کوئی بھی جواب دینے کے تیار نہیں تھا تب کچھ لڑکیاں اندر داخل ہوئیں جوکہ کچھ ایمان کی اور کچھ سلمیٰ کی کزنز تھیں، انہوں نے ایمان کو میرے ساتھ لیٹا دیکھ، تنگ کرنا شروع کردیا۔ ایسے ہی تنگ کرتے کرتے آخر کار ایمان نے تنگ آکر کہہ دیا کہ ہمیں اکیلا چھوڑ دو جس پر سب کزنز ہنس پڑی تب باہر سے چاچی اندر...