• 📚 لوو اسٹوری فورم ممبرشپ

    بنیادی ڈیل

    وی آئی پی

    5000
    تین ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    وی آئی پی پلس

    8000
    چھ ماہ کے لیے
    ٹاپ پیکیج
    👑

    پریمیم

    20000
    چھ ماہ کے لیے

Life Story وہ جو بے قصور تھی ۔۔

Joined
Jun 10, 2025
Messages
934
Reaction score
48,717
Points
93
Location
Karachi
Gender
Male
سنو شبیر بیٹا! یہ الماری خالی کر دو۔ اخبارِ جہاں، اردو ڈائجسٹ، اخباروں کے انبار — سب کچھ، ہاں سب نکال دو۔ اس شیلف سے دوائیاں، مرہم پٹّی، اور ہاں، اب سب سے آخری شیلف… جوتوں کے ڈبے نکالو۔ شاباش! یہ ان کے پیچھے کیا نظر آ رہا ہے؟ باجی جی! ڈبّا پڑا ہے، جس میں سوہن حلوہ ہوتا ہے۔ اسے کھولو؟ شبیر نے مٹی سے اٹا، زنگ آلود ڈبّا بڑی دقّت سے کھولا۔ لڈّو کی گولیاں لڑھکیں، ٹوٹی ہوئی چوڑیاں، نیل پالش، اور… ارے یہ!!! اور… ارے، یہ کیا!!! میرے سر پر گویا آسمان گر پڑا۔ اُف، میرے خدا! میں نے جلدی سے دیوار کا سہارا لیا۔آنسوؤں نے بھی میرا ساتھ دینا گوارا نہ کیا۔
☆☆☆

میرے شوہر، فیاض صاحب، عرصہ دراز سے سعودی عرب میں مقیم تھے۔ گھر کی ذمہ داریاں مجھے اندر ہی اندر کھا جاتی تھیں، لیکن گھر کی حالت بھی دن بہ دن ابتر ہوتی جا رہی تھی۔ جگہ جگہ سے پلستر اُکھڑ چکا تھا، دیواریں بد رنگ ہو گئی تھیں۔ آخرکار ہمت کر ہی لی کہ گھر کی تزئین و آرائش (رینوویشن) کروائی جائے۔ کاٹھ کباڑ بھی نکال کر صدقہ کرنے کا سوچا۔ بچّوں کے کمروں اور ڈرائنگ روم کا کام مکمل ہو چکا تھا۔ میرے بیڈروم سے متصل کمرہ، جو میرے ہی تصرف میں تھا، آج اس کی باری آ گئی تھی۔ میں اُسے خالی کروا رہی تھی، اور اُسے خالی کرواتے کرواتے میرا دل جیسے خالی ہو گیا۔اسی دوران، ایک ڈبّے سے وہ سونے کا سیٹ برآمد ہوا جو آج سے ساڑھے تین سال قبل غائب ہو گیا تھا۔ وہ جیسے مجھے طنزیہ مسکرا کر منہ چِڑا رہا تھا۔ بظاہر تو یہ خوشی کی بات تھی کہ وہ قیمتی چیز مل گئی جس کے کھو جانے پر میں نے دن رات دکھ جھیلا تھا۔ لیکن نہیں… ہم صرف رنجیدہ نہیں ہوئے تھے، ہم صرف روئے نہیں تھے۔ ہم تو جیسے خدائی فوجدار بن گئے تھے۔ ہم نے صرف الزام نہیں لگایا تھا، ہم نے سیدھے سیدھے فیصلہ سنا دیا تھا۔ بغیر تحقیق کے مجرم ٹھہرا دیا، فوراً سزا دے دی۔ لمحوں میں پیروں تلے سے زمین کھینچ لی، اور بے سہارگی کی انتہا پر لا کھڑا کیا۔
☆☆☆

نسرین میرے گھر کے فرد کی طرح تھی۔ نو سال سے میرے پاس تھی۔ کھانا پکانا اس کی ذمہ داری تھا۔ کپڑے استری کرنا بھی وہی سنبھالتی تھی۔ میرے مکان کو اُس نے ہی گھر کا روپ بخشا تھا۔ ہر فرد کے مزاج سے آشنا، سب کی پسند کا ناشتہ، متوازن غذا کا مینو — اگرچہ وہ ان لفظوں سے واقف نہ تھی، مگر گرہستی میں طاق تھی۔ بسم اللہ کا ورد کرتی، درودِ شریف کی روشنیاں بکھیرتی۔ایک بار خاندان میں ہونے والی شادی اٹینڈ کر کے میں تھکی ہاری واپس لوٹی۔ اپنا گولڈ سیٹ اتار کر ڈریسنگ ٹیبل پر رکھا اور اگلے دن اسکول چلی گئی، کیونکہ میں تدریس (ٹیچنگ) کے پیشے سے وابستہ تھی۔ میری چار سالہ بیٹی فضہ کو نسرین ہی سنبھالتی تھی۔ یہ وہی ڈبّا تھا جو فضہ کے کھلونوں میں شامل تھا۔ غالباً فضہ نے کھیل ہی کھیل میں میرا زیور اس ڈبے میں رکھ دیا ہوگا، اور وہ ڈبّا الماری کی زینت بن گیا۔اس سارے قضیے میں فضہ کا تو کہیں تذکرہ ہی نہ ہوا۔ مگر کچھ معصوم لوگ اس کی زد میں آ گئے۔ میں غصے کی رو میں بہہ گئی، اور ان پر ان کے رزق کا دروازہ بند کر دیا۔ مجھ جیسی مہان ہستی نے! میری بیٹی افراح مجھے حیرت سے دیکھ رہی تھی، میرا بیٹا عرفان بہت اُداس تھا، اور بے بسی سے مجھے تک رہا تھا — جیسے وہ سوچ رہا ہو کہ آج میری ماں کو کیا ہو گیا ہے۔نسرین کے بے آواز آنسو اس کے رخساروں کو بھگوتے ہوئے بارش کے قطروں کی مانند ٹپک رہے تھے، اور اس کا چہرہ پتھر کی مانند بے حس و حرکت تھا۔
☆☆☆

جاپ کروانا میرا خواب تھا۔ مصروفیت زندگی میں ایک اچھی چیز ہے، اس سے نظم و ضبط آ جاتا ہے اور سوچوں کا بھنور تھم جاتا ہے۔ انسان کسی نہ کسی مصرف میں رہے تو بہتر ہوتا ہے۔ ویسے بھی فیاض صاحب سعودی عرب میں ملازمت کرتے تھے۔ سال دو سال بعد ایک ماہ کے لیے پاکستان آتے۔ شوہر پردیس کی مشقتیں برداشت کرتا ہے تو بیوی تنہائی کے عذاب جھیلتی ہے۔ ویرانی میرے اندر ڈیرہ ڈالے بیٹھی تھی اور مجھے دنیا بے رنگ محسوس ہوتی تھی۔ نوکری کرنا دراصل اپنے اندر کے اضطراب کو کم کرنے کی ایک کوشش تھی۔ تیس دن کا مہینہ جیسے کاٹنے کو دوڑتا۔ بچوں کی دیکھ بھال مشکل ترین کام لگتا۔ مجھے کل وقتی ملازمہ درکار تھی۔ ہر جگہ، ہر محفل میں، ہر دعا میں میری ایک ہی التجا ہوتی: کوئی بندوبست ہو جائے تاکہ یکسوئی سے ملازمت کر سکوں۔ کچھ لوگ مشورہ دیتے کہ نوکری چھوڑ دو، جو مجھے بہت برا لگتا۔ مشورہ دینا بہت آسان ہے، لیکن اگر یہ مشیر خود کو میری جگہ رکھ کر سوچیں، تو اندازہ ہو کہ حالات کیسے ہوتے ہیں۔ انسان اپنی عادتوں کا اسیر ہو جاتا ہے۔ مجھے سوشل لائف پسند ہے۔ چار دیواری میں قید ہو جانا میرے مزاج کے خلاف ہے۔ بھلا ہو میری دوست، میری کولیگ صائمہ قادر کا۔ اس نے میرا مسئلہ حل کر دیا۔ اس نے مجھے سانولی سلونی، نازک سی نسرین سے ملوایا۔ نسرین کو سر چھپانے کے لیے چھت درکار تھی، اور مجھے ایک کل وقتی مددگار۔ اندھے کو اگر دو آنکھیں مل جائیں تو کیا چاہیئے! میرے بیٹے عرفان کا ہم عمر اور ہم جماعت بلال، نسرین کا بیٹا، بھی اس کے ساتھ تھا۔ فیاض صرف نام کے ہی فیاض نہیں تھے، اللہ نے واقعی انھیں کشادگی عطا کی تھی۔ ان کی طرف ہے یہ حکم نامہ جاری تھا ا بلال کو عرفان کے اسکول میں داخل کروا دو۔نسرین زبان سے کچھ نہیں کہتی تھی، لیکن اس کے ہر عمل میں تشکر نمایاں ہوتا۔ میری زندگی کا سکون اور آسائش نسرین کی موجودگی سے جُڑے تھے۔ میری پسند ناپسند سے سب سے زیادہ اگر کوئی واقف تھا، تو وہ نسرین ہی تھی۔
☆☆☆

اس کی ساری محبتوں، اس کی ساری نیکیوں اور اس کے اخلاص کا صلہ میں نے لمحوں میں بے توقیر کر دیا ۔ گھر کے در و دیوار خاموش تماشائی بنے بیٹھے تھے۔تمہیں نہیں پتا ، آج اس سوہن حلوے کے ڈبے نے میری دنیا ہلا کر رکھ دی ہے۔ میں اپنی نظروں میں گر گئی۔ جو ظلم میں نے ڈھایا تھا، وہ ہر جگہ دبک کر بیٹھ گیا کھانوں کے ذائقے میں، برتنوں کی کھنک میں۔میں نسرین کے کمرے میں کھڑی تھی، میں رنجیدہ تھی۔ ہر طرف خاموشی کا راج تھا۔ ہماری غلطیاں بھیانک سایہ بن کر ہماری رفیق بن جاتی ہیں۔ کاش مجھے نسرین مل جائے، ایک مرتبہ۔ ایک بار اس سے مل کر میں اس سے معافی مانگوں۔ وہ قیمت جو مجھے چکانی پڑی تھی، اسے بے گھر کر کے۔ گھر مکان بن گیا تھا۔افراح چڑچڑی ہوئی تھی۔ عرفان اداس یا شاید ماں سے بیزار تھا، پتہ نہیں۔ فضہ کی ٹیچر کا فون آتا، پوچھتی کہ آپ کیسی ماں ہیں آپ؟ آپ کی بیٹی لنچ نہیں لاتی ۔ اس کے پاس پانی کی بوتل نہیں ہوتی۔ اس کے ناخن بڑھے ہوئے ہیں۔ اس کا یونیفارم صاف نہیں ہوتا۔
☆☆☆

میرا دل گواہی دیتا تھا کہ نسرین ایسا نہیں کر سکتی۔بس کریں ماما، دل کی گواہی پر آپ نے کان دھرے؟ سیٹ مل جانے پر یہ بات کہنا بے معنی ہے، عرفان نے تاسف بھری نگاہوں سے ماں کو دیکھا۔ماں خالی خالی نگاہوں سے چھت کو گھور رہی تھیں، عرفان کو دھچکا لگا۔ ماں ٹھیک نہیں تھی۔ چند دن پہلے ان کی دوست صائمہ قادر نے کہا تھا کہ بیٹا، ماما کا چیک اپ کرواؤ۔ وہ بھولنے لگی ہیں، وہ زندگی سے دور ہو رہی ہیں، کوئی بات ہے جو انہیں پریشان کر رہی ہے۔ وہ عدم تحفظ کا شکار ہیں۔یہ سارا قصور بابا کا ہے۔ ان کے نزدیک ہر مسئلے کا حل پیسہ ہے۔افراح ماں کی حالت دیکھ کر پریشان ہو گئی اور بولی، بھیا، کیا ہمیں بابا کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی؟ وہ خود بھی مشکل زندگی گزار رہے ہیں اور ہم بھی تکلیف میں ہیں۔عرفان نے ماں کے دونوں ہاتھ تھامے اور ان کی پیشانی پر بوسہ دیا۔ ان کی آنکھیں خوشگواریت کے احساس سے روشن ہوئیں اور پھر آنسوؤں سے لبریز ہو گئیں۔میں رو نہیں رہی، ہلال اور نسرین آنٹی سے بابا کا اور میرا تعلق بھی ٹوٹا نہیں ہے۔آج کا دن اتفاقات کا تھا، آج کا روشن دن محبتوں کا پیامبر تھا، آج کا دن معانی کا تھا، آج کا دن تجدید محبت کا تھا۔نسرین اور بلال موجود تھے۔ فیاض صاحب کے پروگرام کو عرفان نے سیکریٹ رکھا تھا اور وہ پہلے ہی آ چکے تھے۔ فضہ، تم رورہی ہو یا ہنس رہی ہو؟ افراح نے بہن کو چھیڑا۔ بابا نے دونوں بیٹیوں کو بانہوں میں لے لیا اور کہا کہ اب آپ واپس نہیں جائیں گے، ہم جانے ہی نہیں دیں گے۔
☆☆☆

اداسی ان عورتوں کی خاصہ ہوتی ہے جو اپنے پردیسی شوہروں کی یاد میں پریشان ہوتی ہیں اور ساس و نندوں کے ساتھ رنجشیں جھیلتی ہیں۔ مجھے وہ ساس نندیں نصیب نہ ہوئیں۔نسرین! تم نشانہ بنی، میرے عتاب کو معاف کر دو۔ آنٹی، میری امی آپ سے ناراض نہیں ہیں۔ وہ بس اس فکر میں مبتلا تھیں کہ پورا گھر ان کے سپرد ہے، اور یہی خیال انہیں پریشان کرتا تھا کہ میری موجودگی میں نقصان ہو گیابلال نے کہا اور نسرین نے ماما کو گلے لگا لیا۔ تین سال سے زائد کا فاصلہ یوں ختم ہو گیا جیسے دم توڑ گیا ہو۔آج کھانا باہر سے آرڈر کیا جائے گا۔ فضہ اور افراح نے چائے کے لیے خاص اہتمام کیا۔سب کے چہروں پر سکون کی روشنی تھی، بے چینی اور اضطراب کا سایہ مٹ چکا تھا۔رفاقت زندگی ہے اور ہجر دکھ۔
☆☆☆
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Back
Top