• 📚 لوو اسٹوری فورم ممبرشپ

    بنیادی ڈیل

    وی آئی پی

    5000
    تین ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    وی آئی پی پلس

    8000
    چھ ماہ کے لیے
    ٹاپ پیکیج
    👑

    پریمیم

    20000
    چھ ماہ کے لیے

Bold Story خواہش ۔۔۔۔۔از ۔۔قلم ۔۔۔قلمی مزدور

Man mojiMan moji is verified member.

Staff member
Super Mod
Joined
Dec 24, 2022
Messages
10,743
Reaction score
344,489
Points
500
Location
pakistan
Gender
Male
یہ سارا سیاپا ماسی " دلشاد " کے آنے سے شروع ہوا۔۔۔۔ ماسی دلشاد میری اماں کی چچا زاد بہن ہیں۔۔۔۔ اور وہ میر پور شہر میں رہتی تھیں جبکہ میں یعنی شہزاد عرف شانی ضلع جہلم کے چھوٹے سے گاوں جگلوٹ میں اپنے والدین کے ساتھ رہتا ہوں۔۔۔۔ میرپور شہر سے ہمارے پنڈ کا فاصلہ تقریبا دو اڑھائی گھنٹے یہ محیط تھا۔۔۔۔۔ وہ ہر مہینے کی ابتدائی تاریخوں میں ہمارے گھر ضرور چکر لگاتی۔۔۔۔ اور پھر تقریبا تین چار گھنٹے میری اماں کو پچھلے سارے مہینے کی رپورٹیں دینے کے بعد شام والی گڈی پر واپس میر پور چلی جاتیں انکے اس ماہانہ ٹور کا اصل مقصد کمیٹی جمع کروانے کے علاوہ پنڈ میں موجود برادری کی خیر خبر لینا ہوتا تھا۔۔۔۔ چچا زاد ہونے کی وجہ سے اماں کا آنٹی دلشاد سے بہت پیار تھا۔۔۔۔ اور میں اپنی اماں کا اکلوتا اور ہڈ حرام پتر شہزاد عرف شانی۔۔۔ بی اے کرنے کے بعد کسی نہ کسی طریقے باہرلے ملک جانے کی فکروں میں تھا۔۔۔۔ لیکن باہرلے ملک جانے کے لیے جتنے پیسے چاہیے تھے اتنے میرے چھوڑ میرے آنے کے پاس بھی نہیں تھے۔۔۔۔ میں باہر جانے کے چکروں میں تھا اور میرا ابا مجھے اپنی جگہ ڈاکخانے میں بھرتی کروانے کے لیے جتن کر رہے تھے ۔۔۔۔۔ میرا اور میرے والدین کا وہی معاملہ تھا جیسے معاملات مڈل کلاس کے سبھی گھروں میں ہوتے ہیں۔۔۔۔۔ خیر تو بات ہو رہی تھی ماسی دلشاد کی۔۔۔۔ مجھے ان سے سخت چڑ تھی۔۔۔۔ وہ جب بھی آتی کسی نہ کسی لڑکے کی نوکری یا اچھے نمبروں کا ذکر کرکے میری شامت کا سبب بن جاتی۔۔۔۔ دوسرا مجھے انکے شہری سٹائل سے سخت اختلاف تھا۔۔۔ * وہ میر پور یعنی " منی انگلینڈ ماحول کے حساب سے اچھے خاصے تنگ کپڑے پہن کر جب پنڈ آتیں تو میری نوجوان غیرت کو بہت جوش آتا تھا لیکن ماسی دلشاد انہیں سمجھانے کی ہمت میرے آبے میں نہیں تھی میں کس کھیت کی مولی تھا۔۔۔۔ جب وہ شہری انداز کا فیشنی کرتہ اور۔۔۔۔ تنگ پاجامہ پہن کر پنڈ میں آتی تھیں تو میرا دل کرتا تھا انکی گردن مروڑ کر لاش باہر والے کھوہ میں پھینک دوں۔۔۔۔ اوپر سے انکا باتونی مزاج ... آج بھی وہ اماں کے ساتھ گپیں مارتے میری بے روزگاری یہ تبصرے کر رہی تھیں۔۔۔۔ بے روزگاری کے یہ طعنے۔۔۔۔ سن سن کر میرے کان پک گئے تھے یہی وجہ تھی کہ میں جون جولائی کی


اس تپتی دوپہر۔۔۔۔ چھت پر بیٹھا بار بار ٹائم دیکھ رہا تھا۔۔۔۔ اور نیچے ماسی دلشاد کی بیٹھک جاری تھی۔۔۔ ادھر میرے اندر جیسے مروڑ اٹھ رہے تھے۔۔۔۔۔ مجھے ہر صورت دو بجے گلی کی نکڑ پر پہنچنا تھا ہاں جی آپ بلکل ٹھیک سمجھے ۔۔۔۔ میں صرف ہڈ حرام نکما بے روزگار ہی نہیں بلکہ اول درجے کا حسن پرست اور بھونڈ ٹائپ لڑکا بھی تھا۔۔۔۔۔۔ دو بجے کے آس پاس کالج والی وین گلی کی نکڑ پر رکتی اور میں اپنے دوسرے نکمے دوستوں کے ساتھ وہاں اترنے والی پوپٹ لڑکیوں کو تاڑا کرتا تھا۔۔۔ ان دنوں مجھے فوزیہ نامی لڑکی سے شدید قسم والا عشق تھا۔۔۔میرا بس چلتا تو میں اسے اب تک خون بھرے کئی لوو لیٹر لکھ چکا ہوتا۔۔۔۔۔ لیکن مجھے اسکے وڈے بھائی سے بہت ڈر لگتا تھا اسکے وڈے پائی خیر سے پولیس میں تھے۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ میں فوزیہ کو دور دور سے دیکھ کر ٹھنڈی آہیں بھرنے پر مجبور تھا۔۔۔۔۔ میرے باہر جا کر قمست آزمائی کرنے کی بنیادی وجہ بھی یہی فوزیہ تھی۔۔۔ میں باہر جاکر ڈھیر سارا پیسہ کمانا چاہتا تھا تاکہ میں بھی انکی طرح ماربل والی ڈبل سٹوری کوٹھی بنا سکوں اور پھر بڑی شان سے اسکا ہاتھ مانگوں۔۔۔۔ اور اب ماسی دلشاد کی وجہ سے آج میں فوزیہ کے دیدار سے محروم ہونے والا تھا۔۔۔۔ اوپر سے آج ہفتے کا دن تھا۔۔۔ یعنی اگر آج وین مس ہو جاتی تو پھر سوموار کو ہی اسکا دیدار ممکن تھا۔۔۔۔۔ لیکن میں مجبور تھا میں جانتا تھا جیسے ہی میں نیچے اتروں گا۔۔۔ ماسی دلشاد مجھے فورا آڑے ہاتھوں لیں گی۔۔۔ میں بے بسی سے پہلو بدلتا۔۔۔ ماسی دلشاد کو بے تحاشا کوسنے دیتے اپنی قمیض اتار کر۔۔۔ پنکھے کے آگے بیٹھا۔۔۔ اپنی سستی پہ نالاں تھا۔۔۔۔۔ کاش میں انکے آنے سے پہلے ہی گھر سے دفع ہوجاتا۔۔۔۔ لیکن بھلا ہو ہڈ حراموں والی نیند کا۔۔۔۔ میری آنکھ جب کھلی تب تک ماسی دلشاد ہمارے گھر تشریف لا چکی تھیں۔۔۔۔اب تھوڑا سا تعارف آنٹی دلشاد کا بھی ہو جائے۔۔۔۔۔ انکے شوہر یعنی حاجی اشرف صاحب بھی دوسرے میر پوریوں کی طرح انگلینڈ ہوتے تھے۔۔۔ ماسی دلشاد کے دو بچے تھے۔۔۔۔ سب سے بڑی تیرہ سالہ حمنہ وہ شائد چھٹی یا ساتویں میں پڑھتی تھی۔۔۔۔۔ اور اس سے چھوٹا آٹھ سالہ حامد... جو ان دنوں ٹو یا تھری کلاس میں پڑھتا تھا۔۔۔۔ شادی کے ابتدائی سالوں میں وہ بھی دوسری عورتوں کی دیکھا دیکھی انگلینڈ گئی تھیں۔۔۔ انکے دونوں بچے بھی وہیں پیدا ہوئے تھے۔۔۔۔۔مگر ۔۔۔۔ پھر کچھ مجبوریوں کی وجہ سے وہ بچوں سمیت پاکستان شفٹ ہو گئی۔۔۔ ماسی دلشاد اور میری اماں کے درمیان پورے پندره سال کا فرق تھا۔۔۔ اور بقول ماسی دلشاد جب میں پیدا ہوا وہ بھی پندرہ سال کی ہو چکی تھیں۔۔۔۔ اس حساب سے انکی عمر چھتیس سینتیس سال کے لگ بھگ ضرور ہوگی کیونکہ خیر سے میں 22 ویں سال کو لگ چکا تھا۔۔۔۔







بقول میرے والد صاحب جب وہ بائیس سال کے تھے تو انکی پکی نوکری کے بعد گھر میں شادی کی تیاریاں شروع ہو گئیں تھیں۔۔۔۔ اب میں انکو کیا بتاتا کہ میں بھی شادی کے لیے پورے سے بھی زیادہ تیار ہوں جتنی ہوشیاری مجھے آتی تھی اتنی ہوشیاری تو شائد ہی کسی کو آتی ہو۔۔۔۔ میرا تو وہ معاملہ تھا کہ دور چھت پر لٹکی بریزئیر دیکھ لوں تو لن فٹ سے کھڑا ہو جائے۔۔۔۔ اور میرا لن۔۔۔۔ اس معاملے میں میرا معاملہ عام لونڈے لپاڑوں سے کہیں اوپر کا تھا۔۔۔۔۔ بقول میرے جگری یار رشید عرف شیدے۔۔۔۔ میں جو بھی دال چٹنی کھاتا ہوں وہ ساری میرے لوڑے کو لگ جاتی ہے۔۔۔ میں اوپر سے تھوڑا سنگل پسلی اور نیچے سے ٹرپل پسلی تھا۔۔۔۔لیکن میری یہ کوالٹی صرف ہم دونوں ہی جانتے تھے۔۔۔۔ نہیں نہیں ہم دنوں وہ والے دوست نہیں تھے۔۔۔ ہم دونوں نے اوائل جوانی میں مقابلے پر مٹھ تو ضرور ماری تھی۔۔۔۔۔ لیکن ۔۔۔۔ آپس میں ہمارا کوئی لینا دینا نہیں تھا۔۔۔۔ بلکہ میرا تو کسی سے کوئی بھی لینا دینا نہیں تھا۔۔۔۔۔ شیدے نے پھر بھی اپنی کسی دور کی رشتہ دار آنٹی کی پھدی ماری ہوئی تھی۔۔۔ لیکن میں سو فیصد کنوارا تھا۔۔۔۔ لیکن آپ یہ مت سمجھیں میں کوئی شریف لڑکا ہوں۔۔۔۔ مجھے بس چانس ملنے کی دیر ہے۔۔۔۔ میں نے دو منٹوں میں اگلی کی پھدی پھاڑنے میں دیر نہیں لگانی تھی۔۔۔۔باہرلے ملک جانے کی دوسری بڑی وجہ میری یہ کنوارگی بھی تھی۔۔۔ میں بھی یورپ جا کر۔۔۔ رنگ برنگی میمیں چودنا چاہتا تھا۔۔۔ اس معاملے میں میری پڑھائی پوری تھی۔۔۔۔ میں پاکستان کے عمومی نوجوانوں کی طرح۔۔۔۔ سیکس تھیوری کی ساری باریکیاں جانتا تھا بس پریکٹیکل کی دیر تھی۔۔۔۔۔ میں ایسا پریکٹیکل کرتا کہ اچھی بھلی شادی شدہ آنٹی بھی مجھے 100/100 نمبر دینے پر مجبور ہو جاتی۔۔۔۔۔ لیکن میری قسمت بھی عجیب ہی ماٹھی تھی بہن چود یہاں عام سے لونڈے آنٹیاں پھنسا کر بیٹھے تھے اور میں اچھی خاصی شکل صورت اور مضبوط لوڑا ہونے کے باوجود۔۔۔۔۔ صرف فوزیہ کو تاڑنے پر مجبور تھا۔۔۔ بس ایک واری کسی طریقی آٹھ دس لاکھ روپے ہو جائیں تو میں ڈنکی لگا کر اٹلی یا کم از کم یونان تو پہنچ ہی جاوں۔۔۔۔۔۔ یہ 2006 کا قصہ ہے ان دنوں اتنے پیسوں میں کام ہو جایا کرتا تھا میں دن رات یہی پیسے بنانے کا سوچتا چھت پر ویہلا منجی توڑتا رہتا تھا۔۔۔۔ ميرا واحد شوق ڈولے بنانا تھا۔۔۔ ڈالڈا گھی والے ڈبوں میں بجری بھر کر بنائے گئے مختلف ڈمبلز سے اپنی سنگل پسلی باڈی کو قدرے بہتر کرنے میں مصروف رہتا۔۔۔۔ لیکن خالی ڈمبلز اٹھانے سے لن فائدہ تھا جب کھانے میں صرف دال روٹی ہی نصیب تھی۔۔۔۔ کھانے سے یاد آیا۔۔۔ ماسی دلشاد کی واحد چیز جو مجھے بہت پسند ٹھی وہ انکا لایا کھوئے والا گجریلا اور گرمیوں میں فالودہ آئس کریم جو تقریبا ساری کی ساری میں ہی کھاتا تھا میں بے بسی سے پہلو بدلتا وقت گزار رہا تھا جب مجھے اماں کی آواز سنائی دی۔۔۔۔۔ شانی اے شانی۔۔۔۔ دو منٹ میں نیچے آ نئیں تو میں نے اوپر آ کر تجھے بڑی کٹ لگانی ہے۔۔۔۔پوستی انسان میں کہتی ہوں شانی جلدی سے تھلے آ جا اماں کی مخصوص پھٹکار بھری آواز سنتے ہی میں کوفت سے پاوں پٹختا باہر سیڑھیوں کی طرف بڑھتا گیا۔۔۔ آ رہا ہوں اماں۔۔۔۔ کیا کام ہے ۔۔۔۔ ؟ میں نے منڈیر سے نیچے جھانکتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔۔ کام۔۔۔ تو کام کرنے والا ہوتا تو پائی منیر کے عاطف کی طرح کراچی نوکری کر رہا ہوتا۔۔۔۔ لیکن نہیں ۔۔۔۔ تو نے بس میرا کلیجہ ہی ساڑنا ہے۔۔۔۔ اماں نے مجھے شرم دلانے کے لیے پھر سے کسی بھانجے بھتیجے کا نام لیا۔۔۔۔ اور میرا جی چاہا ماسی دلشاد کا گلا گھونٹ دوں۔۔۔یقینا یہ عاطف نامہ انہوں نے ہی سنایا تھا۔۔۔ لیکن افسوس یہ بھی میں صرف سوچ سکتا تھا۔۔۔۔ میں جھنجھلاہٹ سے پاوں پٹختا۔۔۔۔ سیڑھیاں اترتا نیچے اترا اور سیدها برآمدے کی طرف بڑھتا گیا۔۔۔۔ جہاں ماسی دلشاد لکڑی کی پرانی سی کرسی پر بیٹھی ۔۔۔۔۔ اچاری آموں والا شاپر کھولے کیریوں کا جائزہ لے رہی تھیں جی اماں ۔۔۔۔ بتائیں کیا کہنا ہے ۔۔۔ میں نے ماسی دلشاد کو بلکل اگنور کرتے ہوئے ڈائریکٹ اماں سے پوچھا۔۔۔۔آئے ہائے بدتمیزا ۔۔۔ ماسی کو سلام تو کر۔۔۔ نجانے تجھے کب عقل آئے گی۔۔۔۔




میرا سوال سنتے ہی اماں نے مجھے گھورتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔ اور میں نے بھنا کر ماسی دلشاد کی طرف دیکھا اور مجھے ہزار وولٹ کا جھٹکا لگا۔۔۔۔ وہ کرسی پر اکڑوں بیٹھی۔۔۔ آگے کو جھک کر کیریوں کو چھانٹ رہی تھیں۔۔۔۔ اور انکے کھلے گریبان سے جھلکتی سیکسی چھاتیاں اور پسینے سے بھیگی گردن پر چپکے ہوئے سیاہ بال دیکھتے ہی میرے پورے بدن میں شرارے پھوٹ پڑے۔۔۔۔ انہوں نے گرمی کی وجہ سے اپنا دوپٹہ اتار کر اماں کے پاس چارپائی پر رکھا ہوا تھا۔۔۔ویسے بھی میں انکا بھانجا بنتا تھا جس سے وہ پردے وغیرہ کا بلکل تکلف نہیں کرتیں۔۔۔۔ یہ میں پہلے سے جانتا تھا لیکن آج تک میں نے ایسا نظارہ نہیں دیکھا تھا۔۔۔ گرمی کی وجہ سے انکی گردن سے پسینے کے قطرے نیچے کلیویج میں گم ہو رہے تھے اور میرے اندر جیسے آگ بھڑک اٹھی تھی میں تو گارمنٹس شاپ پر شوکیس میں لگے بریزئیر دیکھ کر ہوشیاری پکڑ لیتا تھا۔۔۔۔۔ اور یہاں سرخ پھولوں والی سیاه قمیض کے نیچے سرخ کلر کہ بریزئیر سٹریپ اور چمکتی گوری چھاتیاں دیکھ کر مجھ پر کیا گزری ہوگی۔۔۔۔آپ بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔۔۔۔۔ سسسلام عليكم ماسی... میں نے تھوک نگل کر اپنا خشک گلا تر کرتے ہوئے انہیں سلام کیا۔۔۔۔ وعليكم السلام میرا سوہنا شہزادہ۔۔۔۔ کی حال اے تیرا۔۔۔ انہوں نے جھٹ دونوں ہاتھ بڑھا کر میرے سر اور شانے پر پیار دیتے ہوئے جواب دیا اور میں بے اختیار بوکھلا کر پیچھے ہٹا۔۔۔۔ افف انکے یوں آگے ہونے سے ۔۔۔ انکے بدن سے اٹھتی مہک نے میرے رونگٹے کھڑے کر دیے تھے۔۔۔۔۔۔ انکے جسم سے پھوٹتی انگریزی پرفیوم کی خوشبو اور پسینے کی ملی جلی مہک میرے دماغ کو یوں چڑھی جیسے میں نے کوکین کی پڑیا سونگھ لی ہو۔۔۔۔ ممیں ٹھیک ہوں۔۔۔۔ آپ بتائیں یہ کیریاں آپ لائی ہیں میں نے بوکھلا کر اماں والی چارپائی پر بیٹھتے ہوئے پوچھا ۔۔۔۔۔ ماسی دلشاد کے لشکارے نے مجھے چکرا ہی دیا تھا۔۔۔۔ ہاں۔۔۔ یہ میں اچار بنوانے کے لیے لائی تھی۔۔۔۔ تو بتا۔۔۔ میں نے سنا ہے تو باہر جانے کے چکروں میں ہے انہوں نے بھنویں اچکاتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔ اور میں نے شکایتی نظروں سے اپنی اماں کی طرف دیکھا میرے دل کی خواہش صرف وہی جانتی تھیں۔۔۔یقینا یہ خبر انہوں نے ہی ماسی دلشاد کو سنائی تھی۔۔۔ یہ خیال آتے ہی میرے دماغ میں جھماکا ہوا۔۔۔ ماسی دلشاد بھی یوکے پارٹی تھیں۔۔۔۔ کہیں وہ مجھے سپانسر کرنے کے لیے تو نہیں پوچھ رہیں یہ خیال آتے ہی میری امیدوں نے تڑپ کر انگڑائی لی ۔۔۔۔ ججی ۔۔۔ سوچ تو یہی رہا ہوں۔۔۔ آپ چاہیں تو مجھے سپانسر کر سکتی ہیں آخر میں آپکا بھی کچھ لگتا ہوں۔۔۔۔ ؟ میں نے جتاتے لہجے میں جواب دیا۔۔۔۔ ہاں یونہی سمجھ لے۔۔۔۔ تیری اماں کی پریشانی مجھ سے دیکھی نہیں گئی۔۔۔۔ماسی دلشاد نے خوشدلی سے جواب دیا اور میں نے تڑپ کر انکی طرف دیکھا۔ یہ خواب تھا یا حقیقت، ماسی دلشاد مجھے انگلینڈ کے لیے سپانسر کرنے کو تیار تھیں، ایسا تو میں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا۔۔۔۔۔۔۔ "سسسچ ماسی، تم مجھے انگلینڈ لیجا رہی ہو؟" میں نے جذبات سے لرزتی آواز میں پوچھا۔۔۔۔۔۔۔





"ہیں؟ میں نے تجھے انگلینڈ لیجانے کا کب بولا ہے، سائیں مار ان گوروں کے، میں تجھے منی انگلینڈ یعنی میرپور لیجا کر سیٹل کرونگی۔" میں نے شیماں (میری اماں کا نام) سے بات کرلی ہے، دیکھنا یوں چھ مہینوں میں تمہارے حالات نہ بدلے تو مجھے کہنا۔ انہوں نے چٹکی بجاتے ہوئے کہا اور میرا دل تڑاخ سے ٹوٹا۔ ماسی دلشاد کے جواب نے میرے خوابوں کے شیش محل کو بننے سے پہلے ہی وٹہ مار کر توڑ دیا تھا۔ "میر پور؟ آپ اس مہربانی کو بھی رہنے دیں، وہاں جانے سے بہتر ہے میں ابے کے ساتھ ڈاکیا بھرتی ہو جاؤں۔" میں نے بھناتے ہوئے جواب دیا۔ "انسان دا پتر بن شانی، ماسی کے ساتھ ایسے بات کرتے ہیں؟ وہ تیرے بھلے کے لیے اپنی جمع پونجی لگانا چاہتی ہے اور تم نخرے دکھا رہے ہو۔۔۔۔ چل مافی مانگ اور پوری گل دھیان سے سن۔۔۔۔۔" میری بدتمیزی پر اماں نے جوتی کو ہاتھ میں پکڑتے ہوئے مجھے گھوری ڈالی اور میں نے بے بسی سے مٹھیاں بھینچتے ہوئے سر جھکا دیا۔۔۔۔ "سوری ماسی، بتائیں آپکے پاس ایسا کونسا منصوبہ ہے جو چھ مہینوں میں ہمارے حالات بدل دے گا؟ کیا میر پور میں روپے کی جگہ پاؤنڈ چلنے لگ گیا ہے؟" میں نے طنزیہ لہجے میں پوچھا۔۔۔۔۔۔"ہاں ایسا ہی سمجھ لو، وہاں حساب کتاب پاؤنڈز میں اور لین دین روپے میں ہوتا ہے، کچھ سمجھے؟" ماسی دلشاد نے بڑے سکون سے جواب دیا اور میں نے حیرت سے انکی طرف دیکھا۔۔۔۔۔۔ "کیا مطلب ماسی، مجھے ککھ پلے نہیں پڑا؟" میں نے بیزاری سے پوچھا۔ "بتاتی ہوں، دیکھ جب سے یہ 7/7 یعنی انگلینڈ میں دھماکوں والا مسئلہ ہوا ہے، وہاں پر حالات کافی بدل گئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ بہت سے لوگ اپنی فیملیز کو واپس بھیج رہے ہیں۔ میر پور میرے کتنے ہی جاننے والی خواتین اپنے بچوں کو لیکر واپس آ گئے ہیں۔۔۔۔۔۔ یوں سمجھ میں جس کالونی رہتی ہوں اس کالونی کے پندرہ بیس خاندان پچھلے دو مہینوں میں واپس آئے ہیں اور تمہیں پتہ ہے انہیں سب سے بڑا پرابلم کیا ہے؟ ہماری کالونی میں اچھے لیول کا کوئی جنرل سٹور نہیں ہے۔۔۔۔۔۔ وہاں انگلینڈ میں ہر کالونی میں باقاعدہ کمرشل ایریا ہوتا ہے، زنانیاں ٹرالی کھینچتے سٹور پر جا کر شاپنگ کر لیتی ہیں، واک کی واک اور شاپنگ کی شاپنگ۔ اسلیے میں نے سوچا ہے کیوں نا وہاں پر فیشنی قسم کا جنرل سٹور بنایا جائے، انگلینڈ کے منی سٹورز جیسا۔۔۔۔۔۔ شیشے میں چم چم کرتا امپورٹڈ مال جسکی انہیں عادت پڑ چکی ہے، روپے پیسے کی انہیں کمی نہیں۔ یوں سمجھ اگر یہ سٹور بن گیا تو ہم دونوں کی لاٹری نکل پڑے گی۔۔۔۔۔ میں تقریبا مہینے سے اس پر کام کر رہی ہوں، میں نے اشرف سے بھی بات کر لی ہے، وہ بھی راضی ہے۔۔۔۔۔۔




مجھے کسی قابل بھروسہ بندے کی ضرورت ہے جو اپنا کام سمجھ کر محنت کرے، ڈنڈی نہ مارے۔ اگر تو راضی ہو تو بول، میں تجھے فکس سیلری کے ساتھ ساتھ 25 پرسنٹ کا پارٹنر بھی بنا دونگی، باقی تیرے رہنے کھانے پینے کا ذمہ میرا۔۔۔۔۔ میں سمجھوں گی میرے دو نہیں بلکہ تین بچے ہیں، تیری تنخواہ ہر مہینے تیرے ماں پیو کو بھیج دونگی۔۔۔۔۔ اب تو تیاری پکڑ اور جا کر شام چھ بجے والی گاڑی کی دو ٹکٹیں بک کروا آ۔۔۔۔۔۔" ماسی دلشاد نے فیصلہ کن لہجے میں جواب دیا اور میں نے بے اختیار اماں کی طرف دیکھا۔ مجھے بڑی امید تھی وہ میرا ساتھ دیں گی مگر ماسی دلشاد انہیں پہلے سے ہی اپنا ہم خیال بنا چکی تھیں۔۔۔۔۔ "چل شاباش، جلدی سے بکنگ کروا کر واپس آ، تب تک میں تیرے کپڑے وغیرہ نکالتی ہوں۔۔۔۔۔" میری مدد طلب نظروں کو اگنور کرتے ہوئے اماں نے بڑی سنجیدگی سے مجھے حکم سنایا اور میں چپ چاپ انکا منہ دیکھتا رہ گیا اس لیے کہ اتنا ہنگامی پروگرام میرے تو ہوش ہی اڑا گیا تھا۔۔۔۔۔ "آج شام، اتنی جلدی؟ چلو اگر جانا ہے تو سویرے چلے جائیں گے اور ویسے بھی ابا سے مل کر ان سے مشورہ کرنا بھی ضروری ہے۔۔۔۔۔۔" میں نے بہانہ بناتے ہوئے کہا۔ "تیرے ابے سے میں آپے مشورہ کر لونگی، تو اتنے جوگا ہوتا تو نکموں کی طرح منجی نہ توڑتا رہتا۔۔۔۔۔ چل اٹھ اور ٹکٹیں کروا کر جلدی سے واپس آ اور ہاں آتے ہوئے اپنے یہ لفنگوں جیسے بال کٹواتے آنا۔" اماں نے حسب معمول جتی کو ہاتھ مارتے ہوئے حکم سنایا۔ "اچھا اماں، جاتا ہوں، لیکن میں نے اپنے بال کوئی نہیں کٹوانے۔" میں نے بڑے شوق سے فلم 'کھل نائیک' کے سنجے دت والے سٹائل میں بڑھائے ہوئے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے کہا۔ "اچھا چل بال بیشک نہ کٹوانا، لیکن آتے ہوئے شیو لازمی کرواتے آنا تاکہ تم کول بوائے لگو۔" ماسی دلشاد نے ہنستے ہوئے کہا اور میں نے چونک کر انکی طرف دیکھا۔۔۔۔۔ ماسی دلشاد کا یوں 'کول بوائے' کہنا مجھے چونکا گیا تھا۔ "جی جی اچھا، اب پیسے پکڑائیں تاکہ میں چھ بجے والی گاڑی کی ٹکٹ کٹوا سکوں۔" میں نے کن انکھیوں سے ماسی دلشاد کو دیکھتے ہوئے کہا۔ "اک منٹ رک، اور ہاں ہمت کر کے جہلم اڈے سے اے سی والی گاڑی کی ٹکٹ کروانا۔" انہوں نے پرس کھول کر ہزار روپے کا نوٹ مجھے پکڑاتے ہوئے کہا اور میں ماسی دلشاد کے گورے بازو سے نظریں ہٹا نہ سکا۔اور میں ماسی دلشاد کے گورے بازو سے نظریں چراتا نوٹ پکڑ کر تیزی سے باہر کی طرف لپکا۔ ۔۔۔۔۔باہر نکلتے ہی میں اپنے دل دے جانی رشید عرف شیدے کے گھر کی طرف بڑھتا گیا۔۔۔۔جہلم جا کر ٹکٹ کروانے کے لیے اسکی موٹر سائیکل لیجانا ضروری تھا، دوسرا مجھے اس سے اپنے دکھ بھی شئیر کرنے تھے۔۔۔۔ اس کے علاوہ کوئی نہیں سمجھ سکتا تھا کہ فوزیہ سے جدائی کا دکھ میرے لیے کتنا گہرا ہے۔۔۔۔۔ میں یہی سوچتا اسکے گھر کی طرف بڑھتا گیا، کچھ ہی دیر بعد میں رونی صورت بنائے شیدے کے ساتھ اسکی بیٹھک میں بیٹھا اسے اپنے دکھڑے سنا رہا تھا۔۔۔۔۔ "ہمممم تو یہ بات ہے، ویسے شانی اگر تو سچ پوچھے تو تیری ماسی کا آئیڈیا سمجھ میں آتا ہے۔۔۔۔ جنرل سٹور والے کام میں بچت بھی بڑی ہے، تم گھر بیٹھے یورپ جتنا کما سکتے ہو، تو باہر جا کر گوروں کی نوکری کرنے کا فائدہ ؟" شیدے نے کچھ دیر سوچنے کے بعد مشورہ دیا۔۔۔۔۔ "چھڈ شیدے ، تو بس رہن دے، یورپ کا بھلا میر پور سے کیا مقابلہ، وہاں پنج سال لگائے تو کاغذ بن جائیں گے اور یہاں اگر سٹور نہ چلا تو پھر؟ یہی پنڈ اور یہی گلیاں، الٹا اماں ابے نے سارا الزام بھی مجھے ہی دینا ہے"۔۔۔۔۔میں نے کھا جانے والی نظروں سے شیدے کو گھورتے ہوئے کہا۔ "او ہو تو کیا ہے، ایسے تو کچھ بھی ہو سکتا ہے، تم ڈنکی لگا کر یونان جاتے ہوئے پکڑے جاؤ تو؟ کم از کم یہاں تمہاری جیب سے تو کچھ نہیں جائے گا، میں تو کہتا ہوں دو چار مہینے کوشش کر کے دیکھ لو، نہیں تو واپس آ جانا۔۔۔۔۔





میں تیرا سجن ہوں چنگا مشورہ دینا میرا فرض ہے، تو غصہ نہ کر میری بات پہ دھیان دے۔۔۔۔۔ وہاں جانے کے کئی فائدے ہیں اور کچھ نہیں تو تیرے ساتھ کوئی نہ کوئی آنٹی تو ضرور سیٹ ہو جائے گی"۔۔۔۔۔ "سٹور چلے یا نہ چلے، تجھے پھدی لازمی ملے گی"۔ شیدے نے میری کمزور رگ پہ ہاتھ رکھتے ہوئے کہا اور میرے لوڑے نے فورا سر اٹھایا، پھدی کا نام سنتے ہی لوڑے میں جیسے کرنٹ دوڑ گیا تھا۔۔۔۔۔۔ "ککیا مطلب، تم اتنے یقین سے کیسے کہہ سکتے ہو؟" میں نے بے اختیار اپنے لوڑے کو رانوں میں دبوچتے ہوئے پوچھا۔ "بس مجھے پتہ ہے، میرا اک بیلی کچھ دن میر پور میں سیلنگ کا کام کرتا رہا ہے، اس نے بتایا ہے کہ وہاں کی آنٹیاں انگریزوں کی طرح بڑی آزاد خیال ہیں۔۔۔۔۔ اس نے بتایا تھا کہ ایک بار تو سیلنگ کی گھوڑی (شٹرنگ) باندھنے سے پہلے اس نے کوٹھی کی مالکن کو گھوڑی بنا لیا تھا۔۔۔۔۔ اس نے کوئی پانچ چھ زنانیاں چودی ہیں، وہ بتاتا ہے کہ میر پور کی آنٹیاں انگریزی فلموں کی طرح اپنی مرضی سے چوپے بھی مارتی ہیں۔۔۔۔ تیرے جیسے سلم سمارٹ چھوکرے کے ساتھ تو آنٹی بڑی آسانی سے پھنس جائے گی۔۔۔۔۔ اور ایک واری پھنس گئی تو سمجھ تیرے سارے ارمان پورے ہو جائیں گے، ایسی امیر آنٹیاں اپنے یاروں کو کھلا پیسہ بھی کھلاتی ہیں اور تیرا تو معاملہ ہی وکھرا ہے۔۔۔۔ جس نے اک واری تیرے سودے پہ جھولا لے لیا اسے انگلینڈ کے کالے حبشیوں کی یاد نہ آئی تو میرا نام بدل دینا"۔۔۔۔۔ شیدے نے بڑی بے تکلفی سے میرے لوڑے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا اور میرے پورے بدن میں میٹھی سنسناہٹ سی دوڑتی گئی۔۔۔۔۔ شیدا سچ کہتا تھا میرا لوڑا واقعی کالے انگریزوں سے کم نہیں تھا، سمارٹ بدن، بھرپور جوانی اور وڈا لوڑا۔۔۔۔ میں کسی بھی آنٹی کا فیورٹ لڑکا بننے کی ساری شرائط پر پورا اترتا تھا۔۔۔۔۔ اففف، آنٹی کی پھدی کا سنتے ہی میں سارے دکھڑے جیسے بھول ہی گیا، جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں میرے اندر جوانی جیسے ابل رہی تھی۔۔۔۔ مجھے بس موقع ملنے کی دیر تھی، میں تو سالوں سے پھدی پھاڑنے کا موقع تلاش کر رہا تھا۔۔۔۔ "چل ٹھیک ہے میں تیری بات مان کر میر پور چلا جاتا ہوں، لیکن یاد رکھ اگر میرے ساتھ کوئی آنٹی نہ پھنسی تو میں تیری بنڈ پاڑ دونگا۔۔۔۔ چل اب اٹھ جلدی جلدی ٹکٹ کروا کر آئیں پھر مجھے نہانا دھونا بھی ہے"۔ میں نے اسکا شانہ تھپکتے ہوئے کہا اور وہ سر ہلاتا موٹر سائیکل کی چابی لینے اندر چلا گیا، تقریبا دس منٹ بعد ہم دونوں جہلم کی طرف جا رہے تھے۔
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Back
Top