• 📚 لوو اسٹوری فورم ممبرشپ

    بنیادی ڈیل

    وی آئی پی

    5000
    تین ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    وی آئی پی پلس

    8000
    چھ ماہ کے لیے
    ٹاپ پیکیج
    👑

    پریمیم

    20000
    چھ ماہ کے لیے

Life Story معصوم چاہت کا خونی انجام ۔۔۔

Joined
Jun 10, 2025
Messages
934
Reaction score
48,760
Points
93
Location
Karachi
Gender
Male
ابو کا یہی ارادہ تھا کہ وہ میرا رشتہ وصی سے کریں گے۔ یہ بات بچپن سے ہی میرے کانوں میں پڑتی آ رہی تھی۔ اسی لیے جب ہوش سنبھالا، تو دل میں وصی کے خیال کو بسا لیا۔قسمت کی ستم ظریفی کہ انہی دنوں، جب میری منگنی کی رسم کے لیے وصی کے والدین ہمارے گھر آنے والے تھے، امی ایک حادثے میں جاں بحق ہو گئیں۔ وہ منگنی کے سلسلے میں کچھ خریداری کے لیے بازار گئی تھیں۔ واپسی پر جس راستے سے آ رہی تھیں، ایک تیز رفتار بس نے اُن کے رکشے کو ٹکر ماری، رکشہ تو چُور ہوا ہی، میری ماں بھی راہیِ ملکِ عدم ہو گئیں۔میں والدین کی اکلوتی بیٹی تھی، اور پل بھر بھی ان سے جدا نہ ہوئی تھی۔ ایسا دن بھی دیکھنا پڑے گا، کبھی سوچا نہ تھا۔ والد بے چارے بھونچکا رہ گئے کہ گھر کی ویرانی کا ماتم کریں یا بیٹی کی دیکھ بھال کریں۔ ان کی ملازمت ایسی تھی کہ اکثر دوسرے شہر تبادلہ ہو جاتا، اور تین چار ماہ کے لیے گھر سے دور رہنا پڑتا۔ ان دنوں کبھی خالہ، کبھی نانی امی ہمارے پاس آ کر رہتیں۔ والد کی یہی مجبوری تھی، اسی لیے انہوں نے میری خاطر دوبارہ گھر بسا لیا۔ نئی ماں آ گئی۔ جیسی بھی تھیں، ان کے آنے سے میں تنہا تو نہ رہی۔ان دنوں میں میٹرک کے امتحانات دے رہی تھی۔ والد نے دوسری شادی کی، اور مجھے سوتیلی ماں کے سپرد کر دیا۔ یہ کہہ کر کہ: یہ میری امانت ہے، اور تھوڑے ہی عرصے کی مہمان ہے۔ اس کا بہت خیال رکھنا۔ میں تمہاری سب کوتاہیاں برداشت کر لوں گا، مگر فلزا کی دل آزاری برداشت نہیں کروں گا۔والد کی یہ تنبیہ سوتیلی ماں نے دل پر لکھ لی۔ بظاہر تو وہ میرے ساتھ اچھے انداز میں پیش آتیں، مگر درپردہ یہ چاہتی تھیں کہ گھر کے سارے کاموں کا بوجھ مجھ پر ڈال دیا جائے۔ اسکول سے آ کر تھوڑا آرام کرتی تو فوراً کسی نہ کسی کام پر لگا دیتیں۔ اس معاملے میں والد بھی خاموش رہتے۔ وہ چاہتے تھے کہ میں گھریلو کام کاج سیکھ لوں، کیونکہ آنے والے دنوں میں یہی ہنر سسرال میں کام آئے گا، جبکہ میری سگی ماں تو مجھے کبھی کسی کام کو ہاتھ نہ لگانے دیتی تھیں۔یہ ماں بظاہر حسنِ سلوک میں بہتر تھیں، مگر ان کو میری اور خاص طور پر وصی کی بالکل پسند نہیں تھی۔ بہت جلد انہوں نے وصی اور اس کی ماں سے تعلقات خراب کر لیے، جس پر چچا نے ان سے تلخ لہجے میں بات کی۔ مگر ابا تو اپنی نویلی دلہن کے سحر میں آ چکے تھے، سو بھائیوں میں ناچاقی ہو گئی۔ دونوں نے آپس میں بات چیت بند کر دی۔ اس طرح وصی کو بھی قدسیہ اماں (میری سوتیلی ماں) نے ہمارے گھر آنے سے روک دیا۔میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ ایسا دن بھی آئے گا جب ہم ایک دوسرے کی ایک جھلک کو ترس جائیں گے۔ امی زندہ تھیں تو روز وصی کا ہمارے گھر آنا معمول تھا۔ وہ خاص طور پر اس کے لیے کھانا بناتیں، بہت پیار کرتی تھیں۔ ان کا کوئی بیٹا نہیں تھا، سو وصی کو ہی بیٹا جانتی تھیں۔ بچپن سے ہی وصی اور میری ماں کی گاڑھی چھنتی تھی۔لیکن ابا کی نئی بیوی نے نہ صرف وصی اور اس کی ماں کو ذہنی طور پر قبول نہ کیا، بلکہ ان کا ہمارے گھر آنا بھی نحوست سمجھنے لگیں۔ بالآخر ایسی خلیج پیدا ہوئی کہ ہمارا ناتہ ہی ٹوٹ گیا۔میں اور وصی چند دن بہت پریشان رہے، پھر ہم نے ان رکاوٹوں کو دور کرنے کا طریقہ سوچنا شروع کیا۔ میں نے کالج میں داخلہ لے لیا تھا۔ اب ہم دونوں اپنے اپنے کالج سے چھٹی کرتے اور باہر ملاقات کر لیتے۔ اس کے سوا ہمارے پاس کوئی اور راستہ نہ تھا۔یہ بات کالج کی پرنسپل کو معلوم ہو گئی۔ انہوں نے ماں کو بلا کر میری شکایت کر دی۔ چھوٹے شہروں میں بات جلدی پھیلتی ہے، اور عزت کا مسئلہ سنگین صورت اختیار کر لیتا ہے۔ سوتیلی ماں نے یہ بات والد کو بتائی، تو انہیں بہت ہتک محسوس ہوئی، اور انہوں نے مجھے کالج سے اٹھا لیا۔ حالانکہ میں نے بہت منت سماجت کے بعد ہی کالج میں داخلہ لیا تھا۔ کالج چھوٹ جانے کا مجھے بہت قلق ہوا۔ لیکن اس سے زیادہ دکھ اس بات کا تھا کہ وصی سے ملاقات کا راستہ بند ہو گیا تھا۔بتاتی چلوں کہ ہمارا اور چچا کا گھر ساتھ ساتھ تھا۔ وصی اکثر اپنے گھر کی چھت پر آ کر کھڑا رہتا کہ میں آنگن میں نکلوں تو مجھے دیکھ سکے، لیکن ماں کی مجھ پر سخت نگاہ رہتی۔ وہ مجھے اکیلے چھت پر بھی جانے نہ دیتی تھیں۔ ان کی سختی کے باعث وصی کو اپنی تائی (میری سوتیلی ماں) سے نفرت ہو گئی، اور میں بھی قدسیہ اماں کو ناپسند کرنے لگی۔ایک دن قدسیہ اماں کی خالہ فوت ہو گئیں، اور انہیں اچانک ہی گھر سے جانا پڑا۔ تب وصی کو مجھ سے بات کرنے کا موقع ملا۔ اس نے کہا:تم ہمت کرو، ورنہ یہ عورت ہمیں ہمیشہ کے لیے ایک دوسرے سے جدا کر دے گی۔میں نے کہا: میں کیا ہمت کروں؟ کیا کر سکتی ہوں آخر؟ جبکہ ان لوگوں نے ابو کو بھی اپنے حق میں کر لیا ہے۔دراصل، یہ میری شادی اپنے پہلے شوہر کے بیٹے انعام سے کروانا چاہتی ہیں، جو اپنے دادا دادی کے ساتھ رہتا ہے۔ ان کو ابو کے مکان اور جائیداد کا لالچ ہے، جس کی میں واحد وارث ہوں۔ اسی وجہ سے انہوں نے وصی سے جان بوجھ کر بگاڑ پیدا کیا ہے۔یہ بات سن کر وصی کو اور بھی غصہ آیا۔ کہنے لگا کہ جب تایا شہر سے باہر کی ڈیوٹی پر ہوں، تم چھت پر آ کر مجھ سے ملو۔ قدسیہ اماں کو نیند کی گولی کھلا دینا، ہم دونوں مل کر سوچتے ہیں اور اس سانپ کو اپنے درمیان سے ہٹانے کی کوئی ترکیب کرتے ہیں۔ میں نے سمجھا کہ اس کی بات کا مطلب یہ ہے کہ ہم کوئی تدبیر کر کے اپنے باپوں کو صلح پر راضی کریں گے۔اب جب ابا ڈیوٹی پر رات کو گھر سے باہر ہوتے، میں سوتیلی ماں کو گہری نیند میں چھوڑ کر آدھی رات کو چھت پر چلی جاتی۔ اس طرح میری اور وصی کی کئی ملاقاتیں ہوئیں۔ ہمارے گھروں میں ایک ہی عورت کام کرتی تھی جس کا نام زلیخا مائی تھا۔ وصی نے اسے روپے پیسے سے رام کر کے مجھے اور خود کو آپس میں جوڑنے والا پیامبر بنا لیا تھا۔ جب کچھ کہنا ہوتا، وہ پرچے پر لکھ کر زلیخا مائی کو دے دیتا، جو ہمارے گھر برتن دھونے آتی۔ وہ پرچہ چپکے سے مجھے تھما دیتی۔ یوں ہمارا رابطہ قائم تھا۔ان دنوں موبائل فون تو کیا، ہمارے شہر میں عام ٹیلیفون کا نظام بھی صرف ڈاک خانے یا چند اہم مقامات تک محدود تھا۔

ایک رات اماں کی آنکھ کھل گئی۔ آدھی رات کو جب بستر پر مجھے نہ پایا، تو وہ مجھے گھر میں تلاش کرنے لگیں۔ ان کے قدموں کی آہٹ نے ہمیں چوکنا کر دیا۔ وہ دبے قدموں زینے پر پہنچیں اور جب وہ غسل خانے میں مجھے تلاش کر رہی تھیں، میں چپکے سے نیچے اتر کر اس کمرے میں چلی گئی جہاں ابا اپنا دفتری سامان رکھتے تھے، اور وہاں صوفے پر لیٹ گئی۔ماں کو جب کہیں بھی میں نہ ملی، تو انہوں نے مجھے پکارا۔ وہ چھت پر بھی جا چکی تھیں۔ انہیں یہ خیال نہ آیا کہ میں آدھی رات کو ابا کے دفتری کمرے میں جا کر لیٹ سکتی ہوں، کیونکہ دن میں بھی اس کمرے میں ابا کے سوا کوئی نہ جاتا تھا۔ماں کی مسلسل پکار پر میں نے اس کمرے سے آواز دی کہ میں یہاں ہوں، آپ کیوں اس طرح پکار رہی ہیں؟ وہ اندر آئیں، بتی جلائی اور بولیں کہ تم یہاں کیوں پڑی ہو؟ اس کمرے میں تمہارا کیا کام؟ کیا یہ جگہ سونے کی ہے؟ ہر طرف تو کاغذ اور فائلیں بکھری ہوئی ہیں۔ آخر اس وقت یہاں آ کر لیٹنے کی کیا سمجھ آئی تمہیں؟روہانسی ہو کر میں نے کہا کہ اماں، آپ کو معلوم ہے کہ مچھر مجھے بہت کاٹتے ہیں، اور آپ روزانہ کمروں کی کھڑکیاں تازہ ہوا کے لیے کھول دیتی ہیں مگر شام کو انہیں بند کرنا بھول جاتی ہیں، تو کمرے میں مچھر بھر جاتے ہیں۔ ساری رات نیند نہیں آتی، کروٹیں بدلتی رہتی ہوں، کھجاتی رہتی ہوں، بہت تکلیف ہوتی ہے۔ جانے آپ کو کیسے نیند آ جاتی ہے۔ اگر پنکھا چلا لیتیں تو مچھر نہ کاٹتے۔ آپ کو ہی تو پنکھے سے سردی لگتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اچھا، آئندہ ادھر مت سونا۔ چلو، اب اٹھو اس اجاڑ کمرے سے اور میرے کمرے میں آ کر سو جاؤ۔ میں پنکھا چلا دیتی ہوں اور خود چادر لپیٹ لوں گی، تم بھی چادر اوڑھ لینا۔میں بڑبڑاتی ہوئی ان کے پیچھے ہو لی۔ وہ بولیں کہ آج تو میرے کمرے میں سو جاؤ، کل اپنے کمرے میں سونا اور کمرہ بند رکھنا۔ تم کو اگر تازہ ہوا نہ ملے تو نہ سہی، اجاڑ کمروں میں سونے سے جن بھوت غالب آ جاتے ہیں۔ انہوں نے مجھے اپنے تئیں ڈرایا، مگر میں جانتی تھی کہ وہ مجھ پر مشکوک ہو چکی ہیں اور اب وصی کی وجہ سے پہرہ دینے لگی ہیں۔جب میری دوبارہ وصی سے چھت پر ملاقات ہوئی، میں نے اسے بتایا کہ اماں پر اب نیند کی گولی بھی اثر نہیں کرتی۔ وہ بہت چوکنی ہو گئی ہیں، ہوشیار نیند سوتی ہیں۔ یہ ہماری آخری ملاقات سمجھو۔ آج کے بعد رات کو چھت پر آ کر تم سے ملنا ممکن نہیں۔یہ بات سن کر وہ بہت پریشان ہو گیا۔ کہنے لگا کہ یہ عورت تو واقعی ہمارے درمیان ایک ایسی دیوار بن چکی ہے جو کبھی گرنے والی نہیں۔ اب اس کا کوئی نہ کوئی حل سوچنا پڑے گا۔ میں سمجھ گئی کہ وہ میری سوتیلی ماں سے شدید نفرت کے عالم میں سوچ رہا ہے۔ اس کے ذہن میں یہ خدشہ بھی میں نے ہی ڈالا تھا کہ ماں میری شادی اپنے بھتیجے انعام سے کروانے والی ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ انعام تو کبھی کبھار ہی ہماری طرف آتا تھا، وہ بھی والد کی اجازت سے۔

اصل قصہ یہ تھا کہ جب قدسیہ اماں بیوہ ہوئیں، وہ ایک بیٹے اور ایک بیٹی کی ماں تھیں۔ ان کے بھائیوں نے ان کے بچے اپنے مرحوم بہنوئی کے والدین کے حوالے کر دیے اور بہن کو اپنے ساتھ گھر لے آئے۔ کچھ عرصے بعد جب میری سگی ماں کا انتقال ہو گیا، تو ان کی شادی میرے والد سے کر دی گئی۔ شادی کے وقت انہوں نے شرط رکھی تھی کہ ان کو اپنے بچوں سے ملنے کی اجازت ہوگی۔ چنانچہ وہ اپنی بیٹی سے ملنے بھائی کے گھر جاتیں، اور بیٹا یعنی انعام کبھی کبھار ان سے ملنے ہمارے گھر آتا۔جب وہ آتا، تو میں اس کے سامنے بھی نہ جاتی، کیونکہ یہ ابا کا حکم تھا۔قدسیہ اماں کی سختی اور وصی سے ملنے پر پابندی کے باعث میرے ذہن نے خود ہی یہ کہانی گڑھ لی کہ وہ شاید مکان کی خاطر میری شادی انعام سے کروانا چاہتی ہیں۔ یہ خودساختہ خیال میں نے وصی کے گوش گزار کر دیا، اور اس نے اسے سچ مان لیا۔جس رات اماں نے مجھے بستر پر نہ پا کر پورے گھر میں تلاش کیا، اس کے بعد میں صرف ایک بار ہی وصی سے رات کو چھت پر ملی۔ پھر کئی دنوں تک ہم نہ ملے۔ میں خاموش ہو بیٹھی اور وہ بھی خاموشی کی آگ میں جلتا رہا۔ایک دن اس نے زلیخا مائی کے ہاتھ ایک پرچہ بھجوایا، جس پر لکھا تھا کہ آج رات دو بجے چھت پر آ جانا، تم سے ضروری بات کرنی ہے۔ابا ڈیوٹی پر گئے ہوئے تھے، اور ماں گہری نیند سو رہی تھیں، کیونکہ آج میں نے ان کو نیند کی چار گولیاں دودھ میں ڈال کر دے دی تھیں۔ یہ وصی کی ہدایت تھی۔ میں بھی نہیں چاہتی تھی کہ وہ نیند سے اٹھ جائیں اور مجھے نہ پا کر شور مچائیں۔نیند کی چار گولیاں دینا، گویا بقول وصی، ہمارے مسئلے کا پکا حل تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ جو رقیب بن کر ہمیں ملنے نہ دے، اسے گہری نیند سلا دینا چاہیے۔ میں چھت پر آئی تو وہ بولا: آج سے تایا کی دوسرے شہر ڈیوٹی ہے۔ تم ایسا کرو کہ بیرونی دروازے کی کنڈی اندر سے کھول دو۔ چھت پر سردی زیادہ ہوتی ہے، آج ہم کمرے میں بیٹھ کر آرام سے بات کریں گے کیونکہ تمہاری اماں قدسیہ اب تو گہری نیند سو رہی ہوں گی۔ ہم صبح تک باتیں کر سکتے ہیں، کسی کا خوف بھی نہیں ہو گا۔ پھر وہ خوشی سے بولا: آج میں تمہیں ایک خوشخبری سنانے والا ہوں، میری ترقی ہو گئی ہے اور تنخواہ بھی بڑھ گئی ہے۔اس کی ہدایت کے مطابق میں صحن میں آئی اور بیرونی دروازے کی کنڈی کھول دی۔ وہ ہمارے زینے سے چڑھ کر، اپنے گھر کے دروازے سے ہمارے گھر میں داخل ہو گیا۔وہ دوسرے کمرے میں آ کر آرام سے بیٹھ گیا اور ہم نے بے فکری سے باتیں کیں۔ اس نے مجھے اپنے ہاتھوں سے مٹھائی کھلائی اور صبح اذان سے پہلے واپس چلا گیا۔سردیوں کا آغاز ہو چکا تھا اور چھت پر رات کو سردی بہت زیادہ محسوس ہونے لگی تھی۔ چنانچہ جب ابا کی دو تین ماہ کی ڈیوٹی دوسرے شہر ہوتی، ہم قدسیہ اماں کو نیند کی گولیاں دے کر گہری نیند سلا دیتے اور پھر بے فکری سے کمرے میں ملاقات کرتے۔جب تک اماں چار گولیاں کھا کر گہری نیند سوتی رہیں، ہماری ملاقاتیں یونہی چلتی رہیں۔ لیکن کچھ عرصے بعد گولیوں نے اثر کرنا چھوڑ دیا۔ کیا خبر وہ جعلی تھیں یا اصلی، بہرحال ایک رات چار گولیوں نے بھی اثر نہ کیا۔ وہ آدھی رات کو اٹھ گئیں۔ خیر یہ ہوا کہ ان پر نیند کا غلبہ ابھی باقی تھا۔ وہ غسل خانے گئیں اور پھر دوبارہ اپنے بستر پر آ کر سو گئیں۔ انہوں نے یہ جانچنے کی زحمت نہیں کی کہ میں بستر پر ہوں یا نہیں۔ہم نے ان کو غسل خانے جاتے دیکھ لیا اور دم سادھ کر بیٹھے رہے۔ دل ہی دل میں دعائیں مانگیں کہ یااللہ، آج رنگے ہاتھوں نہ پکڑے جائیں۔ وہ رات خیریت سے گزر گئی۔اماں نے ایک بلی بھی پال رکھی تھی۔ وہ روزانہ اپنے گلاس سے تھوڑا دودھ بلی کی پیالی میں ڈال دیتیں، جس سے وہ بھی گہری نیند سوجاتی، اور اماں بھی۔جس رات ان کی آنکھ کھلی، اس رات انہوں نے خود دودھ نہیں پیا بلکہ صرف بلی کے لیے رکھ دیا۔ لیکن اتفاق سے وہ اس کی پیالی میں دودھ ڈالنا بھی بھول گئیں۔ وہ بستر پر لیٹتے ہی سو گئیں، مگر پھر آدھی رات کو جاگ گئیں۔ تب ہمیں اندازہ ہوا کہ اب چار گولیاں بھی بے اثر ہو چکی ہیں۔اگلی رات میں نے مقدار بڑھا دی۔ وہ دل کی مریضہ تھیں۔ گولیوں کی زیادہ مقدار کا اثر ان کے لیے جان لیوا ثابت ہوا۔ رات کے کسی پہر ان کی حرکتِ قلب بند ہو گئی۔ میرا مقصد ان کی جان لینا ہرگز نہ تھا۔میں تو یہی سمجھتی رہی کہ وہ گہری نیند سو رہی ہیں۔ کیا معلوم تھا کہ وہ ابدی نیند سو چکی ہیں۔

اس رات ہم جاگتے رہے اور صبح میری آنکھ کافی دیر سے کھلی۔ زلیخا مائی نے مجھے جگایا۔ کہنے لگی:بی بی، کیا ہوا؟ گیارہ بج رہے ہیں اور آپ دونوں ماں بیٹی دن چڑھے سورہی ہیں۔ میں نے بڑی آپا کو آواز دی، جواب نہ ملا، تو آپ کی طرف آ گئی۔میں ہڑبڑا کر اٹھی اور کہا:میں تو تمہاری آواز سے ہی جاگ گئی ہوں، مگر تم گھر میں آئی کیسے؟زلیخا بولی:آپ کا بیرونی دروازہ کھلا ہوا تھا۔میں نے چونک کر کہا:اچھا؟… اماں کو دیکھتی ہوں۔اماں کے کمرے میں گئی۔ وہ تو کب کی سو چکی تھیں۔ میں نے سوچا کہ آج رات کی زیادہ مقدار کی وجہ سے شاید ابھی تک گہری نیند میں ہوں گی۔ میں نے زلیخا سے کہا:آج تم کام پر مت آؤ، اماں جاگ گئیں تو ان کو درد اٹھے گا۔ رات کو اچانک ان کے پتے میں درد شروع ہو گیا تھا، پوری رات نہ خود سوئیں نہ مجھے سونے دیا۔ اب جا کر آنکھ لگی ہے۔ بہتر ہے کہ تم کل آنا۔میں نے ایک پرچہ بھی لکھ کر زلیخا کو دیا، تاکہ وہ وصی کو دے دے۔پرچے میں لکھا تھا:وصی! کل میں نے اماں کو گہری نیند سلانے کے لیے جو گولیاں دی تھیں، وہ شاید کچھ زیادہ ہو گئی تھیں۔ وہ ابھی تک بے ہوش پڑی ہیں۔ تم آ کر ایک بار دیکھ لو۔گھر میں میں اکیلی تھی، وہ فوراً آ گیا۔ ہم اماں کے کمرے میں گئے۔ اس نے انہیں ہلا کر دیکھا، ناک پر ہاتھ رکھا، نبض ٹٹولی اور بولا:کچھ نہیں، گولیوں کے نشے کا اثر ہے۔ تھوڑا سا اور دیکھ لیتے ہیں، ہو سکتا ہے چند گھنٹے میں ہوش آ جائے۔پھر وہ مجھے ڈانٹتے ہوئے بولا:بے وقوف ہو فلزا! تم نے انہیں اتنی زیادہ گولیاں کیوں دے دیں؟ اچھا، میں بعد میں دوبارہ آؤں گا۔ فکر نہ کرو، ابھی صرف بے ہوش ہیںوہ چلا گیا، مگر مجھے چین نہیں آ رہا تھا۔ دل میں عجیب بے چینی تھی۔ اچانک خیال آیا کہ اماں کی پالتو بلی نظر نہیں آ رہی۔ میں نے اپنے لیے چائے بنائی، ناشتہ کیا اور پھر بلی کو دیکھنے نکل پڑی تاکہ اس کو کھانا ڈال دوں۔ اماں جاگیں گی تو خفا ہوں گی کہ بلی کو کھانا کیوں نہ دیا۔ہمارے گھر کے ساتھ ایک حصہ مرغیوں اور بکریوں کے لیے مخصوص تھا۔ یہ عقبی صحن تھا، جس کا فرش کچا تھا،اور ہم اسے “کچا” ہی کہتے تھے۔بلی کی تلاش میں میں کچے کی طرف گئی۔ وہاں کاٹھ کباڑ رکھا ہوتا تھا اور چوہوں کی موجودگی کے باعث بلی اکثر وہیں رہتی تھی۔ میں نے اسے پکارا، مگر وہ نظر نہ آئی۔ جہاں ہوتی، بلانے پر فوراً آ جاتی تھی۔میں نے جھک کر کاٹھ کباڑ میں دیکھا تو وہ مجھے وہیں مردہ حالت میں ملی۔ میں نے لکڑی سے ہلایا، مگر وہ ساکت پڑی تھی۔ وہ مر چکی تھی۔اب مجھے یقین ہو گیا کہ جو گولیاں وصی نے لا کر دی تھیں، وہ بہت طاقتور تھیں۔ شاید وہ اصلی نیند کی گولیاں نہیں بلکہ نشہ آور یا زہریلی گولیاں تھیں، کیونکہ ان کا دودھ پینے کے بعد اماں اور ان کی بلی دونوں ہمیشہ کی نیند سو چکے تھے۔

شام کو وصی آیا، اماں کو دیکھا اور مجھ سے کہا کہ ابھی تک بے ہوش ہیں، تھوڑی دیر میں ڈاکٹر کو لے کر آتا ہوں۔ اس دوران اگر کوئی آ جائے اور اماں کا پوچھے تو کہنا کہ طبیعت خراب ہے، سو رہی ہیں۔ لیکن رات کے بارہ بج گئے اور وہ نہ آیا۔ میرا دل گھبرانے لگا۔ دوبارہ قدسیہ اماں کے پاس گئی، پکارا، ہلایا، جھنجھوڑا، مگر وہ ہوتیں تو جواب دیتیں۔ مجھے یقین ہو گیا کہ اماں مر چکی ہیں۔ میں رونے لگی، مگر منہ پر دوپٹہ رکھ کر، دھیمی آواز میں، تاکہ کسی کو خبر نہ ہو۔ رات کا ایک بج رہا تھا کہ دروازے پر کھڑکا ہوا۔ میرے کان دروازے پر لگے تھے، وصی کے انتظار اور خوف سے برا حال تھا۔ دروازہ کھولا تو وصی سامنے کھڑا تھا۔ اس نے کہا کہ کمرے میں چلی جاؤ، کنڈی اندر سے لگا لو اور جب تک میں نہ کہوں، باہر مت آنا۔ کہنے لگا وہ ڈاکٹر کو دکھا لے جائے گا اور ساتھ ہی اپنے دوستوں کے ساتھ اماں کو اسپتال لے جائے گا، تم ان کے سامنے مت آنا۔ میں کمرے میں چلی گئی اور کنڈی لگا لی۔ وہ اپنے ساتھیوں کو لے آیا۔ ان کے پاس کدالیں تھیں۔ وہ اماں کے کمرے میں گئے، سب نے مل کر ان کو اٹھایا اور کچے صحن میں لے گئے۔ تجسس کے مارے دروازہ کھولا اور جھانکا تو وہ لوگ گڑھا کھود رہے تھے۔ سمجھ گئی کہ وصی اماں کو گھر کے اندر ہی دفنا رہا ہے۔ بمشکل واپس کمرے میں آئی، جسم کانپ رہا تھا، بستر پر گر کر بے ہوش ہو گئی۔خدا جانے وصی نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ وہ کام کب مکمل کیا۔ صبح ہونے سے پہلے وہ سب گھر سے نکل گئے۔ وصی جاتے جاتے گھر کی کنڈی بھی اندر سے بند نہ کر گیا، خود چھت کے راستے اپنے گھر چلا گیا۔ صبح آنکھ کھلی تو خوف کے مارے بستر سے اٹھنے کی ہمت نہ ہوئی۔ اماں کے کمرے میں جھانکا، بستر خالی تھا۔ میں جان چکی تھی کہ انہیں دفنا دیا گیا ہے۔ اسی لمحے دروازے پر زلیخا مائی آئی، کہنے لگی کب سے دروازہ بجا رہی ہوں۔ میں نے بہانہ کیا کہ غسل خانے میں تھی، اماں کی طبیعت خراب تھی، رات کو ابا آ گئے اور ان کو اسپتال لے گئے۔ زلیخا نے کہا کہ اللہ شفا دے، تم اکیلی کیسے رہو گی؟ میں نے کہا کہ ابا کہہ گئے ہیں کہ خالہ کو بلا لاؤ، وہ آ جائیں گی۔ زلیخا چلی گئی۔ سہ پہر کو خالہ آ گئیں، بولیں بیٹی تم میرے ساتھ میرے گھر چلو، میں چچی کو بتا دیتی ہوں، گھر کو تالا لگا دیں گے۔ میں نے کہا آپ یہاں رک جائیں، لیکن وہ بولیں کہ خالو کی طبیعت خراب ہے، وہاں سے نہیں ہٹ سکتی۔ میں نے بات مان لی۔ خالہ نے چچی کو اطلاع دے دی، گھر بند کر کے چابی ان کے پاس رکھ دی گئی۔ کچھ دن گھر بند رہا، میرا دل بھی بند ہوتا جا رہا تھا۔ وصی اگلے دن ہی شہر سے غائب ہو گیا۔ ابا آئے، گھر بند پایا تو بھائی کے گھر گئے، چچی نے وہی بتایا جو خالہ نے کہا تھا۔ ابا خالہ کے گھر آئے، مجھ سے پوچھا تو میں نے جھوٹ بولا کہ ایک دن ماں سو کر اٹھیں نہیں، انتظار کیا، پھر خالہ کو بلوایا، اور اماں کے آپریشن کا جھوٹ اس لیے گھڑ لیا کہ لوگ کچھ غلط نہ سمجھیں۔ ابا فکر مند ہو گئے، قدسیہ اماں کے میکے گئے، انعام کو بلایا مگر کسی کو کچھ علم نہ تھا۔ اب سوائے پولیس رپورٹ کے کوئی چارہ نہ تھا۔ پولیس نے تفتیش کی، کچے صحن میں ایک جگہ مٹی نرم ملی، کھدائی کی تو چند انچ نیچے قدسیہ اماں کی لاش برآمد ہو گئی۔

ابھی تفتیش جاری تھی کہ جہاں جا کر وصی چھپا تھا، اس کے دوست نے آکر میرے والد سے رابطہ کیا اور ان کو بتا دیا کہ تمہارا بھتیجا اپنی چچی کو تمہارے کچے صحن میں دفن کر آیا ہے کیونکہ غلطی سے آپ کی بیٹی نے انہیں پتے کے درد کے دوران کوئی ایسی دوا دے دی تھی جو وہ برداشت نہ کر سکیں اور جاں بحق ہو گئیں۔ تب آپ کی بیٹی ڈر گئی اور وصی کو بلا کر ماجرا بتایا۔ وصی نے اس خوف سے کہ قتل کا الزام فلزا پر نہ آ جائے، قدسیہ اماں کی لاش کو صحن میں دفن کرا دیا اور میرے پاس آ گیا۔ وہ بہت پریشان ہے۔ اس نے مجھے بھیجا ہے تاکہ آپ کو ساری بات سے آگاہ کر دوں، اب آپ جو مناسب سمجھیں، کریں۔ابا جانتے تھے کہ فلزا قتل نہیں کر سکتی، ممکن ہے غلط مقدار میں دوا دے دی ہو۔ کیونکہ جب قدسیہ اماں کے پتے میں درد ہوتا تو ان کو شدید تکلیف ہوتی تھی، وہ دوا میرے ہاتھ سے لیتیں اور کچھ عرصہ بعد ان کے آپریشن کا بھی ارادہ تھا۔ باپ تو آخر باپ ہوتا ہے، انہوں نے نہ میرا نام پولیس کو دیا، نہ وصی کا۔ البتہ قدسیہ اماں کو ہی غلطی کا سبب ٹھہرایا گیا۔ ان کے بھائی اور قریبی لوگوں نے گواہی دی کہ کبھی کبھار کوئی شخص ان سے ملنے آتا تھا جب ان کے شوہر غیر حاضر ہوتے، اور وہ فلزا کو خالہ کے گھر بھجوا دیتی تھیں۔ خاندان کی عزت کی خاطر ہم زبان سے کچھ نہ کہہ سکے۔ پولیس کی معمولی تواضع سے کہانی کو خودکشی بنا دیا گیا۔ اصل مسئلہ ان کی گمشدگی کا نہیں بلکہ لاش کی صحن سے برآمدگی کا تھا۔ والد کی ڈیوٹی کی تفصیل موجود تھی، اس لیے ثابت تھا کہ وہ اس وقت گھر میں موجود نہ تھے۔ یوں اماں قدسیہ کا کیس “گمشدگی” کا ہی رکھا گیا۔ نہ مجھے تھانے بلایا گیا کہ میں سولہ سال کی ناسمجھ لڑکی تھی، نہ وصی کا کہیں ذکر آیا۔ سب اپنے تھے اور ایک دوسرے کا ساتھ دے رہے تھے۔حقیقت یہ ہے کہ وصی نے مجھ سے ملاقات کے لیے گولیاں ضرور لائی تھیں، لیکن اس نے کبھی یہ نہیں کہا تھا کہ زیادہ مقدار میں دے دوں۔ یہ میری کم عقلی تھی۔ میں نے یہ سوچ کر کہ ماں کو گہری نیند آئے، زیادہ مقدار میں دے دی، جو وہ برداشت نہ کر سکیں۔ خدا گواہ ہے کہ نہ وصی اور نہ میں، کسی نے بھی اماں قدسیہ کو مارنے کا ارادہ نہیں کیا تھا۔ ان دنوں نہ موبائل فون ہوتے تھے نہ بچیوں کو اتنی معلومات کہ دوا کی زیادہ مقدار کے کیا نتائج ہو سکتے ہیں۔ لیکن ہماری لاعلمی اور بے وقوفی سے ایسا ہو گیا۔ وصی نے مجھے بچانے کے لیے انہیں دفنا دیا۔ والد اور تایا نے معاملے کی سنگینی کے پیش نظر صلح کر لی، کیونکہ دونوں کی اولاد خطرے میں تھی۔ قدرت نے میری شادی وصی سے لکھ دی تھی، سو ہو گئی۔ اس واقعے کو ستر سال گزر چکے ہیں۔ میں زندگی کی آخری سانسیں گن رہی ہوں۔ دل کا بوجھ اتارنے کے لیے اپنی کہانی چھوڑے جا رہی ہوں۔ پوتی کو وصیت کر دی ہے کہ میرے مرنے کے بعد یہ لفافہ کھولنا۔ آج دادا وفات پا چکے ہیں، دادی بھی اس دنیا سے چلی گئی ہیں۔ لیکن ان کی یہ کہانی کسی محبت کی کومل، کو مل کہانی نہیں بلکہ ایک خوفناک، لرزہ خیز یادگار کہانی ہے، جس کو ان کے بعد جس نے بھی پڑھا، ششدر رہ گیا۔
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Back
Top