- Moderator
- #1
سولہویں صدی کے آغاز میں، ایزٹک سلطنت امریکہ کی سب سے طاقتور تہذیبوں میں شمار ہوتی تھی۔ اس کا مرکز دارالحکومت ٹینوچٹٹلان تھا، جو ایک جھیل کے بیچ واقع جزیرے پر آباد تھا۔ یہ شہر عجائبات سے بھرا ہوا تھا—نہریں جو گلیوں کی جگہ استعمال ہوتی تھیں، تیرتے ہوئے باغات جنہیں “چنامپاس” کہا جاتا تھا، شاندار مندر، اور بڑے بازار جہاں ہزاروں لوگ خرید و فروخت کرتے تھے۔ بعد کے ہسپانوی مؤرخوں نے اس شہر کو وینس سے تشبیہ دی۔ ایزٹک عوام اپنے بادشاہ مونٹیزوما دوم کو خداؤں کا چنا ہوا سمجھتے تھے اور انہیں یقین تھا کہ ان کی سلطنت ہمیشہ قائم رہے گی۔
مگر بحرِ اوقیانوس کے اُس پار، دنیا بدل رہی تھی۔ اسپین نے دریافت اور فتوحات کا سلسلہ شروع کر دیا تھا۔ 1519 میں، ایک ہسپانوی فاتح ہیرنان کورٹیز چند سو سپاہیوں، کچھ توپوں اور گھوڑوں کے ساتھ میکسیکو کے ساحل پر اُترا۔ اس کے پاس صرف 500 کے قریب سپاہی تھے، مگر اس کے پاس دو ہتھیار ایسے تھے جو فیصلہ کن ثابت ہوئے: فولادی اسلحہ اور بے پناہ حوصلہ۔
ایزٹک عوام کو ابتدا میں ان اجنبیوں کے بارے میں زیادہ علم نہ تھا۔ ان کی آمد ایسے وقت پر ہوئی جب آسمان پر عجیب نشان ظاہر ہو رہے تھے—دھماکے، آسمانی بجلی کا مندر پر گرنا، اور پراسرار آگ۔ کچھ پجاریوں نے سرگوشیاں کیں کہ شاید کورٹیز وہی دیوتا کویٹز الکوٹل ہے جس کی واپسی کی پیشگوئی مشرق سے کی گئی تھی۔
کورٹیز ایک ماہر حکمتِ عملی کا مالک تھا۔ اس نے جلد ہی سمجھ لیا کہ ایزٹکوں کے کئی دشمن ہیں—وہ قبائل جو طویل عرصے سے ایزٹک حکمرانوں کے ظلم اور بھاری خراج تلے دبے ہوئے تھے۔ کورٹیز نے ان سے اتحاد کیا، خاص طور پر ٹلاسکالہ قبیلے سے، اور یوں ہزاروں مقامی جنگجو اس کی فوج میں شامل ہوگئے۔ ان سب نے مل کر ایزٹک دارالحکومت کی طرف مارچ شروع کیا۔
جب کورٹیز بالآخر ٹینوچٹٹلان پہنچا، تو مونٹیزوما نے اسے احترام کے ساتھ خوش آمدید کہا۔ شاید بادشاہ یہ سوچ کر ہچکچاہٹ کا شکار تھا کہ کہیں یہ واقعی کوئی دیوتا نہ ہو۔ ہسپانوی سپاہی شہر کو دیکھ کر حیران رہ گئے۔ بلند و بالا مندر، آبی راستے، اور بڑے بڑے بازار یورپ کے شہروں کا مقابلہ کر سکتے تھے۔ مگر کورٹیز نے اس سب کے پیچھے ایک اور چیز دیکھی—دولت۔ سونا، چاندی اور بے شمار وسائل، جو اسپین کی ہوس کے لیے کافی تھے۔
وقت کے ساتھ کشیدگی بڑھنے لگی۔ ہسپانوی سپاہی بت شکن تھے اور مسیحیت پھیلانے کی کوشش کرتے تھے۔ جب انہیں اندازہ ہوا کہ مونٹیزوما اب بھی عوام میں طاقت رکھتا ہے، تو انہوں نے بادشاہ کو اس کے ہی محل میں قید کر لیا۔ یہ ایزٹک عوام کے لیے ایک توہین تھی۔ عوام میں غصہ بھڑک اٹھا اور بغاوت شروع ہوگئی۔ جلد ہی شہر میں خونریز لڑائیاں ہونے لگیں۔ اس ہنگامے میں مونٹیزوما مارا گیا—کچھ کہتے ہیں اسپینیوں کے ہاتھوں، کچھ کہتے ہیں اپنی ہی قوم کے ہاتھوں۔
کورٹیز اور اس کے سپاہی شہر سے رات کے اندھیرے میں بھاگ نکلے۔ یہ واقعہ تاریخ میں لا نوشے تریستے یعنی “غم کی رات” کے نام سے مشہور ہے۔ سینکڑوں ہسپانوی سپاہی اور ان کے اتحادی قبائل مارے گئے۔ مگر کورٹیز شکست تسلیم کرنے والا نہ تھا۔ اس نے اپنی فوج دوبارہ منظم کی، مزید کمک حاصل کی اور ایک بار پھر واپس آیا۔ اس بار اس نے ٹینوچٹٹلان کا محاصرہ کیا۔
مہینوں تک محاصرہ جاری رہا۔ سپین کے جہازوں نے جھیل کو گھیر لیا، رسد اور پانی کی سپلائی بند کر دی۔ بھوک اور بیماری نے شہر کو تباہ کر دیا۔ سب سے ہولناک ضرب وہ بیماری تھی جو یورپی لائے تھے—چیچک۔ اس نے ہزاروں ایزٹکوں کی جان لے لی۔ بالآخر اگست 1521 میں عظیم شہر ٹینوچٹٹلان ڈھیر ہوگیا۔ ایزٹک سلطنت ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی، اور اسپین نے اس علاقے کو “نیو اسپین” قرار دیا۔
ایزٹک سلطنت کا زوال دنیا کی تاریخ میں ایک اہم موڑ تھا۔ ایک عظیم تہذیب اپنے معبودوں اور عظمت کے ساتھ مٹ گئی۔ مقامی عوام کے لیے یہ صدیوں کی غلامی کا آغاز تھا، اور یورپ کے لیے یہ نئے دور کا آغاز، جس میں تجارت، نوآبادیات اور سلطنتوں کا پھیلاؤ شامل تھا۔
تاہم، ایزٹک ورثہ مٹ نہ سکا۔ ان کی زبان، ان کی روایات اور ان کا ثقافتی اثر آج بھی زندہ ہے۔ جدید میکسیکو ان ہی تہذیبوں کے امتزاج کا نتیجہ ہے۔ آج میکسیکو سٹی کے نیچے ایزٹک دارالحکومت کے کھنڈر دفن ہیں، مگر اس عظیم قوم کی یاد اب بھی زندہ ہے—یہ یاد دہانی کہ انسانی تہذیب اپنی بلندیوں اور اپنی تباہیوں کے ساتھ ہمیشہ تاریخ میں محفوظ رہتی ہے۔
مگر بحرِ اوقیانوس کے اُس پار، دنیا بدل رہی تھی۔ اسپین نے دریافت اور فتوحات کا سلسلہ شروع کر دیا تھا۔ 1519 میں، ایک ہسپانوی فاتح ہیرنان کورٹیز چند سو سپاہیوں، کچھ توپوں اور گھوڑوں کے ساتھ میکسیکو کے ساحل پر اُترا۔ اس کے پاس صرف 500 کے قریب سپاہی تھے، مگر اس کے پاس دو ہتھیار ایسے تھے جو فیصلہ کن ثابت ہوئے: فولادی اسلحہ اور بے پناہ حوصلہ۔
ایزٹک عوام کو ابتدا میں ان اجنبیوں کے بارے میں زیادہ علم نہ تھا۔ ان کی آمد ایسے وقت پر ہوئی جب آسمان پر عجیب نشان ظاہر ہو رہے تھے—دھماکے، آسمانی بجلی کا مندر پر گرنا، اور پراسرار آگ۔ کچھ پجاریوں نے سرگوشیاں کیں کہ شاید کورٹیز وہی دیوتا کویٹز الکوٹل ہے جس کی واپسی کی پیشگوئی مشرق سے کی گئی تھی۔
کورٹیز ایک ماہر حکمتِ عملی کا مالک تھا۔ اس نے جلد ہی سمجھ لیا کہ ایزٹکوں کے کئی دشمن ہیں—وہ قبائل جو طویل عرصے سے ایزٹک حکمرانوں کے ظلم اور بھاری خراج تلے دبے ہوئے تھے۔ کورٹیز نے ان سے اتحاد کیا، خاص طور پر ٹلاسکالہ قبیلے سے، اور یوں ہزاروں مقامی جنگجو اس کی فوج میں شامل ہوگئے۔ ان سب نے مل کر ایزٹک دارالحکومت کی طرف مارچ شروع کیا۔
جب کورٹیز بالآخر ٹینوچٹٹلان پہنچا، تو مونٹیزوما نے اسے احترام کے ساتھ خوش آمدید کہا۔ شاید بادشاہ یہ سوچ کر ہچکچاہٹ کا شکار تھا کہ کہیں یہ واقعی کوئی دیوتا نہ ہو۔ ہسپانوی سپاہی شہر کو دیکھ کر حیران رہ گئے۔ بلند و بالا مندر، آبی راستے، اور بڑے بڑے بازار یورپ کے شہروں کا مقابلہ کر سکتے تھے۔ مگر کورٹیز نے اس سب کے پیچھے ایک اور چیز دیکھی—دولت۔ سونا، چاندی اور بے شمار وسائل، جو اسپین کی ہوس کے لیے کافی تھے۔
وقت کے ساتھ کشیدگی بڑھنے لگی۔ ہسپانوی سپاہی بت شکن تھے اور مسیحیت پھیلانے کی کوشش کرتے تھے۔ جب انہیں اندازہ ہوا کہ مونٹیزوما اب بھی عوام میں طاقت رکھتا ہے، تو انہوں نے بادشاہ کو اس کے ہی محل میں قید کر لیا۔ یہ ایزٹک عوام کے لیے ایک توہین تھی۔ عوام میں غصہ بھڑک اٹھا اور بغاوت شروع ہوگئی۔ جلد ہی شہر میں خونریز لڑائیاں ہونے لگیں۔ اس ہنگامے میں مونٹیزوما مارا گیا—کچھ کہتے ہیں اسپینیوں کے ہاتھوں، کچھ کہتے ہیں اپنی ہی قوم کے ہاتھوں۔
کورٹیز اور اس کے سپاہی شہر سے رات کے اندھیرے میں بھاگ نکلے۔ یہ واقعہ تاریخ میں لا نوشے تریستے یعنی “غم کی رات” کے نام سے مشہور ہے۔ سینکڑوں ہسپانوی سپاہی اور ان کے اتحادی قبائل مارے گئے۔ مگر کورٹیز شکست تسلیم کرنے والا نہ تھا۔ اس نے اپنی فوج دوبارہ منظم کی، مزید کمک حاصل کی اور ایک بار پھر واپس آیا۔ اس بار اس نے ٹینوچٹٹلان کا محاصرہ کیا۔
مہینوں تک محاصرہ جاری رہا۔ سپین کے جہازوں نے جھیل کو گھیر لیا، رسد اور پانی کی سپلائی بند کر دی۔ بھوک اور بیماری نے شہر کو تباہ کر دیا۔ سب سے ہولناک ضرب وہ بیماری تھی جو یورپی لائے تھے—چیچک۔ اس نے ہزاروں ایزٹکوں کی جان لے لی۔ بالآخر اگست 1521 میں عظیم شہر ٹینوچٹٹلان ڈھیر ہوگیا۔ ایزٹک سلطنت ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی، اور اسپین نے اس علاقے کو “نیو اسپین” قرار دیا۔
ایزٹک سلطنت کا زوال دنیا کی تاریخ میں ایک اہم موڑ تھا۔ ایک عظیم تہذیب اپنے معبودوں اور عظمت کے ساتھ مٹ گئی۔ مقامی عوام کے لیے یہ صدیوں کی غلامی کا آغاز تھا، اور یورپ کے لیے یہ نئے دور کا آغاز، جس میں تجارت، نوآبادیات اور سلطنتوں کا پھیلاؤ شامل تھا۔
تاہم، ایزٹک ورثہ مٹ نہ سکا۔ ان کی زبان، ان کی روایات اور ان کا ثقافتی اثر آج بھی زندہ ہے۔ جدید میکسیکو ان ہی تہذیبوں کے امتزاج کا نتیجہ ہے۔ آج میکسیکو سٹی کے نیچے ایزٹک دارالحکومت کے کھنڈر دفن ہیں، مگر اس عظیم قوم کی یاد اب بھی زندہ ہے—یہ یاد دہانی کہ انسانی تہذیب اپنی بلندیوں اور اپنی تباہیوں کے ساتھ ہمیشہ تاریخ میں محفوظ رہتی ہے۔