برق بے نُور ہے، اُس رُخ کی چمَک کے آگے
عالمِ نُور کا اِنساں نہ ہُوا تھا، سو ہُوا
یار کی رُوئے کتابی کی کرُوں کیا تعرِیف
بعد قرآں کے جو قرآں نہ ہُوا تھا، سو ہُوا
پہروں ہی مصرعِ سودا ہے رُلاتا آتش
تُجھ سے اے دیدۂ گریاں نہ ہُوا تھا، سو ہُوا
خواجہ حیدرعلی آتش