شام یوں اُتر آئی تھی جیسے کسی نوجوان بیوہ کے دل میں اُداسی اُتر آتی ہے۔ وہ نیم تاریک حوالات میں آنکھیں بند کیے لیٹا ہوا تھا۔ باہر خاموشی تھی، دور کسی مسجد سے مغرب کی اذان بلند ہو رہی تھی اور اُس کے دماغ میں قیامت کا شور برپا تھا۔ خیالات کی جنگ جاری تھی۔ پولیس انسپکٹر نے جس طرح اُس کے اعتماد کا...