• 📚 لوو اسٹوری فورم ممبرشپ

    بنیادی ڈیل

    وی آئی پی

    5000
    تین ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    وی آئی پی پلس

    8000
    چھ ماہ کے لیے
    ٹاپ پیکیج
    👑

    پریمیم

    20000
    چھ ماہ کے لیے

Spy Thriller خاموش گواہ۔۔

Joined
Jun 10, 2025
Messages
945
Reaction score
48,924
Points
93
Location
Karachi
Gender
Male
یونس فون کان سے لگائے سامنے والی دیوار کو مسلسل گھورنے میں مصروف تھا۔ اس کے چہرے پر جھنجلاہٹ کے تاثرات نمایاں تھے۔ وجہ یہ تھی کہ وہ کافی دیر سے انیلا کو فون کر رہا تھا، لیکن وہ کال اٹھا ہی نہیں رہی تھی۔ انیلا اس کی ماموں زاد ہونے کے ساتھ ساتھ منگیتر بھی تھی۔ ان کی منگنی کو چھ ماہ ہونے والے تھے اور عید الفطر کے بعد شادی طے تھی۔ انیلا ایک پڑھی لکھی اور خوبصورت لڑکی تھی اور اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھی۔ یونس کے ماموں کا انتقال ہو چکا تھا، جس کے بعد یونس نے ان کا سارا بزنس سنبھال لیا تھا کیونکہ ماموں نے اپنی زندگی میں ہی کاروبار خوشی و رضا سے اس کے حوالے کر دیا تھا۔ انیلا اور اس کی امی کو بھی اس پر کوئی اعتراض نہ تھا، انہیں یونس پر حد سے زیادہ اعتماد تھا۔ یونس کے والد بھی بزنس مین تھے۔ وہ دو بہن بھائی تھے؛ ندا اس سے تین سال چھوٹی اور یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم تھی۔

تیسری بار بھی جب انیلا نے فون نہ اٹھایا تو یونس نے جھنجلا کر موبائل میز پر رکھا اور کرسی کی پشت سے ٹیک لگا لی۔ دفعتاً اسے ممانی کا خیال آیا تو اس نے انہیں فون کیا۔ پانچویں گھنٹی پر انہوں نے فون اٹھا لیا۔ علیک سلیک کے بعد اس نے جھجکتے ہوئے دریافت کیا: “ممانی! کیا انیلا آپ کے ساتھ ہے؟”

“نہیں بیٹا، وہ تو گھر میں ہے۔ میں ملازمہ کے ساتھ مارکیٹ آئی ہوئی ہوں،” ممانی نے جواب دیا۔

“اوہ… اچھا،” یونس نے کہا، “در اصل میں کب سے اسے فون کر رہا ہوں، لیکن وہ اٹھا نہیں رہی۔”

“شاید کچن میں ہوگی، کہہ رہی تھی سوپ پینے کو دل کر رہا ہے۔ تم تو جانتے ہی ہو وہ کتنی لاپروا ہے، فون کہیں رکھ دیا ہوگا،” ممانی نے تسلی دی۔

“ٹھیک ہے ممانی، میں اسے دوبارہ فون کرتا ہوں۔ اللہ حافظ۔” یونس نے رابطہ منقطع کیا اور انیلا کو دوبارہ فون کیا، مگر اس بار بھی گھنٹی بجتی رہی اور جواب نہ ملا۔ اس نے فون بند کیا اور گہری سوچ میں ڈوب گیا۔ کچھ دیر بعد وہ کمرے سے نکل کر تیز قدموں سے چلتا ہوا پارکنگ میں آگیا۔ چند لمحوں بعد وہ اپنی کار میں ‘صدیقی ہاؤس’ کی طرف جا رہا تھا۔ راستے سے اس نے ایک گلدستہ بھی لے لیا کیونکہ انیلا کو پھول بے حد پسند تھے اور وہ جب بھی اس سے ملنے جاتا تو پھول ضرور لے کر جاتا تھا۔

صدیقی ہاؤس کے گیٹ پر پہنچ کر اس نے دو تین بار ہارن دیا، مگر جب کسی نے گیٹ نہ کھولا تو اس نے پھر انیلا کو فون کیا۔ اسے یقین تھا کہ اب وہ کال ریسیو کر لے گی، لیکن شومئی قسمت، اس بار بھی فون نہ اٹھایا گیا۔ اس نے موبائل کوٹ کی جیب میں رکھا، کار سے اترا اور ڈور بیل بجا دی۔ گھنٹی کی آواز باہر تک سنائی دی، لیکن کئی سیکنڈ گزرنے کے باوجود جب گیٹ نہ کھلا تو یونس کو تشویش نے آگھیرا۔ اس کے دل کی دھڑکن غیر معمولی طور پر بڑھ گئی۔ اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیا کرے! اگر انیلا گھر میں تھی تو فون اور گھنٹی کا جواب کیوں نہیں دے رہی تھی؟

اس نے دیوار پھلانگنے کا فیصلہ کیا، مگر اس سے پہلے کہ وہ عمل کرتا، عین اسی لمحے ایک کار وہاں آ رکی۔ اس کی ممانی اور ملازمہ آ گئی تھیں۔ ممانی اسے دیکھ کر حیرت سے بولیں: “بیٹا! تم یہاں کیوں کھڑے ہو؟ کیا انیلا نے گیٹ نہیں کھولا؟”

“میں نے بیل بجائی تھی، لیکن اندر سے کوئی جواب نہیں آیا،” یونس نے جواب دیا۔

“اللہ خیر کرے،” ممانی پریشان ہو گئیں۔ ان کے پاس چھوٹے دروازے کی چابی تھی۔ انہوں نے پرس سے چابی نکال کر تالا کھولا اور دونوں تیز قدموں سے گھر میں داخل ہوئے۔ ممانی مسلسل انیلا کو آوازیں دے رہی تھیں، مگر ان کی آواز بازگشت بن کر گونج رہی تھی۔ انیلا کا کمرہ اوپر والی منزل پر تھا۔

“میں دیکھتا ہوں،” یونس نے کہا اور سیڑھیاں چڑھتا چلا گیا۔ کمرے کے دروازے پر پہنچ کر اس نے دو بار دستک دی اور اسے پکارا، مگر اندر خاموشی تھی۔ جب اس نے ہینڈل گھمایا تو دروازہ کھلتا چلا گیا۔ اندر داخل ہوتے ہی یونس نے جو منظر دیکھا، اس نے اسے ساکت کر دیا۔ انیلا کی لاش پنکھے سے لٹکی ہوئی تھی۔ اس کی آنکھیں بند تھیں اور صاف دکھائی دے رہا تھا کہ زندگی کی کوئی رمق باقی نہیں۔ اس کی گردن میں چادر کا پھندا تھا اور قالین پر ایک اسٹول اوندھے منہ پڑا تھا۔

“انیلا!” یونس چیختا ہوا اس کی طرف بڑھا۔ اس کی چیخ سن کر مسز صدیقی کا دل دہل گیا۔ انہوں نے بے اختیار سینے پر ہاتھ رکھا اور بلند آواز میں پوچھا: “کیا ہوا بیٹا؟”

“ممانی… ممانی…” اس سے آگے یونس کے حلق سے آواز نہ نکل سکی۔

“میں آ رہی ہوں،” وہ ہانپتی کانپتی اوپر پہنچیں اور جب وہ دل خراش منظر دیکھا تو لڑکھڑا گئیں۔ اگر وہ دیوار کا سہارا نہ لیتیں تو فرش پر گر پڑتیں۔ چند لمحے وہ پتھرائی ہوئی آنکھوں سے لاش کو دیکھتی رہیں، پھر “انیلا!” کہتی ہوئی آگے بڑھیں اور والہانہ انداز میں اس کی لٹکتی ٹانگوں سے لپٹ گئیں۔ “یہ تم نے کیا کر دیا انیلا!” وہ پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھیں۔ ماحول میں سوگوار خاموشی چھا گئی تھی۔ اگلے ہی لمحے انہیں غش آگیا اور وہ فرش پر گر پڑیں۔ یونس انہیں سنبھالنے کے لیے آگے بڑھا۔

انیلا کی تدفین کو چار دن گزر گئے تھے، لیکن مسز صدیقی کی حالت اب بھی مخدوش تھی۔ انیلا کی خودکشی نے انہیں توڑ کر رکھ دیا تھا اور وہ برسوں کی بیمار دکھائی دیتی تھیں۔ ہر کوئی پریشان تھا کہ آخر انیلا نے یہ انتہائی قدم کیوں اٹھایا؟ ایسا کیا ہوا تھا کہ اس نے اپنی ماں یا یونس سے بات کرنے کے بجائے موت کو گلے لگانا بہتر سمجھا، حالانکہ وہ بظاہر خوش و خرم دکھائی دیتی تھی۔ یونس بھی شدید صدمے میں تھا۔ وہ انیلا سے بے حد محبت کرتا تھا اور انیلا بھی اسے چاہتی تھی؛ منگنی کے بعد ان کا تعلق مزید گہرا ہو گیا تھا۔ یونس نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ وہ اسے یوں منجدھار میں چھوڑ جائے گی۔ یہ خیال اس کے لیے سوہانِ روح بن چکا تھا۔

چونکہ اسے خودکشی قرار دیا گیا تھا، اس لیے معاملہ پولیس تک نہیں لے جایا گیا، حالانکہ یہ خبر میڈیا پر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ یونس اپنی ممانی کو اس حال میں تنہا نہیں چھوڑ سکتا تھا، اس لیے گھر والوں کی مرضی سے ان کے پاس رہنے لگا۔ مسز صدیقی صدمے سے نڈھال تھیں؛ نہ کچھ کھاتی تھیں نہ بولتی تھیں، بس خاموشی سے خلا میں تکتی رہتیں۔ یونس اور اس کی امی انہیں کھانا کھلانے کی کوشش کرتے، مگر وہ انیلا کے بغیر ایک نوالہ لینے کو تیار نہ تھیں۔ ایک دن آنکھوں میں آنسو لیے انہوں نے دھیمی آواز میں کہا کہ انہیں یقین ہے کہ انیلا نے خودکشی نہیں کی۔

“معلوم نہیں،” مسز صدیقی نے دوپٹے سے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا، “میں نے اس سے پوچھا بھی تھا، لیکن وہ ٹال گئی تھی۔ شاید وہ مجھے بتانا نہیں چاہتی تھی۔”

“اس کا موبائل کہاں ہے ممانی جان؟” یونس نے بے تابی سے پوچھا۔

“اس کا موبائل…!” وہ ایسے بولیں جیسے ابھی یاد آیا ہو۔ “شاید اس کے کمرے میں ہوگا۔”

“میں دیکھتا ہوں،” یونس نے کہا اور چند لمحوں بعد وہ انیلا کے کمرے میں موجود چیزوں کا جائزہ لے رہا تھا۔ اس نے درازیں دیکھیں، بیڈ کے نیچے جھانکا، لیکن موبائل کہیں نہ ملا۔ سائیڈ ٹیبل پر انیلا اور ممانی کی فریم شدہ تصویر پڑی تھی، جس میں انیلا مسکراتی ہوئی ماں کے گلے میں بانہیں ڈالے کھڑی تھی۔ یہ تصویر یونس نے خود بنائی تھی اور سالگرہ پر تحفہ دی تھی۔ تصویر دیکھ کر یونس کا دل بھر آیا اور اس کی آنکھیں نم ہوگئیں۔ اس نے فریم واپس رکھا اور سوچنے لگا کہ آخر موبائل گیا کہاں۔

دفعتاً اسے ایک خیال آیا تو اس نے اپنے فون سے انیلا کے نمبر پر کال کی۔ چند لمحوں بعد کمرے میں مترنم گھنٹی بج اٹھی۔ اس نے چونک کر بک ریک کی طرف دیکھا۔ آواز وہیں سے آ رہی تھی اور آخر کار کتابوں کے درمیان چھپا ہوا موبائل مل گیا۔ یونس نے فون کا جائزہ لیا؛ بیٹری بیس فیصد تھی اور اسکرین پر اس کی بے شمار مسڈ کالز تھیں۔ وہ فون کی ہسٹری کھنگالنے لگا۔ اسے اس نمبر کی تلاش تھی جس سے چند دن پہلے انیلا کو فون آیا تھا اور بقول ممانی، وہ غصے میں بات کر رہی تھی، مگر اسے ایسا کوئی مشکوک نمبر نہ ملا۔ یونس کی پیشانی پر سوچ کی لکیریں گہری ہوگئیں۔ کیا انیلا نے خود نمبر ڈیلیٹ کیا تھا یا کسی اور نے؟ اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ اس نے فون جیب میں رکھا اور گہری سوچ میں ڈوبے ہوئے ترتیب سے رکھی کتابوں کو دیکھنے لگا۔
☆☆☆

یونس ایک ہفتے بعد اپنے آفس آیا تو اس کا دوست عرفان اس سے ملنے پہنچ گیا۔ جس دن انیلا نے خودکشی کی تھی، عرفان اپنے گاؤں گیا ہوا تھا، اسی لیے وہ جنازے میں بھی شریک نہ ہو سکا تھا۔ واپس آتے ہی وہ یونس سے تعزیت کے لیے اس کے دفتر چلا آیا۔

“مجھے انیلا کے اس انتہائی اقدام پر بے حد افسوس ہے۔ وہ میری بہت اچھی بہن تھی،” عرفان نے یونس سے گلے ملتے ہوئے کہا، “اللہ تم سب کو صبرِ جمیل عطا کرے۔”

“آمین،” یونس نے دھیمے سے کہا، پھر اس سے الگ ہو کر بولا، “بیٹھو، میں تمہارے لیے چائے منگواتا ہوں۔”

عرفان کے بیٹھنے پر یونس نے انٹرکام پر چائے کا آرڈر دیا اور اس کی طرف متوجہ ہوا۔ “تم کب واپس آئے؟”

“آج ہی آیا ہوں،” عرفان نے جواب دیا، “یہاں آکر معلوم ہوا کہ انیلا نے خودکشی کر لی ہے۔ آخر معاملہ کیا تھا؟”

“میں خود نہیں جانتا اور نہ ہی اس نے خودکشی سے پہلے کوئی تحریر چھوڑی تھی، البتہ…” کہتے کہتے یونس خاموش ہو گیا۔

“البتہ کیا؟” عرفان نے فوراً پوچھا۔

“ممانی بتا رہی تھیں کہ انہوں نے انیلا کو کسی سے غصے میں بات کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ انہوں نے اس سے پوچھا بھی تھا، لیکن وہ ٹال گئی۔ میں نے انیلا کے فون کی ہسٹری بھی دیکھی تھی، لیکن وہ ڈیلیٹ کی جا چکی تھی۔ اس صورتِ حال سے تو میں یہی سمجھتا ہوں کہ انیلا نے خودکشی نہیں کی بلکہ اسے قتل کیا گیا ہے،” یونس نے شک کا اظہار کیا۔

“اوہ!” عرفان ٹھٹک کر رہ گیا۔ “پھر کیا تم نے پولیس سے رابطہ کیا؟”

“نہیں،” یونس نے نفی میں سر ہلایا، “فی الحال میرے پاس کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہے، البتہ میں سوچ رہا ہوں کہ اب پولیس سے رابطہ کر ہی لوں۔ وہ موبائل کمپنی سے انیلا کے نمبر کا ڈیٹا نکلوا لیں گے، یوں پتا چل جائے گا کہ اسے کس کی کالز آ رہی تھیں۔”

“ہاں، یہ بات تو درست ہے،” عرفان نے اس کی تائید کی، “اگر میری مدد کی ضرورت ہو تو میں حاضر ہوں۔ پولیس میں کئی افسران سے میرے اچھے تعلقات ہیں۔”

“تمہارا شکریہ، میں اس بارے میں ضرور بات کروں گا،” یونس نے جواب دیا۔

اسی لمحے دروازے پر دستک ہوئی اور ایک ملازم چائے لے کر اندر داخل ہوا۔ اس نے دونوں کے سامنے کپ رکھے اور واپس چلا گیا۔

“تم سناؤ، تمہاری والدہ کی طبیعت اب کیسی ہے؟” یونس نے کپ اٹھاتے ہوئے دریافت کیا۔

“الحمدللہ، اب وہ ٹھیک ہیں اور تمہارا پوچھ رہی تھیں،” عرفان نے جواب دیا۔

ان دونوں کی دوستی کا آغاز ایک بینک سے ہوا تھا جہاں عرفان بطور منیجر تعینات تھا۔ یونس کسی کام کے سلسلے میں وہاں گیا تھا، جہاں باتوں باتوں میں ان کی دوستی ہو گئی۔ یہ تعلق وقت کے ساتھ اتنا گہرا ہوا کہ عرفان کا یونس کے گھر آنا جانا شروع ہو گیا، یہاں تک کہ اس کی انیلا سے بھی بات چیت ہونے لگی۔ انیلا کا اپنا کوئی سگا بھائی نہیں تھا، اس لیے وہ عرفان کو بھائی کہتی تھی اور ان کے درمیان خاصی بے تکلفی تھی۔

عرفان اکثر مذاق میں یونس سے کہتا تھا: “اگر تم نے شادی کے بعد انیلا کو ذرا بھی تکلیف دی تو میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑوں گا۔”

“یار تم بے فکر رہو، میں تمہاری بہن کو پلکوں پر بٹھا کر رکھوں گا،” یونس ہنس کر جواب دیتا۔ اسی طرح ان کے درمیان خوشگوار نوک جھونک چلتی رہتی تھی۔

دفعتاً یونس کے موبائل کی گھنٹی بجی۔ اسکرین پر ‘ماما’ لکھا دیکھ کر اس نے کپ میز پر رکھا اور فون اٹھا لیا۔ “جی امی جان!” اس نے سلام کے بعد پوچھا۔

“بیٹا! جلدی گھر آ جاؤ،” اس کی امی کی آواز میں گھبراہٹ تھی، “تمہاری ممانی کی طبیعت اچانک بہت خراب ہو گئی ہے۔”

یہ سنتے ہی یونس بے اختیار کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا۔ عرفان نے اسے تشویش سے دیکھا۔ “اوہ! کیا ہوا انہیں؟” یونس نے پوچھا۔

“میں کچن میں ان کے لیے سوپ بنا رہی تھی کہ مجھے کمرے سے کچھ گرنے کی آواز آئی۔ میں وہاں پہنچی تو وہ فرش پر بے ہوش پڑی تھیں اور ان کے ہاتھ میں انیلا کی تصویر تھی۔ شاید وہ تصویر سے باتیں کرتے کرتے نڈھال ہو گئیں۔ میں نے ڈاکٹر سعید کو بلا لیا ہے، وہ آتے ہی ہوں گے۔”

“ٹھیک ہے، میں ابھی آ رہا ہوں،” یونس نے جلدی سے کہا اور فون جیب میں رکھ کر عرفان کی طرف مڑا۔ “عرفان! مجھے فوراً نکلنا ہوگا، ممانی کی طبیعت بگڑ گئی ہے۔”

“چلو، میں بھی تمہارے ساتھ چلتا ہوں،” عرفان متفکر لہجے میں بولا۔ یونس نے اثبات میں سر ہلایا اور دونوں تیزی سے دفتر سے باہر نکل گئے۔
☆☆☆

مسز صدیقی بیٹی کی موت کے صدمے کی تاب نہ لاتے ہوئے بے ہوش ہو گئی تھیں۔ انہیں اس حال میں دیکھ کر نورین بیگم گھبرا گئیں۔ انہوں نے ملازمہ کی مدد سے انہیں بمشکل اٹھا کر بستر پر لٹایا اور فوراً اپنے فیملی ڈاکٹر کو فون کیا۔ ڈاکٹر سعید پندرہ منٹ کے اندر ہی پہنچ گئے۔ انہوں نے معائنے کے بعد انجکشن لگایا اور بتایا کہ فی الحال خطرے کی کوئی بات نہیں، شدید صدمے کے باعث طبیعت خراب ہوئی ہے، جلد ہی ہوش آ جائے گا۔ عرفان کچھ دیر وہاں ٹھہرا رہا، پھر کسی ضروری کام کا کہہ کر رخصت ہو گیا۔

اب مسز صدیقی کے کمرے میں صرف یونس اور اس کی امی موجود تھے۔ مسز صدیقی ہوش میں تو آ چکی تھیں لیکن بالکل خاموش تھیں۔ بالآخر یونس نے گفتگو کا آغاز کیا: “ممانی جان! آپ اس طرح چپ کیوں ہیں؟ کچھ تو بولیں۔”

“کیا بولوں بیٹا؟” مسز صدیقی نے نقاہت بھری آواز میں کہا، “کیا میرے بولنے سے انیلا واپس آ جائے گی؟”

“ممانی! پلیز خود کو سنبھالیں، ورنہ آپ کی طبیعت مزید بگڑ جائے گی،” یونس نے انہیں سمجھایا۔

“یونس! انیلا نے خودکشی نہیں کی، اسے کسی نے قتل کیا ہے،” ممانی نے اپنی بات دہرائی، “مجھے پورا یقین ہے کہ وہ کبھی ایسا قدم نہیں اٹھا سکتی تھی۔”

یونس نے ایک گہرا سانس بھرا۔ اسے خود بھی یہی شک تھا، لیکن پاس کوئی ثبوت نہ تھا۔ اس نے تسلی دیتے ہوئے کہا: “مجھے بھی یہی شبہ ہے، اسی لیے میں نے اپنے ایک پولیس افسر دوست کو انیلا کے فون کا ڈیٹا نکلوانے کا کام سونپ دیا ہے۔ جیسے ہی کوئی پیش رفت ہوئی، میں اگلا قدم اٹھاؤں گا۔” پھر ان کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر پر عزم لہجے میں بولا: “میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں، جس نے بھی انیلا کو قتل کیا ہے یا جو بھی اس کی موت کا ذمہ دار ہے، میں اسے کیفرِ کردار تک پہنچا کر ہی دم لوں گا۔”

یونس کے لہجے میں بلا کا استحکام اور پختگی تھی۔ اس نے تھوڑی دیر پہلے ہی اپنے دوست طیب کو فون کر کے انیلا کے نمبر کا ریکارڈ نکالنے کا کہہ دیا تھا، جس نے یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ جلد ڈیٹا فراہم کر دے گا۔ یونس کچھ دیر وہیں بیٹھا رہا، پھر اپنے کمرے میں چلا آیا۔ اس کے چہرے پر سنجیدگی کے گہرے سائے تھے۔ بستر پر لیٹتے ہی وہ دوبارہ انیلا کی یادوں میں کھو گیا۔

اچانک وہ خیالات کے حصار سے باہر نکلا، ایک لمبی آہ بھری اور بڑبڑایا: “انیلا! اگر تمہیں کوئی پریشانی یا کوئی مسئلہ تھا تو مجھ سے ذکر تو کیا ہوتا۔ مجھے یوں تنہا چھوڑ کر جانے کی کیا ضرورت تھی؟ کاش تم مجھے بتا دیتیں، شاید میں کوئی حل نکال لیتا۔”

اسی لمحے دروازے پر دستک ہوئی، یونس نے مڑ کر دیکھا تو اس کی امی چائے لے کر اندر داخل ہو رہی تھیں۔ “اب ممانی کیسی ہیں امی؟” اس نے کپ تھامتے ہوئے پوچھا۔

“بہتر ہیں، اب سو رہی ہیں،” انہوں نے جواب دیا، “بیٹی کی جدائی کا زخم بہت گہرا ہے، اسے بھرتے بھرتے وقت لگے گا۔”

“آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں،” یونس نے چائے کی چسکی لیتے ہوئے کہا، “کیا ندا یونیورسٹی سے آ گئی؟”

“ہاں، ابھی آئی ہے،” ان کے بتانے پر یونس نے خاموشی سے سر ہلا دیا۔
☆☆☆

اگلے دن یونس آفس میں موجود تھا کہ طیب کا فون آگیا۔ “ہاں طیب! کیا بنا؟” فون اٹھاتے ہی اس نے بے تابی سے دریافت کیا۔

“انیلا کے فون کی ہسٹری مل گئی ہے،” طیب نے جواب دیا، “آخری فون جس نمبر سے کیا گیا تھا، وہ ایک پبلک فون بوتھ کا ہے۔”

یہ سن کر یونس نے ہونٹ بھینچ لیے، پھر لمحاتی توقف کے بعد پوچھا: “پھر اب یہ کیسے پتا چلے گا کہ اس بوتھ سے انیلا کو کس نے فون کیا تھا؟ یہ تو بہت مشکل کام ہے۔ کیا تم نے سی سی ٹی وی فوٹیج چیک کی؟”

“ہاں، وہ بھی دیکھی ہے۔ جس وقت انیلا کو فون کیا گیا تھا، ایک آدمی کو بوتھ میں داخل ہوتے دیکھا گیا ہے، لیکن اس کا چہرہ واضح نہیں کیونکہ کیمرہ قدرے فاصلے پر لگا ہوا ہے،” طیب نے تفصیل بتائی۔

“اس کا مطلب ہے کہ انیلا نے خودکشی نہیں کی،” یونس کچھ سوچتے ہوئے بولا۔

“اس بارے میں ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہے،” طیب نے جواب دیا، “اگر انیلا کا پوسٹ مارٹم کیا جائے تو حتمی طور پر معلوم ہو سکے گا کہ یہ خودکشی ہے یا قتل۔”

“کیا اس سے قاتل کا پتا چل جائے گا؟” یونس نے چونک کر پوچھا۔

“اگر قاتل نے دستانے پہنے ہوں گے تو مشکل ہے، اور مجھے یقین ہے کہ قاتل شاطر تھا، اس نے کوئی نشان نہیں چھوڑا ہوگا۔ کیا تم نے انیلا کے گھر کے آس پاس کے کیمرے چیک کیے؟” طیب نے سوال کیا۔

“اوہ! اس کا تو مجھے خیال ہی نہیں رہا،” یونس نے کہا، “میں آج ہی یہ کام کرتا ہوں۔”

یونس دفتر سے جلد نکل گیا اور انیلا کی کوٹھی کے پڑوسیوں سے ریکارڈنگ چیک کرنے کی درخواست کی۔ آس پاس کے دو گھروں میں کیمرے نصب تھے، مگر قسمت نے ساتھ نہ دیا۔ ایک گھر کے مالک نے بتایا کہ ان کا کیمرہ عرصہ دراز سے خراب ہے، جبکہ دوسرے نے بتایا کہ وہ ہر تین دن بعد پرانی ریکارڈنگ ڈیلیٹ کر دیتے ہیں۔

اگلے دن عرفان دوبارہ یونس سے ملنے آفس آیا اور علیک سلیک کے بعد دریافت کیا: “سناؤ، فون کرنے والے کا کچھ پتا چلا؟”

“نہیں، اس نے کسی پبلک بوتھ سے فون کیا تھا،” یونس نے سر نفی میں ہلا کر جواب دیا، “ریکارڈنگ میں ایک شخص نظر تو آ رہا ہے مگر فاصلہ زیادہ ہونے کی وجہ سے پہچانا نہیں جا رہا۔ طیب کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم سے ہی حقیقت سامنے آ سکتی ہے۔”

“تو کیا تم پوسٹ مارٹم کرواؤ گے؟” عرفان نے پوچھا۔

“ممانی سے مشورہ کر کے ہی فیصلہ کروں گا۔ ویسے تمہارا کیا خیال ہے؟” یونس نے مشورہ چاہا۔

“بالکل کرواؤ،” عرفان نے تائید کی، “موت کی اصل وجہ معلوم ہونا ضروری ہے تاکہ یہ شک دور ہو سکے کہ یہ خودکشی تھی یا قتل۔”

یونس نے سر ہلا دیا۔ شام کو اس نے ممانی سے بات کی تو وہ سوچ میں پڑ گئیں۔ “بیٹا! اگر اس سے انیلا کا قاتل پکڑا جا سکتا ہے، تو ٹھیک ہے، تم پوسٹ مارٹم کرواؤ،” انہوں نے اجازت دے دی۔ یونس نے فوراً طیب سے رابطہ کیا اور ضروری کارروائی کا کہا۔

دو دن بعد انیلا کی قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم ہوا۔ رپورٹ نے سب کے ہوش اڑا دیے۔ انیلا کی موت پھندے سے لٹکنے سے نہیں ہوئی تھی، بلکہ اسے پہلے گلا دبا کر قتل کیا گیا اور پھر پنکھے سے لٹکا کر خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی۔ لیکن اس سے بھی زیادہ خوفناک انکشاف یہ تھا کہ قتل سے قبل اس کی بے حرمتی کی گئی تھی۔

رپورٹ پڑھ کر یونس کو شدید جھٹکا لگا۔ اس کا شک تو یقین میں بدل گیا کہ یہ ایک سوچی سمجھی سازش تھی، مگر اسے یہ توقع ہرگز نہ تھی کہ اس کے ساتھ اتنی بڑی زیادتی ہوئی ہوگی۔ طیب رپورٹ لے کر اس کے سامنے بیٹھا تھا۔ یونس سکتے کے عالم میں اسے تک رہا تھا۔ “اب قاتل کا پتا کیسے چلے گا؟” اس نے بمشکل پوچھا۔

“ہمیں انیلا کا کمرہ دوبارہ چیک کرنا ہوگا،” طیب نے ٹھوڑی کھجاتے ہوئے کہا، “مجھے یقین ہے قاتل سے کوئی نہ کوئی ایسی غلطی ضرور ہوئی ہوگی جو اسے پکڑوا دے۔”

یونس کے چہرے پر امید کی کرن جاگی۔ “تو پھر ابھی چلو!”

طیب نے اپنی ٹیم کو صدیقی ہاؤس پہنچنے کی ہدایت کی اور خود یونس کے ساتھ روانہ ہو گیا۔ ٹیم نے کمرے کا چپہ چپہ چھان مارا، ایک ایک چیز کا معائنہ کیا، مگر قاتل اس قدر ہوشیار تھا کہ کسی چیز پر انگلیوں کے نشانات تک موجود نہ تھے۔ طیب نے یونس کی ڈھارس بندھائی کہ وہ جلد اسے ڈھونڈ نکالیں گے۔

جب یونس ممانی کے کمرے میں پہنچا تو انہوں نے فوراً پوچھا: “یونس بیٹا! کیا معلوم ہوا؟ میری بیٹی نے خودکشی نہیں کی تھی نا؟”

“جی ممانی جان، ایسا ہی ہے،” یونس نے بوجھل لہجے میں کہا، “اسے قتل کیا گیا تھا اور…” وہ کہتے کہتے رک گیا۔ نورین بیگم اور مسز صدیقی نے اسے چونک کر دیکھا۔ “انیلا کے ساتھ زیادتی بھی کی گئی تھی۔”

یہ سنتے ہی دونوں خواتین صدمے سے ساکت رہ گئیں۔ اگلے ہی لمحے مسز صدیقی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں۔ نورین بیگم نے انہیں گلے لگا کر دلاسہ دینے کی کوشش کی، مگر بیٹی کی مظلومیت کا غم ایک بار پھر تازہ ہو گیا تھا۔
☆☆☆

یونس نے کار پارکنگ میں روکی اور بینک کی طرف بڑھ گیا۔ اسے عرفان سے ایک ضروری کام تھا، اسی لیے وہ اس سے ملنے آیا تھا۔ عرفان اپنے کمرے میں ہی موجود تھا اور یونس کو دیکھتے ہی استقبال کے لیے اٹھ کھڑا ہوا۔ اس سے پہلے کہ یونس اپنی بات مکمل کرتا، اچانک میز پر رکھے ٹیلی فون کی گھنٹی بج اٹھی۔ یونس خاموش ہو گیا جبکہ عرفان نے معذرت خواہانہ انداز میں ریسیور اٹھایا۔

“اچھا ٹھیک ہے، میں آتا ہوں،” عرفان نے مختصر بات کی، ریسیور رکھا اور یونس سے بولا: “یار! تم بیٹھو، میں بس پانچ منٹ میں آتا ہوں۔”

یونس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ عرفان کے جاتے ہی وہ سرسری نظروں سے دفتر کا جائزہ لینے لگا۔ میز پر چند فائلیں، قلم اور دو ٹیلی فون پڑے تھے۔ دفعتاً اس کی نظر میز کے ساتھ بنے ریک پر رکھی فائلوں پر پڑی تو وہ بے اختیار ٹھٹک گیا۔ اس کے چونکنے کی وجہ وہ ڈائری تھی جو فائلوں کے درمیان چھپائی گئی تھی، مگر اس کا کچھ حصہ باہر نکلا ہوا تھا۔ یونس اس ڈائری کو اچھی طرح پہچانتا تھا۔ اسے یاد تھا کہ انیلا ڈائری لکھنے کی شوقین تھی اور روزمرہ کے اہم واقعات اس میں ضرور درج کرتی تھی۔ جس رنگ کی ڈائری فائلوں میں دبی تھی، انیلا کے پاس بالکل ویسی ہی ڈائری تھی۔

یونس کو خود پر حیرت ہوئی کہ وہ انیلا کی ڈائری کے بارے میں کیسے بھول گیا تھا۔ تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر وہ اٹھا اور ریک سے وہ ڈائری باہر کھینچ لی۔ اگلے ہی لمحے اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ ڈائری کے کور پر “انیلا کی ڈائری” واضح طور پر لکھا تھا۔ “انیلا کی ڈائری عرفان کے پاس؟” یونس کی سوچ کو جھٹکا لگا۔ اسے کچھ غلط ہونے کا شدید احساس ہوا۔ نہ جانے اس کے ذہن میں کیا بات آئی کہ اس نے فوراً ڈائری اپنے بیگ میں رکھی اور کرسی پر بیٹھ گیا۔ اس کے دل میں وسوسے سر اٹھانے لگے۔ وہ جانتا تھا کہ انیلا نے کبھی کسی کو اپنی ڈائری پڑھنے کی اجازت نہیں دی تھی کیونکہ اس میں اس کی ذاتی باتیں تھیں۔

تھوڑی دیر بعد عرفان واپس آگیا اور ساتھ ہی ملازم چائے لے آیا۔ “ہاں، اب بتاؤ، تم ممانی کا اکاؤنٹ کھلوانے کی بات کر رہے تھے؟” عرفان نے چائے کا گھونٹ لیتے ہوئے پوچھا۔

“ہاں… وہ، چلو میں اس حوالے سے پھر کبھی بات کروں گا،” یونس نے بہانہ بنایا، “ابھی امی کا فون آیا تھا، مجھے فوراً جانا ہوگا۔” یہ کہتے ہوئے اس نے کپ میز پر رکھ دیا۔

“ارے کیا ہوا؟ خیریت تو ہے نا؟” عرفان بظاہر فکرمندی سے بولا۔

“ہاں خیریت ہے، بس ممانی یاد کر رہی ہیں۔ اچھا میں چلتا ہوں، چائے کا شکریہ،” یونس نے مختصر جواب دیا اور باہر نکل گیا۔

وہ جلد سے جلد گھر پہنچ کر ڈائری پڑھنا چاہتا تھا کیونکہ اس کا دل گواہی دے رہا تھا کہ جو کوئی انیلا کو ہراساں کر رہا تھا، اس کا ذکر اس میں ضرور ہوگا۔ گھر پہنچ کر اس نے دھڑکتے دل کے ساتھ ڈائری کھولی۔ انیلا کی خوبصورت لکھائی صفحوں پر موتیوں کی طرح بکھری ہوئی تھی اور ہر اندراج کے ساتھ تاریخ اور وقت درج تھا۔ جیسے ہی وہ آخری صفحے پر پہنچا، اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ اس کے چہرے کے تاثرات بدل گئے؛ حیرت کی جگہ شدید غصے اور غیظ و غضب نے لے لی۔ اس کی آنکھوں سے شعلے نکلنے لگے۔

انیلا نے سب لکھ دیا تھا کہ وہ کون ہے جو اسے نہ صرف ہراساں کر رہا تھا بلکہ قتل کی دھمکیاں بھی دے رہا تھا۔ یونس کے وجود میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ اس نے طیب کو فون کیا اور انتہائی عجلت میں گاڑی ڈرائیو کرتا ہوا دوبارہ بینک کی طرف روانہ ہوا۔ اس کے دماغ میں آندھیاں چل رہی تھیں۔ بینک کے دروازے پر گارڈ نے اسے روکنا چاہا، مگر یونس اسے دھکیلتا ہوا سیدھا منیجر کے کمرے کی طرف بڑھا۔ عین اسی لمحے دروازہ کھلا اور عرفان ہاتھ میں بیگ لیے باہر نکلتا دکھائی دیا۔ وہ شاید فرار ہونے والا تھا۔ یونس کو دیکھتے ہی اس نے بھاگنے کی کوشش کی، مگر یونس نے اسے دبوچ لیا اور اس کے منہ پر ایک بھرپور گھونسا رسید کیا۔

عرفان کے منہ سے کراہ نکلی۔ بینک کا عملہ اور گاہک حیرت سے ان کی طرف متوجہ ہو گئے۔ یونس نے اسے فرش پر گرایا اور اس کے سینے پر سوار ہو کر مکوں کی بارش کر دی۔ گارڈز نے بڑی مشکل سے یونس کو عرفان کے اوپر سے ہٹایا۔

“ذلیل! کمینے! تو تو آستین کا سانپ نکلا،” یونس گارڈز کی گرفت میں تڑپتے ہوئے پوری قوت سے چلایا، “انیلا تجھے بھائی کہتے نہیں تھکتی تھی اور تو اس کی عزت کا لٹیرا نکلا؟ چھوڑو مجھے، میں آج اسے زندہ نہیں چھوڑوں گا!”

فرش پر پڑے عرفان کا چہرہ خون آلود ہو چکا تھا اور اس کی دائیں آنکھ نیل پڑنے سے سوج گئی تھی۔ اسی لمحے انسپکٹر طیب کی سرکردگی میں پولیس وہاں پہنچ گئی۔ انسپکٹر کے اشارے پر اہلکاروں نے عرفان کو ہتھکڑیاں لگائیں اور اسے گھسیٹتے ہوئے باہر گاڑی کی طرف لے گئے۔ بینک میں موجود ہر شخص دم بخود تھا۔

“آؤ یونس، چلیں،” طیب نے کہا، تو وہ بوجھل قدموں سے بینک سے باہر آگیا۔ پولیس عرفان کو لے جا چکی تھی۔ یونس شدید صدمے میں تھا؛ اسے گمان بھی نہ تھا کہ اس کا بہترین دوست ہی اس کی محبت کا قاتل نکلے گا۔

“تمہیں کیسے یقین ہوا کہ عرفان ہی قاتل ہے؟” گاڑی میں بیٹھتے ہی طیب نے پوچھا۔

یونس نے خود کو پرسکون کرنے کی کوشش کی اور بتایا: “انیلا ڈائری لکھتی تھی۔ جب میں نے عرفان کے دفتر میں اس کی ڈائری دیکھی تو میں اسے اٹھا لایا۔ انیلا نے آخری صفحے پر سب سچ لکھ دیا تھا۔ میں تمہیں وہ ڈائری دیتا ہوں، تم خود پڑھو۔”

یونس نے بیگ سے ڈائری نکالی اور آخری صفحہ کھول کر طیب کے حوالے کر دیا۔ طیب مطالعے میں غرق ہو گیا۔ انیلا نے لکھا تھا:

“عرفان… جسے میں اپنا سگا بھائی مانتی ہوں، اس کی نیت میں فتور آ چکا ہے۔ وہ مجھے عجیب نظروں سے دیکھتا ہے، یہاں تک کہ اس نے مجھ سے کہا کہ ‘انیلا! تم مجھے بھائی نہ کہا کرو کیونکہ میں تمہارا بھائی نہیں ہوں، بھائی وہ ہوتا ہے جس سے خون کا رشتہ ہو’۔ اس نے مجھ سے مطالبہ کیا کہ میں یونس سے منگنی توڑ کر اس سے خفیہ شادی کر لوں۔ وہ مجھے فون پر دھمکیاں دے رہا ہے کہ اگر میں نے بات نہ مانی تو وہ مجھے برباد کر دے گا۔ میں پریشان ہوں، اگر یونس کو بتاؤں گی تو وہ طیش میں آکر عرفان کو مار دے گا، اور میں نہیں چاہتی کہ میرا یونس قاتل بنے، اس لیے میں خاموش ہوں…”
☆☆☆

طیب نے ڈائری بند کی تو اس کی آنکھیں بھی نم تھیں۔ وہ ایک پولیس افسر تھا، لیکن ایک بہن کی بے بسی اور قربانی کی یہ داستان اس کے دل کو چیر گئی تھی۔ “یونس! انیلا نے اپنی جان دے کر تمہیں قاتل بننے سے بچا لیا، لیکن اس درندے نے اس کی خاموشی کا فائدہ اٹھایا۔”

عدالتی کارروائی شروع ہوئی تو انیلا کی ڈائری، پوسٹ مارٹم کی رپورٹ اور سی سی ٹی وی فوٹیج نے عرفان کے گرد گھیرا تنگ کر دیا۔ انیلا کے کمرے سے ملنے والے بالوں کے نمونے اور ڈی این اے ٹیسٹ نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی۔ عرفان، جو خود کو بہت شاطر سمجھ رہا تھا، قانون کے آہنی شکنجے سے نہ بچ سکا۔ اسے قتل اور زیادتی کے جرم میں سزائے موت سنا دی گئی۔

جس دن عدالت نے فیصلہ سنایا، یونس سیدھا قبرستان گیا۔ انیلا کی قبر پر پھول رکھتے ہوئے اس کے آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ “انیلا! تمہارا مجرم اپنے انجام کو پہنچ گیا، لیکن کاش تم نے مجھ پر بھروسہ کیا ہوتا۔ میں قاتل بننا پسند کرتا لیکن تمہیں کھونا نہیں…” اس کی آواز ہچکیوں میں دب گئی۔

گھر کی حالت اب بدل چکی تھی۔ مسز صدیقی نے خود کو اس حقیقت کے ساتھ سمجھا لیا تھا کہ ان کی بیٹی ایک مظلومہ تھی، گناہ گار نہیں۔ یونس نے اپنا وعدہ نبھایا اور اپنی ممانی کو کبھی تنہا محسوس نہ ہونے دیا۔ وہ اب ان کے بیٹے کی طرح ان کا خیال رکھتا تھا، لیکن اس کی آنکھوں کی وہ چمک، جو انیلا کے ساتھ وابستہ تھی، ہمیشہ کے لیے بجھ چکی تھی۔

انیلا کی وہ ڈائری آج بھی یونس کے پاس محفوظ تھی۔ اس کے آخری صفحات پر انیلا کا خون نہیں، بلکہ اس کی پاکیزہ محبت اور یونس کو بچانے کی تڑپ لکھی تھی۔ یونس نے ڈائری بند کی اور کھڑکی سے باہر چاند کو دیکھتے ہوئے دھیمی آواز میں کہا: “تم جیت گئیں انیلا… میں قاتل نہیں بنا، لیکن میں زندہ بھی کہاں رہا؟”

فضا میں ایک عجیب سا سکون تھا، جیسے انیلا کی روح کو انصاف ملنے کے بعد اب اطمینان ہو گیا ہو۔
☆☆☆
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Back
Top