ڈھب دیکھے تو ہم نے جانا، دل میں دُھن بھی سمائی ہے
میرا جی دانا تو نہیں ہے، عاشق ہے، سودائی ہے
صبح سویرے کون سی صُورت پُھلواری میں آئی ہے
ڈالی ڈالی جُھوم اُٹھی ہے، کلِی کلِی لہرائی ہے
میرا جی
آجائیں گے دُنیا میں کئی اور سُخنْور
لیکن کوئی شہزاد سا، پانے کے نہیں ہم
احسان تِری ذات پہ کیا کیا نہیں اُس کا
اُردو! یہ تُجھے گِن کے بتانے کے نہیں ہم
شفیق خلش
مُقامِ شُکر، کہ اِس شہْرِ کج ادا میں بھی لوگ
لحاظِ حرفِ دلآویز و سادہ رکھتے ہیں
بنامِ فیض، بجانِ اسد فقیر کے پاس
جو آئے آئے، کہ ہم دِل کشادہ رکھتے ہیں
افتخارعارف
جبینِ تمنّا کی تابانیاں ہیں
کہ دل میں ابھی تک پُرافشانیاں ہیں
یونہی تیرے گیسو ہیں رُسوا، کہ مجھ کو
پریشانیاں تھیں، پریشانیاں ہیں
سیّدعابدعلی عابد
تِری نِگاہ کے صدقے یہ حال کیا ہے مِرا
کمالِ ہوش کہوں یا کمالِ بے خبری
کہیں ہے عشق، کہیں ہے کشِش، کہیں حرکت
بھرا ہے خامۂ فِطرت میں رنگِ فتنہ گری
اصغر گونڈوی
وہ مستِ شاہدِ رعنا ، نِگاہِ سحِر طراز
وہ جامِ نِیم شَبی نرگسِ خُمار آلوُد
کچھ اِس ادا سے مِرا اُس نے مُدّعا پُوچھا
ڈھلک پڑا مِری آنکھوں سے گوہرِ مقصُود
اصغر گونڈوی
مزاجِ عشق بہت معتدل ہے اِن روزوں
جگر میں آگ دہکتی ہے آنکھ میں ہے تری
یہ ڈر ہے ہر بُنِ مُو، اب لہُو نہ دے نِکلے
کچھ ایسے زور پہ ہے آج کاوشِ جگری
اصغر گونڈوی
ہجْر کی رات ہےاور اُن کے تصوّر کا چراغ
بزْم کی بزْم ہے، تنہائی کی تنہائی ہے
کون سے نام سے تعبیر کرُوں اِس رُت کو
پُھول مُرجھائے ہیں، زخموں پہ بہار آئی ہے
اقبال اشعر