• 📚 لوو اسٹوری فورم ممبرشپ

    بنیادی ڈیل

    وی آئی پی

    5000
    تین ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    وی آئی پی پلس

    8000
    چھ ماہ کے لیے
    ٹاپ پیکیج
    👑

    پریمیم

    20000
    چھ ماہ کے لیے

Life Story قرضِ حیات ۔۔

Joined
Jun 10, 2025
Messages
938
Reaction score
48,869
Points
93
Location
Karachi
Gender
Male
روزی نے جب تک ہوش نہیں سنبھالا تھا، اُسے جمعرات کے دن چڑھاوے کے بتاشوں کا صبح سے انتظار رہتا تھا۔ پیر صاحب کے مزار پر چڑھنے والے لال پیلے کرن ٹکّے اور گز گز بھر کے کپڑے کے ٹکڑے، جو عقیدت مند بطور چادر چڑھا جاتے تھے، ان کا گھونگھٹ بنا کر وہ اپنے خیال میں بالکل دلہن بن جاتی تھی۔ پھر ایک دن اچانک اس کا ذہن جاگ اٹھا اور وہ بغاوت پر آمادہ ہوگئی۔

محلے کی ایک ہم عمر لڑکی روزی کی بہت پیاری سہیلی تھی۔ روزی کے گھر اکثر لوگوں کے گھروں سے نیاز کے چنے اور دسویں بیسویں کا زردہ پلاؤ آ جاتا تھا، جسے کھاتے وقت وہ اپنی سہیلی کو ضرور یاد رکھتی تھی۔ ایک دن جب شام ہونے کو آئی اور وہ سہیلی نہ گلی کوچے میں ملی اور نہ ہی تالاب کے کنارے نظر آئی، تو روزی نے ماں کی نظر بچا کر ایک رکابی میں تھوڑا سا زردہ نکالا اور کاغذ سے ڈھک کر اس کے گھر پہنچ گئی۔ وہ بیچاری صبح سے بخار میں پڑی تھی۔

روزی نے اس کے قریب جا کر رکابی سے کاغذ ہٹایا اور بڑے پیار سے کہا: “دیکھ! میں دوپہر سے تیرے لیے میٹھے چاول رکھے تجھے ڈھونڈ رہی تھی۔” اسی وقت اس لڑکی کی ماں باورچی خانے سے نکل کر آئی اور غصے سے پوچھا: “روزی! ہاتھ میں کیا ہے؟ کیا کھلا رہی ہے لائبہ کو؟”

“کچھ نہیں خالہ! تھوڑا سا زردہ ہے، لائبہ کو بہت پسند ہے،” روزی نے گھبرا کر کہا۔ “کہاں سے آیا زردہ؟” لائبہ کی ماں نے اور بھی بگڑ کر پوچھا۔ “پتا نہیں، ابا کہیں سے لائے ہیں،” روزی نے ہکلا کر کہا۔

“دیکھ بے شرم! میں پہلے ہی تجھ سے کہتی تھی کہ اس فقیر کی چھوکری کے ساتھ نہ کھیلا کر۔ شیخ ہو کر اب ہماری اوقات یہ رہ گئی ہے کہ مردوں کے نام کا کھانا کھائیں؟” اس مرتبہ لائبہ کی ماں اپنی بیٹی سے مخاطب ہوئی۔ روزی نے حیرت اور کچھ خفگی سے آنکھیں پھاڑیں۔ “ہم کیوں فقیر ہیں؟ کیا ہم سڑک پر بھیک مانگتے ہیں؟”

“تم سے تو سڑک پر بھیک مانگنے والے اچھے ہوتے ہیں۔ تمہاری تو ذات ہی فقیر ہے؛ قبر کھودنے اور مردوں کو نہلانے والوں کے ہاتھ کا چھوا کھانا بھی منع ہے،” لائبہ کی ماں نے بڑی حقارت سے کہا اور روزی کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ اس کے دل کی گہرائیوں سے ایک چیخ اٹھی جو حلق تک پہنچ کر گھٹ گئی۔ شدید ذلت کے احساس نے اس کے ننھے سے وجود کو پارہ پارہ کر دیا اور وہ زردے کی پلیٹ اٹھا کر تیزی سے اپنے گھر کی طرف بھاگی۔ اسے خوف تھا کہ جیسے اس کا کوئی راز کھل گیا ہو اور راستے میں جو بھی اسے دیکھے گا، وہ زور زور سے ‘فقیرنی، فقیرنی’ کہہ کر چلائے گا۔ “لائبہ کی ماں جھوٹی ہے، میں ماں سے جا کر اس کی شکایت کروں گی۔”

ماں سے شکایت کا نتیجہ اور بھی برا نکلا۔ اس کی ماں نے نہ صرف اسے گالیاں دیں بلکہ دو ہاتھ بھی لگائے کہ “تو اس شیخانی کے گھر جا کر کیوں مرتی ہے! جب دیکھو گھر سے کھانا نکال کر ادھر ادھر بانٹتی پھرتی ہے۔” روزی اس وقت تو چپ ہوگئی مگر اس کے دل کی خلش بڑھتی گئی۔ لائبہ کی ماں نے اپنی بیٹی کو مولوی صاحب کے پاس پڑھنے بٹھا دیا، یوں اس کا روزی کے ساتھ گھومنا پھرنا بند ہو گیا۔ روزی نے اس بات کو بھی اپنی ذلت سمجھا اور اسے اپنے ماں باپ کے پیشے اور ان کے وجود سے گھن آنے لگی۔

ایک مرتبہ جب اس کی ماں کئی گھنٹے بعد گاؤں کے ایک گھر سے لوٹی، تو اپنی چادر میں لپٹے ہوئے کپڑوں میں سے ایک پھولدار ریشمی قمیض نکال کر اسے دکھائی۔ یہ قمیض گریبان سے دامن تک چاک تھی۔ ماں نے خوش ہو کر کہا: “کتنی اچھی قمیض ہے! میں بانو کی مشین پر سلوا دوں گی، تم اسے عید پر پہن لینا۔”

روزی کو ایسا لگا جیسے اس کے تلوؤں میں آگ لگ گئی ہو اور شعلے بھڑک کر اس کے سراپا کو جھلسا رہے ہوں۔ اس نے لپک کر ماں کے ہاتھ سے قمیض چھینی اور اسے تار تار کرتے ہوئے چلائی: “میں یہ قمیض پہنوں گی؟ مردے کے اوپر سے اتری ہوئی قمیض کو تو خود کیوں نہیں پہنتی؟ تیرا بس چلے تو مردے کا کفن بھی اتار کر مجھے پہنا دے!”

ماں نے غصے میں چولہے سے آدھی جلی لکڑی اٹھائی اور اسے دھمکایا، تو روزی کے منہ میں جو آیا بکنا شروع کر دیا۔ یوں بھی وہ گاؤں کی عام لڑکیوں کی طرح تڑاخ تڑاخ جواب دیتی تھی، مگر آج وہ اس طرح مقابلے پر آئی کہ ماں کو پلو پھیلا کر اسے کوسنے کے سوا کوئی چارہ نہ رہا۔ وہ جوں جوں بڑی ہوتی گئی، ماں باپ سے جھگڑا کرنے اور بہن بھائیوں کو پیٹنے کا سلسلہ بھی بڑھتا گیا۔ گھر کا ہر فرد اس سے نالاں ہو گیا۔

ایک روز اس کی ماں نے اپنی پڑوسن سے کہا: “اب تم ہی بتاؤ آپا! یہ کمبخت کہتی ہے کہ ہم اپنا کام چھوڑ دیں، تو پھر ہم کیا کریں؟ کیا فاقے کریں؟ جب باپ دادا کے زمانے سے ہم گاؤں کے مردے ٹھکانے لگاتے آئے ہیں، تو کیا اب کام چھوڑ دینے سے ہماری ذات بدل جائے گی؟ یہ رہے گی تو فقیرنی کی فقیرنی ہی، کوئی سید زادی تو نہیں بن جائے گی۔”

روزی کی صورت و شکل بری نہیں تھی، بلکہ عمر کے ساتھ ساتھ اس میں نکھار آ رہا تھا۔ آس پاس کے شہروں اور گاؤں کے برادری والے پیغامات بھی بھیجنے لگے تھے، مگر وہ حیادار لڑکیوں کی طرح خاموش رہنے والی کہاں تھی۔ وہ فقیروں میں بیاہ کر جانے پر کسی طرح آمادہ نہیں تھی، جس کی وجہ سے اس کے ماں باپ پر ایک ایک پل بھاری ہو رہا تھا اور ماں بیٹی میں باقاعدہ دشمنی شروع ہو گئی تھی۔

اسی دوران روزی کی خالہ دوسرے شہر سے آئی، تو ماں نے اسے اپنی پریشانی کا حال سنایا۔ پوری داستان سن کر خالہ نے کہا: “فکر مت کرو، میں خود تجھ سے اس بارے میں بات کرنے والی تھی۔ تجھے تو پتا ہے کہ میرے سسر کے بڑے بھائی بیس سال پہلے اپنا شہر چھوڑ کر گوجرانوالہ جا بسے تھے۔ وہاں کسی کو پتا نہیں کہ وہ کس ذات برادری سے ہیں، لوگ انہیں ‘مرزا جی’ کہتے ہیں۔ مگر شادی بیاہ تو آخر اپنی ہی برادری میں کرنا ہوگا۔ آج کل وہ اپنے پوتے کے لیے رشتہ تلاش کر رہے ہیں، لڑکا چوڑیوں کی فیکٹری میں کام کرتا ہے۔ روزی کے لیے یہ رشتہ بالکل ٹھیک رہے گا۔”

جب خالہ نے روزی کو یقین دلایا کہ گوجرانوالہ میں کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوگی کہ اس کے ماں باپ اپنے گاؤں میں کیا کام کرتے ہیں، تو اس نے شادی کی ہامی بھر لی اور پھر رخصت ہو کر گوجرانوالہ چلی گئی۔ یہ سچ تھا کہ روزی کے سسرال والے شیشے کی فیکٹریوں میں کام کرنے والے مزدور پیشہ لوگ تھے اور کوئی اسے حقارت کی نظر سے نہیں دیکھتا تھا، مگر میکے میں ماں سے لڑ لڑ کر روزی کی زبان کھل چکی تھی اور صبر و برداشت کا مادہ اس کے مزاج میں نہیں رہا تھا۔ اس لیے جلد ہی ساس سے “تُو تُو میں میں” شروع ہوگئی۔

شادی کے سال بھر بعد اس کے ہاں بیٹی پیدا ہوئی اور دوسرے سال بیٹا ہوا۔ ساس کو شکایت تھی کہ روزی محض اپنے بچوں میں لگی رہتی ہے اور گھر کے کاموں میں ہاتھ نہیں بٹاتی۔ روزی کے پاس ان الزامات کا ایک ہی جواب تھا کہ “بڑھیا مجھ سے جلتی ہے”۔

وقت گزرتا گیا۔ اس دوران وہ کئی بار اپنے میکے آئی، مگر یہاں اسے ‘مرزا جی کی بہو’ کے نام سے نہیں پکارا جاتا تھا۔ سب یہی کہتے تھے کہ “شادی شدہ فقیرنی سسرال سے آئی ہے”۔ روزی کو اب بھی ان الفاظ سے گھن آتی تھی، اس لیے وہ دس پندرہ دن سے زیادہ نہ رکتی تھی۔ اس کے دادا سسر تو اس کی شادی کے چند ماہ بعد ہی گزر گئے تھے، مگر جب بس کے ایک حادثے میں اس کے سسر کا بھی انتقال ہو گیا، تو دفعتاً اس کی ساس نے یہ طے کر لیا کہ روزی منحوس ہے اور وہ سب کو کھا رہی ہے۔ اب بڑھیا کا بیشتر وقت اسے کوسنے دینے اور اپنے خاوند کی یاد میں رونے میں گزرتا تھا، جبکہ روزی گلا پھاڑ پھاڑ کر پڑوسیوں کو سناتی کہ “ساس میری چوڑیوں کو دیکھ دیکھ کر جلتی ہے”۔

روزی کا خاوند، منظور، طبیعتاً خاموش مزاج اور صلح پسند تھا؛ پھر اسے بچوں سے بھی بہت محبت تھی۔ بڑا لڑکا تو اس کے ساتھ فیکٹری بھی چلا جاتا تھا اور بیٹی بھی اس قابل ہوگئی تھی کہ جب وہ گھر آئے تو روٹی نکال کر اس کے سامنے رکھ دے۔ اگرچہ چھوٹا بیٹا چھ سال کا ہو گیا تھا، مگر ماں کے لاڈ پیار نے اسے کچھ بگاڑ دیا تھا۔ وہ صبح سے شام گلی کوچوں میں کھیلتا اور گالیاں بکتا پھرتا تھا۔ طرہ یہ کہ سب سے چھوٹی اولاد ایک دائم المریض بیٹی تھی، جو سال بھر کی ہونے کو آئی تھی مگر ہر وقت پلنگ پر پڑی روتی رہتی تھی۔

منظور کے لیے گھر کا ماحول بڑا تکلیف دہ ہو رہا تھا۔ اس نے جب سے کمانا شروع کیا تھا، اپنے باپ کی طرح سارے پیسے ماں کے ہاتھ میں دیتا تھا، مگر سسر کی موت کے بعد روزی نے قیامت ڈھا دی کہ “بڑھیا کو کیا حق ہے اس پیسے کو ہاتھ لگانے کا؟” ماں اور بیوی کی اس جنگ میں منظور کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور ایک دن اس نے لاتوں اور گھونسوں سے روزی کی اچھی طرح مرمت کر دی۔

روزی کے لیے یہ تجربہ بالکل نیا تھا۔ منظور برا بھلا تو کہتا تھا، مگر اس طرح مارتا نہیں تھا۔ پہلے تو روزی نے جی بھر کر ساس کو گالیاں دیں اور پھر میاں کو گھر چھوڑنے کی دھمکی دی۔ جب منظور نے اس کی دھمکی کو کوئی اہمیت نہ دی، تو جوشِ غضب میں روزی نے چاروں بچوں کو ساتھ لیا اور بس میں بیٹھ کر لاہور پہنچ گئی۔ غصے میں وہ یہ بھول گئی کہ “مرزا جی کی بہو” ماں باپ سے ملنے نہیں آئی، بلکہ شادو فقیر کی بیٹی سسرال چھوڑ کر میکے آ پڑی ہے۔

وہاں ماں کا حال دیکھا کہ باپ بیمار رہنے لگا ہے اور اب پھاوڑے چلانا اس کے بس کا کام نہیں رہا۔ جوان بھائی گھر سے بھاگ کر کراچی چلا گیا ہے اور وہاں ٹیلر ماسٹر بن کر نہ کبھی گھر آتا ہے اور نہ ہی مالی امداد کرتا ہے۔ اب تو پیر صاحب کے مزار پر منت مراد کا جو تھوڑا بہت مل جائے، اسی پر گزارا ہوتا تھا۔ ماں نے دو چار دن روزی کا غم سننے کے بجائے اپنا دکھڑا سنانے میں گزارے، پھر یہ بات واضح کر دی کہ اس طرح چار بچے لے کر وہ میکے میں روٹیاں نہیں توڑ سکتی۔ روزی کو احساس ہوا کہ خاوند کا گھر چھوڑ کر اس نے بہت بڑی غلطی کی ہے، مگر کیا وہ اب ذلت اٹھا کر واپس چلی جائے؟

ابھی وہ کوئی فیصلہ بھی نہ کر پائی تھی کہ ایک دن ایک اور قیامت ٹوٹ پڑی۔ اس کی بڑی بیٹی بلو، چھوٹی بچی کو کندھے سے لگائے دوڑتی چلاتی ہوئی گھر میں داخل ہوئی۔ “اماں! اماں! ابا آئے تھے!” “کہاں ہیں وہ؟” روزی نے تڑپ کر پوچھا۔ “وہ تو واپس چلے گئے اور منور کو بھی ساتھ لے گئے۔ ہم سب جہاں بس رکتی ہے وہاں کھیل رہے تھے، تو میں نے دیکھا کہ پیڑ کے نیچے ابا کھڑے ہیں۔ انہوں نے منور کو بلایا اور کہنے لگے کہ میں تجھے لینے آیا ہوں، میرے ساتھ گھر چل۔ میں نے کہا کہ میں بھی گھر جاؤں گی، تو ابا کہنے لگے کہ ‘میں تیری صورت بھی نہیں دیکھنا چاہتا اور اپنی ماں سے کہہ دینا کہ میرے لیے وہ مر چکی ہے۔ اگر اس نے قدم بھی رکھا تو گولی مار دوں گا’۔ اتنے میں بس آگئی اور ابا منور کا ہاتھ پکڑ کر بس میں چڑھ گئے۔”

روزی نے کھڑے کھڑے پچھاڑ کھائی اور دھاڑیں مار کر رونے لگی۔ تب اس کی ماں نے (ہمدردی کے بجائے) طنزاً کہا: “اب میری چھاتی پر مونگ دل! تجھ جیسی کا ان فقیروں میں کیسے گزارا ہوگا؟ تو تو مرزا جی کے محل سے بھی خالی ہاتھ نکل آئی۔ اب کما اور کھلا اپنے ان پلوں کو!”

روزی کی زندگی کا یہ موڑ بڑا کرب ناک تھا۔ اس نے میکے یا سسرال میں کبھی مزدوری نہیں کی تھی اور نہ ہی اسے اس کا ڈھنگ آتا تھا، مگر اب کوئی چارہ بھی نہ تھا؛ چنانچہ اب وہ گاؤں کی عورتوں کے ساتھ محنت مزدوری کے لیے جانے لگی۔ کبھی آلو چننے کا کام ہوتا تو کہیں دھان کی پنیری لگائی جا رہی ہوتی، کسی دن مکئی کی گوڈی ہو رہی ہوتی۔ وہ شام ڈھلے تک کھیت کھلیانوں میں کام کرتی اور جب گھر لوٹتی تو گود کی سوکھی ہوئی بچی کو روتا اور ماں کو چیختے ہوئے پاتی کہ “بلو ڈھینگ کی ڈھینگ ہو گئی ہے مگر اتنی تمیز نہیں کہ بہن کو سنبھال لے۔”

روزی کے بازو دن بھر کی مشقت سے پھوڑے کی طرح دکھتے اور ٹانگیں شل ہو جاتیں۔ اسے یہ بھی دھیان نہیں رہتا تھا کہ بلو سے پوچھے کہ وہ صبح جانے سے پہلے جو پچاس روپے دودھ لانے کو دے گئی تھی، وہ دودھ بچی کے حلق سے اترا بھی یا نہیں۔ وہ مونجھ کی ٹوٹی ہوئی چارپائی پر لیٹتی تو منور کا چہرہ کچھ دیر کو اس کے ذہن پر چھا جاتا۔ پتا نہیں وہ کیسا ہوگا؟ کبھی اپنی ماں کو یاد بھی کرتا ہوگا یا اپنے بابا اور دادی کے ساتھ خوش ہوگا؟ لیکن بچھڑے ہوئے بیٹے کی یاد بھی اس کے ذہن کو دیر تک بیدار نہ رکھ پاتی اور بے ہوشی جیسی نیند اس کے حواس پر چھا جاتی۔

کل جب صبح اس کی آنکھ کھلی تو برابر میں پڑی بچی اس کی طرف پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی۔ روزی کا دل تڑپ گیا۔ اس نے سوچا کہ یہ کمبخت تو ہڈیوں کا ڈھانچا رہ گئی ہے؛ آج شام کو مزدوری ملے گی تو اسے حکیم کو دکھا کر دوا لاؤں گی۔ وہ کئی دن سے زمیندار کے کھلیان میں چنے صاف کر رہی تھی۔ آج کام ختم کر کے شام کو مزدوری ملنا تھی۔ اس نے کندھا ہلا کر بلو کو جگایا: “اٹھ جا! دن چڑھ آیا ہے۔ آج بھولے سے پچاس روپے کا دودھ لے آنا، شام کو آ کر پیسے دے دوں گی، اس وقت نہیں ہیں۔”

تقریباً گیارہ بجے بلو دوڑتی ہوئی کھلیان پہنچی: “اماں! اماں! منی مر گئی۔” روزی نے چنوں سے بھرا ہوا چھبڑا سر سے اتار کر نیچے رکھ دیا۔ “کیا بکتی ہے؟” “میں سچ کہہ رہی ہوں! میں سمجھی تھی کہ سو رہی ہے مگر نانی کہہ رہی ہے کہ مر گئی۔”

روزی خاموش کھڑی ٹکٹکی باندھے خلا میں دیکھ رہی تھی۔ بلو نے اسے جھنجھوڑا: “چل نا اماں! نانی بلا رہی ہے۔” روزی چونکی: “کیا کروں وہاں جا کے؟ میرے پاس تو کفن کے پیسے بھی نہیں ہیں۔”

بچی کی موت نے ایک طرح سے گھر کے ہر فرد کا بوجھ ہلکا کر دیا، مگر روزی کے دل میں غم سے زیادہ غصے کا طوفان ابل پڑا۔ اسے منظور پر غصہ تھا جس نے اس بیمار بچی پر اپنے گھر کا دروازہ بند کر لیا تھا؛ اپنی ماں پر غصہ تھا جو دن رات بچی کو کوسنے دیتی تھی؛ اور اپنے آپ پر تو انتہائی غصہ تھا کہ کام سے لوٹ کر کبھی اس بدنصیب بچی کو گود میں لے کر پیار کرنے کی سکت بھی نہ پاتی تھی۔

جس دن روزی کو مزدوری نہیں ملتی تھی، اس دن وہ سارا وقت بلو اور انوار کو مارتی، اپنی ماں سے لڑتی اور مری ہوئی بچی اور بچھڑے ہوئے منور کو یاد کر کے زور زور سے روتی۔ محلے اور پڑوس والے بھی اس روز روز کے ہنگامے سے نالاں ہو گئے تھے۔

منور کو اس کا باپ لے گیا، چھوٹی بچی کو اللہ پاک نے اس دکھ سے چھٹکارا دلا دیا، بلو کو بھی دن بھر بیمار بہن کو کندھے پر لادنے سے نجات مل گئی اور انوار نے سارے گاؤں میں آوارہ گردی، پتنگ اڑانے اور گولیاں کھیلنے میں وقت گزارنا شروع کر دیا۔ کئی مرتبہ شکایت بھی آئی کہ انوار نے ٹھیلے والوں سے پھل اچک لیے ہیں یا حلوائی کی دکان سے مٹھائی چراتا پکڑا گیا ہے۔ ہر شکایت پر روزی آسمان کی طرف منہ اٹھا کر، پلو پھیلا کر کہتی: “تجھے ڈھائی گھڑی کا ہیضہ آئے! تو مجھے چین سے مرنے بھی نہیں دے گا۔”

روزی کی ماں جہاں جاتی، اس کا رونا لے بیٹھتی: “ہمارے تو نصیب ہی پھوٹ گئے ہیں۔ اپنے کھانے کا ٹھکانہ نہیں، اب اسے کہاں سے کھلائیں؟ اور اس کے لونڈے نے تو ناک ہی کٹوا دی ہے؛ اب اس بڑھاپے میں چوری کا داغ بھی لگ گیا۔”

نظام الدین کی لڑکی، حامدہ، اپنے بھتیجے کے عقیقے میں آئی ہوئی تھی۔ اس نے کہا: “چچی! اس کا دوسرا بیاہ کیوں نہیں کر دیتیں؟ ابھی تو جوان ہے۔” “کون کرے گا اس سے بیاہ؟” روزی کی ماں نے چڑ کر کہا۔ “ہاؤسنگ کالونی میں جہاں ہمارا گھر ہے، وہیں کونے پر ایک پٹواری ہے۔ رہنے والا تو کسی گاؤں کا ہے مگر بہت عرصے سے وہاں دکان چلاتا ہے؛ خوب کمائی ہے۔ وہ خود کسی بیوہ سے نکاح کرنا چاہتا ہے جو روٹی پکا دے۔ پھر ساس نند کا بھی کوئی جھگڑا نہیں، اکیلا ہی رہتا ہے۔” “کون سی برادری سے ہے؟” ماں نے پوچھا۔ “چچی! اب برادری کنبے کو چھوڑو، شہروں میں کوئی نہیں پوچھتا۔ پہلی بیوی اسے چھوڑ گئی ہے، شاید اولاد نہیں تھی۔ میں نے زیادہ تو نہیں سنا مگر آدمی اچھا ہے۔” “اگر اس کا ٹھکانہ ہو جائے تو اللہ کا واسطہ ہے! تم بات چلاؤ اور روزی سے بھی کہہ دو کہ ہمیں بخش دے۔”

روزی کے سامنے جب حامدہ نے یہ بات چھیڑی، تو اس نے رو کر کہا: “آپا! تم مجھے یہاں سے لے جا کر بھاڑ میں بھی جھونک دو تو میں ‘اف’ نہ کروں گی، مگر اب یہاں رہنا دوزخ سے بھی برا ہے۔”

پورا مہینہ بھی نہ گزرا ہوگا کہ روزی نے دوبارہ سرخ جوڑا پہنا اور ہاتھوں میں ہری چوڑیاں سجا کر اپنے نئے خاوند، ایوب، کے ساتھ بس میں سوار ہوگئی۔ بلو اور انوار بھی اس کے ساتھ چلے گئے۔ ایوب پٹواری برا آدمی نہ تھا، وہ روزی کے ساتھ محبت اور فراخ دلی سے پیش آتا تھا، مگر بلو اور انوار کو اپنی اولاد ماننے پر کسی طرح آمادہ نہ تھا۔

بلو کو خود بھی ایوب سے چڑ ہوگئی تھی۔ اسے اپنا باپ منظور (منظور کا نام پہلے آیا تھا) یاد آتا تھا جو کبھی کبھار فیکٹری سے لوٹتے وقت مٹھائی یا پھل لے کر آتا تھا۔ یہ سچ ہے کہ ایوب اب خود زیادہ کھاتا تھا، مگر یہ بھی نہ تھا کہ وہ بیوی کے ساتھ الگ بیٹھ کر کھا پی لے اور بلو محض خالی چھلکے اٹھانے کو رہ جائے۔ یہ بات روزی کو بھی اچھی نہ لگتی تھی، مگر اب وہ کسی قیمت پر بھی خاوند سے جھگڑا کرنے پر آمادہ نہ تھی۔ تپتی دوپہر اور کڑاکے کی صبح میں مزدوری کے تصور ہی سے اس کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے تھے۔ ایوب کسی گاؤں کا رہنے والا تھا اور مہینے میں ایک بار دو چار دن کے لیے اپنے گاؤں جاتا تھا، مگر نہ کبھی اس نے روزی کو ساتھ لے جانے کی خواہش کی اور نہ روزی کو اب کسی گاؤں میں قدم رکھنے کی حسرت تھی۔ اسے آرام سے دو وقت کی روٹی نصیب ہو رہی تھی۔

پورا سال بھی نہ گزرا ہوگا کہ وہ امید سے ہوگئی۔ ایوب کی خوشی کا ٹھکانہ نہ تھا اور بیوی کی خاطر مدارات بڑھ گئی۔ وہ کھٹی میٹھی چیزوں کے علاوہ الائچی بھرے ہوئے پان بھی دکان سے لانے لگا۔ بلو کو سوتیلا باپ تو برا لگتا ہی تھا، اب وہ ماں سے بھی خار کھانے لگی اور جس طرح اس نے ماں کو دادی اور نانی کے ساتھ گالی گلوچ کرتے سنا تھا، خود بھی وہی عمل دہرانے لگی۔ روزی یوں تو ہر اعتبار سے خوش تھی، مگر بلو کی جلی کٹی باتیں اور انوار کی غنڈہ گردی نے اس کا ناطقہ بند کر دیا تھا۔ اسے ایوب سے کچھ کہنے کی ہمت نہ تھی اور اگر وہ بچوں کو مارتی تو وہ چیخ چلا کر سارا محلہ سر پر اٹھا لیتے تھے۔

بچے کی پیدائش کا وقت آیا تو ایوب اسے اسپتال لے گیا۔ ایوب کی ایک رشتہ دار چچی ہاؤسنگ کالونی میں رہتی تھیں، جنہوں نے روزی کو دلہن بنا کر گھر اتارا تھا، وہی زچہ و بچہ کی دیکھ بھال کے لیے اسپتال ساتھ گئیں۔ روزی کا یہ پانچواں بچہ تھا، مگر اس کی پیدائش پچھلے تمام بچوں سے زیادہ تکلیف دہ تھی۔ تین دن تک اذیت میں مبتلا رہنے کے بعد اس نے ایوب کے بیٹے کو جنم دیا۔ ایوب کے پاس اگر ساری دنیا کی دولت آ جاتی تو شاید وہ اس وقت سب لٹا دیتا۔

روزی کو ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ وہ کہیں کی ملکہ ہے اور ایوب اس کا زرخرید غلام۔ اسپتال سے گھر لوٹتے ہی ایوب نے کہہ سن کر چچی کو روک لیا کہ چند دن ہنڈیا روٹی کر دیں۔ روزی نے ٹھنڈے گرم پانی میں ہاتھ تک نہ ڈالا کہ کہیں بچے کو زکام نہ ہو جائے۔ روزی نے نہ پہلے کبھی اتنا اصلی گھی اور میوے کھائے تھے اور نہ کبھی ایسا بالائی والا دودھ پیا تھا جو اس مرتبہ نصیب ہوا۔

بچہ تین چار مہینے کا ہوا تو پھول کر گیند ہو گیا اور روزی پر بھی گوشت چڑھ گیا۔ وہ بے انتہا خوش تھی۔ بچہ بہت خوبصورت تھا اور اسے دیکھتے ہی کھل اٹھتا تھا۔ وہ گھنٹوں اسے گود میں لیے تکتی رہتی تھی۔ جب سے وہ ایوب کے ساتھ ہاؤسنگ کالونی آئی تھی، لوٹ کر کبھی ماں باپ کی دہلیز پر نہیں گئی تھی اور نہ ہی انہوں نے پلٹ کر اس کی خبر لی تھی۔ ایک دن اطلاع پہنچی کہ اس کے باپ کا انتقال ہو گیا ہے۔

“جلدی سے سامان باندھو، دوپہر کی بس سے چلتے ہیں،” ایوب نے کہا۔ روزی جھجکی: “اب جا کر کیا کروں گی؟ بچہ بہت چھوٹا ہے۔” “بچے کا اللہ مالک ہے! دنیا کیا کہے گی کہ باپ کے مرنے پر بھی نہیں آئی؟ تم ساتھ چلو، میں وہاں زیادہ نہیں رکوں گا۔”

“ہاں، ہاں… میں بھی چلوں گا۔ وہ آخر میرے سسر تھے،” روزی نے جلدی جلدی سامان باندھا اور بچوں کو لے کر ایوب کے ساتھ چل دی۔ مرنے والے باپ کا چہرہ یاد آیا تو اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ آٹھ میل دور بس اڈا تھا؛ وہاں سے قصور جانے والی بسیں بھی ملتی تھیں اور واپس ہاؤسنگ کالونی جانے والی بس بھی، جو اس وقت تیار کھڑی تھی۔

ایوب نے کہا: “لاؤ، بچہ میری گود میں دے دو۔ تم سامان لے کر بلو اور انوار کے ساتھ بس میں بیٹھو، میں ٹکٹ خریدتا ہوں۔” روزی نے بلو اور انوار کے ہاتھ میں پوٹلی اور بکس پکڑایا اور خود دیگر سامان لے کر آگے بڑھی۔ سڑک پر اس کے میکے کا ایک نوجوان اسے پہچان کر اس کی طرف بڑھ آیا۔

“ارے روزی! تم اب آ رہی ہو؟ شادو تایا کا گور و کفن تو کل شام ہو گیا۔ تمہارا بھائی تو اب تک نہیں آیا۔ چلو جلدی کرو، بس سیٹی دے رہی ہے!” مسافروں سے کھچا کھچ بھری بس میں وہ بمشکل چڑھ پائی۔ “بھائی! ذرا دیکھنا، میرے میاں بیٹھے ہیں؟ بچہ بھی انہی کے پاس ہے۔”

اتنے میں بس چل دی تھی۔ “تمہارے میاں؟ روزی آپا، میں تو انہیں پہچانتا نہیں۔” “ارے بھیا! ابھی تو میرے ساتھ ہاؤسنگ کالونی سے آئے ہیں، تمہارے سامنے ہی تو ہم بس سے اترے ہیں۔” “روزی آپا! کیا وہ شخص جو چھوٹا بچہ کندھے سے لگائے بس سے اترا تھا، وہی تمہارا میاں تھا؟ مگر وہ تو فوراً ہی ہاؤسنگ کالونی جانے والی دوسری بس میں چڑھ گیا تھا۔” “کہاں ہے وہ بس؟” روزی نے چیخ ماری۔ “وہ بس تو فوراً ہی چل دی تھی، جب آپ اس بس میں بیٹھی تھیں۔” روزی نے وہیں بیٹھے بیٹھے اپنا آپ پیٹ لیا: “یہ کیا ہو گیا اللہ! یہ کیسے ہو گیا؟”

جب وہ گھر میں داخل ہوئی اور بلک بلک کر روتے ہوئے ماں سے لپٹ گئی، تو اس کے ذہن میں مردہ باپ نہیں بلکہ اپنے شیر خوار بچے کا خیال تھا۔ وہ رات اور اس کے بعد کی کتنی ہی راتیں انگاروں پر گزریں۔ صبح کو وہ جنونی کیفیت میں ماں اور بچوں کو بتائے بغیر بس اڈے پر پہنچی اور ہاؤسنگ کالونی کی طرف چل دی۔ وہ اپنی مرضی سے تو باپ کے مرنے پر نہیں آئی تھی، ایوب نے اصرار کیا تھا۔ وہ اس سے محبت کرتا تھا، کوئی لڑائی جھگڑا بھی نہیں تھا، پھر اس نے ایسا کیوں کیا؟

کالونی پہنچی تو دکان بند تھی۔ گھر کے دروازے پر اسی طرح تالا لگا ہوا تھا جیسے وہ کل چھوڑ کر گئی تھی۔ ایوب کہاں گیا؟ بچے کو کہاں لے گیا؟ اب اسے کہاں تلاش کروں؟ اسے پھر ایوب کی رشتہ دار چچی کا خیال آیا؛ وہ رکشہ لے کر وہاں گئی۔ “ارے! تو واپس آ گئی؟” چچی نے اسے دیکھتے ہی کہا۔ “چچی! پتا نہیں وہ میرا بچہ لے کر کہاں چلے گئے۔ گھر پر تو تالا پڑا ہوا ہے۔” “گھر پر بچہ کیا کرے گا؟ وہ تو اسے لے کر اپنے گاؤں چلا گیا ہوگا،” انہوں نے بڑے اطمینان سے کہا۔ “تم مجھے گاؤں کا پتا بتاؤ، میں وہیں چلی جاؤں گی۔” “گاؤں کیا کرنے جائے گی؟ سوکن کی جوتیاں کھانے؟” “سوکن؟ مگر وہ تو اسے برسوں پہلے چھوڑ چکے ہیں!” “ایوب کیا پاگل ہے جو اپنی بیاہتا کو چھوڑ دے گا؟ وہ اس کی خالہ کی بیٹی ہے۔” روزی یہ سن کر دم بخود رہ گئی۔ “مگر وہ بچہ تو میرا ہے!” “تو کیا ایوب کا نہیں ہے؟ اس کی بیوی میں کیا کمی ہے، بس ایک اولاد کی حسرت تھی۔ آخر زمین اور جائیداد کا وارث بھی تو چاہیے ہوتا ہے۔ اللہ نے وہ بھی دے دیا۔” “مگر ایوب میرے بچے کو نہیں چھین سکتا۔ میں مہر کا دعویٰ کروں گی، پورے تین ہزار کا مہر بندھا تھا۔ میں ایوب کو جیل کرا دوں گی!”

“ایوب نے ایسی کچی گولیاں نہیں کھیلیں۔ کیا تو نے اپنے پہلے شوہر سے طلاق لی تھی کہ ایوب سے تیرا نکاح ہوتا؟ جب تو ایوب کی قانونی بیوی ہی نہیں، تو پھر مہر کا دعویٰ کس پر کرے گی؟ بھولی عورت! شکر کر کہ تیرے اور تیرے بچوں کے دو سال چین سے گزر گئے۔ کیسی فاقہ مست آئی تھی اور اب کیسی ہٹی کٹی ہو رہی ہے۔ جا، اب وقت پر اپنے گھر پہنچ اور ادھر کا رخ نہ کرنا،” چچی نے ہنستے ہوئے بڑے طنز سے کہا۔

اس نے چچی کے پاؤں پکڑ لیے مگر اس نے گاؤں کا پتا نہ بتایا۔ جب روزی میکے واپسی کے لیے پلٹی، تو اسے احساس ہوا کہ اپنی ہی لاش کو اپنے بے جان کندھوں پر اٹھانا کتنا اذیت ناک ہوتا ہے۔

لاہور آ کر اس نے ایک زمیندار کے گھرانے میں کھانا پکانے کی نوکری کر لی اور بلو کو بھی ساتھ کام پر لگا لیا۔ انوار حسبِ معمول گلیوں میں آوارہ پھرتا رہتا۔ روزی جب تنہا ہوتی تو اپنے دونوں گم شدہ بیٹوں کو یاد کر کے روتی رہتی۔ وقت گزرتا گیا اور بلو جوان ہو گئی۔ اس کا رشتہ بھی طے ہو گیا، مگر روزی کے پاس کچھ نہ تھا کہ ڈھنگ کا جہیز دے کر اسے رخصت کرتی۔

“روزی! تو نے بلو کے باپ کو بھی شادی کی اطلاع دے دی؟” کسی نے اس سے پوچھا۔ “نہیں، کیا خبر کرتی؟ انہوں نے کبھی پلٹ کر اپنے بچوں کا حال نہیں پوچھا، میرا بیٹا تک مجھ سے چھین لیا،” اس نے ایک سرد آہ بھری۔ “بیوقوفی کی باتیں مت کرو! آخر وہ بلو کا باپ ہے۔ کیا پتا وہ جہیز میں تیری مدد کر دے۔ اگر وہ شادی میں آئے گا تو شاید تیرے بیٹے کو بھی ساتھ لائے گا۔”

اس خیال نے روزی کی رگوں میں نیا خون دوڑا دیا۔ وہ دوڑتی ہوئی منشی جی کے پاس گئی اور منظور کے نام ایک مفصل خط لکھوایا کہ اگر منظور اور منور شادی کے وقت نہ پہنچے، تو بلو کو ڈولی میں بٹھانے والا کوئی نہ ہوگا۔ بارات سے ایک دن پہلے پڑوسی نے آ کر بتایا کہ “منظور بھائی آ گئے ہیں، میں نے انہیں ابھی بس سے اترتے دیکھا ہے”۔ روزی کے منہ سے بے اختیار نکلا: “منور بھی تو آیا ہوگا؟” پڑوسی نے جواب دیا: “یہ تو مجھے معلوم نہیں، مگر منظور بھائی بس کی چھت سے سامان اتار رہے تھے”۔

کچھ ہی دیر بعد منظور پہنچ گیا۔ وہ بیٹی کے لیے مسہری، بستر اور برتن لایا تھا۔ روزی نے کواڑ کی آڑ میں کھڑے ہو کر پوچھا: “کیا تم منور کو ساتھ نہیں لائے؟” “اس کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی، بخار آ گیا تھا،” منظور نے رکتے ہوئے کہا۔ “تو کیا میرے نصیب میں اپنے بچے کی صورت دیکھنا بھی نہیں؟” “نہیں، ایسا کیوں کہتی ہو۔ ذرا بلو کے بیاہ سے نمٹ لو، پھر جی بھر کر منور کو دیکھ لینا۔ آخر وہ تمہاری اولاد ہے۔”

جب بلو اور مہمان رخصت ہو گئے تو روزی کا منظور سے سامنا ہوا۔ منظور نے کہا: “اگر میرا ماننا ہو تو اپنے گھر چلو۔ منور کئی مہینوں سے بیمار ہے۔ اب تو اماں بھی اس دنیا میں نہیں رہیں، بس میں ہی اکیلا کمانے والا ہوں۔ بازار کی روٹیاں کھا کھا کر پیٹ خراب رہتا ہے اور آنکھوں سے دھندلا نظر آنے لگا ہے؛ ڈاکٹر موتیا بتاتے ہیں۔ اگر انوار میری جگہ فیکٹری میں لگ جائے تو میں آپریشن کرا لوں گا۔”

روزی نے ایک لمحہ بھی سوچ بچار نہ کی اور بولی: “کب چلنا ہے یہاں سے؟” پورے راستے وہ منور کا تصور کرتی رہی۔ وہ تو میری صورت بھی بھول چکا ہوگا، میں اسے کیسے پہچانوں گی؟ انیس برسوں میں تو آٹھ نو سال کا کھلنڈر لڑکا بھی جوان بن جاتا ہے۔

منور واقعی ماں کی شکل بھول چکا تھا۔ روزی کو دیکھ کر اس نے تعجب تو کیا مگر خوشی کا اظہار نہ کیا۔ روزی جو منور کو ایک ہٹے کٹے جوان کے طور پر دیکھنے کی منتظر تھی، اس نے ایک لاغر اور کمزور لڑکے کو دیکھا جسے روز بخار آتا تھا اور جو رات بھر کھانستا رہتا تھا۔ وہ جی جان سے منور کی تیمار داری میں جٹ گئی۔ ڈاکٹروں نے ایکسرے کروایا تو معلوم ہوا کہ اسے تپِ دق (ٹی بی) ہو گئی ہے۔

علاج مہنگا تھا اور منظور کی محدود کمائی میں گھر چلانا مشکل تھا۔ روزی کے پاس دو چار چاندی کے زیور تھے جو ایوب نے بیٹے کی پیدائش کی خوشی میں بنوا کر دیے تھے اور جنہیں اس نے برے وقت کے لیے سنبھال رکھا تھا، وہ منور کے علاج کے لیے ایک ایک کر کے فروخت ہو گئے۔ سات آٹھ مہینے وہ دن رات منور کے ساتھ لگی رہی۔ اسے اپنے کھانے پینے اور سونے کا ہوش نہ رہا؛ اکثر جو کھانا منور چھوڑ دیتا، وہی کھا لیتی اور جب وہ سو جاتا تو اس کی پائینتی کی طرف سکڑ کر لیٹ جاتی۔ رفتہ رفتہ منور کی طبیعت سنبھلنے لگی، وزن بڑھ گیا اور چہرے پر رونق آ گئی۔

اسی دوران میکے سے کسی پڑوسی نے اس کی ماں کے انتقال کی خبر دی، مگر وہ منور کو چھوڑ کر نہ جا سکی۔ اب لاہور واپس جانے کا کوئی ارادہ بھی نہ تھا۔ جس دن منور کا نیا ایکسرے دیکھ کر ڈاکٹر نے اسے مکمل صحت مند قرار دیا، روزی نے پورے محلے میں مٹھائی بانٹی، مزار پر چادر چڑھائی اور شکرانے کا روزہ رکھا۔ اس کے بعد یکایک اسے اپنی تھکن کا احساس ہوا اور اس کی اپنی طبیعت گرنے لگی۔

روزی کا خیال تھا کہ اگر بیٹوں کی شادیاں ہو جائیں تو وہ چین سے آرام کر سکے گی۔ منظور نے اس کی رائے سے اتفاق کیا اور نارنگ میں اپنے رشتہ داروں کو فون کیا۔ کمانے والے لڑکوں کے لیے رشتوں کی کیا کمی تھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے دونوں بیٹوں کے لیے دو بہنیں بیاہ لائی گئیں۔ شادی کی تیاریوں اور مہمانوں کی بھاگ دوڑ میں روزی بالکل نڈھال ہو گئی۔ اسے بخار رہنے لگا، مگر نئی دلہنیں آتے ہی چکی چولہا کیسے سنبھالتیں۔ روزی بخار میں جلتے ہوئے بھی دن بھر چولہے کے پاس کھڑی رہتی۔ اسی دوران منظور نے موتیا بند کا آپریشن کروا لیا اور اس کی خدمت بھی روزی کے ذمے آ گئی۔

اسے اپنی حالت پر تعجب ہوتا کہ ذرا سی محنت سے اس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگتا اور چکر آنے لگتے۔ شام سے ہلکا بخار اور رات بھر کھانسی کا دورہ پڑتا۔ وہ سخت گھبرا گئی۔ ستم ظریفی یہ ہوئی کہ منظور کی آنکھوں کا آپریشن بھی بگڑ گیا اور موٹے چشموں کے باوجود اسے دھندلا ہی دکھائی دیتا تھا۔ منور پہلے ہی فیکٹری میں ملازم تھا، اب منظور نے اپنی جگہ انوار کا نام لکھوا دیا، یوں دونوں بیٹوں کی کمائی سے گھر چلنے لگا۔

روزی کی طبیعت کسی طرح نہ سنبھلی تو وہ منظور کے ساتھ اسی ڈاکٹر کے پاس گئی جس نے منور کا علاج کیا تھا۔ ڈاکٹر کو تشخیص میں زیادہ دیر نہ لگی؛ اس نے بتایا کہ روزی کو بھی تپِ دق (ٹی بی) ہو گئی ہے۔ ایکسرے کروانا ہوگا، مگر وہی دوائیں لینی ہوں گی۔ ڈاکٹر نے تاکید کی کہ یہ چھوت کی بیماری ہے، اس لیے مکمل آرام اور پرہیز ضروری ہے؛ غالباً اس نے بیمار بیٹے کی تیمار داری میں احتیاط نہیں کی تھی۔

منظور نے دونوں بیٹوں کو ڈاکٹر کا فیصلہ سنا دیا کہ اب روزی کا باقاعدہ علاج کرانا ہوگا۔ دونوں بیٹے تو خاموش رہے، مگر بہوؤں نے اسی دن روزی کے برتن الگ کر دیے اور گھونگھٹ نکال کر باورچی خانہ خود سنبھال لیا۔ بڑی بہو امید سے تھی، اس لیے منور نے اسے سختی سے ماں کے قریب جانے سے منع کر دیا تھا۔ روزی سہمی ہوئی نظروں سے اپنے بچوں کا یہ بدلا ہوا رویہ دیکھتی رہی۔

ایک دن انوار نے کہا: “ابا! ڈاکٹر کے مطابق یہ چھوت کی بیماری ہے اور اس چھوٹے سے گھر میں پرہیز ممکن نہیں۔ اگر کل کو بھائی نے کچھ الٹا سیدھا کہہ دیا تو گھر میں جھگڑا ہوگا۔ اس سے بہتر ہے کہ اماں آپ کے ساتھ لاہور چلی جائیں۔ وہاں نانی کا گھر خالی ہوگا، وہیں رہ کر علاج کروا لیں۔ ہم لوگ جتنا ہو سکے گا خرچ بھیجتے رہیں گے اور صحت یاب ہو کر یہ واپس آ جائیں۔” روزی کے تو جیسے سارے احساسات ہی ختم ہو چکے تھے؛ اس نے بس اتنا کہا کہ “تم جیسا کہو گے، میں ویسا ہی کروں گی”۔

لاہور پہنچی تو پتا چلا کہ ماں کے انتقال کے بعد بھائی کراچی سے آیا تھا اور گھر بیچ کر واپس چلا گیا تھا۔ اب وہاں کوئی اور آباد تھا۔ آخر کار منظور کو ایک زمیندار کے ہاں چوکیداری کی نوکری اور رہنے کو ایک چھوٹی سی کوٹھری مل گئی، مگر روزی کے علاج کی کوئی صورت پھر بھی نہ بن سکی۔ اب وہ اٹھتے بیٹھتے بس کھانستی رہتی۔ منظور کو نہ تو روٹی پکانی آتی تھی اور نہ ہی اس کی آنکھیں اس قابل تھیں؛ چنانچہ بستی والے ترس کھا کر کھانے پینے میں ان کی مدد کرنے لگے۔

ایک دن منظور نے لجاجت سے کہا: “یہ تمہارا میکہ ہے، یہاں سب لوگ تمہارے باپ بھائیوں جیسے ہیں، وہ تمہیں بھوکا نہیں رکھیں گے اور دواؤں کا بھی کچھ انتظام ہو جائے گا، مگر میں تو یہاں پردیسی ہوں، کب تک مانگ کر کھاؤں گا؟ اس سے بہتر ہے کہ میں بچوں کے پاس چلا جاؤں اور کچھ دنوں میں پیسوں کا انتظام کر کے واپس آ جاؤں۔”

اب روزی کو ہر وقت تیز بخار رہنے لگا۔ دن میں ایک آدھ بار کوئی نہ کوئی آ کر کھانا پانی پوچھ جاتا، مگر اس اندھیری کوٹھری میں کوئی زیادہ دیر نہ ٹھہرتا۔ محلے والے اکثر سوئم اور چالیسویں کا بچا ہوا کھانا اسے دے جاتے۔ ابھی کل ہی ایک پڑوسن اسے چند پرانے کپڑے دے گئی تھی، کیونکہ جو قمیض روزی کئی دنوں سے پہنے ہوئے تھی، وہ جگہ جگہ سے پھٹ چکی تھی۔ بہرحال، وہ خود کو کبھی تنہا نہیں پاتی تھی؛ ماضی کے دھندلے سائے ہر وقت اس کے گرد منڈلاتے رہتے۔ اب اگر کوئی اسے ‘فقیرنی’ بھی کہہ دیتا تو اس پر کیا فرق پڑنا تھا۔

ایک رات بخار کی شدت بہت بڑھ گئی۔ روزی کو یوں لگا جیسے سانس لینا ایک بوجھ بن گیا ہو۔ کوٹھری کی چھت پر نظریں جمائے وہ دیر تک اپنے ماضی کے تمام مناظر دیکھتی رہی؛ بچپن، ماں باپ، ایوب، چھن جانے والے بچے، منور کی بیماری اور بہوؤں کی سرد نظریں، سب ایک ایک کر کے اس کی آنکھوں کے سامنے سے گزر گئے۔ اب نہ کوئی شکوہ رہا نہ شکایت، بس ایک عجیب سی تھکن تھی جو پورے وجود پر چھا گئی تھی۔

صبح جب محلے کی عورت حسبِ معمول کھانا پوچھنے آئی تو روزی خاموش لیٹی تھی۔ اس کے چہرے پر ایک عجب سا سکون تھا، جیسے برسوں کی تھکن اتر گئی ہو۔ یہ خبر آہستہ آہستہ پوری بستی میں پھیل گئی۔ کسی نے کہا: “بیچاری بہت دکھی تھی،” کسی نے کہا: “ماں تھی، سب کے لیے جیتی رہی”۔

نمازِ جنازہ میں چند اجنبی چہرے تھے، کوئی اپنا نہ تھا۔ منور اور انوار کو خبر تو دی گئی، مگر وہ وقت پر نہ پہنچ سکے؛ شاید زندگی کی مجبوریوں نے انہیں بھی وہی کچھ سکھا دیا تھا جو روزی ساری عمر سیکھتی رہی تھی۔ شام کو جب سورج ڈھلا تو وہ کوٹھری پھر ویسی ہی خالی تھی جیسی روزی کی زندگی رہی تھی۔ فرق صرف اتنا تھا کہ اب اس کے دکھ، اس کی قربانیاں اور اس کی خاموش محبت سب مٹی کے حوالے ہو چکے تھے۔

روزی چلی گئی، مگر ماں ہونے کا قرض چکاتے چکاتے وہ یہ سکھا گئی کہ بعض رشتے پہچانے نہیں جاتے، صرف نبھائے جاتے ہیں؛ اور بعض زندگیاں جینے کے لیے نہیں بلکہ صرف سہنے کے لیے ہوتی ہیں۔
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Back
Top