے سنبھال لوں گی۔“
میں نے پوچھا۔”مجھے بتاﺅ تم کیا کرنا چاہتی ہو۔“
”تمھیں تو بالکل نہیں بتاﺅں گی،البتہ معافی مانگتے ہو تو غور کر سکتی ہوں ۔“
میں بھناتے ہوئے بولا۔”بھاڑ میں جاﺅ۔“
وہ کھل کھلا کر ہنسی۔”چلو بتا دیتی ہوں ،تم بھی کیا یاد کرو گے۔“
٭٭٭٭٭
ایک عالی شان کوٹھی کے داخلی دروازے کے سامنے میں نے کار روکی۔چوکیدار ذیلی کھڑکی کھول کر باہر نکلا۔
میں چوکیدار کو مخاطب ہوا”ڈاکٹرجینفر ہنڈسلے ،ڈاکٹر دیواشش صاحب کو ملنے آئی ہیں ۔“
”میں پتا کر لوں ۔“وہ اندر گھس گیا۔
لورا نے مجھے چھیڑا۔”تمھیں جینی بھولی نہیں ۔“
”بہتر ہو گا کار سے نکل کر کھڑی ہو جاﺅ تاکہ ڈاکٹر دیواشش تمھیں اچھی طرح دیکھ سکے۔“ میں نے اسے سیکیورٹی کیمرے کی طرف متوجہ کیا۔
”تم جیسے کھڑوس کے ساتھ اتنا عرصہ رہ کر بھی متاثر نہ کر پائی تو وہ خبیث وڈیو کیمرے میں دیکھ کر کیسے متاثر ہو جائے گا۔“طنزیہ لہجے میں کہتے ہوئے وہ نیچے اتر گئی۔کالے رنگ کے تھری پیس سوٹ میں وہ صحیح دمک رہی تھی۔بالوں کو اچھی طرح سنوار کر اس نے بکھیر دیا تھا تاکہ یوں لگے کام چھوڑ کر آئی ہے۔سفید کوٹ نے رہی سہی کسر پوری کر دی تھی۔آنکھوں میں نیلے لینز اور اس پر سفید بڑے شیشوں کی عینک جس نے اس کا آدھا چہرہ ڈھانپ لیا تھا۔ عینک نے اس کی معصومیت میں کئی گنا اضافہ کردیا تھا۔وہ اپنے اصل حلیے میں تھی۔کیوں ہمیں امید تھی ڈاکٹر دیواشش اسے شکل سے نہیں پہچانتا ہوگا۔ یوں بھی ٹی وی پر صرف میری تصویر دکھائی گئی تھی۔لورا کی تصاویر پولیس اور ایجنسی والوں کو خفیہ طور پر تقسیم کی گئی تھیں ۔
میں خاموش بیٹھا رہا۔توقع کے مطابق منٹ بھر بعد ہی گیٹ کھل گیاتھا۔لورا اندر آگئی۔
میں نے کار آگے بڑھائی اور وسیع صحن میں پہلے سے موجود دوکاروں کے ساتھ پارک کی۔اور دوسری طرف گھوم کراس کے لیے دروازہ کھول دیا۔
نزاکت سے نیچے اتر وہ اندرونی عمارت کی طرف بڑھ گئی۔میں اس سے ایک قدم پیچھے مودّبانہ انداز میں چلنے لگا۔
ڈرائینگ روم میں درمیانے قد کا کالا سانڈ کھڑا تھا۔ڈاکٹر کے بجائے وہ کسی گروہ کا دادا لگ رہا تھا۔
”یقین نہیں آرہا انڈیا میں اتنی خوب صورت ڈاکٹر بھی موجود ہو سکتی ہے۔“کریہہ ہونٹوں پرندیدے پن سے زبان پھیرتے ہوئے اس نے لورا کی جانب ہاتھ بڑھایا۔
”یقینا میں معزز دیواشش سے ملنے کی سعادت حاصل کر رہی ہوں ۔“لورا نے اس کے بڑھے ہوئے ہاتھ کو تھاما۔اس کے ہاتھ میں لورا کا گورا چٹا ہاتھ یوں لگ رہا تھا جیسے کوکاکولا کے مشروب سے بھرے گلاس میں انڈا ڈال دیا جائے۔
بڑی مشکل سے لورا نے ہاتھ اس کی گرفت سے آزاد کرایا اور میری جانب اشارہ کرتے ہوئے بولی۔ ”یہ میرے ڈرائیور،محافظ اور دوست ریجا جی ہیں ۔“
”دوست؟“دیواشش نے حیرانی ظاہر کی۔میں نے بھی اپنے چہرے پر خوب کالک ملی ہوئی تھی۔ سمجھ لیں دو روسیاہ آنے سامنے آگئے تھے۔
لورا بے باکی سے بولی۔”کیوں کہ مجھے اس کا رنگ بہت پسند ہے۔“
دیواشش کی باچھیں کھل گئی تھیں ۔”یہ تو میرے لیے فخر کی بات ہے۔“اورگرم جوشی سے میرا ہاتھ پکڑتے ہوئے بولا۔” یہ اپنے ہم رتبہ کے ساتھ زیادہ آرام دہ رہے گا،کیوں کہ دو ڈاکٹروں کی ثقیل گفتگو اس کے پلے کہاں پڑے گی۔“
اس کا محافظ بھی وہیں موجود تھا۔چھے فٹ جسامت کا لمبا تڑنگا ،سڈول بدن کا جوان گہری نظروں سے مجھے گھور رہا تھا۔
لورا معنی خیز انداز میں بولی۔”ہم آپ کے مطالعے کے کمرہ میں چلے جاتے ہیں ،یہ ادھر ہی بیٹھ جائیں گے۔ یقین مانو مجھے معلوم نہیں تھا آپ اتنے دلکش ہوں گے ورنہ فارغ وقت میں آتی۔“
”آپ اپنے فارغ اوقات بتا دیں میں انتظار کر لوں گا۔“دیواشش اضطراری انداز میں ہاتھ ملتے ہوئے بے صبری سے بولا تھا۔لورا جیسی پرکش لڑکی کامحبوبانہ انداز اس بے چارے نے کہاں دیکھا تھا۔
لورا پکے پھل کی طرح اس کی جھولی میں گری۔”میرے ساتھی ڈاکٹر کو گھنٹی پر سمجھا دو تو چند گھنٹے اب بھی نکال سکتی ہوں ۔“
دیواشش کمینے پن سے بولا۔”ویسے میرا مطالعے کا کمرہ اور خواب گاہ ایک ساتھ ہیں ۔“
لورا کے ہونٹوں پر محبوبانہ تبسم ابھرا۔”آپ جیسی شخصیت سے مجھے اسی عقل مندی کی توقع تھی۔“
”اجیت،تم مہمان کی سیوا کرو،میں ڈاکٹر جینفر ہنڈسلے کا مسئلہ سن لوں ۔“اپنے محافظ کو ہندی میں ہدایت دے کر اس نے چھاتی پر ہاتھ رکھ کر لورا کو آگے بڑھنے کا اشارہ کیا۔
لورا نزاکت سے چلتے ہوئے مطلوبہ سمت کو بڑھ گئی۔میں انھی کی سمت متوجہ رہا۔
صوفے پر نشست سنبھالتے ہوئے اجیت نے معنی خیز انداز میں کہا۔”بیٹھو دوست،لگتا ہے ہمیں کافی دیر گپ شپ کا موقع ملے گا۔“
جیب سے سائیلنسر لگا گلاک برآمد کرتے ہوئے میں اطمینان سے بولا۔”ایسا بس تم سمجھتے ہو۔“
”یہ کیا مذاق ہے؟“اس نے اٹھنے کوپر تولے۔
میں پراعتماد لہجے میں بولا۔”یقین کرو دوست،تم کتنی ہی تیز ی دکھا لو بہ ہرحال گولی سے ہار جاﺅ گے۔جان بچانے کا موقع دے رہا ہوں ۔ہاتھ گردن کے پیچھے باندھ کر الٹے گھوم جاﺅ۔“
وہ اعتماد سے بولا”اورتم اجیت کے نام سے واقف نہیں اس لیے معاف کرتے ہوئے دفع ہونے کا موقع دے رہا ہوں ۔ “البتہ اس نے اٹھنے کی کوشش نہیں کی تھی۔
”جیسے تمھاری مرضی۔“کندھے اچکاتے ہوئے میں نے ایک دم لبلبی دبائی،گولی اس کے کان کی لو کو ساتھ لے گئی تھی۔
”افف........“اس کے ہونٹوں سے تیز سسکی کے ساتھ واہیات گالی برآمد ہوئی اور اس نے کان پر ہاتھ رکھ لیا۔میں چونکہ اسے قتل نہیں کرنا چاہتا تھا اس لیے گالی برداشت کرنا پڑی۔وہ دیواشش کا محافظ تھا۔ معلوم نہیں اس کی کاروائیوں میں شریک تھا یا نہیں ۔صرف شبے کی بناپر اسے ٹھکانے لگانا مناسب نہیں تھا۔
”یہ گولی تمھاری کھوپڑی میں بھی چھید کر سکتی تھی۔تب اجیت نام پر اترانے والی زبان کی حرکت نے رک جانا تھا۔ایک اور موقع دے رہا ہوں ۔اور یقین کرومجھے بار بار موقع دینے کی عادت نہیں ہے۔“
اس نے بازو اوپر اٹھا دیئے تھے۔آنکھوں میں غیظ و غضب لیے وہ کینہ توز نظروں سے مجھے گھور رہا تھا۔کان کی لو سے خون کے قطرے ٹپک کر اس کی سفیدقمیص کو رنگین کر رہے تھے۔
میں نے حکم دیا۔”ہاتھ گردن کے پیچھے باندھواور صوفے سے اتر کر الٹا گھومتے ہوئے گھٹنوں کے بل بیٹھ جاﺅ۔“
اس نے لمحہ بھر کے توقف کے بعد میری ہدایت پر من و عن عمل کیا۔
قریب جا کر میں نے ایک دم پستول کو نال سے پکڑ کر اس کی کھوپڑی کی سختی کا اندازہ کیا۔
”اوغ “ کی آواز کے ساتھ وہ اوندھے منہ صوفے پر گرا تھا۔اس کی بے ہوشی کو یقینی بنانے کو میں نے دوسرا وار بھی کیااور پھر جیب سے باریک ریشمی رسی نکال کر اس کی مشکیں کسنے لگا۔
اسے سختی سے جکڑ کر میں نے گھسیٹ کر قریبی کمرے میں پھینکا۔اور خود دیواشش کی خواب گاہ کی طرف بڑھ گیا۔
دروازہ دھکیلنے پر کھلا ملا۔اندر کا منظر میری توقع کے مطابق تھا۔دیواشش اوندھے منہ بیڈ پر لیٹا تھااور لورا اس کی مشکیں کس رہی تھی۔
وہ تیز لہجے میں بولی۔”میرا خیال ہے تمھارا باہر رہنا زیادہ بہتر رہے گا۔“
میں نے کہا۔”شاید تم جلدی نہ اگلوا سکو۔“
وہ اعتماد سے بولی۔”ایسے سو¿روں کو سدھانے کو لورا براﺅن سے اچھا استاد تمھیں نہیں ملے گا۔“
”ٹھیک ہے،میں باقی لوگوں کو سنبھالتا ہوں ۔“میں خواب گاہ سے نکل آیا۔ملازمہ مجھے باورچی خانے میں ملی تھی۔اس کے دوپٹے سے اس کی مشکیں کس کر میں نے باورچی خانے میں بند کر دیا۔باقی ملازم وہاں موجود نہیں تھے۔فیملی کوارٹر کوٹھی کے عقب میں بنے تھے۔اور وہاں جانا وقت کا ضیاع تھا۔ میں ڈرائینگ روم کے دروازے کو اندر سے قفل کر کے دوبارہ دیواشش کی خواب گاہ میں پلٹ آیا۔دیواشش کی حالت کافی خستہ نظر آرہی تھی۔ایک کان اور ناک کٹا کر وہ مزید بھیانک لگنے لگا تھا۔اپنی شلوار وہ گیلی کر چکا تھا۔منہ بندھا تھا ،بس ناک سے ”اوں اوں “ کی قابل رحم آواز نکل رہی تھی۔یقینا کمرہ ساﺅنڈ پروف تھا۔تبھی تو اس کی ہلکی سی آواز بھی میرے کانوں میں نہیں پڑی تھی۔
”باہر والے ساروں کو قتل کر دیا ہے۔“اندر داخل ہوتے ہی میں نے دیواشش کی امیدوں کا ناس کیا تاکہ اس کا رہا سہا دم خم بھی ٹوٹ جائے۔
”پھر تو اس کے ہونٹ آزادکردینے چاہئیں ۔“لورا نے کپڑا کھول دیا۔
وہ گھگیاتے ہوئے بولا۔”پپ....پلیز....تم جو چاہتی ہولے لو،مگر مجھ میں مزید سہنے کا حوصلہ نہیں ہے۔“
”لڑکیوں کو بلیک میل کرنے کا مواد کہاں رکھا ہے۔“
وہ ہکلایا۔”کک ....کون سا....مواد؟“
ایک دم اس کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے لورا نے اس کے بازو میں چاقو گھونپ دیا۔
اس کا جسم زور سے لرزا اور پھر مسلسل کانپنے لگا۔
”اگلی باری تمھاری آنکھ کی آئے گی۔“لورا نے بے رحمی سے اس کی آنکھوں کے سامنے چاقو لہراتے ہوئے اس کے ہونٹ آزاد کیے۔
”افف....آہ ہ ....“کرتے ہوئے و ہ گڑگڑایا۔”پلیز رحم کرو۔“
”معصوم لڑکیوں کو درندگی کا نشانہ بنانے والے پر رحم کرنا مظلوم لڑکیوں پر ظلم کرنے کے مترادف ہے اور لورا اتنی ظالم نہیں ہے۔“
”مم....میں ....“اس نے صفائی دینے کی کوشش کی۔
لورا قطع کلامی کرتے ہوئے بولی۔”تمھارے سارے کرتوت مجھے پتا ہیں سو¿ر۔ اور ہر جھوٹ پر یہ چاقو تمھارے جسم کا بوسا لے گا۔اس لیے بہتر یہی ہے کہ جو پوچھوں سچ سچ اگل دو۔سمجھ میں آیا۔“
وہ چپ رہا۔لورا نے ہلکا سا توقف کر کے سوال دہرایا۔”اب بتاﺅ بلیک میلنگ کا مواد کہاں چھپایا ہے۔“
وہ اٹکتے ہوئے بولا۔”تت....تجوری میں ۔“
”اور تجوری کہاں ہے۔“
وہ نظریں چراتے ہوئے بولا۔”وہ اس کوٹھی میں نہیں ہے۔“
”ایسے نہیں سدھرو گے۔“اس کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے لورا نے چاقو اس کی آنکھ میں گھونپ دیا تھا۔
وہ زور سے اچھلا اور۔”غوں ....غوں ....“کی بھیانک آواز یں نکالتے ہوئے بن جل کے مچھلی کی طرح تڑپنے لگا۔ لورا نے اس کے ہونٹوں کو سختی سے دبائے رکھا ورنہ کمرہ اس کی چیخوں سے گونج اٹھتا۔
میں نے کہا۔”کمرہ ساﺅنڈ پروف ہے کیپٹن۔اس لیے احتیاط بے کار ہے۔“
”جانتی ہوں ،مگرمیری سماعتیں اس کی کریہہ چیخوں کی متحمل نہیں ہو سکتیں ۔“نفرت بھرے لہجے میں کہتے ہوئے لورا نے اس کے ہونٹوں سے ہاتھ ہٹا دیئے۔
وہ باآواز بلند کراہنے لگا۔لورا نے اس کا حلیہ بگاڑ دیا تھا۔پے در پے حملوں نے دیواشش کی مزاحمت ختم کر دی تھی۔تیز بدبو ظاہر کر رہی تھی کہ دیواشش اپنے اعصاب پر قابو کھو چکا تھا۔اور بنت حوا کو درندگی بنانے والے پر ذرا سی تکلیف آئی توپتلون میں پانی و کیچڑ چھو دیا تھا۔
میں نے مفلر ناک پر لپیٹ لیا،لورا نے بھی ناک پر ماسک چڑھا لیا تھا۔
”تو میں پوچھ رہی تھی تجوری کہاں ہے؟“اس کی کراہیں تھمنے سے پہلے لورا نے اپنی طرف متوجہ کیا۔
”تت....تم،فاحشہ....رنڈی....میرے ........پر....میں ،تیری........ تجھے چھوڑوں گا تو نہیں ۔“دیواشش کے ہونٹوں سے گالیوں و مغلظات کا طوفان ابل پڑا تھا۔
”مطلب اب تک ڈٹے ہو....مان گئی تمھاری برادشت کو۔باقی اپنے جس عضو پر اترا رہے ہو اب وہ تیرے پاس نہیں رہے گا۔“لورا نے بے باکی سے اس کی ٹانگوں کے بیچ ہاتھ ڈالا۔
”بب....بھگوان کے لیے ،معاف کردو....بتاتا ہوں ....سب کچھ بتاتا ہوں ....“دیواشش کی ہمت پہلے ہی باقی نہیں رہی تھی۔نامرد بننے کا حوصلہ وہ نہیں کر سکا تھااور فوراََ ہتھیار پھینک دیے۔
”بھونکتے رہو....تمھارے پاس چپ رہنے کو ایک سیکنڈ بھی نہیں ہے۔“
دیواشش ،پیٹ میں موجود مواد پہلے ہی اگل چکا تھا۔اب دماغ میں چھپائے راز باہر نکالنے لگا۔
تجوری خواب گاہ کے اندر ہی کپڑوں کی الماری میں بنی تھی۔میں نے الماری کے پٹ کھول کر کپڑے ایک جانب ہٹانے کے بجائے باہر نکال کر پھینکے۔اندر چوڑا تختہ دائیں جانب دھکیلنے سے آسانی سے ہٹ گیا۔اس کے عقب میں فولاد کی تجوری نظر آرہی تھی۔
دیواشش کے بتائے کوڈ سے قفل کھول کر میں نے اکلوتا پٹ کھینچ لیا۔لورا بھی قریب آگئی تھی۔اندر دس بارہ یوایس بی،ایک لیپ ٹاپ،ایک ایکسٹرنل ہارڈ ڈسک،ڈالروں کی چند گڈیاں ، آٹھ نو سادہ موبائل فون اورکچھ دستاویزات پڑی تھیں ۔ حفظ ماتقدم کے طور پروہ لڑکیوں کو اپنے اصل نمبر سے گھنٹی نہیں کرتا تھا۔
دیواشش سے پاس ورڈ پوچھ کرلورا نے لیپ ٹاپ آن کیا۔ساری ہارڈ ڈسک گندی فلموں سے بھری ہوئی تھی۔اور وہ فلمیں اس کی اپنی تیار کر دہ تھیں ۔لیڈی ڈاکٹروں کے علاوہ،نرسوں اور چند دوسرے شعبوں سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں کی فلمیں بھی موجود تھیں ۔نجانے وہ درندہ کب سے اس کام میں لگا تھا۔ہر لڑکی کے نام کا فولڈر بنا ہوا تھا۔کچھ کے فولڈر کےساتھ مردہ لکھا تھا جس کا مطلب یہی تھا کہ چند ایک نے خودکشی میں راہ فرار تلاش کرنا چاہی تھی۔ڈاکٹر سجاتا کے نام کا فولڈر بھی موجود تھا۔اس میں چار وڈیوز پڑی تھیں ۔لورا نے ایک وڈیو چلائی۔ڈاکٹر سجاتا کو بے لباس دیکھنا کوئی اچھا تجربہ نہ تھا۔میں نے رخ موڑ لیا۔اتنی بداخلاق لورا بھی نہیں تھی کہ مسلسل دیکھتی رہتی۔وہ بس دیواشش کی درندگی کی تصدیق کر رہی تھی تاکہ اسے اپنے تشدد کا پکا جواز مل جائے۔ مطمئن ہوتے ہی وہ مجھے مخاطب ہوئی۔
”سب کچھ سمیٹ لو۔“اور خود دیواشش کی طرف بڑھ گئی۔
میں نے ایک بیگ ڈھونڈ کر تجوری میں جھاڑو پھیر دیا۔ڈالروں کی گڈیاں بھی نہیں چھوڑی تھیں ۔ انڈیا میں اپنی ضروریات پورا کرنے کو وہ رقم کام آسکتی تھی۔
”اس کے علاوہ مواد کہاں چھپایا ہے،سچ اگل دو ورنہ........“لورا چاقو کھول کر دوبارہ تیار ہو گئی تھی۔ایک عورت ہونے کے ناطے مجھ سے زیادہ وہ جانتی تھی کہ متاثر ہونے والی بے چاری لڑکیاں کس اذیت سے گزری ہوں گی۔ہر وقت بھانڈا پھوٹنے کا ڈر،وڈیوز کے یو ٹیوب پر چڑھنے کا خوف،آئے روز نئے درندوں کے سامنے جسم کا دستر خوان سجانے کی اذیت،پورے خاندان کی بدنامی کا وبال اور بھی جانے کون کون سے احساسات بے چاریوں کے دل و دماغ کو ڈستے رہے ہوں گے۔یقینا خوف و اندیشوں کے سائے میں زندگی گزارنا بہت مشکل و اذیت بھرا ہے۔اور لورا تو خود شکلا کی درندگی کا شکار ہو چکی تھی۔
وہ رو دینے والے لہجے میں بولا۔”بھگوان کی قسم سب کچھ اسی تجوری میں چھپایا ہے۔“
”تو پھر چھٹی کرو،تم جیسے غلظ کا وجود زمین کے اوپر نہیں اندر بہتر رہتاہے۔“اس نے مسلسل دو بار اس کی گردن میں چاقو گھسیڑا۔دیواشش خرخراتے ہوئے تڑپنے لگا تھا۔
لورا نے ایک کاغذ پر لکھا۔” اس درندے کی موت پر کسی کو افسوس کرنے کی ضرورت نہیں ۔یہ حیوان نہ جانے کتنی لڑکیوں کی زندگی برباد کر چکا تھا۔میں میڈیا سے درخواست کرتی ہوں کہ میرے ان الفاظ کو ٹی وی پر ضرور چلائے کہ تمام لڑکیوں کے خلاف بلیک میلنگ کا مواد میں نے ضائع کر دیا ہے۔اب ہر وہ لڑکی آزاد ہے جو اس موذی کے چنگل میں پھنسی تھی۔“
یہ کاغذ اس کی چھاتی پر رکھ کر لورا کھڑی ہو گئی۔میں نے بیگ کندھے میں ڈال لیا تھا۔لورا کے کوٹ پر خون کے چھینٹے نظر آرہے تھے،اس نے کوٹ وہیں اتار کر پھینکا اور ہم باہر نکل آئے۔
چوکیدار لکڑی کے بینچ پر بیٹھا تھا۔ہمیں دیکھ کر جلدی سے کھڑا ہو گیا۔میں نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی، کار موڑنے تک چوکیدار داخلی دروازہ کھول چکا تھا۔
ہم دیواشش کے گھر سے نکل کر تھوڑی دور آئے۔ایک عوامی پارک کی پارکنگ میں ڈاکٹر سجاتا ہماری منتظر تھی۔اپنی چوری کی کار پارکنگ میں چھوڑ کر ہم اس کی کار میں منتقل ہو گئے۔
سجاتا کے اسٹیئرنگ ویل پر رکھے ہاتھ اضطراری انداز میں کانپ رہے تھے۔ہماری بیٹھنے کے بعد بھی اسے کچھ پوچھنے کاحوصلہ نہیں ہوا تھا۔
لورا نے کہا۔”چلو۔“
تھوگ نگلتے ہوئے اس نے دونوں ہاتھوں سے اسٹیئرنگ ویل تھپتھایا۔”کک....کیا رہا۔“
لورا اطمینان سے بولی۔”دیواشش کا تو ککھ نہیں رہااور بلیک میلنگ کا تمام مواد ہمیں مل گیا ہے۔“
سجاتا نے گہرا سانس لیا اور پھر ایک دم لورا کے گلے میں بانہیں ڈال کر وہ رو دی تھی۔
لورا کے چہرے پر تبسم ابھرا اوراس کی پیٹھ تھپتھپانے لگی۔”سب کچھ ٹھیک ہو گیا میری جان! اب تم آزاد ہو۔“
اس نے لورا کے چہرے کو مسلسل چومتے ہوئے مسرت سے بھرپور لہجے میں کہا۔”بہت.... بہت.... بہت شکریہ۔“
لورا نے قہقہ لگاتے ہوئے مجھ پر چوٹ کی۔”کچھ بوسے ریجا کے لیے بھی بچا لو بے چارہ للچا رہا ہو گا۔“
میں اطمینان سے بولا۔”کوئی بات نہیں ، میں تم سے وصول کر لوں گا۔“
لورا نے مڑ کرمجھے گھورا۔”دیواشش کا انجام دیکھ کر بھی مجھ سے ڈر نہیں لگ رہا۔“سجاتا نے مسکراتے ہوئے کار آگے بڑھا دی تھی۔
”ڈرے وہ جس کے کرتوت دیواشش کی طرح ہوں ۔“اطمینان سے کہتے ہوئے میں نے ٹیک لگا کر آنکھیں بند کر لیں ۔
لورا ،سجاتا کو تفصیل بتانے لگی۔دیواشش کے انجام پر سجاتا کو بہت خوشی ہوئی تھی۔گھنٹے ،پون گھنٹے میں ہم واپس پہنچ گئے تھے۔
لورا نے تمام یو ایس بی ،ہارڈ ڈسک ،دستاویزات اور لیپ ٹاپ سجاتا کو دکھائے۔ڈالروں کی گڈیاں اور موبائل فون میں نے اپنے پاس رکھ لیے تھے۔
خوب تسلی کر لینے کے بعد انھوں نے ساری اشیاءکو ہتھوڑی سے کوٹ کر ٹکڑے ٹکڑے کیا اور کیاری میں گڑھا کھود کر دفنا دیا۔
سجاتا کو رخصت کر کے میں نے پرماکو کھانا کھلایا۔اور پھر اسے بند کر کے لورا کے پاس آگیا۔سجاتا کی وجہ سے ہمارا پورا دن ضائع ہو گیا تھا۔اور اب جلد از جلد شکلا کا حساب کتاب برابر کر کے ہمیں انڈیاچھوڑنا تھا۔ وہاں ہم رابن ہڈ بننے نہیں آئے تھے کہ لوگوں کی مدد پر کمر بستہ رہتے،البتہ ڈاکٹر سجاتا ہمیں چھپنے کا ٹھکانہ دے کر ہمارے کام آئی تھی،مجبوراََ اس کی دل جوئی کرنا پڑی تھی۔
کافی پیتے ہوئے ہم ٹی وی دیکھنے لگے،مگر اب تک دیواشش کی موت ظاہر نہیں ہوئی تھی۔
لورا نے تبصرہ کیا۔”اگر شکلا بھی اسی طرح ہتھے چڑھ جائے تو لطف آجائے۔“
میں نے نفی میں سرہلایا۔”اسے دور سے نشانہ بنانے کے علاوہ مارنا آسان نہ ہوگا۔“
لورا بولی۔”یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ خبیث یہیں ہے یا ممبئی سے باہر ہے۔“
میں نے اندازہ ظاہر کیا۔”نواسی کے ملنے سے پہلے اس کا کہیں جانا دشوار لگتا ہے۔“
لورا نے مشورہ چاہا۔”کیوں ناں گھنٹی کر کے تصدیق کر لیں ۔شاید کچھ اور بھی معلوم ہوجائے۔“
میں نے اندیشہ ظاہر کیا۔”ہمارا بار بار گھر سے باہر جانا مناسب نہ ہوگا۔“
لورا نے کہا۔”میں اکیلی چلی جاتی ہوں ۔“
”میرا خیال ہے مجھے جانا چاہیے،شاید اس کا خیر خواہ بن کر بات کرنے سے کچھ اگلوانے میں کامیاب ہو جاﺅں ۔“
لورامتفق ہوئی۔” ٹھیک کہہ رہے ہو انجان خیرخواہ بن کر بات کرنے سے شاید کوئی مفید خبر ہاتھ لگ جائے۔“
ہم دونوں بات چیت کا مضمون طے کرنے لگے۔ایک بات پر متفق ہونے کے بعد ، دیواشش سے حاصل ہوئے موبائل فون میں سے ایک اٹھا کر میں نے جیب میں ڈالا اور باہر نکل آیا۔تھوڑی دیر پیدل چلنے کے بعد رکشا مل گیا تھا۔پارک کے ساتھ بنی فٹ پاتھ پر تین سنگی بنچ رکھے تھے۔پہلے بنچ پر کوئی گداگر سویا تھا۔درمیان والی بنچ چھوڑ کر میں آخری پر بیٹھ گیا۔رات اتنی زیادہ نہیں بیتی تھی۔ٹریفک میں کمی ضرور آئی تھی مگر اتنی نہیں کہ سڑک خالی ہو جاتی۔اور ممبئی میں تو رات بھر ہی سڑک خالی نہیں ہوتی۔رہائشی محلّوں اور دور دراز کی بستیوں میں تو رات کے وقت سرگرمیاں ماند پڑتی ہیں ۔بڑی سڑکوں ،ہوٹلوں ،بس اڈوں ،ریلوے اسٹیشن، ائر پورٹ وغیرہ میں ہلچل جاری رہتی ہے۔اور جواءخانوں ، شراب خانوں ،کوٹھوں وغیرہ کی رونق تورات کے زیادہ ہو جاتی ہے۔
دائیں بائیں کا دھیان رکھ کر میں نے شکلاکا نمبر جو مجھے زبانی یاد تھا۔ملا دیا۔
جاری ہے
قسط نمبر 50
ریاض عاقب کوہلر
دائیں بائیں کا دھیان رکھ کر میں نے شکلاکا نمبر جو مجھے زبانی یاد تھا۔ملا دیا۔
شکلا جیسے بڑے آدمی انجان نمبر کی کال وصول نہیں کرتے۔لیکن نواسی کی گم شدگی اور لورا کے مختلف نمبروں سے کال کرنے کی وجہ سے اس نے میری گھنٹی اٹھانے میں سستی نہیں کی تھی۔
”ہیلو۔“اس کی آواز میں بے چینی تھی۔وہ کرخت آواز میری سنی ہوئی تھی اس لیے فوراََ پہچان گیا تھا۔
”رندھیر شکلا صاحب بات کر رہے ہیں ۔“میں نے تصدیق چاہنا ضروری سمجھا تاکہ اسے یہ نہ لگے میں اسے پہلے سے جانتا ہوں ۔
اس نے چونکتے ہوئے پوچھا۔”تم کون ہو۔اور رندھیر شکلا سے کیوں بات کرنا چاہتے ہو۔“
میں فوراََ بولا۔”میں جنرل صاحب کا خیر خواہ ہوں اور انھیں خاص اطلاع دینا چاہتا ہوں ۔“
وہ طنزیہ انداز میں بولا۔”میرے خیر خواہ کو کم از کم میری آواز تو پہچاننا چاہیے۔“
میں نے لہجے میں ندامت سموئی۔”سر پہلی بار بات کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں اس لیے تصدیق کرنا چاہی تھی۔“
وہ بیزاری سے بولا۔”مدعے پر آﺅ۔“
”میں آج کل مادام کرسٹینا کے ساتھ بہ طور ترجمان کام کر رہا ہوں ۔ اور مجھے لگتا ہے وہ آپ کی دشمن ہے۔“
”کیا ؟“اس کی آواز سے بیزاری کا عنصر کافور ہو گیا تھا۔”تم ابھی مجھے مل سکتے ہو؟“
”نہیں سر!“میں نے صاف انکار کیا۔” وہ بہت خطرناک لڑکی ہے،بندے کو یوں ذبح کرتی ہے گویا سبزی یامرغی کاٹ رہی ہو۔آج ہی اس نے ڈاکٹر دیواشش کمار کی وہ حالت کی ہے کہ دیکھ کر انسان کی روح کانپ اٹھے۔اس کی پشت پناہی ایک عالمی مجرم تنظیم کر رہی ہے۔آپ بڑے آدمی ہیں یقینا چند دن مجھے حفاظت دے دیں گے۔لیکن اس کے بعد میرا کیا ہوگا۔وہ ایسی بد فطرت ہے کہ بدلہ لینا نہیں بھولتی۔“
اس نے پوچھا۔”یہ ڈاکٹر کون ہے۔اور اسے کیوں قتل کیا؟“
”سیون ہائیٹ ہسپتال ،کاماہر امراض قلب ہے۔اس کے حوالے اس نے کوئی جوان چھوکری کی تھی۔ لڑکی کافی خوب صورت تھی،دیواشش کمار خود پر قابو نہ رکھ سکا اور اس نے لڑکی کی عزت خراب کردی۔پس مادام کرسٹینا نے اسے عبرت کا نمونہ بنا دیا۔“
وہ دھاڑا۔”تم بکواس کر رہے ہو۔“
میں نے اگلا وار کیا۔”سر میں بالکل بھی بکواس نہیں کر رہا۔میں تو یہ بھی جانتا ہوں کہ مادام کرسٹینا نے آپ پرجو رائفلیں بیچی ہیں ان میں بہت بڑی خامی ہے۔وہ آپ کی ساکھ کو تباہ کرنا چاہتی ہے۔کیوں کہ جیسے ہی رائفلوں کی خامی سامنے آئی سارا ملبہ آپ پر گرے گا۔بہت سے سوال اٹھیں گے،جن کی جواب دہی مشکل ہو جائے گی۔اتنامہنگا سودا کرنے کے بعد اگر رائفل ہی کسی کام کی نہ ہوئی تو سوچیں اعلیٰ عہداداران کی رائے آپ کے بارے کیا ہوگی۔کیا آئندہ اسلحے کی خرید و فرخت میں آپ کی رائے کسی قابل سمجھی جائے گی۔ہر آدمی کے درجنوں دشمن ہوتے ہیں ۔آپ کے بھی ہوں گے۔اور یقینا ایسی صورت حال میں انھیں آپ کو نیچا دکھانے کا موقع ہاتھ آجائے گا۔“
اس کی آواز میں تعجب آمیز تجسس ابھرا۔”کیا خامی ہے رائفل میں ۔“
”اگر آپ کے پاس کوئی رائفل موجود ہے تو اس سے فائر کروا کر جانچ سکتے ہیں ۔پچاس ساٹھ گولیاں فائر ہونے کے بعد رائفل کا فائر نشانے سے دور ہونے لگتا ہے۔اور سو گولیوں کے بعد تو ہدف اور شست میں کوئی مطابقت ہی نہیں رہتی۔ویسے میں رائفلوں کے بارے زیادہ نہیں جانتا،البتہ مادام کی اس کے ساتھی سے ہونے والی گفتگو اتفاق سے سن لی تب پتا چلا، مزید آپ تصدیق کر کے جانچ سکتے ہیں ۔“
”دیواشش کے حوالے اس نے کوئی مقامی لڑکی کی تھی۔“شکلا کے لہجے میں لرزاں اندیشے میرے لیے انوکھے نہیں تھے۔
”جی سر!میرا خیال ہے پری یا کوئی ایسا ہی نام ہے۔سترہ اٹھارہ سال کی نوجوان دوشیزہ ہے۔بہت پیاری ہے۔مادام بہت سختی سے پیش آتی ہے بے چاری کے ساتھ۔“
اس کی آواز میں وحشت و درندگی بھری تھی۔”اس کا فاحشہ کا وہ حشر کروں گا کہ شمشان گھاٹ میں بھی پناہ نہیں ملے گی۔“
میں نے انجان بنتے ہوئے پوچھا۔”کون فاحشہ سر!اور ایک دم غصہ کیوں کر گئے ہیں ۔“
”تمھیں میرا خیرخواہ ہونے کا دعویٰ ہے اور اتنا بھی نہیں جانتے کہ وہ لڑکی میری کیا لگتی ہے۔“شکلا کے لہجے میں دکھ بھری تلخی چھپی تھی۔
میں صفائی دیتے ہوئے بولا۔”میں آپ کا خیر خواہ صرف اس لیے ہوں کہ آپ بھارت ماتا کے سیوک رہ چکے ہیں ۔انڈین آرمی کے جنرل کی میرے دل میں عزت و قدر نہیں ہو گی تو کس کے دل میں ہوگی۔ باقی مجھے آپ کے بارے زیادہ تفصیل معلوم نہیں ہے۔میں ذاتی طور پر کوئی اچھا آدمی نہیں ہوں ۔یوں سمجھ لیں چور اچکا اور چھوٹا موٹا ڈکیت ہوں ۔اسی وجہ سے تو مادام نے مجھے ساتھ رکھا ہے۔ممبئی میں اس کے اور بھی کافی کارندے ہیں ۔ان تمام سے رابطہ میرے ذریعے ہی ہوتا ہے۔کیوں کہ زیادہ تر انگریزی سے نابلد ہیں ۔باقی مادام کی اس کے دوست سے ہونے والی گفتگو کبھی کبھار کانوں میں پڑ جاتی ہے ،اسی سے آپ کے بارے معلوم ہوا۔ اورسچ کہوں تو مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ جو کچھ آپ کو بتا چکا ہوں کیا آپ کے کسی کام کا ہے بھی سہی یا نہیں ۔“
” قیدی لڑکی کی کیا مدد کر سکتے ہو؟“
”صرف اتنا کہ مادام سے چھپ کر اسے کچھ کھلا دوں ۔“
شکلا چیخ پڑا تھا۔”کیا وہ اسے کھانے پینے کو کچھ نہیں دیتی۔“
میں نے اس کے دل پر چھری چلائی۔”اسے چوبیس گھنٹے میں دو روٹیاں اور دو گلاس پانی سے زیادہ میسر نہیں ۔پتا نہیں مادام اس سے اتنی نفرت کیوں کرتی ہے۔ حالاں کہ وہ لڑکی اتنی معصوم ہے کہ بے اختیار پیار آجائے۔یقین کرو،اگر ڈاکٹر دیواشش نے اسے گندہ نہ کیا ہوتا تو میں اس سے شادی کرنے پر تیار ہوجاتا۔“
”بکواس بند کرو،وہ رندھیر شکلا کی نواسی ہے۔تم جیسوں کو ملازم بھی نہیں رکھے گی۔“
میں نے ہکلانے کی اداکاری کرتے ہوئے کہا۔”کک ....کیا؟....سوری سر،مم....میری گستاخی کو نظر انداز کر دینا، میں ناواقف تھا۔“
شکلا نے نرم ہوتے ہوئے پیش کش کی۔”اس فاحشہ، لوررا براﺅن کا پتا بتادو،میں تمھیں مالا مال کر دوں گا۔“
میں نے حیرانی ظاہر کی۔”کون لورابراﺅن سر؟“
وہ غصے سے بولا۔”جس طوائف کا نام تم کرسٹینا بتا رہے ہو،اس کا اصل نام لورا براﺅن ہے۔“
”سرمیں طبعی عمر تک زندہ رہنا چاہتا ہوں ۔اس لیے پہلے ہی معذرت کر چکا ہوں ۔یقین کریں میں مادام سے بہت ڈرتا ہوں ۔پرسوں دو کارندوں نے اس کے حکم کے خلاف من مانی کی کوشش کی۔آدھے گھنٹے بعد ان کے سراور دھڑ علیحدہ علیحدہ دریائے لہاس میں تیر رہے تھے۔سر! آپ نہیں جانتے،بہ ظاہر پرکشش و خوب صورت نظر آنے والی لڑکی کس آفت کا نام ہے۔میں تو اسے موت کی دیوی سمجھتا ہوں ۔“
وہ طنزیہ انداز میں بولا۔”شاید تم نے مجھے ڈرانے کو کال کی ہے۔“
”نہیں سر میں نے صرف یہ بتانے کو گھنٹی کی ہے کہ مادام کرسٹینا آپ کی دشمن ہے۔تاکہ آپ اپنی حفاظت کا بندوبست کر سکیں ۔آپ سرحد پر تو لڑائی کر سکتے ہیں ،جرائم پیشہ افراد سے واقف نہیں کہ یہ کیسے چھپ کر اور پیٹھ پر وار کرتے ہیں ۔بلا شبہ آپ بہادر ہوں گے اور انڈین آرمی کے کسی سپوت پر بزدلی کا گمان ہی حماقت ہے۔لیکن مجھے ڈر ہے کہ آپ اوچھی چال بازیوں سے ناواقف ہوں گے۔اب کم از کم مجھے یہ تسلی ہو گئی کہ میں نے اپنے وطن کے محافظ کو پہلے سے چوکنا کر دیا ہے۔“
اس نے اشتیاق سے پوچھا۔”تم نے نام کیا بتایا تھا۔“
”میں نے کوئی نام نہیں بتایا سر!اور نہ تعارف کرانے کا متحمل ہو سکتا ہوں ۔آپ کو کال بھی چوری کے موبائل فون سے کر رہا ہوں کیوں کہ میرے نمبر کے ذریعے مجھے تلاش کرنا آپ کے لیے مشکل نہ ہوتا۔“
”لورا کے ہمراہ ایک پاکستانی جاسو س بھی تھااس کا کوئی اتاپتا۔“
”میں نے تو کوئی ایسا شخص نہیں دیکھا۔“
”آخری سوال ،کیسے یقین کروں کہ تم سچ بول رہے ہو۔“
”سر آپ پہلے میری خبروں کی تصدیق کرلیں ،میں دوبارہ کال کروں گا،جے ہند۔“ کہتے ہوئے میں نے بغیر اجازت لیے رابطہ منقطع کیا اور موبائل فون کو پارک کی طرف اچھال دیا۔مزید وہاں ٹھہرنا مناسب نہیں تھا۔ میں نے شکار کے سامنے دانہ پھینک دیا تھا۔دیواشش کی موت اورایس آر ون کی خامی کی اطلاع ایسی خبریں تھیں کہ اسے مجھ پر کچھ نہ کچھ یقین آجاتا۔میں بھی پہلے مرحلے میں اس کا اعتماد جیتنا چاہتا تھا۔
تھوڑا سا پیدل چلتے ہی مجھے ٹیکسی مل گئی تھی۔اویوفلیگ شپ ہوٹل کا بتا کر میں بیٹھ گیا۔ہوٹل کے سامنے اتر کر میں نے کرایہ ادا کیا اور جب تک ٹیکسی دور نہ چلی گئی وہیں کھڑا رہا۔ٹیکسی کے غائب ہوتے ہی میں ہند نگر کی طرف بڑھ گیا۔آدھے پون گھنٹے کے پیدل سفر کے بعد میں اپنے ٹھکانے پر پہنچ گیا۔لورا میری منتظر تھی۔
تفصیل سنتے ہی منہ بنا کر بولی۔”شکلا کو اذیت میں مبتلا کر کے خوشی ہوئی ،لیکن ذرا وضاحت کریں کب سے راج کماری پرما کو چوبیس گھنٹے میں دو روٹیاں اوردو گلاس پانی دیتی ہوں ۔“
میں ہنسا۔”میں نے کہا اسے دو گلاس پانی اور دو روٹیاں میسر ہیں ۔اور سچ میں بے چاری اتنا ہی کھا پاتی ہے۔“
وہ بھناتے ہوئے بولی۔”اورانڈے ،مکھن، ملک شیک، پنیر، شہد، ڈبل روٹی،جیم ،پھل ان سب کا کیا؟....یا ان سے پیٹ نہیں بھرتا محترمہ کا۔“
میں اسے چڑاتا ہوا۔”وہ تو اسے میں کھلاتا ہوں ،کیوں کہ میرے کمانڈر کی بیٹی ہے۔البتہ تمھارے بس میں ہو تا تو دو روٹیوں سے زیادہ کچھ نہ دیتیں ۔“
”وہ دوروٹیوں کے قابل بھی نہیں ہے۔“حقارت بھرے لہجے میں کہتے ہوئے لورا خواب گاہ کی طرف بڑھی۔
میں نے آواز دی۔”اومادام،اب پہرے داری کی ذمہ داری تمھاری ہے۔صبح تم نے آرام کیا تھا۔ اب میری باری ہے۔“
”پہرہ دیتی ہے میری جوتی،اپنی لاڈلی کوبٹھا لو پہرے پر۔“بے نیازی سے کندھے اچکاتے ہوئے وہ اندر گھس گئی۔
میں مسکراتا ہوادوسری منزل کے ڈرائینگ روم کی طرف بڑھ گیا۔وہاں دو صوفوں کو ملا کر میں نے بیڈ کی شکل دی ہوئی تھی۔پرما کی خواب گاہ کے باہر سونا زیادہ مناسب تھا کہ برے وقت کا کوئی پتا نہیں چلتا۔آزاد پنچھی کو قید کر دیا جائے تو مانوس ہونے تک نچلا نہیں بیٹھتا ، پنجرے کی دیواروں سے سر ٹکراتا رہتا ہے۔اور کبھی اتفاق سے کوئی رخنہ کھلا مل جائے تو پھُر ہونے میں دیر نہیں کرتا۔پرما کی بھی وہی حالت تھی۔بھاگنے کا خیال اس کے دل سے نہیں نکل سکتا تھا۔اور یہی وجہ تھی کہ اس پر قابو پانے سے زیادہ فکر اسے پاکستان پہنچانے کی تھی۔ کسی شخص کی مرضی کے بغیر اسے دوسرے ملک لے جانا اتنا آسان نہیں تھا۔
اب ڈاکٹر سجاتا ہمارے لیے مشکوک نہیں رہی تھی۔اس لیے مجھے سونے میں کوئی دقت نہ ہوئی۔
٭٭٭٭٭
صبح ناشتے کرتے ہوئے ہم ٹی وی دیکھتے رہے۔دیواشش کی پرما سے بدسلوکی کی جھوٹی خبر کی وجہ سے اس کا کٹا چٹھا تفصیل سے خبرو ں کی زینت بنا تھا۔لورا کی لکھی ہوئی تحریر بھی میڈیا پر دکھائی گئی تھی۔یقینا اس تحریر نے کئی لڑکیوں کے دل سے بھاری بوجھ ہٹادیا ہوگا۔ایسی اچانک خوش خبری پا کر ہی اللہ پاک کی ذات بابرکات پر انسان کا یقین مستحکم ہوتا ہے کہ نظام عالم کو چلانے والا کوئی طاقتور،بااختیار مشکل کشا موجود ہے۔
دیواشش کا قتل کسی ایسی ہی لڑکی کے کھاتے میں ڈالاجارہا تھا جو اس کی ڈسی ہوئی تھی۔اس کے محافظ، چوکیدار اور ملازمہ وغیرہ کے بیانات میں سوائے انگریز لڑکی کے ذکر کے باقی سب کچھ بتایا گیا تھا۔
اگلے دو دن میں نے شکلا کو انتظار کی زحمت میں مبتلا رکھنے کے ساتھ سوچنے کا بھی موقع دیا۔اس دوران میری اور لورا کی گاہے گاہے اس موضوع پربات ہوتی رہی۔تیسرے دن ارادہ تھا کہ شکلا سے بات چیت کو دوپہر کے وقت نکلوں گا۔مگر اسی دن ممبئی میں دہشت گردی کا بڑا حادثہ پیش آیا۔ایک خود کش بمبار نے حساس عمارت کو دھماکے سے اڑا دیا تھا۔جس میں تین چار محافظ بھی ہلاک ہو گئے تھے۔پولیس جگہ جگہ پر چھاپے مارنے لگی۔مشکوک افراد سے ممبئی کے حوالات بھر گئے تھے۔ایسے حالات میں باہر نکلنا مناسب معلوم نہ ہوا۔اور ایک دو دن مزید انتظار کرنا پڑا۔اس دوران تین چار مرتبہ ڈاکٹر سجاتا سے گھنٹی پر بات ہوئی۔وہ ہمیں ملنے آنا چاہتی تھی،مگر میں نے منع کردیاتھا۔ اس کی عقیدت اپنی جگہ اور ہماری احتیاط اپنی جگہ۔
میں عموماََ نماز فجر پڑھ کرلیٹ جایا کرتا تھا۔یہاں تک کہ لورا ناشتے پر بلا لیتی۔ہم اکھٹے ناشتا کرتے اور پھر میں پرما کے لیے ناشتا لے جاتا۔پرما کی وجہ سے ہمیں بھی پر تکلف ناشتا مل جاتا تھاورنہ ہم دونوں کھانے پینے کے معاملے میں درویش تھے۔ لورا کو بھی جو مل جاتا کھالیتی اور میرا تو تعلق ہی چھوٹے طبقے سے ہے جو صبح ناشتے میں رات کی باسی روٹی چائے کے ساتھ کھانے کے عادی ہوتے ہیں ۔جب ہمارے آقا ﷺ ”مل جائے تو روزی نہ ملا تو روزہ“ پر ساری زندگی کاربند رہے ، تو امتیوں کوبھی کھانے پینے میں زیادہ نخرے سے کام نہیں لینا چاہیے۔البتہ استطاعت ہونے پر کوئی ممانعت نہیں ۔اللہ پاک کی نعمتوں پر رسائی پاناخوش قسمتی کا اعلیٰ درجہ ہی کہلایا جا سکتا ہے۔
اس دن بھی میں نے ناشتا کر کے پرما کی پسند کا ناشتا ٹرے میں ڈالا اور اوپری منزل کا رخ کیا۔ میری موجودی میں لورا اسے گھاس ڈالنے پر بھی آمادہ نہیں ہوتی تھی۔جبکہ مجھے ایسے لگتا جیسے پرما میری قریبی عزیز یا خصوصی مہمان ہو۔ اس کی ہر خواہش میں خوش دلی سے پوری کرتا تھا۔وہ بھی بڑے مان و یقین سے مجھے کام بتایا کرتی تھی۔
”کافی کا موڈ ہے،چائے بنا دو گے،جوس تو لے آﺅ،سوتے وقت ہلکا گر م دودھ لازمی پیتے ہیں ، سلپنگ سوٹ منگوا دو،نیچے خواب گاہ میں چند ناول پڑے تھے وہ لا دو،ہمیں ٹی وی دیکھنا ہے، فلاں برانڈ کا مکھن منگوایا کرو،ڈبل روٹی فلاں بیکری سے لاﺅ وغیرہ وغیرہ۔“ان میں کوئی بھی کام ایسا نہیں تھا جس کی تکمیل میں مجھے قباحت ہوتی۔
میں اسے اپنی نگرانی میں ٹی وی دکھانے کو ڈرائینگ روم میں بٹھا دیتا۔ پھروہ خود اکتا کر چلی جاتی یا میں تھکن کا بہانہ کر کے جانے کا کہہ دیتا۔اب ہمارے بیچ ایک خاموش معاہدہ ہو چکا تھا۔وہ سلجھے ہوئے انداز میں گفتگو کرتی اور میں اسے حتی الوسع آرام مہیا کرنے کی کوشش کرتا۔لورا اور اس کا سامنا نہ ہونے کے برابر تھا۔ ہندوﺅں میں شراب نوشی عام ہے۔شکلا کے ہاں تقریب میں میں نے اسے شراب پیتے ہوئے بھی دیکھا تھا،لیکن مجھ سے کبھی اس نے شرا ب کا تقاضا نہیں کیا تھا۔شاید وہ عادی نہیں تھی۔بہ ہرحال اس کی شراب نوشی مستحسن فعل نہ تھی کہ مجھے اس کے شراب نہ منگوانے کی کرید ہوتی۔
دروازے کے سامنے پہنچ کر میں نے دستک دی کیوں کہ نامحرم لڑکی کی خواب گاہ میں منہ اٹھائے گھس جانا نہایت غلط تھا۔
دستک دے کر میں نے لمحہ بھر انتظار کیا اور پھر دروازے کو دھکیلتا ہوا اندر گھس گیا۔خواب گاہ خالی نظر آئی۔میری نظر غسل خانے کے دروازے کی طرف اٹھ گئی تھی۔میں نے ناشتے کی ٹرے شیشے کی میز پر رکھی۔ اسی وقت ہلکی سی ”کلک “ ہوئی اوروہ ریشمی بالوں پر تولیہ رگڑتے ہوئے غسل خانے سے برآمد ہوئی۔کالے رنگ کے سپورٹس پاجامے کے اوپر اس نے نصف بازو کی بنیان پہنی تھی۔مجھ پر سرسری نظر ڈال کر وہ اپنے کام میں لگی رہی۔میں نے باہر نکلنے کو پر تولے۔
”بات سنیں ۔“
میں نے رک کرسوالیہ نظروں سے گھورا۔
تولیہ بیڈ پر پھینک کر اس نے گرم جرسی اٹھا ئی۔”دوپہر کو رمشا بیکری سے پیزہ منگوا دینا۔“
اور میں اوپر نیچے سر ہلاتے ہوئے باہر نکل آیا۔
دوپہر کو جب اسے پیزہ دینے گیا،وہ ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے انگریزی ناول کے مطالعے میں غرق تھی۔پیزے کا ڈبہ دیکھتے ہی مسکراتے ہوئے اٹھ بیٹھی۔پیزہ رکھ کر میں مڑ گیا کیوں کہ حتی الوسع کوشش یہی ہوتی تھی اس کے ہمراہ نہ بیٹھوں ۔
اس نے عقب سے آواز دی۔”کہاں چل دیئے؟....پورا پیزہ ہم سے تھوڑی کھایا جائے گا۔آپ بھی ہمارا ساتھ دیں ۔“
”بعد میں کھالوں گا۔“
اس نے منہ بنایا۔”ملازم تو ہونہیں کہ بچا کھچا کھاﺅ گے۔“
میں نے مڑ کر نشست سنبھالی اور اسے مطعون کرتا ہوابولا۔”کسی ایسے شخص کی ہمراہی میں بیٹھ کر کھانا پینا مناسب نہیں لگتا جس کے دل میں میرے بارے نفرت بھری ہو۔“
وہ متبسم ہوئی۔”اب پہلے جتنی نفرت باقی نہیں رہی۔کیوں کہ آپ ہمارا بہت زیادہ خیال رکھتے ہیں ۔“
”اچھی بات ہے۔“میں نے ڈبے کا ڈھکن اٹھا کراس کی طرف دھکیلا۔
پیزا آٹھ ٹکڑوں میں کٹا ہوا تھا۔ایک ٹکڑا اٹھا کراس نے دانتوں سے ہلکا سا کاٹااور نزاکت سے چباتے ہوئے کہنے لگی۔”ایک بات پوچھیں ۔“
ہاتھ پیزے کی طرف بڑھاتے ہوئے میں نے سوالیہ ہنکارا بھرا۔”ہونہہ؟“
وہ دھیرے سے بولی۔”سچ بتاﺅاتنا خیال کیوں رکھتے ہو۔کیپٹن لورا نے تو ہر وقت مرچیں چبائی ہوتی ہیں ۔ہٹلر کی پوتی نہ ہو تو۔“
میں نے برجستہ پوچھا۔”خیال رکھنے پر اعتراض ہے ،شکایت ہے یا تجسس؟“
وہ فلسفیانہ لہجے میں بولی۔”کوئی عزت دے تو اس پر اعتراض یا شکایت تو نہیں جچتی۔خاص کر جب بندہ قیدی ہو۔البتہ جس کی قید میں ہو اس کے التفات کی کھوج عین فطرت ہے اور اس پر حیرانی کا اظہار بھی انوکھا نہیں ہے۔“
میں نے جواب گول مول کیا۔”فی الحال تو کوئی جواب دینے کی حالت میں نہیں ہوں ۔بس اتنا کہہ سکتا ہوں کہ ممبئی میں اپنے سچے خیرخواہوں کی گنتی میں ایک عدد کا اضافہ کر لیں ۔“
”سچ بتاﺅ،کہیں ہم سے پریم وریم تو نہیں ہو گیا۔“پیزے کا دوسرا ٹکڑا اٹھاتے ہوئے اس نے عام انداز میں پوچھا۔ یوں جیسے میری خیریت دریافت کر رہی ہو۔گو وہ مشرقی لڑکی تھی،مگر جس نہج پر اس کی تربیت ہوئی تھی، ایسی بے باکی، انوکھی یا حیران کن نہیں تھی۔انڈیا میں اونچے طبقے سے تعلق رکھنے والی لڑکیاں مغرب کی تقلید میں فخر محسوس کرتی ہیں ۔اوربوائے فرینڈ ،گرل فرینڈ تہذیب کی پرچارک و دلدادہ ہیں ۔
پرما کے لہجے میں مجھے شرارت یا طنز وغیرہ نظر نہیں آیا تھا۔البتہ میرے سر پر بم ضرور پھوٹا تھا۔مگر اپنے برتاﺅ پر غور کیاتولگا پرما سوال میں بحق بہ جانب تھی۔لورا اسے جوتے کی نوک پر رکھتی،اس کی توہین،بے عزتی اور ڈانٹنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتی۔جبکہ میں آپ سے مخاطب کرتا۔اس کی ضروریات کا خیال ایسے کرتا جیسے شہزادیوں کا خصوصی ملازم ہر وقت ان کی خدت پر کمربستہ رہتا ہے۔کھانے، پینے ،پہننے کو جو مانگتی حاضر کر دیتا۔اور بہ ظاہر اس کے ساتھ کوئی رشتہ بھی نہیں تھا۔ایک جوان لڑکی ،کسی مرد کے ایسے التفات کو چاہت کے علاوہ کوئی نام دے ہی نہیں سکتی تھی۔
اوربلاشبہ مرد کی زندگی میں ایک سے زیادہ عورتوں کی گنجائش رہتی ہے۔اللہ پاک نے اس کی فطرت ایسی بنائی ہے کہ ایک عورت پر قناعت کرنے کے بجائے مزید کا متلاشی رہتا ہے۔لیکن میرے ساتھ ایک اور مسئلہ تھا، جس کا نام پلوشہ خان وزیر ہے۔وہ میرے دل میں اس قدر گہرائی میں اتری ہوئی ہے کہ اس کے علاوہ کسی لڑکی سے محبت کرنا ممکن نہ تھا۔ رومانہ جیسی لڑکی کو بھی تبھی میری زندگی میں دخول کا موقع ملا جب میرے تیئں پلوشے باقی نہیں رہی تھی۔ اور اب جبکہ وہ پوری آب تاب سے میری زندگی میں اجالے بکھیر رہی تھی تو پرماکیا اس سے کئی گنا خوب صورت لڑکی بھی مجھے متاثر نہیں کر سکتی تھی۔
البتہ صنفِ نازک سے ہمدردی ،غلط یا بری نہیں ہے، اگر نفسانی جذبے سے پاک ہو۔ اور پرماکی اہمیت کے پسِ پردہ توانصاری صاحب کا وجود تھا۔وطن کی خاطر اپنی زندگی کا بہترین حصہ دشمن ملک میں گزارنے والا مجاہد اگر آفیسر کے بجائے کوئی عام جوان بھی ہوتا تو میرے لیے اتنا ہی مکرم و معزز ہوتا۔شاید عام لوگوں کو گھروالوں سے بچھڑنے اورپردیس میں زندگی گزارنے کا تجربہ نہ ہو۔انھیں یہ باور کرانا مشکل ہو کہ اپنے بچوں کی قلقاریاں سننے کو انسان کتنا بے چین رہتا ہے۔والدین کی محبت اور ان کے چہروں کی زیارت کی کتنی حاجت ہوتی ہے۔ان کی شفقت بھری ڈانٹ کھانے کو بندہ کیسے ترستا ہے۔بیوی کے ہاتھ پکا ہوا کھانا جس میں خلوص، چاہت، الفت اورمٹھاس لبالب بھری ہوتی ہے کتنا شیریں ،لذیز اور پاکیزہ ہوتا ہے۔گاﺅں کی گرد آلود آب ہوا کے مقابلے میں کشمیر و شمالی علاقہ جات کے پر فضا مقام بھی ہیچ نظر آتے ہیں ۔اور جب انسان بہ رضا و رغبت ان سے جدائی پر آمادہ ہو جائے تو ایسے شخص کی ہمت،حوصلے اور مجاہدے کو داد نہ دینا زیادتی ہو گی۔ عارضی طور پر گھر والوں اور علاقے سے جدائی مجھے اتنی گراں گزرتی تھی تو جس سے واپسی کی امید ہی چھین لی جائے اس پر کیا گزرے گی۔تنخواہ کی مد میں ملنے والے کاغذ کے چند نوٹ اس کا نعم البدل کبھی نہیں ہوسکتے۔
لا ریب اپنے وطن سے محبت اور اس کی خاطر قربانی دیناہر شہری کا فرض ہے،جسے ادا کرنے والے گنے چنے ہی ہیں ۔کروڑوں کی آبادی میں چند لاکھ کا ہندسہ اتنی قلیل تعداد کی طرف اشارہ کرتا ہے جسے سمجھنا صاحب عقل کے لیے چنداں دشوار نہیں ۔ان چند لاکھ میں چند سو ہی ایسے ہیں جنھیں پاکستانی ہونے کی زیادہ قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔لیکن ملک کو نوچنے، کھسوٹنے اور اپنی تجوریوں کو لبالب بھرنے والوں کو یہ محافظ بہت برے لگتے ہیں ۔قانون فطرت ہے کہ چور وں اور لٹیروں کو چوکیدار ایک آنکھ نہیں بھاتے۔اورجو پاکستان کی سلامتی میں نقب لگانے کے خواہاں ہیں انھیں پاک آرمی سے بغض و عداوت ہے کہ پاکستان کی سلامتی کی ضامن اللہ پاک کی ذاتِ بابرکات کے بعدپاک آرمی ہی ہے۔خیر بحث کوئی اور رخ اختیار کر گئی ہے۔اور ایسی کوتاہی مجھ سے اکثر سرزدہو جاتی ہے۔امید ہے قارئین درگزر کریں گے۔
پرما کے استفسار پر حیران ہونے کے بعد مجھے ہنسی آئی تھی۔قہقہ لگاتے ہوئے کہا۔ ”میری دوست کیپٹن لورابراﺅن اتنی بد صورت تو نہیں کہ مجھے محبوبہ ڈھونڈنے کودائیں بائیں متوجہ ہونا پڑے۔“
”پہلے ہمارا بھی یہی خیال تھا۔اور آپ کے لورا براﺅن کی مددکرنے کے پس پردہ ہمیں یہی وجہ کارفرما نظر آئی تھی۔لیکن اپنی ذات پرآپ کے مسلسل التفات نے اس سوال پر مجبور کیا۔تاکہ کوئی ایسی ویسی بات ہو تو آپ کو سمجھا سکیں ۔“
”کیا سمجھاﺅ گی۔“میرے لہجے میں خوشگوار اشتیاق بھراتھا۔
وہ صاف گوئی سے بولی۔”ہم میں جو طبقاتی فرق ہے اگر اسے نظر انداز بھی کر دیا جائے توبھارت ماتا کا دشمن ایک پاکی جاسوس ہمارے کسی نازک جذبے کا حق دارکیسے ہو سکتا ہے۔بے شک ایساسوچنے والے کی عقل پر ماتم ہی کیا جاسکتا ہے۔اورسب سے بڑھ کر آپ کی شکل اس قابل ہی نہیں ہے کہ ہمارے دل میں کوئی جگہ پا سکو۔“
”ہونہہ!“چہرے پر اداسی لاتے ہوئے میں نے ہنکارا بھرا۔”یہ تو میں نے سوچا ہی نہیں تھا۔“
اس نے مدبّرانہ انداز میں کندھے اچکائے۔”ہمارا کام تھا سمجھانا۔“
میں بہ ظاہر دکھی لہجے میں بولا۔”سچ تو یہ ہے کہ کیپٹن لورا بھی گھاس ڈالنے پر تیار نہیں ۔حالاں کہ اس کی خاطر میں نے اپنا مشن ادھورا چھوڑ دیا ہے اور اس کے آگے پیچھے پھرنے لگا۔جب مایوس ہو کر جانے کا سوچا تو وہ آپ کو اغواءکر کے لے آئی اور مجھے یہاں رہنے کو نئی امید مل گئی۔آپ تو اس سے بھی سنگ دل نکلیں ،کیوں کہ اس نے کبھی واشگاف انداز میں انکار نہیں کیاتھا۔“
اس نے سرعت سے صفائی پیش کی۔”ہمیں دوش نہ دینا،ہماری حیثیت ایک بے بس قیدی کی سی ہے۔ اور ہم نے آپ کو غلط فہمی میں بھی نہیں رکھا،جونھی محسوس ہوا آپ کی نوازشات کسی مقصد کے تحت ہو سکتی ہیں فوراََ اپنے جذبات کا اظہار کر دیا۔“
میں نے اداسی سے لبریز گہری آہ بھری۔”درست کہا،آپ سے کوئی گلہ نہیں ۔جب بنانے والے نے صورت ہی ایسی بنائی ہے کہ کسی عورت کے دل میں جگہ نہ پا سکوں تو اس میں کسی دوسرے کو ذمہ دار ٹھہرانا کہاں کا انصاف ہے۔“
اس نے ترحم آمیز نظروں سے مجھے گھورتے ہوئے کہا۔”سفیدپوش طبقے میں کافی خوب صورت اور آزاد خیال لڑکیاں مل جاتی ہیں جن کا مطمح نظرکھاتے پیتے گھرانے کالڑکا ڈھونڈنا ہوتا ہے۔اگر........“فقرہ ادھورا چھوڑتے ہوئے وہ مجھے سوالیہ نظروں سے گھورنے لگی گویا بات مکمل کرنے کو اجازت چاہ رہی ہو۔
”کیا اگر؟“بے تابی ظاہر کرتے ہوئے میں نے اسے مایوس نہیں کیاتھا۔
”ہمیں گرینڈ پا کے پاس لے جاﺅ،آپ کا دامن مال و دولت سے بھر دیں گے۔وہ پیسے بینک میں رکھوا دینا۔بقیہ زندگی ان کے منافع پر گزر جائے گی۔اچھا کھانے پینے لگو گے تو لڑکیاں بھی مل جائیں گی۔“
میں نے اپنے مسئلے کی گھمبرتا واضح کی۔”لڑکیاں تو اب بھی ملتی ہیں ،بات تو دل پسند لڑکی کے حصول کی ہے نا۔“
اس نے نفی میں سرہلایا۔”ہمارا خیال دل سے نکال دو۔“
میں نے مایوسی ظاہر کی۔”لورا نے بھی سبز جھنڈی دکھا دی ہے۔آپ کو بھی یہ تھوبڑا ناپسند ہے تویہاں سے چلے جانا ہی بہتر رہے گا۔“میں نے دکھ بھراٹھنڈا سانس بھرا۔”یقینا میرے جانے کا تو آپ کو کوئی دکھ نہیں ہوگا، البتہ میرے بعد کیپٹن لورا کے ساتھ تھوڑا سنبھل کر رہنا۔وہ آپ کے نانا سے سخت نفرت کرتی ہے۔کہیں کوئی الٹی سیدھی حرکت نہ کر دے۔گو آپ کے نانا کا کردار میرے لیے بھی بہت گھناﺅنا اور غلیظ ہے مگر آپ کو معصوم اور بے گناہ سمجھتا ہوں ۔مجھے اجازت دواور اپنا خیال رکھنا پرما جی۔“
”کک....کیا مطلب؟....آپ چلے جائیں گے۔“لورا کا سامنا کرنے کے خیال ہی سے اسے جھرجھری آگئی تھی۔
میں بے چارگی سے بولا۔”تو کیا کروں ،کس امید پر بدیسی مادام کی جھڑکیاں سنوں ،پاکستان آرمی تک بھی میری ان حرکتوں کی خبر پہنچ گئی ہو گی کہ اپنی ذمہ داری چھوڑ کرکسی انگریز لڑکی کا غلام بنا پھر رہا ہوں ۔شاید اب تک میرا کورٹ مارشل بھی ہو چکا ہو۔“
وہ لجاجت سے بولی۔”اگر جانا ہے تو ہمیں آزاد کر کے جاﺅ۔“
میں نے خوفزدہ ہونے کی اداکاری کی۔”شاید آپ مجھے کیپٹن لورا کے ہاتھوں مروانا چاہتی ہیں ۔“
”ایک لڑکی آپ کا کیا بگاڑ سکتی ہے۔اس دن تین غنڈوں کو آپ نے چند لمحوں میں دھول چٹا دی تھی یہ تو پھر ایک نازک لڑکی ہے۔“مجھے بزدل اور پاک آرمی کو ناکارہ کہنے والی کی اپنی غرض آئی توپچھلی باتیں بھول گئی۔
میں نے کہا۔”نازک لڑکی کہاں ،تربیت یافتہ کمانڈو ہے۔“
وہ رنکھی ہوئی۔”آپ نے ہماری حفاظت کا وعدہ کیا تھا۔جب تک لورا اور گرینڈ پا کی صلح نہیں ہو جاتی ہم آپ کوجانے نہیں دیں گے۔“
”ٹھیک ہے نہیں جاتا ،مگر سوال تو ہنوز باقی ہے۔“
اس نے اضطرابی انداز میں ہاتھ مروڑے،یقینا اپنی حماقت پر پچھتا رہی تھی۔اس کے تیئں اگر وہ یہ موضوع نہ چھیڑتی تو میں چپ چاپ بغیر کسی تقاضے اوروعدے وعید کے اس کی سیوا کرتا رہتا۔جبکہ اب میں امید بھری خبر سننے کا خواہاں تھا۔اور بالفرض وہ جھوٹا وعدہ کر لیتی تب بھی اسے چھیڑنے اور اظہار محبت کا بہانہ ہاتھ آ جاتا۔ جو خواہ مخواہ کا درد سر مول لینے والی بات تھی۔لمحہ بھر سوچ کر وہ خود کلامی کے انداز میں بولی۔
”نن....نہیں ....آپ کہیں نہیں جانے والے اور نہ ہم کوئی امید دلا سکتے ہیں ....ہمارے درمیان طبقاتی فرق موجود ہے۔آپ ہماری ضروریات ہی کو پورا نہیں کر سکیں گے۔“
”کیوں نہیں کر سکوں گا۔اب پونڈوں میں تنخواہ لے رہا ہوں ۔بلکہ ہفتے بھر سے ضروریات پوری کر بھی رہا ہوں ۔“
آنکھوں میں نمی بھرتے ہوئے وہ لجاجت سے بولی۔”پلیز....“
میں نے بلند بانگ قہقہ لگایا۔”پاگل۔“
وہ متعجب ہوئی۔”پاگل کیوں بولا۔اورہنس کیوں رہے ہو۔“
”اور کیا کہوں ۔اتنا احمق لگتا ہوں کہ جنرل رندھیر شکلا کی نواسی سے شادی کے خواب دیکھنے لگوں ۔ میں عام سا سپاہی ہوں محترمہ،اتنے اونچے خواب دیکھنے کی جرا¿ت بھلا کہاں کر سکتاہوں ۔بے فکر رہوآپ کاخیال کسی لالچ کی وجہ سے نہیں رکھتا۔اور اتنا اندازہ تو اب تک ہوجاناچاہیے تھا۔“
”کک....کیا....سچ میں ۔“اس کے ہونٹوں پر محجوبانہ تبسم ابھرا۔”آپ سچ کہہ رہے ہیں ؟.... مطلب واقعی میں آپ ہم سے محبت نہیں کرتے........“اور پھر خود کلامی کرتے ہوئے تصدیق چاہی۔”بالکل ایسا ہی ہوگا،آخر کیپٹن لورا براﺅن اتنی خوب صورت لڑکی ہے۔ہم تو بس واجبی شکل و صورت کے ہیں ،ہے نا؟“
پیزے کا ڈبہ اٹھاتے ہوئے میں کھڑا ہوا۔”خیر خواہ مخواہ جھوٹ بولنے پر مجبور مت کروکہ لورا آپ سے خوب صورت ہے۔البتہ جسے میں چاہتا ہوں بلا شبہ وہ آپ سے بہت زیادہ پیاری ہے۔“
اس نے اشتیا ق بھرے لہجے میں پوچھا۔”کون ہے وہ؟“
”ان شاءاللہ کبھی ضرور ملواﺅں گا۔اور تب آپ تسلیم کریں گی کہ میں نے جھوٹ نہیں کہا تھا۔“میری آنکھوں کے سامنے پلوشہ کا موہنا چہرہ نمودار ہوا،سماعتوں میں پشتو کی خوب صورت دھن گونجی اور اس کا پرکشش بدن تیز ہوا کی زد میں آئی لچکیلی شاخ کی طرح لہرانے لگا۔
جاری ہے