- Moderator
- #1
بارہویں صدی کا ایک دن تھا۔ بیت المقدس کے در و دیوار خوف سے کانپ رہے تھے۔ صلیبی سپاہی شکست کھا چکے تھے اور شہر کا محاصرہ مکمل ہو چکا تھا۔ ہر طرف یہ افواہیں گردش کر رہی تھیں کہ “مسلمان شہر پر قابض ہونے والے ہیں، اب انتقام میں خون کی ندیاں بہیں گی۔”
شہر کی فصیل پر کھڑا ایک عیسائی سپاہی دوسرے سے بولا:
“کیا تمہیں یاد ہے جب ہمارے بزرگوں نے اس شہر کو فتح کیا تھا؟”
دوسرا بولا: “ہاں، اُس وقت ہم نے ہزاروں مسلمانوں کو تہہ تیغ کر دیا تھا… مجھے ڈر ہے کہ اب ہمارے ساتھ بھی وہی سلوک ہوگا۔”
شہر کے اندر عورتیں اور بچے سہمے بیٹھے تھے۔ بزرگ لوگ گرجا گھروں میں پناہ ڈھونڈ رہے تھے۔ صلیبی سردار بیلیان شکست خوردہ چہرہ لیے صلاح الدین ایوبی کے سامنے حاضر ہوا۔ اُس نے لرزتی آواز میں کہا:
“اے عظیم سلطان! ہم جانتے ہیں کہ ہمارے ہاتھوں آپ کے لوگ کتنا خون بہا چکے ہیں۔ لیکن آج میں اپنے اہلِ خانہ اور اہلِ شہر کے لیے رحم کی بھیک مانگنے آیا ہوں۔”
صلاح الدین کچھ لمحے خاموش رہے، پھر مسکرا کر بولے:
“بیلیان! تمہارے ساتھ وہ نہیں ہوگا جو تمہارے بزرگوں نے ہمارے ساتھ کیا تھا۔ اسلام ہمیں انصاف اور رحم کی تعلیم دیتا ہے۔ یہ شہر اب امن کا مرکز بنے گا۔”
ان الفاظ نے شہر کی فضا بدل دی۔ دروازے کھول دیے گئے، اور اعلان ہوا کہ جو جانا چاہے امان کے ساتھ جا سکتا ہے۔ جو فدیہ ادا کر سکتا ہے، وہ اپنے خاندان کے ساتھ روانہ ہو سکتا ہے۔ اور جو ادا نہیں کر سکتا، اُسے بھی عزت کے ساتھ رخصت کیا جائے گا۔
ایک دن بیلیان کی بیوی روٹھتے دل کے ساتھ صلاح الدین کے خیمے میں آئی۔ اُس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔
“اے سلطان! مجھے ڈر ہے… کہیں میرے ساتھ ظلم نہ ہو!”
صلاح الدین نے نرمی سے جواب دیا:
“بی بی! یہاں کوئی تمہیں نقصان نہیں پہنچائے گا۔ تم سلطان ایوبی کے ملک میں ہو۔ یہاں عورتوں اور بچوں کی عزت محفوظ ہے۔”
یہ سن کر اُس کی آنکھوں میں حیرت اور شکر گزاری کی جھلک دوڑ گئی۔ وہ عزت کے ساتھ اپنے خاندان تک پہنچا دی گئی۔
کچھ برس بعد جب رچرڈ شیر دل انگلستان سے آیا تو اس کے اور صلاح الدین کے درمیان کئی معرکے ہوئے۔ مگر دشمنی کے باوجود دونوں ایک دوسرے کے کردار سے متاثر ہوئے۔ ایک موقع پر جب رچرڈ بیمار ہوا تو صلاح الدین نے اپنے شاہی طبیب اور تازہ پھل اُس کے پاس بھیجے۔ رچرڈ نے اپنے ساتھیوں سے کہا:
“میں نے بہت سے بادشاہ دیکھے ہیں، لیکن ایسا شریف دشمن پہلے کبھی نہیں دیکھا۔”
یوں صلاح الدین ایوبی کی زندگی کا ہر باب اس بات کا اعلان تھا کہ اصل عظمت صرف تلوار میں نہیں، بلکہ انصاف، رحم اور کردار کی طاقت میں ہے۔
شہر کی فصیل پر کھڑا ایک عیسائی سپاہی دوسرے سے بولا:
“کیا تمہیں یاد ہے جب ہمارے بزرگوں نے اس شہر کو فتح کیا تھا؟”
دوسرا بولا: “ہاں، اُس وقت ہم نے ہزاروں مسلمانوں کو تہہ تیغ کر دیا تھا… مجھے ڈر ہے کہ اب ہمارے ساتھ بھی وہی سلوک ہوگا۔”
شہر کے اندر عورتیں اور بچے سہمے بیٹھے تھے۔ بزرگ لوگ گرجا گھروں میں پناہ ڈھونڈ رہے تھے۔ صلیبی سردار بیلیان شکست خوردہ چہرہ لیے صلاح الدین ایوبی کے سامنے حاضر ہوا۔ اُس نے لرزتی آواز میں کہا:
“اے عظیم سلطان! ہم جانتے ہیں کہ ہمارے ہاتھوں آپ کے لوگ کتنا خون بہا چکے ہیں۔ لیکن آج میں اپنے اہلِ خانہ اور اہلِ شہر کے لیے رحم کی بھیک مانگنے آیا ہوں۔”
صلاح الدین کچھ لمحے خاموش رہے، پھر مسکرا کر بولے:
“بیلیان! تمہارے ساتھ وہ نہیں ہوگا جو تمہارے بزرگوں نے ہمارے ساتھ کیا تھا۔ اسلام ہمیں انصاف اور رحم کی تعلیم دیتا ہے۔ یہ شہر اب امن کا مرکز بنے گا۔”
ان الفاظ نے شہر کی فضا بدل دی۔ دروازے کھول دیے گئے، اور اعلان ہوا کہ جو جانا چاہے امان کے ساتھ جا سکتا ہے۔ جو فدیہ ادا کر سکتا ہے، وہ اپنے خاندان کے ساتھ روانہ ہو سکتا ہے۔ اور جو ادا نہیں کر سکتا، اُسے بھی عزت کے ساتھ رخصت کیا جائے گا۔
ایک دن بیلیان کی بیوی روٹھتے دل کے ساتھ صلاح الدین کے خیمے میں آئی۔ اُس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔
“اے سلطان! مجھے ڈر ہے… کہیں میرے ساتھ ظلم نہ ہو!”
صلاح الدین نے نرمی سے جواب دیا:
“بی بی! یہاں کوئی تمہیں نقصان نہیں پہنچائے گا۔ تم سلطان ایوبی کے ملک میں ہو۔ یہاں عورتوں اور بچوں کی عزت محفوظ ہے۔”
یہ سن کر اُس کی آنکھوں میں حیرت اور شکر گزاری کی جھلک دوڑ گئی۔ وہ عزت کے ساتھ اپنے خاندان تک پہنچا دی گئی۔
کچھ برس بعد جب رچرڈ شیر دل انگلستان سے آیا تو اس کے اور صلاح الدین کے درمیان کئی معرکے ہوئے۔ مگر دشمنی کے باوجود دونوں ایک دوسرے کے کردار سے متاثر ہوئے۔ ایک موقع پر جب رچرڈ بیمار ہوا تو صلاح الدین نے اپنے شاہی طبیب اور تازہ پھل اُس کے پاس بھیجے۔ رچرڈ نے اپنے ساتھیوں سے کہا:
“میں نے بہت سے بادشاہ دیکھے ہیں، لیکن ایسا شریف دشمن پہلے کبھی نہیں دیکھا۔”
یوں صلاح الدین ایوبی کی زندگی کا ہر باب اس بات کا اعلان تھا کہ اصل عظمت صرف تلوار میں نہیں، بلکہ انصاف، رحم اور کردار کی طاقت میں ہے۔