شام کا پہر تھا چاروں اور ٹھنڈی یخ بستہ ہواؤں نے ڈیرہ جمایا ہوا تھا وہ سفید رنگ کا لباس زیب تن کئے، کالے رنگ کی شال کندھے پر رکھے بالوں کو جیل سے سیٹ کئے، پانچ فٹ آٹھ انچ قد، تیس سال کا نوجوان، وہ گاؤں کا چکر لگا کر اپنے ساتھیوں کے ساتھ اس وقت حویلی واپس آیا تھا۔ وہ جیسے ہی لاؤنج کے اندر آیا ٹی وی آن کرکے صوفے پر بیٹھ گیا۔
“سکھر شہر کے ایم این اے فیصل میر نے وعدہ کیا تھا وہ سڑک کا کام کروائیں گے، روڈ پر کافی سالوں سے کوئی کام نہیں کروایا گیا جس کے باعث وہاں سے گزرنے والے لوگوں کو مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ووٹ لینے کے وقت جو وعدے کئے جاتے ہیں ان کو پورا کرنے کے وقت سیاسی حکمران کہاں ہوتے ہیں؟” نیوز چینل پر اینکر نیوز سنا رہی تھی جسے سن کر اس کے غصے کا گراف بڑھ ہی گیا اس نے چینل تبدیل کیا باقی چینلز پر یہ نیوز ابھی نشر نہیں ہوئی تھی اس نے غصے میں ریموٹ ٹیبل پر رکھا۔
“مجھے اس اینکر کی ساری معلومات چاہیے، یہ نیوز اس نے کس کے کہنے پر پڑھی ہے؟ جلدی پتا کرو۔” اس نے اپنے ساتھی کو کہا اور موبائل پر میسج لکھنے لگا۔
“ٹھیک ہے میں کچھ دیر تک معلومات لے کر بتاتا ہوں۔” اس کے آدمی نے کہا اور باہری دروازے کی جانب بڑھ گیا جبکہ اس نے میسج ٹائپ کرکے موبائل کو ٹیبل پر رکھا۔
“تم کب آئے؟” فیصل صاحب نے لاؤنج میں داخل ہو کر اس سے پوچھا وہ کچھ دنوں کے لیے لاہور گیا تھا اور آج واپس آیا تھا۔
“کچھ دیر قبل آیا ہوں، آپ نے نیوز سنی؟” اس نے ناسمجھی سے ان کی جانب دیکھا تو وہ صوفے پر بیٹھ گئے۔
“نہیں۔” انہوں نے کہا اور اپنی نظریں ٹی وی پر مرکوز کر لیں اس چینل پر اینکر ابھی تک وہی نیوز سنا رہی تھی انہوں نے ٹیبل سے ریموٹ اٹھایا اور غصے میں چینل تبدیل کیا اس سے اگلے چینل پر بجٹ کے متعلق خبر سنائی جا رہی تھی۔
“یہ نیوز کس نے چینل کو دی ہے؟” انہوں نے غصے میں پوچھا وہ اس سڑک پر کام کروا چکے تھے پھر کیوں کسی نے یہ خبر چینل پر دی تھی انھیں سمجھ نہیں آئی۔
“یہ کام اجمل صاحب کا ہو سکتا ہے۔” اس نے پرسوچ انداز میں کہا تو وہ پریشان ہو گئے۔
“تم اس بارے میں معلوم کرواؤ، مجھے ضروری کام سے باہر جانا ہے۔” انہوں نے کچھ دیر کی توقف کے بعد کہا اور باہری دروازے کی جانب بڑھ گئے جبکہ اس نے اپنا موبائل اٹھایا اور نمبر ڈائل کرتا ہوا اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔
سکھر شہر میں سردیوں کا آغاز تھا لوگ شام کو اپنا کام کرنے کے بعد اپنے گھروں میں چلے جاتے تھے وہ زمینوں کا چکر لگانے کے بعد حویلی واپس آیا تو اجمل صاحب مسکراتے ہوئے فون پر بات کر رہے تھے وہ صوفے پر بیٹھ گیا۔
“میرا کام ہو گیا کیا؟” اجمل صاحب نے فون پر بات کرنے کے بعد سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا تو
اس کے چہرے پر مسکراہٹ در آئی۔
“بابا۔ آپ کا کام ہو چکا ہے، آپ نے نیوز نہیں دیکھی؟” اس نے ناسمجھی سے پوچھا۔
“نہیں۔” انہوں نے نفی میں سر ہلایا۔
“وہ نیوز کچھ وقت کے لیے ہی تھی، اگر ایم این اے نے دیکھی ہوگی تو غصے میں سلگ اٹھا ہوگا۔”
اس نے تلخی سے کہا اور صوفے سے اٹھ گیا۔
“کہاں جا رہے ہو؟” انہوں نے اسے باہر جاتے ہوئے دیکھ کر پوچھا وہ کچھ دیر قبل ہی واپس آیا تھا۔
“دوست کے والد کی طبیعت خراب ہے، ہسپتال جانا ہے۔” اس نے بتایا تو وہ ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگے۔
“اچھا۔ آدمیوں کے ساتھ جانا۔” انہوں نے کہا تو وہ اثبات میں سر ہلا کر باہر چلا گیا جبکہ وہ اخبار اٹھا کر پڑھنے لگے۔
وہ غصے میں ٹہل رہی تھی کچھ دیر قبل ہی اسے
انجان نمبر سے کال آئی تھی اس سے فیصل میر والی نیوز کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے بتایا ان کے رپورٹر نے وہاں جاکر سب دیکھا تھا پھر بھی وہ اس سے پوچھ رہے تھے کس نے یہ خبر نیوز چینل پر دینے کا کہا تھا اس نے غصے میں کال کاٹی اور اپنے ٹیم ممبران کو بتایا تو وہ اسے سمجھانے لگے ایسی خبریں پڑھنے کے بعد انھیں اکثر ایسی کالز آتی رہتی تھیں وہ ان کو بتا کر گھر کے لیے روانہ ہونے لگی باہر آکر اس نے اپنی کار کا دروازہ کھولا اور ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گئی اس نے کار کو ڈرائیو کرنا شروع کیا وہ سامنے کی طرف دیکھ کر ڈرائیونگ کر رہی تھی جب اچانک گولیوں کی آواز سن کر اس نے کار روکی اور شیشے سے باہر دیکھنے لگی آدمی کار سے نکل کر باہر آیا اور اس کی کار کا شیشہ بجایا اسے حیرانی ہوئی اس نے سامنے سے اپنی گن اٹھائی اور شیشہ کھولا۔
“سر آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔” آدمی نے کہا اور موبائل اسے دیا تو وہ ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی تبھی اس کے ساتھیوں پر اس کی نظر گئی ان کے ہاتھ میں گن تھی اس نے موبائل کا اسپیکر آن کیا تو وہاں سے اس کی آواز گونجی۔
“کل شام پانچ بجے میں ریستوران میں آپ کا انتظار کروں گا، پہنچ جانا اور ہوشیاری کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔” اس نے کہا اور کال کاٹ دی جبکہ وہ پریشان ہو گئی۔ اس نے موبائل واپس دیا تو وہ آدمی اپنی کار کی جانب بڑھ گیا جبکہ وہ گہری سوچ میں مبتلا ہو گئی اسے سمجھ نہیں آئی وہ آدمی کون تھے اور کال پر بات کرنے والا شخص اسے کیوں ریستوران آنے کا کہہ رہا تھا۔ وہ اپنی سوچوں کو جھٹکتی ہوئی اپنی توجہ ڈرائیونگ پر مرکوز کر گئی۔
گھر میں اس وقت خاموشی تھی، ریاض صاحب اپنے کمرے میں آرام کر رہے تھے جبکہ راحیل ابھی آفس سے واپس نہیں آیا تھا وہ پریشانی میں گھر کے اندر داخل ہوئی اور پرس کو ٹیبل پر رکھا تبھی تحریم بیگم نے اسے بلایا۔
“کنزہ ہم اگلے ہفتے سکھر جائیں گے، تم چلو گی کیا؟”
انہوں نے پوچھا وہ ریاض صاحب کے کہنے پر سکھر شہر جانا چاہتے تھے کافی سال بیت گئے تھے وہ وہاں نہیں گئے تھے وہ ان دنوں اپنی جاب میں مصروف تھی رات میں اس کا ٹاک شو اختتام پذیر ہوتا تھا جس کے باعث وہ دیر سے گھر واپس آتی تھی ان کے پوچھنے پر وہ سوچنے لگی۔
“ہاں میں جاؤں گی۔” اس نے مسکراتے ہوئے کہا تو جواباً وہ بھی مسکرانے لگیں۔
“آج جلدی آئی ہو؟” انہوں نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔
“ماما میری طبیعت ٹھیک نہیں تھی، اس لیے جلدی آگئی۔” اس نے بتایا اور موبائل میں اپنی دوست کا نمبر ڈائل کرنے لگی کچھ دیر بعد اس کی دوست نے کال اٹینڈ کی تو وہ اس سے بات کرنے لگی۔ اس نے بات کرکے رابطہ منقطع کیا اور تحریم بیگم کی جانب متوجہ ہوئی۔
“تم کمرے میں جاکر آرام کرو۔” انہوں نے فکرمندی سے کہا تو اس نے اثبات میں سر ہلایا اور صوفے سے اٹھ کر اپنے کمرے کی جانب چلی گئی۔
وہ اس وقت آفس میں بیٹھا ہوا تھا جب اسے کال کرکے کچھ بتایا گیا وہ اپنا موبائل اٹھا کر وہاں سے باہر آیا اور کار میں آکر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا۔ اس نے کار کو اسٹارٹ کیا۔ دس منٹ کی مسافت کے بعد اس نے گھر کے سامنے کار
روکی اور باہر نکل آیا۔ اس کے چہرے پر سنجیدگی تھی وہ لاؤنج میں آیا تو آدمی اس کا انتظار کر رہے تھے ان کے بتانے پر اس نے اپنی نظریں سامنے کیں۔
آدمی کرسی پر بیٹھا ہوا تھا اس نے آگے جاکر اس کے چہرے پر مکا رسید کیا تو وہ غصے میں اسے دیکھنے لگا۔
“مجھے یہاں کیوں لائے ہو؟” اس نے ناسمجھی سے دریافت کیا۔
“تم نے کس کے کہنے پر کار پر فائر کیا تھا؟” اس نے اس کی بات کو نظرانداز کیا اور اس سے پوچھا۔
“مجھے نہیں پتا۔” اس نے کہا تو وہ استہزائیہ اس پر ہنسا۔
“تم جب تک نہیں بتاؤگے، میں تمہیں یہاں سے جانے نہیں دوں گا۔” اس نے غصے میں کہا اور صوفے پر بیٹھ گیا جبکہ وہ آدمی پریشان ہو گیا۔
“میں بتاتا ہوں۔” اس نے اضطرابی کیفیت میں کہا تو سب اس کی جانب متوجہ ہوئے۔
“مجھے ریحان نے کار پر حملہ کرنے کے لیے کہا تھا۔” اس نے بتایا اور انھیں دیکھنے لگا۔
“تم نے یہ سب کیوں کیا؟” اس نے دریافت کیا تو وہ گڑبڑا گیا۔
“اس نے مجھے پیسے دیے تھے اس لیے میں نے حملہ کیا۔” آدمی نے بتایا تو اس نے اپنے آدمیوں کو اسے یہاں سے لے جانے کا اشارہ کیا وہ آدمی اجازت ملتے ہی وہاں سے چلے گئے جبکہ وہ گہری سوچ میں مبتلا ہو گیا۔
صبح کے دس بج رہے تھے وہ کراچی کے مشہور ریستوران میں بیٹھا ہوا اس کا انتظار کر رہا تھا۔ اسے وہاں آئے آدھا گھنٹہ ہو چکا تھا۔ اس نے نمبر ڈائل کیا تو کچھ دیر بعد کال اٹینڈ کی گئی اس نے جگہ کا بتایا اور رابطہ منقطع کر دیا وہ اپنے آدمیوں کی جانب دیکھنے لگا جو سائیڈ پر کھڑے تھے اس نے گھڑی میں ٹائم دیکھا کافی وقت ہو گیا تھا اسے اب کوفت محسوس ہونے لگی اس نے اردگرد دیکھا صبح کے وقت لوگ ناشتہ کرنے ریستوران آئے ہوئے تھے وہ اردگرد کا جائزہ لے رہا تھا جب لڑکی باہری دروازے سے اندر داخل ہوئی اور موبائل میں ٹائم دیکھتی ہوئی وہاں آئی وہ اسے دیکھنے میں اس قدر کھو گیا تھا جب اس کے بلانے پر اس کی سوچوں کا تسلسل ٹوٹا۔ “ایکسکیوزمی سر!” لڑکی کی آواز سن کر وہ اس کی جانب متوجہ ہوا۔ نیلے رنگ کا لباس زیب تن کئے، کندھوں تک آتے ریشمی بال، سفید رنگت، پانچ فٹ تین انچ قد، چھبیس سال کی لڑکی اس کے روبرو کھڑی تھی۔ “جی کہیں۔” اس نے ناسمجھی سے کہا اور اردگرد دیکھا۔ “میں نیوز اینکر کنزہ ریاض، آپ نے کال کی تھی؟” اس نے دریافت کیا۔ “جی میں نے کال کی تھی، آپ بہت دیر سے آئی ہیں۔” اس نے تنقید کی جسے وہ سراسر نظرانداز کر گئی۔ “میں جاب بھی کرتی ہوں، وہاں سے آئی ہوں۔” اس نے لاپرواہی سے کہا اور کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گئی جبکہ وہ غصے میں اسے دیکھنے لگا۔ “تمہیں ایم این اے فیصل میر والی نیوز پڑھنے کا کس نے کہا تھا؟” اس نے لفظوں کو چباتے ہوئے پوچھا تو وہ ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی۔ “میں نیوز اینکر ہوں جو خبریں گردش کر رہی ہوتی ہیں اور جو ملک میں ہو رہا ہوتا ہے، وہ خبریں ہم پڑھتے ہیں۔” اس نے بتایا تو اسے غصہ ہی آگیا۔ “جو خبر تم نے کل پڑھی تھی، وہ سکھر شہر کی ویڈیو نہیں تھی۔” اس نے لفظوں کو چباتے ہوئے بتایا۔ “اچھا تمہیں کس نے بتایا؟” اس نے جیسے تمسخر اڑایا ہو۔ “میں ایم این اے کا بیٹا فواد میر ہوں، میرے بابا نے کچھ مہینے قبل وہاں کام کروایا تھا وہ ویڈیو کسی اور جگہ کی تھی۔ رپورٹرز جو ویڈیو بنا کر چلانے کے لیے دیتے ہیں چینل والے اسے نشر کر دیتے ہیں، اب اگر تم نے کسی کے کہنے پر ایسی خبر پڑھی تو پھر اپنی نوکری کو بھول جانا۔” اس نے غصے میں کہا تو وہ اسے دیکھنے لگی سفید شرٹ پر کالے رنگ کی پینٹ زیب تن کئے، بالوں کو جیل سے سیٹ کئے، سفید رنگت، ہاتھ میں ورسٹ واٹچ پہنے وہ سب کو اپنی جانب متوجہ کرنے کا سبب بن رہا تھا۔ “مسٹر فواد میر میں خبریں پڑھوں گی، اور مجھے دھمکی دینے کی ضرورت نہیں ہے۔” اس نے مسکراتے ہوئے کہا اور اپنا موبائل اٹھائے باہری دروازے کی جانب بڑھ گئی جبکہ وہ اپنے غصے پر ضبط کرتا ہوا اپنے آدمیوں کی جانب بڑھ گیا۔ وہ غصے میں کار میں بیٹھ گئی اسے سمجھ نہیں آرہی تھی وہ ایسا کیوں کہہ رہا تھا وہ اپنی سوچوں میں مگن تھی جب اس کے موبائل کی رنگ ٹون بجی اس نے بے دلی سے کال اٹینڈ کی اس طرف سے بتائی گئی بات سن کر اسے غصہ ہی آگیا اسے جاب سے نکال دیا گیا تھا وہ کار سے باہر آئی اور ریستوران کی جانب بڑھ گئی وہ ریستوران سے نکل کر اپنی کار کی جانب بڑھ رہا تھا اس کی آواز سن کر پلٹ کر اس کی جانب دیکھنے لگا۔ “تم نے چینل والوں کو کال کی تھی؟” کنزہ نے سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا تو وہ مسکرانے لگا۔ “تم نے کہا تھا تم ایسی خبریں پڑھو گی اس لیے میں نے چینل والوں کو کال کرکے کہا تمہیں نوکری سے نکال دیں۔” اس نے بتایا اور اپنا چشمہ پہنا۔ “اب نیوز میں تمہاری بھی خبریں آئیں گی، تم بھی ایسا ہی کرتے ہوگے، پیسوں کا لالچ دے کر تم امیر لوگ کام کرواتے ہو، تم نے ابھی بھی پیسوں کا لالچ دیا ہوگا۔” اس نے غصے میں کہا تو وہ مسکرانے لگا اردگرد کے لوگ وہاں کھڑے ہو کر ان کا جھگڑا دیکھ رہے تھے۔ “مس اینکر کنزہ ریاض جب تمہیں جاب مل جائے پھر نیوز دینا ابھی یہاں سے جا سکتی ہو۔” اس نے مسکراتے ہوئے کہا اور کار میں جاکر بیٹھا تو ڈرائیور نے کار کو اسٹارٹ کیا وہ غصے میں اسے کوسنے لگی اس نے موبائل میں اپنی دوست کا نمبر ڈائل کیا جو کہ مصروف جا رہا تھا وہ اس سے بعد میں بات کرنے کا سوچتی ہوئی کار کی جانب بڑھ گئی۔
اس نے کار کو آفس کے سامنے روکا اور دروازہ کھول کر باہر نکل آئی، اس نے اپنے قدم آگے کی جانب بڑھائے۔ وہ آفس آئی تو سب اپنے کام میں مصروف تھے اس نے وہاں بیٹھے لوگوں سے اپنی جاب کے نکالے جانے کی وجہ پوچھی تو کسی نے کچھ نہیں بتایا، انھیں اس بات کا پتا نہیں تھا کہ اسے نوکری سے نکالا گیا ہے۔ اس نے چینل کے سینیئر سے پوچھا۔
“سر آپ نے مجھے نوکری سے کیوں نکالا؟” اس نے پوچھا تو وہ اس کی طرف متوجہ ہوئے۔
“وجہ ہم آپ کو نہیں بتا سکتے، آپ کی سیلری آپ کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کر دی گئی ہے۔” اس نے بتایا اور موبائل میں ایس ایس پی فواد میر کا نمبر ڈھونڈنے لگا جبکہ اپنا نظر انداز ہونا اسے غصہ دلا گیا تھا۔
“آپ نے فواد میر کے کہنے پر مجھے نوکری سے نکالا ہے۔” اس نے غصے میں کہا تو اردگرد کے لوگ انھیں دیکھنے لگے۔
“ہماری مجبوری تھی۔” اس نے شرمندگی سے کہا اور موبائل میں مصروف رہا۔
“کونسی مجبوری تھی؟” اس نے پوچھنا ضروری سمجھا جبکہ وہ اردگرد دیکھنے لگا سب اپنا کام چھوڑ کر ان کی طرف دیکھ رہے تھے۔
“وہ مجھے دھمکیاں دے رہا تھا، اس لیے تمہیں جاب سے نکالا، تم اب یہاں سے جاؤ۔” اس نے کہا تو وہ حیران رہ گئی۔
“اس نے آپ کو دھمکیاں دیں؟” وہ ناسمجھی سے سوال کر گئی اسے فواد میر پر غصہ آرہا تھا۔
“ہاں۔” انہوں نے اثبات میں سر ہلایا۔
“اچھا۔” اس نے فقط اتنا کہا اور اپنے قدم باہری دروازے کی جانب بڑھا دیے۔
وہ سفید رنگ کے لباس میں ملبوس، ہاتھ میں مہنگی ورسٹ واٹچ پہنے، بالوں کو جیل سے سیٹ کئے ریستوران میں بیٹھا ہوا اردگرد کا جائزہ لے رہا تھا۔ اسے وہاں بیٹھے کچھ ہی دیر ہوئی تھی اس نے ٹیبل سے موبائل اٹھایا اور نمبر ڈائل کرکے کال ملائی تو اس طرف سے فوراً کال اٹھائی گئی۔
“مجھے تمہارے ساتھ کوئی بزنس نہیں کرنا ہے، میں کب سے تمہارا انتظار کر رہا ہوں تم ابھی تک نہیں آئے ہو۔” اس نے کہا اور کال کاٹ کر اٹھ گیا اسے انتظار کرنا بالکل بھی پسند نہیں تھا
اس نے اپنے قدم باہری دروازے کی جانب بڑھائے اور باہر آکر وہ جیسے ہی کار میں بیٹھ رہا تھا جب جانی پہچانی آواز سن کر اس نے اپنے قدم روکے اور پلٹ کر اس کی جانب دیکھا فواد میر اس کی طرف مسکرا کر دیکھ رہا تھا اسے غصہ تو بہت آیا مگر وہ برداشت کر گیا۔
“ایس ایچ او صاحب کیسے ہو؟” اس نے دریافت کیا تو وہ ناچاہتے ہوئے بھی مسکرانے لگا۔
“تمہیں اس سے کوئی سروکار نہیں ہونا چاہیے کہ میں کیسا ہوں، اپنے کام سے کام رکھو۔” اس نے تلخی سے کہا تو اس نے غصے میں اسے دیکھا۔
“تم ہر بات پر غصہ مت کیا کرو، نرمی سے جواب دیا کرو تمہارے غصے اور جذباتی انداز کی وجہ سے تم نے بہت کچھ کھویا ہے۔” فواد نے اسے سمجھانے والے انداز میں کہا تو وہ گہری سوچ میں مبتلا ہو گیا۔
“تمہاری وجہ سے میں نے بہت کچھ کھویا ہے، تمہاری وجہ سے بابا مجھ سے ناراض ہیں، تمہاری وجہ سے میری نوکری گئی، تمہاری وجہ سے رضوان مجھ سے بات نہیں کرتا۔ تم اتنی آسانی سے بول رہے ہو کہ میں غصہ مت کیا کروں۔” اس نے تلخی سے کہا تو وہ نفی میں سر ہلا گیا۔
“تم رشوت لیتے ہو اس لیے تمہیں سسپینڈ کیا گیا ہے، انکل بھی اسی وجہ سے تم سے ناراض ہیں اور رہی بات رضوان کی تم دونوں کا جھگڑا ہوا تھا اس وجہ سے وہ تم سے ناراض ہے، اپنی حرکتوں کا جائزہ لیا کرو دوسروں پر الزام مت لگایا کرو۔” فواد نے اسے تفصیل سے بتایا اور کار کی جانب بڑھ گیا جبکہ اس نے غصے میں کار کا دروازہ کھولا اور ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر اس نے کار کو اسٹارٹ کیا اور فاسٹ ڈرائیونگ کرتا ہوا وہاں سے چلا گیا۔
رات کے دس بج رہے تھے جب وہ فلیٹ کے اندر داخل ہوا۔ اس نے اپنے قدم کمرے کی جانب بڑھائے اور کمرے میں آکر وہ بیڈ پر بیٹھ گیا۔ وہ صبح سکھر سے آیا تھا سارا دن گھومنے کے باعث اس نے آرام نہیں کیا تھا۔ اسے بیٹھے ابھی کچھ دیر ہی ہوئی تھی جب اس کے موبائل کی رنگ ٹون بجی اس نے بیڈ سے موبائل اٹھایا اور دیکھا انجان نمبر سے کال آرہی تھی اس نے نظرانداز کی۔
پھر سے رنگ ٹون بجی تو اس نے بے دلی سے کال اٹینڈ کی۔
“ایس ایس پی فواد میر تم نے نیوز چینل کے سینیئر کو دھمکی دے کر مجھے نوکری سے نکلوایا۔
میں تم پر کیس کروں گی۔” اس طرف سے کہا گیا تو اسے حیرانی ہوئی وہ لڑکی اسے دھمکی دے رہی تھی۔
“تم نے یہ بتانے کے لیے کال کی تھی؟” اس نے سوال پوچھا تو کنزہ کو اس پر غصہ ہی آگیا۔
“ہاں!” اس نے فقط اتنا کہا۔
“ٹھیک ہے، مجھے امید ہے اب تم کسی کے کہنے پر یا پیسے لے کر ایسی خبریں نہیں پڑھو گی۔” فواد نے سنجیدگی سے کہا تو اسے غصہ ہی آگیا وہ کیوں اس پر الزام لگا رہا تھا اسے سمجھ نہیں آئی اس نے غصے میں کال کاٹ دی جبکہ وہ ناسمجھی سے موبائل کو دیکھنے لگا۔ اس نے موبائل پر میسج لکھا اور نمبر پر سینڈ کرکے اس نے موبائل کو سائیڈ ٹائیبل پر رکھا اور کھانا کھانے کی غرض سے کچن میں چلا گیا۔
صبح کے آٹھ بج رہے تھے وہ کالے رنگ کی شرٹ پر کالے رنگ کی پینٹ زیب تن کئے، گرے رنگ کا کوٹ پہنے، ہاتھ میں ورسٹ واٹچ پہنے کار کی جانب بڑھ گیا اور فرنٹ ڈور کھول کر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا۔ اس نے ڈرائیونگ اسٹارٹ کی اور کار کو اسپیڈ سے چلاتا ہوا کار کا رخ آفس کی جانب کیا۔ روڈ پر پولیس کھڑی تھی اس نے ناسمجھی سے باہر دیکھا۔ اس وقت روڈ پر لوگوں کا ہجوم تھا وہ کار کو سائیڈ پر پارک کرکے باہر نکل آیا اور ہجوم سے ہوتا ہوا آگے آیا جہاں پولیس کانسٹیبل کھڑے تھے۔
“کیا ہوا ہے؟” اس نے سوالیہ نگاہوں سے دیکھتے ہوئے پوچھا تو پولیس کانسٹیبل نے اسے دیکھا۔
“دکان سے چوری ہو گئی ہے۔” آدمی نے روتے ہوئے بتایا تو اسے حیرانی بالکل نہیں ہوئی شہر میں ان دنوں چوری جیسی واردات میں اضافہ ہو چکا تھا۔
“آپ کو کیا لگتا ہے کس نے چوری کی ہوگی؟” اس نے سوال پوچھا تو پولیس کانسٹیبل نے غصے میں اسے دیکھا۔
“میری کسی سے دشمنی نہیں ہے۔” آدمی نے بتایا۔
“آپ تھانے جاکر ایف آئی آر درج کروائیں، اور یہ میرا نمبر لیجئے مجھے کال کرکے اطلاع دیجئے گا۔” اس نے کوٹ کی جیب سے اپنا کارڈ نکال کر اسے دیا اور کار کی جانب بڑھ گیا۔
“راحیل ریاض” آدمی نے کارڈ پر لکھا اس کا نام پڑھا اور پولیس کانسٹیبل سے بات کرنے لگا۔
وہ کار میں آکر بیٹھ گیا اور اپنی توجہ ڈرائیونگ پر مرکوز کر گیا۔
صبح کے دس بج رہے تھے وہ ڈائیننگ ٹیبل کے گرد بیٹھا ہوا ناشتہ کر رہا تھا۔ اس نے چائے کا کپ میز پر رکھا اور اٹھ کر کمرے میں چلا گیا۔ اسے کام کے سلسلے سے شہر سے باہر جانا تھا۔ اس نے اپنا بیگ اٹھایا اور ورسٹ واٹچ میں ٹائم دیکھتا ہوا کمرے سے باہر آیا ملازم نے میز سے برتن اٹھائے اور کچن میں رکھنے گیا۔
“میں شہر سے باہر جا رہا ہوں۔” اس نے بتایا اور باہری دروازے کی جانب بڑھ گیا۔ وہ باہر آیا تو ڈرائیور نے اس کے لیے کار کا دروازہ کھولا تو وہ فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گیا۔ ڈرائیور نے اس کا بیگ کار کی بیک سیٹ پر رکھا اور آگے آکر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا اور کار کو اسٹارٹ کیا۔ گاڑی اپنے سفر پر رواں دواں تھی وہ کھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا جب اس کی کار سے کار ٹکرائی ڈرائیور نے بیک وقت پر بریک لگائی اور کار سے باہر نکل آیا۔
سامنے کھڑی کار سے لڑکی باہر آئی اور کار کو دیکھنے لگی۔ اس کی کار کا نقصان نہیں ہوا تھا وہ اپنی کار میں بیٹھنے ہی لگی تھی جب اریب نے اسے بلایا اس نے پلٹ کر پیچھے دیکھا۔
“آپ کو ڈرائیونگ کرنا نہیں آتی؟” اس نے طنزیہ انداز میں پوچھا تو اس نے نفی میں سر ہلایا۔
“مجھے ڈرائیونگ کرنے آتی ہے۔” اس نے غصے میں کہا تو وہ اس لڑکی کو دیکھنے لگا جو اعتماد سے جواب دے رہی تھی۔
“اچھا۔” اس نے فقط اتنا کہا اور اپنی کار کی جانب بڑھ گیا جبکہ وہ اس کے رویے پر ناسمجھی سے کچھ دیر وہاں کھڑی سوچتی رہی اس کے بعد اپنی کار کی جانب بڑھ گئی۔
وہ صبح دس بجے گھر سے نکلی تھی اس نے کئی چینلز میں جاکے انٹرویو دیا تھا وہ دوپہر کو گھر واپس آئی تھی اور کھانا کھانے کے بعد اپنے کمرے میں چلی گئی تھی۔
شام کے پانچ بج رہے تھے وہ اپنے کمرے سے باہر آئی تحریم بیگم لاؤنج میں رکھے ہوئے صوفے پر براجمان تھی اس نے ان سے مخاطب ہو کر باہر جانے کی اجازت طلب کی تو انہوں نے اسے اجازت دے دی۔ وہ خوش ہوتی ہوئی اپنے کمرے میں گئی اور پرس اٹھا کر آئی۔
شام کے چھ بج رہے تھے وہ تحریم بیگم کو بتا کر اپنی کار کی جانب بڑھ گئی۔ وہ نیلے رنگ کی شرٹ اور کالے رنگ کی پینٹ میں ملبوس، بالوں کی ڈھیلی پونی بنائے، پنک لپ گلوز لگائے پرکشش لگ رہی تھی۔ وہ کار میں آکر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گئی اور کار کو ریستوران کے راستے پر ڈرائیو کرنا شروع کیا۔ اس نے کچھ دیر قبل اپنی دوستوں کو کال کرکے ریستوران بلایا تھا۔ آدھے گھنٹے کی مسافت کے بعد اس نے کار کو ریستوران کے سامنے روکا اور باہر نکل آئی وہ پرس ہاتھ میں پکڑے ریستوران کی جانب بڑھ گئی۔وہ ریستوران کے اندر داخل ہوئی تو وہ دونوں کونے میں پڑی ٹیبل کے گرد رکھی گئی کرسیوں پر براجمان تھیں اسے دیکھ کر مسکرانے لگیں۔
“اینکر صاحبہ وقت پر آیا کرو، ہم کب سے تمہارا انتظار کر رہی تھیں۔” وردہ نے مسکراتے ہوئے کہا تو وہ کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گئی۔
“اچھا۔” اس نے مسکرا کر کہا۔
“تم نے کوئی بات بتانی تھی؟” سارہ نے یاد آنے پر کہا تو اس کے چہرے کا رنگ زرد پڑ گیا۔
“کیا ہوا ہے؟” وردہ نے پریشانی میں پوچھا۔
“میں نے اس دن نیوز پڑھی تھی۔” اس نے ساری بات بتائی تو وہ پریشان ہی ہوگئیں۔
“اس وجہ سے تمہیں نوکری سے نکالا گیا؟” سارہ نے ناسمجھی سے پوچھا تو اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
“اس نے آفس میں کال کی تھی اس کی وجہ سے مجھے نوکری سے نکالا گیا ہے، اب تو اس کے بارے میں خبریں اکھٹی کرنی پڑیں گی۔” اس نے غصے میں لفظوں کو چباتے ہوئے کہا تو وردہ مسکرانے لگی۔
“ویسے کیا وہ ہینڈسم تھا؟” اس نے تجسس سے پوچھا تو اسے غصہ ہی آگیا۔
“اس کی وجہ سے میری نوکری چلی گئی اور تم پوچھ رہی ہو کیا وہ ہینڈسم تھا؟” کنزہ نے ڈپٹنے کے انداز میں کہا تو اس کا قہقہہ گونجا۔ کنزہ نے اسے غصے میں گھورا۔
“کچھ کھانے کے لیے منگواؤ۔” سارہ نے کہا تو وہ اس کی جانب متوجہ ہوئی اس نے اثبات میں سر ہلایا اور ویٹر کو بلا کر اس نے ڈشز کا بتایا وہ چلا گیا تو وہ ان کی جانب متوجہ ہوئی۔
“کیا کر رہی ہو آج کل؟” کنزہ نے ان سے پوچھا۔
“میں کالج پڑھانے جاتی ہوں۔” سارہ نے بتایا۔
“میں تو گھر میں ہوتی ہوں۔” وردہ نے مسکراتے ہوئے کہا
“کوکنگ سیکھ لو، ویسے بھی میں سوچ رہی ہوں آنٹی سے بات کروں تمہارا رشتہ طے کریں تاکہ ہم تمہاری شادی کے فنکشن اٹینڈ کریں۔” کنزہ نے اپنی مسکراہٹ کو روکا اور سنجیدگی سے کہا تو وہ اسے دیکھنے لگی۔
“کیا مسئلہ ہے؟” وردہ نے چڑنے کے انداز میں کہا تو وہ دونوں مسکرانے لگیں۔
“وردہ تمہاری شادی کی شاپنگ کرنے چلیں گے، اگلے ہفتے میرے کالج کی چھٹی ہوگی کیا خیال ہے؟” سارہ نے اسے تنگ کرنا چاہا اور وہ تنگ ہو بھی گئی۔
“تنگ مت کرو، تم بتاؤ تمہاری شادی کب ہے؟” وردہ نے ان کی بات کو نظرانداز کیا۔ ویٹر ان کی ٹیبل پر کھانا رکھ کر چلا گیا تو اس نے پوچھا اور کھانے کی جانب متوجہ ہوئی۔
“مجھے نہیں پتا۔” اس نے کندھے اچکائے اور بریانی کی پلیٹ اٹھائی۔
“تمہاری شادی ہے اور تمہیں پتا نہیں کونسی تاریخ کو ہے۔” وردہ نے حیرانی سے کہا تو اس نے گھوری سے نوازا جبکہ کنزہ نے مسکراتے ہوئے انھیں دیکھا۔
“ابھی تاریخ طے نہیں ہوئی جب ہوگی تمہیں کال کرکے بتاؤں گی۔” اس نے کچھ دیر کی توقف کے بعد کہا تو وہ خوش ہی ہو گئی۔
“کنزہ تم نے کسی دوسرے چینل والوں سے بات نہیں کی کیا؟” وردہ نے پرسوچ انداز میں پوچھا تو اس نے کھانے سے ہاتھ روکا۔
“میں آج انٹرویو دے کر آئی ہوں، انہوں نے کہا ہے وہ چند دنوں تک اطلاع دیں گے۔” اس نے بتایا تو وہ اثبات میں سر ہلا گئی اور بریانی کھانے لگی۔
“بل کون دے گا؟” سارہ نے ناسمجھی سے پوچھا۔
“وردہ بل دے گی، کیوں وردہ؟” کنزہ نے بریانی کھاتے ہوئے کہا تو وہ ناسمجھی سے ان کی جانب دیکھنے لگی۔
“کتنا بل ہے؟” اس نے پوچھا اور بریانی کھانے لگی جبکہ اس کے لاپرواہی پر پوچھنے پر وہ اسے دیکھنے لگیں۔
“دو ہزار روپے۔” سارہ نے جلدی سے بتایا تو وہ اسے دیکھنے لگی۔
“بل سارہ دے گی، ویسے بھی تم دونوں جاب کرتی ہو۔” اس نے جتایا اور اپنا پرس اٹھا کر ان کو تنگ کرنے کی غرض سے باہر چلی گئی جبکہ وہ دونوں حیرانی سے اسے دیکھنے لگیں۔
کنزہ نے کاؤنٹر پر جاکر بل ادا کیا اور باہری دروازے کی جانب گئی تو سارہ بھی اس کے ساتھ باہری راستے کی جانب بڑھ گئی۔
وہ دونوں پارکنگ ایئریا میں آئیں تو وہ کال پر بات کرنے میں مصروف تھی انھیں دیکھ کر کال کاٹ کر ان کی جانب متوجہ ہوئی۔
“کس سے بات کر رہی تھی؟” سارہ نے ناسمجھی سے پوچھا۔
“بابا کو کال کی تھی وہ مصروف ہیں اس لیے لینے نہیں آئیں گے۔” اس نے پریشانی سے بتایا۔
“میں تم دونوں کو گھر چھوڑ دوں گی۔” کنزہ نے کہا اور کار کا دروازہ کھول کر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گئی جبکہ وردہ فرنٹ سیٹ پر اور سارہ بیک سیٹ پر بیٹھی تو اس نے کار کو آگے بڑھایا
رات کے آٹھ بج رہے تھے وہ پولیس یونیفارم میں ملبوس، بالوں کو جیل سے سیٹ کئے، کالے رنگ کا چشمہ پہنے اپنی کار میں بیٹھا ہوا تھا۔ رات کے اس وقت روڈ پر ٹریفک جام تھا وہ کب سے کار میں بیٹھا ہوا تھا جب تھانے سے کال آنے پر اس نے کال اٹینڈ کی اسے تھانے بلایا گیا تھا اس نے بات کرنے کے بعد کال کاٹی اور کار سے باہر نکل آیا آگے کار کا ٹائر پنکچر ہو گیا تھا جس کے باعث راستہ بند تھا وہ لوگوں کو سائیڈ پر کرتا ہوا آگے گیا تو اس لڑکی کو دیکھ کر اسے غصہ ہی آگیا اس سے اس دن کی گئی ملاقات یاد آئی۔
“ایکسکیوزمی کیا ہو رہا ہے؟” اس نے آگے جاکر ناسمجھی سے پوچھا تو وہ اس کی جانب متوجہ ہوئی وہ وردہ کو گھر چھوڑنے کے بعد سارہ کے گھر کے راستے پر کار کو ڈرائیو کر رہی تھی جب اس کی کار ایکدم رکی اس نے باہر آکر دیکھا تو ٹائر پنکچر ہو چکا تھا کار روڈ پر تھی جس کے باعث راستہ بند ہو چکا تھا کچھ گاڑیوں سے لوگ نکل کر وہاں آئے تھے تبھی پولیس آفیسر کی آواز پر وہ اس کی جانب متوجہ ہوئی اسے پہچاننے میں اسے چند منٹ لگے وہ پولیس آفیسر ہے وہ ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی۔
“کار چلانا نہیں آتی کیا؟” اس نے پوچھا انداز تمسخر اڑانے جیسا تھا جو کہ اسے غصہ دلا گیا۔
“تم جاکے اپنی ڈیوٹی کرو۔” اس نے لفظوں کو چباتے ہوئے کہا تو سارہ کار سے باہر آئی۔
“کنزہ مجھے دیر ہو رہی ہے، ماما بابا انتظار کر رہے ہوں گے۔” اس نے پریشانی میں کہا تو وہ اس کی جانب متوجہ ہوئی۔
“اگر آپ کہیں تو میں آپ کو گھر چھوڑ دیتا ہوں۔” وہاں کھڑے آدمی نے کہا جس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی جو کنزہ کو غصہ دلا گئی۔
“تم جاکے اپنا کام کرو سمجھے۔” کنزہ نے غصے میں کہا تو وہ آدمی اپنی کار کی جانب بڑھ گیا۔
“تم یہاں سے جاؤ، جیسے ہی کار کا ٹائر چینج ہوگا میں تمہیں اطلاع دوں گا۔” اس نے اردگرد دیکھتے ہوئے کہا تو وہ گہری سوچ میں مبتلا ہو گئی۔
“ٹائر چینج ہوگا تو پھر ہی میں جاؤں گی۔” کنزہ نے کہا تو اس نے اردگرد دیکھا۔ روڈ پر اس وقت کافی ہجوم تھا اسے کنزہ کا وہاں کھڑے رہنا ناگوار گزرا تھا اردگرد کے لوگ اسے دیکھ رہے تھے اسے ناجانے کیوں غصہ ہی آگیا۔
“تمہارا مسئلہ کیا ہے؟ کہا نہ جاؤ سمجھ نہیں آئی؟” اس نے لفظوں کو چباتے ہوئے کہا تو اس کے غصے کا گراف بڑھ ہی گیا۔
“پولیس آفیسر فواد میر میرا مسئلہ یہ ہے کہ میری کار خراب ہو گئی ہے، اب آپ پولیس آفیسر ہونے کی وجہ سے کار کا ٹائر ٹھیک کروا کر مجھ سے رابطہ کریے گا۔” اس نے کہا تو وہ غصے میں اسے دیکھنے لگا۔
“کنزہ چلو۔” سارہ نے پریشانی میں کہا تو وہ کار سے اپنا پرس اٹھا کر لائی اور آگے کی جانب بڑھ گئی جبکہ اس نے اپنے غصے پر ضبط کیا اور اپنے آدمیوں کی کار کی جانب بڑھ گیا جو ناسمجھی سے اسے دیکھ رہے تھے۔
“کار کو سائیڈ پر کرو اور ٹائر چینج کروا کر مجھے بتانا۔” اس نے کہا اور اپنی کار میں جا بیٹھا جبکہ آدمی کار کی جانب بڑھ گئ