سوچ کے گنبد میں ابھری ٹوٹتی یادوں کی گونج
امجد اسلام امجد
سوچ کے گنبد میں ابھری ٹوٹتی یادوں کی گونج
میری آہٹ سن کے جاگی سیکڑوں قدموں کی گونج
آنکھ میں بکھرا ہوا ہے جاگتے خوابوں کا رنگ
کان میں سمٹی ہوئی ہے بھاگتے سایوں کی گونج
جانے کیا کیا دائرے بنتے ہیں میرے...