• 📚 لوو اسٹوری فورم ممبرشپ

    بنیادی ڈیل

    وی آئی پی

    5000
    تین ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    وی آئی پی پلس

    8000
    چھ ماہ کے لیے
    ٹاپ پیکیج
    👑

    پریمیم

    20000
    چھ ماہ کے لیے

Life Story فریب ِ محبت ۔۔۔

Joined
Jun 10, 2025
Messages
934
Reaction score
48,726
Points
93
Location
Karachi
Gender
Male
ان دنوں ہمارے گھر میں بہت پریشانی تھی۔ والد کو ایسی بیماری لاحق تھی کہ وہ اپنی زندگی سے مایوس ہو چلے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ میں جلد اپنے گھر کی ہو جاؤں، تاکہ ان کی زندگی کا ایک بڑا بوجھ ہلکا ہو جائے۔گھر میں پریشانی اس قدر بڑھ چکی تھی کہ والد صاحب کی نہ صحت باقی رہی تھی اور نہ جمع پونجی۔ جو کچھ بھی پاس تھا، بیماری پر خرچ ہو چکا تھا۔ بھائی کئی ماہ سے نوکری کی تلاش میں تھے، مگر انہیں کوئی ملازمت نہ ملی۔تب خالہ نے مشورہ دیا کہ آپ کسی عامل صاحب کے پاس جائیں، فال نکلوا لیں، اور دعا کروائیں۔ امی بولیں کہ میں کسی عامل کو نہیں جانتی۔پڑوسن خالہ نے کہا کہ ایک بہت اچھے عامل صاحب ہیں، پڑھے لکھے ہیں، ستاروں کا علم بھی جانتے ہیں۔ میں ان کا پتا بتاتی ہوں۔ انہیں اپنی پریشانی بتائیں، کوئی نہ کوئی حل ضرور نکل آئے گا۔ایسی باتیں سن کر امی کے بجھے ہوئے دل کا چراغ پھر سے جل اٹھا۔ ان کے دل میں امید اور آس کی ایک نئی لہر پیدا ہوئی، اور وہ فوراً ہی عامل کے پاس جانے پر راضی ہو گئیں۔پڑوسن خالہ نے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ عامل صاحب کو کچھ رقم بطور نذرانہ دینا ہوگی۔ والد نے قرض لے کر اس کا بھی انتظام کر لیا۔اگلے دن امی مجھے ساتھ لے کر اپنی پریشانیوں کا حل تلاش کرنے نکل پڑیں۔ پڑوسن نے جو پتا بتایا تھا، وہاں پوچھتے پوچھتے ہم ایک دفتر تک پہنچے جس کے باہر بورڈ لگا تھا: عادل شاہ۔ہم جھجکتے ہوئے دفتر کے اندر چلے گئے۔ فرش پر قالین بچھا تھا، اس پر سفید چاندنی اور گاؤ تکیے رکھے ہوئے تھے۔ سامنے ایک اٹھائیس سالہ خوبصورت شخص تکیے سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔ چہرے پر ہلکی داڑھی اور رنگت سرخ و سفید تھی۔ لگتا تھا جیسے چہرے سے نور جھلک رہا ہو۔ نہایت خوش شکل انسان تھے۔میرے تصور میں تو عامل کوئی بزرگ شخصیت ہونی چاہیے تھی، لیکن یہاں ایک نوجوان کو دیکھ کر حیرت ہوئی۔ بہرحال، نوجوانی میں بھی ریاضت اور نیک سیرت سے بزرگی حاصل کی جا سکتی ہے، یہ کوئی تعجب کی بات نہیں۔انہوں نے آنے کی وجہ پوچھی۔ امی نے والد کی بیماری کا ذکر کیا، پھر بھائی کی بے روزگاری اور مالی مشکلات بیان کیں۔ آخر میں میری طرف اشارہ کر کے بولیں کہ اس بچی کے رشتے کے لیے بھی بہت پریشان ہوں۔ چاہتی ہوں کسی اچھے، کھاتے پیتے، شریف گھرانے سے رشتہ مل جائے تاکہ جلد شادی کر سکوں۔ اس کے والد کی یہی آرزو ہے۔عامل صاحب نے ایک نظر غور سے میری طرف دیکھا۔ میں شرما گئی اور نظریں نیچی کر لیں۔ ان کی نگاہوں میں واقعی ایک عجیب سا اثر تھا، جیسے پہلی ہی نظر نے مجھے اپنی گرفت میں لے لیا ہو۔انہوں نے کچھ دعائیں لکھ کر امی کو دیں اور پانی پر دم کر کے دیا۔ کہا کہ یہ اپنے بیمار شوہر کو پلائیے گا۔مجھے ایک تسبیح بتائی کہ ہر روز عشاء کے بعد یہ وظیفہ 313 بار پڑھ کر سو جایا کریں۔ امی سے کہا کہ جمعرات کو دوبارہ میرے پاس آئیے گا۔ پورے ایک ہفتے بعد چاندنی رات ہوگی، اور یہ عمل چاندنی رات میں ہی کیا جاتا ہے۔امی ہمیشہ پیروں، فقیروں اور عاملوں کے چکر میں رہتی تھیں، اور میں انہیں روکتی تھی کہ ان کے چکر میں نہ پڑا کریں۔ یہ کسی کی پریشانی کا حل نہیں نکالتے، بس پیسے بٹورتے ہیں اور دوسروں کو بے وقوف بناتے ہیں۔اگلی جمعرات میں ان کے ساتھ نہ گئی۔ امی اکیلی ہی عادل شاہ کے پاس چلی گئیں۔ وہ جو عمل بتاتے اور جو آیات پڑھنے کو دیتے، امی ویسا ہی عمل کرتی رہیں۔ لیکن پریشانیاں ویسے ہی قائم رہیں۔تب میں نے امی سے کہا کہ امی جان، پہلے ہی تنگ دستی ہے، آپ مزید رقم مت خرچ کریں۔ یہ عامل صاحب ہمارے مسائل حل نہیں کر سکتے۔ماں نے کہا کہ بیٹی، یہ عامل صاحب دوسروں جیسے نہیں ہیں۔ انہوں نے تو آج تک ایک بار بھی مجھ سے نذرانہ نہیں لیا، نہ ہی کوئی رقم طلب کی ہے۔ایک دفعہ اور چلی جاتی ہوں، بس آخری بار۔ اس کے بعد نہیں جاؤں گی۔جب جانے لگیں تو بولیں کہ پچھلی بار بھی راستہ بھول گئی تھی۔ اکیلے جاتی ہوں تو گھبراہٹ ہوتی ہے، کبھی پیسے گر جاتے ہیں، کبھی پرس رہ جاتا ہے، اور کبھی غلط بس میں بیٹھ جاتی ہوں۔تم ساتھ ہوتی ہو تو سب سنبھال لیتی ہو۔یوں میں ان کے ساتھ ہو لی۔

اس دفعہ پورے ڈیڑھ ماہ بعد وہ عامل صاحب کے پاس گئی تھیں۔ مجھے دیکھ کر کہنے لگے، اچھا ہوا تم آ گئیں، تمہیں ایک وظیفہ بتانا تھا۔ چالیس روز تک، نمازِ عشاء کے بعد یقین کے ساتھ پڑھ کر دعا کرنا، ان شاء اللہ قبول ہو گی۔میری حسن شاہ جی سے بات ہوئی تھی، وہ آپ کے کیا لگتے ہیں؟ عادل شاہ نے سوال کیا۔امی نے بتایا، وہ میرے شوہر کے تایا زاد ہیں۔وہ بھی آپ کے شوہر کا ذکر کر رہے تھے۔ رحیم شاہ نام ہے نا ان کا؟جی ہاں، یہی نام ہے۔عادل شاہ بولے، وہ بیٹی کے رشتے کے لیے کافی پریشان ہیں۔ میں نے حسن شاہ جی کو ایک رشتہ بتایا ہے، آپ ان کے پاس چلی جانا۔ وہ آپ کو اس رشتے کے بارے میں بتا دیں گے، اور غور سے سننا، بچی سے بھی مشورہ کر لینا۔ اگر منظور ہو تو مجھے آ کر بتا دینا۔میں ان کی بات سن کر شرما گئی اور امی خوش ہو گئیں۔ بولیں، شکر ہے، ایک پریشانی تو کم ہوئی۔ میں آج ہی شاہ جی کے پاس جاؤں گی۔اس روز میں نے دوسری بار دھیان سے عادل شاہ کو دیکھا۔ وہ مجھے اچھے لگے۔خوبصورت تو تھے ہی، ان کی آواز میں بھی ایک سحر تھا۔ میٹھے اور دھیمے لہجے میں، ٹھہر ٹھہر کر بات کرتے تھے۔ مجھے لگا کہ یہ واقعی دوسروں سے مختلف ہیں۔ پڑھے لکھے، باوقار انسان معلوم ہوتے تھے۔ خیر، ہم گھر آ گئے۔اب امی کو حسن شاہ جی کے پاس جانے کی بے چینی تھی۔ دراصل وہ ہمارے والد کے ہمدرد رشتہ دار تھے۔ جب کبھی رقم کی ضرورت پڑتی یا کوئی مسئلہ درپیش ہوتا، ابا جان ان کے پاس جاتے۔ جہاں تک ممکن ہوتا، وہ ہماری مدد کرتے اور مشورہ دیتے۔امی شاہ جی کے گھر گئیں اور ان سے عادل شاہ کا ذکر کیا۔ ان کو عامل صاحب کا پیغام پہنچایا۔ شاہ جی نے کہا، بھابھی، عادل شاہ آپ کی بیٹی سے شادی کے خواہش مند ہیں۔ چونکہ میری ان کے والد سے اچھی تعلق داری ہے اور یہ شریف لوگ ہیں، اس لیے وہ میرے پاس اپنا مدعا لے کر آئے کہ میں یہ رشتہ طے کرا دوں۔
چونکہ آپ بھی بیٹی کے لیے رشتہ تلاش کر رہی ہیں، تو میں چاہتا ہوں کہ اگر آپ کو یہ رشتہ منظور ہے، تو میں انہیں آپ کی رضامندی سے آگاہ کر دوں۔ پھر وہ باقاعدہ اپنی والدہ کے ذریعے آپ کے گھر رشتہ طلب کرنے آئیں گے۔امی نے جواب دیا، کیا آپ ان کے بزرگوں کو جانتے ہیں؟ بظاہر عادل شاہ بھی بھلے مانس لگتے ہیں۔ ہمارے مالی حالات ٹھیک نہیں ہیں، ایسے میں بیٹی کے لیے کسی اچھے رشتے کی تلاش مشکل ہو جاتی ہے۔ اگر یہ مسئلہ یوں حل ہو جائے تو بہت اچھا ہے۔شاہ جی بولے، میرا بھی یہی خیال ہے۔ تمہارے شوہر بیمار ہیں، اور اپنے جیتے جی بیٹی کو بیاہ دینا چاہتے ہیں۔ ان کا مرض لاعلاج ہے، پتا نہیں کتنی سانسیں باقی ہیں۔عادل شاہ مالی لحاظ سے مستحکم ہیں، ان کا خاندان امیر لوگوں میں شمار ہوتا ہے۔ امید ہے تمہاری بیٹی سکھی رہے گی۔شاہ جی کے حوصلہ دلانے پر میرا رشتہ عادل شاہ سے طے ہو گیا۔اس کے بعد انہوں نے مجھے فون کیا اور پوچھا، تم اس رشتے پر راضی ہو؟ کیا تم سے پوچھا گیا تھا؟ میں نے جواب دیا، ہاں، میں راضی ہوں اور میری مرضی پوچھی گئی تھی۔اس پر انہوں نے اطمینان کا سانس لیا۔اب وہ ہفتے میں دو بار مجھ سے فون پر بات کرتے، خیریت پوچھتے۔ جب میں پوچھتی کہ آپ کے گھر والے کب آئیں گے؟ تو جواب ملتا، جلد آئیں گے۔وہ خود بھی نہیں آتے تھے۔ مجھے محسوس ہوتا تھا کہ میری ان کے ساتھ چاہت کی کوئی منزل نہیں ہے۔ شاید ہمارے غریب ہونے کی وجہ سے ان کے گھر والے ہمارے گھر نہیں آتے، کیونکہ ایک مفلس گھرانے کی امیر خاندان کی نظروں میں کوئی قدر و قیمت نہیں ہوتی۔امی کو بھی یہ بات اب محسوس ہونے لگی، تبھی ایک دن انہوں نے عادل شاہ اور ان کے گھر والوں کو کھانے پر بلایا۔وہ بولے، پہلے میں آؤں گا، بعد میں ان کو بھی لے آؤں گا۔وقتِ مقررہ پر وہ آ گئے۔ امی نے اپنی حیثیت سے بڑھ کر کھانا بنایا۔ وہ امی سے باتیں کرتے رہے، ابا سے بھی ملے۔ کھانا کھایا اور کچھ دیر بعد اجازت چاہی۔ جاتے ہوئے میری چھوٹی بہن کے ہاتھ پر پانچ ہزار روپے رکھ دیے۔امی نے بہت منع کیا، مگر وہ اصرار کر کے دے گئے۔وہ وعدے کے پابند تھے۔ جب کہتے کہ آؤں گا، تو ٹھیک وقت پر آ جاتے۔ میں گھر میں ان سے بات نہیں کرتی تھی، مگر فون پر بات کر لیا کرتی تھی۔ ان کے گھر آنے پر بہت خوش ہوتی تھی۔ انہیں دیکھ کر میرا دل خوش ہو جاتا تھا۔ مجھے لگتا تھا کہ اللہ مجھ پر مہربان ہے، تبھی تو ایسا خاص آدمی میرا جیون ساتھی بن رہا ہے۔

اب وہ ہفتے میں ایک بار والد صاحب کی عیادت کے لیے آنے لگے۔ کچھ دیر ان کے پاس بیٹھ کر باتیں کرتے، ان پر دم کرتے اور امی سے بھی بات چیت کرتے۔میں انہیں دور سے دیکھتی، ان کے لیے کھانے بناتی۔ ہمارے پاس پیسے نہ ہوتے، پھر بھی ہم ان کے لیے ادھار لے کر اچھا کھانا بناتے۔ امی کہتیں، میرا ہونے والا داماد ہے، اس کی خاطر تو واجب ہے۔وہ بھی جاتے وقت میری چھوٹی بہن کے ہاتھ پر کبھی پانچ سو، کبھی ہزار روپے رکھ جاتے۔مجھے اب عادل شاہ کا انتظار رکھنے لگا تھا۔ کبھی وہ آنے سے معذرت کر لیتے ، تو میں اداس ہو جاتی، جیسے انہوں نے مجھ پر جادو کر دیا ہو۔ میرے ہاتھ خود بہ خود فون کی طرف بڑھتے اور میں ان کو کال کر دیتی۔ وہ برا نہ مناتے، خوش دلی سے گفتگو کرتے۔ کبھی کوئی ایسی بات نہ کہی جس سے میرے دل کو ٹھیس لگتی۔ رفتہ رفتہ میں ان کی معمول بنتی گئی، جیسے انہوں نے مجھ پر عمل کر دیا ہو۔ اب مجھے قرار نہ تھا۔ میں جلد از جلد ان کے ساتھ شادی کے بندھن میں بندھ جانا چاہتی تھی۔ ان کے بات کرنے کا انداز ، دل موہ لینے والا تھا۔ایک دن وہ اور امی بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔ امی سے کہا کہ آپ کو مالی پریشانیوں نے گھیر لیا ہے۔ مجھے احساس ہے کہ آپ کی پریشانیاں ہنوز کم نہیں ہوئیں۔ آپ کے بیٹے بیروز گار ہیں کیوں نہ میں بیٹے کو روز گار کے لئے غیر ملک بھجوادوں تا کہ مالی پریشانیاں ختم ہوں۔ ان کو باہر بھیجوانے پر جو خرچ آئے گا، وہ میں کہاں سے دوں گی؟ کہنے لگے۔ اس کی فکر نہ کریں ، وہ میں بھر دوں گا، بعد میں مجھے ادا کرتی رہنا۔ آپ کے بڑے بیٹے کو یورپ کے کسی ملک بھیجو ادیتا ہوں۔ میرے چچا لوگوں کو بیرون ملک بھجوانے کا کام کرتے ہیں۔ایک روز اپنی کار میں آئے اور ہمیں اپنے چچا کے گھر لے گئے۔ واپسی میں ایک پارک لے گئے ، چارٹ وغیرہ کھلائی رہ کھلائی، کشتی کی سیر کرائی۔ اس دن میں بہت خوش تھی۔ بس میں ہوتا تو وقت کو روک لیتی، لیکن وقت کسی کے روکے رکھتا نہیں، گزر جاتا ہے بس یادیں باقی رہ جاتی ہیں۔ امی عادل شاہ کو یاد دلاتی رہتی تھیں کہ میرے شوہر کی بیماری تیسری اسٹیج پر ہے، کب شادی کی تاریخ رکھی جائے گی ؟ وہ جواب دیتے۔ بس تھوڑا سا اور انتظار کر لیں۔ جلد میرے والدین تاریخ لینے آئیں گے۔ وہ دن تو نہ آیا، مگر وہ ہو گیا، جس کا دھڑکا لگا ہوا تھا۔ اچانک موت کا فرشتہ آیا اور ابا جان کو دوسری دنیا میں لے گیا اور ہم روتے پیٹتے رہ گئے۔ پی سی او ہمارے گھر کے قریب ہی تھا۔ سب سے پہلے میں نے عادل شاہ کو اطلاع دی۔ ابھی گھر کے دروازے تک پہنچی تھی کہ دیکھا، وہ ہمارے گھر سے نکل رہے ہیں۔ مجھے کہا صبرمت گنوانا، میں ابھی واپس آرہا ہوں۔ تدفین کا انتظام کرنا ہے گھر میں رونا پیٹنا مچا تھا، میں بھی رو رہی تھی۔ آخر کار والد صاحب کی تدفین کر دی گئی۔ سوئم کے دن عادل شاہ اتنے پھل لائے کہ گھر بھر گیا۔ رشتہ دار ان کی فیاضی دیکھ کر حیران تھے۔ امی نے عادل شاہ سے کہا کہ آپ نے یہ سب کیوں کیا؟ وہ کہنے لگے، مرحوم ہمارے بھی کچھ لگتے تھے۔ یہ سن کر مجھے رونا آ گیا۔ خدا جانے یہ غم کے آنسو تھے یا خوشی کے؟ عمو ابو کی وفات کا دکھ تھا اور خوشی اس امید سے تھی کہ شاید میری آنے والی زندگی اچھی گزرے۔سبھی رشتہ دار عادل شاہ کو دیکھ رہے تھے کہ یہ خوبصورت اور شاندار انسان کون ہے، جو اتنی عنایات کر رہا ہے۔ امی نے ان کو بتایا کہ یہ عادل ہیں اور ان کے پاس بڑا علم ہے، خدا کی رحمت ہے، اسی لیے ان کے چہرے پر اتنا نور ہے۔ابا جان کو گزرے چالیس دن ہو رہے تھے۔ والدہ ان کا چالیسواں کرنا چاہتی تھیں۔ انہوں نے عادل شاہ سے ذکر کیا، تو وہ بولے، کتنا خرچ آئے گا؟ امی نے کہا کہ کسی کو نہیں بلاؤں گی، سادگی سے گھر میں ختم قرآن کرادوں گی کیونکہ لوگوں کو بلانے سے خرچ آئے گا۔ عادل کہنے لگے، آپ چالیسواں کریں، میں پیسے دوں گا، سب رشتہ داروں کو بلائیں۔امی نے کہا، آپ کا پہلے ہی احسان ہم پر ہے۔ تدفین وغیرہ پر اتنا خرچ کیا، اب اور نہیں لوں گی۔ عادل بولے، مرحوم میرے بھی عزیز تھے، آپ خرچ کی فکر مت کریں۔ امی کہنے لگیں، اچھا تو صرف گوشت کا انتظام کر دیں، باقی ہم خود کر لیں گے۔ آدھ من بکرے کا گوشت کافی رہے گا؟ عادل نے کہا، چالیسویں کے دن گوشت آپ کے گھر پہنچ جائے گا۔چالیسویں سے دو دن پہلے امی مجھے لے کر بازار گئیں۔ عادل شاہ کا دفتر قریب تھا تو ہم ان کے دفتر چلے گئے۔ امی نے چالیسویں کے بارے میں ان سے صلاح مشورہ کیا اور پوچھا کہ آپ گوشت کتنے بجے لے کر آئیں گے؟ انہوں نے کوئی جواب نہ دیا۔ امی اور میں خاموش ہو کر گھر لوٹ آئیں۔گھر آتے ہی اماں رونے لگیں کہ اب کیا ہوگا، کیونکہ وہ تو کسی کو نہیں بلا رہی تھیں۔ عادل نے آسرا دیا تھا تو سب کو بلا لیا تھا۔ رشتہ داروں سے بھی ذکر کر چکی تھیں۔ ہمارے پاس گوشت کے پیسے نہیں تھے اور امی سب عزیزوں اور رشتہ داروں کو مدعو کر چکی تھیں۔ماں کو پریشان دیکھ کر میں عادل شاہ کو فون کرنے چلی گئی اور بتایا کہ یہ صورتحال ہے۔ انہوں نے جواب نہ دیا۔ میں نے کہا آپ جواب تو دیں، ہاں یا نہیں؟ انسان کو وہ بات نہیں کہنی چاہیے جو پوری نہ کر سکے۔ اگر آپ گوشت نہیں مہیا کر سکتے تھے تو کہا کیوں تھا؟بہرحال عادل نے گوشت نہ بھجوایا۔ عین وقت پر امی پریشان ہو کر شاہ جی کے پاس گئیں اور مسئلہ بتایا۔ انہوں نے فوراً مرغی کا آدھ من گوشت بھجوا دیا اور کہا کہ بعد میں جب سہولت ہو رقم دے دینا، ابھی کام چلا لو۔ کچھ نقد رقم بھی امی کو دی۔ باقی رقم امی نے ایک عزیز عورت سے ادھار لے لی۔ شاہ جی نے ہماری عزت رکھ لی اور وقت پر اچھے طریقے سے چالیسواں ہو گیا۔ عادل صاحب بھی آئے۔ ہم ناراض اور اداس تھے، مگر ان سے بے رخی کا برتاؤ نہیں کیا، بلکہ عزت دی۔کچھ روز بعد وہ گھر آئے اور امی سے کہا، آپ کے بیٹے کو چچا کے گھر لے جانا ہے۔ میں نے ان سے باہر بھجوانے کی بات کر رکھی ہے۔ اسی دن انہوں نے مجھ سے بات کی۔ کہا، میں نے اپنی ماں سے تمہاری اور اپنی شادی کی بات کر لی ہے، دعا کرو وہ مان جائیں۔ وہ چلے گئے، میں دعا کرتی رہی کہ خدا کرے ان کی والدہ مان جائیں اور شادی میں رکاوٹ نہ ڈالیں۔بھائی ان کے ساتھ گئے تو دوسرے دن واپس آ کر بتایا کہ عادل شاہ کے چچا کہیں باہر گئے ہوئے تھے، اس لیے ملاقات نہ ہو سکی۔ میں نے عادل کو فون کیا۔ انہوں نے کہا، میں نے اپنی ماں سے تمہاری اور اپنی شادی کی بات کی تھی، وہ نہیں مان رہی ہیں، سخت ناراض ہوتی ہیں، کیا کروں؟یہ سن کر میں گھبرا کر رونے لگی۔ خدا جانے وہ سچ کہہ رہے تھے یا جھوٹ۔ کافی دفعہ میرے بھائی کو بیرون ملک بھجوانے کی بات بھی کی مگر نہیں بھجوایا۔ جھوٹ بول بول کر وقت گزارتے رہے، یہاں تک کہ ہماری امید ناامیدی میں بدل گئی۔

امی کے جاننے والے جہلم میں رہتے تھے۔ انہوں نے اپنے طور پر پتا کیا تو معلوم ہوا کہ عادل شاہ کے چچا کسی کو باہر بھیجوانے کا کام نہیں کرتے۔ یہ سب جھوٹ تھا۔ عادل نے ہم کو بے وقوف بنایا تھا، جب کہ میرا بھائی ان پر بھروسہ کر چکا تھا۔ وہ بہت خوش تھا کہ عادل اسے بیرون ملک بھجوا دیں گے، یوں ہمارے دن پھر جائیں گے۔ جب پتا چلا کہ وہ ہم کو بہلا رہے تھے تو بھائی بے حد رنجیدہ ہوا۔میں بھی افسردہ تھی۔ سوچ سوچ کر مری جا رہی تھی کہ اگر مجھ سے شادی نہیں کرنا تھی تو دھوکے میں کیوں رکھا؟ مجھ سے محبت کا کھیل کیوں کھیلا؟ اس وقت تو کہتے تھے گھر والے میری ہر بات مانتے ہیں، مجھ سے ڈرتے ہیں، میں گھر کا بڑا ہوں۔کافی دن گزر گئے۔ میں ناامیدی کے اندھیروں میں گھِر گئی تھی۔ اچانک ایک دن کہنے لگے، زارا میں اپنی امی کو منا لوں گا۔ میں تمہیں چھوڑنا نہیں چاہتا۔ میں پھر مان گئی۔ روز فون پر بات ہونے لگی۔ ایک روز پھر اچانک یہ کہہ کر بجلی گرا دی کہ امی سخت برہم ہیں۔ وہ کسی طرح میری اور تمہاری شادی پر نہیں مان رہیں اور میں اپنی ماں کو ناراض نہیں کر سکتا۔میں سمجھ گئی کہ یہ مجھ سے شادی نہیں کرنا چاہتے مگر انکار کی جرأت بھی نہیں ہے۔ تبھی میں نے کہا کہ آپ میرے گھر سے چلے جائیے۔ میں آپ کو چھوڑنا چاہتی ہوں، اب مجھے مت پریشان کرنا۔ اس کے بعد ایک ماہ تک نہ میں نے فون کیا اور نہ انہوں نے رابطہ کیا۔ایک روز ان کا دوست ہمارے گھر آیا اور کہا کہ آپ لوگوں نے ترک تعلق کر لیا ہے، اس وجہ سے عادل بہت پریشان ہے۔ میں نے اسے بتایا کہ انہوں نے خود شادی پر اصرار کیا، رشتہ طے کیا، پھر والدین کو نہ لائے تو شادی التوا میں پڑتی گئی، مگر خود انہوں نے ہم سے میل جول رکھا اور اب وہ مجھ سے شادی نہیں کرنا چاہتے اس لیے ہم نے میل جول ختم کر دیا۔ شاید ان کو محض وقت گزاری کے لیے میری ضرورت تھی اور میں ایسی لڑکی نہیں۔آپ ان کو کہہ دیجئے گا کہ اگر شادی نہیں کرنا تھی تو ہم سے واسطہ بھی نہ رکھتے۔ میں ایک غریب گھرانے کی یتیم لڑکی ہوں۔ ہم تو مشکلات کا حل پوچھنے ان کے پاس گئے تھے، میری ماں بیچاری ان کے در کے چکر کاٹتی رہیں۔ اب اگر شادی نہیں کر سکتے تو بار بار ہاں نہ والا کھیل ختم کر دیں اور ٹائم پاس کے لیے کوئی اور لڑکی تلاش کر لیں۔اس نے کہا، وہ ایسا نہیں ہے، بس کچھ مجبوریاں ہیں۔ آپ ان کو معاف کر دیں اور اجازت دیں، کل میں ان کو گھر لے آؤں گا، وہ بات کرنا چاہتے ہیں۔اگلے دن عادل شاہ ہمارے گھر آ گئے۔ میں نے بات نہیں کی تو امی سے کہا، آپ میری ماں ہیں، آپ سے ملنے آیا ہوں، مجھے معاف کر دیں۔ ماں کہنے لگیں، بیٹا شادی نصیب کی بات ہے، میں ناراض نہیں ہوں، میں نے معاف کیا۔میری بہن نے ان کو بتایا کہ کل باجی کی سالگرہ ہے۔ جاتے ہوئے وہ اس کو موبائل فون دے گئے کہ یہ میری طرف سے اپنی باجی کو سالگرہ کا تحفہ دے دینا۔ میں مقصد سمجھ گئی۔ گھر کا فون تو کب کا بل نہ ادا کرنے کی وجہ سے کٹ گیا تھا، فون کرنے کے لیے پی سی او جانا پڑتا تھا۔امی نے پھر شاہ جی سے بات کی تو انہوں نے دعوت کے بہانے ان کو گھر بلایا اور ہمیں بھی بلا لیا۔ انہوں نے عادل شاہ سے سوال کیا، تم نے خود مجھ سے زارا کے ساتھ شادی کے لیے درخواست کی، میرے ذریعے رشتہ بھیجا، ان شریف لوگوں نے ہاں کر دی، مگر حسب وعدہ تم والدین کو ان کے گھر نہ لے کر گئے اور ابھی تک انتظار کروا رہے ہو۔ آخر تمہاری منشا کیا ہے؟وہ بولے، کیا کروں شاہ جی، بری طرح پھنس گیا ہوں۔ میں تو ان کی پریشانی کو حل کرنا چاہتا تھا، اس لیے رشتہ طلب کیا، مگر والدہ نہیں مان رہی ہیں۔ وہ اپنی بہن بھانجی کو بہو بنانے پر بضد ہیں اور میں والدہ کو ناراض نہیں کرنا چاہتا۔ سارا معاملہ اس وجہ سے اٹکا ہوا ہے۔ٹھیک ہے، شاہ جی بولے، پھر آج کے آج فیصلہ کر کے بتا دو۔ اٹکائے رکھنا چاہتے ہو یا منع کرنا چاہتے ہو؟ صاف صاف بتا دو۔ والدہ کی تابعداری مطلوب ہے تو رشتہ چھوڑ دو تاکہ یہ انتظار نہ کریں۔اب تو صاف بات کرنا ہی بنی۔ عادل نے کہا کہ سوائے رشتہ چھوڑنے کے اور چارہ نہیں ہے۔ٹھیک ہے، سچ بات کرنا بھلا کام ہے، کم از کم دوسرا دھوکے میں تو نہیں رہتا۔ کہہ دو کہ میں آپ لوگوں کو چھوڑ رہا ہوں۔ تب عادل نے کہہ دیا کہ میں ان لوگوں کو چھوڑ رہا ہوں۔میں نے سنا تو میرا سانس رک گیا۔ میں رو رہی تھی۔ ہم بغیر کھانا کھائے وہاں سے گھر آگئے۔ دو ماہ ناراضی رہی۔ مجھے اس بے حس شخص پر سخت غصہ تھا۔ پہلے رشتے کے لیے اصرار کیا، پھر دھوکا دیا۔میرا ذہن بکھر گیا۔ اب کسی اور کو کیسے قبول کر سکوں گی؟ میرا تو زندگی بھر کا نقصان ہو گیا تھا۔ اب پتا چلا کہ ہر بات میں جھوٹ بولنا اور جھوٹی پوزیشن بنا کر رکھنا اس کی عادت تھی۔ دولت اور جائیداد سب والد کے قبضے میں تھی۔ ایک شادی خفیہ کر کے چھپا رکھی تھی، خالہ کی بیٹی سے بھی منگنی کر رکھی تھی۔ یہ باتیں مجھے اس کے دوست راشد نے بعد میں بتائیں۔
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Back
Top