• 📚 لوو اسٹوری فورم ممبرشپ

    بنیادی ڈیل

    وی آئی پی

    5000
    تین ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    وی آئی پی پلس

    8000
    چھ ماہ کے لیے
    ٹاپ پیکیج
    👑

    پریمیم

    20000
    چھ ماہ کے لیے

Life Story راہِ ۔۔۔۔۔زندگی

وہ لاؤنج میں بیٹھا ہوا موبائل استعمال کر رہا تھا جب اس کے موبائل کی بپ بجی اس نے کال اٹینڈ کی اور کان سے موبائل لگایا۔
“فواد میر میرے آدمیوں کو چھوڑ دو۔” موبائل کی اس طرف سے کہا گیا تو اس نے گہرا سانس ہوا کے سپرد کیا۔
“ایس ایچ او صاحب اب ان سے تمہاری ملاقات جیل میں ہوگی، تیار رہنا۔” اس نے لفظوں کو چباتے ہوئے کہا تو اسے غصہ ہی آگیا۔ اس سے قبل کہ وہ کچھ بولتا فواد نے کال کاٹی اور صوفے سے اٹھ گیا۔
“فواد کہاں جا رہے ہو؟” اسے باہر جاتے ہوئے دیکھ کر رضوان نے پوچھا۔ وہ صوفے پر بیٹھا ہوا موبائل استعمال کر رہا تھا۔ فواد کچھ دیر قبل آیا تھا اور آرام کرنے کے بجائے باہر جا رہا تھا۔
“کچھ کام ہے، واپس آکر بتاؤں گا۔” اس نے کہا اور باہری دروازے کی جانب بڑھ گیا۔
اس نے باہر آکر نمبر ڈائل کیا۔ کال جا رہی تھی لیکن اس طرف سے اٹینڈ نہیں کی گئی فواد نے دوبارہ نمبر ڈائل کیا لیکن کال نہیں اٹھائی گئی اس نے موبائل آف کیا اور کار میں جا بیٹھا اور ڈرائیونگ اسٹارٹ کی۔ رات کے آٹھ بج رہے تھے اس نے کار کو پولیس اسٹیشن کے راستے پر ڈرائیو کیا پندرہ منٹ کی مسافت کے بعد اس نے کار کو پولیس اسٹیشن کے سامنے روکا اور موبائل اٹھا کر کار سے باہر آیا۔
“سر آپ واپس کب آئے؟” پولیس کانسٹیبل نے اسے دیکھ کر پوچھا۔
“آج واپس آیا ہوں، کیسے ہو؟” فواد نے اسے بتا کر پوچھا۔
“ٹھیک ہوں۔” کانسٹیبل نے مسکراتے ہوئے بتایا تو وہ اندر کی جانب بڑھ گیا۔ اسے وہاں دیکھ کر پولیس کانسٹیبلزنے سلیوٹ کیا۔ اس نے کانسٹیبل کو بلا کر آدمیوں کے بارے میں پوچھا تو اس نے بتایا وہ جیل میں ہیں۔ وہ جیل کی طرف آیا۔
“دروازہ کھولو، مجھے بات کرنی ہے۔” جیل کے باہر پولیس کانسٹیبل کھڑا تھا فواد نے اسے کہا تو اس نے دروازہ کھولا۔
“جیل میں کیسا لگ رہا ہے؟” اس نے آدمیوں سے پوچھا جو آپس میں گفتگو کر رہے تھے۔
“اچھا لگ رہا ہے۔” آدمی نے جواب دیا اور اس کے منہ پر مکا رسید کیا تو فواد نے ناسمجھی سے
اسے دیکھا سمجھ آنے پر اس نے آدمی کے چہرے پر تھپڑ رسید کیا وہ اسے پھر سے مارنے والا تھا جب پولیس کانسٹیبل نے آدمی کو پکڑا۔
“سر آپ ٹھیک تو ہیں؟” پولیس کانسٹیبل نے پریشان ہوتے ہوئے پوچھا۔
“ٹھیک ہوں، مجھے اس آدمی کی معلومات چاہیے۔” فواد نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے غصے میں کہا اور جیل سے باہر نکل آیا جبکہ پولیس کانسٹیبل نے آدمی کو گھورا اور باہر نکل کر دروازے پر تالا لگانے لگا۔ تالا لگانے کے بعد اس نے ٹیبل سے فائل اٹھائی اور فواد کو دی۔
“سر اس فائل میں اس آدمی کی مکمل معلومات ہے۔” پولیس کانسٹیبل نے اسے فائل دی تو فواد نے
اس سے فائل لی۔
“میں ابھی گھر جا رہا ہوں، یہ فائل پڑھ کر کل آفس میں رکھ دوں گا۔” اس نے ورسٹ واٹچ میں ٹائم دیکھا رات کے ساڑھے آٹھ بج رہے تھے۔
“ٹھیک ہے۔” پولیس کانسٹیبل نے کہا اور اپنی ڈیوٹی پر چلا گیا جبکہ فواد وہاں سے نکل آیا اور اپنی کار کی جانب بڑھ گیا۔


صبح کے دس بج رہے تھے وہ تحریم بیگم کو بتا کر گھر سے باہر نکلی اور کار کی جانب آئی۔ کالے
رنگ کی پینٹ پر نیلے رنگ کی شرٹ پہنے، کالے رنگ کا دوپٹہ کندھے پر رکھے، بالوں کو کھلا چھوڑے، ڈارک رنگ کی لیپسٹک لگائے وہ آفس کے لیے تیار ہوئی تھی۔ اس نے پرس اور موبائل کار میں رکھا اور ڈرائیونگ سیٹ پر آکر بیٹھ گئی اور کار کو اسٹارٹ کیا۔ وہ آہستہ سے کار ڈرائیو کر رہی تھی جب اسے فائرنگ کی آواز سنائی دی اس نے شیشے سے باہر دیکھا اس کی کار کے پیچھے گاڑی تھی جو اس کا پیچھا کر رہی تھی اس نے کار کو ٹرن کرنا چاہا جب پھر سے گولی چلنے کی آواز آئی اس نے اپنا پرس اٹھایا اور اس میں سے گن نکالی۔ کار کو روک کر اس نے شیشے سے باہر دیکھا وہ گاڑی اب بھی پیچھے تھی اس نے گن کا رخ باہر کیا اور اس گاڑی کا نشانہ لیا گولی
گاڑی کے ٹائر پر جا لگی تو کنزہ نے گن کو پرس میں رکھا اور تیز رفتار سے کار چلانے لگی۔ اس نے کار کو پولیس اسٹیشن کے راستے پر چلایا اور دس منٹ کی مسافت کے بعد کار کو روکا اور باہر نکل آئی۔
“کیا ہوا؟ کوئی کام ہے؟” پولیس کانسٹیبل نے ناسمجھی سے پوچھا۔
“مجھے ایس ایس پی فواد میر سے بات کرنی ہے۔” اس نے بتایا اور آگے بڑھ گئی جبکہ پولیس کانسٹیبل نے فواد کے نمبر پر کال ملائی تو اس نے فوراً اٹینڈ کی۔
“سر آپ سے بات کرنے کے لیے لڑکی آئی ہے۔” اس
نے بتایا۔
“کونسی لڑکی؟” فواد نے ناسمجھی سے پوچھا۔
“سر اس نے اپنے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔” پولیس کانسٹیبل نے کہا۔
“ٹھیک ہے۔” فواد نے کہا اور کال کاٹ دی وہ تھانے کے اندر آئی تھی۔
“ایس ایس پی فواد میر مجھے ایف۔آئی۔آر درج کروانی ہے۔” کنزہ نے کہا اور کرسی پر بیٹھ گئی جبکہ اس نے غصے میں اس کی طرف دیکھا۔ پولیس کانسٹیبل اسی کی طرف دیکھ رہے تھے جو کہ اسے ناگوار گزرا تھا۔
“تم یہاں کیوں آئی ہو؟” فواد نے لفظوں کو چباتے ہوئے پوچھا تو اس نے حیرانی سے اسے دیکھا۔
“ابھی تو بتایا ایف۔آئی۔آر درج کروانی ہے، میں آفس جا رہی تھی، میری کار پر فائرنگ کی گئی میں نے بھی جوابی حملہ کیا اور اس گاڑی پر فائرنگ کی تو گاڑی کا ٹائر پنکچر ہو گیا۔” کنزہ نے اسے بتایا تو اس نے اردگرد دیکھا پولیس کانسٹیبل اب بھی اسی طرف دیکھ رہے تھے۔
“تم مجھے یہ بات فون پر بھی بتا سکتی تھی یہاں کیوں آئی؟” اس نے غصے میں پوچھا اور فائل بند کی تو وہ ناسمجھی سے اردگرد دیکھنے لگی۔
“میں فون پر بتاتی تو کیا تم ایف۔آئی۔آر درج کرتے؟” کنزہ نے سوالیہ نگاہوں سے دیکھا۔
“تم فون پر بتاتی تو ایف۔آئی۔آر درج کرتا، لیکن اب نہیں کروں گا، اس لیے تم گھر جاؤ۔” اس نے اپنی سوچ سے آگاھ کیا اور اسے نظرانداز کرکے موبائل میں مصروف ہو گیا جبکہ وہ غصے میں اسے دیکھنے لگی۔
“کیا مسئلہ ہے؟” کنزہ نے لفظوں کو چباتے ہوئے پوچھا۔
“اس وقت تمہارا یہاں آنا میرے لیے مسئلے کا باعث ہے۔” وہ آہستہ سے بڑبڑایا تھا۔
“میں تم پر کیس کروں گی، جیل جاؤ گے تو عقل ٹھکانے پر آئے گی۔” کنزہ نے غصے میں کہا اور کرسی سے اٹھ گئی۔
“مجھے دھمکی دے رہی ہو؟” فواد نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔
“تم نے ایف۔آئی۔آر درج نہیں کی، کیس تو کرنا پڑے گا۔” اس نے تلخی سے کہا۔
“نیوز اینکر کیس کی دھمکی دے رہی ہو، مجھے لگا تم نیوز میں دو گی، ایس ایس پی فواد میر نے ایف۔آئی۔آر درج نہیں کی اس لیے میں نے اس پر کیس کیا ہے۔” فواد نے اسے چڑایا تو اسے غصہ ہی آگیا۔
“ویسے یہ خبر زیادہ اچھی لگے گی، شہر میں ہونے
والی واردات میں پولیس آفیسر فواد کے آدمی ملوث ہیں جو لوٹ مار کرکے اسے پیسے دیتے ہیں۔” کنزہ نے مسکراتے ہوئے کہا تو اسے غصہ آگیا۔
“تم مجھ پر الزام لگا رہی ہو۔” فواد نے لفظوں کو چباتے ہوئے کہا تو اس نے اردگرد دیکھا۔
“تم نے ایف۔آئی۔آر درج نہیں کی۔” اس نے یاد دلایا۔
“ٹھیک ہے، ابھی ایف۔آئی۔آر درج کروالو۔” فواد نے پرسوچ انداز میں کہا تو وہ ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی۔
“ہار مان لی کیا؟” کنزہ نے تمسخر اڑایا۔
“ہار نہیں مانی، نیوز اینکر خبریں اکھٹی کرنے کے چکر میں کچھ بھی نیوز پر دے دیتے ہیں، انھیں یہ نہیں پتا ہوتا ان کی سنائی گئی خبر سے اس انسان کی ذہنی حالت پر کتنا اثر پڑتا ہے۔ وہ کس کیفیت سے گزرتا ہے اس کے گھر والے بنا کسی وجہ کے پریشان رہتے ہیں۔” فواد نے اداس لہجے میں کہا اور کرسی سے اٹھ گیا جبکہ وہ ناسمجھی
سے اسے دیکھنے لگی۔
اس نے پولیس کانسٹیبل کو بلایا اور ایف۔آئی۔آر درج کرنے کا کہا تو وہ فائل لینے چلا گیا اور کچھ دیر بعد آیا۔
“آج کے واقعہ کے بارے میں بتائیں۔” پولیس کانسٹیبل نے کہا تو وہ بتانے لگی۔
“میں آفس جا رہی تھی جب میری کار پر فائرنگ کی گئی تو میں نے بھی جوابی حملہ کیا کیونکہ اس سے پہلے جب ہم کراچی واپس آرہے تھے تب بھی ہماری گاڑی پر فائرنگ کی گئی تھی۔” کنزہ نے اسے بتایا وہ باہری دروازے کی جانب جا رہا تھا اس کی بات سن کر رک گیا۔ کنزہ نے ایف۔آئی۔آر درج کروائی اور وہاں سے چلی گئی جبکہ وہ
بھی باہری دروازے کی جانب بڑھ گیا۔
“مس اینکر کنزہ ریاض۔” اس نے بلایا تو وہ پلٹ کر پیچھے دیکھنے لگی۔
“کیا ہوا؟” اس نے ناسمجھی سے پوچھا۔
“تمہاری فیمیلی جب کراچی واپس آرہی تھی تب کس نے حملہ کیا تھا؟” اس نے سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا تو وہ گہری سوچ میں مبتلا ہو گئی۔
“مجھے نہیں پتا کس نے حملہ کیا تھا، بابا نے کہا تھا فیصل انکل نے حملہ کروایا ہے۔” اس نے کچھ دیر کی توقف کے بعد جواب دیا تو وہ ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگا۔
“انہوں نے تمہیں بتایا نہیں میرے بابا نے ان پر کیوں حملہ کروایا ہے؟” فواد نے سوالیہ نگاہوں سے دیکھتے ہوئے پوچھا وہ وجہ جاننا چاہتا تھا۔
“بابا نے مجھے وجہ نہیں بتائی۔” اس نے جواب دیا۔
“تم ان سے پوچھنا۔” فواد نے کہا۔
“ٹھیک ہے، ابھی مجھے آفس جانا ہے۔” کنزہ نے بتایا اور کار کی جانب بڑھ گئی جبکہ وہ اپنے موبائل پر نمبر ڈائل کرنے لگا کچھ دیر بعد کال رسیو کی گئی تو اس نے بات کرکے رابطہ منقطع کر دیا۔ اسے میٹنگ پر جانا تھا وہ اپنی کار
کی جانب بڑھ گیا۔
 
وہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھی ہوئی اردگرد دیکھ رہی تھی پندرہ منٹ کی مسافت کے بعد اس نے کار کو آفس کے سامنے روکا اور اپنا موبائل اٹھائے باہر آئی اس نے اپنے قدم آگے بڑھائے اور بلڈنگ کی جانب بڑھ گئی۔ وہ اندر داخل ہوئی تو سب اپنے کام میں مصروف تھے اس نے کاؤنٹر پر جاکر شو کے پروڈیوسر کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا وہ اپنے آفس روم میں ہے۔ وہ اس کے آفس کی طرف آئی اور دروازہ نوکڈ کیا۔
“آجائیں۔” اجازت ملنے پر وہ آفس روم کے اندر داخل ہوئی۔
“کنزہ ریاض آپ کب آئیں؟” اس نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا۔
“کل سکھر سے واپس آئے ہیں۔” اس نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے بتایا۔
“تو آپ شو جوائن کریں گی؟” اس نے پوچھا۔ اسے ٹاک شو کرنے کے لیے کہا گیا تھا لیکن وہ جیسے ہی سکھر گئی تھی پروڈیوسر نے اس کی جگہ پر دوسری نیوز اینکر کو شو کی میزبانی دے دی تھی۔
“آپ نے مجھے بتایا نہیں اور کسی اور کو شو کی میزبانی دے دی، کیا آپ اسی انتظار میں تھے کہ میں نہ آؤں اور آپ کسی اور کو شو کی میزبانی دے دیں؟” کنزہ نے پوچھا تو وہ گڑبڑا گیا۔
“مجھے اپنا شو بند نہیں کرنا تھا اس لیے میں نے
یہ سب کیا۔” اس نے کچھ دیر بعد جواب دیا۔
“آپ نے مجھے بتایا نہیں۔” اس نے کہا تو وہ خاموش رہا۔
“میں اس شو کی میزبانی نہیں کروں گی۔” کنزہ نے اپنی سوچ سے آگاھ کیا تو وہ حیرانی سے اس کی طرف دیکھنے لگا اسے پریشانی ہوئی۔
“میں نے اس نیوز اینکر کو شو میں آنے سے منع کر دیا ہے اب تم بھی میزبانی کرنے سے منع کر رہی ہو۔” اس نے بتایا تو وہ ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی اس سب کا کیا مقصد تھا اسے سمجھ نہیں آیا۔
“میں یہ جاب نہیں کروں گی آپ مجھے پہلے بتا دیتے آپ شو کے لیے نیوز اینکر رکھنا چاہتے ہیں میں خود منع کر دیتی اب آپ نے اس اینکر کو بھی آنے سے منع کر دیا ہے ناجانے کیا وجہ ہے؟” کنزہ کی بات سن کر اسے فکر ہونے لگی۔
“مجھے دھمکی ملی تھی میں نے تمہیں جاب سے نہیں نکالا تو وہ میرے بچوں کو نقصان پہنچائیں گے۔” اس کی بات سن کر وہ حیرانی سے اسے دیکھنے لگی۔
“کس نے دھمکی دی تھی؟” کنزہ نے سوال پوچھا مگر وہ خاموش رہا۔
“میں نے اس لیے اس نیوز اینکر کو میزبانی کرنے
کے لیے کہا تھا کیونکہ مجھے دھمکی دی گئی تھی کہ میں تمہیں یہاں نوکری کرنے سے منع کر دوں۔” اس نے بتایا اور خاموش ہو گیا۔
“اس نے آپ کو دھمکی کیوں دی تھی؟” کنزہ نے ناسمجھی سے پوچھا۔
“مجھے وجہ نہیں پتا۔” اس نے بتایا۔
“اس نے آپ کو دھمکی دی تھی پھر تو میں کل سے جاب پر آؤں گی۔” کنزہ نے پرسوچ انداز میں کہا اور باہری دروازے کی جانب بڑھ گئی جبکہ وہ خوشی سے ریوالونگ چیئر سے ٹیک لگا گیا۔


اس نے باہر آکر پرس سے موبائل نکالا اور سارہ کا نمبر ڈائل کرنے لگی کچھ دیر بعد اس نے کال رسیو کی۔
“میں تمہارے گھر آرہی ہوں۔” کنزہ نے فوراً بتایا۔
“ٹھیک ہے۔” سارہ نے مسکراتے ہوئے کہا تو وہ بھی خوش ہو گئی۔
“وہاں بات ہوگی۔” کنزہ نے آگے جاکر کار کا دروازہ کھولا اور ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھتے ہوئے کہا۔
“ٹھیک ہے۔” سارہ نے کہا اور رابطہ منقطع کر دیا تو کنزہ نے اپنی توجہ ڈرائیونگ پر مرکوز کر لی اور کار کو سارہ کے گھر کے راستے پر ڈرائیو کر گئی۔
اس نے دوپہر کو سارہ سے بات کرکے اسے کہا تھا وہ شام کو اس کے گھر آئے گی۔ وہ آفس سے واپسی پر اس کے گھر جا رہی تھی اس نے سارہ کو کال کرکے بتا دیا تھا۔
کچھ دیر کی مسافت کے بعد اس نے سارہ کے گھر کے سامنے کار روکی اور باہر نکل آئی سارہ لان میں کھڑی اس کا انتظار کر رہی تھی اسے دیکھ کر مسکراتی ہوئی اس کی طرف آئی۔
“کیسی ہو؟” اس نے سوالیہ نگاہوں سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
“ٹھیک ہوں۔ تم کیسی ہو؟” کنزہ نے جواب دینے کے بعد اس سے پوچھا اور گھر کی جانب بڑھ گئی
“میں بھی ٹھیک ہوں میں نے ماما کو بتایا تم آرہی ہو وہ بہت خوش ہیں۔” سارہ نے گھر کا دروازہ کھولا اور لاؤنج میں آئی تو کنزہ نے اردگرد دیکھا بڑا سا ہال نما لاؤنج بنا ہوا تھا بیچ میں صوفے رکھے گئے تھے چار کمرے اور اوپن کچن بنا ہوا تھا انیسہ بیگم کچن میں کھڑی کھانا بنا رہی تھیں اسے دیکھ کر ان کے چہرے پر خوشی کی رمک آئی۔
“السلام عليكم! کیسی ہیں؟” کنزہ نے کچن کی طرف جاتے ہوئے ان کو سلام کیا۔
“وعليكم السلام! میں ٹھیک ہوں۔” انیسہ بیگم نے اسے جواب دیا۔
“وردہ نہیں آئی؟” انہوں نے ناسمجھی سے پوچھا تو سارہ نے بھی اس کی طرف دیکھا۔
“میں آفس گئی تھی وہاں سے آئی ہوں۔” کنزہ نے انھیں بتایا تو وہ اپنا کام کرنے لگیں۔
“کنزہ! میں نے وردہ کو کال کرکے بتا دیا ہے وہ بھی آئے گی۔” سارہ نے ڈائیننگ ٹیبل پر پلیٹیں رکھیں۔
“اچھا۔” اس نے مسکرا کر کہا۔
“میں نے کنزہ اور وردہ کے لیے بریانی بنائی ہے۔” انیسہ بیگم نے بتایا تو وہ اس کی جانب متوجہ ہوئیں۔
“اور میرے لیے کیا بنایا ہے؟” سارہ نے نروٹھے پن سے پوچھا تو وہ مسکرانے لگیں۔
“تمہارے لیے بھی بریانی بنائی ہے۔” انہوں نے کام کرتے ہوئے مصروف انداز میں کہا۔
“ماما۔” اس نے ناسمجھی سے انھیں دیکھا۔
“بریانی اور کباب بنائے ہیں کنزہ کو لاؤنج میں بٹھاؤ کب سے آئی ہے تم نے بیٹھنے کا نہیں کہا۔” انیسہ بیگم نے کہا تو اس نے کنزہ کی طرف دیکھا جو مسکرا کر اسے دیکھ رہی تھی۔
“لاؤنج میں چلو۔” اس نے کہا تو کنزہ باہر آئی اور لاؤنج میں آکر صوفے پر بیٹھ گئی۔
“کل آنٹی رشتہ لینے آئی تھیں میں نے ماما سے کہا مجھے ابھی جاب کرنی ہے انہوں نے کہا اگلے مہینے سے جاب چھوڑ دو۔” سارہ نے آہستہ سے بات
کی تو اس نے حیرانی سے دیکھا۔
“آنٹی نے رشتے کے بارے میں کیا جواب دیا؟” اس نے دریافت کیا تو اس کا چہرہ زرد پڑ گیا
“ماما نے آنٹی سے کہا پہلے بھی انہوں نے رشتہ طے کروایا تھا اور ٹوٹ گیا اب وہ رشتے لے کر ہمارے گھر نہ آئیں۔” اس نے کچن کی طرف دیکھا انیسہ بیگم کام کرنے میں مصروف تھیں
“اچھا تم اس وجہ سے کل کال اٹینڈ نہیں کر رہی تھی؟” کنزہ نے ناسمجھی سے پوچھا تو اس نے اثبات میں سر ہلایا تبھی کار کے ہارن کی آواز سنائی دی تو سارہ نے اس کی طرف دیکھا۔
“چلو۔” کنزہ نے کہا اور اٹھ کر اس کے ساتھ باہری دروازے کی جانب بڑھ گئی وہ جیسے ہی لان میں آئے وردہ کار میں بیٹھی ہوئی تھی انہوں نے حیرانی سے اسے دیکھا۔
“وردہ کار سے باہر جاؤ، مجھے آفس جانا ہے۔” مردانہ آواز سن کر انہوں نے ڈرائیونگ سیٹ پر اپنی نظریں مرکوز کیں رضوان نے اسے کہا مگر وہ اس کی بات کو ان سنا کر گئی تھی۔
“رضوان تم کل ریستوران چلو گے؟” وردہ نے پرسکون لہجے میں پوچھا تو اس نے غصے میں اسے دیکھا وہ اسے جواب دینے ہی لگا تھا جب اس کی نظر کار کے دروازے پر گئی وہ ان کی باتیں سن رہی تھیں اس نے وردہ کو نظرانداز کیا اور کار سے باہر نکل آیا۔
“اپنی دوست کو سمجھاؤ کار سے باہر نکلے۔” رضوان نے انھیں کہا تو وہ اسے گھورنے لگیں
“وردہ کیا ہوا ہے؟” کنزہ نے کار کی طرف جاکر پوچھا تو وہ اس کی جانب متوجہ ہوئی۔
“پولیس آفیسر رضوان نے کہا ہے وہ مجھے واپسی پر گھر چھوڑنے نہیں جائے گا اس لیے میں نہیں آرہی۔” اس نے ضدی لہجے میں کہا تو سارہ کو ہنسی آئی جبکہ وہ اسے دیکھنے لگا۔
“میں تمہیں واپسی پر گھر چھوڑ دوں گی باہر آؤ۔” کنزہ نے کہا تو وہ سوچنے لگی اور کچھ دیر بعد کار کا دروازہ کھول کر باہر آئی۔
“تم جا سکتے ہو اب۔” وردہ نے اسے گھورا۔
“جا رہا ہوں۔” اس نے چڑانے کے انداز میں کہا۔
“وردہ چلو۔” سارہ نے کہا تو وہ آگے بڑھ گئی جبکہ رضوان دونوں بازو فولڈ کرکے وہاں کھڑا رہا
“آپ کو اب دیر نہیں ہو رہی ہے؟” سارہ نے سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا۔
“نہیں! سوچ رہا ہوں آفس نہ جاؤں۔” اس نے اپنی سوچ سے آگاھ کیا۔
“اچھا۔ تو پھر ہمارے گھر چلیں ماما نے کھانا بنا لیا ہے کھا کر جائیں۔” سارہ نے فوراً کہا تو وہ حیرانی سے اسے دیکھنے لگا اس نے تو چڑانے کے لیے کہا تھا لیکن وہ سیریس ہی ہو گئی تھی۔
“پولیس آفیسر رضوان کیا ہوا؟” کنزہ نے اسے خاموش دیکھ کر ناسمجھی سے پوچھا تو وہ اپنے خیالوں کو جھٹکتا ہوا اس کی جانب متوجہ ہوا تو سارہ نے اس کی طرف دیکھا۔
“کچھ نہیں آپ اب جاب پر نہیں جاتی کیا؟” رضوان نے یاد آنے پر پوچھا۔
“کل سے جاب پر جاؤں گی۔” کنزہ نے بتایا تو وہ اثبات میں سر ہلا گیا۔
“مجھے دیر ہو رہی ہے پھر بات ہوگی۔” اس نے مسکراتے ہوئے کہا اور کار کی جانب بڑھ گیا جبکہ وہ باتیں کرتی ہوئیں گھر کے اندر چلی گئیں۔

وہ پولیس یونیفارم میں ملبوس ہاتھ میں ورسٹ واٹچ پہنے بالوں کو جیل سے سیٹ کئے ڈرائیونگ سیٹ پر آبیٹھا اور کار کو چلایا اسے میٹنگ کے لیے بلایا گیا تھا وہ کار ڈرائیو کر رہا تھا جب اس کے موبائل کی رنگ ٹون بجی اس نے ڈش بورڈ سے موبائل اٹھایا اور کال اٹینڈ کی۔
“کیسے ہو؟ وہاں جاکر تم نے کال ہی نہیں کی۔” فیصل صاحب نے اس سے دریافت کیا۔
“ٹھیک ہوں، آپ کیسے ہیں؟ میں نے ماما کے نمبر پر کال کی تھی آپ گھر پر نہیں تھے اس لیے آپ سے بات نہیں ہو پائی۔” اس نے کار کو ڈرائیو کرتے ہوئے بتایا۔
“میں بھی ٹھیک ہوں، مجھے تم سے بات کرنی ہے تم ابھی کیا کر رہے ہو؟” فیصل صاحب نے پرسوچ انداز میں پوچھا۔
“بابا میں میٹنگ اٹینڈ کرنے جا رہا ہوں، کونسی بات ہے؟” اس نے پریشان ہوتے ہوئے پوچھا۔
“تم جب فری ہو جاؤ مجھے کال کرنا تب بتاؤں گا۔” انہوں نے کہا تو اسے پریشانی ہونے لگی۔
“آپ ابھی بتائیں۔” اس نے ضد کی تو اس طرف خاموشی چھا گئی۔
“تم نے شادی کے بارے میں کیا سوچا ہے کوئی لڑکی پسند ہے یا ارینج میرج کرنا چاہتے ہو؟” فیصل صاحب نے اس سے پوچھا تو اچانک اس نے کار کو سائیڈ پر روکا اور سیٹ سے ٹیک لگائی۔
“بابا میں ابھی شادی نہیں کرنا چاہتا۔” اس نے کچھ دیر بعد جواب دیا۔
“تمہیں کوئی لڑکی پسند ہے تو بتاؤ۔” انہوں نے اس کی بات کو نظرانداز کیا اور غصے میں دریافت کیا تو اس نے پریشانی میں گہرا سانس ہوا کے سپرد کیا۔
“مجھے کوئی لڑکی پسند نہیں ہے۔” اس نے آہستہ سے بتایا اور ڈرائیونگ اسٹارٹ کی تو فیصل صاحب مسکرانے لگے۔
“ٹھیک ہے اپنا خیال رکھنا بعد میں بات ہوگی۔” انہوں نے کہا اور رابطہ منقطع کر دیا جبکہ اس نے موبائل کو ڈش بورڈ پر رکھا اور اپنی توجہ ڈرائیونگ پر مرکوز کر لی۔
 
وہ سارہ کے گھر سے آئی تو وجہیہ بیگم لاؤنج میں بیٹھی ہوئی تھیں اسے دیکھ کر اس کی جانب متوجہ ہوئیں۔ وہ صوفے پر بیٹھ گئی اور انھیں سارہ اور کنزہ کے بارے میں بتانے لگی۔ اس کی بات پر وہ خوش ہوگئیں۔ وہ کچھ دیر وہاں بیٹھنے کے بعد اپنے کمرے میں چلی گئی اس نے کمرے میں آکر پرس سے موبائل نکالا اور نمبر ڈائل کرنے لگی کال جا رہی تھی مگر اٹینڈ نہیں کی گئی تو اس نے پھر سے نمبر ڈائل کیا۔ کچھ دیر کے انتظار کے بعد کال اٹینڈ کی گئی تو اسے خوشی محسوس ہوئی۔
“کال کیوں کر رہی ہو؟” راحیل نے غصے میں پوچھا تو اس کی مسکراہٹ سمٹ گئی۔
“کیوں میں تمہیں کال نہیں کر سکتی کیا؟” وردہ نے نم آواز میں پوچھا۔
“میں نے تمہیں منع کیا تھا کال مت کرنا پھر بھی تم نے کال کی ہے تمہیں سمجھ نہیں آتا کیا؟” اس نے غصے میں دریافت کیا تو وہ رونے لگی وہ کیوں اسے نظرانداز کرتا تھا اسے سمجھ نہیں آئی۔
“میں تم سے محبت کرتی ہوں تمہیں بتایا بھی تھا
تم ناجانے کیوں مجھے نظرانداز کرتے ہو۔” اس نے روتے ہوئے بتایا تو اس طرف خاموشی چھا گئی۔
“اب کال مت کرنا۔” اس نے کچھ دیر کی توقف کے بعد کہا اور رابطہ منقطع کر دیا جبکہ اس نے کنزہ کا نمبر ڈائل کیا جو کہ مصروف جا رہا تھا اس نے سائیڈ ٹیبل پر موبائل رکھا اور دونوں ہاتھوں میں منہ چھپائے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی اسے ماضی کی کچھ باتیں یاد آئیں تو اس کے رونے میں روانی آگئی۔
“کہاں جا رہی ہو؟” وہ لاؤنج میں داخل ہوئی تو راحیل نے اس سے پوچھا اس کی بات سن کر وہ اس کی جانب متوجہ ہوئی۔
“یونیورسٹی جائیں گے۔” اس نے جواب دیا اور کنزہ کے کمرے کی جانب بڑھ گئی جبکہ وہ صوفے پر بیٹھ گیا۔ کچھ دیر بعد کنزہ اور وردہ لاؤنج میں آئیں اور ڈائیننگ ٹیبل کی جانب بڑھ گئیں۔
“نو بج گئے ہیں ابھی تک تم دونوں یونیورسٹی نہیں گئی؟” راحیل نے ورسٹ واٹچ میں ٹائم دیکھا تو وہ اس کی جانب متوجہ ہوئیں۔
“آج ہماری دس بجے کلاس ہے ناشتہ کرکے جا رہے ہیں۔” کنزہ نے بتایا اور کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گئی۔
“اچھا یہ اسائمنٹ کس کا ہے؟” اس نے صوفے سے اسائمنٹ اٹھا کر دکھایا۔
“یہ میرا اسائمنٹ ہے واپس کرو۔” کنزہ نے کرسی سے اٹھ کر کہا تو وہ ہنسنے لگا۔
“میرا اسائمنٹ بناؤ گی تو واپس کروں گا۔” اس نے پرسوچ انداز میں کہا اور اٹھ گیا جبکہ وہ نفی میں سر ہلا گئی۔
“میں تمہارا اسائمنٹ کیوں بناؤں؟” کنزہ نے غصے میں کہا اور اس کے پیچھے بھاگنے لگی تو وہ سیڑھیوں کی جانب بڑھ گیا جبکہ وردہ ان دونوں کی نوک جھوک دیکھنے لگی۔
“مجھے کل اسائمنٹ سبمنٹ کروانا ہے۔” راحیل نے اسے بتایا۔
“ٹھیک ہے تم میرا اسائمنٹ واپس کرو۔” کنزہ نے پرسوچ انداز میں کہا۔
“تمہیں کیا ہوا ہے؟” وردہ کو ہنستے ہوئے دیکھ کر اس نے پوچھا تو وہ گڑبڑا گئی۔
“کچھ نہیں ہوا۔” اس نے کہا تو کنزہ نے راحیل سے اسائمنٹ لیا اور صوفے کی جانب بڑھ گئی۔
“اچھا۔” کنزہ نے صوفے سے بیگ اٹھایا اور اسے چلنے کا کہا تو وہ اپنا بیگ اٹھائے آئی اور باہری دروازے کی جانب بڑھ گئی۔
اس نے اپنی سوچوں کو جھٹکا اسے راحیل کے رویے پر رونا آرہا تھا اس نے کنزہ سے بات کرنے کا سوچا اور پھر سے موبائل اٹھا کر اس کا نمبر ڈائل کیا تو اس نے کال اٹینڈ کی۔
“مجھے تمہیں کچھ بتانا ہے۔” اس نے اپنی آنکھوں سے آنسو صاف کئے۔
“تم ٹھیک تو ہو؟” اس نے پریشانی میں پوچھا۔
“ٹھیک ہوں، کل جب فری ہو تو میرے گھر آنا۔” اس نے مسکرانے کی سعی کی۔
“ٹھیک ہے۔” کنزہ نے کہا اور اس سے کچھ دیر بات کرنے کے بعد رابطہ منقطع کر دیا۔


شام کے چھ بج رہے تھے وہ اپنے فلیٹ میں واپس
آیا تو رضوان لاؤنج میں بیٹھا ہوا تھا اس نے ٹیبل پر سامان رکھے اور صوفے پر بیٹھ گیا۔ وہ اس وقت تھکاوٹ محسوس کر رہا تھا میٹنگ سے واپسی پر وہ کام کے سلسلے سے گیا تھا اور ابھی گھر واپس آیا تھا۔
“عماد” رضوان نے اسے بلایا تو کچھ دیر بعد وہ کمرے سے باہر آیا۔
“کیا ہوا؟” اس نے ناسمجھی سے پوچھا۔
“ریستوران جا رہا ہوں، تم چلو گے؟” اس نے پوچھا اور صوفے سے اٹھ گیا۔
“ہاں چلوں گا، فواد نہیں جا رہا کیا؟” اس نے ناسمجھی سے پوچھا۔
“تم اس سے پوچھ لو۔” رضوان نے سنجیدگی سے
کہا تو فواد نے حیرانی سے اسے دیکھا۔
“تمہیں کیا ہوا ہے؟” اس نے پوچھا تو رضوان کو ہنسی تو بہت آئی لیکن اس نے بروقت قابو کی۔
“تم ایس ایس پی فواد مصروف رہتے ہو اس لیے میں نے تم سے نہیں پوچھا تم منع نہ کر دو۔” اس نے بتایا تو عماد نے زور سے قہقہہ لگایا اور ہنسنے لگا جبکہ فواد نے ناسمجھی سے اسے دیکھا اسے بات سمجھنے میں کچھ منٹ لگے تھے۔
“میں سوچ رہا تھا پولیس آفیسر رضوان کیوں سیریس ہو گیا ہے؟” فواد نے مسکراتے ہوئے کہا تو وہ بھی ہنسنے لگے۔
“مجھے یہاں کے راستوں کا پتا نہیں، شاپنگ کرنے چلیں؟” عماد نے کہا تو اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
“چلو۔” رضوان نے کہا تو وہ مسکراتے ہوئے باہری دروازے کی جانب بڑھ گئے تو فواد بھی صوفے سے اٹھ کر باہر آیا اور دروازہ لاکڈ کرکے کار کی طرف بڑھ گیا۔
رضوان فرنٹ سیٹ پر بیٹھا تو عماد نے بیک سیٹ کا دروازہ کھولا اور بیٹھ گیا جبکہ فواد
کچھ دیر تو ان کی حرکات دیکھنے لگا پھر آکر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا اور اپنی توجہ ڈرائیونگ پر
مرکوز کر گیا۔ آج اس کا دن مصروف گزرا تھا وہ میٹنگ اٹینڈ کرنے کے بعد اپنی جاب پر گیا تھا۔ وہ کار کو نارمل اسپیڈ میں ڈرائیو کر رہا تھا جب اس نے فائرنگ کی آواز پر کار روکی اور کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا۔ سائیڈ پر کار کھڑی تھی آدمی نے بائک سے اتر کر اس کار پر فائرنگ کی فواد نے گن اٹھائی اور کار سے باہر نکل گیا۔
“تم باہر مت آنا۔” رضوان نے عماد سے کہا اور کار
سے نکل کر باہر آیا۔ فواد نے اپنی گن کا رخ سائیڈ پر کیا اور گولی چلائی روڈ پر اس وقت کم گاڑیاں چل رہی تھیں اس آدمی نے گولی کی آواز سنی تو اس نے جلدی سے والٹ چھینا اور اپنی بائک کی طرف گیا فواد نے اس کی بائک کا نمبر نوٹ کیا اور اس کے پیچھے گیا تو اس نے بائک کو چلایا اور آگے بڑھ گیا جبکہ فواد نے کار کا دروازہ کھولا تو اسے حیرانی ہوئی۔
“میں پولیس کو کال کروں گا۔” اس لڑکے نے سیٹ
سے موبائل اٹھایا اور نمبر ڈائل کرنے لگا۔
“میں ایس ایس پی فواد ہوں، یہاں سے گزرتے ہوئے ہمیں فائرنگ کی آواز سنائی دی، میں جیسے ہی یہاں آیا وہ آدمی بائک پر سوار ہو کر چلا گیا۔” فواد نے اسے بتایا تو وہ پرسکون ہو گیا۔
“اس آدمی نے میری کار پر فائرنگ کی تھی اور مجھ سے والٹ چھین کر چلا گیا۔” اس نے بتایا رضوان بھی وہاں آگیا اور اردگرد دیکھنے لگا۔
“تم پولیس اسٹیشن جا کر ایف آئی آر ضرور درج
کروانا۔” فواد نے کہا تو اس نے اثبات میں سر ہلایا اور نمبر ڈائل کرنے لگا اس نے ڈرائیور کے نمبر پر کال ملائی لیکن اس کا نمبر بند جا رہا تھا اس نے غصے میں موبائل کو آف کیا اور کار سے باہر نکل آیا۔
“آپ میری کار میں بیٹھیں گھر چھوڑ دوں گا۔” اس کی کار کے ٹائر پر آدمی نے گولی چلائی تھی
جس کے باعث کار کا ٹائر پنکچر ہو چکا تھا اسے موبائل میں مصروف دیکھ کر فواد نے کہا تو وہ اس کی جانب متوجہ ہوا۔
“میں نے ڈرائیور کے نمبر پر کال ملائی ہے لیکن نمبر بند جا رہا ہے، میرا گھر یہاں سے تھوڑا ہی دور ہے۔” اس نے بتایا تو رضوان خاموشی سے کار کی جانب بڑھ گیا۔
“آپ کار میں بیٹھیں، ہم گھر چھوڑ دیں گے۔” فواد نے اسے کہا اور کار کی طرف آیا تو وہ بھی موبائل کو بند کرکے آگے آیا اور دروازہ کھول کر فرنٹ سیٹ پر بیٹھا تو عماد
نے ناسمجھی سے اسے دیکھا یہ لڑکا یہاں کیوں آیا
تھا۔ فواد نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی اور کار کو آگے بڑھا گیا عماد غصے میں اسے دیکھ رہا تھا اس نے بعد میں اس سے بات کرنے کا سوچا اور اپنی توجہ ڈرائیونگ پر مرکوز کر گیا۔
آدھے گھنٹے کی مسافت کے بعد اس نے کار روکی تو وہ لڑکا کار سے باہر نکل آیا۔
“آپ میرے گھر آئیں چائے پی کر جائیں، مجھے خوشی ہوگی۔” اس نے مسکراتے ہوئے کہا تو وہ اسے دیکھنے لگے۔
“ہمیں دیر ہو رہی ہے۔” اس سے قبل کہ فواد جواب دیتا عماد نے لفظوں کو چباتے ہوئے کہا تو اس کی مسکراہٹ سمٹ گئی۔
“راحیل تم ابھی آئے ہو، ماما تمہارے لیے پریشان ہیں تم نے موبائل کیوں آف کیا ہے؟” وہ کار کی آواز سن کر باہر آئی تھی اسے وہاں دیکھ کر اس نے فکرمندی سے کہا تو وہ سب اس کی جانب متوجہ ہوئے۔
“میں گھر واپس آرہا تھا آدمی نے کار کے سامنے بائک روکی اور مجھ سے والٹ چھینا وہ موبائل لے رہا تھا میں نے نہیں دیا تو اس نے کار پر فائرنگ کی تبھی ان کی کار وہاں سے جا رہی تھی
فائرنگ کی آواز سن کر رک گئی ایس ایس پی فواد کار سے باہر آیا تو وہ آدمی وہاں سے بھاگ گیا، میری کار تو خراب ہو گئی تھی ایس ایس پی صاحب نے مجھے گھر چھوڑا ہے ان سے میں نے کہا ہے چائے پی کر جائیں۔” راحیل نے اسے بتایا تو وہ پریشانی میں اسے دیکھنے لگی۔
“آپ بول رہے ہیں تو ہم چائے پی کر جائیں گے۔”
عماد نے کہا تو وہ اس کی جانب متوجہ ہوئے وہ کچھ دیر قبل غصے میں بات کر رہا تھا اور ابھی کنزہ کو دیکھ کر مسکرانے لگا تھا۔ انھیں حیرانی ہوئی۔
“تمہیں تو دیر ہو رہی تھی۔” رضوان نے اسے یاد دلانا چاہا لیکن وہ نظر انداز کرکے کار سے باہر آیا تو کنزہ نے حیرانی سے اسے دیکھا تبھی رضوان بھی کار سے باہر آیا تو اسے یاد آیا وہ وردہ کا کزن ہے۔ اسے شوکڈ تو تب لگا جب فواد کار سے باہر آیا راحیل ابھی ایس ایس پی کا بتا رہا تھا تب
اس نے پریشانی میں اس کی بات کو نظر انداز کیا
تھا۔
“کیسی ہیں؟” راحیل جیسے ہی فواد کے ساتھ گھر کی جانب بڑھا عماد نے کنزہ سے پوچھا تو وہ
اس کی جانب متوجہ ہوئی۔
“ٹھیک ہوں۔” اس نے جواب دیا اور اسے نظرانداز کرکے آگے بڑھ گئی۔
“ہماری سکھر میں بات ہوئی تھی، آپ کو یاد ہوگا؟” عماد کی بات سن کر اس نے پیچھے پلٹ کر دیکھا وہ مسکرا کر اسے دیکھ رہا تھا۔
“تم نے آٹو گراف بھی لیا تھا۔” کنزہ نے اسے بتایا
تو وہ خوش ہو گیا۔
“میں ایس ایس پی فواد میر کا بھائی ہوں۔” عماد نے اسے بتایا تو اس کی مسکراہٹ سمٹ گئی۔
“گھر چلو، تمہارا بھائی تمہیں ڈھونڈ رہا ہوگا۔” کنزہ نے کچھ دیر کی توقف کے بعد کہا تو اس نے
ناسمجھی سے اسے دیکھا اور مسکرانے لگا جبکہ کنزہ ناچاہتے ہوئے بھی مسکرا دی۔
وہ لاؤنج میں داخل ہوئے تو راحیل اور فواد صوفے پر
براجمان تھے جبکہ رضوان سائیڈ پر کھڑے ہو کر نمبر ڈائل کر رہا تھا۔
تحریم بیگم کچن میں چائے بنا رہی تھیں راحیل نے انھیں کچن میں آکر بتایا ایس ایس پی آیا ہے وہ اس کی بات سن کر پریشان ہو گئی تھیں تبھی راحیل نے انھیں ساری بات بتائی تو ان کی پریشانی جیسے بڑھ گئی ہو اس نے انھیں بتایا وہ ٹھیک ہے تو تحریم بیگم کو کچھ حوصلہ ملا۔
“ماما کنزہ آئے تو اسے چائے بنانے کا کہیے گا۔” راحیل نے کہا اور لاؤنج میں دیکھا وہ ابھی تک نہیں آئی تھی۔
“میں چائے بنا لوں گی۔” تحریم بیگم نے کہا۔
“ٹھیک ہے ماما۔” اس نے کہا اور کچن سے باہر چلا
گیا۔
وہ کچن کے اندر آئی تو تحریم بیگم چائے بنا رہی تھیں وہ وہاں کھڑی ہو کر سوچنے لگی۔
“کنزہ یہ برتن ڈائیننگ ٹیبل پر رکھ کر آؤ۔” انہوں نے اسے اپنے خیالوں میں گم دیکھ کر کہا تو وہ ان کی جانب متوجہ ہوئی۔
اس نے پلیٹیں اور چمچ اٹھائے اور باہر آکر ڈائیننگ
ٹیبل پر رکھنے لگی۔
“نیوز اینکر کو دیکھو۔” عماد کی بات سن کر وہ اس کی جانب دیکھنے لگا وہ گھر میں خاموش تھی جبکہ باہر جب بھی اس سے بات ہوتی تھی وہ غصے میں بات کرتی تھی۔ تحریم بیگم لوازمات سے بھرے ٹرے اٹھائے باہر آئیں اور ڈائیننگ ٹیبل
پر رکھے۔
“کنزہ کچن سے ٹرے لے کر آؤ۔” ان کی بات سن کر وہ کچن میں چلی گئی اور لوازمات سے بھرے
ٹرے اٹھا کر آئی جبکہ تحریم بیگم صوفے کی جانب آئیں وہ سب آپس میں محو گفتگو تھے۔ تحریم بیگم کو دیکھ کر انہوں نے مشترکہ سلام کیا تو وہ سلام کا جواب دے کر راحیل کی جانب
دیکھنے لگیں۔
“میری ماما ہیں۔” اس نے ان کو بتایا۔
“کیسی ہیں آنٹی؟” عماد نے فوراً پوچھا۔
“ٹھیک ہوں، ڈائیننگ ٹیبل پر آجائیں کھانا تیار ہے۔” انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا۔
“ہم چائے پینے کے لیے آئے ہیں۔” فواد نے مسکراتے
ہوئے کہا تو کنزہ نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔
“کھانا تیار ہے اپنا ہی گھر سمجھیں۔” تحریم بیگم نے بتایا تو اس نے کنزہ کی جانب دیکھا جو اسے غصے میں دیکھ رہی تھی اس کے دیکھنے پر کچن میں چلی گئی۔
“ٹھیک ہے آنٹی۔” اس نے مسکراتے ہوئے کہا تو راحیل صوفے سے اٹھ گیا اور انھیں ڈائیننگ ٹیبل کی جانب چلنے کا کہا تو وہ ٹیبل کی جانب بڑھے وہ جیسے ہی کرسی پر بیٹھ رہا تھا اس کے موبائل
کی رنگ ٹون بجی وہ ایکسکیوز کرکے سائیڈ پر آیا فیصل صاحب کے نمبر سے کال تھی اس نے پریشانی میں ڈائیننک ٹیبل کی جانب دیکھا وہ ڈنر کر رہے تھے۔ اس نے کال اٹینڈ کی۔
“کیسے ہو؟” فیصل صاحب کی بات سن کر وہ پرسکون ہو گیا وہ سمجھ رہا تھا اس کے آدمیوں نے فیصل صاحب کو اطلاع دے ہو گی کہ وہ اپنے دشمنوں کے گھر گیا ہے۔
“ٹھیک ہوں، آپ کی طبیعت کیسی ہے؟” اس نے ہلکی مسکراہٹ لبوں پر سجائی۔
“میں بھی ٹھیک ہوں۔” فیصل صاحب نے اسے بتایا تو وہ ان سے باتیں کرنے لگا۔
“تم یہاں کیوں آئے ہو؟” وہ کال کاٹ کر جیسے ہی جانے لگا کنزہ نے غصے میں دریافت کیا وہ اپنے کمرے میں جا رہی تھی جب اس نے دیکھا وہ
مسکرا کر کال پر بات کر رہا ہے تو وہ اس طرف آئی اور اس سے پوچھا۔
“تمہارے بھائی کو گھر چھوڑنے آیا تھا اس نے چلنے کا کہا تو آگئے۔” فواد نے مسکرا کر جواب دیا
تو اسے غصہ ہی آگیا۔
“ایس ایس پی فواد میر میری فیمیلی سے دور رہو، سمجھے؟” اس نے لفظوں کو چباتے ہوئے کہا تو اس نے حیرانی سے اسے دیکھا۔
“تم بھی اپنی فیمیلی کو سمجھاؤ میری فیمیلی سے دور رہے۔” فواد نے بھی غصے میں کہا۔
“کیا مطلب ہے؟” اس نے ناسمجھی سے پوچھا تو وہ حیرانی سے اسے دیکھنے لگا۔
“تم اپنی فیمیلی سے پوچھنا وہ تمہیں ساری بات بتائے گی۔” اس نے کہا تو وہ گہری سوچ میں مبتلا ہو گئی۔
“فواد گھر جانا ہے، ڈنر کر لو۔” رضوان نے وہاں آکر کہا تو وہ اس کی جانب متوجہ ہوا۔
“ہممم۔” اس نے ہنکار بھرا اور اپنے قدم ڈائیننگ ٹیبل کی جانب بڑھا گیا جبکہ وہ غصے میں اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔
ڈنر کرنے کے بعد ان سب نے چائے پی اور کچھ دیر باتیں کرنے کے بعد وہ اٹھ گئے۔
“تم سب سے مل کر بہت اچھا لگا، یہ میرا کارڈ ہے تم مجھ سے بات کر لینا۔” راحیل نے والٹ سے کارڈ نکال کر اسے دیا تو فواد نے اس سے کارڈ لیا۔
“ہمیں بھی تم سے مل کر اچھا لگا، پھر کبھی ملاقات ہوگی، اپنا اور آنٹی کا خیال رکھنا۔” فواد نے مسکراتے ہوئے کہا اور ڈرائیونگ سیٹ پر جا بیٹھا تو رضوان فرنٹ سیٹ پر جبکہ عماد بیک سیٹ پر بیٹھ گیا تو فواد نے ڈرائیونگ اسٹارٹ کی
اور کار کو آگے بڑھا گیا۔
 
صبح کے آٹھ بج رہے تھے وہ کمرے سے باہر آئی تو تحریم بیگم ڈائیننگ ٹیبل پر ناشتہ رکھ رہی تھیں وہ کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گئی۔
“ماما آج مجھے وردہ کے گھر جانا ہے میں شام کو وہاں جاؤں گی۔” کنزہ نے بتایا۔
“ٹھیک ہے۔” انہوں نے جواباً کہا اور کچن میں چلی گئیں جبکہ کنزہ خاموشی سے ناشتہ کرنے لگی۔ اس نے پراٹھا اٹھایا اور چائے کے ساتھ کھانے لگی۔ دس منٹ بعد اس نے ناشتہ کر لیا اور برتن رکھنے کچن میں چلی گئی۔
وہ برتن رکھ کر لاؤنج میں آئی اور صوفے پر بیٹھ گئی۔
“ٹاک شو کتنے بجے ہے؟” تحریم بیگم نے لاؤنج میں آکر اس سے پوچھا۔
“شام چار بجے سے پانچ بجے تک ہے۔” اس نے بتایا۔
“پہلے والے شو میں تم سیاسی خبریں بتاتی تھی تم نے اس شو کے متعلق بتایا نہیں۔” انہوں نے کرسی گھسیٹ کر بیٹھتے ہوئے کہا تو وہ ان کی طرف دیکھنے لگی۔
“ماما اس شو میں مہمانوں سے انٹرویو لوں گی۔” اس نے مسکراتے ہوئے بتایا تو وہ بھی خوش ہو گئیں۔
“تمہیں انٹرویو لینے کا تو بہت شوق تھا تم گھر میں ہم سے بھی انٹرویو لیتی تھی۔” تحریم بیگم نے مسکراتے ہوئے کہا۔
“ماما ابھی بھی شوق ہے۔” اس نے کہا اور صوفے سے اٹھ گئی تحریم بیگم ناشتہ کرنے لگیں جبکہ وہ انھیں بتا کر اپنا پرس اٹھا کر باہری دروازے کی جانب بڑھ گئی۔
اس نے باہر آکر وردہ کے نمبر پر کال ملائی لیکن اس نے اٹینڈ نہیں کی اسے وجہ سمجھ نہیں آئی تو وہ کار کا دروازو کھول کر فرنٹ سیٹ
پر بیٹھ گئی اور کار کو آگے ڈرائیو کر گئی۔
آدھے گھنٹے کی مسافت کے بعد وہ آفس پہنچی تھی۔ وہ کچھ دیر اپنی دوستوں سے بات کرنے کے بعد نیوز اسٹوڈیو آئی اور نیوز اینکر کو سلام کرکے کرسی پر بیٹھ گئی۔ میز پر اسکرپٹ اور اخبارات پڑے تھے اس نے اخبار اٹھا کر پڑھنا شروع کیا تو اسے دکھ ہوا آج بھی اخبار میں خوشی کی کوئی خبر نہیں تھی اس نے اخبار کو رکھا اور اسکرپٹ اٹھا کر دیکھا۔
ملک کے سیاسی حالات، مہنگائی، کرکٹ، اور پاکستان اور بھارت کی کشیدگی پر خبریں تھیں۔
“نو بجے کی نیوز کا وقت ہونے والا ہے، آپ دونوں سامنے دیکھیں۔” کیمرہ مین کی آواز سن کر وہ اس طرف دیکھنے لگیں۔ سامنے اسکرین پر ٹائم لکھا آرہا تھا اس نے اسکرپٹ کو سیدھا رکھا اور بولنا شروع کیا۔
“السلام علیکم! نیوز ہیڈلائنز کے ساتھ میں ہوں کنزہ ریاض سب سے پہلے نیوز ہیڈ لائنز۔
“ملک میں مہنگائی کی بڑھتی شرح کے سبب عوام پریشانی ہو کر رہ گئی ہے۔”
بارہ منٹ کی نیوز پڑھنے کے بعد اسکرین پر بریک دکھایا گیا تو اس نے اسکرپٹ اٹھا کر پھر سے دیکھا کیونکہ بریک کے بعد اسے نیوز سنانی تھیں۔


وہ لاؤنج میں بیٹھا ہوا موبائل استعمال کر رہا تھا جب رضوان پولیس یونیفارم میں ملبوس کمرے سے
باہر آیا اس کے ہاتھ میں فائلز تھیں وہ باہری دروازے کی جانب بڑھ رہا تھا جب فواد کی بات سن کر اس نے اپنے قدم روکے۔
“تم اتنی دیر سے کیوں جا رہے ہو؟” فواد نے ناسمجھی سے اسے دیکھا تو وہ اس کی جانب متوجہ ہوا۔
“ہمیں کیس کے سلسلے میں تفتیش کرنے جانا ہے، اس لیے ابھی جا رہا ہوں۔” اس نے بتایا۔
“کب تک واپس آؤگے؟” فواد نے پوچھا۔
“پانچ بجے تک واپس آجاؤں گا، کل ریستوران نہیں گئے تھے آج جائین گے عماد گھر میں بیٹھ کر اکتا جاتا ہے اسی بہانے گھوم لیں۔” رضوان نے مسکراتے ہوئے کہا تو عماد کی فکر پر اسے خوشی ہوئی۔
“تم دونوں کو گھومنے کا بہت شوق ہے۔” اس نے مزاحیہ انداز میں کہا تو رضوان نے قہقہہ لگایا۔
“اب تمہاری طرح بزی اور بورنگ تو نہیں ہیں۔” اس نے تنگ کرنے کی غرض سے کہا جبکہ وہ مسکرانے لگا۔
“مجھے بازار سے سامان خریدنے ہیں تم واپس آؤ تو چلیں گے۔” فواد نے اسے بتایا۔
“ٹھیک ہے۔” اس نے مسکراتے ہوئے کہا اور اس سے بات کرنے کے بعد باہری دروازے کی جانب بڑھ گیا جبکہ وہ موبائل استعمال کرنے لگا۔

جاری ہے
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Back
Top