• 📚 لوو اسٹوری فورم ممبرشپ

    بنیادی ڈیل

    وی آئی پی

    5000
    تین ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    وی آئی پی پلس

    8000
    چھ ماہ کے لیے
    ٹاپ پیکیج
    👑

    پریمیم

    20000
    چھ ماہ کے لیے

Love Story دیوث 1, بوٹا

Woodman

Well-known member
Joined
Jun 11, 2025
Messages
48
Reaction score
1,334
Points
83
Location
Lahore
Gender
Male
تمام احباب کو آداب عرض۔
اس فورم پر عرصہ دراز بعد پھر اپنی تحریر پیش کر رہا ہوں۔
حوصلہ افزائی کیجئے گا تاکہ ناچیز مزید
تحاریر پیش کر سکے۔

تمام نام ، مقامات ، واقعات فرضی ہیں
++++++++++++++++++++++++++++++

میری عزیز اذجان بیوی جو میری سیکس ایڈوینچر پارٹنر بھی ہے،
مختصر نایثی پہنے میرے ساتھ لیٹی ہوئی تھی۔
اس کی جالی دار نائیٹی میں اس کے سینے کی گولاییاں اپنے نپلز کو تانے کھڑی تھیں۔
اس نے ایک ریشمی انڈر ویئر نما پینٹیز سے اپنے زیرتن کو ڈھانپنے کی ناکام کوشش کی تھی کیونکہ اس کے کولہے
اس ریشمی لباس سے اور بھی نمایاں ہو گئے تھے۔
اور اندام نہانی کی لکیر کا آغاز و اختتام بھی قابل دید تھا۔
اپنے ایک ہاتھ میں میرے قضیب کو سہلانے ہؤے میرے کان کی لو کو چوس رہی تھی۔
میں مزے میں سرشار تھا کہ یکدم مجھے
خیال آیا۔

کہ محترمہ دس پندرہ دن اپنے میکے گذار کر آئی ہے۔
تو کوئی نہ کوئی کاروائی تو ضرور ڈالی ہو گی۔
کیونکہ میری بیوی بھی میری طرح ایک شہوت پرست جانور ہے۔
جو پیٹ کی بھوک تو برداشت کر سکتی ہے۔
لیکن چوت کو پیاسا نہیں رکھ سکتی ۔
میں آج صبح ہی دبئی بزنس ٹرپ سے واپس آیا تھا،
اور گھر واپس آ کر اپنی بیوی کے ساتھ دو سیکس سیشن لگا چکا تھا۔
ایک گھر پہنچتے ہی ویلکم سیکس کیا تھا
پھر تھکن کے باعث اپنے آفس جانے کی بجائے سو گیا تھا اور شام کو اٹھ کر دوسرا سیکس سیشن کیا، اب ڈنر وغیرہ کر کے رات کا پروگرام شروع تھا کہ مجھے اپنی بیوی کی کارگزاری پوچھنے کا خیال ایا۔

یہ خیال آتے ہی میں نے اس کا ہاتھ اپنے نیم استادہ لوڑے سے اٹھاتے ہوئے پوچھا،

چن کتھاں گزار آئی رات وے؟
تے کدے کدے نال گزاری رات وے ؟

میری بات کا مطلب سمجھتے ہوئے بولی
" کہ بتاتی ہوں بتاتی ہوں پہلے میری رانی کی سیوا تو کرو, اسے راضی کرو"

یہ سن کر میں نے مصنوعی غصے سے کہا

" نہیں پہلے بورا واقعہ سناؤ
،کہ
کیا ہوا
کیسے ہوا
کس کے ساتھ ہوا
پھر تیری رانی کی چرنوں میں اپنے لنگھم مہاراج کو پیش کروں گا، "

دراصل ہم بیوی دیوث مطلب ککولڈ کپل ہیں۔
ہم نے ایک دوسرے کو دوسرے افراد سے سیکس کرنے کی اجازت دی ہوئی ہے
لیکن چند شرائط کہ ساتھ ۔
جیسے کہ
حتیٰ الامکان دونوں نے مل کر تیسرے شخص کے ساتھ سیکس کرنا ہے
سیکس اپنے محلے ، رشتے داروں میں ایسے افراد سے نہیں کرنا جو بدنامی کا باعث بنیں۔
اکیلے سیکس کرنے کی صورت میں پہلے یا بعد اپنے پارٹنر کو وقوعے سے آگاہ کرنا بہت ضروری ہے۔
بوقت ضرورت پروٹیکشن لازمی استعمال کرنی ہے تاکہ حمل اور بیماری سے بچا جا سکے ۔
تھوڑا سا تعارف دے دیتا ہوں

میں ایک بزنس مین ہوں نام وقار عرف وکی، عمر 28 سال ، قد چھ فٹ، فٹس باڈی،جم کا شوقین ہوں۔شکل وصورت بھی قدرت نے عمدہ عطا کی ہے۔
جبکہ میری بیوی روبینہ عرف روبی 24 سالہ قد ساڈھے پانچ فٹ، سرخ و سفید رنگت کے سمارٹ جسم والی ، چہرے سے رابی پیر زادہ جیسی لگتی ہے
اس کی ڈی کپ سایز چھاتیاں اس کے سمارٹ جسم سے میچ نہیں ۔
کیونکہ اس کا پیٹ بالکل فلیٹ ہے
جیسے چھاتیاں نمایاں ہی ویسے اس کے چوتڑوں کی گولاییاں بھی ابھری ہوئی ہیں بالکل ناشپاتی شکل کا پچھواڑہ ہے

عبایا بھی پہنے تو چلتے ہوے قیامت برپا کرتی ہے۔، کیونکہ نورا فتحی کی طرح ابھرے کولہے پردے میں بھی مٹکتے ہوئے بے پردہ کر دیتے تھے

ہماری شادی کو چار سال گزر چکے ہیں
ان چار سالوں میں ہم نے درجنوں کپلز
اور بیسیوں افراد کے ساتھ جنسی تعلقات بنائے ہیں
ہم ککولڈ کیسے بنے ؟
یہ پھر کسی کہانی میں بتاؤں گا

ابھی یہ واقعہ میری بیگم کی زبانی گوش گزار فرمائیں


تو ہوا یوں کہ
" کہ مجھے میکے آے چند روز ہؤے تھے
کہ مجھے کپڑے دھونے کی ضرورت پڑ گئی۔
صبح کا وقت تھا
میں واشنگ مشین لگانے چھت پر چلی گئی۔
چھت پر ایک واش روم بنا ہوا ہے ۔

جس میں ایک طرف ٹوائلٹ سیٹ بنی ہوئی ہے اور دوسری طرف واشنگ مشین رکھی ہے
اور واش روم میں واشنگ مشین اس لیے رکھی تھی کہ دھوپ ،بارش سے محفوظ رہے۔
اور دوسرا کپڑے چھت پر ہی دھو کر وہیں پھیلا دیئے جائیں ۔
میں نے کپڑے واشنگ مشین میں ڈالے اور مشین چلا کر باہر نکل آئی ۔
کیونکہ واش روم میں ایک تو حبس بہت تھا اور دوسرا کم استعمال ہونے کی وجہ سے ایک ناگوار سی بو پھیلی ہوئی تھی
باہر آ کر جائزہ لیا تو دیکھا کہ
ہمارے گھر کے ساتھ والا گھر زیر تعمیر ہے
اور اس کے گروانڈ فلور کی چھت کا لینٹر ڈال دیا گیا ہے
اور جیسے لینٹر ڈال کر کچھ عرصہ لینٹر کو پانی لگایا جاتا ہے
اسی مقصد کے لیے ایک نوجوان مزدور
چھت پر کھڑا پائپ سے پانی لگا رہا تھا۔
وہ مزدور لڑکا سا تھا بمشکل اٹھارہ انیس سال کا ہوگا۔ کمسن تھا لیکن دراز قد اور چوڑے شانوں والا کڑیل جوان تھا بازوؤں کے مسل بنے ہوئے تھے ۔
کاٹن کی میلی شلوار ،بنیان میں ملبوس تھا گلے میں چاندی کا تعویذ لٹک رہا تھا
ہمارے گھر کی چھت کی باؤنڈری وال جسے عرف عام میں پردے بھی کہتے ہیں زیادہ اونچے نہیں تھے تین فٹ بمشکل اونچائی ہوگی
لہذا اس چھت سے ادھر جائزہ لینا بہت آسان تھا .
مجھے چھت پر چہل قدمی کرتے دیکھ کر وہ چوری چوری میرے جسم کو تاڑنے لگا۔
میں نے ململ کا جامنی رنگ کا شلوار سوٹ پہنا ہوا، ململ آپ کو معلوم ہی ہو گا کہ سب سے بارک کپڑا ہوتا ہے ۔ اور مشین میں پانی ڈالتے ہوئے کپڑے بھیگ کر جسم سے چپکے ہوئے تھے
اور میں نے برا بھی نہیں پہنی تھی کیونکہ اسے بھی اتار کر مشین میں ڈال دیا تھا
آپ گیلے اور بارک کپڑوں میں میرے ممے تقریباً ننگے تھے۔ جامنی ململ کے اندر سے گورے ممے جھلمل کر رہے تھے
یہ منظر کسی ساٹھ سالہ مرد کو بھی بے ایمان کر سکتا تھا
یہ تو پھر جوانی کی سیڑھی پر قدم رکھتا نوجوان تھا

لہذا میرے جسم کو تکتے تکتے اس کی شلوار میں تمبو بننے لگا، اس کی کاٹن کی شلوار میں لنڈ کا کیپ واضح ہو رہا تھا
جسے وہ وقتا فوقتاً مسل رہا تھا
میں اگر چہ اس سے بے نیاز اپنی چھت پر چہل قدمی کر رہی تھی ۔
لیکن میں وقتاً فوقتاً اس کا جائزہ لے رہی تھی
اس کی نگاہوں کی گرمی سے میری بے چین چوت نے دہائیاں دینے لگ گئی کہ "میرا وی کجھ سوچ"

روبی تو پہلے ہی چوت سے سوچتی ہے۔
پہلے تو واش روم میں جا کر چوت کو انگلی سے فارغ کرنے کا سوچا ۔
لیکن چوت کی ڈیمانڈ تو لوڑا تھی۔
اور وہ بھی جوان فریش لؤڑا۔
میں چوت کی فرمائش کو نظر انداز کرتی چہل قدمی کرتی رہی۔ اسے سمجھاتی رہی، کہ محلے داری ہے ۔میکہ ہے۔ ایسے کانڈ کے لیے مناسب جگہ نہیں ہے
لیکن چوت صاحبہ مان کے نہیں دے رہی تھی۔
کہ اتنے دن ہو گئے ہیں پرایا لنڈ نہیں چکھا۔ اپنا ذاتی لوڑا بھی دبئی گیا ہوا ہے، کب تک تڑپاو گی
ابھی موقع بن رہا ہے لوڑا تگڑا ہے۔چدوا دو ، پھر پتہ نہیں ، صاحب کے آنے تک کوئی لوڑا ملے نہ ملے ،
اسی شش و پنج میں تھی کہ واشنگ مشین نے ٹائمر ختم ہونے کی وسل کی۔ اور دماغ کی بتی جل گئی اور فوراً شیطانی دماغ نے ایک پلان تشکیل دے دیا۔

واش روم میں جا کر واشنگ مشین کا پلگ اتارا اور اس کے پلگ میں سے ایک تار کھینچ کر نکال لی اور پلگ دوبارا لگا دیا۔
اب پلگ لگانے کے باوجود بھی واشنگ مشین چلنا بند ہوگی
میں منڈیر کی طرف گئی ، اور اسے مخاطب کیا۔
"ہیلو، اپ کون ہیں ، یہاں کیا کر رہے ہیں!"

مجھے منڈیر کی طرف آتے دیکھ لڑکا اپنے دھیان ہو گیا اور بڑے انہماک سے اپنا کام کرنے لگا ہوا تھا
میرے اس طرح مخاطب کرتے پرا بوکھلا سا گیا ۔ ہکلا کر بولا
" با، باجی وہ میں مزدور ہوں ، بوٹا نام ہے جی
وہ جی وہ جی، ہمیں اس گھر کا ٹھیکہ ملا ہے جی۔ اب لینٹر ڈالے ہی ناں تو کچھ دن پانی لگانا ہے اس لیے آبا مجھے ادھر تین گھنٹوں کے لیے چھوڈ جاتا ہے ، میں دیواروں اور لینٹر کو پانی لگاتا ہوں، میرے بھائی ابا وغیرہ اس دوران دوسرے گھر پر کام کرتے ہیں"


"اچھا اچھا، ٹھیک ہے, یعنی تم اکیلے ہی یو "

" جی باجی ،"

"اچھا بھائی بات سنیں ، میرا ایک چھوٹا سا کام تو کر دیں کیا آپ کو واشنگ مشین کا پلگ لگانا آتا ہے۔
میں نے کپڑے دھونے ہیں۔
اور اس کے پلگ کی تار نکل گئی آپ براہ مہربانی وہ تار لگا سکتے ہیں ۔"

"جی باجی، کیا کیا؟ "
میں پھر بولی۔
"بھائی وہ واشنگ مشین کا پلگ کی تار نکل گئی ہے پلیز کیا وہ آپ لگا سکتے ہیں "

",جی باجی، مسلہ نہیں، میں ذرا موٹر بند کر آؤں "
یہ کہہ کر وہ نیچے موٹر بند کرنے چلا گیا ۔
پھر اوپر ایا۔ اور ہماری تین فٹ کی دیوار پھلانگ کر ہماری چھت پر ا گیا۔
اور بولا
"جی باجی ، کہاں ہے واشنگ مشین ؟"
میں نے واش روم کی طرف اشارہ کیا، وہ اندر گیا۔ جائزہ لے کر کچھ ہی دیر میں باہر آ گیا۔

"جی باجی یہ تو مسلہ ہی نہیں۔
لیکن پلگ کھولنے کے لیے پیچ کس چاہیے،
آپ ایک پیچ کس لا دو تو، ایک منٹ میں تار لگ جائے گی۔"

پلگ میں تار لگانا تو مسلہ ہی نہیں تھا وہ تو میں بغیر پلگ کے بھی تاریں ساکٹ میں ٹھونس سکتی تھی۔ میں تو نل کی ٹونٹی تک بدل لیتی ہوں لیکن اس وقت اپنی ملکہ عالیہ محترمہ چوت صاحبہ کی بے وقت فرمایش کا تھا

لہذا کہانی میں رنگ بھرنے کے لیےمیں نیچے سے ابا جی کا ٹول باکس کے آئی ۔
اور وہ پیچ کس لے کر واش روم میں گھس گیا
پہلے سوئچ بند کر کے ساکٹ پلگ نکالا ۔
اور پلگ کھولنے لگا
میں اس کے پیچھے ساتھ لگ کرکھڑی ہو کر دیکھنے لگی۔
وہ ایک ہاتھ میں پلگ پکڑ کر پیچ کھول رہا تھا
" بھائی ذرا پکا کر کر کے لگانا یہ تو لگاتے ہی پھس ہو جاتا ہے"
اور ساتھ ہی اپنے ممے اس کے پیٹھ اور بازو میں چبھوے۔
میرے مموں کو محسوس کرتے ہی اس کی شلوار میں شیطان ابھرنے لگا۔
نوجوانی کے ٹیسٹرون اپنا اثر دکھا رہے تھے
لنڈ پہلے نیم استادہ ہوا، پھر شلوار میں مکمل کھڑا ہو گیا، لنڈ کی ٹوپی شلوار میں بھی واضح ہو رہی تھی
میں نےاگے ہاتھ بڑھا کہا
" یہ پلگ مجھے پکڑاو اور آپ پیچ کھولو۔"
اس دوران میں اس کے مزید نزدیک ہو گئی اور اس کا پھنیر سانپ شلوار سمیت میرے پیٹ کے نچلے حصے پر ٹکرایا ۔

اس کے لنڈ کی سختی محسوس کرتے ہی
میرے جسم میں ایک مستی کی لہر سی دوڑ گئی۔جسے اس نے بھی محسوس کیا ۔ لیکن۔ اس نے لوڑے کو پیچھے نہیں۔ کیا، بلکہ مزید میرے پیٹ میں گھسا دیا
پسینے کی بو اس کے بدن سے پھوٹ رہی تھی
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Back
Top