صرف 10 سیکنڈ کا ایک بوسہ تقریباً 8 کروڑ بیکٹیریا یعنی جراثیم منتقل کرتا ہے، جو دیکھتے ہی دیکھتے دونوں ساتھیوں کے منہ میں موجود جراثیمی نظام کو بدل کر رکھ دیتا ہے۔۔
اگرچہ بوسہ لینے کو عام طور پر ایک رومانوی انداز سمجھا جاتا ہے لیکن حقیقت میں یہ ایک بہت بڑا حیاتیاتی تبادلہ بھی ہے۔ 'مائیکرو بائیوم' Microbiome نامی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق بتاتی ہے کہ محض دس سیکنڈ کا ایک مختصر سا بوسہ دو افراد کے درمیان 80 ملین 8 کروڑ تک بیکٹیریا منتقل کر سکتا ہے۔
انسانی منہ جراثیموں کی ایک مصروف دنیا ہے جہاں 700 سے زائد مختلف اقسام کے بیکٹیریا رہتے ہیں۔ یہ میل ملاپ ایک انسان سے دوسرے انسان تک خوردبینی جانداروں کو پہنچانے کا سب سے بڑا ذریعہ بنتا ہے۔
یہ تبادلہ صرف جراثیم منتقل کرنے تک محدود نہیں رہتا بلکہ یہ جوڑوں کے منہ کی صحت کے معیار کو بھی ایک جیسا بنا دیتا ہے۔ سائنسدانوں نے دریافت کیا کہ جو ساتھی جتنی کثرت سے ایک دوسرے کو بوسہ دیتے ہیں، ان کے منہ میں موجود جراثیموں کی اقسام اتنی ہی ایک جیسی ہو جاتی ہیں۔ یہ دریافت ظاہر کرتی ہے کہ ہماری روزمرہ کی ذاتی ملاقاتیں ہمارے جسم کے اندرونی نظام کو بنانے، دانتوں کی صفائی اور یہاں تک کہ ہمارے مدافعتی نظام یعنی بیماریوں سے لڑنے کی قوت پر اثر انداز ہونے میں کتنا اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
نوٹ:8 کروڑ کی تعداد کا اندازہ کیسے لگایا گیا؟
اس تعداد کا حساب لگانے کے لیے ایک خاص "مارکر" پروبائیوٹک ڈرنک ایسا مشروب جس میں فائدہ مند جراثیم ہوں کا استعمال کیا گیا۔ تجربے کے دوران ایک ساتھی کو ایسا مشروب پلایا گیا جس میں لیکٹوبیسیلس Lactobacillus اور بائیفیڈو بیکٹیریم Bifidobacterium نامی جراثیم موجود تھے۔ 10 سیکنڈ کے بوسے کے بعد، جب دوسرے ساتھی کے تھوک saliva کا معائنہ۔ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ اس مختصر وقت میں تقریباً 80 ملین جراثیم منتقل ہو چکے تھے۔