• 📚 لوو اسٹوری فورم ممبرشپ

    بنیادی ڈیل

    وی آئی پی

    5000
    تین ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    وی آئی پی پلس

    8000
    چھ ماہ کے لیے
    ٹاپ پیکیج
    👑

    پریمیم

    20000
    چھ ماہ کے لیے

Moral Story بیوہ کی بیٹی ۔۔۔

Joined
Jun 10, 2025
Messages
934
Reaction score
48,765
Points
93
Location
Karachi
Gender
Male
ابا پہلے قلی تھے۔ جب بیماری سے ضعف آگیا اور مسافروں کا بھاری سامان اٹھانے سے قاصر ہو گئے تو بیروزگار ہو کر گھر بیٹھ رہے۔ اس طرح گزارہ کیونکر چلتا؟ والدہ نے اپنی سونے کی بالیاں دیں کہ ان کو بیچ کر قسطوں پر رکشہ خرید لیں۔ والد نے ایسا ہی کیا۔بیوی کی بالیاں فروخت کر کے قسطوں پر رکشہ لے آئے، جو کافی ٹوٹا پھوٹا تھا۔ اب ہر ماہ قسط اتارنے کی فکر میں گھلنے لگے۔ گھر کا خرچہ کرنے کے بعد اتنے پیسے نہ بچتے کہ قسط ادا کر سکیں۔ دن کے علاوہ رات کو بھی دیر تک کبھی ریلوے اسٹیشن، کبھی کسی سینما کے آگے جا کھڑے ہوتے، کہ دیر کی سواریاں اٹھانے سے پیسے کچھ زیادہ مل جاتے تھے۔ اُدھر والدہ نے سلائی مشین سنبھال لی۔ جب گھر کے کاموں سے وقت بچتا، اُجرت پر پاس پڑوس کی خواتین کے کپڑے سیا کرتی تھیں۔ غرض یہ کہ دونوں میاں بیوی مفلسی کے دنوں میں زندگی کی گاڑی کو دھکا لگانے میں مصروف تھے۔ان دنوں میں پانچ برس کی تھی کہ ایک روز یہ بری خبر ملی کہ ابا کے رکشے سے ایک ٹرک ٹکرا گیا ہے اور وہ چکنا چور ہو گیا۔ صرف رکشہ ہی حادثے کا شکار نہیں ہوا تھا، ابا بھی اللہ کو پیارے ہو گئے تھے۔جب اس حادثے کی اطلاع گھر پر آئی، ماں دیوار سے جا لگیں۔ انہوں نے سہاگ چوڑیاں دیوار پر مار کر توڑ دیں اور بین کرتے ہوئے سفید چادر میں خود کو لپیٹ لیا۔ میں اتنی چھوٹی اور ناسمجھ تھی کہ جب انہوں نے اپنا ہر ادھانی دوپٹہ اتار کر پھینکا اور سفید چادر کی بکل مار لی، میں نے دوڑ کر ان کا وہ دوپٹہ فرش سے اٹھا لیا، جس کا رنگ مجھے بہت پسند تھا۔ میں اس دوپٹے کو اوڑھ کر بیٹھ گئی اور خوش ہو گئی کہ اچھا ہوا ماں نے یہ دوپٹہ پھینک دیا، اب میں اس کو اوڑھوں گی۔نانا زندہ تھے۔ ابا کے بعد وہی ہمارے لئے چھتر چھایا بن گئے۔ دو سال بعد جب نانا کی آنکھیں بند ہوئیں، سارے زمانے نے ہم سے آنکھیں پھیر لیں۔ اس کے بعد مجھے یاد نہیں کہ کبھی ماں نے خوشی کا کوئی تہوار منایا ہو۔ عید، برات پر بھی ہمارے یہاں چولہا ٹھنڈا اور پتیلی خالی ہی رہتی تھی۔ پاس پڑوس سے عید کی سوغات طشتریوں میں آجاتی تو ہم خدا کا شکر ادا کر کے کھا لیتے تھے۔اب میں کافی سیانی ہو گئی تھی۔ گھر کا کام کاج کرنے لگی تھی۔ تبھی اماں نے گزارے کا مستقل ذریعہ اپنی سلائی مشین کو ہی بنا لیا۔ ایک پڑوسن کا بھائی کسی فیکٹری میں کام کرتا تھا جہاں دیگر گارمنٹس کے علاوہ ٹوپیاں بھی بنتی تھیں۔ ان دنوں یہ ٹوپیاں ہاتھ کی سلائی مشین پر بنتی تھیں۔ پڑوسن نے بھائی سے کہہ کر اماں کو ان کی سلائی کا ٹھیکہ دلوایا۔ فیکٹری سے ایک آدمی گھر پر گٹھری دے جاتا، جس میں کٹی ہوئی بغیر سِلی ٹوپیاں ہوتیں۔ اماں وہ تھوک کے حساب سے سیتیں اور صبح سے رات کر دیتی تھیں۔ میں اسکول جاتی تو چولہا ٹھنڈا اور ہانڈی اوندھی پڑی رہتی، لیکن وہ مشین کے ہتھے سے ہاتھ نہ ہٹاتیں کیونکہ مقررہ تعداد میں کام وقت پر مکمل کر کے دینا ہوتا تھا۔ پچاس ٹوپیوں کی سلائی کی اجرت تین روپے تھی۔ یہ سستا زمانہ تھا۔ مہینے بھر کی مشقت کے بعد اماں کو اتنی رقم مل جاتی کہ گھر میں آٹا، گھی، دال، سبزی اور مٹی کا تیل آجاتا، جس سے چولہا جلتا تھا۔جب ماں سلائی مشین کی ہتھی کو اپنے گورے گورے خوبصورت ہاتھوں سے گھماتیں تو دیکھنے والوں کی آنکھوں میں ان کی مخروطی انگلیوں والے نرم و نازک ہاتھ دیکھ کر بجلی سی کوند جاتی۔ سچ کہتی ہوں کہ میری ماں بہت حسین تھیں۔ بیوہ ہونے کے بعد بھی نکاح ثانی کی امید میں کئی رشتہ داروں کی نگاہیں ان پر تھیں۔ مگر میری خاطر انہوں نے سب کچھ تیاگ دیا اور اپنے کندن سے روپ پر غربت کا بھوت ہی مل کر بیٹھ گیا۔ کالے، سیاہ، ناگن جیسے بال سفید دوپٹے میں یوں ڈھک لیے کہ پھر آنچل نہیں سرکا۔ یہاں تک کہ ان کے بال اوڑھنی کے اندر ہی سیاہ سے سفید ہو گئے۔

ماں کو اپنے سیاہ و سفید کی کب فکر تھی۔ ان کی نظریں تو اب مجھ پر گڑی تھیں۔ میں جو امر بیل کی طرح بڑھتی جا رہی تھی۔ وہ مجھ کو دیکھ کر یوں سمٹ جاتی تھیں جیسے یہ امر بیل ان کے سارے وجود پر چھا گئی ہو۔ آنے جانے والوں سے کہتیں: بہنوں، دعا کرو عزت سے میں راحیلہ کو اپنے گھر کا کر دوں۔ پڑوسنیں افسوس کرتیں: رشیدہ، تم نے اپنا سونے جیسا رنگ روپ اس بچی کے پیچھے مٹی کیا ہے۔ دوسری شادی کر لیتیں تو آج جوانی میں تم پر یہ بڑھاپا نہ آتا۔ خیر، اب کیوں فکر کرتی ہو، تم بیوہ سہی، تمہارے نیک اطوار کے باعث یہ بچی ضرور کسی اچھے گھر میں بیاہی جائے گی۔ان دنوں میری عمر ایسی تھی کہ زمانے کی کوئی فکر نہ ستاتی تھی۔ بس ان خوابوں میں رہتی تھی کہ کوئی سجیلا آئے، میری اس سے شادی ہو اور وہ مجھے اپنے سجے ہوئے گھوڑے پر بٹھا کر لے جائے۔ جب چھت پر جاتی، ادھر ادھر تاکتی، شاید کوئی کڑیل میری خاطر گھوڑے کی باگیں تھامے کسی طرف سے آ رہا ہو۔ مگر کبھی کوئی نظر نہ آیا اور میں روز ہی مایوس ہو کر چھت سے انگنائی میں اُتر آتی، جہاں برآمدے کی چھاؤں میں ماں بیٹھی رسان سے مشین چلا رہی ہوتیں۔

ایک روز سامنے والے گھر سے بلاوا آیا۔ ان کے بیٹے کی شادی تھی۔ میں بھی اماں کے ساتھ شادی میں گئی۔ جب آرسی مصحف کی رسم ہو رہی تھی، میں نے جھک کر دیکھا۔ دولہا کے عین سامنے ایک کونے میں مجھے ایک چہرہ اور بھی نظر آیا۔ صرف آنکھیں دکھائی دیں، بڑی بڑی سیاہ اور چمکدار۔ وہ مجھے ہی آئینے میں گھور رہی تھیں کہ میری شبیہ اس میں نظر آ رہی تھی۔ بس پھر کیا تھا، ان دو آنکھوں کو گھورتے دیکھ کر میں تو دل تھام کر پیچھے ہٹ گئی تھی۔کیا خبر تھی کہ یہ دو گہری سیاہ آنکھیں عمر بھر میرا پیچھا کریں گی، ورنہ میں دلہن کے اوپر سے آئینے میں نہ جھانکتی۔ جتنی دیر شادی والے گھر میں رہی، وہ آنکھیں میرا تعاقب کرتی رہیں۔ گھر تک بھی انہوں نے میرا پیچھا نہ چھوڑا۔ دوسرے روز دروازہ بجا۔ اماں در پر گئیں۔ ایک صاحب ہاتھ میں ٹرے لیے کھڑے تھے۔ بولے: امی جان نے ساجد بھائی کی شادی کا کھانا بھیجوایا ہے۔ اماں نے کہا: اندر آ جاؤ بیٹے۔ وہ برآمدے میں پڑی کرسی پر بیٹھ گئے۔ اماں نے مجھے ٹرے دے کر کہا: کھانا نکال دو۔ میں نے کھانا نکال کر ان کے برتن دھوئے اور خالی برتن ان کو پکڑائے تو انہوں نے زیر لب مسکراتے ہوئے میری آنکھوں کو ایک شریر پیغام دیا، جو میں نے دل کے کانوں سے سن لیا۔ میں نے بھی اس خاموش پیغام کی لاج رکھی۔ اماں سے نئی دلہن دیکھنے کا بہانہ بنایا اور شادی والے گھر چلی گئی۔ آدمی جتن کرے تو کامیاب کیوں نہ ہو۔ نئی دلہن سے میں نے سو جتن کر کے دوستی لگالی اور اب میرا ساجد بھائی کے گھر آنا جانا سہل ہو گیا۔ بعد میں ساجد کی نئی نویلی دلہن بھی اس کھیل میں ہماری شریک ہو گئیں۔ عاقب ان کے دیور تھے۔ بھابھی نے دیور کی خوشنودی میں میرا ساتھ دیا۔ یوں میری اور عاقب کی محبت کے پودے کو پروان چڑھنے کا موقع مل گیا۔ بھابھی کے تعاون سے میں اور عاقب ان کے گھر اکثر دنیا والوں سے چھپ کر بات کر لیتے تھے۔ اس طرح ایک روز عاقب نے مجھ سے شادی کرنے کا پکا وعدہ کر لیا۔

عاقب ایف ایس سی کرنے کے بعد مزید تعلیم کے سلسلے میں بڑے شہر چلا گیا، جہاں اسے انجینئرنگ کالج میں داخلہ مل گیا۔ اور میں اس کے وعدوں کے سہارے اپنے جہیز کے دوپٹوں پر ستارے ٹانکتی گئی۔ اس نے مجھ سے خط لکھنے کا وعدہ کیا تھا اور میں نے اس وعدے کو اس کی بھابھی کے ذریعے خوب نبھایا۔ وہ مجھے خطوط اپنی بھابھی کے ذریعے بھیجتا اور میں بھی جواب لکھ کر اس کی بھابھی کو دے آتی۔ وہ مجھ سے کہتیں، راحیلہ اداس نہ رہا کرو، بس تھوڑے دن رہ گئے ہیں، عاقب تعلیم مکمل کر لے گا تو ہم تمہیں دلہن بنا کر اپنے گھر لے آئیں گے۔ ان طفل تسلیوں پر میں خوش تھی، مگر اماں مجھ جیسی نادان نہ تھیں۔ وہ جانتی تھیں کہ مخمل میں ٹاٹ کا پیوند نہیں لگتا۔ لہٰذا جب ایک اچھے گھرانے سے رشتہ آیا، تو انہوں نے میری بات پکی کر دی۔ اماں نے مجھ سے پوچھنے کی بھی زحمت نہ کی، اور میں بس ان کا منہ تکتی رہ گئی۔اب رو رو کر میرا دم گھٹتا تھا کہ جب عاقب آئے گا، تو اسے کیا جواب دوں گی۔ وہ تو مجھ سے وعدہ کر کے گیا تھا کہ میرا انتظار کرنا۔ ہمت کر کے ماں سے کہہ ہی دیا کہ مجھے کسی اور سے شادی نہیں کرنی، عاقب مجھ سے وعدہ کر کے گیا ہے۔اماں میری بات سن کر ہکا بکا رہ گئیں کہ یہ کیا بک رہی ہے۔ میں ماں کو مجبور کرنے لگی کہ عاقب کے گھر جا کر اس کی ماں سے بات کر لیں۔اس عمر میں میں نے اپنی بے عزتی کرانی ہے؟ ساری عمر فاقے کر کے بھی لوگوں سے اپنی عزت کروائی ہے، اور اب تیرے رشتے کی بات ان سے خود جا کر کروں؟ عاقب کی ماں مجھ غریب بیوہ کی لڑکی کا رشتہ کیوں لینے لگی؟ تیرا دماغ تو نہیں چل گیا؟ وہ کتنے امیر کبیر لوگ ہیں۔ کیا عاقب کے واسطے ان کو لڑکیوں کی کمی ہے، جو تیرے جیسی کو بہو بنائیں گے؟ تیرے جیسی تو ان کی نوکرانیاں ہیں۔ تو ایک بیوہ کی لڑکی ہے۔ یہ پیٹی آخر کس نے تجھ کو پڑھائی ہے؟ یہ خواب و خیال چھوڑ دے اور عاقب کے وعدوں کو بھلا دے۔ ان کے گھر جانے پر مجھے مجبور نہ کر۔ جانتی ہوں، مجھ کو کیا جواب ملے گا۔ کوئی سیدھے منہ بات بھی نہ کرے گا۔ماں یہ کہتے کہتے روہانسی ہو گئیں۔ ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ مجھے ان کی بے بسی پر ترس آیا۔ سوچا کہ وہ ٹھیک کہتی ہیں۔ عاقب کی بھابھی میری ہم عمر تھی، اس لیے اس کھیل میں ہماری برابری نہیں ہو سکتی تھی۔ اماں نے میری خاطر رجوانی کو بیوگی کی قبر میں دفن رکھا، اور کوئی حرف نہ آنے دیا۔ تاکہ جب میں شادی کے لائق ہو جاؤں، لوگ مجھے نیک چلن بیوہ کی بیٹی ہی کہیں، نہ کہ غلط عورت کی لڑکی سمجھیں۔ یہ ماں کی ریاضت کا ثمر تھا کہ میرے لیے ایک شریف اور خوشحال گھرانے کا رشتہ آ گیا تھا۔جب مجھے اپنا انجام صاف نظر آنے لگا، تو میں نے سوچا، ماں کے بقول اچھے رشتے بار بار نہیں آتے۔ ہر عورت کی زبان سے یہی جملہ سنتی تھی۔ خیریت اسی میں جانی کہ ماں کو پریشان کرنے کے بجائے قسمت کی باگ ڈور ان کے ہاتھ میں تھما دوں، جنہوں نے ہزار دکھ سہہ کر مجھے پالا تھا۔ عاقب کے انتظار سے کیا حاصل؟ جب طبقاتی فرق اتنا واضح تھا کہ وہ میرا ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ محبت کے ایسے جھوٹے کھیل سے خوشی کے پھول نہیں، غم کے کانٹے ہی جھولی میں گرتے ہیں۔جن دنوں میری منگنی ہوئی، انہی دنوں عاقب چھٹیوں پر گھر آ گیا۔ اس کی بھابھی نے منگنی کا بتایا، تو اس نے کہلوایا کہ راحیلہ، مجھ سے بے وفائی مت کرنا۔ میں معاف کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔میں نے جواب میں کہلوایا، ماں کی بیوگی دیکھ کر ان کے دکھ اور بڑھانے کا مجھ میں حوصلہ نہیں ہے۔ وہ بیمار رہتی ہیں، مجھ کو معاف کر دو عاقب۔ تمہارے والدین میرے رشتے کو ماننے والے نہیں ہیں۔

جب عاقب کو یہ سندیسہ ملا تو وہ غصے سے دہک اٹھا۔ اس نے اپنی بھابھی سے کچھ نہ کہا۔ رات کو دیوار پھلانگ کر ہمارے گھر آ گیا۔ اماں دن بھر کی تھکی ہاری، مشین چلاتے ہوئے گہری نیند سو رہی تھیں۔ وہ سیدھا میری چارپائی کی طرف آیا۔ خدا کی قدرت کہ میری آنکھ کھل گئی۔ اسے سرہانے دیکھ کر دہل کر رہ گئی۔ اس نے سرگوشی میں کہا، چپ رہو، میں عاقب ہوں، کوئی جن بھوت یا چور نہیں ہوں۔ تمہارے سندیسے کا جواب دینے آیا ہوں۔ تیار رہو، تمہارے خطوط میرے پاس ہیں۔ تم کسی سے شادی کر کے تو دکھاؤ، میں دیکھوں گا کہ کیسے کوئی تمہیں ڈولی میں بٹھا کر لے جاتا ہے۔ تم نے کہا تھا کہ تمہیں گھوڑے پر بیاہ لے جانے والا دولہا پسند ہے۔ میں تم کو بھری بارات سے اپنے گھوڑے پر بٹھا کر نہ لے گیا تو عاقب میرا نام نہیں۔میں نے اس وقت جان چھڑانے کو کہا، اچھا، جو مرضی کر لینا مگر اس وقت چلے جاؤ۔ اماں کی آنکھ کھل گئی تو وہ شور مچا کر محلے کو جگا دیں گی۔ عاقب چلا گیا۔اگلے روز میں نے کچھ چھپانے کے بجائے سب کچھ اماں کو بتا دیا۔ وہ دلہن بھابھی کے پاس گئیں۔ ان کے کمرے میں بے تکلفی سے بات کی اور خدا کا واسطہ دیا کہ میری مجبوری سمجھو۔ عاقب کو سمجھاؤ یا پھر اپنے ساس سسر کو راضی کر لو کہ آ کر راحیلہ کا رشتہ مانگ لیں اور عزت سے اس کو بیاہ کر لے جائیں۔ مجھے کیا اعتراض ہو سکتا ہے؟ اس کی منگنی توڑ دیتی ہوں۔بھابھی نے ساس سے بات کی، وہ تو ایسے آگ بگولا ہوئیں کہ بہو کو بھاگ کر اپنے کمرے میں چھپنا پڑا۔ دلہن بھابھی کو اندازہ ہو گیا کہ یہ ناممکن ہے۔ ان کے ساس، سسر کسی صورت مجھے بہو نہیں بنائیں گے۔ اب وہ اپنی نادانی پر پچھتائیں۔ عاقب کو سمجھایا کہ ایک باعزت بیوہ کی عزت کو نیلام مت کرو۔ اس کا کیا قصور ہے جبکہ تمہارے والدین کو ہی راحیلہ قبول نہیں ہے۔ اگر بھگا کر لے جانے میں اپنے خاندان اور ایک غریب بیوہ کی عزت کی تذلیل سمجھتے ہو تو لے جاؤ، بھگا کر، پھر دیکھی جائے گی۔غرض دلہن بھابھی نے اس قدر سمجھایا کہ بات عاقب کی سمجھ میں آ گئی، کیونکہ اس معاملے میں دلہن بھابھی خود بھی لپیٹ میں آ رہی تھیں۔ ان کے کہنے پر عاقب اپنے ارادے سے باز رہا۔
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Back
Top