- Moderator
- #1
اساور کا موڈ سخت خراب تھا۔ آج کا دن ہی برا شروع ہوا تھا۔ رات دیر تک اسائنمنٹ پر کام کرنے کے بعد اسے بہت دیر سے نیند آئی، اور صبح سویرے جاگنا بھی محال تھا۔ اماں نے دیر سے جاگنے پر اسے سخت ستایا۔ جتنا وہ جلدی میں تھی، اس کے کام اتنے ہی بگڑتے چلے گئے۔ سخت سردی میں گیزر خراب ہونے کی وجہ سے یخ پانی سے شاور لینا پڑا، اور باہر نکلتے ہی اس کے دانت بجنے لگے۔ جلدی جلدی کپڑے پریس کرنے کے چکر میں دوپٹہ جل گیا، اور دوسرا لباس منتخب کرنا وقت کا زیاں تھا۔ اس نے الماری سے ہم رنگ دوپٹہ نکال کر وقت کی بچت کرنے کی کوشش کی۔آج سر عبد اللہ کے اسائنمنٹ جمع کروانے کی آخری تاریخ تھی۔ ان کے غصیلے رویے اور جابرانہ سلوک سے سب ہی خوفزدہ رہتے تھے۔ اب یہ اساور کی قسمت تھی، کہ عین وقت پر احمد نے اسے یونیورسٹی جانے سے انکار کر دیا۔میں اب یونیورسٹی جاؤں گی؟ اس وقت تو کوئی پوائنٹ بھی نہیں ملے گا۔ اس نے منہ بسورا میں آفس سے لیٹ ہو جاؤں گا۔ آج ایک اہم میٹنگ ہے، اس کے اہم نکات مجھے باہر سے ڈسکس کرنے ہیں۔ احمد نے دوٹوک انداز میں انکار کر دیا۔ اماں نے اساور کی روتی ہوئی صورت نہ دیکھی، تو جھٹ سفارشی کا کردار نبھانے لگیں۔کوئی بات نہیں بیٹا، تھوڑا سا لیٹ ہو بھی گئے تو بہن کی دعا سے کیا معلوم میٹنگ کامیاب ہو جائے۔اماں کے کہنے کے بعد انکار کی گنجائش ہی کہاں تھی۔ احمد ویسے بھی ان کا سب سے لاڈلا اور فرماں بردار بیٹا تھا، تو حکم ماننا لازمی تھا۔ ہامی بھرنے کے بعد اساور نے ناشتہ کر کے اٹھ کھڑی ہوئی۔ اسے ڈر تھا کہ ایک منٹ کی بھی دیر ہو گئی، تو کہیں احمد فیصلہ ہی نہ بدل ڈالے۔خدا خدا کر کے بھاگم بھاگ یونیورسٹی پہنچی، تو پہلی اطلاع ملی کہ سر عبد اللہ کی والدہ کی وفات ہو گئی ہے، لہٰذا وہ تعطیل پر ہیں۔ اسے اپنی صبح سویرے کی ہڑبونگ، بھائی کی منت سماجت اور بھاگ دوڑ بے کار لگی۔اس نے کاریڈور میں ردا کی تلاش میں نگاہیں دوڑائیں، مگر وہ کہیں نظر نہ آئی۔ اس نے یہی نتیجہ اخذ کیا کہ موصوف آج غیر حاضر ہیں۔ وہ ملول ہو کر لان میں گھاس پر دھوپ سینکنے بیٹھ گئی، مگر نرم گرم دھوپ بھی اس کے موڈ میں بہتری نہ لا سکی۔ اس کے اندرونی جذبات اس کے چہرے سے عیاں تھے۔ سرخ و سفید رنگت پر دلکش نقوش کے ساتھ، تیکھے انداز میں وہ اطراف کا جائزہ لینے میں مصروف تھی، جب دو شناسا آنکھیں اسے اپنے اطراف محسوس ہوئیں۔یہ حمزہ تھا، بے حد خوبرو اور یونیورسٹی کا نہایت ذہین طالب علم، جو ہر طرح کی علمی و ادبی سرگرمیوں میں آگے رہتا تھا۔ اسی وجہ سے وہ اساتذہ کی نگاہ میں بھی مقبول تھا۔ وہ نئے طلباء و طالبات کو اصول و ضوابط سے آگاہ کرتا، فرض شناسی کے اصولوں پر گامزن رہنے کی تلقین کرتا۔ اس کی پر وقار شخصیت سے بہت سی لڑکیاں متاثر تھیں۔ کئی نے باقاعدہ دوستی کی آفر دی، مگر وہ صرف دوستانہ تعلق برقرار رکھنے والا شخص تھا۔حمزہ دل کی بات دل میں ہی رکھنے والا تھا، مگر فیاض کے علاوہ کسی کو معلوم نہ تھا کہ اس کے دل میں اساور کے لیے محبت ہے۔ فیاض اس کا روم میٹ بھی تھا، اور دن رات ساتھ رہتے تھے۔کیا میں یہاں بیٹھ سکتا ہوں؟ حمزہ کے پوچھنے پر اساور نے قدرے حیرت سے اسے دیکھا۔جی، بالکل۔ زمین میرے نام الاٹ نہیں ہے۔ اس کا موڈ خراب تھا، تو زبان بھی کچھ کڑوی ہو گئی۔اس کے ناراض ہونے پر بھی حمزہ کے خوشگوار موڈ پر فرق نہ پڑا۔ وہ زیر لب مسکراتے ہوئے پاس ہی بیٹھ گیا۔ اساور کو اس کے اس طرح مسکرانے اور ٹکٹکی باندھ کر دیکھنے سے سخت ناگواری ہو رہی تھی۔کیا میرے منہ پر لطیفے لکھے ہوئے ہیں جنہیں پڑھ کر آپ محظوظ ہو رہے ہیں؟ آخرکار سخت برافروختہ ہو کر اس نے کہا۔ایسی تو کوئی بات نہیں، میں بہت دن سے آپ سے بات کرنا چاہ رہا تھا۔ اب جب کہ فائنل ایئر ہے، سوچا وقت بھی کم ہے اور یہی مناسب وقت بھی۔ پھر آج آپ کی باڈی گارڈ بھی دکھائی نہیں دے رہی۔ یقیناً یہ ردا کی طرف اشارہ تھا۔وہ پہلی بار بالکل چپ چاپ اسے سن رہی تھی، اور اس کی نگاہوں سے وارفتگی واضح تھی۔مجھے آپ بہت اچھی لگتی ہیں۔ مجھے گھما پھرا کر بات کرنا نہیں آتا۔ دراصل میں آپ سے شادی کرنا چاہتا ہوں، اور اسی سلسلے میں اپنے والدین کو آپ کے گھر بھیجوں گا۔ آپ کا جواب کیا ہوگا؟اس کے سامنے وہ گنگ سی بیٹھی، گھاس نوچ کر پھینکتی رہی۔کیا میرا غصہ گھاس پر نکالنے کا ارادہ ہے؟نہیں، ایسی تو کوئی بات نہیں۔ میں چلتی ہوں، مجھے دیر ہو رہی ہے۔ وہ ہاتھ جھاڑتے ہوئے ایک دم اٹھ کھڑی ہوئی۔ حمزہ بھی کھڑا ہو گیا۔کیا میں اتنا ناقابل قبول ہوں کہ میری بات کا جواب ہی نہیں دیا گیا؟ اس کے لیے یہ شکستگی کھلی ہوئی تھی۔جی، اگر میرے والدین ہاں کریں، تو مجھے بھی کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ وہ دھیمے سے کہہ کر وہاں سے چل دی۔ حمزہ اسے تب تک دیکھتا رہا جب تک وہ نظر سے اوجھل نہ ہو گئی۔
☆☆☆
صدیقی صاحب لاؤنج میں بیٹھے صبح کا اخبار پڑھ رہے تھے کہ عالیہ بیگم اپنے کمرے سے نکلیں اور اطراف میں نظر دوڑائی۔ صدیقی صاحب نے اخبار پڑھتے ہوئے رک کر انہیں دیکھا اور چشمہ اتار کر بولے، بیگم! صبح سویرے چائے کا ایک کپ تو پلا دیں۔تب عالیہ بیگم نے کچن میں جھانکا۔ یہ عائزہ دکھائی نہیں دے رہی، نجانے کہاں گئی ہے؟ ان کا موڈ خراب ہو گیا تھا۔ اس وقت ثمرہ لاؤنج میں آئی۔ اس کے ہاتھ میں کپڑے تھے۔امی عائزہ کہاں ہے؟ اسے کہا بھی تھا کہ میرے کپڑے پریس کر دینا۔ ابھی تک وہی بیڈ پر پڑے میرے منہ چڑھا رہے ہیں۔یہ سن کر عالیہ بیگم کے ماتھے پر شکنوں کا جال سا بن گیا۔ ارے ہو گی کہاں، وہی زمانے بھر کا شوق، چھت پر موئے پرندوں کو دانہ پانی ڈال رہی ہوگی۔ پھر انہوں نے سخت غصے میں آواز لگائی، عائزہ! عائزہ!وہ مٹھی بھر کر روٹی کے ٹکڑے ایک تھالی میں ڈال رہی تھی کہ تبھی اسے اپنے نام کی صدا سنائی دی۔ اس نے اپنے ماتھے پر ہلکی سی چپت ماری۔ ہائے اللہ، ممانی کی آواز لگتی ہے، آج پھر پارہ ہائی ہے۔ یا اللہ مدد وہ تیزی سے جگ ہاتھ میں اٹھائے، سیڑھیوں سے نیچے اتری۔ آخری سیڑھی پر قدم رکھ رہی تھی کہ عالیہ ممانی اسے کینہ توز نظروں سے دیکھ رہی تھیں۔اتر آئیں چھت سے، کتنی دیر سے آواز لگا رہی ہو؟ ہزار بار کہا ہے کہ یہ جگ بھر کر نہ لے جایا کرو۔ ان کا موڈ سخت خراب تھا۔میری اچھی ممانی! آپ جانتی ہیں، جس گھر کے چرند پرند کو دانہ پانی ملتا ہے وہاں رزق بند نہیں ہوتا۔ یہ تو اچھی بات ہے ناں؟ عائزہ معصومیت سے کہتی ہوئی ان کے چہرے کے اتار چڑھاؤ کا جائزہ لے رہی تھی، جن کا چہرہ غصے سے لال ہو چکا تھا۔زیادہ بات نہ کرو، جا کر ناشتہ بناؤ۔ اور ہاں، تم نے عمرہ کے کپڑے کیوں نہیں پریس کیے ابھی تک؟عائزہ نے گھبرا کر انہیں دیکھا، پھر جلدی سے جواب سنبھالا، سوری ممانی! ذہن سے نکل گیا تھا۔وہ سادگی سے کپڑے اٹھانے لگی۔ عالیہ بیگم اسے دیکھ کر کس کر رہ گئی تھیں۔ کبھی کھانا بھولتی ہو، کبھی نہیں!ممانی جان! کھاؤں گی نہیں، تو زندہ کیسے رہوں گی؟ زندہ نہیں رہوں گی، تو گھر کے کام کیسے کروں گی؟ آپ سب کا خیال کیسے رکھوں گی؟ عائزہ جلدی جلدی بولتی چلی گئی۔ عالیہ بیگم اسے خشمگیں نگاہوں سے گھورتے ہوئے، ہاتھ لہرا کر بولیں، زبان تو قینچی کی طرح چل رہی ہے، ذرا ہاتھ بھی چلا لو۔عائزہ تیزی سے کچن میں آئی، جہاں سارے کام اس کے ہی منتظر تھے۔ اس نے تیزی سے چولہا جلا کر چائے بنائی اور فریج سے آٹا نکال کر پراٹھے بنانے لگی۔ اسی افرا تفری میں اس نے سب سے پہلے ماموں کو ناشتہ پیش کیا، پھر ممانی اور ثمرہ کو ان کا من پسند ناشتہ دینے کے بعد کچن سے نکلی۔ٹھٹھرتی سردی میں مشین چلانے کا تصور اسے اداس کر رہا تھا، تبھی اساور سامنے سے آتی نظر آئی۔ عالیہ بیگم اس کی بلائیں لے رہی تھیں۔ وہ اپنی شہرہ کے لیے احمد کو سوچ رہی تھیں، اسی لیے اساور کی بھتیجی کی خوب آو بھگت کر رہی تھیں۔یہ گھر بے حد کشادہ تھا، جس کی منزل دو حصوں میں تقسیم تھی۔ ایک میں بڑے بھائی اور دوسرے میں چھوٹے بھائی اور ان کے بچے رہائش پذیر تھے۔ دونوں گھرانوں میں آپسی معاملات خوش اسلوبی سے چل رہے تھے۔
☆☆☆
اساور پودوں کو پانی دے رہی تھی، جب دروازے پر زور دار دستک ہوئی۔ وہ چونک گئی۔ اماں نماز عصر کے بعد تسبیح میں مشغول تھیں۔ تبھی اس نے آگے بڑھ کر دروازہ کھولا اور سامنے خواتین کو دیکھ کر ٹھٹک سی گئی۔ پہلا خیال ہی اسے حمزہ کا آیا۔ وہ پیپرز کے بعد اب گھر پر ہی ہوا کرتی تھی اور انجانے میں اسے حمزہ کا دھیان ستانے لگا تھا، حالانکہ اس دن کے بعد حمزہ نے بھی اس سے کلام نہیں کیا تھا، بس دور دور سے میٹھی گہری نظر سے اسے دیکھتا اور پاس سے گزر جاتا۔ اس کی نگاہوں میں پنہاں محبت کا پیغام اور دل پر دستک دینے لگا تھا، اور اب اچانک ان خواتین کی آمد اسے خوش کر گئی۔اس نے ان کو بٹھا کر اماں کو ان کی آمد کا بتایا اور پھر جونش سی کچن میں چلی آئی۔ اسے خوشی تھی کہ وہ شخص اس کے ساتھ مخلص تھا، محض وقت گزاری نہیں کر رہا تھا۔ وہ چائے کے لوازمات کے ساتھ ڈرائنگ روم میں داخل ہونے لگی تو اندر سے اماں کی آواز سن کر اس کے پاؤں تلے سے زمین کھسک گئی۔ ارم بیگم سخت سنجیدہ تھیں۔آپ تشریف لے جا سکتی ہیں۔ ہماری بیٹی ہم پر بوجھ نہیں ہے۔ اماں نے شانت لہجے میں کہا۔ بلاوحہ غصہ نہیں کرتی تھیں۔ ضرور کوئی وجہ رہی ہوگی، لیکن کیا؟ وہ سمجھنے جا رہی ہیں، ہمیں بھی بے عزت ہونے کا کوئی شوق نہیں ہے۔ یہ ساری جائیداد اور روپیہ اپنی قبر میں نہیں لے جائیے گا، یہی وقت ہوتا ہے کہ لڑکی کا مستقبل سنوارنے کے لیے کام آجاتا ہےوہ معمر خاتون بوجھل قدموں سے جا چکی تھیں۔ ادھر ارم بیگم نے اس کو پر تکلف چائے کے ساتھ آتے دیکھ کر سخت برا منایا۔کس سے پوچھ کر یہ سب لائی تھیں؟ اب کھڑی ہو کر میرا منہ کیا دیکھ رہی ہو؟ واپس لے جاؤ۔ لالچی لوگ منہ اٹھا کر آجاتے ہیں۔ گھر اساور کے نام کر دوں، کیوں بھلا؟ان کا غصہ کم ہونے کا نام نہ لے رہا تھا۔ وہ چپ چاپ واپس لوٹ گئی۔ اماں نے اس کی چپ کو نجانے کیا سمجھا، مگر لگتا تھا کہ اساور کے ہونٹوں کی ہنسی چھن گئی ہے۔ وہ شکستگی کھو گئی تھی۔ ہمہ وقت تتلی کی طرح پورے گھر میں منڈلانے والی کو روگ لگ گیا تھا۔ کبھی کبھی اساور کو خود پر بے تحاشہ غصہ آتا۔ نہ کوئی وعدہ ہوا تھا، نہ ہی عہد و پیمان، پھر بھی وہ ان دیکھی ڈوری میں بندھی، حمزہ کے ساتھ دل جوڑ بیٹھی تھی۔ پھر مقدر نہ جڑیں اور دل جڑ جائیں، تو دکھ فطری طور پر ہوتا ہے۔ کہیں نہ کہیں وہ خود کو حمزہ کا مجرم سمجھ رہی تھی۔پھر جب اس کا یونیورسٹی جانا ہوا، تب اتفاقاً اس کی ملاقات حمزہ سے ہوئی۔ وہ کچھ شرمساری کے ساتھ انگلیاں چٹاتی رہی۔سوری، میں اپنے پیرنٹس کو نہیں بھیج سکا۔ دراصل ہماری فیملی میں فوتگی ہو گئی تھی۔ تم آگے ایم فل کرو گی کیا؟وہ اس سے پوچھ رہا تھا اور وہ دل پر دھرے بوجھ کو سرکتے محسوس کر رہی تھی۔ شکر ہے اس دن آنے والی خواتین کا تعلق حمزہ سے نہیں تھا۔کینٹین چلتے ہیں، سموسے کھاتے ہیں۔ حمزہ نے اس کے چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا، تو وہ اثبات میں سر ہلا گئی۔ دراصل اس سے انکار ہوتا ہی نہ تھا اور جو دل کی مسند پر متمکن ہوں، انہیں تو انکار ممکن ہی نہیں۔زیست میں جہاں دکھ ہوتے ہیں، وہاں خوشیوں کے حسین پل بھی ایک بار ضرور دستک دیتے ہیں۔ اب یہ انسان کا کام ہے کہ وہ اپنی منزل پانے کے لیے کس حد تک کوشاں و سرگرداں رہتا ہے۔ اسی طرح اساور بھی آنے والے رشتوں کو مسلسل رد کر رہی تھی کیونکہ اسے تو کسی اور کا انتظار تھا۔ اس نے تو حمزہ سے فون نمبرز کا تبادلہ بھی کر لیا تھا اور اس سے مسلسل رابطے میں تھی، مگر چاہ کر بھی اسے اپنے والدین کو بھیجنے کا نہ کہہ سکی تھی-
☆☆☆
ثمرہ جیسے ہی کالج سے لوٹی، اس نے واپسی پر اپنی سہیلی کے ساتھ خریدے ہوئے رسالے شاپرے سے نکالے اور دنیا و مافیا سے بے خبر، لباس تبدیل کیے بغیر، رسالے کی ورق گردانی میں مصروف ہو گئی۔ سرورق کی ماڈل پر اچٹتی نگاہ ڈال کر اس نے سب سے زیادہ رومینٹک کہانی کا انتخاب کیا۔ جہاں ہیرو اور ہیروئن کے حسن کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملتے، چھم سے وہ کردار اس کے ذہن سے ہو کر دل کو چھو لیتا اور وہ جی ہی جی میں شرمانے لگتی۔ وہ تصور کی آنکھ سے خود کو ہیروئن تصور کرنے لگتی تھی۔ وہ کسی اور ہی جہان میں پہنچی ہوئی تھی، یہاں تک کہ اسے دوبار عائزہ بلانے کے لیے آواز دی گئی، مگر اسے آواز ہی نہ سنائی دی تھی۔ہوش میں تو تب آئی، جب عالیہ بیگم نے سر پر آ کھڑے ہوئے اس کی کلاس لینا شروع کی۔تم کالج پڑھنے جاتی ہو یا یہ سب الا بلا کا ڈھیر اکٹھا کرنے؟ کم از کم لباس تو بدل لیتیں۔ کھانے پر نواب زادی کا انتظار ہو رہا ہے اور یہاں کوئی فکر ہی نہیں!وہ ہڑ بڑا کر ایک دم سیدھی ہو کر بیڈ کی ٹیک پر بیٹھ گئی، حق دق ماں کی صلواتیں سن رہی تھی۔ اف اماں بس بھی کر دیں۔ نصابی کتب کے ساتھ ساتھ غیر نصابی کتب بھی تو پڑھنی چاہئیں، ان سے سیکھنے کو ملتا ہے۔وہ اپنی دانست میں بڑا جوازی تھی، مگر وہ بھی اس کی ماں تھیں۔مجھے معلوم ہے، جو اسباق تم اکٹھے کرتی ہو۔ تمہاری ان کہانیوں میں تو لڑکی بڑی فرمانبردار ہوتی ہے، مگر مجال ہے کہ تم ایک بات بھی مان جاؤ۔وہ سر کھجا کر واش روم میں بھاگی۔ دراصل اسے شروع سے ہی خیالوں اور خوابوں میں رہنا پسند تھا، اور کچھ ماں باپ نے اکلوتا جان کر اس کی ہر خوشی پوری کی تھی۔عادل صدیقی اور شفیق صدیقی دونوں بھائی تھے۔ عادل صاحب اکثر علیل رہتے تھے، اس لیے ان کا بیٹا احمد شفیق کے ساتھ آفس سنبھالتا تھا اور ساتھ ساتھ کام کرتا تھا۔ احمد کو یہ سب بہت اچھا لگنے لگا۔ وہ گھر اور آفس میں ہر جگہ اٹھتے بیٹھتے اس کے قصیدے پڑھتے رہتے تھے۔عالیہ بیگم بھی ثمرہ کے سامنے اکثر احمد کے حوالے سے ذو معنی گفتگو کرتی رہتی تھیں، جس کی وجہ سے اس کا دل احمد کے لیے دھڑکنے لگتا، مگر خود احمد کے دل میں کیا چل رہا تھا؟ یہ کوئی نہیں جانتا تھا۔ثمرہ کی کلاسز ختم ہونے کو تھیں، پھر فائنل ایگزامز کے بعد فراغت ہی فراغت تھی، اس لیے عالیہ بیگم نے صاف انداز میں بھاوج کے کان میں رشتے کی بات ڈال دی تھی۔ اب وہاں تک تو کہانی ٹھیک تھی، مگر احمد عائزہ سے شادی کا تمنائی تھا، جس کے لیے اس کے اہل خانہ بالکل بھی ذہنی و دلی طور پر آمادہ نہیں تھے۔
☆☆☆
عائزہ کالج کے یونیفارم میں تیز رفتار قدموں سے اسٹاپ سے گھر کا رخ کر رہی تھی۔ وہ بہت تھکن محسوس کر رہی تھی اور سوچ رہی تھی کہ گھر پہنچتے ہی اسے بے شمار کام درپیش ہوں گے۔ عیش تو ثمرہ کے ہیں، کہ گھر پہنچتے ہی مزیدار کھانا اس کے سامنے ٹیبل پر پیش کر دیا جاتا ہے۔ انہی سوچوں میں وہ گھر پہنچ چکی تھی۔ اس نے گہری سانس لی، گیٹ کھولا اور اندر داخل ہو گئی۔لاؤنج کے صوفے پر اپنا بیگ رکھ کر وہ بھی نڈھال سی وہیں بیٹھ گئی۔ اس وقت احمر ٹھنڈے پانی کا گلاس لیے لاؤنج میں داخل ہوا اور اسے پیش کیا۔عائزہ ایک دم سیدھی ہو کر بیٹھی، گلاس تھاما اور غٹاغٹ پانی پی گئی۔ پھر مسکراتے ہوئے بولی، احمر! تم میرا کتنا خیال رکھتے ہو، کبھی کبھی تو تمہاری بلائیں لینے کا دل کرتا ہے۔وہ ایسی ہی تھی، شفاف دل کی مالک۔ احمر کان کھجاتے ہوئے کچھ سوچ کر مسکرا دیا۔اب میری بلائیں بعد میں اتارنا، جا کر کھانا بناو۔ امی ثمرہ کے ساتھ خالہ نے کہا ہے کہ عائزہ جیسے ہی آئے، کھانا بنا دے۔احمر اس کے برے برے منہ بنتے دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولا، اف، اتنی گرمی ہے، اور یہ کچن کے کام، کل میرا بھی ٹیسٹ ہے۔احمر نے اس کی دمکتی رنگت کو بغور دیکھا اور بولا، تم پریشان نہ ہو، میں تمہاری مدد کروادیتا ہوں۔ تم بتا دینا، سبزی میں کاٹ دوں گا۔لاؤنج میں داخل ہوتی ثمرہ نے آخری جملہ سن لیا۔کیا کہنے، پہلے جا کر لسٹ میں لکھا سامان لے آؤ، اماں نے کہا ہے، ضروری ہے۔اس نے احمر کو ٹوک دیا۔ اس کی طنزیہ نگاہیں عائزہ کے چہرے پر تھیں۔عائزہ، احمر کی طنزیہ نگاہوں سے گھبرا کر کچن میں چلی آئی۔ وہ بہت دن سے محسوس کر رہی تھی کہ وہ اب اس گھر میں ایک بوجھ سے زیادہ کچھ نہیں رہی۔ یہ سوچ کر اس کی آنکھیں نم ہو گئیں۔وہ کھانا تیار کر رہی تھی کہ احمر کچن میں داخل ہوا۔ عائزہ نے ایک بے بس سی مسکراہٹ کے ساتھ اسے دیکھا۔کھانا تیار ہو گیا ہے کیا! کل سے وہ مسلسل اس کے بارے میں سوچ رہا تھا اور اب سے بات کرنا چاہ رہا ہے۔بس، پلاؤ دم پر ہے، ابھی ٹیبل پر لگا دیتی ہوں۔اس کے یاسیت بھرے لہجے نے احمر کے دل کو چھو لیا۔احمر نے اداسی سے کہا، عائزہ، تم کس طرح بچی جان کی سخت باتوں کو نظر انداز کر کے ہر دم ہنستی رہتی ہو؟ تمہارا رویہ اب میری برداشت سے باہر ہو چکا ہے۔ کاش میں تمہاری زندگی کے کانٹے چن سکوں۔عائزہ چونک گئی اور کھیرے کاٹتے ہوئے اس کے ہاتھ رک گئے۔ وہ بولی، احمر! دنیا کے لوگ بہت ظالم ہیں۔ انہیں کبھی اپنی کمزوری نہیں دکھانی چاہیے، ورنہ یہ دنیا ہمیں کیا کچھ نہ دے گی۔ اس لیے میں سب سن لیتی ہوں۔اس وقت عالیہ بیگم کچن میں آئیں اور احمر کو وہاں دیکھ کر مشکوک نظروں سے عائزہ کی طرف دیکھیں، پھر احمر سے مخاطب ہوئیں، احمر بیٹا، تم یہاں کیا کر رہے ہو؟ میں جانتی ہوں یہ ہر وقت میرے خلاف تمہارے کان بھرتی رہتی ہے۔ تم اندر چلو، ثمرہ بلارہی ہے۔ ارے نہیں میں تو صرف کھانے کے بارے میں پوچھنے آیا تھا۔عالیہ بیگم نے کرخت لہجے میں کہا، جاؤ، باہر جا کر بیٹھو۔ اور تم کیا، آج ہم سب کو بھوکا مار دو گی؟عائزہ نے شوخ انداز میں ٹرے اٹھاتے ہوئے کہا، اللہ نہ کرے ممانی! یہ لے لیں، جھٹ پٹ تیار ہے شیف عائزہ کے ہاتھ کا یعنی پلاؤ!وہ ذرا بھی اداس نہیں لگ رہی تھی۔
☆☆☆
گھر میں عجیب سا ماحول بنا ہوا تھا۔ احمد نے ارم بیگم سے عائزہ کے لیے کہا تھا، جبکہ عالیہ بیگم باتوں ہی باتوں میں پہلے ہی بھاوج سے اپنی بیٹی کی بات کر چکی تھیں۔ اس کے کہنے پر انہوں نے چمک کر کہا تھا، تم پاگل تو نہیں ہو گئے؟ اوہ، کنگال لڑکی بیاہ کر لے آؤں، جس کے ہاتھ میں کچھ نہیں۔ ارے وہ تو خود اپنے ماموں کے ٹکڑوں پر پل رہی ہے۔ان کے انداز پر وہ سلگ کر رہ گیا اور تڑپ کر بولا، اماں، کم از کم آپ اس کے لیے ایسے الفاظ مت استعمال کریں۔ وہ میرے لیے بہت اہم ہے۔میں نے منع کر دیا، تو انہوں نے یہ کہہ کر وہاں سے اٹھ گئیں، جبکہ احمد نے بے دلی سے سگریٹ سلگا لیا۔ اس پر ایک عجیب سی وحشت اور قنوطیت طاری تھی۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ ساری دنیا کو تہس نہس کر دے۔وہ مسلسل سگریٹ کے کش لیتے ہوئے سامنے رکھی بھاپ اڑاتی چائے کو دیکھ رہا تھا۔ اس کے اندر بھی ویسا ہی دھواں اٹھ رہا تھا، جیسے چائے کے مگ سے نکل رہا ہو۔
☆☆☆
گاڑی تیزی سے نور منزل سے نکلی تھی۔ فرنٹ سیٹ پر فیاض اور اس کے ہمراہ حمزہ براجمان تھے۔ مین روڈ پر آتے ہی کار سبک رفتاری سے اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھی۔ وہ دونوں خاموش بیٹھے تھے، تبھی عقبی نشست پر موجود رقیہ نے اس خاموشی کو توڑا۔اب وہ لوگ جب ہماری طرف آئیں گے، تو کیا ہوگا؟ وہ کھاتے پیتے، اونچے گھرانے کے ماڈرن لوگ اور ہم ٹھہرے سادہ لوح، گنوارے۔ ان کے لہجے میں آزردگی سی کھل گئی تھی۔ حمزہ نے فیاض کو مدد طلب نگاہوں سے دیکھا، تو وہ گلا کھنکار کر بولا، سب اچھا ہوگا، آپ بس شادی کی تیاریاں کریں۔ شادی مقررہ وقت پر ہی ہوگی، بلکہ شادی ادھر لاہور میں ہی کر لیتے ہیں، میرا گھر حاضر ہے۔اس نے کھلے دل سے آفر کی تھی۔در اصل رقیہ، حمزہ کا رشتہ لے کر اس کے گھر گئی تھیں۔ ان لوگوں کو نہ صرف حمزہ بہت بھایا بلکہ رقیہ بھی پسند آئی تھی۔ نہ نند، نہ سسر بس اکیلی ساس، اور وہ بھی بے انتہا محبت کرنے والی۔ یوں تو کوئی مسئلہ نہ تھا۔حمزہ لوگ زمیندار تھے، کسی شے کی کمی نہیں تھی، مگر لڑکی کے گھر والے واشگاف لفظوں میں کہہ چکے تھے کہ لڑکی گاؤں میں نہیں رہ سکتی۔ وہ تو اندر ہی اندر اس نے حمزہ سے وعدہ کیا تھا کہ بعد میں دیکھی جائے گی، وہ گوٹھ میں رہ لے گی۔ اسے کوئی اعتراض نہیں تھا، یوں شادی طے پا گئی تھی-
☆☆☆
صبح کی اولین کرنوں نے دھرتی پر اپنے قدم جمانے شروع کیے اور چھن چھن کر کمرے میں آتی روشنی نے اسے بیدار کر دیا۔ وہ جانتی تھی کہ کچھ دیر میں سارے گھر میں زندگی کی رمق لوٹ آئے گی۔ کل ساری رات پڑھنے کی وجہ سے وہ دیر سے جاگی تھی، ورنہ وہ بہت جلدی جاگ جاتی کیونکہ صبح خیزی کی عادی تھی۔ اس نے واش روم کا رخ کیا۔ اوپر تلے بہت سارے کام اس کے منتظر تھے، جن کے لیے حوصلہ کرنا ضروری تھا۔وہ فریش ہو کر کچن میں داخل ہوئی تو رات کو پیزا انجوائے کرتے ہوئے ثمرہ اور اساور نے برتن سنگ میں جمع کر رکھے تھے۔ وہ تو ساری صفائی ستھرائی کر کے ہی ہٹی تھی، مگر اب پھر سے اس کا منہ چڑ رہا تھا۔ اس نے برتن بنا کر سب سلیپ پر پڑی چیزیں سمیٹنا شروع کیں۔جب تک وہ برتن دھو کر فارغ ہوئی، تب مامی کچن میں جھانکنے آئیں۔ آج اساور کی شاپنگ کے لیے جا رہا ہے۔ میرا ارادہ ہے کہ میری ثمرہ کا بھی ساتھ ہی نکاح ہو جائے، اپنے احمد کے ساتھ۔وہ جانتی تھی کہ اسے سنایا جا رہا ہے، لہٰذا وہ چپ ہی رہی۔ دراصل، گھر میں بیک وقت خوشی کی فضا بھی تھی اور ناگواری بھی۔ احمد کئی مرتبہ رشتے کے لیے اپنی اماں پر زور ڈال رہا تھا، مگر وہ جانتی تھی کہ یہ ممکن نہیں اور نہ ہی آسان ہے۔اگر جاگیں گی تو انہیں ناشتہ گرم چاہیے ہوگا۔ نیا، تم آج کالج نہ جاؤ۔ بچیاں دیر سے ہیں، تم حکم نامہ جاری کرو۔مگر آج میرا بہت اہم ٹیسٹ ہے، وہ پہلی مرتبہ زچ ہو کر بولی تھی۔اس کے بعد دو گرم سیال آنسو اس کے چہرے کو بھگو گئے۔
☆☆☆
آج تو بہت مزہ آیا۔ ساری شاپنگ ہی تقریباً ہو گئی ہے، ثمرہ نے عالیہ کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا۔ اساور نے شاپنگ بیگز کھولنے شروع کر دیے تھے۔قریب ہی عائزہ سبزی بنا رہی تھی۔ اس نے گہری نگاہوں سے انہیں دیکھا۔ اس سے اساور کے چہرے کی شادابی بڑھ گئی تھی اور خوشی تو ثمرہ بھی بہت تھی۔ گھر میں اس کی اور احمد کی منگنی کا ذکر چل رہا تھا۔ اس کی سوچ کا پنچھی کہیں اور پرواز بھرنے لگااساور کی پسند کی شادی تھی اور ثمرہ جس کو چاہے، اسے پالے گی۔ بے بسی اور دکھ تو فقط قیموں کے حصے میں آتے ہیں۔ اس نے کھوئے کھوئے انداز میں سوچا۔اس وقت عالیہ بیگم نے عائزہ پر ایک تیکھی نگاہ ڈالی اور کہا، تم یہاں بیٹھی فکر ناکر کیا دیکھ رہی ہو؟ جاؤ جا کر کھانا تیار کرو۔ کم بخت سر پر ہی سوار رہتی ہے۔وہ بہت انا والی تھی، کم ظرف نہیں تھی اور نہ ہی بد نیت۔ اس نے چپ چاپ کچن کی راہ لی۔ البتہ وہ پہلی بار سوچ رہی تھی کہ کچھ لوگوں کو تو بنا مشقت کے سب کچھ مل جاتا ہے۔ نہ کسی شے کے لیے انتظار کی صلیب چڑھنا پڑتا ہے اور نہ ہی محنت کی چکی میں پسنا پڑتا ہے۔ ہر شے بن مانگے مل جاتی ہے۔ پھر دل نے اسے یکدم جھڑک دیا، تو اس نے لرز کر توبہ کی۔وہ کون ہوتی تھی جو اللہ کی تقسیم پر سوال اٹھانے والی ہو؟ اس کی رضا، اس کی مصلحت کہ کس کو کیا، کب اور کتنا نوازنا ہے۔ پھر جب تک اس کی مکس سبزی بن نہ گئی، وہ استغفار کرتی رہی۔
☆☆☆
بارات میں احمد کی نگاہیں عائزہ کے چہرے کا ہی طواف کرتی رہیں۔ وہ آج بہت دل سے تیار ہوئی تھی۔ آج تو اس کی چھبی نرالی تھی۔ احمد اس سے شادی کی بات کرنا چاہتا تھا، پھر پھولوں کے گجرے ٹیبل پر رکھتی عائزہ کو اس نے پکڑ ہی لیا۔تمہارا مسئلہ کیا ہے آخر؟یہ مسئلہ ہے؟ وہ دو بدو بولی تھی۔تم مجھے اگنور کیوں کر رہی ہو؟ وہ زچ ہو کر بولا۔اچھا! کیا واقعی؟ وہ کندھے اچکا کر لا تعلقی کا اظہار کر رہی تھی۔تم جانتی ہو کہ میں شادی صرف تم سے ہی کروں گا۔جی، لیکن اس میں میری کوئی غلطی نہیں، یہ آپ کا مسئلہ ہے، کیونکہ مجھے آپ سے شادی کرنا ہی نہیں ہے۔ نہ آج، نہ کل، بلکہ ایک عرصہ تک میں نے اس گھر میں محرومی اور ناروا سلوک دیکھا ہے۔ اب اور نہیں۔ میں تو ایسے شخص سے شادی کروں گی، جو مجھے عزت دے اور میں سر اٹھا کر جی سکوں۔اس کے الفاظ احمد کے کلیجے کے آر پار اتر گئے تھے۔ وہ بے یقینی سے اس کے روشن چہرے اور دلکش سراپا میں الجھا رہا تھا۔ پھر وہ بھی خفا سا پلٹ گیا اور پوری تقریب میں اس نے عائزہ کو پلٹ کر نہیں دیکھا۔ تب بھی جب اعلان ہوا کہ آج اساور کی رخصتی میں ثمرہ اور احمد کی منگنی بھی ہے، مگر دوسری طرف نجانے کیوں عائزہ نے جب ثمرہ کی انگلی میں احمد کے نام کی انگوٹھی دیکھی تو نم آلود پلکیں لیے مسکرا دی تھی۔
☆☆☆
یہ حویلی کا وسیع کمرہ تھا، جس کی چھت خاصی بلند تھی۔ وہ کچھ گھبراہٹ محسوس کر رہی تھی۔ اس نے ناپ تول کر نگاہوں سے کمرے کا جائزہ لیا، جس کی دیواریں نقش و نگار سے مزین تھیں اور جس پلنگ پر اسے بٹھایا گیا تھا، وہ ایک جہازی سائز منقش پلنگ تھا، جس کے رنگ دیواروں کے رنگوں سے ہم آہنگ تھے۔ اگرچہ یہ خالصتاً دیہی ماحول تھا، مگر اس سب میں نفاست اور سلیقہ جھلکتا تھا۔ دروازے چوب دار اور کھڑکیاں رنگین شیشوں والی تھیں، جہاں سے چھن چھن کر آنے والی روشنی سرخ و سبز مائل رنگ لیے ہوئے تھی۔ بہت ہی خوبصورت اور خوابیدہ سا ماحول تھا۔ اس کا دل تو اپنے گھر والے سے پہلے ہی جڑ چکا تھا، اب اس گھر سے بھی اپنائیت محسوس ہو رہی تھی۔اچانک ہی دروازہ کھلا اور وہ جو امید باندھے بیٹھے تھی کہ حمزہ ہوگا، دروازے پر اپنی ساس اور اس کے ہمراہ ایک اور فربہی مائل عورت کو دیکھ کر چونک گئی۔ بیٹی، میں نے سوچا کہ دوسرے گوٹھ سے آئی تمہاری خالہ جی سے ملا دوں۔ ساس نے اندر اگر سے مخاطب ہو کر کہا۔ اساور حیران تھی کہ یہ کون سی خالہ ہیں، جنہیں وہ پہچان نہیں پارہی۔ارے کیا سوچ رہی ہے! میں تیرے خصم کی خالہ ہوں۔ لفظ “خصم” پر وہ جی بھر کر بد مزہ ہوئی۔ وہ بی بی پاؤں پسارے وہیں نئے نکور بیڈ پر نیم دراز ہو گئی۔ بیٹی، رسم ہوتی ہے، ساس کے پاؤں دباؤ، تو آگے نیک اولاد ملتی ہے، پھر میری یہ بہن تو اللہ لوک ہے، تم میرے ہی پاؤں دباؤ۔وہ حیران رہ گئی۔ وہ نازوں پلی تھی، ان کے مٹی میں اٹے پاؤں اور پھٹی ایڑیاں دیکھ کر ہی اس کا جی متلا سا گیا۔ارے، تیری بہو تو بہت ہی نخرے باز ہے۔ ذرا بڑوں کا ادب رکھ۔وہ چپ چاپ کڑوا گھونٹ بھر کر ان کے پاؤں دبانے لگی، یہاں تک کہ فضا میں خالہ جی کے خراٹے گونجنے لگے۔ اس نے تھک کر ہاتھ کھینچ لیے تو وہ ایک دم ہڑ بٹھ کر جاگ گئی۔ارے جگا دیا؟ چلو، اب تو تم دباتی ہی رہو گی۔ یہ کہہ کر وہ کمرے سے نکل گئی۔ حمزہ دن چڑھتے ذرا پہلے آیا، تب تک وہ تھک کر سو چکی تھی۔ اگلی صبح جب وہ جاگی تو کمرے میں دھوپ آرہی تھی۔ ایک لمحے کے لیے اسے یاد ہی نہیں آیا کہ وہ کہاں ہے۔ اس نے تڑپ کر دیواروں اور کمرے کو بغور دیکھا۔ کمرے میں حمزہ موجود نہیں تھا۔پہلے پہل حمزہ شوخ اور کھلنڈرا سا نوجوان تھا۔ باپ کا سایہ سر پر نہ تھا، نہ ہی بہن بھائی کی صورت میں کوئی رشتہ دار تھے۔ جب خونی رشتوں کا کال پڑا ہو، تو فطری طور پر اس شخص کے اندر ایک خلا رہ جاتا ہے۔ اس کے اندر بھی محبت کے خلا تھے اور وہ چاہتا تھا کہ اساور اسے محبت سے بھر دے، مگر اس کی پرورش میں اس کی ماں نے بھرپور کردار ادا کیا تھا۔ اور اب جب کہ وہ چاہتی تھیں کہ بہو گھر میں رونق ڈالے، تو بہو یہاں رہنا ہی نہیں چاہتی تھی۔ وہ چاہتی تھی کہ کچھ عرصے بعد شہر میں شفٹ ہو جائے۔ جہاں تک حمزہ کی بات تھی، وہ ابھی تک کشمکش کا شکار تھا۔ ایک طرف ماں تھی، تو دوسری طرف محبت، اب نجانے کیا ہونا تھا۔جب وہ فریش ہو کر باہر نکلی، تو ساس بولیںبہورانی! آج تو اتنی، نحوست پھیلائی، دوبارہ دن چڑھتے نہ سونا۔ اب جلدی منہ پر کچھ تھوپ لو، زنانیاں ملنے آرہی ہیں، پورے گوٹھ سے۔وہ دل ہی دل میں سوچ رہی تھی کہ اگر وہ یہاں رہے گی تو یہ اعتراض تو کریں گی ناں! وہ تو یہاں سے اُڑن چھو ہو جائے گی۔ کچھ دیر میں وہ تیار تھی، مگر بھوک سے برا حال تھا۔ صبح سویرے چائے کا شوق تھا، مگر وہ چپ رہی۔ ایک دن کی دلہن کیسے مانگتی؟جب وہ باہر آئی، تو اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا سانس نیچے رہ گیا۔ گھر کا وسیع و عریض صحن بھانت بھانت کے چہروں سے بھرا ہوا تھا۔ اتنی زیادہ عورتیں اور ان کا والہانہ انداز، سب ہی اس کا سر اور ماتحت چوم رہی تھیں۔ کچھ زور زور سے اتنی حد تک جھنجھوڑ رہی تھیں کہ اس کا جی گھبرا رہا تھا۔ ابھی تو صرف پہلی چار قطاروں کی خواتین ہی ملی تھیں، پیچھے مزید چھ قطاریں تھیں۔ سب اپنی اپنی زبان میں دعائیں دے رہی تھیں۔ وہ تھکن سے چور ہو گئی تھی۔ ان عورتوں نے بھی تو حد کر دی تھی۔ اسے موم کی گڑیا کی طرح ٹریٹ کیا جا رہا تھا۔ یہ ان کی رسم تھی، مگر اس کا دم نکل رہا تھا۔جب ایک بڑی بی نے اس کا منہ چومنے کی کوشش کی، تو وہ ایک دم چلا اٹھی:بس پلیز! اسٹاپ!یہ کہہ کر وہ کمرے کی طرف بھاگ گئی اور اندر اٹھتے ہوئے اشتعال کو دبانے کی پوری کوشش کرنے لگی۔ اس وقت حمزہ، لال بھبھو کا چہرہ لیے کمرے میں داخل ہوا۔ یہ تم نے اچھا نہیں کیا! گوٹھ میں ہماری کوئی عزت ہے۔ تم میرے نام پر ایک دن کی رسم ادا نہ کر سکی۔ ساری زندگی ساتھ نبھانے کی باتیں، وہ وعدے کیا ہوئے!وعدے اور باتیں تو آپ نے بھی بڑی بڑی کی تھیں کہ ہر قدم میرا ساتھ دیں گے۔ کل کہاں تھے؟ اور آج جب میں سب کے درمیان شو پیس بنی ہوئی تھی، تو؟وہ روہانسی ہو رہی تھی۔تم سے مجھے یہ توقع ہرگز نہ تھی۔اس وقت رقیہ کمرے میں داخل ہوئی۔کوئی بات نہیں بیٹا، وہ نئی نئی بیاہ کر آئی ہے۔ دھیرے دھیرے سب سیکھ لے گی۔ قصور میرا ہے کہ میں نے اسے سمجھائے بنا اتنے لوگوں کے درمیان لے گئی۔رقیہ نے بہ ظاہر صلح صفائی کروادی، مگر دونوں کے دل سے بات نہ نکلی اور دونوں ایک دوسرے سے خفا تھے۔ابھی لوگوں کا تانتا کم نہ ہوا تھا کہ ایک نئی مصیبت آگئی۔ اسے کچھ میٹھا بنانے کی رہنمائی کرنی تھی۔ رسم تو وہ کر لیتی، مگر لکڑیوں پر کھانا پکانے کا طریقہ معلوم نہیں تھا۔ بہو! تم پریشان نہ ہو، میں ہاتھ بٹاؤں گی۔رقیہ نے عائزہ کا حوصلہ بڑھایا،مگر جب وہ لکڑیاں جلا رہی تھی تو پہلے دھوئیں کے اثر سے اس کی سانس رکنے لگی۔ پھر جب سانس ذرا بحال ہوئی تو اس نے کھیر بنانی شروع کی۔ امیراں میوے پستے اور بادام کاٹ رہی تھی۔عائزہ نے بے دھیانی میں چھیچ چلا دیا اور ہاتھ جلا بیٹھی۔ اس کے آنسو تھمنے کا نام نہ لے رہے تھے۔ امیراں نے جیسے تیسے اس کی جگہ کھیر بنائی، پھر بھی وہ نیچے لگ گئی۔
☆☆☆
شام کا وقت تھا۔ عائزہ سب کو چائے دینے کے بعد اپنا گلاس تھامے ٹیرس پر آ گئی اور خاموش کھڑی، ڈھلتے ہوئے سائے میں آسمان پر پرندوں کو اڑتے ہوئے دیکھ رہی تھی۔ وہ کم عمری سے ہی اپنے گھر بار سے محروم تھی۔ اسے محسوس ہوتا تھا کہ وہ کسی کے ٹکڑوں پر پل رہی ہے۔اس وقت لان میں موجود احمد کی والدہ ارم بیگم کی نظر اس پر پڑی۔ اُسے گم صم اور اداس دیکھ کر انہوں نے سوچا کہ بن ماں باپ کی یہ بچی بیاہ کر لے آئوں، مگر پھر دیورانی کا غصہ اور خفگی یاد آئی۔ ساتھ ہی یہ بھی خیال آیا کہ وہ خالی ہاتھ آ کر ان کے در پر بیٹھ جائے گی، اور اب تو احمد کی ثمرہ سے منگنی بھی ہو چکی تھی۔ مگر بہت عرصے سے وہ نوٹ کر رہی تھیں کہ عائزہ کبھی بھول سے بھی اُن کے پاس آ کر نہیں بیٹھتی تھی۔ جب وہ انہیں بلا کر بلاتیں، تو بہت ناگواری سے آتی تھی۔کل ہی کی بات تھی کہ وہ بہت دیر سے گھر لوٹی، تو ارم بیگم نے یونہی کہہ دیا کہ کوئی مسئلہ ہے تو احمد لے آئے گا ، مگر عائزہ پر گویا غصہ ہی چڑھ گیا اور وہ بولی آپ صاف صاف کیوں نہیں کہتیں کہ میری سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لیے آپ احمد کو میرے سر پر مسلط کر دینا چاہتی ہیں۔عائزہ کے یہ الفاظ سن کر ارم بیگم کے دل میں ملال جا گزرا۔ ابھی تو یہ بہو بن کر نہیں آئی، تو یہ تیور تھے۔ نہ چاہتے ہوئے بھی وہ ثمرہ اور عائزہ کا تقابل کرنے لگیں۔ اگرچہ انہوں نے عائزہ کو رد کر دیا تھا، مگر وہ پھر بھی ان کے کام اسی طرح بڑھ چڑھ کر کرتی تھی۔ کبھی کبھی ہمیں ہیرے کی پہچان دیر سے ہوتی ہے۔ ارم بیگم اب اسی بات پر پچھتا رہی تھیں۔
☆☆☆
بادلوں کی ٹکڑیاں تیرتی ہوئی آسمان کو گھیرے ہوئے تھیں۔ یکدم چہار سو اندھیرا سا پھیلنے لگا اور بادل برس پڑے۔ اساور کا دل بھی بہت بوجھل تھا، وہ بھی پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔ وہ بہت اداس تھی، ملول کی… وہ خود ضد کر کے ادھر اماں کی طرف آگئی تھی۔ اتنے عرصے سے اس کے پیچھے کوئی بھی نہ آیا تھا۔ اس نے بھی ضد دکھائی اور نتیجہ یہ نکلا کہ حمزہ اس سے ناراض ہو گیا۔ ایسا بھی نہیں تھا کہ اس نے گھر بنانے کی کوشش نہیں کی تھی، مگر وہ پریشان ہو گئی تھی۔بھینسوں کے باڑے سے اٹھتی ہوئی بو اسے ناگوار لگتی۔ اسے فضا میں عجیب سی بند محسوس ہوتی تھی۔ اس کا دل وہاں مایوس ہو گیا تھا۔ بھانت بھانت کی عورتیں اسے گھیرے رکھتی تھیں۔ پرائیوسی تو جیسے ختم ہو کر رہ گئی تھی۔ جب سے شادی ہوئی تھی، حمزہ زمینوں کے حساب کتاب کے سلسلے میں مصروف تھا، حویلی میں ہوتا ہی نہیں تھا، اور کبھی ہوتا بھی تو نجانے کن چکروں میں الجھا رہتا تھا۔ وہ اس کے ساتھ دو گھڑی بیٹھنے کو ترس گئی تھی۔تنگ آ کر اس نے اپنی ساس سے کہا کہ وہ چند دن میکے جانا چاہتی ہے۔ پھر اسے اصل دکھ اور پریشانی یہ تھی کہ ایک بار بھی حمزہ نے نہ منع کیا اور نہ اس کے جانے کے بعد اس کی خیر خیریت پوچھی۔ وہ ملول تھی، ساری منہ دکھاوے کی ہی محبت تھی شاید، اور پھر دل یہاں بھی نہیں لگ رہا تھا۔ وہ رورہی تھی جب عائزہ آئی۔آپ رورہی ہیں؟وہ چونکی تھی۔ہاں، دل بہت اداس ہے۔ وہ انکار نہ کر سکی۔
ایسا کیوں؟مجھے شاید ایڈجسٹ کرنا نہیں آتا۔وہ ہولے سے بولی۔کوئی بات نہیں، میں چلوں آپ کے ساتھ کچھ دن کے لیے؟ عائزہ نے دلجوئی کی خاطر کہا۔عالیہ، جو کافی دیر سے اسے دیکھ کر کلپ رہی تھی، اب اس سے رہا نہ گئی۔ وہ بولی:تم اندر چلو۔عائزہ چپ چاپ اندر چلی گئی۔ثمرہ اپنے بیڈ روم میں ہولے ہولے کسی سے فون پر بات کر رہی تھی۔ پھر کسی بات پر بے خیالی میں اس نے بلند و بانگ قہقہہ لگایا، تو عالیہ چونک اٹھی۔ اتنی رات کو وہ بڑ بڑاتے ہوئے اس کے کمرے کے قریب پہنچی، کہ ثمرہ کا جملہ سن کر ٹھٹھک کر رک گئی۔ بھیجو گے فراز؟ مجھے بہت ڈر لگتا ہے۔ میں نے خود کشی کر لینی ہے، مگر اس احمد سے شادی نہیں کرنی۔ یوں بھی وہ مجھ سے نہیں، میری کزن سے… اسی لمحے عالیہ کمرے میں داخل ہو گئی تھی اور ثمرہ کے ہاتھ سے فون چھوٹ گیا۔ امی! وہ بوکھلا کر رہ گئی تھی۔ جبکہ عالیہ سر تھام کر وہیں نڈھال بیٹھ گئی۔کون ہے وہ…؟امی، وہ بہت اچھا لڑکا ہے۔ اور پھر وہ ماں کے سامنے ہاتھ جوڑے، جلدی جلدی سب بتانے لگی۔ سب تفصیلات سن کر عالیہ مطمئن ہو گئی۔ کیونکہ جس لڑکے کی وہ بات کر رہی تھی، وہ بہت امیر تھا۔ احمد تو اس کے مقابلے میں بس مناسب ہی تھا۔ٹھیک ہے، تم جہاں چاہتی ہو، وہیں تمہاری شادی ہو گی۔ وہ ہامی بھر کر اٹھ کھڑی ہوئی۔ یوں بھی اکلوتی بیٹی کی خوشی اس کے لیے ہر شے سے مقدم تھی۔
☆☆☆
اس کے سینے میں اچانک درد اٹھا تھا۔ وہ سوتے میں کراہ رہا تھا، پھر درد بڑھتا چلا گیا۔ اس نے چیخنا چاہا، مگر دم گھٹ رہا تھا۔ اس نے سائیڈ ٹیبل پر رکھا شیشے کا جگ گرا دیا۔ چھناکے کی آواز پورے گھر میں گونجی۔ جب ارم بیگم کمرے میں آئیں، تو اس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔ وہ پل بھر میں سمجھ گئیں کہ ان کا بیٹا درد کی انتہاؤں پر ہے۔ افراتفری میں اسے ہاسپٹل لے جایا گیا۔اس نے ماں کی بات کی لاج رکھی تھی، مگر دل سے عائزہ کو نہ نکال سکا اور گھٹ گھٹ کر یہ حالت پیدا ہوئی تھی۔ وہ دو دن زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہا۔ اس کے دل کو جھٹکا لگا تھا، اور فوری طبی امداد سے اب وہ خطرے سے باہر تھا، مگر اسے شدید پریشانی سے بچانا بہت ضروری تھا۔عائزہ نے رو رو کر اپنا برحال کر لیا تھا۔ وہ جو کہتی تھی کہ اسے احمد سے محبت نہیں ہے، اس وقت اس کی اپنی حالت بے حد ابتر تھی۔ ہفتے بعد احمد کو ڈسچارج کر دیا گیا تھا۔ حمزہ اور رقیہ بھی شہر پہنچ چکے تھے، اساور کو لینے۔اب گھر چلو بیٹا۔ رقیہ نے کہا، تو اساور رو کر اس کے گلے لگ گئی۔ نہیں، نہ روتے! حمزہ تو اتنے دن سے کام میں لگا تھا۔ میں کہتی رہی کہ مجھے لے چل۔ یہ کہتا تھا اماں، ایک ساتھ چلیں گے آپ کی بہو کو لینے۔ یوں بھی میرے بیٹے کا دل شہر میں لگتا ہے، اس لیے ہم نے ادھر ہی ایک بنگلہ خرید لیا ہے، بس اسی کو سجانے میں لگا ہوا تھا۔ کہتا تھا کہ تجھے سرپرائز دے گا۔ یہ سن کر وہ بجائے خوش ہونے کے، اور رو دی تھی۔ تبھی حمزہ اندر آ گیا۔ چلو، گھر چلو، اب ہم سب تمہارے بغیر اداس ہیں۔ اور پھر اپنے والدین کی دعاؤں میں وہ ایک بار پھر وداع ہو گئی، مگر اس بار دل پہلے سے زیادہ خوش تھا۔
☆☆☆
جلتی بجھتی روشنیوں کے جلو میں، وہ ایک سہانی شام تھی، جب دو پریاں مسکراتی ہوئی اپنی قسمت پر نازاں تھیں۔ رنگ و نور کا سیلاب تھا، جو گھر کے کشادہ لان میں اتر رہا تھا۔ ساری کدورتیں دھل گئی تھیں اور عائزہ کو گھر کی اکلوتی بہو مان کر سند قبولیت دی گئی تھی۔وہ بھی کوئی ضد نہ کر سکی، کیونکہ احمد کو کھونے کا حوصلہ اس میں نہ تھا۔ احمد کن انکھیوں سے بار بار اسے ایسے دیکھ رہا تھا، جیسے یقین کر رہا ہو کہ یہ پری اسے مل گئی ہے۔ عائزہ نے پلٹ کر ترچھی نگاہ اس پر ڈالی اور محبت کی لپٹوں میں سمٹی، احمد کے دل میں اتر گئی۔
☆☆☆
☆☆☆
صدیقی صاحب لاؤنج میں بیٹھے صبح کا اخبار پڑھ رہے تھے کہ عالیہ بیگم اپنے کمرے سے نکلیں اور اطراف میں نظر دوڑائی۔ صدیقی صاحب نے اخبار پڑھتے ہوئے رک کر انہیں دیکھا اور چشمہ اتار کر بولے، بیگم! صبح سویرے چائے کا ایک کپ تو پلا دیں۔تب عالیہ بیگم نے کچن میں جھانکا۔ یہ عائزہ دکھائی نہیں دے رہی، نجانے کہاں گئی ہے؟ ان کا موڈ خراب ہو گیا تھا۔ اس وقت ثمرہ لاؤنج میں آئی۔ اس کے ہاتھ میں کپڑے تھے۔امی عائزہ کہاں ہے؟ اسے کہا بھی تھا کہ میرے کپڑے پریس کر دینا۔ ابھی تک وہی بیڈ پر پڑے میرے منہ چڑھا رہے ہیں۔یہ سن کر عالیہ بیگم کے ماتھے پر شکنوں کا جال سا بن گیا۔ ارے ہو گی کہاں، وہی زمانے بھر کا شوق، چھت پر موئے پرندوں کو دانہ پانی ڈال رہی ہوگی۔ پھر انہوں نے سخت غصے میں آواز لگائی، عائزہ! عائزہ!وہ مٹھی بھر کر روٹی کے ٹکڑے ایک تھالی میں ڈال رہی تھی کہ تبھی اسے اپنے نام کی صدا سنائی دی۔ اس نے اپنے ماتھے پر ہلکی سی چپت ماری۔ ہائے اللہ، ممانی کی آواز لگتی ہے، آج پھر پارہ ہائی ہے۔ یا اللہ مدد وہ تیزی سے جگ ہاتھ میں اٹھائے، سیڑھیوں سے نیچے اتری۔ آخری سیڑھی پر قدم رکھ رہی تھی کہ عالیہ ممانی اسے کینہ توز نظروں سے دیکھ رہی تھیں۔اتر آئیں چھت سے، کتنی دیر سے آواز لگا رہی ہو؟ ہزار بار کہا ہے کہ یہ جگ بھر کر نہ لے جایا کرو۔ ان کا موڈ سخت خراب تھا۔میری اچھی ممانی! آپ جانتی ہیں، جس گھر کے چرند پرند کو دانہ پانی ملتا ہے وہاں رزق بند نہیں ہوتا۔ یہ تو اچھی بات ہے ناں؟ عائزہ معصومیت سے کہتی ہوئی ان کے چہرے کے اتار چڑھاؤ کا جائزہ لے رہی تھی، جن کا چہرہ غصے سے لال ہو چکا تھا۔زیادہ بات نہ کرو، جا کر ناشتہ بناؤ۔ اور ہاں، تم نے عمرہ کے کپڑے کیوں نہیں پریس کیے ابھی تک؟عائزہ نے گھبرا کر انہیں دیکھا، پھر جلدی سے جواب سنبھالا، سوری ممانی! ذہن سے نکل گیا تھا۔وہ سادگی سے کپڑے اٹھانے لگی۔ عالیہ بیگم اسے دیکھ کر کس کر رہ گئی تھیں۔ کبھی کھانا بھولتی ہو، کبھی نہیں!ممانی جان! کھاؤں گی نہیں، تو زندہ کیسے رہوں گی؟ زندہ نہیں رہوں گی، تو گھر کے کام کیسے کروں گی؟ آپ سب کا خیال کیسے رکھوں گی؟ عائزہ جلدی جلدی بولتی چلی گئی۔ عالیہ بیگم اسے خشمگیں نگاہوں سے گھورتے ہوئے، ہاتھ لہرا کر بولیں، زبان تو قینچی کی طرح چل رہی ہے، ذرا ہاتھ بھی چلا لو۔عائزہ تیزی سے کچن میں آئی، جہاں سارے کام اس کے ہی منتظر تھے۔ اس نے تیزی سے چولہا جلا کر چائے بنائی اور فریج سے آٹا نکال کر پراٹھے بنانے لگی۔ اسی افرا تفری میں اس نے سب سے پہلے ماموں کو ناشتہ پیش کیا، پھر ممانی اور ثمرہ کو ان کا من پسند ناشتہ دینے کے بعد کچن سے نکلی۔ٹھٹھرتی سردی میں مشین چلانے کا تصور اسے اداس کر رہا تھا، تبھی اساور سامنے سے آتی نظر آئی۔ عالیہ بیگم اس کی بلائیں لے رہی تھیں۔ وہ اپنی شہرہ کے لیے احمد کو سوچ رہی تھیں، اسی لیے اساور کی بھتیجی کی خوب آو بھگت کر رہی تھیں۔یہ گھر بے حد کشادہ تھا، جس کی منزل دو حصوں میں تقسیم تھی۔ ایک میں بڑے بھائی اور دوسرے میں چھوٹے بھائی اور ان کے بچے رہائش پذیر تھے۔ دونوں گھرانوں میں آپسی معاملات خوش اسلوبی سے چل رہے تھے۔
☆☆☆
اساور پودوں کو پانی دے رہی تھی، جب دروازے پر زور دار دستک ہوئی۔ وہ چونک گئی۔ اماں نماز عصر کے بعد تسبیح میں مشغول تھیں۔ تبھی اس نے آگے بڑھ کر دروازہ کھولا اور سامنے خواتین کو دیکھ کر ٹھٹک سی گئی۔ پہلا خیال ہی اسے حمزہ کا آیا۔ وہ پیپرز کے بعد اب گھر پر ہی ہوا کرتی تھی اور انجانے میں اسے حمزہ کا دھیان ستانے لگا تھا، حالانکہ اس دن کے بعد حمزہ نے بھی اس سے کلام نہیں کیا تھا، بس دور دور سے میٹھی گہری نظر سے اسے دیکھتا اور پاس سے گزر جاتا۔ اس کی نگاہوں میں پنہاں محبت کا پیغام اور دل پر دستک دینے لگا تھا، اور اب اچانک ان خواتین کی آمد اسے خوش کر گئی۔اس نے ان کو بٹھا کر اماں کو ان کی آمد کا بتایا اور پھر جونش سی کچن میں چلی آئی۔ اسے خوشی تھی کہ وہ شخص اس کے ساتھ مخلص تھا، محض وقت گزاری نہیں کر رہا تھا۔ وہ چائے کے لوازمات کے ساتھ ڈرائنگ روم میں داخل ہونے لگی تو اندر سے اماں کی آواز سن کر اس کے پاؤں تلے سے زمین کھسک گئی۔ ارم بیگم سخت سنجیدہ تھیں۔آپ تشریف لے جا سکتی ہیں۔ ہماری بیٹی ہم پر بوجھ نہیں ہے۔ اماں نے شانت لہجے میں کہا۔ بلاوحہ غصہ نہیں کرتی تھیں۔ ضرور کوئی وجہ رہی ہوگی، لیکن کیا؟ وہ سمجھنے جا رہی ہیں، ہمیں بھی بے عزت ہونے کا کوئی شوق نہیں ہے۔ یہ ساری جائیداد اور روپیہ اپنی قبر میں نہیں لے جائیے گا، یہی وقت ہوتا ہے کہ لڑکی کا مستقبل سنوارنے کے لیے کام آجاتا ہےوہ معمر خاتون بوجھل قدموں سے جا چکی تھیں۔ ادھر ارم بیگم نے اس کو پر تکلف چائے کے ساتھ آتے دیکھ کر سخت برا منایا۔کس سے پوچھ کر یہ سب لائی تھیں؟ اب کھڑی ہو کر میرا منہ کیا دیکھ رہی ہو؟ واپس لے جاؤ۔ لالچی لوگ منہ اٹھا کر آجاتے ہیں۔ گھر اساور کے نام کر دوں، کیوں بھلا؟ان کا غصہ کم ہونے کا نام نہ لے رہا تھا۔ وہ چپ چاپ واپس لوٹ گئی۔ اماں نے اس کی چپ کو نجانے کیا سمجھا، مگر لگتا تھا کہ اساور کے ہونٹوں کی ہنسی چھن گئی ہے۔ وہ شکستگی کھو گئی تھی۔ ہمہ وقت تتلی کی طرح پورے گھر میں منڈلانے والی کو روگ لگ گیا تھا۔ کبھی کبھی اساور کو خود پر بے تحاشہ غصہ آتا۔ نہ کوئی وعدہ ہوا تھا، نہ ہی عہد و پیمان، پھر بھی وہ ان دیکھی ڈوری میں بندھی، حمزہ کے ساتھ دل جوڑ بیٹھی تھی۔ پھر مقدر نہ جڑیں اور دل جڑ جائیں، تو دکھ فطری طور پر ہوتا ہے۔ کہیں نہ کہیں وہ خود کو حمزہ کا مجرم سمجھ رہی تھی۔پھر جب اس کا یونیورسٹی جانا ہوا، تب اتفاقاً اس کی ملاقات حمزہ سے ہوئی۔ وہ کچھ شرمساری کے ساتھ انگلیاں چٹاتی رہی۔سوری، میں اپنے پیرنٹس کو نہیں بھیج سکا۔ دراصل ہماری فیملی میں فوتگی ہو گئی تھی۔ تم آگے ایم فل کرو گی کیا؟وہ اس سے پوچھ رہا تھا اور وہ دل پر دھرے بوجھ کو سرکتے محسوس کر رہی تھی۔ شکر ہے اس دن آنے والی خواتین کا تعلق حمزہ سے نہیں تھا۔کینٹین چلتے ہیں، سموسے کھاتے ہیں۔ حمزہ نے اس کے چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا، تو وہ اثبات میں سر ہلا گئی۔ دراصل اس سے انکار ہوتا ہی نہ تھا اور جو دل کی مسند پر متمکن ہوں، انہیں تو انکار ممکن ہی نہیں۔زیست میں جہاں دکھ ہوتے ہیں، وہاں خوشیوں کے حسین پل بھی ایک بار ضرور دستک دیتے ہیں۔ اب یہ انسان کا کام ہے کہ وہ اپنی منزل پانے کے لیے کس حد تک کوشاں و سرگرداں رہتا ہے۔ اسی طرح اساور بھی آنے والے رشتوں کو مسلسل رد کر رہی تھی کیونکہ اسے تو کسی اور کا انتظار تھا۔ اس نے تو حمزہ سے فون نمبرز کا تبادلہ بھی کر لیا تھا اور اس سے مسلسل رابطے میں تھی، مگر چاہ کر بھی اسے اپنے والدین کو بھیجنے کا نہ کہہ سکی تھی-
☆☆☆
ثمرہ جیسے ہی کالج سے لوٹی، اس نے واپسی پر اپنی سہیلی کے ساتھ خریدے ہوئے رسالے شاپرے سے نکالے اور دنیا و مافیا سے بے خبر، لباس تبدیل کیے بغیر، رسالے کی ورق گردانی میں مصروف ہو گئی۔ سرورق کی ماڈل پر اچٹتی نگاہ ڈال کر اس نے سب سے زیادہ رومینٹک کہانی کا انتخاب کیا۔ جہاں ہیرو اور ہیروئن کے حسن کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملتے، چھم سے وہ کردار اس کے ذہن سے ہو کر دل کو چھو لیتا اور وہ جی ہی جی میں شرمانے لگتی۔ وہ تصور کی آنکھ سے خود کو ہیروئن تصور کرنے لگتی تھی۔ وہ کسی اور ہی جہان میں پہنچی ہوئی تھی، یہاں تک کہ اسے دوبار عائزہ بلانے کے لیے آواز دی گئی، مگر اسے آواز ہی نہ سنائی دی تھی۔ہوش میں تو تب آئی، جب عالیہ بیگم نے سر پر آ کھڑے ہوئے اس کی کلاس لینا شروع کی۔تم کالج پڑھنے جاتی ہو یا یہ سب الا بلا کا ڈھیر اکٹھا کرنے؟ کم از کم لباس تو بدل لیتیں۔ کھانے پر نواب زادی کا انتظار ہو رہا ہے اور یہاں کوئی فکر ہی نہیں!وہ ہڑ بڑا کر ایک دم سیدھی ہو کر بیڈ کی ٹیک پر بیٹھ گئی، حق دق ماں کی صلواتیں سن رہی تھی۔ اف اماں بس بھی کر دیں۔ نصابی کتب کے ساتھ ساتھ غیر نصابی کتب بھی تو پڑھنی چاہئیں، ان سے سیکھنے کو ملتا ہے۔وہ اپنی دانست میں بڑا جوازی تھی، مگر وہ بھی اس کی ماں تھیں۔مجھے معلوم ہے، جو اسباق تم اکٹھے کرتی ہو۔ تمہاری ان کہانیوں میں تو لڑکی بڑی فرمانبردار ہوتی ہے، مگر مجال ہے کہ تم ایک بات بھی مان جاؤ۔وہ سر کھجا کر واش روم میں بھاگی۔ دراصل اسے شروع سے ہی خیالوں اور خوابوں میں رہنا پسند تھا، اور کچھ ماں باپ نے اکلوتا جان کر اس کی ہر خوشی پوری کی تھی۔عادل صدیقی اور شفیق صدیقی دونوں بھائی تھے۔ عادل صاحب اکثر علیل رہتے تھے، اس لیے ان کا بیٹا احمد شفیق کے ساتھ آفس سنبھالتا تھا اور ساتھ ساتھ کام کرتا تھا۔ احمد کو یہ سب بہت اچھا لگنے لگا۔ وہ گھر اور آفس میں ہر جگہ اٹھتے بیٹھتے اس کے قصیدے پڑھتے رہتے تھے۔عالیہ بیگم بھی ثمرہ کے سامنے اکثر احمد کے حوالے سے ذو معنی گفتگو کرتی رہتی تھیں، جس کی وجہ سے اس کا دل احمد کے لیے دھڑکنے لگتا، مگر خود احمد کے دل میں کیا چل رہا تھا؟ یہ کوئی نہیں جانتا تھا۔ثمرہ کی کلاسز ختم ہونے کو تھیں، پھر فائنل ایگزامز کے بعد فراغت ہی فراغت تھی، اس لیے عالیہ بیگم نے صاف انداز میں بھاوج کے کان میں رشتے کی بات ڈال دی تھی۔ اب وہاں تک تو کہانی ٹھیک تھی، مگر احمد عائزہ سے شادی کا تمنائی تھا، جس کے لیے اس کے اہل خانہ بالکل بھی ذہنی و دلی طور پر آمادہ نہیں تھے۔
☆☆☆
عائزہ کالج کے یونیفارم میں تیز رفتار قدموں سے اسٹاپ سے گھر کا رخ کر رہی تھی۔ وہ بہت تھکن محسوس کر رہی تھی اور سوچ رہی تھی کہ گھر پہنچتے ہی اسے بے شمار کام درپیش ہوں گے۔ عیش تو ثمرہ کے ہیں، کہ گھر پہنچتے ہی مزیدار کھانا اس کے سامنے ٹیبل پر پیش کر دیا جاتا ہے۔ انہی سوچوں میں وہ گھر پہنچ چکی تھی۔ اس نے گہری سانس لی، گیٹ کھولا اور اندر داخل ہو گئی۔لاؤنج کے صوفے پر اپنا بیگ رکھ کر وہ بھی نڈھال سی وہیں بیٹھ گئی۔ اس وقت احمر ٹھنڈے پانی کا گلاس لیے لاؤنج میں داخل ہوا اور اسے پیش کیا۔عائزہ ایک دم سیدھی ہو کر بیٹھی، گلاس تھاما اور غٹاغٹ پانی پی گئی۔ پھر مسکراتے ہوئے بولی، احمر! تم میرا کتنا خیال رکھتے ہو، کبھی کبھی تو تمہاری بلائیں لینے کا دل کرتا ہے۔وہ ایسی ہی تھی، شفاف دل کی مالک۔ احمر کان کھجاتے ہوئے کچھ سوچ کر مسکرا دیا۔اب میری بلائیں بعد میں اتارنا، جا کر کھانا بناو۔ امی ثمرہ کے ساتھ خالہ نے کہا ہے کہ عائزہ جیسے ہی آئے، کھانا بنا دے۔احمر اس کے برے برے منہ بنتے دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولا، اف، اتنی گرمی ہے، اور یہ کچن کے کام، کل میرا بھی ٹیسٹ ہے۔احمر نے اس کی دمکتی رنگت کو بغور دیکھا اور بولا، تم پریشان نہ ہو، میں تمہاری مدد کروادیتا ہوں۔ تم بتا دینا، سبزی میں کاٹ دوں گا۔لاؤنج میں داخل ہوتی ثمرہ نے آخری جملہ سن لیا۔کیا کہنے، پہلے جا کر لسٹ میں لکھا سامان لے آؤ، اماں نے کہا ہے، ضروری ہے۔اس نے احمر کو ٹوک دیا۔ اس کی طنزیہ نگاہیں عائزہ کے چہرے پر تھیں۔عائزہ، احمر کی طنزیہ نگاہوں سے گھبرا کر کچن میں چلی آئی۔ وہ بہت دن سے محسوس کر رہی تھی کہ وہ اب اس گھر میں ایک بوجھ سے زیادہ کچھ نہیں رہی۔ یہ سوچ کر اس کی آنکھیں نم ہو گئیں۔وہ کھانا تیار کر رہی تھی کہ احمر کچن میں داخل ہوا۔ عائزہ نے ایک بے بس سی مسکراہٹ کے ساتھ اسے دیکھا۔کھانا تیار ہو گیا ہے کیا! کل سے وہ مسلسل اس کے بارے میں سوچ رہا تھا اور اب سے بات کرنا چاہ رہا ہے۔بس، پلاؤ دم پر ہے، ابھی ٹیبل پر لگا دیتی ہوں۔اس کے یاسیت بھرے لہجے نے احمر کے دل کو چھو لیا۔احمر نے اداسی سے کہا، عائزہ، تم کس طرح بچی جان کی سخت باتوں کو نظر انداز کر کے ہر دم ہنستی رہتی ہو؟ تمہارا رویہ اب میری برداشت سے باہر ہو چکا ہے۔ کاش میں تمہاری زندگی کے کانٹے چن سکوں۔عائزہ چونک گئی اور کھیرے کاٹتے ہوئے اس کے ہاتھ رک گئے۔ وہ بولی، احمر! دنیا کے لوگ بہت ظالم ہیں۔ انہیں کبھی اپنی کمزوری نہیں دکھانی چاہیے، ورنہ یہ دنیا ہمیں کیا کچھ نہ دے گی۔ اس لیے میں سب سن لیتی ہوں۔اس وقت عالیہ بیگم کچن میں آئیں اور احمر کو وہاں دیکھ کر مشکوک نظروں سے عائزہ کی طرف دیکھیں، پھر احمر سے مخاطب ہوئیں، احمر بیٹا، تم یہاں کیا کر رہے ہو؟ میں جانتی ہوں یہ ہر وقت میرے خلاف تمہارے کان بھرتی رہتی ہے۔ تم اندر چلو، ثمرہ بلارہی ہے۔ ارے نہیں میں تو صرف کھانے کے بارے میں پوچھنے آیا تھا۔عالیہ بیگم نے کرخت لہجے میں کہا، جاؤ، باہر جا کر بیٹھو۔ اور تم کیا، آج ہم سب کو بھوکا مار دو گی؟عائزہ نے شوخ انداز میں ٹرے اٹھاتے ہوئے کہا، اللہ نہ کرے ممانی! یہ لے لیں، جھٹ پٹ تیار ہے شیف عائزہ کے ہاتھ کا یعنی پلاؤ!وہ ذرا بھی اداس نہیں لگ رہی تھی۔
☆☆☆
گھر میں عجیب سا ماحول بنا ہوا تھا۔ احمد نے ارم بیگم سے عائزہ کے لیے کہا تھا، جبکہ عالیہ بیگم باتوں ہی باتوں میں پہلے ہی بھاوج سے اپنی بیٹی کی بات کر چکی تھیں۔ اس کے کہنے پر انہوں نے چمک کر کہا تھا، تم پاگل تو نہیں ہو گئے؟ اوہ، کنگال لڑکی بیاہ کر لے آؤں، جس کے ہاتھ میں کچھ نہیں۔ ارے وہ تو خود اپنے ماموں کے ٹکڑوں پر پل رہی ہے۔ان کے انداز پر وہ سلگ کر رہ گیا اور تڑپ کر بولا، اماں، کم از کم آپ اس کے لیے ایسے الفاظ مت استعمال کریں۔ وہ میرے لیے بہت اہم ہے۔میں نے منع کر دیا، تو انہوں نے یہ کہہ کر وہاں سے اٹھ گئیں، جبکہ احمد نے بے دلی سے سگریٹ سلگا لیا۔ اس پر ایک عجیب سی وحشت اور قنوطیت طاری تھی۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ ساری دنیا کو تہس نہس کر دے۔وہ مسلسل سگریٹ کے کش لیتے ہوئے سامنے رکھی بھاپ اڑاتی چائے کو دیکھ رہا تھا۔ اس کے اندر بھی ویسا ہی دھواں اٹھ رہا تھا، جیسے چائے کے مگ سے نکل رہا ہو۔
☆☆☆
گاڑی تیزی سے نور منزل سے نکلی تھی۔ فرنٹ سیٹ پر فیاض اور اس کے ہمراہ حمزہ براجمان تھے۔ مین روڈ پر آتے ہی کار سبک رفتاری سے اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھی۔ وہ دونوں خاموش بیٹھے تھے، تبھی عقبی نشست پر موجود رقیہ نے اس خاموشی کو توڑا۔اب وہ لوگ جب ہماری طرف آئیں گے، تو کیا ہوگا؟ وہ کھاتے پیتے، اونچے گھرانے کے ماڈرن لوگ اور ہم ٹھہرے سادہ لوح، گنوارے۔ ان کے لہجے میں آزردگی سی کھل گئی تھی۔ حمزہ نے فیاض کو مدد طلب نگاہوں سے دیکھا، تو وہ گلا کھنکار کر بولا، سب اچھا ہوگا، آپ بس شادی کی تیاریاں کریں۔ شادی مقررہ وقت پر ہی ہوگی، بلکہ شادی ادھر لاہور میں ہی کر لیتے ہیں، میرا گھر حاضر ہے۔اس نے کھلے دل سے آفر کی تھی۔در اصل رقیہ، حمزہ کا رشتہ لے کر اس کے گھر گئی تھیں۔ ان لوگوں کو نہ صرف حمزہ بہت بھایا بلکہ رقیہ بھی پسند آئی تھی۔ نہ نند، نہ سسر بس اکیلی ساس، اور وہ بھی بے انتہا محبت کرنے والی۔ یوں تو کوئی مسئلہ نہ تھا۔حمزہ لوگ زمیندار تھے، کسی شے کی کمی نہیں تھی، مگر لڑکی کے گھر والے واشگاف لفظوں میں کہہ چکے تھے کہ لڑکی گاؤں میں نہیں رہ سکتی۔ وہ تو اندر ہی اندر اس نے حمزہ سے وعدہ کیا تھا کہ بعد میں دیکھی جائے گی، وہ گوٹھ میں رہ لے گی۔ اسے کوئی اعتراض نہیں تھا، یوں شادی طے پا گئی تھی-
☆☆☆
صبح کی اولین کرنوں نے دھرتی پر اپنے قدم جمانے شروع کیے اور چھن چھن کر کمرے میں آتی روشنی نے اسے بیدار کر دیا۔ وہ جانتی تھی کہ کچھ دیر میں سارے گھر میں زندگی کی رمق لوٹ آئے گی۔ کل ساری رات پڑھنے کی وجہ سے وہ دیر سے جاگی تھی، ورنہ وہ بہت جلدی جاگ جاتی کیونکہ صبح خیزی کی عادی تھی۔ اس نے واش روم کا رخ کیا۔ اوپر تلے بہت سارے کام اس کے منتظر تھے، جن کے لیے حوصلہ کرنا ضروری تھا۔وہ فریش ہو کر کچن میں داخل ہوئی تو رات کو پیزا انجوائے کرتے ہوئے ثمرہ اور اساور نے برتن سنگ میں جمع کر رکھے تھے۔ وہ تو ساری صفائی ستھرائی کر کے ہی ہٹی تھی، مگر اب پھر سے اس کا منہ چڑ رہا تھا۔ اس نے برتن بنا کر سب سلیپ پر پڑی چیزیں سمیٹنا شروع کیں۔جب تک وہ برتن دھو کر فارغ ہوئی، تب مامی کچن میں جھانکنے آئیں۔ آج اساور کی شاپنگ کے لیے جا رہا ہے۔ میرا ارادہ ہے کہ میری ثمرہ کا بھی ساتھ ہی نکاح ہو جائے، اپنے احمد کے ساتھ۔وہ جانتی تھی کہ اسے سنایا جا رہا ہے، لہٰذا وہ چپ ہی رہی۔ دراصل، گھر میں بیک وقت خوشی کی فضا بھی تھی اور ناگواری بھی۔ احمد کئی مرتبہ رشتے کے لیے اپنی اماں پر زور ڈال رہا تھا، مگر وہ جانتی تھی کہ یہ ممکن نہیں اور نہ ہی آسان ہے۔اگر جاگیں گی تو انہیں ناشتہ گرم چاہیے ہوگا۔ نیا، تم آج کالج نہ جاؤ۔ بچیاں دیر سے ہیں، تم حکم نامہ جاری کرو۔مگر آج میرا بہت اہم ٹیسٹ ہے، وہ پہلی مرتبہ زچ ہو کر بولی تھی۔اس کے بعد دو گرم سیال آنسو اس کے چہرے کو بھگو گئے۔
☆☆☆
آج تو بہت مزہ آیا۔ ساری شاپنگ ہی تقریباً ہو گئی ہے، ثمرہ نے عالیہ کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا۔ اساور نے شاپنگ بیگز کھولنے شروع کر دیے تھے۔قریب ہی عائزہ سبزی بنا رہی تھی۔ اس نے گہری نگاہوں سے انہیں دیکھا۔ اس سے اساور کے چہرے کی شادابی بڑھ گئی تھی اور خوشی تو ثمرہ بھی بہت تھی۔ گھر میں اس کی اور احمد کی منگنی کا ذکر چل رہا تھا۔ اس کی سوچ کا پنچھی کہیں اور پرواز بھرنے لگااساور کی پسند کی شادی تھی اور ثمرہ جس کو چاہے، اسے پالے گی۔ بے بسی اور دکھ تو فقط قیموں کے حصے میں آتے ہیں۔ اس نے کھوئے کھوئے انداز میں سوچا۔اس وقت عالیہ بیگم نے عائزہ پر ایک تیکھی نگاہ ڈالی اور کہا، تم یہاں بیٹھی فکر ناکر کیا دیکھ رہی ہو؟ جاؤ جا کر کھانا تیار کرو۔ کم بخت سر پر ہی سوار رہتی ہے۔وہ بہت انا والی تھی، کم ظرف نہیں تھی اور نہ ہی بد نیت۔ اس نے چپ چاپ کچن کی راہ لی۔ البتہ وہ پہلی بار سوچ رہی تھی کہ کچھ لوگوں کو تو بنا مشقت کے سب کچھ مل جاتا ہے۔ نہ کسی شے کے لیے انتظار کی صلیب چڑھنا پڑتا ہے اور نہ ہی محنت کی چکی میں پسنا پڑتا ہے۔ ہر شے بن مانگے مل جاتی ہے۔ پھر دل نے اسے یکدم جھڑک دیا، تو اس نے لرز کر توبہ کی۔وہ کون ہوتی تھی جو اللہ کی تقسیم پر سوال اٹھانے والی ہو؟ اس کی رضا، اس کی مصلحت کہ کس کو کیا، کب اور کتنا نوازنا ہے۔ پھر جب تک اس کی مکس سبزی بن نہ گئی، وہ استغفار کرتی رہی۔
☆☆☆
بارات میں احمد کی نگاہیں عائزہ کے چہرے کا ہی طواف کرتی رہیں۔ وہ آج بہت دل سے تیار ہوئی تھی۔ آج تو اس کی چھبی نرالی تھی۔ احمد اس سے شادی کی بات کرنا چاہتا تھا، پھر پھولوں کے گجرے ٹیبل پر رکھتی عائزہ کو اس نے پکڑ ہی لیا۔تمہارا مسئلہ کیا ہے آخر؟یہ مسئلہ ہے؟ وہ دو بدو بولی تھی۔تم مجھے اگنور کیوں کر رہی ہو؟ وہ زچ ہو کر بولا۔اچھا! کیا واقعی؟ وہ کندھے اچکا کر لا تعلقی کا اظہار کر رہی تھی۔تم جانتی ہو کہ میں شادی صرف تم سے ہی کروں گا۔جی، لیکن اس میں میری کوئی غلطی نہیں، یہ آپ کا مسئلہ ہے، کیونکہ مجھے آپ سے شادی کرنا ہی نہیں ہے۔ نہ آج، نہ کل، بلکہ ایک عرصہ تک میں نے اس گھر میں محرومی اور ناروا سلوک دیکھا ہے۔ اب اور نہیں۔ میں تو ایسے شخص سے شادی کروں گی، جو مجھے عزت دے اور میں سر اٹھا کر جی سکوں۔اس کے الفاظ احمد کے کلیجے کے آر پار اتر گئے تھے۔ وہ بے یقینی سے اس کے روشن چہرے اور دلکش سراپا میں الجھا رہا تھا۔ پھر وہ بھی خفا سا پلٹ گیا اور پوری تقریب میں اس نے عائزہ کو پلٹ کر نہیں دیکھا۔ تب بھی جب اعلان ہوا کہ آج اساور کی رخصتی میں ثمرہ اور احمد کی منگنی بھی ہے، مگر دوسری طرف نجانے کیوں عائزہ نے جب ثمرہ کی انگلی میں احمد کے نام کی انگوٹھی دیکھی تو نم آلود پلکیں لیے مسکرا دی تھی۔
☆☆☆
یہ حویلی کا وسیع کمرہ تھا، جس کی چھت خاصی بلند تھی۔ وہ کچھ گھبراہٹ محسوس کر رہی تھی۔ اس نے ناپ تول کر نگاہوں سے کمرے کا جائزہ لیا، جس کی دیواریں نقش و نگار سے مزین تھیں اور جس پلنگ پر اسے بٹھایا گیا تھا، وہ ایک جہازی سائز منقش پلنگ تھا، جس کے رنگ دیواروں کے رنگوں سے ہم آہنگ تھے۔ اگرچہ یہ خالصتاً دیہی ماحول تھا، مگر اس سب میں نفاست اور سلیقہ جھلکتا تھا۔ دروازے چوب دار اور کھڑکیاں رنگین شیشوں والی تھیں، جہاں سے چھن چھن کر آنے والی روشنی سرخ و سبز مائل رنگ لیے ہوئے تھی۔ بہت ہی خوبصورت اور خوابیدہ سا ماحول تھا۔ اس کا دل تو اپنے گھر والے سے پہلے ہی جڑ چکا تھا، اب اس گھر سے بھی اپنائیت محسوس ہو رہی تھی۔اچانک ہی دروازہ کھلا اور وہ جو امید باندھے بیٹھے تھی کہ حمزہ ہوگا، دروازے پر اپنی ساس اور اس کے ہمراہ ایک اور فربہی مائل عورت کو دیکھ کر چونک گئی۔ بیٹی، میں نے سوچا کہ دوسرے گوٹھ سے آئی تمہاری خالہ جی سے ملا دوں۔ ساس نے اندر اگر سے مخاطب ہو کر کہا۔ اساور حیران تھی کہ یہ کون سی خالہ ہیں، جنہیں وہ پہچان نہیں پارہی۔ارے کیا سوچ رہی ہے! میں تیرے خصم کی خالہ ہوں۔ لفظ “خصم” پر وہ جی بھر کر بد مزہ ہوئی۔ وہ بی بی پاؤں پسارے وہیں نئے نکور بیڈ پر نیم دراز ہو گئی۔ بیٹی، رسم ہوتی ہے، ساس کے پاؤں دباؤ، تو آگے نیک اولاد ملتی ہے، پھر میری یہ بہن تو اللہ لوک ہے، تم میرے ہی پاؤں دباؤ۔وہ حیران رہ گئی۔ وہ نازوں پلی تھی، ان کے مٹی میں اٹے پاؤں اور پھٹی ایڑیاں دیکھ کر ہی اس کا جی متلا سا گیا۔ارے، تیری بہو تو بہت ہی نخرے باز ہے۔ ذرا بڑوں کا ادب رکھ۔وہ چپ چاپ کڑوا گھونٹ بھر کر ان کے پاؤں دبانے لگی، یہاں تک کہ فضا میں خالہ جی کے خراٹے گونجنے لگے۔ اس نے تھک کر ہاتھ کھینچ لیے تو وہ ایک دم ہڑ بٹھ کر جاگ گئی۔ارے جگا دیا؟ چلو، اب تو تم دباتی ہی رہو گی۔ یہ کہہ کر وہ کمرے سے نکل گئی۔ حمزہ دن چڑھتے ذرا پہلے آیا، تب تک وہ تھک کر سو چکی تھی۔ اگلی صبح جب وہ جاگی تو کمرے میں دھوپ آرہی تھی۔ ایک لمحے کے لیے اسے یاد ہی نہیں آیا کہ وہ کہاں ہے۔ اس نے تڑپ کر دیواروں اور کمرے کو بغور دیکھا۔ کمرے میں حمزہ موجود نہیں تھا۔پہلے پہل حمزہ شوخ اور کھلنڈرا سا نوجوان تھا۔ باپ کا سایہ سر پر نہ تھا، نہ ہی بہن بھائی کی صورت میں کوئی رشتہ دار تھے۔ جب خونی رشتوں کا کال پڑا ہو، تو فطری طور پر اس شخص کے اندر ایک خلا رہ جاتا ہے۔ اس کے اندر بھی محبت کے خلا تھے اور وہ چاہتا تھا کہ اساور اسے محبت سے بھر دے، مگر اس کی پرورش میں اس کی ماں نے بھرپور کردار ادا کیا تھا۔ اور اب جب کہ وہ چاہتی تھیں کہ بہو گھر میں رونق ڈالے، تو بہو یہاں رہنا ہی نہیں چاہتی تھی۔ وہ چاہتی تھی کہ کچھ عرصے بعد شہر میں شفٹ ہو جائے۔ جہاں تک حمزہ کی بات تھی، وہ ابھی تک کشمکش کا شکار تھا۔ ایک طرف ماں تھی، تو دوسری طرف محبت، اب نجانے کیا ہونا تھا۔جب وہ فریش ہو کر باہر نکلی، تو ساس بولیںبہورانی! آج تو اتنی، نحوست پھیلائی، دوبارہ دن چڑھتے نہ سونا۔ اب جلدی منہ پر کچھ تھوپ لو، زنانیاں ملنے آرہی ہیں، پورے گوٹھ سے۔وہ دل ہی دل میں سوچ رہی تھی کہ اگر وہ یہاں رہے گی تو یہ اعتراض تو کریں گی ناں! وہ تو یہاں سے اُڑن چھو ہو جائے گی۔ کچھ دیر میں وہ تیار تھی، مگر بھوک سے برا حال تھا۔ صبح سویرے چائے کا شوق تھا، مگر وہ چپ رہی۔ ایک دن کی دلہن کیسے مانگتی؟جب وہ باہر آئی، تو اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا سانس نیچے رہ گیا۔ گھر کا وسیع و عریض صحن بھانت بھانت کے چہروں سے بھرا ہوا تھا۔ اتنی زیادہ عورتیں اور ان کا والہانہ انداز، سب ہی اس کا سر اور ماتحت چوم رہی تھیں۔ کچھ زور زور سے اتنی حد تک جھنجھوڑ رہی تھیں کہ اس کا جی گھبرا رہا تھا۔ ابھی تو صرف پہلی چار قطاروں کی خواتین ہی ملی تھیں، پیچھے مزید چھ قطاریں تھیں۔ سب اپنی اپنی زبان میں دعائیں دے رہی تھیں۔ وہ تھکن سے چور ہو گئی تھی۔ ان عورتوں نے بھی تو حد کر دی تھی۔ اسے موم کی گڑیا کی طرح ٹریٹ کیا جا رہا تھا۔ یہ ان کی رسم تھی، مگر اس کا دم نکل رہا تھا۔جب ایک بڑی بی نے اس کا منہ چومنے کی کوشش کی، تو وہ ایک دم چلا اٹھی:بس پلیز! اسٹاپ!یہ کہہ کر وہ کمرے کی طرف بھاگ گئی اور اندر اٹھتے ہوئے اشتعال کو دبانے کی پوری کوشش کرنے لگی۔ اس وقت حمزہ، لال بھبھو کا چہرہ لیے کمرے میں داخل ہوا۔ یہ تم نے اچھا نہیں کیا! گوٹھ میں ہماری کوئی عزت ہے۔ تم میرے نام پر ایک دن کی رسم ادا نہ کر سکی۔ ساری زندگی ساتھ نبھانے کی باتیں، وہ وعدے کیا ہوئے!وعدے اور باتیں تو آپ نے بھی بڑی بڑی کی تھیں کہ ہر قدم میرا ساتھ دیں گے۔ کل کہاں تھے؟ اور آج جب میں سب کے درمیان شو پیس بنی ہوئی تھی، تو؟وہ روہانسی ہو رہی تھی۔تم سے مجھے یہ توقع ہرگز نہ تھی۔اس وقت رقیہ کمرے میں داخل ہوئی۔کوئی بات نہیں بیٹا، وہ نئی نئی بیاہ کر آئی ہے۔ دھیرے دھیرے سب سیکھ لے گی۔ قصور میرا ہے کہ میں نے اسے سمجھائے بنا اتنے لوگوں کے درمیان لے گئی۔رقیہ نے بہ ظاہر صلح صفائی کروادی، مگر دونوں کے دل سے بات نہ نکلی اور دونوں ایک دوسرے سے خفا تھے۔ابھی لوگوں کا تانتا کم نہ ہوا تھا کہ ایک نئی مصیبت آگئی۔ اسے کچھ میٹھا بنانے کی رہنمائی کرنی تھی۔ رسم تو وہ کر لیتی، مگر لکڑیوں پر کھانا پکانے کا طریقہ معلوم نہیں تھا۔ بہو! تم پریشان نہ ہو، میں ہاتھ بٹاؤں گی۔رقیہ نے عائزہ کا حوصلہ بڑھایا،مگر جب وہ لکڑیاں جلا رہی تھی تو پہلے دھوئیں کے اثر سے اس کی سانس رکنے لگی۔ پھر جب سانس ذرا بحال ہوئی تو اس نے کھیر بنانی شروع کی۔ امیراں میوے پستے اور بادام کاٹ رہی تھی۔عائزہ نے بے دھیانی میں چھیچ چلا دیا اور ہاتھ جلا بیٹھی۔ اس کے آنسو تھمنے کا نام نہ لے رہے تھے۔ امیراں نے جیسے تیسے اس کی جگہ کھیر بنائی، پھر بھی وہ نیچے لگ گئی۔
☆☆☆
شام کا وقت تھا۔ عائزہ سب کو چائے دینے کے بعد اپنا گلاس تھامے ٹیرس پر آ گئی اور خاموش کھڑی، ڈھلتے ہوئے سائے میں آسمان پر پرندوں کو اڑتے ہوئے دیکھ رہی تھی۔ وہ کم عمری سے ہی اپنے گھر بار سے محروم تھی۔ اسے محسوس ہوتا تھا کہ وہ کسی کے ٹکڑوں پر پل رہی ہے۔اس وقت لان میں موجود احمد کی والدہ ارم بیگم کی نظر اس پر پڑی۔ اُسے گم صم اور اداس دیکھ کر انہوں نے سوچا کہ بن ماں باپ کی یہ بچی بیاہ کر لے آئوں، مگر پھر دیورانی کا غصہ اور خفگی یاد آئی۔ ساتھ ہی یہ بھی خیال آیا کہ وہ خالی ہاتھ آ کر ان کے در پر بیٹھ جائے گی، اور اب تو احمد کی ثمرہ سے منگنی بھی ہو چکی تھی۔ مگر بہت عرصے سے وہ نوٹ کر رہی تھیں کہ عائزہ کبھی بھول سے بھی اُن کے پاس آ کر نہیں بیٹھتی تھی۔ جب وہ انہیں بلا کر بلاتیں، تو بہت ناگواری سے آتی تھی۔کل ہی کی بات تھی کہ وہ بہت دیر سے گھر لوٹی، تو ارم بیگم نے یونہی کہہ دیا کہ کوئی مسئلہ ہے تو احمد لے آئے گا ، مگر عائزہ پر گویا غصہ ہی چڑھ گیا اور وہ بولی آپ صاف صاف کیوں نہیں کہتیں کہ میری سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لیے آپ احمد کو میرے سر پر مسلط کر دینا چاہتی ہیں۔عائزہ کے یہ الفاظ سن کر ارم بیگم کے دل میں ملال جا گزرا۔ ابھی تو یہ بہو بن کر نہیں آئی، تو یہ تیور تھے۔ نہ چاہتے ہوئے بھی وہ ثمرہ اور عائزہ کا تقابل کرنے لگیں۔ اگرچہ انہوں نے عائزہ کو رد کر دیا تھا، مگر وہ پھر بھی ان کے کام اسی طرح بڑھ چڑھ کر کرتی تھی۔ کبھی کبھی ہمیں ہیرے کی پہچان دیر سے ہوتی ہے۔ ارم بیگم اب اسی بات پر پچھتا رہی تھیں۔
☆☆☆
بادلوں کی ٹکڑیاں تیرتی ہوئی آسمان کو گھیرے ہوئے تھیں۔ یکدم چہار سو اندھیرا سا پھیلنے لگا اور بادل برس پڑے۔ اساور کا دل بھی بہت بوجھل تھا، وہ بھی پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔ وہ بہت اداس تھی، ملول کی… وہ خود ضد کر کے ادھر اماں کی طرف آگئی تھی۔ اتنے عرصے سے اس کے پیچھے کوئی بھی نہ آیا تھا۔ اس نے بھی ضد دکھائی اور نتیجہ یہ نکلا کہ حمزہ اس سے ناراض ہو گیا۔ ایسا بھی نہیں تھا کہ اس نے گھر بنانے کی کوشش نہیں کی تھی، مگر وہ پریشان ہو گئی تھی۔بھینسوں کے باڑے سے اٹھتی ہوئی بو اسے ناگوار لگتی۔ اسے فضا میں عجیب سی بند محسوس ہوتی تھی۔ اس کا دل وہاں مایوس ہو گیا تھا۔ بھانت بھانت کی عورتیں اسے گھیرے رکھتی تھیں۔ پرائیوسی تو جیسے ختم ہو کر رہ گئی تھی۔ جب سے شادی ہوئی تھی، حمزہ زمینوں کے حساب کتاب کے سلسلے میں مصروف تھا، حویلی میں ہوتا ہی نہیں تھا، اور کبھی ہوتا بھی تو نجانے کن چکروں میں الجھا رہتا تھا۔ وہ اس کے ساتھ دو گھڑی بیٹھنے کو ترس گئی تھی۔تنگ آ کر اس نے اپنی ساس سے کہا کہ وہ چند دن میکے جانا چاہتی ہے۔ پھر اسے اصل دکھ اور پریشانی یہ تھی کہ ایک بار بھی حمزہ نے نہ منع کیا اور نہ اس کے جانے کے بعد اس کی خیر خیریت پوچھی۔ وہ ملول تھی، ساری منہ دکھاوے کی ہی محبت تھی شاید، اور پھر دل یہاں بھی نہیں لگ رہا تھا۔ وہ رورہی تھی جب عائزہ آئی۔آپ رورہی ہیں؟وہ چونکی تھی۔ہاں، دل بہت اداس ہے۔ وہ انکار نہ کر سکی۔
ایسا کیوں؟مجھے شاید ایڈجسٹ کرنا نہیں آتا۔وہ ہولے سے بولی۔کوئی بات نہیں، میں چلوں آپ کے ساتھ کچھ دن کے لیے؟ عائزہ نے دلجوئی کی خاطر کہا۔عالیہ، جو کافی دیر سے اسے دیکھ کر کلپ رہی تھی، اب اس سے رہا نہ گئی۔ وہ بولی:تم اندر چلو۔عائزہ چپ چاپ اندر چلی گئی۔ثمرہ اپنے بیڈ روم میں ہولے ہولے کسی سے فون پر بات کر رہی تھی۔ پھر کسی بات پر بے خیالی میں اس نے بلند و بانگ قہقہہ لگایا، تو عالیہ چونک اٹھی۔ اتنی رات کو وہ بڑ بڑاتے ہوئے اس کے کمرے کے قریب پہنچی، کہ ثمرہ کا جملہ سن کر ٹھٹھک کر رک گئی۔ بھیجو گے فراز؟ مجھے بہت ڈر لگتا ہے۔ میں نے خود کشی کر لینی ہے، مگر اس احمد سے شادی نہیں کرنی۔ یوں بھی وہ مجھ سے نہیں، میری کزن سے… اسی لمحے عالیہ کمرے میں داخل ہو گئی تھی اور ثمرہ کے ہاتھ سے فون چھوٹ گیا۔ امی! وہ بوکھلا کر رہ گئی تھی۔ جبکہ عالیہ سر تھام کر وہیں نڈھال بیٹھ گئی۔کون ہے وہ…؟امی، وہ بہت اچھا لڑکا ہے۔ اور پھر وہ ماں کے سامنے ہاتھ جوڑے، جلدی جلدی سب بتانے لگی۔ سب تفصیلات سن کر عالیہ مطمئن ہو گئی۔ کیونکہ جس لڑکے کی وہ بات کر رہی تھی، وہ بہت امیر تھا۔ احمد تو اس کے مقابلے میں بس مناسب ہی تھا۔ٹھیک ہے، تم جہاں چاہتی ہو، وہیں تمہاری شادی ہو گی۔ وہ ہامی بھر کر اٹھ کھڑی ہوئی۔ یوں بھی اکلوتی بیٹی کی خوشی اس کے لیے ہر شے سے مقدم تھی۔
☆☆☆
اس کے سینے میں اچانک درد اٹھا تھا۔ وہ سوتے میں کراہ رہا تھا، پھر درد بڑھتا چلا گیا۔ اس نے چیخنا چاہا، مگر دم گھٹ رہا تھا۔ اس نے سائیڈ ٹیبل پر رکھا شیشے کا جگ گرا دیا۔ چھناکے کی آواز پورے گھر میں گونجی۔ جب ارم بیگم کمرے میں آئیں، تو اس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔ وہ پل بھر میں سمجھ گئیں کہ ان کا بیٹا درد کی انتہاؤں پر ہے۔ افراتفری میں اسے ہاسپٹل لے جایا گیا۔اس نے ماں کی بات کی لاج رکھی تھی، مگر دل سے عائزہ کو نہ نکال سکا اور گھٹ گھٹ کر یہ حالت پیدا ہوئی تھی۔ وہ دو دن زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہا۔ اس کے دل کو جھٹکا لگا تھا، اور فوری طبی امداد سے اب وہ خطرے سے باہر تھا، مگر اسے شدید پریشانی سے بچانا بہت ضروری تھا۔عائزہ نے رو رو کر اپنا برحال کر لیا تھا۔ وہ جو کہتی تھی کہ اسے احمد سے محبت نہیں ہے، اس وقت اس کی اپنی حالت بے حد ابتر تھی۔ ہفتے بعد احمد کو ڈسچارج کر دیا گیا تھا۔ حمزہ اور رقیہ بھی شہر پہنچ چکے تھے، اساور کو لینے۔اب گھر چلو بیٹا۔ رقیہ نے کہا، تو اساور رو کر اس کے گلے لگ گئی۔ نہیں، نہ روتے! حمزہ تو اتنے دن سے کام میں لگا تھا۔ میں کہتی رہی کہ مجھے لے چل۔ یہ کہتا تھا اماں، ایک ساتھ چلیں گے آپ کی بہو کو لینے۔ یوں بھی میرے بیٹے کا دل شہر میں لگتا ہے، اس لیے ہم نے ادھر ہی ایک بنگلہ خرید لیا ہے، بس اسی کو سجانے میں لگا ہوا تھا۔ کہتا تھا کہ تجھے سرپرائز دے گا۔ یہ سن کر وہ بجائے خوش ہونے کے، اور رو دی تھی۔ تبھی حمزہ اندر آ گیا۔ چلو، گھر چلو، اب ہم سب تمہارے بغیر اداس ہیں۔ اور پھر اپنے والدین کی دعاؤں میں وہ ایک بار پھر وداع ہو گئی، مگر اس بار دل پہلے سے زیادہ خوش تھا۔
☆☆☆
جلتی بجھتی روشنیوں کے جلو میں، وہ ایک سہانی شام تھی، جب دو پریاں مسکراتی ہوئی اپنی قسمت پر نازاں تھیں۔ رنگ و نور کا سیلاب تھا، جو گھر کے کشادہ لان میں اتر رہا تھا۔ ساری کدورتیں دھل گئی تھیں اور عائزہ کو گھر کی اکلوتی بہو مان کر سند قبولیت دی گئی تھی۔وہ بھی کوئی ضد نہ کر سکی، کیونکہ احمد کو کھونے کا حوصلہ اس میں نہ تھا۔ احمد کن انکھیوں سے بار بار اسے ایسے دیکھ رہا تھا، جیسے یقین کر رہا ہو کہ یہ پری اسے مل گئی ہے۔ عائزہ نے پلٹ کر ترچھی نگاہ اس پر ڈالی اور محبت کی لپٹوں میں سمٹی، احمد کے دل میں اتر گئی۔
☆☆☆