چٹک رہے ہیں شگوفے تمھاری یادوں کے
سجی ہے شبنم و گُل کی برات کانٹوں پر
یہ اور بات ہے پھُولوں کا ذکر تھا ساغر
کہ اِتّفاق سے پہنچی ہے بات کانٹوں پر
ساغر صدیقی
نہ بوجھ یُوں دلِ مُضطر پہ اپنے ڈال کے رکھ
دُکھوں کوگوشوں میں اِس کے نہ تُو سنبھال کے رکھ
ہرایک شے پہ تو قدرت نہیں ہے اِنساں کو
شکستِ دل کوبصورت نہ اِک وَبال کے رکھ
شفیق خلش
نظر سے حُسنِ دوعالم گِرا دِیا تُو نے
نہ جانے کون سا عالم دِکھا دِیا تُو نے
خوشا وہ دردِ محبّت، زہے وہ دِل، کہ جسے
ذرا سکوُن ہُوا، گدُ گدُا دِیا تُو نے
جگر مُراد آبادی
فنائے عشق کو رنگِ بقا دِیا تُو نے
حیات و موت کو یکجا دِکھا دِیا تُو نے
ہزار جانِ گرامی فِدا بایں نِسبت
کہ میری ذات سے اپنا پتا دِیا تو نے
جگر مُراد آبادی
دل میں آتے ہوئے شرماتے ہیں
اپنے جلووں میں چُھپے جاتے ہیں
ہر نصِیحت ہے نِرالی ناصح
ورنہ سمجھے ہوئے سمجھاتے ہیں
وہ مرے قتل کا فرمان سہی!
کچھ وہ ارشاد تو فرماتے ہیں
فانی بدایونی
یہ میرے عشق کی مجبوریاں معاذاللہ
تمہارا راز تمہی سے چُھپا رہا ہوں میں
اِس اِک حِجاب پہ سو بے حِجابیاں صدقے
جہاں سے چاہتا ہوں تم کو دیکھتا ہُوں میں
اسرار الحق مجاز