نہ پوچھو ہم سے کہ وہ خُرد سال کیا شے ہے
کمر کے سامنے جس کی ہِلال کیا شے ہے
بنایا وہ یَدِ قُدرت نے خاک سے پُتلا
خجِل ہوں حُورمُقابل غزال کیا شے ہے
شفیق خلش
وقتِ رُخصت بڑا مُشکل تھا چُھپانا غم کا
اشک آنکھوں سے رَواں تھے، جو روانہ وہ تھا
عاشقی کا نہ مجھے ہی مگر اُن کو بھی خلش
رہ گیا یاد ہر اِک دن، کہ سُہانہ وہ تھا
شفیق خلش
حیرت آنکھوں کو ہے نظّارے میں اُس محبوب کے
یہ نہیں کھُلتا کہ دِل کشتہ ہے کِس انداز کا
اے زباں کیجو نہ شرحِ حالتِ دِل کا خیال
مُنکشف ہونا نہیں بہتر ہے مخْفی راز کا
خواجہ حیدرعلی آتش
یہ اشارہ ہم سے ہے اُن کی نِگاہِ ناز کا
دیکھ لو تیرِ قضا ہوتا ہے اِس انداز کا
سُرمہ ہوجاتا ہے جَل کر آتشِ سودا سے یار
دیکھنے والا تِری چشمِ فسُوں پرداز کا
خواجہ حیدرعلی آتش
ویراں ہے میکدہ، خُم و ساغر اُداس ہیں
تم کیا گئے کہ رُوٹھ گئے دن بہار کے
دُنیا نے تیری یاد سے بیگانہ کر دیا
تجھ سے بھی دِلفریب ہیں غم روزگار کے
فیض احمد فیض
ہم مسافر یونہی مصروفِ سفر جائیں گے
بے نِشاں ہو گئے جب شہر تو گھر جائیں گے
کس قدر ہو گا یہاں مہر و وفا کا ماتم
ہم تری یاد سے جس روز اُتر جائیں گے
فیض احمد فیض
صندل سے مہکتی ہوئی پرکیف ہوا کا
جھونکا کوئی ٹکرائے تو لگتا ہے کہ تم ہو
اوڑھے ہوئے تاروں کی چمکتی ہوئی چادر
ندّی کوئی بل کھائے تو لگتا ھے کہ تم ہو
جاں نثار اختر
آہٹ سی کوئی آئے تو لگتا ہے کہ تم ہو
سایہ کوئی لہرائے تو لگتا ہے کہ تم ہو
جب شاخ کوئی، ہاتھ لگاتے ہی چمن میں !
شرمائے، لچک جائے تو لگتا ھے کہ تم ہو
جاں نثار اختر
نہ جانے وقت کی رفتار کیا دِکھاتی ہے
کبھی کبھی تو بڑا خوف سا لگے ہے مجھے
اب ایک آدھ قدم کا حساب کیا رکھیے
ابھی تلک تو وہی فاصلہ لگے ہے مجھے
جاں نثار اختر
غیروں سے کہا تم نے، غیروں سے سُنا تم نے
کچھ ہم سے کہا ہوتا، کچھ ہم سے سُنا ہوتا
ناکامِ تمنّا دل، اِس سوچ میں رہتا ہے !
یُوں ہوتا تو کیا ہوتا، یُوں ہوتا تو کیا ہوتا
چراغ حسن حسرت