گُزرو نہ اِس طرح، کہ تماشا نہیں ہُوں میں
سمجھو، کہ اب ہُوں اور دوبارہ نہیں ہُوں میں
اِک طبْع رنگ رنگ تھی، سو نذرِ گلُ ہُوئی
اب یہ کہ، اپنے ساتھ بھی رہتا نہیں ہُوں میں
عبیداللہ علیم
دیکھنے کا اب یہ عالم ہے، کوئی ہو یا نہ ہو
ہم جدھر دیکھا کئے، پہروں اُدھر دیکھا کِئے
حُسن کو دیکھا ہے ہم نے، حُسن کی خاطر حفیظ
ورنہ سب اپنا ہی معیارِ نظر دیکھا کِئے
حفیظ ہوشیارپوری
آج اُنہیں کچھ اِس طرح جی کھول کر دیکھا کِئے
ایک ہی لمحے میں، جیسے عمْر بھر دیکھا کِئے
دل اگر بیتاب ہے، دل کا مُقدّر ہے یہی
جس قدر تھی ہم کو توفیقِ نظر دیکھا کِئے
حفیظ ہوشیارپوری
سِلسِلے توڑ گیا، وہ سبھی جاتے جاتے
ورنہ اِتنے تو مراسِم تھے، کہ آتے جاتے
کتنا آساں تھا، تِرے ہجْر میں مرنا جاناں
پھر بھی اِک عمر لگی، جان سے جاتے جاتے
احمد فراز