• 📚 لوو اسٹوری فورم ممبرشپ

    بنیادی ڈیل

    وی آئی پی

    5000
    تین ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    وی آئی پی پلس

    8000
    چھ ماہ کے لیے
    ٹاپ پیکیج
    👑

    پریمیم

    20000
    چھ ماہ کے لیے

Life Story راہِ ۔۔۔۔۔زندگی

ہ دونوں کب سے کار کا انتظار کر رہی تھیں سارہ پریشانی میں اردگرد دیکھنے لگی۔
“یہ پولیس آفیسر تمہیں جانتا ہے کیا؟” سارہ نے یاد آنے پر پوچھا تو اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
“اسی کی وجہ سے مجھے نوکری سے نکالا گیا ہے۔” اس نے تیکھے لہجے میں بتایا۔
“اچھا اسی لیے تم سے غصے میں بات کر رہا تھا۔” سارہ نے پرسوچ انداز میں کہا۔
وہاں سے کار گزر رہی تھی جب تھوڑا آگے جاکر رکی سارہ نے پریشانی میں اسے دیکھا رات کے نو بج رہے تھے انہوں نے گھر کال کرکے بتا دیا تھا تاکہ گھر والے پریشان نہ ہوں وہ دونوں کار کا انتظار کر رہی تھیں تبھی ان کے سامنے کار رکی۔
“تم دونوں ابھی تک گھر نہیں گئی؟” فواد نے کار سے باہر نکل کر کہا تو وہ اسے گھور کر رہ گئی۔
“تمہیں کوئی مسئلہ ہے کیا؟” کنزہ نے ابرو اچکا کر پوچھا تو وہ استہزائیہ ہنسا۔
“میں تو پوچھ رہا ہوں، اس وقت یہاں کھڑے رہنا مناسب نہیں ہے تم دونوں کار میں بیٹھو میں گھر چھوڑ دوں گا۔” اس نے اردگرد دیکھتے ہوئے کہا تو سارہ نے اثبات میں سر ہلایا۔
“ہم تمہاری کار میں نہیں جائیں گے، تم نے مجھے نوکری سے نکلوایا ہے، میں بھولی نہیں ہوں۔” اس نے لفظوں کو چباتے ہوئے کہا اور سارہ کے ساتھ آگے کی جانب بڑھ گئی جبکہ وہ اس سرپھری لڑکی کو دیکھنے لگا جو رات کے اس پہر کار کا انتظار کر رہی تھی۔
“تمہیں سمجھ نہیں آئی کیا؟” اس نے غصے میں کہا تو کنزہ نے اپنے قدم روکے اور پلٹ کر اسے دیکھنے لگی۔
“ہاں سمجھ نہیں آئی۔” اس نے جتایا۔
“تمہارے گھر کال کرکے کہتا ہوں روڈ پر کب سے کھڑی ہوئی ہیں۔” اس نے موبائل میں نمبر ڈائل کیا۔
“پولیس آفیسر میں تم پر کیس کروں گی۔” اس نے غصے میں چلاتے ہوئے کہا تو وہ ہنسنے لگا گویا اس کا تمسخر اڑایا ہو۔
“شوق سے کیس کرنا، پہلے گھر تو جاؤ۔” اس نے سنجیدگی سے کہا۔
“تم دونوں کا مسئلہ کیا ہے؟ کب سے جھگڑ رہے ہو مجھے دیر ہو رہی ہے، گھر میں سب پریشان ہو رہے ہوں گے۔” سارہ کب سے خاموش کھڑی انھیں دیکھ رہی تھی جو بلاوجہ لڑ رہے تھے تبھی اس نے غصے میں کہا تو وہ اس کی جانب متوجہ ہوئے۔
“آپ کار میں بیٹھیں میں آپ کو گھر چھوڑ دوں گا، اسے یہی رہنے دیں آجائے گی۔” فواد نے اس سے مخاطب ہو کر کہا اور کار کی جانب بڑھ گیا جبکہ وہ کنزہ کی جانب دیکھنے لگی جو اپنا غصہ ضبط کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔
“تم نہیں جاؤ گی۔” کنزہ نے غصے میں کہا۔
“کنزہ سمجھنے کی کوشش کرو، رات کے نو بج رہے ہیں سب انتظار کر رہے ہوں گے۔” اس نے فکرمندی سے کہا تو وہ گہری سوچ میں مبتلا ہو گئی۔ اس نے کار کا ہارن بجایا تو سارہ نے اسے چلنے کا کہا جبکہ وہ اس کی بات پر انکار کر گئی۔
“کنزہ ضد مت کرو۔” اس نے گھورتے ہوئے کہا تو وہ گہری سوچ میں مبتلا ہو گئی۔
“تمہاری وجہ سے چل رہی ہوں۔” اس نے اپنے خیالوں کو جھٹکا اور کار کی جانب قدم بڑھائے وہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا ہوا ان کا انتظار کر رہا تھا جب وہ دونوں آئیں اور بیک سیٹ پر بیٹھ گئیں اسے غصے میں دیکھ کر فواد کو ناجانے کیوں خوشی محسوس ہوئی وہ اپنی توجہ ڈرائیونگ پر مرکوز کر گیا۔
سارہ نے اسے گھر کا ایڈریس بتایا تو اس نے کار کو ٹرن کیا اور کچھ دیر کی مسافت کے بعد اس نے کار کو روکا تو وہ اسے شکریہ کہنے کے بعد گھر کی جانب بڑھ گئی جبکہ کنزہ اسے گھور کر رہ گئی۔
“تم نے گھر کا ایڈریس نہیں بتایا؟” فواد نے کار کو ڈرائیو کرتے ہوئے پوچھا۔
“سامنے کار روکنا۔” اس نے موبائل سے نظریں ہٹا کر کہا تو وہ ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگا۔
“سامنے روڈ پر تو میں کار نہیں روکوں گا۔” اس نے جتایا۔
“تم پولیس آفیسر تمہارا مسئلہ کیا ہے؟” اس نے غصے میں دریافت کیا تو وہ ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگا وہ جب سے ملی تھی اسی لہجے میں بات کر رہی تھی۔
“مجھے کوئی شوق نہیں ہے تم سے ایڈریس پوچھنے کا، اس وقت لڑکیوں کے لیے روڈ پر تنہا کھڑے رہنا مناسب نہیں ہوتا۔” اس نے تلخ لہجے میں کہا اور اپنی توجہ ڈرائیونگ پر مرکوز کر لی جبکہ وہ گہری سوچ میں مبتلا ہو گئی۔
“سامنے میرا گھر ہے۔” اس نے کچھ دیر کی توقف کے بعد کہا تو اس نے کار کو موڑا اور اس کے بتائے گئے گھر کے سامنے کار روکی۔ وہ اپنا پرس اٹھا کر باہر نکلی اور بغیر کچھ کہے گھر کی جانب بڑھ گئی جبکہ وہ کچھ دیر تو سوچتا رہا اس کے بعد کار کو ڈرائیو کرکے وہاں سے چلا گیا۔
 

وہ گھر کے اندر داخل ہوئی تو سب اس کا انتظار کر رہے تھے اسے دیکھ کر پرسکون ہو گئے اس نے سلام کیا اور لاؤنج میں رکھے گئے صوفے پر بیٹھ گئی۔
انہوں نے سلام کا جواب دیا۔
“تمہاری کار کا ٹائر پنکچر ہو گیا تھا مجھے کال کیوں نہیں کی؟” راحیل نے ناسمجھی سے دریافت کیا تو وہ گڑبڑا گئی۔
“میں نے بابا کو کال کرکے بتا دیا تھا، تمہیں بتانا بھول گئی۔” اس نے کہا تو اس نے نفی میں سر ہلایا۔
“تمہاری وجہ سے ہم پریشان تھے رات کو ڈنر پر جانے کی ضرورت نہیں ہے۔” اس نے غصے میں کہا اور اٹھ کر اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا جبکہ وہ ناسمجھی سے ریاض صاحب اور تحریم بیگم کو دیکھنے لگی۔
ریاض صاحب اور تحریم بیگم کے دو بچے تھے، تیس سال کا راحیل جو ریاض صاحب کے ساتھ ان کا بزنس سنبھال رہا تھا اس کے بعد چھبیس سالہ کنزہ جو نیوز اینکر تھی وہ کراچی شہر میں رہائش پذیر تھے۔
“بابا اسے کیا ہوا؟” اس نے ناسمجھی سے پوچھا۔
“تم دیر سے آئی ہو اس لیے خفا ہے۔” انہوں نے بتایا۔
“آپ سب ڈنر کرلو۔” تحریم بیگم کی آواز پر وہ ان کی جانب متوجہ ہوئے۔
“ماما میں نے ڈنر کیا ہے۔” اس نے مسکراتے ہوئے بتایا۔
“اچھا۔” انہوں نے ٹیبل پر لوازمات رکھے تو اس نے اثبات میں سر ہلایا تبھی اس کے موبائل کی رنگ ٹون بجی تو اس نے نمبر دیکھا انجان نمبر سے کال تھی وہ نظرانداز کرتی ہوئی اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔
اس نے کمرے میں آکر اپنا پرس ٹیبل پر رکھا اور بیڈ پر جا بیٹھی تبھی اس کے موبائل کی رنگ ٹون پھر سے بجی تو اس نے کال اٹینڈ کی۔
“آپ کی کار ٹھیک ہو چکی ہے، آپ کل آکر لے جائیے گا۔” اس طرف سے بتایا گیا۔
“ٹھیک ہے۔” اس نے کہا اور کال کاٹنے ہی لگی تھی جب اس طرف سے کہی گئی بات سن کر اسے ناجانے کیوں غصہ آیا۔
“آپ نے ایڈریس نہیں پوچھا؟” انداز چڑانے والا تھا۔
“تم پولیس آفیسر۔” اس نے غصے میں کہا وہ اسے تنگ کر رہا تھا۔
“مس اینکر صاحبہ کل تھانے میں آکر اپنی کار لے کر جائیے گا۔” فواد نے سنجیدگی سے کہا تو وہ حیران ہو گئی۔
“میں تھانے نہیں آؤں گی۔” اس نے غصے میں کہا تو اسے ناجانے کیوں خوشی محسوس ہوئی۔
“وہ کار میں کسی پولیس کانسٹیبل کو دے دوں گا، ویسے بھی تمہیں نہیں چاہیے۔” فواد نے آہستہ سے بات کی اس کا انداز ابھی بھی چڑانے والا تھا۔
“میری کار کسی پولیس کانسٹیبل کو دینے کی ضرورت نہیں ہے، کل میرے گھر دے جانا۔” اس نے تلخی سے کہا اسے پولیس آفیسر پر غصہ آرہا تھا۔
“زیادہ خوش فہمی میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ہے، کار تھانے سے لے جانا۔” اس نے کہا اور رابطہ منقطع کر دیا جبکہ وہ اسے کوستی رہ گئی۔
 



رات کے دس بج رہے تھے وہ ریستوران میں بیٹھا ہوا ڈنر کر رہا تھا اس نے ڈنر کرکے بل ادا کیا اور باہر نکل آیا اس نے اپنے قدم کار کی جانب بڑھائے اور کار کا دروازہ کھول کر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا۔ اس نے ڈرائیونگ اسٹارٹ کی وہ تھوڑا آگے ہی گیا تھا جب اسے فائرنگ کی آواز سنائی دی اس نے باہر دیکھا پولیس کی گاڑی سے فائرنگ کی جا رہی تھی اس نے کار کی اسپیڈ بڑھائی۔ پیچھے سے اس کی کار پر فائرنگ کی جا رہی تھی اس نے کار کو موڑا اور آگے جاکر کار کو روکا اور سامنے سے گن اٹھائی۔
پولیس کی گاڑی وہاں سے آگے چلی گئی اس نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ پولیس اسے پکڑنا چاہتی تھی اس نے موبائل میں نمبر ڈائل کیا کال جا رہی تھی مگر اٹینڈ نہیں کی گئی۔ اس نے کار کو اسٹارٹ کیا اور آگے بڑھا گیا۔
کچھ دیر کی مسافت کے بعد اس نے کار کو فلیٹ کے سامنے روکا اور باہر نکل آیا اس نے موبائل میں نمبر ڈائل کیا تو اس مرتبہ کال اٹینڈ کی گئی۔
“تم کال اٹینڈ کیوں نہیں کر رہے تھے؟” اس نے غصے میں پوچھا۔
“میں لاؤنج میں تھا جبکہ موبائل کمرے میں پڑا تھا، کچھ دیر قبل کمرے میں آیا ہوں، تمہیں کوئی کام تھا؟” اس نے بتا کر پوچھا۔
“پولیس میری گاڑی کا پیچھا کر رہی تھی تم نے کسی کو خبر تو نہیں دی؟” اس نے سوال پوچھا۔
“تم نے مجھے منع کیا تھا میں کسی کو کچھ بھی نہیں بتاؤں، اس لیے میں نے نہیں بتایا۔” اس نے اس کے سوال کا جواب دیا تو اسے تسلی ہوئی۔
“کسی کو کچھ مت بتانا۔” اس نے کہا اور رابطہ منقطع کرکے اپنے قدم آگے بڑھا گیا۔


جاری ہے
 
صبح کے دس بج رہے تھے وہ نیند سے بیدار ہونے کے بعد فریش ہو کر آیا تھا۔ وہ پولیس یونیفارم میں ملبوس، بالوں کو جیل سے سیٹ کئے، گالوں پر پڑتے گڑھے جو اسے پرکشش بنا رہے تھے وہ صبح کو جلدی اٹھ کر واک پر جاتا تھا اس کے بعد ناشتہ کرکے اپنی نوکری کے لیے روانہ ہوتا تھا۔فیصل صاحب اور سدرہ بیگم کے دو بیٹے تھے، تیس سال کا فواد جس نے کراچی سے اپنی تعلیم مکمل کی تھی اور اب کراچی میں ہی پولیس آفیسر کے رتبے پر فائز تھا اس کے بعد عماد جو یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم تھا۔ فیصل صاحب سکھر شہر کے ایم این اے تھے انہوں نے فواد کو بھی سیاست میں آنے کا کہا تھا مگر اس نے انکار کرکے اپنے شوق کو پورا کیا اور پولیس آفیسر بنا۔ وہ کراچی میں رہتا تھا جبکہ اس کی فیمیلی سکھر میں رہائش پذیر تھی۔اس نے گھر سے باہر نکل کر تالا لگایا اور کالے رنگ کا چشمہ پہنتا ہوا کار میں جا بیٹھا اس کے پیچھے ہی گارڈز کی گاڑیاں تھیں اس نے جیسے ہی کار کو اسٹارٹ کیا پیچھے والی گاڑیاں بھی اس کے ساتھ وہاں سے روانہ ہوئی تھیں۔********وہ سب اس وقت ڈائیننگ ٹیبل کے گرد بیٹھے ہوئے ناشتہ کر رہے تھے۔ ریاض صاحب ناشتہ کرنے کے بعد آفس کے لیے روانہ ہونے لگے تو کنزہ نے انھیں روکا۔”بابا میں بھی چل رہی ہوں، میری کار یہاں نہیں ہے۔” اس نے ناشتہ کرنے کے بعد کہا تو انہوں نے اثبات میں سر ہلایا۔”ٹھیک ہے۔” انہوں نے کہا اور باہری دروازے کی جانب بڑھ گئے تو وہ بھی ان کے پیچھے گئی۔ڈرائیور جیسے ہی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا ریاض صاحب فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئے جبکہ وہ اپنے بالوں کو کان کے پیچھے اڑستی ہوئی بیک سیٹ پر بیٹھ گئی تو ڈرائیور نے کار کو اسٹارٹ کیا اور وہاں سے روانہ ہوئے۔********وہ انٹرویو دے کر آئی تھی اس لیے اسے چینل والوں نے کال کرکے آفس آنے کے لیے کہا تھا جس کے باعث وہ بہت خوش تھی وہ آفس آئی تو سب خوش اسلوبی سے اس سے بات کرنے لگے وہ کچھ دیر ان سے بات کرنے کے بعد اسٹوڈیو میں آئی جہاں خبریں پڑھی جاتی تھیں۔ وہ اپنی نشست پر براجمان ہوئی اور ایک نظر ان پیجز پر ڈالی جہاں ہیڈلائنز لکھی ہوئی تھیں صبح کے نو بجنے میں دس منٹ رہتے تھے اس نے پیجز پر لکھی ہوئی ہیڈلائنز دیکھی۔ جیسے ہی دس منٹ گزرے اسکرین پر ویڈیو چلنے لگی تو اس نے ہیڈلائنز پڑھنے کا آغاز کیا۔”السلام عليكم! نیو (neo) نیوز کے ساتھ میں ہوں کنزہ ریاض سب سے پہلے نیوز ہیڈ لائنز۔”ملک بھر میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے “شہری پریشان ہو کر رہ گئے ہیں۔”کراچی شہر میں چوری جیسی واردات میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے، پولیس اسے روکنے کی کوشش میں مصروف ہے۔”وہ خبریں پڑھ رہی تھی جس میں ملک کے حالات کے بارے میں بتایا جا رہا تھا۔ اس نے خبریں پڑھنے کے بعد بریک لیا اور ٹیبل سے پانی کی بوتل اٹھا کر پانی پیا۔ اس نے کچھ دیر کے بعدچینل پر مارننگ پروگرام کا بتایا اور خود اٹھ کر وہاں آئی جہاں سارے ورکرز کام میں مصروف تھے وہ ان سے یہاں کے بارے میں معلومات لینے لگی تھی۔*********وہ کب سے گھر میں ٹہل رہا تھا۔ شہر میں کچھ لوگوں کا گینگ تھا جو چوری جیسی واردات میں ملوث تھا اس کے ساتھی ان لوگوں کو پکڑ کر لائے تھے وہ رسیوں میں جکڑے ہوئے کرسیوں پر بیٹھے تھے اس نے غصے میں ان کی جانب دیکھا جو کب سے خاموش تھے اور انھیں اپنے گینگ کے بارے میں نہیں بتا رہے تھے۔”ہمیں جانے دو، یہاں سے جاکر تجھے بتائیں گے۔” ایک آدمی نے دھمکی دی تو اسے غصہ ہی آگیا۔”اتنی واردات کی ہیں اور میں تمہیں جانے دوں گا یہ صرف تم سب کی خام خیالی ہے۔” اس نے غصے میں اس کے چہرے پر مکا رسید کیا تو وہ درد سے کراہ اٹھا جبکہ دوسرے آدمیوں نے غصے میں اسے دیکھا۔”تم ہمیں جانے نہیں دو گے کیا؟” اس آدمی نے ڈھیٹ پن سے پوچھا تو وہ ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگا۔”نہیں!” اس نے نفی میں سر ہلایا۔”ہمیں یہاں سے جانے دو پھر تیری خیر نہیں ہوگی۔” اس آدمی نے پھر سے دھمکی دی تو اس کا قہقہہ گھر میں گونجا وہ سب ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگے۔”یہاں سے تم صرف جیل ہی جا سکتے ہو۔” اس نے غصے میں کہا اور اپنے آدمیوں کی جانب گیا انھیں سمجھانے کے بعد اس نے اپنے قدم گھر کے باہری دروازے کی جانب بڑھائے اور وہاں سے چلا گیا۔********وہ کب سے کنزہ کا نمبر ڈائل کر رہی تھی مگر اس نے کال نہیں اٹھائی وہ شاپنگ پر جانے کے لیے تیار تھی۔ کالے رنگ کی فراک پجامہ زیب تن کئے، سر پر ڈوپٹہ پہنے، پنک لپ گلوز لگائے، سفید رنگت پانچ فٹ تین انچ قد وہ مسکراتی ہوئی لاؤنج میں گئی جہاں وجہیہ بیگم اس کا انتظار کر رہی تھیں وہ جیسے ہی آئی وہ ان کے ساتھ باہری دروازے کی جانب بڑھ گئی۔وہ ڈرائیور کے ساتھ شاپنگ مال آئی تھیں وجہیہ بیگم اسے جیولری دکھا رہی تھیں تبھی اس کی نظر سامنے گئی وہ کالے رنگ کی پینٹ شرٹ پر کوٹ پہنے، سفید رنگت، بالوں کو سنوارے فون پر بات کر رہا تھا وہ اسے دیکھ کر وجہیہ بیگم کو آنے کا کہہ کر سامنے گئی جہاں وہ کال کاٹ کر ورسٹ واٹچ دیکھنے لگا تھا۔”السلام عليكم! کیسے ہو؟” اس کی آواز سن کر وہ اس کی جانب متوجہ ہوا وہ کنزہ کی دوست تھی وہ اسے پہچان گیا تھا وہ اکثر ان کے گھر آیا کرتی تھی۔”وعليكم السلام! ٹھیک ہوں۔” اس نے جواب دیا اور ورسٹ واٹچ خریدنے لگا اپنا نظرانداز ہونا اسے ناگوار گزرا تھا اس نے غصے میں اسے دیکھا۔”تم یہاں کیا کر رہے ہو؟” اس کی بات سن کر وہ پلٹ کر اسے دیکھنے لگا وہ اس سے بے جھجک ہو کر بات کر رہی تھی اسے حیرانی ہوئی۔”تم یہاں کیا کر رہی ہو؟” اس نے جواب دینے کے بجائے سوال پوچھا تو وہ منہ بسور کر رہ گئی۔”میں شاپنگ کرنے آئی ہوں۔” اس نے بتایا۔”میں بھی شاپنگ کرنے آیا ہوں۔” اس نے بتایا تو وہ کچھ دیر تو وہاں کھڑی رہی اور پھر اس نے اپنے قدم آگے بڑھائے وہ ابھی تھوڑا ہی آگے گئی تھی جب راحیل کی آواز سن کر اس نے اپنے قدم روکے اور پلٹ کر اسے دیکھنے لگی وہ کچھ دیر قبل خوش تھی مگر اب اس کے چہرے پر سنجیدگی چھائی ہوئی تھی۔”کس کے ساتھ آئی ہو؟” اس نے ناسمجھی سے پوچھا تو وہ اسے دیکھنے لگی۔”ماما کے ساتھ آئی ہوں۔” اس نے بتایا اور اپنے قدم آگے بڑھائے جبکہ وہ حیران رہ گیا وہ میٹنگ اٹینڈ کرنے ریستوران آیا تھا اس کے بعد وہ شاپنگ کرنے کی غرض سے مال میں آیا تھا جب وردہ نے اسے بلایا وہ خوش مزاج لڑکی تھی جو مسکراتی رہتی تھی راحیل کے جواب دینا کا انداز اسے برا لگا تھا تبھی اس کے چہرے پر اداسی چھا گئی تھی۔ اس نے مزید بات نہیں کی اور وہاں سے چلی گئی جبکہ اس نے اپنے قدم آگے بڑھائے اور اپنے لیے ڈریس دیکھنے لگا۔***********وہ اس وقت زمینوں کا چکر لگانے آیا تھا جب فیصل صاحب کو وہاں دیکھ کر اس نے اپنے آدمی کو وہاں بھیجا تاکہ معلوم ہو وہ گاؤں کے آدمی سے کیا بات کر رہے ہیں وہ خود جاکر کار سے ٹیک لگا کر کھڑا ہو گیا۔”ریحان صاحب وہ گاؤں کا آدمی پوچھ رہا تھا فواد کب سکھر آئے گا تو انہوں نے بتایا ہفتے والے دن آئے گا۔” اس کے آدمی نے وہاں آکر بتایا تو وہ مسکرانے لگا۔”اچھا۔ تم جاؤ۔” اس نے پرسوچ انداز میں کہا تو وہ آدمی وہاں سے چلا گیا جبکہ ریحان حویلی کی جانب بڑھ گیا۔*********شام کے چھ بج رہے تھے اس نے ریاض صاحب کو کال کرکے پک کرنے کا کہا تو انہوں نے بتایا آج ان کی میٹنگ ہے اس لیے وہ اسے لینے نہیں آئیں گے۔ وہ آفس سے باہر آئی اور روڈ پر کھڑی ہو گئی اسے وہاں کھڑے ہوئے کافی دیر ہو گئی تھی تبھی اس نے راحیل کا نمبر ڈائل کیا تو اس نے فوراً کال اٹینڈ کی۔”بابا کی میٹنگ ہے، وہ لینے نہیں آئیں گے۔” اس نے بتایا۔”ٹھیک ہے تم انتظار کرو میں آتا ہوں۔” اس نے کہا اور رابطہ منقطع کر دیا جبکہ وہ سائیڈ پر جاکر کھڑی ہو گئی۔ایس ایس پی کو کال کرکے بتایا گیا تھا اس علاقے میں دکانوں پر چوری کی گئی ہے چور ابھی اسی بازار میں تھے جیسے ہی چوروں نے پولیس کی گاڑی کی آواز سنی تو انہوں نے دوڑ لگانا شروع کر دی پولیس ان کے پیچھے تھی جب انہوں نے گن نکال کر فائرنگ شروع کر دی جواباً پولیس آفیسرز اور پولیس کانسٹیبل نے بھی گن نکال کر ان پر فائرنگ کی وہ وہاں کھڑی ناسمجھی سے اردگرد کے حالات کا جائزہ لینے لگی۔ اس نے اپنے پرس سے موبائل نکالا اور ویڈیو بنانے لگی۔ پولیس آفیسرز نے آگے آکر ان آدمیوں کو پکڑ کر ان سے گن چھینی تو وہ خود کو چھڑانے کی کوشش کرنے لگے۔”تم نیوز اینکرز بس موقع کی تلاش میں ہوتے ہو جیسے ہی موقع میسر ہوتا ہے خبریں اکھٹی کرنا شروع کر دیتے ہو۔” وہ ویڈیو بنا رہی تھی جب مردانہ آواز سن کر اس نے ویڈیو سیو کی اور پلٹ کر اس کی جانب دیکھنے لگی وہ پولیس یونیفارم میں ملبوس ہاتھ میں گن پکڑے اسی کو گھور رہا تھا جبکہ اسے وہاں دیکھ کر اسے غصہ ہی آگیا۔”تمہارا مسئلہ کیا ہے؟” اس نے ابرو اچکا کر پوچھا۔”ویسے نیوز میں کیا دو گی، پولیس آفیسر فواد میر نے چوروں کو پکڑا یا پھر خبر کو اپنے تحت پڑھو گی؟” اس کے سوال کو نظرانداز کرکے اس نے پوچھا۔”میری مرضی جو بھی ہیڈلائنز پڑھوں تمہیں اس سے سروکار نہیں ہونا چاہیے۔” اس نے مسکراتے ہوئے کہا اور وہاں سے جانے لگی جب فواد نے اس کا راستہ روکا تو وہ غصے میں اسے دیکھنے لگی۔”جو نیوز تم پڑھو گی اس سے مجھے سروکار ہے۔”اس نے لفظوں کو چباتے ہوئے کہا تو کنزہ نے اپنے پرس سے گن نکال کر اس کے سامنے کی وہ حیرانی سے اس لڑکی کو دیکھنے لگا۔”تمہارے پاس گن کیا کر رہی ہے؟” اس نے سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا۔”نیوز اینکر ہوں گن رکھنی پڑتی ہے، تم جیسے لوگوں کا پتا نہیں ہوتا ناجانے کب حملہ کر دیں۔” اس نے جتایا۔”سوچو اگر آج کی نیوز ہیڈلائنز میں یہ خبر نشر کی جائے کہ نیوز اینکر کنزہ ریاض کے پاس سے گن برآمد ہوئی ہے اور وہ روڈ پر فائرنگ کرتی ہوئی نظر آئی ہے جس کے باعث پولیس اسے تھانے لے کر گئی ہے۔” فواد کی بات سن کر اسے غصہ ہی آگیا اس نے اردگرد دیکھا کچھ پولیس آفیسرز وہاں سے جا چکے تھے جبکہ کچھ وہاں کھڑے ہوئے تھے اس نے گن کو پرس میں رکھا اور غصے میں اپنے قدم آگے بڑھائے وہ اسے جاتا ہوا دیکھنے لگا وہ آگے بڑھی ہی تھی جب راحیل کار سے باہر آیا اور اس سے بات کرنے لگا وہ اسے بتا کر فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئی تو وہ ڈرائیونگ سیٹ پر جا بیٹھا اور کار کو گھر کے راستے پر بڑھا گیا۔”مجھے اس لڑکی کے بارے میں معلومات چاہیے اور یہ لڑکا کون تھا مجھے رات تک بتانا۔” اس نے پولیس کانسٹیبل کو بلا کر کہا اور چشمہ پہن کر اپنی کار کی جانب بڑھ گیا۔********وہ گھر آئے تو تحریم بیگم کچن میں کھڑی کھانا بنا رہی تھیں وہ انھیں سلام کرکے لاؤنج میں بیٹھ گئی۔ ان کا گھر آٹھ مرلے کا تھا۔ جیسے ہی گھر کے اندر داخل ہو بڑا سا لاؤنج تھا اس میں صوفے رکھے گئے تھے اس کی ایک طرف اوپن کچن تھا جبکہ دوسری طرف سیڑھیاں تھیں۔ اس فلور میں چار کمرے تھے جبکہ اوپری فلور پر تین کمرے اور ڈرائنگ روم بنا ہوا تھا۔ وہ فلور زیادہ تر جب مہمان آتے تب استعمال میں آتا۔ باہر لان تھا اور اسی سائیڈ کار کو پارک کرنے کے لیے ایئریا بنایا گیا تھا۔ وہ اپنے خیالوں میں گم تھی جب راحیل کی آواز پر اس کی جانب متوجہ ہوئی۔”تمہاری کار کہاں ہے؟” اس نے سوالیہ نگاہوں سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔”کار پولیس اسٹیشن میں ہے۔” اس نے بتایا۔”ٹھیک ہے، میں پولیس اسٹیشن جاتا ہوں۔” اس نے کہا اور اٹھ کر باہری دروازے کی جانب بڑھ گیا جبکہ وہ پریشان ہی ہو گئی اگر اس پولیس آفیسر نے اسے کچھ کہا تو۔ مختلف قسم کی سوچوں نے اسے اپنے گھیرے میں لیا تھا۔***********وہ جب سے گھر آئی تھی اداس تھی راحیل کا نظرانداز کرنا اسے ناگوار گزرا تھا وہ ناجانے کیوں اس لہجے میں بات کر رہا تھا اس نے سائیڈ ٹیبل سے موبائل اٹھایا اور اس کا نمبر ڈائل کیا کال جا رہی تھی مگر اس نے نہیں اٹھائی اس نے غصے میں موبائل رکھا اور بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی تبھی ماضی کی کچھ یادیں اس کے سامنے گردش کرنے لگیں۔وہ یونیورسٹی سے واپسی پر کنزہ کے ساتھ اس کے گھر آئی تھی کنزہ چائے بنانے کی غرض سے کچن میں چلی گئی۔ وہ گھر کا جائزہ لے رہی تھی جب اچانک اس کی نظر سامنے کھڑے لڑکے پر پڑی جو سفید رنگ کی شرٹ پر کالے رنگ کی پینٹ زیب تن کئے، پانچ فٹ آٹھ انچ قد، سفید رنگت، براؤن آنکھیں اسے دیکھ رہا تھا وہ ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی۔”کیا مسئلہ ہے؟” اس نے غصے میں دریافت کیا۔”مجھے تو کوئی مسئلہ نہیں ہے، آپ اپنے بارے میں بتائیں کیوں آئی ہیں؟” راحیل نے شرارتی لہجے میں پوچھا انداز چڑانے والا تھا۔”کیوں میں یہاں نہیں آسکتی؟” اس نے اسے گھورا۔”آسکتی ہو منع تو نہیں کیا۔” اس نے پرسوچ انداز میں کہا۔”اگر تم مجھے گھر آنے سے منع کرو گے میں پھر بھی آؤں گی یہ میری دوست کا گھر ہے۔” وردہ نے مسکراتے ہوئے کہا تبھی کنزہ وہاں آئی تو وہ اس کے ساتھ لاؤنج کی جانب بڑھ گئی جبکہ وہ مسکراتا ہوا باہری دروازے کی جانب بڑھ گیا۔وہ اپنے خیالوں کو جھٹکتی ہوئی موبائل اٹھا کر میسج ٹائپ کرنے لگی اس نے میسج لکھ کر سینڈ کیا اور اٹھ کر کمرے سے باہر چلی گئی۔********وہ ریوالونگ چیئر پر ٹیک لگائے بیٹھا ہوا تھا۔ پولیس یونیفارم میں ملبوس وہ گہری سوچ میں مبتلا تھا جب کانسٹیبل نے اسے بلایا تو وہ اس کی جانب متوجہ ہوا۔”سر راحیل ریاض آیا ہے، آپ سے ملنا چاہتا ہے۔” اس نے بتایا تو وہ ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگا۔”ٹھیک ہے اسے بھیجو۔” اس نے کہا تو کانسٹیبل اثبات میں سر ہلاتا ہوا وہاں سے چلا گیا کچھ دیر بعد وہ وہاں آیا تو راحیل بھی اس کے ساتھ تھا وہ فواد سے ملا۔”میں راحیل ریاض، میری بہن کنزہ ریاض کی کار یہاں ہے، مجھے اس کی چابی چاہیے۔” اس نے کہا تو فواد نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔”کیا ہوا؟” اسے خاموش دیکھ کر راحیل نے پوچھا تو اس نے نفی میں سر ہلایا۔”یہ لیجئے۔” فواد نے اسے چابی دی۔”شکریہ!” اس نے کہا اور وہاں سے چلا گیا جبکہ اس کے لبوں پر گہری مسکراہٹ نے احاطہ کیا۔”مس اینکر صاحبہ اب تو تمہارے بھائی سے دوستی کرنی پڑے گی۔” وہ بڑبڑایا تھا تبھی اس کے موبائل کی رنگ ٹون بجی اس نے ٹیبل سے موبائل اٹھایا فیصل صاحب کے نمبر سے کال تھی اس نے اٹینڈ کی۔”میں نے تمہیں پچھلے ہفتے سکھر آنے کا کہا تھا، تم بھول گئے کیا؟” انہوں نے اس کی یاد دہانی کروائی۔”بابا کل یہاں سے روانہ ہوں گا۔” اس نے بتایا۔”ٹھیک ہے میں منتظر رہوں گا، اپنا خیال رکھنا۔” انہوں نے کہا اور رابطہ منقطع کر دیا جبکہ وہ اپنی کیپ اٹھا کر پہنتا ہوا روم سے باہر آیا تو کانسٹیبل وہاں کھڑے محوِ گفتگو تھے اسے دیکھ کر خاموش ہو گئے۔”سر ہمیں خبر ملی ہے کراچی میں گینگ ہے جو چوری جیسی واردات میں ملوث ہے وہ علاقے سے تھوڑا آگے رہتے ہیں اور وہاں لوگوں کو یہ سب سکھاتے ہیں۔” کانسٹیبل نے علاقے کا نام لیتے ہوئے بتایا۔”آج رات ہم وہاں ریٹ کریں گے، آپ سب تیار رہیے گا۔” فواد نے کہا تو ان سب نے اثبات میں سر ہلایا وہ باہری دروازے کی جانب بڑھ گیا جبکہ وہ اپنے کام میں مصروف ہو گئے۔**********وہ گھر آکر فریش ہونے کے بعد اپنے لیے کھانا بنانے کچن میں گیا اس نے برتن اٹھائے اور کڑاہی بنانے لگا لاؤنج میں ٹی وی آن تھا سامنے ہی نیوز چینل چل رہا تھا کچن اوپن ہونے کی وجہ سے وہ ٹی وی پر بھی نظریں جما لیتا۔”السلام عليكم نیوز ہیڈلائنز کے ساتھ میں ہوں کنزہ ریاض سب سے پہلے ہیڈلائنز۔۔۔ شہر میں چوری جیسی واردات میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے، کچھ لوگوں کا گینگ ہے جو دن دھاڑے عام لوگوں کو لوٹ رہا ہے جس کی وجہ سے شہری پریشان ہیں، آج دن کے وقت دکان میں لوٹ مار کرتے وقت کچھ لوگ پکڑے گئے، پولیس نے وقت پر آکر اس گینگ کے کچھ افراد کو پکڑ لیا۔” اس نے ٹی وی کی طرف نظریں جمائیں کنزہ نے جو ویڈیو آج بنائی تھی وہ اسکرین پر چل رہی تھی کچھ دیر بعد دوسری خبریں چلنے لگیں اس نے گہرا سانس ہوا کے سپرد کیا اور اپنے کام میں مصروف ہو گیا۔ اس کے گھر میں کوکنگ کے لیے ملازم تھا جو چھٹی لے کر اپنے گاؤں گیا تھا اس کی وجہ سے وہ کچھ دنوں سے اپنے لیے خود کھانا بنا رہا تھا۔وہ کھانا بنانے کے بعد لاؤنج میں آیا اور ٹیبل پر کھانا رکھا تبھی دروازہ نوکڈ ہوا اس نے ٹی وی بند کی اور دروازہ کھولنے گیا تو سامنے اسے دیکھ کر وہ مسکرانے لگا وہ ایک ہفتے کی چھٹی لے کر اپنی فیمیلی سے ملنے لاہور گیا تھا اور آج کراچی واپس آیا تھا وہ دونوں یونیورسٹی فرینڈز تھے۔ دونوں نے ساتھ ہی پولیس کی نوکری کے لیے اپلائی کیا تھا اور اب دونوں کراچی شہر میں اپنی نوکری کی وجہ سے رہائش پذیر تھے۔”کیسے ہو رضوان؟” اس نے خوشگوار لہجے میں پوچھا تو وہ لاؤنج میں داخل ہوا۔”میں ٹھیک ہوں، تم کیسے ہو؟ مجھے یاد کیا؟” اس نے جواب دینے کے بعد شرارتی لہجے میں پوچھا۔”ٹھیک ہوں، تمہیں کیا لگتا ہے میں نے یاد کیا ہوگا؟” فواد نے صوفے پر بیٹھ کر پلیٹ میں کھانا نکالا وہ بھی صوفے پر بیٹھ چکا تھا۔”تم سے امید نہیں ہے کہ تم نے مجھے یاد کیا ہوگا۔” اس نے اپنی سوچ سے آگاھ کیا تو وہ مسکرانے لگا اور پلیٹ اس کی طرف بڑھائی۔”اچھا۔” اس نے فقط اتنا کہا اور کھانے میں مصروف ہو گیا۔”ماما چاہتی ہیں میں لاہور شفٹ ہو جاؤں۔” اس نے بتایا۔”تم چھ سالوں سے یہاں کراچی میں رہتے ہو، انھیں فکر ہوتی ہوگی، ویسے تمہیں وہاں شفٹ ہو جانا چاہیے۔” فواد نے اس کی جانب دیکھتے ہوئے کہا تو وہ حیرانی سے اسے دیکھنے لگا۔”بے وفا دوست۔” رضوان نے کہا اور صوفے سے اٹھ گیا جبکہ وہ ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگا۔”تم اتنی جلدی سیریس ہو گئے، کھانا تو کھاؤ۔” فواد نے اسے دیکھ کر کہا۔ اسے لگا رضوان کو اس کی بات بری لگی ہے تبھی وہ اٹھ گیا ہے۔”زیادہ خوش فہمی میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ہے، گھر پر کال کرنی ہے اس لیے اٹھ گیا۔ ڈنر تو کرکے جاؤں گا۔” اس نے کہا اور نمبر ڈائل کرتا ہوا سائیڈ پر گیا جبکہ اس کی بات پر وہ مسکراتا ہوا کھانے کی جانب متوجہ ہوگیا۔************رات کے دس بج رہے تھے وہ ٹاک شو میں جا رہی تھی وہ پہلے ریستوران گئی تھی جس کے باعث اسے دیر ہو گئی تھی وہ اپنی کار کی جانب بڑھی پیلے رنگ کی شرٹ پر کالے رنگ کی پینٹ زیب تن کئے کالے ہی رنگ کا ڈوپٹہ پہنے، بالوں کو کھلا چھوڑے، ہلکا میک اپ کئے، وہ ڈرائیونگ سیٹ پر جا بیٹھی اس نے کار کو آگے بڑھایا اسے جس چینل کے شو میں جانا تھا وہ دس منٹ کی مسافت پر تھا وہ کار کو ڈرائیو کر رہی تھی جب اچانک اسے فائرنگ کی آواز سنائی دی اس نے شیشے سے باہر دیکھا اس کی کار کے پیچھے دوسری کار تھی جہاں سے فائرنگ کی جا رہی تھی اس نے ہاتھ بڑھا کر اپنے بیگ سے گن نکالی اور کھڑکی سے باہر جوابی حملہ کیا اس طرف سے دوبارہ فائرنگ کی گئی تو اس نے کار کو ٹرن کیا اور اسپیڈ بڑھائی پیچھے والی کار اب واپس ٹرن کر رہی تھی اس نے شیشے میں دیکھا اس مرتبہ تو اس نے کوئی ایسی نیوز نہیں پڑھی تھی جس کی وجہ سے اس پر حملہ کیا جائے نہ ہی اس نے کسی شو میں کسی کے خلاف کوئی ایسی بات کی تھی اسے سمجھ نہیں آئی۔ اکثر اینکرز پر ایسے حملے ہوتے تھے اس لیے اس نے راحیل سے گن چلانا سیکھی تھی تاکہ اپنے دشمنوں پر جوابی حملہ کر سکے اس نے کار کو نیوز چینل کی بلڈنگ کے سامنے روکا اور گن کو کار میں رکھ کر چشمہ پہنتی ہوئی باہر آئی اس نے اپنے قدم آگے بڑھائے اور وہاں کی مینیجمنٹ سے پوچھ کر اسٹوڈیو کی جانب بڑھ گئی۔وہ اندر داخل ہوئی تو تین نیوز اینکرز اور شو کی میزبان وہاں بیٹھے ہوئے تھے کچھ دیر بعد اسے میزبان نے بلایا تو وہ مسکراتی ہوئی آہستہ سے آگے بڑھی۔ ٹاک شو شروع ہو چکا تھا وہمیزبان کے سوالوں کے جوابات دے رہے تھے جو ان سے ان کی زندگی کے متعلق سوالات پوچھ رہی تھیں۔ اسے اس شعبے میں جاب کرتے دو سال ہوئے تھے نیوز اینکر بننا اس کا بچپن کا شوق تھا۔ اس شعبے میں اسے پہلے تو کوئی پریشانی نہیں ہوتی تھی۔ دو مہینوں سے ملک کے حالات کی وجہ سے کچھ لوگ اپنے متعلق نیوز نہ پڑھنے کے لیے انھیں کال کرکے دھمکیاں دیتے تھے جبکہ اس نے ایسے لوگوں کی باتوں کو نظرانداز کیا تھا جس کے باعث اس پر کئی بار فائرنگ کی گئی تھی۔ دو گھنٹے کا شو اپنے اختتام کو پہنچ چکا تھا وہ ان سے کچھ دیر مزید بات کرنے کے بعد وہاں سے باہر آئی تھی اس نے باہر آکر اردگرد دیکھا وہاں کچھ لوگ محوِ گفتگو تھے وہ اپنے موبائل پر ٹائم دیکھنے لگی جہاں رات کے بارہ بج چکے تھے اس کا گھر وہاں سے آدھے گھنٹے کی مسافت پر تھا۔ وہ وہاں سے باہر آئی اور ڈرائیونگ سیٹ پر جا بیٹھی۔ اس نے ڈرائیونگ اسٹارٹ کی اور کار کو اپنے گھر کے راستے پر بڑھا گئی۔**********رات کے بارہ بج رہے تھے وہ سب پولیس یونیفارم میں ملبوس اپنی کار سے باہر نکل آئے تھے۔ انہوں نے اپنے قدم سامنے والے گھر کی جانب بڑھائے اور کھڑکی سے دیکھنے لگے کچھ آدمی لاؤنج میں بیٹھے ہوئے سگریٹ سلگا رہے تھے۔”تم دونوں یہی پر انتظار کرو اگر کوئی باہر نکلے تو اسے گاڑی میں بٹھانا ہم اندر جاکر دیکھتے ہیں۔” فواد نے پولیس کانسٹیبل سے کہا اور رضوان اور کچھ آفیسرز کے ساتھ گھر کی جانب بڑھ گیا۔”کون ہو تم؟” وہاں بیٹھے آدمی نے گڑبڑاتے ہوئے پوچھا۔”پولیس آفیسر ہوں، تمہیں ناشتے کے لیے دعوت دینے آیا ہوں۔” رضوان نے کہا تو پولیس آفیسرز ہنسنے لگے۔”یہ مذاق کرنے کا وقت نہیں ہے۔” فواد نے اسے گھورا۔”اچھا۔” اس نے کہا اور آدمی کے ہاتھ میں ہتھکڑی پہنا کر وہ گاڑی کی جانب بڑھا جہاں کانسٹیبلز کھڑے تھے انھیں آدمی کو گاڑی میں بٹھانے کا کہہ کر وہ واپس پلٹا تبھی گھر کے اندر سے فائرنگ کی آوازیں آنے لگیں اس نے اپنے قدم آگے بڑھائے اور اردگرد کا جائزہ لیتے ہوئے آگے بڑھا پولیس آفیسرز نوجوان لڑکوں کو پکڑے باہر نکل رہے تھے اس نے گھر کے اندر دیکھا جہاں فواد نے آدمی کے سر پر گن تانی ہوئی تھی وہ آدمی خود کو چھڑانے کی کوشش میں لگا ہوا تھا اس نے فواد کو بلایا ہی تھا جب اس آدمی نے فواد کو دکھا دیا اور اس کے ہاتھ سے گن چھینی۔”پیچھے ہو جاؤ۔” اس آدمی نے غصے میں کہا۔”گن واپس کرو۔” فواد نے کہا تو وہ آدمی الٹے قدم لینے لگا۔”تم نے یہاں آکر اچھا نہیں کیا، تمہاری وجہ سے میرے لوگ گرفتار ہو گئے، میں تم سے بدلہ ضرور لوں گا۔” اس آدمی نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا اور گولی چلائی جو کہ رضوان کی بازو سے چھو کر گزری وہ ایک پل کے لیے لڑکھڑایا تھا فواد نے اسے سہارا دیا جبکہ وہ آدمی وہاں سے رفو چکر ہونے ہی لگا تھا جب باہر سے آتے پولیس کانسٹیبل نے اسے پکڑا اور اس کے ہاتھ سے گن چھین کر چہرے پر تھپڑ رسید کیا وہ آدمی نیچے جا گرا تھا۔”تم ٹھیک تو ہو؟” فواد نے فکر مندی سے پوچھا۔”ہاں میں ٹھیک ہوں، یہاں سے چلو۔” رضوان نے اپنے چہرے کے تاثرات کو نارمل کرتے ہوئے کہا تو وہ اثبات میں سر ہلا کر اس آدمی کو پکڑ کر وہاں سے نکلا تھا جبکہ رضوان نے اپنی بازو پر ہاتھ رکھا جہاں سے خون نکل رہا تھا۔ وہ کانسٹیبل کے ساتھ باہر کی جانب بڑھ گیا۔*********(اگلے دن)”السلام عليكم! آپ کو تازہ ترین خبر سے آگاھ کرتے چلیں۔ شہر کراچی میں کچھ مہینوں سے چوری جیسی واردات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔اس سب کے پیچھے چوروں کا گینگ تھا جسے رات پولیس آفیسرز نے پکڑ لیا ہے۔ٹی وی پر نیوز چل رہی تھی وہ ناشتہ کر رہی تھی جبکہ اس کی نظریں ٹی وی پر مرکوز تھیں اس نے چائے کا کپ ٹیبل پر رکھا اور اٹھنے ہی لگی تھی جب فواد کا نام سن کر اس نے اپنی توجہ پھر سے ٹی وی کی جانب کی۔”ایس ایس پی فواد میر سے اس آپریشن کے بارے میں مزید معلومات لیتے ہیں۔” نیوز اینکر نے کہا اور فواد سے بات کرنے لگی جو ویڈیو کال پر بات کر رہا تھا۔”سننے میں آیا ہے کسی آفیسر کو گولی لگی ہے۔” اینکر نے سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا تھا۔”آپریشن کے وقت گولی پولیس آفیسر رضوان کی بازو کو چھو کر گزری ہے جس کے باعث اسے ہسپتال لے جایا گیا تھا اب وہ ٹھیک ہے۔” اس نے بتایا انداز تھکا ہوا تھا وہ رات سے اپنی جاب پر تھا آرام نہ کرنے کی وجہ سے اسے تھکاوٹ محسوس ہو رہی تھی۔”پولیس آفیسرز نے بہت اچھا کام کیا ہے۔” ریاض صاحب کی آواز پر وہ ان کی جانب متوجہ ہوئی وہ صوفے پر بیٹھے ہوئے ٹی وی دیکھنے میں مصروف تھے۔”بابا ایسی آپریشن تو شہر میں ہوتی رہتی ہے مگر پھر سے واردات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔” کنزہ نے ڈائیننگ ٹیبل کے گرد رکھی گئی کرسی سے اٹھتے ہوئے کہا۔”پولیس آفیسرز نے اچھی کوشش کی ہے، کافی مہینوں سے شہری پریشان تھے۔” ریاض صاحب نے ٹی وی سے نظریں ہٹائیں۔”ہم سکھر کب جائیں گے؟” اس نے یاد آنے پر پوچھا۔”کل شام یہاں سے روانہ ہوں گے، تم نے آفس میں بات کی؟” انہوں نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔”بابا آج آفس میں چھٹیوں کی بات کروں گی۔” کنزہ نے بتایا۔”ٹھیک ہے۔” انہوں نے کہا اور ٹی وی بند کرکے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئے جبکہ وہ برتن رکھنے کچن میں گئی۔**********اس نے کمرے میں آکر سائیڈ ٹیبل سے موبائل اٹھایا اور سارہ کا نمبر ڈائل کرنے لگی اس نے فوراً کال اٹینڈ کی تھی جس پر وہ مسکرا دی۔”کیسی ہو کنزہ؟” سارہ نے پوچھا۔”میں ٹھیک ہوں، تم کیسی ہو؟ مجھے شاپنگ پر جانا ہے تم چلو گی؟” کنزہ نے پوچھا۔”میں بھی ٹھیک ہوں، ماما سے پوچھ کر بتاتی ہوں۔” اس نے کہا۔”تم آنٹی سے پوچھ کر میسج پر بتانا میں جب تک وردہ سے کال کرکے پوچھتی ہوں۔” اس نے مسکراتے ہوئے کہا اور رابطہ منقطع کرنے کے بعد وردہ کا نمبر ڈائل کرنے لگی کچھ دیر بعد اس نے کال اٹینڈ کی تھی۔”کیا ہوا کنزہ؟” اس نے آہستہ سے پوچھا۔”کیا کر رہی ہو تم؟” اس نے جواب دینے کے بجائے اس سے پوچھا۔”ابھی تو کچھ نہیں کر رہی۔” وردہ نے بتایا۔”مجھے شاپنگ پر جانا ہے، تم چلو گی؟” اس نے پوچھا تو وہ خوش ہی ہو گئی۔”ہاں میں چلوں گی، لنچ باہر کریں گے۔” اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔”ٹھیک ہے۔” کنزہ نے کہا اور اس سے باتیں کرنے لگی کچھ دیر بعد اس نے کال کاٹی اور ڈریسنگ ٹیبل کی جانب بڑھ گئی۔ آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اس نے بالوں میں کنگھی کی کندھوں تک آتے سلکے بال اس نے بالوں کو کھلا ہی چھوڑا اور پنک لپسٹک ہونٹوں پر لگائی۔ اس نے ڈریسنگ ٹیبل سے گاڑی کی چابیاں اٹھائیں اور کمرے سے باہر آئی جہاں تحریم بیگم بیٹھی ہوئی تھیں۔”ماما میں سارہ اور وردہ کے ساتھ شاپنگ پر جا رہی ہوں۔” اس نے بتایا تو وہ اس کی جانب متوجہ ہوئیں۔”ٹھیک ہے، آفس نہیں جاؤ گی کیا؟” انہوں نے ناسمجھی سے پوچھا۔”ماما تین بجے آفس جانا ہے۔” اس نے بتایا۔”اچھا ٹھیک ہے، جاؤ۔” انہوں نے کہا تو وہ باہری دروازے کی جانب بڑھ گئی۔*********
 
صبح کے دس بج رہے تھے کراچی شہر میں اس وقت لوگ اپنے کام میں مصروف ہوتے تھے، روڈ پر ٹریفک جام تھا کچھ دیر کی مسافت کے بعد اس نے کار کو مال کے سامنے روکا اور اپنا پرس اٹھائے باہر آئی تو سارہ اور وردہ بھی باہر آئیں۔ وہ اردگرد دیکھنے لگیں۔ وہ اسی مال میں شاپنگ کرنے آتی تھیں۔ وہ باتیں کرتی ہوئیں آگے بڑھ گئیں۔”وردہ تم نے میری کال اٹینڈ کیوں نہیں کی تھی؟” سارہ نے اسے کڑے تیور لیے دیکھتے ہوئے پوچھا تو وہ گڑبڑا گئی۔”میں کچن میں کام کر رہی تھی۔” اس نے بتایا۔”اچھا کیا بنا رہی تھی؟” اس نے سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا۔”چائے بنا رہی تھی۔” اس نے بتایا اور اپنے قدم آگے بڑھائے جبکہ وہ غصے میں اسے دیکھنے لگی۔”تم نے میری کال کو نظر انداز کیا۔” سارہ نے لفظوں کو چباتے ہوئے کہا۔”موبائل لاؤنج میں پڑا تھا۔” اس نے بتایا اور کنزہ کی جانب دیکھنے لگی جو ان دونوں کو دیکھ رہی تھی۔”تم دونوں یہاں بھی لڑنے لگی ہو۔” اس نے اردگرد دیکھتے ہوئے کہا۔”وردہ!”وہ ابھی بولنے ہی والی تھی جب اپنا نام سن کر مال میں دیکھنے لگی وہ ہاتھ میں شاپنگ بیگ پکڑے انھیں دیکھ رہا تھا جبکہ اسے دیکھ کر اس کے چہرے کی مسکراہٹ سمٹ گئی اس نے نظرانداز کیا اور ان کے ساتھ آگے جانے ہی لگی تھی جب وہ مسکراتا ہوا وہاں آیا۔”تم یہاں کیا کر رہی ہو؟” اس نے پوچھا تو اسے غصہ ہی آگیا۔”پولیس آفیسر رضوان تم یہاں کیا کر رہے ہو؟” وردہ نے اس کے سوال کو نظرانداز کرتے ہوئے اس سے پوچھا۔”میں شاپنگ کرنے آیا ہوں۔” اس نے مسکراتے ہوئے بتایا۔”ہم بھی شاپنگ کرنے آئے ہیں۔” وردہ نے بتایا اور انھیں چلنے کا کہا جبکہ اس کے اس انداز پر وہ ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگا۔”یہ تم کس لہجے میں بات کر رہی ہو۔” رضوان نے تلخی سے کہا تو وہ اس کی جانب دیکھنے لگی۔”میں نے تو نارملی بات کی ہے۔” وردہ نے کہا تو کنزہ نے ان کی جانب دیکھا انھیں دیکھ کر وہ گہری سوچ میں مبتلا ہوئی اس نے اس لڑکے کو کہیں دیکھا تھا۔”میری دوست اسی لہجے میں بات کرتی ہے۔” سارہ کی بات سن کر وہ اس کی جانب دیکھنے لگا۔”میں اس کا کزن ہوں، اس نے پہلے کبھی اس لہجے میں بات نہیں کی ہے۔” اس نے بتایا تو وہ ناسمجھی سے وردہ کی جانب دیکھنے لگی تبھی مردانہ آواز سن کر انہوں نے اپنی نظریں سامنے کیں۔”رضوان چلیں دیر ہو رہی ہے۔” اس نے موبائل سے اپنی نظریں ہٹاتے ہوئے کہا۔”ہاں میں بات کر لوں تو چلتے ہیں۔” رضوان نے کہا تو اس نے اپنی نظریں ان لڑکیوں کی جانب کیں اسے وہاں دیکھ کر فواد کو غصہ ہی آگیا۔”ان سے بات کرکے وقت ضائع کرو گے کیا؟” فواد نے تلخی سے کہا۔”ہم نے اسے نہیں کہا بات کرو، سمجھے!” جواباً کنزہ نے بھی غصے میں کہا۔”میں نے تم سے بات نہیں کی۔” اس نے لفظوں کو چباتے ہوئے کہا تو اس کے غصے کا گراف بڑھ ہی گیا۔”آپ مس اینکر کنزہ ریاض ہیں؟” رضوان نے اس سے پوچھا تو وہ اسے دیکھنے لگی جو سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔”جی!” اس نے فقط اتنا کہا اور وردہ کی جانب دیکھا جو خاموش نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔”میں نے اسے کہا تھا مجھے لنچ پر جانا ہے اس نے ماما کو شکایت لگائی تھی اس کی وجہ سے ماما نے مجھے ڈانٹا تھا۔” کنزہ کو غصے میں دیکھ کر اس نے بتایا تو رضوان کا قہقہہ گونجا جبکہ وہ سب ناسمجھی سے انھیں دیکھنے لگے۔”اس میں ناراض ہونے والی کیا بات تھی؟” اس نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔”ناراض ہونے والی ہی بات ہے، تمہاری وجہ سے ماما نے مجھ سے کار کی چابی واپس لی تھی۔” اس نے پھر سے جتایا۔”اچھا۔ آئندہ شکایت کا موقع نہیں دوں گا۔” اس نے اپنی مسکراہٹ کو روکا تو وہ سوچنے لگی۔”ٹھیک ہے، پھر بات ہوگی۔” اس نے کہا اور ان کے ساتھ آگے کی جانب بڑھ گئی جبکہ وہ فواد کی جانب دیکھنے لگا جو اپنا غصہ ضبط کرنے کی کوشش میں تھا۔”تمہیں کیا ہوا ہے؟” اس نے ناسمجھی سے پوچھا۔”کچھ بھی نہیں، چلو۔” اس نے کہا اور باہر کی جانب اپنے قدم بڑھائے تو وہ بھی مسکراتا ہوا چلا گیا۔”یہ لڑکا کون تھا؟” کنزہ نے ناسمجھی سے پوچھا۔”میرا کزن ہے، پولیس میں جاب کرتا ہے۔” وردہ نے بتایا۔”میری شو میں اس سے بات ہوئی تھی۔” کنزہ نے بتایا۔”اچھا۔” اس نے کہا اور کپڑے دیکھنے لگی جبکہ وہ سارہ کے بلانے پر اس کی جانب متوجہ ہوئی جو اسے کپڑے دکھا کر اس کی پسند کا پوچھ رہی تھی اس نے نیلے رنگ کا سوٹ پسند کیا تو سارہ نے اسے لینے کا کہا اور وردہ کی جانب بڑھ گئی۔*********
 
وہ شاپنگ کرنے کے بعد گھر آئے تھے اس نے پیکنگ کی اور تیار ہونے کے بعد لاؤنج میں آیا تو رضوان موبائل میں مصروف تھا اس کے بلانے پر اس کی جانب متوجہ ہوا۔”میں سکھر جا رہا ہوں، تم اپنا خیال رکھنا۔” اس نے ورسٹ واٹچ میں ٹائم دیکھا۔”ٹھیک ہے، تم نے مجھے سکھر چلنے کا نہیں کہا۔” اس نے یاد دلایا تو وہ ابرو اچکا کر اسے دیکھنے لگا جیسے کہا ہو تمہاری نوکری کون کرے گا؟”ابھی تو تم لاہور گھوم کر آئے ہو، تم نے بتایا نہیں تمہارے کزنز بھی یہاں رہتے ہیں۔” فواد نے یاد آنے پر کہا تو وہ ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگا تبھی اسے مال والی بات یاد آئی۔”میرے چاچو یہاں رہتے ہیں، وہ کچھ سال پہلے کراچی شفٹ ہوئے تھے تب میری ٹریننگ ہو رہی تھی پھر نوکری لگ گئی تو میں ان کے گھر نہیں جا پاتا تھا۔ کچھ مہینے قبل چاچو نے کال کرکے مجھے گھر کا ایڈریس بتایا تھا تو میں ان کے گھر چلا گیا تھا۔ وہاں میری چاچی اور وردہ سے بھی ملاقات ہوئی تھی چاچو نے کہا میں ان کے گھر رہائش پذیر ہو جاؤں لیکن میں نے منع کر دیا میں نے ان کو بتایا اپنے دوست کے ساتھ اس کے گھر میں رہتا ہوں جہاں مجھے کوئی پریشانی نہیں ہے۔” اس نے اپنی مسکراہٹ کو روکا تو وہ اسے گھور کر رہ گیا۔”اس نیوز اینکر کو تم جانتے ہو کیا؟” اس نے تفتیشی انداز میں پوچھا۔”میں نے اس کے شو میں بات کی تھی اس لیے جانتا ہوں، آج پتا چلا وردہ کی دوست ہے اب تو میں اس سے بات کروں گا۔” اس نے مسکراتے ہوئے کہا تو فواد نے اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا۔”اس لڑکی سے بات کرنے کی ضرورت نہیں ہے، اسے صرف خبریں چاہیے جو وہ پہلے اپنے چینل پر پھیلائے۔” فواد نے اسے فیصل صاحب والی نیوز کا بتایا تو وہ گہری سوچ میں مبتلا ہو گیا۔”مجھے نہیں لگتا اس نے جان بوجھ کر وہ خبر پڑھی ہوگی، تمہیں یہ سب کچھ رپورٹر سے پوچھنا چاہیے تھا اور اس کے ساتھ جو کیمرہ مین تھا انہوں نے ہی یہ خبر اکھٹی کی ہوگی نیوز اینکر نے تو پڑھی تھی۔” رضوان نے پرسوچ انداز میں کہا۔”تم اس معاملے سے دور رہو، میں نے اپنے آدمی کو کہا ہے کیمرہ مین کو ڈھونڈے۔” اس نے کہا اور بیگ اٹھایا جبکہ وہ غصے میں اسے دیکھنے لگا۔”میں تمہارے معاملے میں کب پڑا؟” اس نے دریافت کیا تو اس نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔”اچھا تم اس بات کو رہنے دو، میں ابھی سکھر کے لیے روانہ ہو رہا ہوں تم اپنی جاب پر توجہ دینا اور مجھے کال کرتے رہنا۔” اس نے کہا تو رضوان نے اثبات میں سر ہلایا وہ اس کی بات پر جذباتی ہو گیا تھا جبکہ اس نے نارمل لہجے میں بات کی تھی۔ وہ اس سے بات کرکے باہری دروازے کی جانب بڑھ گیا جبکہ اس نے باہری دروازہ بند کیا اور صوفے پر جا بیٹھا۔***********
 
وہ شاپنگ کرنے کے بعد اپنی جاب پر چلی گئی تھی۔ وہ آفس میں بیٹھی ہوئی اینکر سے باتوں میں مصروف تھی جب اس کے موبائل کی رنگ ٹون بجی اس نے دیکھا کسی انجان نمبر سے کال تھی اس نے نظرانداز کیا تو پھر سے رنگ ٹون بجنے لگی اس نے سائیڈ پر جا کر کال اٹینڈ کی تو مردانہ آواز سن کر وہ خاموش رہی۔”اپنی نوکری سے ریزائن دو۔” آدمی نے کہا تو وہ حیران رہ گئی۔”کیا مطلب ہے تمہارا؟” کنزہ نے ناسمجھی سے پوچھا۔”میں تمہارے گھر رشتہ بھیجنا چاہتا ہوں۔” فون کی اس طرف سے آواز آئی تو اس نے ناسمجھی سے اردگرد دیکھا۔”تم جاکے اپنا کام کرو، اب مجھے کال مت کرنا۔” اس نے تلخ لہجے میں کہا اور کال کاٹ دی۔ اسے سمجھ نہیں آئی کون ہے جو اسے کال کرکے ایسا کہہ رہا ہے اس نے اپنا غصہ ضبط کیا اور پیپرز اٹھا کر پڑھنے لگی۔رات کے آٹھ بج رہے تھے وہ اپنا پرس اٹھائے آفس سے باہر آئی تھی۔ اس نے کار میں بیٹھ کر کار اسٹارٹ کی مگر کار نہیں چلی تو اس نے باہر آکر دیکھا۔ کسی نے کار کا ٹائر پنکچر کیا تھا۔ اس نے پرس سے موبائل نکال کر راحیل کا نمبر ڈائل کیا کال جا رہی تھی مگر اٹینڈ نہیں کی گئی تو اس نے موبائل کو پرس میں رکھا اور بس کا انتظار کرنے لگی۔ وہ کب سے وہاں کھڑی انتظار کر رہی تھی جب اس کے سامنے کار رکی آدمی کار سے باہر آیا۔”آپ کب سے یہاں کھڑی ہیں، گھر نہیں جانا کیا؟” اس نے تفتیشی انداز سے پوچھا تو وہ اسے دیکھنے لگی۔ کالے رنگ کی شرٹ پر کالے ہی رنگ کی پینٹ پہنے، ہاتھ میں مہنگی ورسٹ واٹچ پہنے، سفید رنگت وہ اسے دیکھ رہا تھا۔”بس کا انتظار کر رہی ہوں۔” اس نے بتایا۔”زندگی میں سب سے دشوار ہوتا ہے کسی کا انتظار کرنا، چاہے بس اسٹاپ پر کھڑے ہو کر بس کا انتظار کرنا، یا بس میں بیٹھ کر اپنی منزل پر پہنچ جانے کا انتظار کرنا۔ انتظار کوفت میں مبتلا کر دیتا ہے۔” اس نے اپنے خیالوں میں کھوئے ہوئے کہا تو وہ اسے دیکھنے لگی۔”آپ کو انتظار کرنا پسند نہیں ہے کیا؟” کنزہ نے اس سے پوچھا تو وہ اس کی جانب متوجہ ہوا۔”نہیں۔” اس نے جواب دیا۔”اچھا۔” اس نے کہا۔”آپ کار میں بیٹھیں میں آپ کو گھر چھوڑ دوں گا۔” اس نے خوش اسلوبی سے کہا تو وہ سوچنے لگی۔”اس میں سوچنے والی کیا بات ہے؟” اس نے پوچھا تو وہ اسے دیکھنے لگی۔”نیوز اینکر ہوں، سوچ سمجھ کر فیصلہ کروں گی۔” اس نے مسکراتے ہوئے کہا تو جواباً وہ بھی ہنسنے لگا۔”میں بھی بزنس مین ہوں، میرے پاس صرف اہم لوگوں کے لیے وقت ہوتا ہے۔” اس نے بتایا تو وہ حیران ہوئی۔”اچھا۔” اس نے حیرانی سے کہا۔وہ ڈرائیونگ سیٹ پر جا بیٹھا اس نے کنزہ کی طرف دیکھا جو گہری سوچ میں مبتلا تھی وہ کچھ دیر سوچنے کے بعد بیک سیٹ پر بیٹھ گئی تو گہری مسکراہٹ نے اس کے ہونٹوں کا احاطہ کیا اس نے ڈرائیونگ اسٹارٹ کی اور کار کو آگے بڑھا گیا۔آدھے گھنٹے کی مسافت کے بعد اس نے کار کو گھر کے سامنے روکا تو وہ کار سے باہر آئی۔”شکریہ!” اس نے آہستہ سے کہا تو وہ مسکرا کر اسے دیکھنے لگا۔”مس اینکر۔۔” وہ ابھی آگے بھی کچھ کہتا جب کنزہ نے اس کی بات کاٹی۔”نیوز اینکر کنزہ ریاض۔” اس نے کہا تو وہ حیرانی سے اسے دیکھنے لگا وہ لڑکی غصے والی لگ رہی تھی۔”اریب سومرو۔” اس نے بھی اپنا نام بتایا۔”آپ کو دیر نہیں ہو رہی؟” اس نے پوچھا تو وہ مسکرانے لگا۔”اہم لوگوں سے بات کرنے کے لیے میرے پاس وقت ہے، آپ میرا نمبر رکھ لیجئے۔” اس نے کارڈ اس کی طرف بڑھایا جو کہ اس نے نہیں لیا۔”اریب سومرو آپ اب جائیں۔” اس نے مسکرانے کی سعی کی جبکہ اس کے اس طرح کہنے پر اسے برا لگا تھا اس نے ڈرائیونگ اسٹارٹ کی اور کار کو آگے بڑھا گیا۔ وہ کچھ دیر وہاں کھڑی رہی اس کے بعد گھر کی جانب بڑھ گئی۔************
 
صبح کے دس بج رہے تھے کراچی شہر میں اس وقت لوگ اپنے کام میں مصروف ہوتے تھے، روڈ پر ٹریفک جام تھا کچھ دیر کی مسافت کے بعد اس نے کار کو مال کے سامنے روکا اور اپنا پرس اٹھائے باہر آئی تو سارہ اور وردہ بھی باہر آئیں۔ وہ اردگرد دیکھنے لگیں۔ وہ اسی مال میں شاپنگ کرنے آتی تھیں۔ وہ باتیں کرتی ہوئیں آگے بڑھ گئیں۔”وردہ تم نے میری کال اٹینڈ کیوں نہیں کی تھی؟” سارہ نے اسے کڑے تیور لیے دیکھتے ہوئے پوچھا تو وہ گڑبڑا گئی۔”میں کچن میں کام کر رہی تھی۔” اس نے بتایا۔”اچھا کیا بنا رہی تھی؟” اس نے سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا۔”چائے بنا رہی تھی۔” اس نے بتایا اور اپنے قدم آگے بڑھائے جبکہ وہ غصے میں اسے دیکھنے لگی۔”تم نے میری کال کو نظر انداز کیا۔” سارہ نے لفظوں کو چباتے ہوئے کہا۔”موبائل لاؤنج میں پڑا تھا۔” اس نے بتایا اور کنزہ کی جانب دیکھنے لگی جو ان دونوں کو دیکھ رہی تھی۔”تم دونوں یہاں بھی لڑنے لگی ہو۔” اس نے اردگرد دیکھتے ہوئے کہا۔”وردہ!”وہ ابھی بولنے ہی والی تھی جب اپنا نام سن کر مال میں دیکھنے لگی وہ ہاتھ میں شاپنگ بیگ پکڑے انھیں دیکھ رہا تھا جبکہ اسے دیکھ کر اس کے چہرے کی مسکراہٹ سمٹ گئی اس نے نظرانداز کیا اور ان کے ساتھ آگے جانے ہی لگی تھی جب وہ مسکراتا ہوا وہاں آیا۔”تم یہاں کیا کر رہی ہو؟” اس نے پوچھا تو اسے غصہ ہی آگیا۔”پولیس آفیسر رضوان تم یہاں کیا کر رہے ہو؟” وردہ نے اس کے سوال کو نظرانداز کرتے ہوئے اس سے پوچھا۔”میں شاپنگ کرنے آیا ہوں۔” اس نے مسکراتے ہوئے بتایا۔”ہم بھی شاپنگ کرنے آئے ہیں۔” وردہ نے بتایا اور انھیں چلنے کا کہا جبکہ اس کے اس انداز پر وہ ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگا۔”یہ تم کس لہجے میں بات کر رہی ہو۔” رضوان نے تلخی سے کہا تو وہ اس کی جانب دیکھنے لگی۔”میں نے تو نارملی بات کی ہے۔” وردہ نے کہا تو کنزہ نے ان کی جانب دیکھا انھیں دیکھ کر وہ گہری سوچ میں مبتلا ہوئی اس نے اس لڑکے کو کہیں دیکھا تھا۔”میری دوست اسی لہجے میں بات کرتی ہے۔” سارہ کی بات سن کر وہ اس کی جانب دیکھنے لگا۔”میں اس کا کزن ہوں، اس نے پہلے کبھی اس لہجے میں بات نہیں کی ہے۔” اس نے بتایا تو وہ ناسمجھی سے وردہ کی جانب دیکھنے لگی تبھی مردانہ آواز سن کر انہوں نے اپنی نظریں سامنے کیں۔”رضوان چلیں دیر ہو رہی ہے۔” اس نے موبائل سے اپنی نظریں ہٹاتے ہوئے کہا۔”ہاں میں بات کر لوں تو چلتے ہیں۔” رضوان نے کہا تو اس نے اپنی نظریں ان لڑکیوں کی جانب کیں اسے وہاں دیکھ کر فواد کو غصہ ہی آگیا۔”ان سے بات کرکے وقت ضائع کرو گے کیا؟” فواد نے تلخی سے کہا۔”ہم نے اسے نہیں کہا بات کرو، سمجھے!” جواباً کنزہ نے بھی غصے میں کہا۔”میں نے تم سے بات نہیں کی۔” اس نے لفظوں کو چباتے ہوئے کہا تو اس کے غصے کا گراف بڑھ ہی گیا۔”آپ مس اینکر کنزہ ریاض ہیں؟” رضوان نے اس سے پوچھا تو وہ اسے دیکھنے لگی جو سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔”جی!” اس نے فقط اتنا کہا اور وردہ کی جانب دیکھا جو خاموش نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔”میں نے اسے کہا تھا مجھے لنچ پر جانا ہے اس نے ماما کو شکایت لگائی تھی اس کی وجہ سے ماما نے مجھے ڈانٹا تھا۔” کنزہ کو غصے میں دیکھ کر اس نے بتایا تو رضوان کا قہقہہ گونجا جبکہ وہ سب ناسمجھی سے انھیں دیکھنے لگے۔”اس میں ناراض ہونے والی کیا بات تھی؟” اس نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔”ناراض ہونے والی ہی بات ہے، تمہاری وجہ سے ماما نے مجھ سے کار کی چابی واپس لی تھی۔” اس نے پھر سے جتایا۔”اچھا۔ آئندہ شکایت کا موقع نہیں دوں گا۔” اس نے اپنی مسکراہٹ کو روکا تو وہ سوچنے لگی۔”ٹھیک ہے، پھر بات ہوگی۔” اس نے کہا اور ان کے ساتھ آگے کی جانب بڑھ گئی جبکہ وہ فواد کی جانب دیکھنے لگا جو اپنا غصہ ضبط کرنے کی کوشش میں تھا۔”تمہیں کیا ہوا ہے؟” اس نے ناسمجھی سے پوچھا۔”کچھ بھی نہیں، چلو۔” اس نے کہا اور باہر کی جانب اپنے قدم بڑھائے تو وہ بھی مسکراتا ہوا چلا گیا۔”یہ لڑکا کون تھا؟” کنزہ نے ناسمجھی سے پوچھا۔”میرا کزن ہے، پولیس میں جاب کرتا ہے۔” وردہ نے بتایا۔”میری شو میں اس سے بات ہوئی تھی۔” کنزہ نے بتایا۔”اچھا۔” اس نے کہا اور کپڑے دیکھنے لگی جبکہ وہ سارہ کے بلانے پر اس کی جانب متوجہ ہوئی جو اسے کپڑے دکھا کر اس کی پسند کا پوچھ رہی تھی اس نے نیلے رنگ کا سوٹ پسند کیا تو سارہ نے اسے لینے کا کہا اور وردہ کی جانب بڑھ گئی۔*********
 
وہ شاپنگ کرنے کے بعد گھر آئے تھے اس نے پیکنگ کی اور تیار ہونے کے بعد لاؤنج میں آیا تو رضوان موبائل میں مصروف تھا اس کے بلانے پر اس کی جانب متوجہ ہوا۔”میں سکھر جا رہا ہوں، تم اپنا خیال رکھنا۔” اس نے ورسٹ واٹچ میں ٹائم دیکھا۔”ٹھیک ہے، تم نے مجھے سکھر چلنے کا نہیں کہا۔” اس نے یاد دلایا تو وہ ابرو اچکا کر اسے دیکھنے لگا جیسے کہا ہو تمہاری نوکری کون کرے گا؟”ابھی تو تم لاہور گھوم کر آئے ہو، تم نے بتایا نہیں تمہارے کزنز بھی یہاں رہتے ہیں۔” فواد نے یاد آنے پر کہا تو وہ ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگا تبھی اسے مال والی بات یاد آئی۔”میرے چاچو یہاں رہتے ہیں، وہ کچھ سال پہلے کراچی شفٹ ہوئے تھے تب میری ٹریننگ ہو رہی تھی پھر نوکری لگ گئی تو میں ان کے گھر نہیں جا پاتا تھا۔ کچھ مہینے قبل چاچو نے کال کرکے مجھے گھر کا ایڈریس بتایا تھا تو میں ان کے گھر چلا گیا تھا۔ وہاں میری چاچی اور وردہ سے بھی ملاقات ہوئی تھی چاچو نے کہا میں ان کے گھر رہائش پذیر ہو جاؤں لیکن میں نے منع کر دیا میں نے ان کو بتایا اپنے دوست کے ساتھ اس کے گھر میں رہتا ہوں جہاں مجھے کوئی پریشانی نہیں ہے۔” اس نے اپنی مسکراہٹ کو روکا تو وہ اسے گھور کر رہ گیا۔”اس نیوز اینکر کو تم جانتے ہو کیا؟” اس نے تفتیشی انداز میں پوچھا۔”میں نے اس کے شو میں بات کی تھی اس لیے جانتا ہوں، آج پتا چلا وردہ کی دوست ہے اب تو میں اس سے بات کروں گا۔” اس نے مسکراتے ہوئے کہا تو فواد نے اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا۔”اس لڑکی سے بات کرنے کی ضرورت نہیں ہے، اسے صرف خبریں چاہیے جو وہ پہلے اپنے چینل پر پھیلائے۔” فواد نے اسے فیصل صاحب والی نیوز کا بتایا تو وہ گہری سوچ میں مبتلا ہو گیا۔”مجھے نہیں لگتا اس نے جان بوجھ کر وہ خبر پڑھی ہوگی، تمہیں یہ سب کچھ رپورٹر سے پوچھنا چاہیے تھا اور اس کے ساتھ جو کیمرہ مین تھا انہوں نے ہی یہ خبر اکھٹی کی ہوگی نیوز اینکر نے تو پڑھی تھی۔” رضوان نے پرسوچ انداز میں کہا۔”تم اس معاملے سے دور رہو، میں نے اپنے آدمی کو کہا ہے کیمرہ مین کو ڈھونڈے۔” اس نے کہا اور بیگ اٹھایا جبکہ وہ غصے میں اسے دیکھنے لگا۔”میں تمہارے معاملے میں کب پڑا؟” اس نے دریافت کیا تو اس نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔”اچھا تم اس بات کو رہنے دو، میں ابھی سکھر کے لیے روانہ ہو رہا ہوں تم اپنی جاب پر توجہ دینا اور مجھے کال کرتے رہنا۔” اس نے کہا تو رضوان نے اثبات میں سر ہلایا وہ اس کی بات پر جذباتی ہو گیا تھا جبکہ اس نے نارمل لہجے میں بات کی تھی۔ وہ اس سے بات کرکے باہری دروازے کی جانب بڑھ گیا جبکہ اس نے باہری دروازہ بند کیا اور صوفے پر جا بیٹھا۔***********
 
وہ شاپنگ کرنے کے بعد اپنی جاب پر چلی گئی تھی۔ وہ آفس میں بیٹھی ہوئی اینکر سے باتوں میں مصروف تھی جب اس کے موبائل کی رنگ ٹون بجی اس نے دیکھا کسی انجان نمبر سے کال تھی اس نے نظرانداز کیا تو پھر سے رنگ ٹون بجنے لگی اس نے سائیڈ پر جا کر کال اٹینڈ کی تو مردانہ آواز سن کر وہ خاموش رہی۔”اپنی نوکری سے ریزائن دو۔” آدمی نے کہا تو وہ حیران رہ گئی۔”کیا مطلب ہے تمہارا؟” کنزہ نے ناسمجھی سے پوچھا۔”میں تمہارے گھر رشتہ بھیجنا چاہتا ہوں۔” فون کی اس طرف سے آواز آئی تو اس نے ناسمجھی سے اردگرد دیکھا۔”تم جاکے اپنا کام کرو، اب مجھے کال مت کرنا۔” اس نے تلخ لہجے میں کہا اور کال کاٹ دی۔ اسے سمجھ نہیں آئی کون ہے جو اسے کال کرکے ایسا کہہ رہا ہے اس نے اپنا غصہ ضبط کیا اور پیپرز اٹھا کر پڑھنے لگی۔رات کے آٹھ بج رہے تھے وہ اپنا پرس اٹھائے آفس سے باہر آئی تھی۔ اس نے کار میں بیٹھ کر کار اسٹارٹ کی مگر کار نہیں چلی تو اس نے باہر آکر دیکھا۔ کسی نے کار کا ٹائر پنکچر کیا تھا۔ اس نے پرس سے موبائل نکال کر راحیل کا نمبر ڈائل کیا کال جا رہی تھی مگر اٹینڈ نہیں کی گئی تو اس نے موبائل کو پرس میں رکھا اور بس کا انتظار کرنے لگی۔ وہ کب سے وہاں کھڑی انتظار کر رہی تھی جب اس کے سامنے کار رکی آدمی کار سے باہر آیا۔”آپ کب سے یہاں کھڑی ہیں، گھر نہیں جانا کیا؟” اس نے تفتیشی انداز سے پوچھا تو وہ اسے دیکھنے لگی۔ کالے رنگ کی شرٹ پر کالے ہی رنگ کی پینٹ پہنے، ہاتھ میں مہنگی ورسٹ واٹچ پہنے، سفید رنگت وہ اسے دیکھ رہا تھا۔”بس کا انتظار کر رہی ہوں۔” اس نے بتایا۔”زندگی میں سب سے دشوار ہوتا ہے کسی کا انتظار کرنا، چاہے بس اسٹاپ پر کھڑے ہو کر بس کا انتظار کرنا، یا بس میں بیٹھ کر اپنی منزل پر پہنچ جانے کا انتظار کرنا۔ انتظار کوفت میں مبتلا کر دیتا ہے۔” اس نے اپنے خیالوں میں کھوئے ہوئے کہا تو وہ اسے دیکھنے لگی۔”آپ کو انتظار کرنا پسند نہیں ہے کیا؟” کنزہ نے اس سے پوچھا تو وہ اس کی جانب متوجہ ہوا۔”نہیں۔” اس نے جواب دیا۔”اچھا۔” اس نے کہا۔”آپ کار میں بیٹھیں میں آپ کو گھر چھوڑ دوں گا۔” اس نے خوش اسلوبی سے کہا تو وہ سوچنے لگی۔”اس میں سوچنے والی کیا بات ہے؟” اس نے پوچھا تو وہ اسے دیکھنے لگی۔”نیوز اینکر ہوں، سوچ سمجھ کر فیصلہ کروں گی۔” اس نے مسکراتے ہوئے کہا تو جواباً وہ بھی ہنسنے لگا۔”میں بھی بزنس مین ہوں، میرے پاس صرف اہم لوگوں کے لیے وقت ہوتا ہے۔” اس نے بتایا تو وہ حیران ہوئی۔”اچھا۔” اس نے حیرانی سے کہا۔وہ ڈرائیونگ سیٹ پر جا بیٹھا اس نے کنزہ کی طرف دیکھا جو گہری سوچ میں مبتلا تھی وہ کچھ دیر سوچنے کے بعد بیک سیٹ پر بیٹھ گئی تو گہری مسکراہٹ نے اس کے ہونٹوں کا احاطہ کیا اس نے ڈرائیونگ اسٹارٹ کی اور کار کو آگے بڑھا گیا۔آدھے گھنٹے کی مسافت کے بعد اس نے کار کو گھر کے سامنے روکا تو وہ کار سے باہر آئی۔”شکریہ!” اس نے آہستہ سے کہا تو وہ مسکرا کر اسے دیکھنے لگا۔”مس اینکر۔۔” وہ ابھی آگے بھی کچھ کہتا جب کنزہ نے اس کی بات کاٹی۔”نیوز اینکر کنزہ ریاض۔” اس نے کہا تو وہ حیرانی سے اسے دیکھنے لگا وہ لڑکی غصے والی لگ رہی تھی۔”اریب سومرو۔” اس نے بھی اپنا نام بتایا۔”آپ کو دیر نہیں ہو رہی؟” اس نے پوچھا تو وہ مسکرانے لگا۔”اہم لوگوں سے بات کرنے کے لیے میرے پاس وقت ہے، آپ میرا نمبر رکھ لیجئے۔” اس نے کارڈ اس کی طرف بڑھایا جو کہ اس نے نہیں لیا۔”اریب سومرو آپ اب جائیں۔” اس نے مسکرانے کی سعی کی جبکہ اس کے اس طرح کہنے پر اسے برا لگا تھا اس نے ڈرائیونگ اسٹارٹ کی اور کار کو آگے بڑھا گیا۔ وہ کچھ دیر وہاں کھڑی رہی اس کے بعد گھر کی جانب بڑھ گئی۔************
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Back
Top