• 📚 لوو اسٹوری فورم ممبرشپ

    بنیادی ڈیل

    وی آئی پی

    5000
    تین ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    وی آئی پی پلس

    8000
    چھ ماہ کے لیے
    ٹاپ پیکیج
    👑

    پریمیم

    20000
    چھ ماہ کے لیے

Moral Story جب مان نہ ہو۔۔

Joined
Jun 10, 2025
Messages
934
Reaction score
48,717
Points
93
Location
Karachi
Gender
Male
دوپہر کے بارہ بجنے کو تھے۔ میں نے گھڑی پر ایک نظر ڈالی اور پہلے سے تیز چلتے ہاتھوں کو مزید تیز کر دیا۔ ایک چولہے پر وہی ہٹی تیار تھی جو میرے بڑے بیٹے اور بیٹی کی پسندیدہ تھی۔ دوسرے پر شامی کباب فرائی ہو رہے تھے۔ ساتھ میں راستہ، چٹنی اور سلاد تیار تھے۔ میرا چھوٹا بیٹا روٹی کے ساتھ کباب بہت شوق سے کھاتا تھا۔ تازہ تلی ہوئی روٹیاں تیار کرتے میرے ہاتھ مشق سے توے سے روٹیاں اتار رہے تھے۔ یہ کھانے کا اہتمام میرے لیے روزمرہ کا معمول تھا۔ ابھی اگر نور کا فون آجائے تو وہ کتنا سخت سنائے گی۔

بس کر دو مہر! تم انسان ہو یا مشین؟ اپنے ہی میاں اور بچوں کے لیے دو وقت اس قدر اہتمام کرنا اور خود کو تھکانا بھلا کہاں کی عقل مندی ہے یار!؟ ذرا خود کو بھی آرام دیا کرو۔ بچوں کی پسند ناپسند کا خیال رکھنا اچھی بات ہے، مگر سب کچھ کھانے کی عادت ڈالو یارا، یہ عادت آگے چل کر تمہارے ہی لیے پریشانی کا باعث بنے گی۔

نور کی نصیحت یاد کر کے میرے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ فون کے ریمائنڈر کی آواز پر میں چونک گئی۔ ساڑھے بارہ ہو چکے تھے۔ اپنی بیٹی کو کالونی کے گیٹ سے پک کرنا میری ذمہ داری تھی۔ میں نے چابی اٹھائی اور گھر لاک کر کے باہر نکل گئی۔ پانچ منٹ کی پیدل واک کے بعد میں کالونی کے گیٹ پر تھی۔ لاکھ منانے کے باوجود ڈرائیور گھر پر چھوڑنے کے لیے آمادہ نہ ہوتا تھا۔ جیسے ہی گیٹ کھلا، بیٹی دوڑتی ہوئی نیچے اتری اور میرے پیروں سے لپٹ گئی۔ حسب معمول باتیں شروع کر دی۔ جب تک وہ پورے دن کی روداد مجھے نہ سنا دیتی، چین نہ آتا تھا۔ میں نے اپنی چہچہاتی گڑیا کو گود میں اٹھا کر سینے سے لگا لیا۔ گویا سارا وجود ٹھنڈی میٹھی پھوار میں نہا گیا ہو۔ دو بیٹوں کے بعد پیدا ہونے والی بیٹی میرے لیے جان کی مانند تھی۔ منال کو گود میں اٹھا کر اس کا ننھا منا اسکول بیگ سنبھالا اور واپس گھر کی طرف چل پڑی۔

گھر پہنچ کر منال کے کپڑے بدلوا کر ہاتھ منہ دھلوایا اور خود بھی بچن میں آگئی۔ میرے بیٹے اور میاں بس آنے ہی والے تھے۔ اکثر ایسا ہوتا تھا کہ اسد واپس چلا جاتا تھا، بیٹوں کو اسکول سے لانا لے جانا اسد کی ذمہ داری تھی۔ میں نے خود بھی کپڑے بدلے، پرفیوم کا اسپرے کیا اور ہلکی سی لپ اسٹک بھی لگائی۔ چمکتا دمکتا گھر، صاف ستھرا چین، سب میری صبح سے اب تک کی کئی گھنٹوں کی محنت کا گواہ تھا۔ منال صوفے پر لیٹی کوکو میلن دیکھ رہی تھی۔اتنے میں اسد کی گاڑی کا ہارن بجا، اور کاشان اور شایان کی باتیں سنائی دینے لگیں۔ دونوں بھائی کسی بات پر بحث کرتے ہوئے ڈرائنگ روم میں داخل ہوئے۔ بلند آواز میں سلام کیا اور صوفے پر بیٹھ گئے۔

شانی اور کاشی، بیٹا! ہر چیز اپنی جگہ پر رکھو اور کپڑے بدل کر ٹیبل پر آ جاؤ، ہری اپ! اسد کے پاس صرف آدھا گھنٹہ ہوتا تھا، سو میں نے جلدی جلدی ٹیبل پر برتن لگانے شروع کر دیے۔ کھانے کی اشتہا انگیز مہک نے سب کو متوجہ کر لیا۔واہ بیوی! کیا بات ہے، جادو ہے تمہارے ہاتھوں میں! اسد انتہائی رغبت سے شامی کباب اور رات کے بچے ہوئے کوفتوں کے ساتھ انصاف کرنے لگے۔ بچے بھی خوب شوق سے اپنے اپنے پسندیدہ کھانوں کی طرف متوجہ تھے۔ میری محنت وصول ہو گئی۔

یار، رات کے لیے کیا بناؤ گی؟ اسد، جو لنچ سے فارغ ہونے کے بعد اب واپس دفتر جانے کے لیے تیار تھے، پوچھنے لگے۔ میں ابھی سوچ ہی رہی تھی کہ شانی جھٹ سے بولا: ماما، میک اینڈ چیز۔ کاشی کیوں پیچھے رہتا؟ وہ بھی فوراً بول اٹھا: ماما، میرے لیے تو چکن پلاؤ بنا دیں، پلیز پلیز! جیسا آپ نے اور خالہ کے آنے پر بنایا تھا۔میں کچھ کہنے ہی والی تھی کہ اسد بولے: ہاں ٹھیک ہے یار، ساتھ میں لہسن مرچ کی چٹنی اور رائتہ بھی بنا لینا، مزہ آ جائے گا۔ اور اگر کوفتے بچے ہوں تو ایک پیالہ وہ بھی ڈال دینا۔ اوکے، میں چلتا ہوں بیگم، خدا حافظ!میں مسکراتے ہوئے انہیں دروازے تک چھوڑنے گئی۔ واپس آئی تو ذہن میں کاموں کی ایک طویل فہرست دوڑنے لگی۔ آج میں نے سوچا تھا کہ کپڑے بھی دھو لوں گی، مگر وقت کی شدید قلت تھی۔ سو جھٹ سے صحن میں آ گئی۔یہ میرے گھر میں روز کا معمول تھا۔ تین بچے اور میاں — چار لوگ اور چار الگ الگ پسندیں۔ گھر میں دوپہر اور رات کے کھانے میں کم از کم دو سے تین الگ الگ ڈشز پکنا لازمی تھا۔
☆☆☆

میرے دن کا آغاز صبح چھ بجے ہوتا۔ نماز، قرآن، پھر بچوں کے اسکول کی تیاری، اور ان کے اسکول اور میاں کے آفس روانہ ہونے کے بعد گھر کی صفائی ستھرائی کا کام ہوتا۔ دوپہر کے پرتکلف کھانے کی تیاری، اور پھر شام کے لیے چائے کے ساتھ کچھ نہ کچھ بنانا بھی معمول تھا۔ پھر رات کا کھانا، جو لا محالہ دو تین اقسام کے پکوانوں پر مشتمل ہوتا۔

ساتھ ساتھ بچوں کی پڑھائی، ہوم ورک اور کپڑوں کی سلائی بھی میرے معمولات کا حصہ تھی۔ منال کے نت نئے ڈیزائن کے کپڑے سینا میرا شوق تھا، اور اپنی ایم ایس سی کی ڈگری کو بروئے کار لاتے ہوئے بچوں کو خود بھی پڑھاتی تھی۔ الحمدللہ، بچے ہمیشہ کلاس کے ٹاپ تھری اسٹوڈنٹس میں شمار ہوتے تھے۔

نور، جو میری اکلوتی بہن، سہیلی اور رازداں تھی، اکثر مجھے اس انتھک محنت پر ٹوکتا کرتی۔ اپنے گھر اور بچوں سے محبت سب ہی کو ہوتی ہے، مگر ہر چیز میں اعتدال رکھو۔ اپنی ذات کو بھی آرام دو، تم انسان ہو کوئی مشین نہیں۔ مجھے دیکھو، آج آلو گوشت بنایا ہے، روٹیاں بنا لیں، بس ہو گیا کھانا۔ کل دوپہر کو چاول بنا لوں گی، اللہ اللہ خیر صلا۔ بچے، میاں سب کھائیں گے بھی اور سراہیں گے بھی۔ تم نے خود ہی سب کی عادتیں بگاڑی ہیں!

میں ایک کان سے سنتی اور دوسرے سے نکال دیتی۔ ایسا نہیں تھا کہ تھکتی نہیں تھی، تھکن کبھی کبھار اس شدت سے حملہ آور ہوتی کہ کچھ پکانے کا دل نہ کرتا، تو باہر سے کھانا منگوا لیتی۔ مگر اس دن میرے بچے اور میاں وہ رغبت کبھی نہ دکھاتے جیسے گھر کے کھانے کے وقت دکھاتے تھے۔ سو، اگلے دن پھر سے نئے جوش و خروش کے ساتھ نت نئی تراکیب کے ساتھ جت جاتی۔

کھانا پکانے کا شوق، ہاتھ میں بے پناہ لذت — میرے کھانوں کی خوشبو محلے سے باہر تک پھیلتی۔ سو میں نے کبھی دانستہ یہ کوشش ہی نہیں کی کہ ایک ہی کھانا پکے اور سب وہی کھائیں، نہ ہی بچوں کو یہ سمجھایا۔ اُلٹا ان کے ذوق کو اور بڑھانے میں میرا ہی ہاتھ تھا۔ سو، آج جو نتیجہ سامنے تھا وہ میں نے خود ہی بنایا تھا۔گرمی ہو یا سردی، مہینے کی ابتدا ہو یا آخر، طبیعت خراب ہو یا ٹھیک — جس کو جو کھانا چاہیے، وہی پکتا۔ کیونکہ ، سب کی خواہشیں پوری کرنا میری فطرت بن چکی تھی۔
☆☆☆

آج صبح سے ہی میرے پیٹ میں سیدھی طرف درد ہو رہا تھا، جو دوپہر تک بڑھ کر شدید ہو گیا۔ اسد کے گھر آنے کے بعد میں نے اس کا ذکر کیا تو وہ فوراً مجھے ڈاکٹر کے پاس لے جانے پر اصرار کرنے لگے۔ میں تیار ہو گئی۔ اتنے میں ہی درد گویا رگوں کو چیرنے لگا۔ مجھ سے اب برداشت نہیں ہو رہا تھا، تکلیف کے مارے آنسو بہے جا رہے تھے۔

اسپتال پہنچ کر ٹیسٹ کروائے تو پتا چلا کہ اپینڈکس ہے۔ فوری سرجری کرنا پڑی۔ میرے ہاتھ پاؤں جیسے سن ہو چکے تھے۔ اسد کی بھاگ دوڑ اور پریشانی دیکھ کر میرا دل بیٹھنے لگا۔یا اللہ! اگر مجھے کچھ ہو گیا تو میرے بچوں کا کیا بنے گا؟ بس اسی سوچ اور فکر میں کب مجھے بے ہوش کیا گیا اور کب سرجری ہوئی، پتا ہی نہ چلا۔ہوش آیا تو سامنے نرس کھڑی تھی۔ وہ فوراً اسد کو بلا لائی۔ ڈاکٹر نے آ کر چیک کیا اور کہا، دو دن تک اسپتال میں رہنا ہوگا، ویسے تو سب ٹھیک ہے مگر ابھی ٹانکے کچے ہیں، پرسوں تک ڈسچارج ہوں گی۔ نور میرے پاس رک گئی تھی۔

دو دن جیسے تیسے گزر گئے۔ آخر کار آج میں گھر واپس آ رہی تھی۔ کہنے کو یہ ایک چھوٹا سا آپریشن تھا، مگر ایسی نقاہت تھی کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔ گھر آئی تو حسبِ توقع میرا پیارا گھر ابتر حالت میں تھا۔ بچے بھاگ کر میرے پاس آئے، ایک نے بیگ تھاما، دوسرے نے ہاتھ سے سہارا دیا، اور منال پیروں سے لپٹ گئی۔ اسد نے میری مدد کی اور مجھے بستر پر لٹا دیا۔

یار، قسم سے، دو ہی دن میں لگ پتا گیا۔ جلدی سے ٹھیک ہو جاؤ یار! تمہارے بغیر ہم کچھ بھی نہیں!وہ بولے، اور میں ایک ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ خاموش ہو گئی۔ کمزوری اس قدر تھی کہ بیٹھنا بھی مشکل تھا۔ اسی عالم میں دو دن اور گزر گئے۔ نور صبح شام کچھ نہ کچھ پکا کر بھجوا دیتی، یا خود آ جاتی۔ کبھی کبھار کھانا باہر سے منگوا لیتے۔

ایک ہفتہ گزر گیا۔ میں اب خود کو کچھ بہتر محسوس کر رہی تھی۔ صبح سو کر اٹھی تو دل چاہا کہ بچوں کو سرپرائز دوں اور ان کی پسند کا ناشتہ بنا دوں۔ میں آہستہ آہستہ قدموں سے اٹھی۔

اندر داخل ہوتے ہی اس زور کا چکر آیا کہ زمین بوس ہو گئی اور درد کا ایک سمندر تھا گویا جو اس طرح جسم کو چیرنے لگا کہ میری بلند ہوئی چیخوں نے اسد کو جگا دیا۔ وہ آنا انا مجھے اٹھا کر اسپتال بھاگے۔ جا کر پتا چلا ٹانکے پھٹ گئے ہیں اور دوبارہ لگانے پڑیں گے۔ ذراسی عجلت اور غفلت نے مجھے ایک بار پھر بستر پر پہنچا دیا۔ چار دن اسپتال میں گزارنے کے بعد جب گھر آئی تو حالت نا گفتہ بہ تھی۔

ڈاکٹرز کی سختی سے تاکید تھی کہ کم از کم ایک مہینہ مکمل آرام کرنا ہے۔ ایک متحرک اور مصروف زندگی گزارنے والی کے لیے اچانک بستر تک محدود ہو جانا کتنا اذیت ناک ہوتا ہے، یہ وہی سمجھ سکتا ہے جس نے خود ایسا تجربہ کیا ہو۔ میری آنکھوں کے سامنے میرے بچے اتری ہوئی شکلوں کے ساتھ اپنے اپنے کاموں میں لگے ہوتے۔

منال کے لیے وقتی طور پر ایک آیا رکھ لی گئی تھی، جو اسے قطعی پسند نہیں آئی۔ وہ نہانے، کپڑے بدلنے یا دیگر کاموں کے لیے جب مجھے آواز دیتی کہ آپ سے نہاؤں گی ماما!، تو دل ٹوٹ کر رہ جاتا۔ پھر شانی یا کاشی اسے پیار سے سمجھا کر راضی کرتے۔ میرا دل خون کے آنسو روتا۔ آٹھ سال کا شانی اور دس سال کا کاشی گویا اپنی عمر سے کئی گنا بڑے ہو گئے تھے۔
☆☆☆

یہ ڈیڑھ، دو مہینے مجھے زندگی کے کئی سبق سکھا گئے۔ میں بار بار اللہ کا شکر ادا کرتی کہ مجھے صرف آرام کی غرض سے بستر پر لیٹنا پڑا ہے۔ ورنہ کتنے ہی لوگ ایسے ہوتے ہیں جنہیں فالج یا کسی اور جان لیوا بیماری کے باعث سالوں بستر پر گزارنے پڑتے ہیں، یا بعض اوقات وہ تادم مرگ بستر سے اٹھ بھی نہیں پاتے۔ ان پر کیا گزرتی ہوگی؟

میں جب بھی بچوں کی اداس شکلیں دیکھتی، دل چاہتا فوراً اٹھ کر سب کچھ پہلے جیسا کر دوں، لیکن پھر طبیعت اور پہلے کی گئی اپنی حماقتیں یاد آتیں اور میں دوبارہ بستر پر گر پڑتی۔ کھانا پکانے کے لیے ایک وقتی ملازمہ رکھ لی گئی تھی، جو بس کام چلانے کے لیے کافی تھی۔

مجھے اچھی طرح علم تھا کہ بچوں کو آیا کے ہاتھ کا پکا کھانا بالکل پسند نہیں آ رہا، مگر جب میں پوچھتی تو دونوں فوراً کہتے کہ ماما ہم نے کل ہو کر کھایا تھا۔ میں جانتی تھی کہ یہ اسد کی تاکید ہے کہ ماما کو کچھ مت کہنا، ورنہ وہ پریشان ہو کر کہیں خود کھانا پکانے نہ پہنچ جائیں۔ اپنے شریکِ حیات کی محبت اکثر میری آنکھیں نم کر دیتی۔ میں دل سے اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتی۔ خدا خدا کر کے ایک مہینہ گزرا۔ آج میں خود کو نہایت تازہ دم محسوس کر رہی تھی۔ بچے اسکول جا چکے تھے، اسد آفس۔ میں کچن میں آگئی۔ میں نے صفورا بی بی کو کھانا پکانے سے روک دیا اور کہا کہ وہ صرف کپڑے استری کرکے تہہ کر دیں، کھانا میں خود پکاؤں گی۔

میں نے فریج کھولا تو بچے ہوئے کھانوں کا انبار نظر آیا۔ ملازمہ کی مدد سے فریج صاف کروایا اور کچن کے کیبنٹ بھی صاف کروا دیے۔ وقت کا پتا ہی نہ چلا، منال اور بچوں کے آنے میں صرف ایک گھنٹہ رہ گیا تھا۔ میں نے چکن والا دلیہ بنانے کا سوچا کیونکہ فی الحال یہی واحد چیز تھی جو آسانی سے پک سکتی تھی۔ میری ایک مہینے کی غیر حاضری نے گویا مسالوں کے ڈبوں اور گروسری کو بھی غیر حاضر کر دیا تھا۔ میں حیرت سے خالی جار اور خالی مسالوں کے ڈبے دیکھ رہی تھی۔ صاف ظاہر تھا کہ صفورا نے کسی نگران کے نہ ہونے کا بھرپور فائدہ اٹھایا تھا۔ خیر، اس کی کلاس لینے کا ارادہ موخر کرتے ہوئے میں نے دلیہ بنانا شروع کیا۔ پوری لگن اور شوق سے دلیہ بنایا، بگھار لگایا اور دل ہی دل میں دعا کی کہ بچے شوق سے کھا لیں۔ میں نے پختہ ارادہ کر لیا کہ رات کے کھانے پر سب کی پسند کا الگ الگ مینو ہوگا۔ گاڑی کا ہارن بجا۔ میری بیماری کی وجہ سے اب مثال بھی اسد کے ساتھ ہی گھر آتی تھی۔ تینوں بچے اور اسد اندر داخل ہوتے ہی ٹھٹک گئے۔

یار! یہ تو تمہارے ہاتھ کے پکے کھانوں کی خوشبو ہے۔ صفورا بی بی کے کھانوں سے خوشبو تو دور کی بات، رنگت تک پہچاننا مشکل ہوتا ہے کہ کھانے کا اصل رنگ کیا ہے۔ کہیں تم تو کچن میں نہیں چلی گئیں؟میں نے مسکراتے ہوئے کہا، ارے جناب! ہاتھ منہ دھو کر ٹیبل تک تو آ جائیں۔میں نے میز پر کھانا لگانے کے بعد بچوں کو بلایا۔ بچے بڑی خوشی اور جوش سے آگئے کہ آج تو ماما کے ہاتھ کا پکا کھانا ملے گا۔ میں دل ہی دل میں ڈر رہی تھی کہ میز پر محض ایک ہی ڈش، اور وہ بھی دلیہ دیکھ کر کہیں بچوں کا منہ ہی نہ بن جائے۔ میں نے ڈرتے ڈرتے کاشان پر نظر ڈالی تو چونک گئی۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے، جو گویا میرے دل کو چیر گئے۔کیا ہوا میری جان؟ آئی پر میں رات کو تمہاری پسند کا وائٹ ساس پاستا بناؤں گی۔ ابھی کے لیے سوری بیٹے، جو کچھ گھر میں تھا، اسی سے بنا سکی ہوں۔ پلیز، رونا بند کرو۔ آئی پر آج رات کو سب کی دعوت ہے، ماما سب کی پسند کے کھانے بنائیں گی۔نہیں، نہیں ماما! وہ تڑپ کر بولا، میں اس لیے نہیں رو رہا۔ آپ کو پتا ہے، ہم نے آپ کو کتنا مس کیا؟ آپ کے محبت سے لگائے گئے کھانوں کو، آپ کے محبت سے کھلانے کو، اور گھر کے وہ سارے کام جو آپ کے بستر پر ہونے کی وجہ سے بمشکل ملازموں کی مدد سے پاپا کرواتے تھے، ہم سب نے بہت یاد کیا۔جب آپ ٹھیک تھیں تو ہمیں اندازہ ہی نہیں تھا کہ گھر میں اتنے سارے کام ہوتے ہیں۔ آپ اب بھی بیمار نہ ہوں، آئی پر، ہم سب خوشی خوشی کھائیں گے، جو بھی آپ پکائیں گی۔ کیوں شانی، ٹھیک کہا نا میں نے؟

اور میں، جو گویا کسی سحر زدہ معمول کی طرح اس کی باتیں سن رہی تھی، رونے لگی۔ اسد نے آگے بڑھ کر مجھے اپنے ساتھ لگا لیا اور پیار سے بولے:واقعی بیگم، تم ہی اس گھر کی اصل رونق ہو۔ ہم سب تم سے بہت محبت کرتے ہیں۔میں جھینپ کر مسکرا دی اور بچوں پر نظر ڈالی، جو دلیہ اس طرح رغبت سے کھا رہے تھے گویا پاستا یا اپنی کوئی بہت پسندیدہ ڈش ہو۔ماما، بہت مزے کا بنا ہے! آئی سوئیر، رات کو بھی بس ایک ہی چیز پکے گی، جو سب کھائیں گے۔ کاشی بولا۔میں جو سبق چاہتے ہوئے بھی نہ سکھا سکی، وہ میرے بچوں کو زندگی نے سکھا دیا۔
☆☆☆
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Back
Top