• 📚 لوو اسٹوری فورم ممبرشپ

    بنیادی ڈیل

    وی آئی پی

    5000
    تین ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    وی آئی پی پلس

    8000
    چھ ماہ کے لیے
    ٹاپ پیکیج
    👑

    پریمیم

    20000
    چھ ماہ کے لیے

Moral Story تپتی دوپہر کا ٹھنڈا سایہ ۔۔

Joined
Jun 10, 2025
Messages
952
Reaction score
49,055
Points
93
Location
Karachi
Gender
Male
اس وقت کون آ گیا؟جولائی کی تپتی ہوئی دوپہر میں مسلسل بجتی ہوئی گھنٹی کی آواز پر فاریہ نے ٹھنڈے ٹھار برآمدے سے باہر آتے ہوئے سوچا۔ نکھری دھوپ کی شدت سے اس کی آنکھیں چندھیا گئیں۔ آنے والے نے مستقل مزاجی سے بیل پر ہاتھ رکھے رکھا۔ فاریہ بھاگتے ہوئے چھوٹا سا صحن عبور کرتی گیٹ تک آئی۔فاریہ نے جلدی سے پوچھا: جی کون؟حامد۔ باہر سے بارعب آواز میں یک لفظی تعارف کروایا گیا۔نام سنتے ہی فاریہ نے جلدی سے دروازہ کھول دیا۔ خوشی سے تمتماتے چہرے کے ساتھ پرجوش انداز میں سلام بھیجا۔السلام علیکم بڑے ماموں جان، آپ یوں اچانک؟جی بیٹا، کام کے سلسلے میں آنا ہوا۔ تم تو جانتی ہو، اگر میں یہاں آ ہی جاؤں تو اپنے بچوں سے ملے بغیر واپس نہیں جا سکتا۔یہ کہتے ہوئے بڑے ماموں اندر آئے۔ انہوں نے فاریہ کے سر پر ہاتھ رکھ کر اسے محبت سے اپنے ساتھ لگا لیا۔ ماموں کے لمس سے فاریہ کو ایسے لگا جیسے وہ تپتی دھوپ سے نکل کر کسی سایہ دار شجر کی ٹھنڈی چھاؤں میں آگئی ہو۔آپ یوں اچانک آگئے، کم از کم ایک کال تو کر دیتے۔ اچانک ملنے والی خوشی نے فاریہ کو بوکھلا دیا تھا۔ارے بھئی، کیا اتنی تیز دھوپ میں مجھے یہیں باہر کھڑا رکھنے کا ارادہ ہے؟ ویسے کیا یہ بنا اطلاع آئے کی سزا ہے؟ماموں کی بات سن کر فاریہ ہڑبڑا کر ہوش میں آئی اور انہیں اندر لے آئی۔احمد میسج کہتا ہے، سارا دن اکیلے رہتے رہتے میں بھی پاگل ہو رہی ہوں۔ارے احمد کی ایسی کی تیسی جو اس نے میری فاریہ بیٹی کو ایسے کہا۔ ماموں نے سینے پر ہاتھ رکھ کر میری بیٹی پر زور دیتے ہوئے کہا۔دونوں ماموں بھانجی اندر برآمدے میں آئے۔ اندر روم کولر نے گرمی کی شدت کو کافی حد تک کم کر دیا تھا۔ ماموں کولر کے آگے رکھی چارپائی پر بیٹھ گئے۔ فاریہ بھاگ کر فریج سے پانی کی بوتل لائی، ایک صاف گلاس اٹھایا اور ٹھنڈا پانی ڈال کر ماموں کی طرف بڑھایا۔ وہ اسے دیکھ کر مسکرائے اور گلاس تھام لیا۔ پانی پینے کے بعد کچھ سنبھلے تو بولے:تمہارے علاقے کی گلیاں بہت لمبی ہیں۔ ٹیکسی والے نے مین روڈ پر اتارا، ایک گلی چلتے یہ حال ہوگیا۔ ایک وقت تھا میلوں پیدل چلتے تھے، مگر بڑھتی عمر اور شوگر نے اب یہ حال کر دیا ہے۔ لگتا ہے اب ادھیڑ عمری استقبال کو تیار کھڑی ہے اور جوانی الوداع کہہ چکی ہے۔ یہ بات کسی کو پتہ نہیں چلنی چاہیے، خصوصاً تمہاری مامی کو۔بات کرتے کرتے ماموں پھر موضوع سے ہٹ گئے۔اف ماموں، آپ بھی نہ…فاریہ مسکرا دی۔گھر میں سب کیسے ہیں؟ نانی اماں، مامی اور چھوٹے ماموں کی فیملی سب ٹھیک ہیں؟سب ٹھیک ہیں بیٹیا۔ اماں کا وہی جوڑوں کا مسئلہ ہے۔ کل ماہانہ چیک اپ کے لیے ہسپتال گئے تھے۔ ادویات تبدیل کی ہیں۔ باقی سب خیریت ہے۔ آج ایک اچانک کام کے سلسلے میں آنا ہوا۔ گھر میں اماں اور تمہاری مامی کو تمہارے ہاں آنے کا نہیں بتایا۔ واپسی پر جب انہیں پتا چلے گا کہ میں تمہارے ہاں آیا تھا تو بتاؤ، دونوں خواتین میرے ساتھ کیا کریں گی؟دونوں خواتین کے تاثرات کا تصور کر کے دونوں ماموں اور بھانجی مسکرا اٹھے۔وہ نالائق گدھا… میرا مطلب ہے، آپ کے شوہر نظر نہیں آرہے اس وقت؟ماموں نے اپنے بھانجے احمد یعنی فاریہ کے شوہر کے بارے میں پوچھا۔ماموں، آج کل گرمی کی وجہ سے احمد لنچ آفس میں کرتا ہے۔ چھٹی کے وقت گھر آتا ہے۔اورسناؤ ماموں۔کیا سناؤں لڑکی؟ وقت دیکھو۔یہ کہتے ہوئے ماموں نے اپنی گھڑی اس کے آگے کی۔ وقت دیکھتے ہی فاریہ بوکھلا کر کھڑی ہوگئی۔بیس منٹ میں آپ کا لنچ تیار ہوگا، آپ فریش ہو جائیں۔
☆☆☆

قاسم صاحب کے چاروں بچے حامد، حمید، آمنہ اور فاطمہ—میں حامد سب سے بڑے جبکہ حمید سب سے چھوٹے ہیں۔آمنہ اور فاطمہ درمیان میں اوپر تلے کی تھیں۔ حامد اور آمنہ (فاریہ کی امی) کا بیاہ اپنے تایا کے گھر ہوا۔ فاطمہ اپنے ماموں کی بہو بنی، جبکہ حمید کا نصیب قاسم صاحب کے قریبی دوست افضل کی بیٹی سے جڑا تھا۔سب بہن بھائی اپنے گھروں میں خوش تھے۔ آپس میں پیار و محبت تھا۔حامد کی قسمت میں اولاد نہیں لکھی تھی۔ آمنہ کی اکلوتی بیٹی فاریہ جب دس سال کی تھی تو آمنہ اور اس کا شوہر روڈ ایکسیڈنٹ میں جان کی بازی ہار گئے۔روتی بلکتی فاریہ کو ماموں اور مامی (پھپھی) نے اپنی آغوش میں لے لیا اور اپنی ساری محبت اور شفقت اس پر لٹا دی۔ فاطمہ کے بڑے بیٹے احمد اور فاریہ کا بیاہ کر کے رشتوں کو مزید مضبوط کر دیا۔احمد کا ٹرانسفر ملتان والی برانچ میں ہوا تو وہ فاریہ کو بھی اپنے ساتھ لے آیا۔
☆☆☆

فریج کھولتے ہی فاریہ کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا۔ کتنے دنوں سے چینی اور چاول ختم ہو چکے تھے اور vچار دن سے گھر میں سبزی ہی پک رہی تھی۔سدا کے لاپرواہ اور سست احمد نے آج کا کام کل پر ڈال رکھا تھا۔ دھلے دھلائے فریج میں آٹے کا گندھا ہوا پیالہ، ایک آلودہ انڈا، دو تین ٹماٹر، چند ہری مرچیں اور ایک کٹوری میں رات والی بھنڈی کا سالن رکھا تھا۔فاریہ کا ارادہ آج بھنڈی سے شاہی کھانا بنانے کا تھا، مگر اب بڑے ماموں… ارے بابا!سوچا، ساتھ والی خالہ پڑوسن کے بیٹے کو بھیج کر سودا منگوا لے، مگر اس وقت باہر ہو کا عالم ہے۔ گلیوں میں سنّاٹا ہے، سب اپنے گھروں میں دبکے بیٹھے ہیں۔ اگر اب سودا منگوا بھی لے تو بڑے ماموں کے بیس منٹ… بڑے ماموں ہمیشہ وقت پر کھانا کھاتے ہیں۔ گھڑی کی سوئی ادھر سے اُدھر نہ ہو، پہلے ماں نے پہلوٹی کے بیٹے کی عادت پختہ کی، بعد میں سادہ اور مخلص شریکِ حیات نے وقت کی پابندی مزید بڑھا دی۔خاندان کے بچے بچے کو معلوم ہے کہ اگر بڑے ماموں گھڑی کی طرف اشارہ کریں تو اس کا مطلب ہے ایک منٹ بھی ادھر اُدھر نہ ہو!اب تو شوگر کے مریض بھی بن گئے ہیں، اس لئے کھانے میں تاخیر بالکل قبول نہیں، چاہے سامنے لاڈلی فاریہ ہی کیوں نہ ہو۔
☆☆☆

بائیس منٹ بعد فاریہ نے ڈش بڑے ماموں کے سامنے رکھی۔صرف دو منٹ لیٹ ہوئی، باس – ماموں نے بسم اللہ پڑھ کر رومال ہٹایا تو نرم گرم روٹیاں، ایک کٹوری میں بھنڈی کا سالن، دوسری کٹوری میں انڈے آلو کا سالن، اور ساتھ ہی ٹماٹر کی چٹنی رکھی گئی۔فاریہ خواتین کی ہیروئین تھوڑی تھی جو چند منٹوں میں مشکل ناموں والی انواع و اقسام کی ڈشز تیار کر سکتی تھی۔ فریج خالی کیوں نہ ہو،آہا، میری پسندیدہ ٹماٹر کی چٹنی بھی موجود ہے! مزہ آگیا، جیتی رہو میری بیٹی۔فاریہ نے احمد کی سستی بتاتے ہوئے اپنے نمبر بڑھانے چاہے۔ ماموں کو معلوم تو ہے کہ احمد کتنا لاپرواہ ہے۔ اس کے لازمی کان کھینچنا پڑے گا۔ ماموں رغبت سے کھاتے رہے۔کھانے کے بعد الحمد للہ پڑھ کر ماموں نے شکر ادا کیا۔آج تم نے میری جنت مکانی بہن کی طرح بلا وجہ تکلف نہیں کیا۔ جب میں نیا دولہا یعنی داماد، اپنی سسرال جاتا، تمہاری جنت مکانی ماں جو میری طرح سسرال میں نئی نویلی بہو تھی، سسرال میں اپنے سکھڑاپے کی دھاک بٹھانے کے لیے انواع و اقسام کے کھانے بمعہ لوازمات تیار کرتی تھی، چاہے بھوک کے مارے میرا دم ہی کیوں نہ نکل جائے۔فاریہ، میری بے بسی کا اندازہ کرو میں کچھ بھی نہیں کر سکتا تھا کیونکہ معاملہ میری بہن کے سسرال کا تھا۔ہائے، یہ دو ہرے رشتے بڑا مرواتے ہیں۔حامد ماموں، گزرے وقت اور اپنی مرحومہ بہن کو یاد کر کے مسکرائے۔اپنی ماں کا ذکر سن کر فاریہ آبدیدہ ہوگئی۔ہاں بھئی نکمی لڑکی، آج کے شاہی لنچ سے تم نے کیا سبق سیکھا؟خاتونِ خانہ گھر میں جو کچھ رکھا ہوا ہے، سوجھ بوجھ سے پکا کر طریقے اور سلیقے سے پیش کر دے، نہ کہ مختلف کھانے پکا کر دسترخوان بھر دے اور اتنی دیر سے پیش کرے کہ شوگر کے مریضوں کو ڈبل انسولین لگوانی پڑے۔مگر اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ تم ہمیشہ مجھے ٹماٹر کی چٹنی کھلاؤ۔ اگلی دفعہ میں اپنی بیٹی کے ہاتھ کی بنی ہوئی چکن بریانی کھاؤں گا۔ماموں نے مان سے فاریہ کے سر پر ہاتھ پھیرا، تو وہ بھی مسکرا دی۔
☆☆☆
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Back
Top