• 📚 لوو اسٹوری فورم ممبرشپ

    بنیادی ڈیل

    وی آئی پی

    5000
    تین ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    وی آئی پی پلس

    8000
    چھ ماہ کے لیے
    ٹاپ پیکیج
    👑

    پریمیم

    20000
    چھ ماہ کے لیے

Poetry اردو شاعری

Man mojiMan moji is verified member.

Staff member
Super Mod
Joined
Dec 24, 2022
Messages
10,743
Reaction score
344,296
Points
500
Location
pakistan
Gender
Male
میری تصویر بنانے کی جو دُھن ہے تم کو​
کیا اداسی کے خد و خال۔۔۔۔۔ بنا پاؤ گے ؟​
تم پرندوں کے درختوں کے مصور ہو میاں​
کس طرح سبزۂ پامال ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بنا پاؤ گے!​
سر کی دلدل میں دھنسی آنکھ بنا سکتے ہو​
آنکھ میں پھیلتے پاتال۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بنا پاؤ گے؟​
جو مقدر نے میری سمت اچھالا تھا کبھی​
میرے ماتھے پہ وہی جال ۔۔۔۔۔۔۔۔بنا پاؤ گے؟​
مل گئی خاک میں آخر کو سیاہی جن کی​
میرے ہمدم وہ میرے بال ۔۔۔۔۔۔۔۔۔بنا پاؤ گے؟​
یہ جو چہرے پہ خراشوں کی طرح ثبت ہوئے​
یہ اذیت کے مہ و سال۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بنا پاؤ گے؟​
زندگی نے جو میرا حال ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بنا چھوڑا ہے​
تصویر کا وہ حال ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ بنا پاؤ گے؟​
 
دل میں بے چینی ہے، پریشانی ہے
یہ زندگی کا رنگ ہے بے روشنی ہے
پانی کی کمی سے کاغذ کی طرح
ہم بھی سوکھتے جا رہے ہیں، گھٹتے جا رہے ہیں
ہنسی ہوئی آنکھوں میں چھپی ہوائیں
دل کی زنجیریں اب توڑ جاتے ہیں
تالاب کی سکونت میں ہنسی کی بوند
اب روح کو ہے تنہائی کا سکون چاہیے
پانی کی یاد میں مچلاتے ہیں گهر
مگر ہر دم دل کی آہیں بھر جاتے ہیں
ہر لمحہ ہماری زندگی کی یاد دلاتا ہے
تالاب کی خاموشی، اور ہنس کا روشنی
 
الفاظ کے جھوٹے بندھن میں
اغراض کے گہرے پردوں میں
ھر شخص محبّت کرتا ھے
حالانکہ محبّت کچھ بھی نہیں
سب جھوٹے رشتے ناطے ہیں
سب دل رکھنے کی باتیں ہیں
کب کون کسی کا ہوتا ھے…؟؟
سب اصلی روپ چھپاتے ہیں
احساس سے خالی لوگ یہاں
لفظوں کے تیر چلاتے ہیں
ھم خوشبو کے سوداگر ھیں
اور سچا سودا کرتے ھیں
جو گاہک پھولوں جیسا ھو
بن داموں بک جاتے ھیں
یہ عشق و محبّت، مھر و وفا
سب رسمی رسمی باتیں ہیں
ھر شخص خودی کی مستی میں
بس اپنی خاطر جیتا ھے
 
مجھے تم نظر سے گرا تو رہے ہو
مجھے تم کبھی بھی بھلا نہ سکو گے
نہ جانے مجھے کیوں یقیں ہو چلا ہے
میرے پیار کو تم مٹا نہ سکو گے
مری یاد ہوگی جدھر جاؤ گے تم
کبھی نغمہ بن کے کبھی بن کے آنسو
تڑپتا مجھے ہر طرف پاؤ گے تم
شمع جو جلائی ہے میری وفا نے
بجھانا بھی چاہو بجھا نہ سکو گے
کبھی نام باتوں میں آیا جو میرا
تو بےچین ہو ہو کے دل تھام لو گے
نگاہوں میں چھائے گا غم کا اندھیرا
کسی نے جو پوچھا سبب آنسوؤں کا
بتانا بھی چاہو بتا نہ سکوگے
 
محبوب کا گھر ہو، یہاں خوشیاں ہوں بہت
دل کی دھڑکنوں کا آواز، یہاں ہر طرف
چاہت کا رنگ ہو، محبت کا پھول ہو
یہاں چاندنی کی راتیں اور سنہری سوشیل ہو
لیکن جو چھوڑ دیا پھر اسے مڑ کر نہیں دیکھا
دل کا دکھ ہی تھا، جو دوری کی بات تھی
مگر اب وہ گھر خالی ہے، بے رنگ ہے
محبت کا وہ جگہ ہے، جو خالی ہے
پس مندگیوں سے بھرا گھر، کیا کیا دن دیکھے
محبوب کی یادوں نے سب کو غم سہا دیا
اب وہ گھر اکیلا ہے، بے دوست ہے
محبوب کا گھر ہو، پر خوشیوں سے بھرا نہیں
لیکن اب بھی امید ہے، ساتھی کی واپسی کی
محبت کا گھر ہو، یہاں سعادت ہوتی ہے
وہ پھول کھلتے ہیں، جو دل کو خوشبود کرتے ہیں
محبوب کا گھر ہو، یہاں محبت ہوتی ہے
 
موت کلیشے ہے
خودکشی کا کوئی بھی طریقہ نیا نہیں ہے
وہی لڑ کھڑاتی ٹرین
وہی خستہ حال عمارت
وہی خاموش دریا
وہی زہر کی بوڑھی پڑیا
موت لگتی ہے بے رحم
پر میں مانتا ہوں
کہ موت کبھی بھی نئی نہیں ہوسکتی
وہی زنگ آلود گولی
وہی بیمار پنکھا
نہیں، نہیں مجھے یقین ہے
تم خودکشی کا بالکل اچھوتا انداز دریافت کر سکتے ہو
مگر مجھے یقین ہے
موت کبھی بھی نئی نہیں ہوسکتی
موت لگتی ہے بے رحم
پر میں مانتا ہوں
کہ موت کبھی بھی نئی نہیں ہوسکتی
موت ہے ایک حقیقت
لیکن بھیک مقبول نہیں
ہر انسان کو ہے میش
کرنا ہے اپنا ہار مانگتے اللہ
موت لگتی ہے بے رحم
پر میں مانتا ہوں
کہ موت کبھی بھی نئی نہیں ہوسکتی
موت کلیشے ہے
خودکشی کا کوئی بھی طریقہ نیا نہیں ہے
پر موت سے ڈرتے رہنا
ہمارے حق میں نہیں.
 
دل کی باتوں کو کرتی ہے وہ خاموشی
جو حقیقت میں ہوتی ہے شاعری
سینے میں چھپی ہے وہ حقیقت
جو آنکھوں سے نہیں نظر آتی
وقت کی مشکلات کو چھو سکتی ہے
وہ جو آسانی سے حل کرتی ہے
گوری رنگت اور چاند سے بھی خوبصورت
وہ چہرہ جو سب کو محبت بخشتی ہے
سب کچھ بیکار ہو جائے
لیکن اس کی خوبصورتی کبھی نہیں رُکتی
 
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں،
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں...
تہی زندگی سے نہیں یہ فضائیں،
یہاں سیکڑوں کارواں اور بھی ہیں...
قناعت نہ کر عالم رنگ و بو پر،
چمن اور بھی آشیاں اور بھی ہیں...
اگر کھو گیا اک نشیمن تو کیا غم،
مقامات آہ و فغاں اور بھی ہیں...
تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا،
ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں...
اسی روز و شب میں الجھ کر نہ رہ جا،
کہ تیرے زمان و مکاں اور بھی ہیں...
گئے دن کہ تنہا تھا میں انجمن میں،
یہاں اب مرے رازداں اور بھی ہیں...
- علامہ اقبال
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Back
Top