اہ اوف یہ ہم سے کیا پو چھ لیا آپ نے۔
سلگتے ہوئے دل کو جیئے کرید لیا أپ نے۔
اظہار صنم ساقی۔
صنف نازک کیا ہے۔
پردہ گرا کر رخ انور پر آئے ساقی یہ بزم نیا کس نے چھیڑا ہے۔
رہتے اپنی مدہوشی مین ہردم صنم 'سارے جہان کا غم تو میرا ہے۔
عورت نام ھے نزاکتون کا مگر نشہ اس کا پرانی شراب سے گہرا...