• 📚 لوو اسٹوری فورم ممبرشپ

    بنیادی ڈیل

    وی آئی پی

    5000
    تین ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    وی آئی پی پلس

    8000
    چھ ماہ کے لیے
    ٹاپ پیکیج
    👑

    پریمیم

    20000
    چھ ماہ کے لیے

Picture Story ایف اے کی ڈگری کا قرض

sugorandi

Well-known member
Joined
Jan 15, 2023
Messages
51
Reaction score
298
Points
53
Location
pk
السلام علیکم اردو اسٹوری فورم کے سب دوست کیسے ہیں سب کو میرا سلام یہ اردو سٹوری فورم کے لئے میری پہلی کہانی ہے اگر اس میں کوئی کمی بیشی ہو تو اس کے لیے میں پہلے سے معذرت خواہ ہوں یہ کہانی میری ماں صگو کے بارے میں ہے کہ کیسے میں نے اپنی ماں کو ہمارے گھر کے اسٹور روم میں اپنے ابو کے دوست شیدے سے چدواتے دیکھاتو سب سے پہلے میں اپ لوگوں سے اپنی ماں کا تعارف کرواتا ہوں میری ماں صگو کا نام صائمہ بانو ہےسب پیار سے صگو بولتے ہیں اس وقت ان کی عمر کوئی تیس سال ہوگی ان کے بوبز کا سائز اٹھتیس ڈبل ڈی ہےتب تک میں ہی ان کا اکلوتا بیٹا تھا میرے بھائی بہن بعد میں پیدا ہوئےمیری ماں صگو کی شادی اپنے خالہ زاد کزن کے ساتھ ہوئی کوئی میرے ابو کی عمر کوئی میری ماں صگو سے پانچ سال زیادہ ہےمیری ماں صگو صگو کو میرے ابو پسند نہیں تھے لیکن انہوں نے خاندانی مجبوری کی وجہ سے میرے ابو کے ساتھ شادی کی شادی کے بعد بھی میری ماں صگو صگو اور ابو الگ الگ کمروں میں سوتے تھےلیکن کبھی کبھار رات میرےابو میری ماں صگو صگو کوچود لیا کرتے تھے لیکن یہ کبھی کبھار ہی ہوتا تھا کیونکہ میری ماں صگو صگو میرے ابو کی پرفارمنس سے خوش نہیں تھی میری ماں صگو میرے ابو اور دادا دادی سے خوش نہیں تھی اس لیے ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ میں لیڈی ہیلتھ ورکر کی جوبس این تو میری ماں صگو نے اس کے لیے اپلائی کر دیالیڈی ہیلتھ ورکرز کی جاب کے لیے ایف اے تعلیم کا ہونا ضروری تھا جبکہ میری ماں صگو صگو میٹرک پاس تھی تو ابو نے اپنے دوست سے بات کی کی تو ابو کے دوست نے بولا کہ ان کا کوئی جاننے والا بورڈ میں ہے وہ میری ماں صگو کو ایف اے کی ڈگری لے دے گامیرے ابو نے میری ماں صگو کو بتایا کہ اس نے شیدے سے بات کر لی ہے وہ تمہیں ایف اے کی ڈگری لے دے گاتو میری ماں صگو اور میرے ابو کے دوست شیدے نے پلان بنایا کہ وہ کسی دن بورڈ جائیں گے تو بنائے ہوئے پلان کے مطابق وہ اس دن بورڈ کے لئے نکلے اور میں بھی اپنی ماں کے ساتھ تھا راستے میں میری ماں صگو کی شیدے کے ساتھ بات ہوئی تو میری ماں صگو بولی شیدے آپ لوگوں کی تو مجھے ہیں جو آپ لوگ رہتے ہیں شیدا آگے سے بورڈ انداز میں بول بالا کے مجھے تو ان کی ہیں جو پاکستان میں اپنی بیویوں کے ساتھ رہتے ہیں میں تو ملک سے باہر رہتا ہوں اور میری بیوی کی عمر زیادہ ہے تو میری کس طرح کس طرح موجیں ہوئی موجیں تو میرے دوست جانے کی ہیں جو کہ پاکستان میں اپنی بیوی کے ساتھ رہتا ہے اور خوب انجوائے کرتا ہےمیری ماں صگو آگے سے بولی شیدے میری موجیں کیا ہیں تمہارا دوست جانا کبھی کبھار مہینے میں ایک بار سیکس کر لیتا ہے اور اس کی ٹائمنگ بھی دو تین منٹ سے زیادہ نہیں ہے میں ویسے ہی فاروغ کے بغیر رہ جاتی ہوں کچھ دیر کے بعد ہم لوگ بورڈ پہنچ گئے مجھے باہر کرسی پر بٹھا کر میری ماں صگو اور شیدا بورڈ کے اندر چلے گئےقریب دو تین گنٹھے کے بعد میری ماں صگو اور شیدا اندر سے باہر آئے تو میری ماں صگو خوش لگ رہی تھی اور ان کے ہاتھ میں کاغذ تھا اس کا مطلب تھا کہ میری ماں صگو کو ایف اے کی ڈگری مل گئی ہےہم لوگ گھر واپس آ گئے اور میری ماں صگو نے ایف اے کی ڈگری ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ میں جمع کروا دیں اور میری ماں صگو کو لیڈی ہیلتھ ورکر کی نوکری مل گئی نوکری پر پہلے دن جاتے ہوئے میرے ابو نے میری ماں صگو کو بولا میری عزت تمہارے ہاتھ میں ہے تممیری عزت کا خیال کرنامیری ماں صگو اپنے منہ میں بڑائی کے پلے آپنے کچھ نہیں تھے عزت کا خیال میں رکھاں میری ماں صگو نے نوکری پر جانا شروع کر دیا یا میری ماں صگو اتنی زیادہ سیکسی تھی کہ ڈاکٹروں اور کمپوڈروں کے لن ٹائیٹ کر دیتی تھی ایک دن میری ماں صگو ہسپتال سے پیدل واپس گھر آ رہی تھی کہ راستے میں شیدا اپنے موٹر سائیکل پر آ رہا تھا تواس نے میری ماں صگو کو پریشان دیکھا تو اس نے میری ماں صگو کو اپنے موٹر سائیکل پر بٹھا لیااور پوچھا خیریت ہے پریشان کیوں لگ رہی ہو تو میری ماں صگو بولی کے کہ جتنے بھی مرد میرے ساتھ کام کرتے ہیں ہیں ان کو لگتا ہے میں گشتی ہوں اور وہ ہر وقت میری پھدی لینے کے چکر میں رہتے ہیں شیدابولا پھدی تو تمہاری لینے کے چکر میں میں بھی ہوں شام کو چار بجے میں نے چلے جانا ہے اگلے چکر تک سوچ کے رکھنا تمہیں مجھے اپنی پھدی دینی ہے کہ نہی ں شام میں ابو کا دوست شیدا ملک سے باہر چلا گیا کوئی دو مہینے کے بعد اس نے ہمارے گھر فون کیا اور میری ماں صگو سے پوچھا اچھا تمہارے بوبز کا سائز کیا ہے
Register or log in to view attachments
میری ماں صگو بولی پہلے تو میرے دودھ اٹھتیس ڈبل ڈی کے تھے لیکن اب یہ چالیس ڈبل ڈی کے ہیں یہ پوچھ کر کر شیدے نے فون کاٹ دیا اور کوئی آٹھ ماہ بعد پاکستان واپس آیا شیدے کو اچھی طرح پتا تھا کہ میرے ابو شام کو پانچ بجے کام سے واپس آتے ہیں تو وہ دوپہر کو دس بجے ہمارے گھر آیامیرے دادا ابو زمینوں کا کام دیکھنے دوسرے گاؤں گئے ہوئے تھے اور میری دادی ماں اپنی کسی رشتے دار کے ہاں گئی ہوئی تھی انہوں نے دو دن کے بعد واپس آنا تھاہمارے گھر میں دو ہی کمرے تھے میں ایک کمرے میں سویا پڑا تھا تو میری امی صغراں شیدے لے کر ہمارے دوسرے روم میں چلی گئی جو کہ ہمارا سٹور روم تھا اس کے اندر ہماری پرانی پیٹیاں الماریاں پڑی ہوئی تھیں میری ماں صگو نے شیدے سے پوچھا تم میرے بوبز کا سائز کیوں پوچھ رہے تھے تو شیدے نے بولا کہ میں تمہارے لئےبریزیر لے کے آیا ہوں اور مجھے ویسے بھی بڑے بڑے دودھ پسند ہیں اور تمہارے تو ماشاء اللہ سے بہت بڑے ہیں یہ سن کر میری ماں صگو کے چہرے پر ایک مسکراہٹ آ گئی جس کو دیکھ کر شیدا بھی ہنس پڑاشیدے نے ایک شاپنگ بیگ کے اندر سے سفید رنگ کا پیڈ بریزیر نکال کر میری امی صغراں کو دیابریزیر اتنا سافٹ اور اتنا عمدہ کوالٹی کا تھا کہ میری ماں صگو بولی کہ شیدے یہ تو کافی مہنگا ہوگا شیدا آگے سے بولا کہ اگر ایک دفعہ یہ ممے دیکھنے کو مل جائیں تو اس کی زیارت کی قیمت کوئی بھی نہیں ہےشیدے بولا صگو تم نے کیا سوچا ہے مجھے پھدی دینی ہے کہ نہی یہ سن کر میری ماں صگو بولی کہ اس کا فیصلہ تو میں تمہارے لن کو دیکھ کر کرو گی کہ مجھے کوئی فائدہ بھی ہوگا یا یہ بھی صرف میری بدنامی کا باعث بنے گااتنا سنتے ہی شیدے نے اپنی شلوار کا ناڑا کھول دیا اور اور اب وہ ننگا میری ماں صگو کے سامنے کھڑا تھا شیدے کا لن میرے ابو کے لن سے پانچ گنا زیادہ بڑا اور موٹا تھاامی صگو نے نیچے بیٹھ کر شیدے کے لن کی پیماہش کی تو شیدے کالن میری امی صگو کی کہنیوں تک آ رہا تھا
Register or log in to view attachments
شیدے کا لن اس کے رنگ کی طرح کالا تھا اور کالے ناک کی طرح پھنکار رہا تھاپہلے تو میری امی صگو شیدے کا لن دیکھ کر ڈر گئی لیکن پھر انہوں نے فیصلہ کیا کہ گدی تو کسی کو دینی ہے کیوں نہ شیدے کو دی جائے کیونکہ اس نے مجھے ایف اے کی ڈگری بھی لے کر دی ہےامی صگو نیچے سے اوپر اٹھیں اور شیدے کو بولا کہ دوسری طرف منہ کر کے کھڑا ہو جائے تو شیدے نے بالکل ایسا کیا تو میری ماں صگو نے اپنا قمیض اور اپنا پرانا بریزئیر اتار کرشیدے کا دیا ہوا نیا پیڈ بریزیر پہن لیا
Register or log in to view attachments
امی صگونے شیدے کو بولا کہ وہ پیچھے مڑ کر دیکھے جب شیدے نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا تو اس کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا کیونکہ میری ماں صگو اس کے لائے ہوئےشیدے کے لائے ہوئے بریزئیر میں بالکل پری کی طرح لگ رہی تھی
Register or log in to view attachments
یہ دیکھ کر شیدے کے لن نے سلامی دینی شروع کر دی لن کو جھٹکے کھاتے دیکھ کر میری ماں صگو نیچے بیٹھ گئی اور شیدے کے لن کو اپنے دونوں ہاتھوں میں پکڑ لیامیری ماں صگو نے شیدے کے لن کی ٹوپی پر اپنی زبان پھیر نی شروع کر دی شیدے نے میری ماں صگو کے بالوں کو پیچھے سے پکڑ لیا اور اپنے لن کو میری ماں صگو کے منہ کے اندر دینا شروع کر دیاشیدے کا لن بڑی مشکل سے پھنس کر میری ماں صگو کے منہ کے اندر جارہا تھا اور میری ماں صگو کو سانس لینے میں مشکل پیش آ رہی تھی جب سانس لینے میں زیادہ مشکل پیش آئی تو شیدے نے اپنا لن میری ماں صگو کے منہ کے اندر سے باہر نکال لیامیری ماں صگو اٹھ کر کھڑی ہو گئی اور اپنے بریزیر کی ہک کھول دی ہک کھول نے کی وجہ سے میری ماں صگو کے سڈول ممے اچھل کر بریزیر سے باہر آگئےدودھ کی طرح کے سفید ممے اوپرایک ایک انچ کی بالکل کالی رنگ کی نپل اور ان کے پلوں کے نیچے ڈیڑھ انچ کے براؤن رنگ کے سرکل کسی بھی مرد کو کھڑے کھڑے فارغ کرسکتے تھے شیدا تو ان کو دیکھ کر پاگل ہی ہو گیا شیدا میری ماں صگو کے مموں پر ٹوٹ پڑا کبھی وہ ایک کو چوسنا شروع کر دیتا تو دوسرے کو اپنے ہاتھوں سے دباتا تو دوسرے کو چوستا تو پہلے کو اپنے ہاتھوں سے دبانا شروع کر ایسا کرنے کے لئے میری ماں صگو کی سسکاریاں مجھے دوسرے کمرے تک سنائی دے رہی تھی جبکہ میں دروازے کے سوراخ سے یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا شیدے نے اپنا ایک ہاتھ میری ماں صگو کی شلوار میں ڈالا اور اپنی انگلی کو میری ماں صگو کی پھدی کے ہونٹوں پر لے گیا تو اس کو کچھ گیلا گیلا محسوس ہوا تو سمجھ گیا کہ میری ماں صگو کی پھدی پانی چھوڑ رہی ہےشیدے نے میری ماں صگو کی شلوارکو نیچے کر دیا اب میری ماں صگو بالکل ننگی شیدے کے سامنے کھڑی تھی سٹور روم میں ہونے کی وجہ سے کمرے میں کوئی چارپائی نہیں تھی
Register or log in to view attachments
تو میری ماں صگو نے ایک چٹائی اٹھائی اور نیچے بچھا لیں اب میری ماں صگو اس چٹائی پر لیٹ گئی تھی شیدا بولا کہ میں جلدی میں کنڈوم لگانا بھول گیا ہوں کیا تمہارے پاس کوئی کنڈوم ہےمیری ماں صگو شیدے کو بولی کنڈوم کی کوئی ضرورت نہیں ہے مجھے ویسے بھی دوسرا بچہ چاہیے اور میں چاہتی ہوں تمہاری طرح بھرپور مرد ہو شیدے یہ سن کر خوش ہوا کہ کہ اتنی خوبصورت عورت شیدے کے بچے کی ماں بننا چاہتی ہے
Register or log in to view attachments
یہ سن کر شیدا بھی میری ماں صگو کے اوپر چٹائی پر لیٹ گیا اور میری ماں صگو کو کسنگ کرنی شروع کردی اور اس کے بعد شیدا کبھی میری ماں صگو کے ایک ممے سے کھیلتا کبھی دوسرے سے ایسا کرتے ہوئےشیدے نے اپنے کالے ناک کی ٹوپی میری ماں صگو کی پھدی کے اوپر سیٹ کی زور لگانے کے باوجود بھی شیدے کا لن میری ماں صگو کی پھدی کے اندر نہیں جا رہا تھا میری ماں صگو کی پھودی بالکل ان ٹچ لگ رہی تھی جیسے کہ کبھی کوءی لن گیا ہی نہ ہوشیدے نے ہلکا سا جھٹکا مارا تو شیدے کے لن کا ٹوپا پھنس کر میری ماں صگو کی پھدی کے اندر چلا گیا لیکن میری ماں صگو کی چیخ نکل گئی شیدا بولا صگومیری جان ابھی تو صرف ٹوپی گئی ہے باقی سارا لن ابھی باقی ہےامی صگو بولی شیدے تو نے میری پرواہ نہیں کرنی میں جتنا مرضی رولا ڈالوں چلاوءں ہو تم نے بس اپنا پورا لن آج میرے اندر کر دینا ہےشیدے نے امی صگو کے منہ کے اوپر اپنا منہ رکھ کر دو سے تین جھٹکے مارے ایسا کرنے سے شیدےکا صرف آدھا لن میری ماں صگو کی پھدی کے اندر جا سکامیری ماں صگو بھی بیہوش ہو گئی تو تو شیدا کچھ دیر کے لئے رکا اور میری ماں صگو کی کانوں کے اوپر تپھتپھیا اور میری ماں صگو کے گالوں کو چوم لیااور میری ماں صگو کے کان میں بولا صگو تم تو بہت نازک ہو لگتا ہے آج تک کبھی لن تمہارے اندر گیا ہی نہی تھوڑی دیر کے بعد میری ماں صگو کو ہوش آیا تو شیدا اوپر اٹھا اوراپنا ایک ہاتھ میری ماں صگو کے منہ کے اوپر رکھا اور زوردار جھٹکا مارا ایسا کرنے سے میری ماں صگو کی آنکھیں الٹی ہو گئی اور میری ماں صگو کے ممے جھولنے شروع ہوگئےیہ دیکھر تو شیدا اور زیادہ پاگل ہوگیا اور دیوانہ وار زوردار جھٹکے مارنے شروع کر دیے اب تو شیدے کو اس بات کی پرواہ بھی نہیں تھی کہ میری ماں صگو کی آنکھوں سے آنسو نکل رہے تھے پورا لن میری ماں صگو کے اندر کر کے ہی دم لیا
Register or log in to view attachments
اب میری ماں صگو کی پھدی کے لیپس بالکل شیدے کے لن کے اوپر ٹائیٹ تھےشیدا کچھ دیر کیلیے رکا تو میری ماں صگو کو بھی ہوش آیا تو میری ماں صگو بولی شیدے تم نے تو آج میری پھودی کو پھاڑ کر پھدا بنا دیا ہےشیدا آگے سے بولا صگو میری جان جو ہونا تھا وہ ہو گیا اب سے مزے ہی مزے ہیں اب شیدا میری ماں صگو کے ساتھ چٹائی پر لیٹ گیا اور میری ماں صگو کی ایک ٹانگ اوپر اٹھا لی اور اپنا لن صگو کی پھدی کے اندر آگے پیچھے کرنا شروع کر دیا اورمیری ماں صگو کے ممے مطلب دودھ چوسنے شروع کر دیئےایسا کرنے سے میری امی صگو کو اور زیادہ مستی چڑھ گئی
Register or log in to view attachments
اور وہ چلا چلا کرکہ رہی تھی شیدے آج پھاڑ دے میری پھدی میری چول چول ہلا دے لن میری بچہ دانی تک لے کے جا کے مارجھٹکے شیدا اپنا فل ذور لگا کر جھٹکے مار رہا تھااس اسٹائل میں میری ماں صگو کی پھدی مارنے کے بعد شیدے نے میری ماں صگو کو بولا کہ وہ گھوڑی بن جائےمیری ماں صگو اٹھی چٹائی کے اوپر ہی گھوڑی بن گئی ماں نے اپنے گھٹنے چٹائی پر لگائے اور سامنے سے اپنے ہاتھ نیچے لگا لیےشیدا پیچھے سے آیا اور شیدے نے اپنا لن میری ماں صگو کی پھدی کے اوپر سیٹ کیا اور اپنے ہاتھوں سے میری ماں صگو کے مموں کو پکڑ لیااور ایک ہی جھٹکے میں شیدے نہیں اپنا آدھا لن میری امی صگو کی پھدی کے اندر کر دیامیری امی صگو چلائی مر گئی میں اہہ اہ اوئی شیدا میری امی صگو کو چلاتی ہوئی کو سن کر بولا کے آرام نال پین یکے تیری آواز نال دے کمرے وچ تیرے منڈے دےکاناں دے وچ جا رہی ہونی واں امی صگو نے اپنا منہ پیچھے کرکے بولا میں اپنے منہ پر ہاتھ رکھنے لگی ہوشیدے تم سے جتنا زور لگا کر اپنا لن سے جھٹکے مار سکتے ہو تم اپنا پورا زور لگا کر اپنا لن میری پھدی کی گہرائیوں میں لے کر جاؤشیدے نے امی صگو کے دونوں ممے پکڑ کر پورے زور سے جھٹکے لگانے شروع کر دیئےامی صگو کے جسم نے جھٹکے لگانے شروع کر دیئے جس سے شیدا سمجھ گیا کہ میری امی صگو فارغ ہو رہی ہے تو شیدے نے اپنا پورا لن میری ماں صگو کی پھدی کی گہرائیوں میں جاکر جھٹکے مارنے روک لیےتھوڑی دیر بعد شیدے نے میری امی صگو کو دوبارہ چٹائی پر سیدھا لٹا لیا اور میری ماں صگو کے ممے چوسنے شروع کر دیئےایسا کرنے سے میری امی صگو دوبارہ گرم ہونا شروع ہوگئی جب امی پوری طرح گرم ہو گئی مطلب جب میری ماں صگو شیدے کے سر کو پکڑ کر خود اپنا پورا مما شیدے کے منہ میں ڈالنے کی کوشش کر رہی تھی تو اس کا مطلب تھا میری ماں صگو اپنی فل مستی پر ہی شیدا اوپر اٹھا اور اس نے اپنے کندھوں پر میری امی صگو کی دونوں ٹانگیں رکھیں اور اپنے لن کو میری ماں صگو کی پھدی کے ہونٹوں پر رگڑنے لگاایسا کرنے سے میری امی صگو کا صبر جواب دے گیا اور میری ماں صگو اونچی آواز میں چلائیں کالے سانڈ ہن وچ پا وی دے یا باہر ہی رگڑدا رہیناآگے سے شیدا بولا کیا صگو کو میرا لن اتنا ہی پسند آگیا ہے کہ وہ چاہ رہی ہے کہ یہ اس کے اندر ہی رہےشیدا بولا صگو ایک بات تو بتا پتا جتنی بھی لیڈی ہیلتھ ورکر ہوتی ہیں ویسے تو وہ ساری گشتیاں ہوتی ہیں تو بتا تیری پھدی اب تک اتنی ٹائٹ کیسے ہےامی صگو بولی کے میں نے آج تک کسی کوپھدی دی ہی نہیں ہے لیکن صرف تمہیں دی ہے آج سے یہ پھدی تمہاری ہےشیدے تم جب چاہو اکر اس میں اپنے لن کو ٹھنڈا کر سکتے ہو خبردارشیدے آج کے بعد تم نے اپنا لن کسی اور پھدی کے اندر دیااب سے یہ صرف میرا اور صرف میرا ہی ہےیہ سن کر شیدے نے اپنااتنا زور کا جھٹکا مارا کہ اس کا سارا لن ایک دفعہ میں ہی میری امی صگو کی پھدی کے اندر چلا گیادیا ہوا جٹھکا اتنا شدید تھا کہ میری امی صگو چلا اٹھی ہائے ہائے ہائے اووءو مر گئ ظالمہ مار دیتا مینوں شیدا اس طرح ہی زور سے اپنے جھٹکے میری ماں صگو کی پھدی کے اندر مارتا رہاامی صگو کے جسم نے دوبارہ سے آکٹرنا شروع کردیا جس سے شیدا سمجھ گیا کہ میری ماں صگو دوبارہ سے چھوٹنے والی ہےشیدے نے دوبارہ اپنا لن میری ماں صگو کی پھدی کی گہرائیوں میں لے جا کر جھٹکے مارنے بند کر دیے اور ذور لگا کر میری ماں صگو کو جپھی بھی ڈال لی شیدے کے جھٹکے روک کر اس طرح جپھی ڈالنا میری ماں صگو صگو کو اتنا اچھا لگا کہ میری امی صگو پاگلوں کی طرح شیدے کو چومنا شروع ہوگی اور شیدے کے کان میں بولی شیدے یار اگر مجھے پتا ہوتا کہ تیرے ساتھ سیکس میں اتنا مزا آئے گا تو میں پچھلے سال تیرے سے پھدی مروای لیتی میری امی صگو کے چومنے کی وجہ سے شیدے کو بھی اور مستی چڑھ گئی اور اس کے جھٹکوں میں بھی تیزی آگئی امی صگو سمجھ گئی کہ شیدا فارغ ہونے کے قریب ہے تو امی صگو نے اپنی دونوں ٹانگیں شیدے کی کمر کے گرد گزار کر ان کو لاک کر لی اشیدا تیز جٹھکوں کی وجہ سے ہاپنے لگا اور بولا میں چھوٹنے والا ہوں بتاؤ کدھر پانی چھوڑوں امی صگو شیدے سے بولیں اندر ہی اپنا پانی نکال دو شیدے نے اپنا لن باہر نکالنے کی کوشش کی لیکن اس کی کمر کے گرد امی صگو کی ٹانگیں ہونے کی وجہ سے وہ باہر نہیں نکال سکا شیدا بھی دل سے یہی چاہ رہا تھا کہ وہ اپنا پانی کسی طرح سے گوری چٹی کسی گشتی کے اندر نکالے
Register or log in to view attachments
شیدے کی یہ خواہش بھی پوری ہو رہی تھی کیونکہ امی صگو نے اپنی ٹانگیں اور زیادہ زور سے شیدے کی کمر کے گرد باندھ لی تھیں شیدا اپنے لن کو جڑ تک میری ماں صگو کی پھدی کے اندر لے جا کر کر پانی کے پمپ چھوڑنے لگا شیدے نے جب اپنا گرم لاوا میری ماں صگو کی بچہ دانی کے اندر چھوڑا تو میری ماں صگو دوبارہ سے مست ہو کر ایک بار پھر چھوٹ گئی
Register or log in to view attachments
شیدا ابھی ہانپتے ہوئے امی صگو کے اوپر ہی لیٹ گیاکچھ دیر کے بعد شیدا میری ماں صگو کے اوپر سے اٹھا اور دوبارہ سے ایک بار امی صگو کے مموں کو چوستا ہوا کھڑا ہوا اور اپنے کپڑے پہن لیےاور بولا اب میں چلتا ہوں پھر کبھی چکر لگا لوں گاامی صگو خبردار جو پھر کبھی کا بولا آج کے بعد تم نے اپنا یہ لن کسی عورت کو نہیں دینا یہ صرف میرا ہے اور ہسپتال کے قریب کوئی کرائے کے مکان کا بندوبست کرو جب تک تم پاکستان میں ہو روز مجھے چودنا ہےاور ہاں کوئی چون چڑراں نہیں کرنی مجھے بس تمہارا پانی ہمیشہ اپنے اندر چاہیے شیدےتم نے اپنا پانی باہر نہیں نکالنا ہمیشہ میری بچہ دانی کو اپنے پانی سے تم نے بھرنا ہے
Register or log in to view attachments
اس کے دو دن کے بعد تک میری امی صگو سے چلا نہیں گیا کیونکہ آج تک انہوں نے اتنا موٹا اور لمبا لن کبھی نہیں لیا تھا اور اتنی زبردست چدائی بھی کبھی نہیں ہوئی تھی شیدا چھ ماہ تک پاکستان میں رہا اور تقریبا میری ماں صگو روزانہ ہی اس سے چدواتی رہی کیونکہ جب بھی بھی میری ماں صگو کا چہرہ کھلا کھلا ہوا ہوتا تومیں سمجھ جاتا کہ آج ماں کو شیدے کالن مل گیا ہےشیدا واپس بیرون ملک چلا گیا میری ماں صگو نے کوئی سات ماہ بعد میرے چھوٹے بھائی کو پیدا کیا جس کے نقوش بالکل شیدے سے ملتے تھےمیرے گھر میں صرف میں جانتا تھا کہ میرا چھوٹا بھائی میرے ابو سے نہیں بلکہ یہ یہ میری ماں صگو کے شیدے سے چدوانے کی وجہ سے ہےباقی سٹوری اگلی اپڈیٹ میں بتاؤں گا کہ کس طرح جب اگلی دفعہ شیدا پاکستان آیا تو اس نے کس طرح میری ماں صگو کی گانڈماری اور کس طرح مجھے اور بہن بھائیوں کا بھائی بنایابتائیے گا ضرور سٹوری کس طرح کی لگیبتائیے گا ضرور سٹوری کس طرح کی لگی
 

Attachments

    Register or log in to view attachments

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Back
Top