- Banned
- #1
qamar44
Well-known member
قسط 1
۔۔
ہمارا خاندان کافی بڑا ہے۔ اور سب رشتے داروں کے آپس میں بہت اچھے تعلقات ہیں۔ ان اچھے تعلقات کی وجہ سے ہم سب کو
ہر خوشی اور غمی میں ضرور شرکت کرنا پڑتی ہے۔ میرا ایک کزن جو باہر کے ملک پڑھنے گیا ہوا تھا جب وہ اپنی تعلی م مکمل
کر کے پاکستان آیا تو اس کے والدین نے اسکی ایک کزن کے ساتھ اسکی شادی پکی کر دی۔ جیسے ہی شادی کی ڈیٹ فکس ہوئی
اسکے والدین نے پورے خاندان میں منادی کرادی کے سب رشتے دار الزمی شرکت کر یں۔
شادی میں شرکت کرنے کے لیے ہمیں دوسرے شہر جانا تھا۔ میں اور میر ی امی شادی والے گھر دو دن پہلے ہی چلے گئے تھے
کیونکہ میں میٹرک کے امتحانات سے ابھی ابھی فارغ ہوا تھا اور می ر ی امی کی بڑ ی بہن کے بیٹے کے شادی تھی اس لیے ہمیں
شادی والے گھر پہلے ہی جانا پڑا۔
ہی گھل مل گیا اور
شادی والے گھر کو ابھی سے ہی کافی سجادی ا گیا تھا۔ اور کافی مہمان آ چکے تھے۔ میں اپنے کزنوں میں فوراً
خوب انجوائے کرنے لگا۔ میرے جس کزن کی شادی تھی اسکے کچھ فورن کالس فیلو بھی دوسرے ملک سے شادی میں شرکت
کے لیے اس کے گھر آئے ہوئے تھے۔ ہم سب چھوٹے کزن ان سب کے ساتھ ٹوٹی پھوٹی انگلش بول بول کے خوب انجوائے کر
رہے تھے۔
میرے کزن کےتمام فورن دوست گھر کے اندر اور باہر بغیر کسی روک ٹوک اور جھجک کے آ اور جا رہے تھے۔ ہمار ی فیمیلی
نا تو ز یادہ سخت گیر مذہبی یا روایتی پردے والی تھی اور نا ہی ہم ز یادہ لبرل یا آزاد قسم کے لو گ تھے۔ بس درمیانی سی سوچ
اور رسم و رواج والے لوگ تھے۔ ہمار ی کچھ رستے دار خواتین جو شادی میں شرکت کے لیے آئی ہوئی تھیں ان میں سے کچھ
تو ان انگر یز مہمانوں سے پردہ کر رہی تھیں اور کچھ بغیر کسی جھجک کے ان انگر یزوں سے بات چیت کبھی کبھی کر لیتی ۔
میر ی امی بھی دوسر ی قسم کی خواتین میں تھیں۔ میر ی امی تھوڑ ی شرمیلی تھیں پر ز یادہ پردہ وغیرہ نہیں کرتی تھیں۔
ہمیں شادی والے گھر آئے ہوئے پورا ایک دن گزر چکا تھا۔ میں نے نوٹ کیا کہ سب انگر یز مہمانوں میں سے ایک انگر یز جس
کا نام ڈیوڈ تھا وہ بہانے بہانے سے میر ی امی کے آس پاس آجا رہا تھا۔ پہلے تو میں نے سوچا شای د یہ میرا وہم ہو لیکن میں تھوڑا
پینتالیس
مز ید غور کیا تو مجھے یقین ہوگیا کہ ڈیوڈ میر ی امی کے پاس ز یادہ گھوم پھر رہا ہے۔ میر ی امی جان کی عمر تقر یباً
برس کے لگ بھگ تھی ۔ لی کن دبلی اور پتلے جسم کی وجہ سے وہ اپنی حقیقی عمر سے کم دیکھائی دیتی تھی۔ میر ی امی کے
سیاہ اور گھنے لمبے بال تھےجنہیں وہ پراندے میں باندھ کر ہمیشہ رکھتی تھی۔ میر ی امی ناز یادہ موٹی تھی اور نا ہی ز یادہ پتلی
تھی۔ بس میر ی امی کے پورے جسم کی خدوخال بہت نمایاں اور سیکسی تھی۔ میں اپنی امی کو کبھی گندی نظر سے نہیں دیکھا
تھا۔ لیکن یہ سب معلومات مجھے بعد میں پتہ چلی ۔
ڈیوڈ ایک بائیس سالہ دراز قد اور چوڑ ی چھاتی واال خوبصورت نوجوان تھا۔ شادی والے گھر بہت خوبصورت اور نوجوان لڑکیاں
بھی موجود تھیں لیکن یہ ڈیوڈ کسی کی بھی طرف ویسے نہیں دیکھ رہا تھا جیسے وہ میر ی امی پر مسلسل اپنی نگاہیں گاڑے ہوا
تھا۔ مجھے تھوڑ ی الجھن ہو رہی تھی کہ یہ انگر یز کیوں میر ی امی میں دلچسپی لے رہا ہے۔ پیلے تو میں نے سوچا کہ اپنی امی
کو کہوں کہ اس دور رہے اور کسی بھی قسم کی بات اس سے نا کرے۔ لیکن پھر میں نے سوچا کہ میر ی امی میرے بارے میں
کیا سوچے گی کہ میں اس پرخدا نا خواستہ شک کر رہا ہوں۔
بحرحال میں نے سوچا کہ کونسا اس انگر یز نے ہمشہ ادھر ہی رہنا ہے شادی ختم ہوتے ہی یہ واپس اپنی ملک چال جائے گا۔ لہذا
میں نے اپنے دماغ پر فضول بوجھ ڈالنے کے بجائے شادی کو انجوائے کرنا کا سوچااور اپنے کزنوں کے ساتھ ایک دفعہ پھر
مصروف ہو گیا۔
مہندی کا فنکشن شروع ہونے واال تھا اور سب تیار ہو رہے تھے۔ می ں نے اپنی امی کو دیکھا تو میں دیکھتا ہی رہ گیا۔ انہوں نے
پیلے رنگ کا مہندی کے فنکشن کی مناسبت سے لباس پہنا ہوا تھا۔ اپنے سیاہ گھنے بالوں کو اپنی کمر پر کھوال چھوڑ رکھا تھا۔
نفیس میک اپ کی وجہ سے میر ی امی ایک نوجوان لڑکی لگ رہی تھی۔ میں نے اپنی امی کو مسکراتے ہوئے سب کے سامنے
چھیڑا کہ یہ لڑکی کہاں سے آئی ہے۔۔۔۔۔ میر ی امی کا چہرہ حیا اور شرم سے الل ہو گیا اور سب ہنسنے لگ گئے میر ی امی بھی
آہستہ سے مسکرا دی اور مجھے غصے گھورا۔میں نے پھر امی کو تنگ کرتے ہوئے کہا کہ کاش آج ابو دبئی سے پاکستان آئے ہوتے تو انکی خیر نہیں تھیں۔ ابو کا سن کر
میر ی امی تھوڑا اداس ہو گئی۔ انکی کاجل سے سجھی خوبصورت آنکھیں پانی سے بھر گئیں۔ میں ماحول کی نزاکت کو سمجھتے
ہوئے فورا یا ۔ اور امی سے کہا کہ میرے لیے اس شادی میں سے اپنی جیسی خوبصورت سی لڑکی تو ً سے باتوں کا موضوع بدل د
ڈھونڈ دیں۔ میر ی امی ایک دفعہ پھر مسکر ا دی ۔ میں اپنی امی سے بہت پیار کرتا تھا اور انکی آنکھوں میں ایک آنسو کا قطرہ
نہیں دیکھ سکتا تھا ۔
مہندی کا فنکشن بہت زبردست جا رہا تھا۔ ہم سب کزنوں نے خوب ادھم مچا رکھا تھا۔ جب جب میر ی نظر امی پڑتی تو ان کے
آگے پیچھے یا دائیں بائیں مجھے ڈیوڈ ہی نظر آتا۔ مجھے تھوڑا غصہ آتا لیکن پھر جب اپنی امی کو مسکراتے اور ہنستے ہوئے
اس انگر یز کے ساتھ بات کرتے دیکھتا تو مییں تھوڑاخود کو تسلی د یتا کہ چلوکوئی بات نہیں۔ میر ی امی اس کے بات کر کہ شاید
اچھا محسوس کر رہی ہے۔
میر ی امی میرے ابو کو بہت ز یادہ مس کرتی تھی۔ میرا ابو کبھی دو اور کبھی تین تین سال بعد دبئی سے گھر واپس چکر لگاتا تھا۔
۔ شادی کے شور شرابے اور ہنگامے میں میں اتنا ز یادہ مصروف ہوا کہ ہمار ی روانگی کا وقت آن پہنچا۔ جب ہم پانے گھر کے
لیے روانہ ہو رہے تھے تو تب بھی ڈیوڈ کی نظر یں میر ی امی پر ہی تھیں۔لیکن میر ی امی اب اس سے تھوڑا جھجک رہی تھی
اور اسکی طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھ رہی تھی۔ حاالنکہ شروع میں تومیر ی امی بہت مسکرا مسکرا اس باتیں کرتی رہی تھی۔
ڈیوڈ کی پر مجھے اب سچ میں غصہ آ رہا تھا لی کن میں خود پر کنڑول رکھا۔ کیونکہ میں جانتا تھا کہ اب ہم لوگ گھر واپس جا
رہے ہیں۔ اب غصے کا کوئی فائدہ نہیں ویسے بھی اب یہ کونساانگر یز کا بچا کہاں نظر ائے گا۔
شادی سے گھر واپس آنے کے بعد کوئی تین مہینے بعد کی بات ہے کہ میر ی امی نے مجھے کہا کا انکا لیپ ٹاپ ٹھیک طرح سے
کام نہیں کر رہا۔ پلیز اسے ایک بار دیکھ لو کیا مسلہ ہے۔ میں نے ام ی سے کہا کہ رات کو آرام سے چیک کروں گا۔ ابھی میں
دوستوں کے ساتھ کرکٹ کھیلنے جا رہا ہوں۔
میں بھول گیا کہ میں نے امی کا لیپ ٹاپ ٹھیک کرنا تھا۔ تین دن بعد امی نے مجھے غصے سے کہا کہ اگر تم ٹھیک نہیں کرنا
چاہتا تو بتا دو تاکہ میں باہر سے ٹھیک کرولیتی ہوں۔ میں نے امی کو سور ی بوال اور لی پ ٹاپ لے کر اپنے کمرے آگیا۔ لیپ ٹاپ
وائرس کی وجہ سے بوٹ نہیں ہو ر یا تھا جسے میں کچھ دیر میں ہی ٹھیک کر لیا ۔ لیپ ٹاپ کے اندر میں غیر ارادہً ہی ڈیٹا چیک
کر رہا تھا کہ مجھے مائی ڈاکومنٹ میں ڈیوڈ کی ایک فوٹو پڑ ی ہوئ ی نظر آئی۔ مجھے فوٹو دیکھ کر حیرت ہوئی۔ میں امی کے
لیپ ٹاپ کو اچھی طرح سے چیک کرنا شروع کر دیا ۔
مجھے مز ید کوئی فوٹو نا مل سکی ۔ لی کن مجھے یہ یقین ہو گیا تھا ۔ کہ میر ی امی یا پھر ڈیوڈ ایک دوسرے کے رابطے میں تھے۔
اچانک میرے ذہن میں ای ک خیال آی ا کہ کیوں نا امی کی میل کو چی ک کیا جائے۔ میں نے برائوزر میں ای میل کے لیے ویب سائیٹ
کھولی تھی امی کا ای میل آٹو سائن ان ہوگی ا۔ میر ی امی کا لیپ ٹاپ شاید جب بند ہوا تھا تب شای د ان کا ای میل سائن ان تھا۔ میں
نے انکی میلز کو چیک کرنا شروع کر دیا ۔ میں میلز کی فہرست کو دیکھا تو میرا دل زور زور سے ڈھڑکنا شروع ہو گیا۔ کیونکہ
سات دن پہلے کی تار یخ کی ڈیوڈ کی طرف سے میل آئی ہوئی تھی اور امی نے اس میل کو پڑا ہوا تھا۔ میں نے تیز ڈھڑکتے دل
کے ساتھ اس میل کو کھوال۔ میل کا مضمون کچھ اسطرح تھا۔۔۔۔۔ میر ی دیسی سیکس کوئین۔ کسی ہو؟ جو ویسٹرن ڈر یسز تم کو
بھیجں انہں پہن کر الئیو آئو۔ مس یو سو مچھ۔ تیرے سیکسی ننگے جسم کو بھی دی کھنا کا دل کر رہا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔
میرے آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گی ا اور مجھے سمجھ نہیں آرہ ی تھی کہ میں کیا کروں۔ ڈیوڈ میر ی امی کے ساتھ انتا فر ی
کیسے ہو سکتے ہیں۔ یقیناً کچھ گڑبڑ ہے۔ لہذا میں نے امی کے ان بکس کو مز ید کھنگالنا شروع کیا ۔ اس کے بعد ان باکس جو جو
کچھ مواد نکال اس سے یہ کنفرم ہو گیا کہ ڈیوڈ اور میر ی امی کے درمیان شادی والے گھر سے ہی جسمانی تعلق قائم ہو چکا تھا
اور مجھے اس کی خبر ہی نا ہوئی۔ میر ی امی ایک وفادار ، تمیز دار اور رکھ رکھائو رکھنے والی اچھی گھر یلو بیوی تھی۔ پھر
ایسا کیا ہوا کہ اس یہ انتہائی قدم آٹھا لیا اور ایک غیر مرد کے ساتھ جسمانی تعلق قائم کر لیا ۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہاتھا۔ دل
کر رہا تھا کہ ڈیوڈ اور اپنی امی کو قتل کر دوں ۔ میں غصے سے کانپ رہا تھا۔
میں لیپ ٹاپ گھر رکھ کر باہر نکل آیا اور ادھر ادھر شام تک گھومتا رہا۔ میرا غصہ تھوڑا کم ہو چکا تھا۔ لیکن ختم نہیں ہوا تھا۔
میں جاننا چاہتا تھا کہ یہ سب کب اور کیسے شروع ہوا؟ اس میں میر ی امی کا کتنا قصور تھا؟
میں خود کو ٹھوڑا حوصلہ دیا اور رات گھر واپس آ کر اپنے کمرے میں گھس گیا۔ میں اپنی امی کا سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا۔ خود
کو تھوڑا ر یلکس کرنے کے بعد میں نے دوبارہ سے ترتیپ کے ساتھ ڈیوڈ اور امی کی ای میل میں ہونے والی تمام خطوکتابت کو
تفصیل سے پڑھا تو مجھے مندرجہ ذیل تفصیل کا پتہ چال۔ڈیوڈ کو انڈین اور پاکستانی میچور خواتین بہت ز یادہ اٹر یکٹ کرتی تھیں۔ پاکستانی خواتین کے اللچ میں ہی وہ اپنے کالس فیلو کی
شادی میں شرکت کے لیے پاکستان آیا تھا۔ لیکن جب وہ شادی والے گھر پہچا تو بہت مایوس ہوا کیونکہ یہاں نوجوان لڑکیاں ز یادہ
تھیں اور میچور خواتین موٹی اور فربہ قسم کی تھیں۔ لیکن ایک دن بعد جب اس نے میر ی امی کو دیکھا تو وہ بہت خوش ہوا۔
کیونکہ جس قسم کی میچور پاکستانی عورت اسے پسند تھی وہ تمام خصوصیات میر ی امی میں اسے نظر آگئی تھیں۔ ڈیوڈ نے
میر ی امی کو قابو کرنے کے لیے اس سے میل جول شروع کر دیا ۔ لیکن ساتھ ساتھ وہ ڈر بھی رہا تھا کہ کہیں کوئی گڑبڑ نا ہو
جائے۔ کیونکہ اس نے سن رکھا تھا کہ پاکستانی مرد اپنی عورتوں کے معاملے میں بہت ز یادہ حساس اور غیرت مند ہوتے ہیں۔
بحرحال ڈیوڈ نے بہت طر یقے سے میر ی امی کو اپنی باتوں سے متاثر کر لیا۔ مہندی والے دن ڈیوڈ نے میر ی امی پر کھلم کھال
اپنے جھوٹے پیار کا باربار اظہار کرنا شروع کردیا ۔ ردعمل کے طور پر میر ی امی اسے بار بار سمجھاتی رہی کہ وہ شادی شدہ
عورت ہے جسکی ایک مکمل فیمل ی ہے شوہر ہے۔ لیکن ڈیوڈ ۔بازد رہا۔ جب سب گھر والے مہندی کی رات گانے کے مقابلے میں
مصروف تھے ر ات کافی ز یادہ ہو چکی تھی۔ میر ی امی جلدی سونے کی عادی تھی ۔ امی ۔خاموشی اٹھ کر اپنے کمرے کی طرف
سونے کے لیے چلی گئی۔ تب ڈیوڈ نے موقع دیکھتے ہوئے ۔ امی کےپیچے انکے کمرے میں گھس گیا
مہندی والی رات میر ی امی بہت پیار ی لگ رہی تھی اس لیے ڈیوڈ کا دل بہت ز یادہ مچل رہا تھا اور وہ چاہتا تھا کہ آج اس
پاکستانی حسنیہ کو ہر حال میں چھو کر رہے گا۔ میر ی امی کمرے میں آتے ہی سیدھی واش روم میں چلی گئی تا کہ وہ اپنے
کپڑے بدل سکے۔ لیکن جیسے ہی وہ واش روم داخل ہوئی پیچے سے ڈیوڈنے واش روم کا دروازہ بند کر لیا اور میر ی امی کو
فورا ی اپنے ہونٹ امی کے ہونٹ پر رکھ ً اپنی باہنوں میں لے لیا ۔ میر ی امی کے ہوش ہی اڑ گیے۔ ڈیوڈ نے موقع ضائع کیا بغیر ہ
دیے اور کسنگ شروع کر دی۔ میر ی امی مسلسل مزاحمت کر رہی تھی اور خود کو ڈی وڈ کی گرفت سے آزاد کروانے کے لیے
اپنے ہاتھ پائوں زور زور سے چال رہی تھی۔ لی کن کوئی فائدہ نہیں تھا۔ ڈیوڈ ایک دراز قد اور چوڑے سینے واال خوبرو نوجوان
تھا اور اسکے مقابلے میں میر ی امی ایک چھوٹی سی گڑ یا لگ رہی تھی۔ چونکہ میر ی امی جسمانی اور جسنی پیاسی تھی ل ہذا وہ
ز یادہ دیر ڈیوڈ کے آگے مزاحمت نا کر پائی اور اس نے اپنے جسم کو ڈھی ال چھوڑ دیا ۔ ڈیوڈ امی کے ہونٹوں کو اور اسکی زبان
کو چوس رہا تھا۔ اورامی کو کو بھی اب سرور آنا شروع ہو گیا تھا۔ ڈیوڈ نے جب پندرہ منٹ کی زبردست کسنگ کے بعد میر ی
امی کو آزاد کیا تو وہ پور ی طرح گھوم چکی تھی ۔ ا س سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے۔ مزا اور غصہ دونوں ایک ساتھ اس
کے دماغ پر قابض تھے۔ اسے اپنے بچے اور شوہر اور اپنی بے وفائی کا سوچ کر رونا آرہا تھا۔ ابھی وہ یہ سوچ ہی رہی تھی کہ
ڈیوڈ نے امی کو اپنے بازوئوں میں آٹھایا اور بیڈ پر ال کر لیٹا دی ا۔ ڈی وڈ نے کمرے کے دروازے کو اندر سے الک کر دی ا۔ اتنے
میں امی فورا ً بیڈ سے اٹھی اور ڈیوڈ کو کہا کہ خبردار جو تم میر ی طرف آئے۔ پلیز میر ی زندگی طبہ ہو جائی گی اگر کسی نے
ہم دونوں کو دی کھ لی ا۔
ڈیوڈ نے امی کو تسلی دی کہ کچھ نہیں ہوگا۔ باہر سب لوگ شادی کے ہنگامے میں مگن ہیں۔ میں تم سے بہت ز یادہ پیار کرتا ہوں
پلیز مجھے یہ لمحے جی لینے دو۔ ڈیوڈ نے محبت بھر ی باتیں کر کے امی کے دل میں خود کے لیے نرمی پیدا کر لی ۔ لیکن امی
بہت ز یادہ ڈر ی ہوئی تھی۔ اس کی سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کرے۔ ڈ یوڈ نے بیڈ کی طرف آتے ہوئے فورا ً اپنے کپڑے اتار دیے۔
امی نے اپنا منہ دوسر ی طرف کر لیا اور ڈیوڈ سے کہا کہ پلیز اپنے کپڑے پہن لے اور کمرے سے باہر چال جائے۔ لیکن ڈیوڈ امی
کے شربتی ہونٹوں کے رس کو پی کر مدہوش ہو چکا تھا۔ اب اسکے لیے واپسی ناممکن تھی۔
ڈیوڈ نے امی زبردستی اٹھا کر بیڈ پر پٹھکا اور انکے کپڑے اتارنے شروع کر دیے۔ امی نے ایک دفعہ پھر مزاحمت شروع کر
دی ۔ لیکن جیسے ڈیوڈ نے امی کو مکمل ننگا کر لی ا تو ڈیوڈ امی پر جھک گیا اور انہیں پاگلوں کی طرح کس کرنا شروع کردی ا۔
کسنگ کی وجہ سے امی نے پھر خود جسمانی اور جنسی لذت کی وجہ سے ڈھیال چھوڑ دیا۔ ڈیوڈ نے کسنگ کے بعد امی کے
دونوں مموں کو ایک ایک کر اپنے منہ میں لیکر چوسنا شروع کر د یا۔ امی کے منہ سے اب سسکیاں نکل رہی تھیں۔ ڈیوڈ نے امی
کو سر سے پائوں تک خوب چومااور چوسا۔ ڈیوڈ کا لنڈ راکٹ کی طرح سیدھا کھڑا ہو چکا تھا۔ ڈیوڈ نے امی کی دونوں ٹانگوں کو
کھوال اور اپنے راکٹ کو سیدھا امی کی پھدی کے اندر ایک جھٹکے سے پورا داخل کر دیا۔ امی جس کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا
تھا کہ کیا کرے۔ بڑے لنڈ کے اندر جاتے ہی ان کے ہوش ٹھکانے آگئے۔ امی کنور ی لڑکی طرح سسکنے لگی ۔ ڈیوڈ ایک ردھم
کے ساتھ جھٹکے مار کر میر ی امی کو چود رہا تھا۔ امی کو بھی مزا انا شروع ہو گیا تھا۔ امی سب کچھ بھول کر ڈیوڈ کی چدائی
کا مزا لے رہی تھی۔ اور مکمل بھول چکی تھی کہ وہ اس وقت کہاں ہے اور کیا کر رہی ہے۔
باہر سب لوگ برابر گانے کے مقابلے میں شورشرابہ کر رہے تھے۔ اور کسی کو بھی نہیں پتہ تھا کہ اسی گھر میں ایک کمرے
میں ایک انگر یز ایک شادی شدہ عورت کے ساتھ سہاگ رات منا رہا تھا۔
مہندی کا فنکشن رات چار بچے کے قر یب ختم ہوا۔ تب تک ڈیوڈ میر ی امی کو تین بار تسلی کے ساتھ چود چکا تھا اور میر ی امی
کو اپنی چودائی کے لیے قائل کر چکا تھا۔ ۔
ں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مز ید بعد م
۔۔
ہمارا خاندان کافی بڑا ہے۔ اور سب رشتے داروں کے آپس میں بہت اچھے تعلقات ہیں۔ ان اچھے تعلقات کی وجہ سے ہم سب کو
ہر خوشی اور غمی میں ضرور شرکت کرنا پڑتی ہے۔ میرا ایک کزن جو باہر کے ملک پڑھنے گیا ہوا تھا جب وہ اپنی تعلی م مکمل
کر کے پاکستان آیا تو اس کے والدین نے اسکی ایک کزن کے ساتھ اسکی شادی پکی کر دی۔ جیسے ہی شادی کی ڈیٹ فکس ہوئی
اسکے والدین نے پورے خاندان میں منادی کرادی کے سب رشتے دار الزمی شرکت کر یں۔
شادی میں شرکت کرنے کے لیے ہمیں دوسرے شہر جانا تھا۔ میں اور میر ی امی شادی والے گھر دو دن پہلے ہی چلے گئے تھے
کیونکہ میں میٹرک کے امتحانات سے ابھی ابھی فارغ ہوا تھا اور می ر ی امی کی بڑ ی بہن کے بیٹے کے شادی تھی اس لیے ہمیں
شادی والے گھر پہلے ہی جانا پڑا۔
ہی گھل مل گیا اور
شادی والے گھر کو ابھی سے ہی کافی سجادی ا گیا تھا۔ اور کافی مہمان آ چکے تھے۔ میں اپنے کزنوں میں فوراً
خوب انجوائے کرنے لگا۔ میرے جس کزن کی شادی تھی اسکے کچھ فورن کالس فیلو بھی دوسرے ملک سے شادی میں شرکت
کے لیے اس کے گھر آئے ہوئے تھے۔ ہم سب چھوٹے کزن ان سب کے ساتھ ٹوٹی پھوٹی انگلش بول بول کے خوب انجوائے کر
رہے تھے۔
میرے کزن کےتمام فورن دوست گھر کے اندر اور باہر بغیر کسی روک ٹوک اور جھجک کے آ اور جا رہے تھے۔ ہمار ی فیمیلی
نا تو ز یادہ سخت گیر مذہبی یا روایتی پردے والی تھی اور نا ہی ہم ز یادہ لبرل یا آزاد قسم کے لو گ تھے۔ بس درمیانی سی سوچ
اور رسم و رواج والے لوگ تھے۔ ہمار ی کچھ رستے دار خواتین جو شادی میں شرکت کے لیے آئی ہوئی تھیں ان میں سے کچھ
تو ان انگر یز مہمانوں سے پردہ کر رہی تھیں اور کچھ بغیر کسی جھجک کے ان انگر یزوں سے بات چیت کبھی کبھی کر لیتی ۔
میر ی امی بھی دوسر ی قسم کی خواتین میں تھیں۔ میر ی امی تھوڑ ی شرمیلی تھیں پر ز یادہ پردہ وغیرہ نہیں کرتی تھیں۔
ہمیں شادی والے گھر آئے ہوئے پورا ایک دن گزر چکا تھا۔ میں نے نوٹ کیا کہ سب انگر یز مہمانوں میں سے ایک انگر یز جس
کا نام ڈیوڈ تھا وہ بہانے بہانے سے میر ی امی کے آس پاس آجا رہا تھا۔ پہلے تو میں نے سوچا شای د یہ میرا وہم ہو لیکن میں تھوڑا
پینتالیس
مز ید غور کیا تو مجھے یقین ہوگیا کہ ڈیوڈ میر ی امی کے پاس ز یادہ گھوم پھر رہا ہے۔ میر ی امی جان کی عمر تقر یباً
برس کے لگ بھگ تھی ۔ لی کن دبلی اور پتلے جسم کی وجہ سے وہ اپنی حقیقی عمر سے کم دیکھائی دیتی تھی۔ میر ی امی کے
سیاہ اور گھنے لمبے بال تھےجنہیں وہ پراندے میں باندھ کر ہمیشہ رکھتی تھی۔ میر ی امی ناز یادہ موٹی تھی اور نا ہی ز یادہ پتلی
تھی۔ بس میر ی امی کے پورے جسم کی خدوخال بہت نمایاں اور سیکسی تھی۔ میں اپنی امی کو کبھی گندی نظر سے نہیں دیکھا
تھا۔ لیکن یہ سب معلومات مجھے بعد میں پتہ چلی ۔
ڈیوڈ ایک بائیس سالہ دراز قد اور چوڑ ی چھاتی واال خوبصورت نوجوان تھا۔ شادی والے گھر بہت خوبصورت اور نوجوان لڑکیاں
بھی موجود تھیں لیکن یہ ڈیوڈ کسی کی بھی طرف ویسے نہیں دیکھ رہا تھا جیسے وہ میر ی امی پر مسلسل اپنی نگاہیں گاڑے ہوا
تھا۔ مجھے تھوڑ ی الجھن ہو رہی تھی کہ یہ انگر یز کیوں میر ی امی میں دلچسپی لے رہا ہے۔ پیلے تو میں نے سوچا کہ اپنی امی
کو کہوں کہ اس دور رہے اور کسی بھی قسم کی بات اس سے نا کرے۔ لیکن پھر میں نے سوچا کہ میر ی امی میرے بارے میں
کیا سوچے گی کہ میں اس پرخدا نا خواستہ شک کر رہا ہوں۔
بحرحال میں نے سوچا کہ کونسا اس انگر یز نے ہمشہ ادھر ہی رہنا ہے شادی ختم ہوتے ہی یہ واپس اپنی ملک چال جائے گا۔ لہذا
میں نے اپنے دماغ پر فضول بوجھ ڈالنے کے بجائے شادی کو انجوائے کرنا کا سوچااور اپنے کزنوں کے ساتھ ایک دفعہ پھر
مصروف ہو گیا۔
مہندی کا فنکشن شروع ہونے واال تھا اور سب تیار ہو رہے تھے۔ می ں نے اپنی امی کو دیکھا تو میں دیکھتا ہی رہ گیا۔ انہوں نے
پیلے رنگ کا مہندی کے فنکشن کی مناسبت سے لباس پہنا ہوا تھا۔ اپنے سیاہ گھنے بالوں کو اپنی کمر پر کھوال چھوڑ رکھا تھا۔
نفیس میک اپ کی وجہ سے میر ی امی ایک نوجوان لڑکی لگ رہی تھی۔ میں نے اپنی امی کو مسکراتے ہوئے سب کے سامنے
چھیڑا کہ یہ لڑکی کہاں سے آئی ہے۔۔۔۔۔ میر ی امی کا چہرہ حیا اور شرم سے الل ہو گیا اور سب ہنسنے لگ گئے میر ی امی بھی
آہستہ سے مسکرا دی اور مجھے غصے گھورا۔میں نے پھر امی کو تنگ کرتے ہوئے کہا کہ کاش آج ابو دبئی سے پاکستان آئے ہوتے تو انکی خیر نہیں تھیں۔ ابو کا سن کر
میر ی امی تھوڑا اداس ہو گئی۔ انکی کاجل سے سجھی خوبصورت آنکھیں پانی سے بھر گئیں۔ میں ماحول کی نزاکت کو سمجھتے
ہوئے فورا یا ۔ اور امی سے کہا کہ میرے لیے اس شادی میں سے اپنی جیسی خوبصورت سی لڑکی تو ً سے باتوں کا موضوع بدل د
ڈھونڈ دیں۔ میر ی امی ایک دفعہ پھر مسکر ا دی ۔ میں اپنی امی سے بہت پیار کرتا تھا اور انکی آنکھوں میں ایک آنسو کا قطرہ
نہیں دیکھ سکتا تھا ۔
مہندی کا فنکشن بہت زبردست جا رہا تھا۔ ہم سب کزنوں نے خوب ادھم مچا رکھا تھا۔ جب جب میر ی نظر امی پڑتی تو ان کے
آگے پیچھے یا دائیں بائیں مجھے ڈیوڈ ہی نظر آتا۔ مجھے تھوڑا غصہ آتا لیکن پھر جب اپنی امی کو مسکراتے اور ہنستے ہوئے
اس انگر یز کے ساتھ بات کرتے دیکھتا تو مییں تھوڑاخود کو تسلی د یتا کہ چلوکوئی بات نہیں۔ میر ی امی اس کے بات کر کہ شاید
اچھا محسوس کر رہی ہے۔
میر ی امی میرے ابو کو بہت ز یادہ مس کرتی تھی۔ میرا ابو کبھی دو اور کبھی تین تین سال بعد دبئی سے گھر واپس چکر لگاتا تھا۔
۔ شادی کے شور شرابے اور ہنگامے میں میں اتنا ز یادہ مصروف ہوا کہ ہمار ی روانگی کا وقت آن پہنچا۔ جب ہم پانے گھر کے
لیے روانہ ہو رہے تھے تو تب بھی ڈیوڈ کی نظر یں میر ی امی پر ہی تھیں۔لیکن میر ی امی اب اس سے تھوڑا جھجک رہی تھی
اور اسکی طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھ رہی تھی۔ حاالنکہ شروع میں تومیر ی امی بہت مسکرا مسکرا اس باتیں کرتی رہی تھی۔
ڈیوڈ کی پر مجھے اب سچ میں غصہ آ رہا تھا لی کن میں خود پر کنڑول رکھا۔ کیونکہ میں جانتا تھا کہ اب ہم لوگ گھر واپس جا
رہے ہیں۔ اب غصے کا کوئی فائدہ نہیں ویسے بھی اب یہ کونساانگر یز کا بچا کہاں نظر ائے گا۔
شادی سے گھر واپس آنے کے بعد کوئی تین مہینے بعد کی بات ہے کہ میر ی امی نے مجھے کہا کا انکا لیپ ٹاپ ٹھیک طرح سے
کام نہیں کر رہا۔ پلیز اسے ایک بار دیکھ لو کیا مسلہ ہے۔ میں نے ام ی سے کہا کہ رات کو آرام سے چیک کروں گا۔ ابھی میں
دوستوں کے ساتھ کرکٹ کھیلنے جا رہا ہوں۔
میں بھول گیا کہ میں نے امی کا لیپ ٹاپ ٹھیک کرنا تھا۔ تین دن بعد امی نے مجھے غصے سے کہا کہ اگر تم ٹھیک نہیں کرنا
چاہتا تو بتا دو تاکہ میں باہر سے ٹھیک کرولیتی ہوں۔ میں نے امی کو سور ی بوال اور لی پ ٹاپ لے کر اپنے کمرے آگیا۔ لیپ ٹاپ
وائرس کی وجہ سے بوٹ نہیں ہو ر یا تھا جسے میں کچھ دیر میں ہی ٹھیک کر لیا ۔ لیپ ٹاپ کے اندر میں غیر ارادہً ہی ڈیٹا چیک
کر رہا تھا کہ مجھے مائی ڈاکومنٹ میں ڈیوڈ کی ایک فوٹو پڑ ی ہوئ ی نظر آئی۔ مجھے فوٹو دیکھ کر حیرت ہوئی۔ میں امی کے
لیپ ٹاپ کو اچھی طرح سے چیک کرنا شروع کر دیا ۔
مجھے مز ید کوئی فوٹو نا مل سکی ۔ لی کن مجھے یہ یقین ہو گیا تھا ۔ کہ میر ی امی یا پھر ڈیوڈ ایک دوسرے کے رابطے میں تھے۔
اچانک میرے ذہن میں ای ک خیال آی ا کہ کیوں نا امی کی میل کو چی ک کیا جائے۔ میں نے برائوزر میں ای میل کے لیے ویب سائیٹ
کھولی تھی امی کا ای میل آٹو سائن ان ہوگی ا۔ میر ی امی کا لیپ ٹاپ شاید جب بند ہوا تھا تب شای د ان کا ای میل سائن ان تھا۔ میں
نے انکی میلز کو چیک کرنا شروع کر دیا ۔ میں میلز کی فہرست کو دیکھا تو میرا دل زور زور سے ڈھڑکنا شروع ہو گیا۔ کیونکہ
سات دن پہلے کی تار یخ کی ڈیوڈ کی طرف سے میل آئی ہوئی تھی اور امی نے اس میل کو پڑا ہوا تھا۔ میں نے تیز ڈھڑکتے دل
کے ساتھ اس میل کو کھوال۔ میل کا مضمون کچھ اسطرح تھا۔۔۔۔۔ میر ی دیسی سیکس کوئین۔ کسی ہو؟ جو ویسٹرن ڈر یسز تم کو
بھیجں انہں پہن کر الئیو آئو۔ مس یو سو مچھ۔ تیرے سیکسی ننگے جسم کو بھی دی کھنا کا دل کر رہا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔
میرے آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گی ا اور مجھے سمجھ نہیں آرہ ی تھی کہ میں کیا کروں۔ ڈیوڈ میر ی امی کے ساتھ انتا فر ی
کیسے ہو سکتے ہیں۔ یقیناً کچھ گڑبڑ ہے۔ لہذا میں نے امی کے ان بکس کو مز ید کھنگالنا شروع کیا ۔ اس کے بعد ان باکس جو جو
کچھ مواد نکال اس سے یہ کنفرم ہو گیا کہ ڈیوڈ اور میر ی امی کے درمیان شادی والے گھر سے ہی جسمانی تعلق قائم ہو چکا تھا
اور مجھے اس کی خبر ہی نا ہوئی۔ میر ی امی ایک وفادار ، تمیز دار اور رکھ رکھائو رکھنے والی اچھی گھر یلو بیوی تھی۔ پھر
ایسا کیا ہوا کہ اس یہ انتہائی قدم آٹھا لیا اور ایک غیر مرد کے ساتھ جسمانی تعلق قائم کر لیا ۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہاتھا۔ دل
کر رہا تھا کہ ڈیوڈ اور اپنی امی کو قتل کر دوں ۔ میں غصے سے کانپ رہا تھا۔
میں لیپ ٹاپ گھر رکھ کر باہر نکل آیا اور ادھر ادھر شام تک گھومتا رہا۔ میرا غصہ تھوڑا کم ہو چکا تھا۔ لیکن ختم نہیں ہوا تھا۔
میں جاننا چاہتا تھا کہ یہ سب کب اور کیسے شروع ہوا؟ اس میں میر ی امی کا کتنا قصور تھا؟
میں خود کو ٹھوڑا حوصلہ دیا اور رات گھر واپس آ کر اپنے کمرے میں گھس گیا۔ میں اپنی امی کا سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا۔ خود
کو تھوڑا ر یلکس کرنے کے بعد میں نے دوبارہ سے ترتیپ کے ساتھ ڈیوڈ اور امی کی ای میل میں ہونے والی تمام خطوکتابت کو
تفصیل سے پڑھا تو مجھے مندرجہ ذیل تفصیل کا پتہ چال۔ڈیوڈ کو انڈین اور پاکستانی میچور خواتین بہت ز یادہ اٹر یکٹ کرتی تھیں۔ پاکستانی خواتین کے اللچ میں ہی وہ اپنے کالس فیلو کی
شادی میں شرکت کے لیے پاکستان آیا تھا۔ لیکن جب وہ شادی والے گھر پہچا تو بہت مایوس ہوا کیونکہ یہاں نوجوان لڑکیاں ز یادہ
تھیں اور میچور خواتین موٹی اور فربہ قسم کی تھیں۔ لیکن ایک دن بعد جب اس نے میر ی امی کو دیکھا تو وہ بہت خوش ہوا۔
کیونکہ جس قسم کی میچور پاکستانی عورت اسے پسند تھی وہ تمام خصوصیات میر ی امی میں اسے نظر آگئی تھیں۔ ڈیوڈ نے
میر ی امی کو قابو کرنے کے لیے اس سے میل جول شروع کر دیا ۔ لیکن ساتھ ساتھ وہ ڈر بھی رہا تھا کہ کہیں کوئی گڑبڑ نا ہو
جائے۔ کیونکہ اس نے سن رکھا تھا کہ پاکستانی مرد اپنی عورتوں کے معاملے میں بہت ز یادہ حساس اور غیرت مند ہوتے ہیں۔
بحرحال ڈیوڈ نے بہت طر یقے سے میر ی امی کو اپنی باتوں سے متاثر کر لیا۔ مہندی والے دن ڈیوڈ نے میر ی امی پر کھلم کھال
اپنے جھوٹے پیار کا باربار اظہار کرنا شروع کردیا ۔ ردعمل کے طور پر میر ی امی اسے بار بار سمجھاتی رہی کہ وہ شادی شدہ
عورت ہے جسکی ایک مکمل فیمل ی ہے شوہر ہے۔ لیکن ڈیوڈ ۔بازد رہا۔ جب سب گھر والے مہندی کی رات گانے کے مقابلے میں
مصروف تھے ر ات کافی ز یادہ ہو چکی تھی۔ میر ی امی جلدی سونے کی عادی تھی ۔ امی ۔خاموشی اٹھ کر اپنے کمرے کی طرف
سونے کے لیے چلی گئی۔ تب ڈیوڈ نے موقع دیکھتے ہوئے ۔ امی کےپیچے انکے کمرے میں گھس گیا
مہندی والی رات میر ی امی بہت پیار ی لگ رہی تھی اس لیے ڈیوڈ کا دل بہت ز یادہ مچل رہا تھا اور وہ چاہتا تھا کہ آج اس
پاکستانی حسنیہ کو ہر حال میں چھو کر رہے گا۔ میر ی امی کمرے میں آتے ہی سیدھی واش روم میں چلی گئی تا کہ وہ اپنے
کپڑے بدل سکے۔ لیکن جیسے ہی وہ واش روم داخل ہوئی پیچے سے ڈیوڈنے واش روم کا دروازہ بند کر لیا اور میر ی امی کو
فورا ی اپنے ہونٹ امی کے ہونٹ پر رکھ ً اپنی باہنوں میں لے لیا ۔ میر ی امی کے ہوش ہی اڑ گیے۔ ڈیوڈ نے موقع ضائع کیا بغیر ہ
دیے اور کسنگ شروع کر دی۔ میر ی امی مسلسل مزاحمت کر رہی تھی اور خود کو ڈی وڈ کی گرفت سے آزاد کروانے کے لیے
اپنے ہاتھ پائوں زور زور سے چال رہی تھی۔ لی کن کوئی فائدہ نہیں تھا۔ ڈیوڈ ایک دراز قد اور چوڑے سینے واال خوبرو نوجوان
تھا اور اسکے مقابلے میں میر ی امی ایک چھوٹی سی گڑ یا لگ رہی تھی۔ چونکہ میر ی امی جسمانی اور جسنی پیاسی تھی ل ہذا وہ
ز یادہ دیر ڈیوڈ کے آگے مزاحمت نا کر پائی اور اس نے اپنے جسم کو ڈھی ال چھوڑ دیا ۔ ڈیوڈ امی کے ہونٹوں کو اور اسکی زبان
کو چوس رہا تھا۔ اورامی کو کو بھی اب سرور آنا شروع ہو گیا تھا۔ ڈیوڈ نے جب پندرہ منٹ کی زبردست کسنگ کے بعد میر ی
امی کو آزاد کیا تو وہ پور ی طرح گھوم چکی تھی ۔ ا س سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے۔ مزا اور غصہ دونوں ایک ساتھ اس
کے دماغ پر قابض تھے۔ اسے اپنے بچے اور شوہر اور اپنی بے وفائی کا سوچ کر رونا آرہا تھا۔ ابھی وہ یہ سوچ ہی رہی تھی کہ
ڈیوڈ نے امی کو اپنے بازوئوں میں آٹھایا اور بیڈ پر ال کر لیٹا دی ا۔ ڈی وڈ نے کمرے کے دروازے کو اندر سے الک کر دی ا۔ اتنے
میں امی فورا ً بیڈ سے اٹھی اور ڈیوڈ کو کہا کہ خبردار جو تم میر ی طرف آئے۔ پلیز میر ی زندگی طبہ ہو جائی گی اگر کسی نے
ہم دونوں کو دی کھ لی ا۔
ڈیوڈ نے امی کو تسلی دی کہ کچھ نہیں ہوگا۔ باہر سب لوگ شادی کے ہنگامے میں مگن ہیں۔ میں تم سے بہت ز یادہ پیار کرتا ہوں
پلیز مجھے یہ لمحے جی لینے دو۔ ڈیوڈ نے محبت بھر ی باتیں کر کے امی کے دل میں خود کے لیے نرمی پیدا کر لی ۔ لیکن امی
بہت ز یادہ ڈر ی ہوئی تھی۔ اس کی سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کرے۔ ڈ یوڈ نے بیڈ کی طرف آتے ہوئے فورا ً اپنے کپڑے اتار دیے۔
امی نے اپنا منہ دوسر ی طرف کر لیا اور ڈیوڈ سے کہا کہ پلیز اپنے کپڑے پہن لے اور کمرے سے باہر چال جائے۔ لیکن ڈیوڈ امی
کے شربتی ہونٹوں کے رس کو پی کر مدہوش ہو چکا تھا۔ اب اسکے لیے واپسی ناممکن تھی۔
ڈیوڈ نے امی زبردستی اٹھا کر بیڈ پر پٹھکا اور انکے کپڑے اتارنے شروع کر دیے۔ امی نے ایک دفعہ پھر مزاحمت شروع کر
دی ۔ لیکن جیسے ڈیوڈ نے امی کو مکمل ننگا کر لی ا تو ڈیوڈ امی پر جھک گیا اور انہیں پاگلوں کی طرح کس کرنا شروع کردی ا۔
کسنگ کی وجہ سے امی نے پھر خود جسمانی اور جنسی لذت کی وجہ سے ڈھیال چھوڑ دیا۔ ڈیوڈ نے کسنگ کے بعد امی کے
دونوں مموں کو ایک ایک کر اپنے منہ میں لیکر چوسنا شروع کر د یا۔ امی کے منہ سے اب سسکیاں نکل رہی تھیں۔ ڈیوڈ نے امی
کو سر سے پائوں تک خوب چومااور چوسا۔ ڈیوڈ کا لنڈ راکٹ کی طرح سیدھا کھڑا ہو چکا تھا۔ ڈیوڈ نے امی کی دونوں ٹانگوں کو
کھوال اور اپنے راکٹ کو سیدھا امی کی پھدی کے اندر ایک جھٹکے سے پورا داخل کر دیا۔ امی جس کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا
تھا کہ کیا کرے۔ بڑے لنڈ کے اندر جاتے ہی ان کے ہوش ٹھکانے آگئے۔ امی کنور ی لڑکی طرح سسکنے لگی ۔ ڈیوڈ ایک ردھم
کے ساتھ جھٹکے مار کر میر ی امی کو چود رہا تھا۔ امی کو بھی مزا انا شروع ہو گیا تھا۔ امی سب کچھ بھول کر ڈیوڈ کی چدائی
کا مزا لے رہی تھی۔ اور مکمل بھول چکی تھی کہ وہ اس وقت کہاں ہے اور کیا کر رہی ہے۔
باہر سب لوگ برابر گانے کے مقابلے میں شورشرابہ کر رہے تھے۔ اور کسی کو بھی نہیں پتہ تھا کہ اسی گھر میں ایک کمرے
میں ایک انگر یز ایک شادی شدہ عورت کے ساتھ سہاگ رات منا رہا تھا۔
مہندی کا فنکشن رات چار بچے کے قر یب ختم ہوا۔ تب تک ڈیوڈ میر ی امی کو تین بار تسلی کے ساتھ چود چکا تھا اور میر ی امی
کو اپنی چودائی کے لیے قائل کر چکا تھا۔ ۔
ں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مز ید بعد م