-
📚 لوو اسٹوری فورم ممبرشپ
بنیادی ڈیل
⭐
وی آئی پی
5000
تین ماہ کے لیے
بہترین ڈیل
💎
وی آئی پی پلس
8000
چھ ماہ کے لیے
ٹاپ پیکیج
👑
پریمیم
20000
چھ ماہ کے لیے
You are using an out of date browser. It may not display this or other websites correctly.
You should upgrade or use an
alternative browser.
Poetry سر فیض احمد فیض کی شاعری
آئے تو یوں کہ جیسے ہمیشہ تھے مہربان
بھولے تو یوں کہ گویا کبھی آشنا نہ تھے
زندگی کیا کسی مفلس کی قبا ہے جس میں
ہر گھڑی درد کے پیوند لگے جاتے ہیں
نہ جانے کس لیے امیدوار بیٹھا ہوں
اک ایسی راہ پہ جو تیری رہ گزر بھی نہیں
مقام فیضؔ کوئی راہ میں جچا ہی نہیں
جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے
ہم پرورش لوح و قلم کرتے رہیں گے
جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے
دنیا نے تیری یاد سے بیگانہ کر دیا
تجھ سے بھی دل فریب ہیں غم روزگار کے
یہ آرزو بھی بڑی چیز ہے مگر ہم دم
وصال یار فقط آرزو کی بات نہیں
اک فرصت گناہ ملی وہ بھی چار دن
دیکھے ہیں ہم نے حوصلے پروردگار کے
تیرے قول و قرار سے پہلے
اپنے کچھ اور بھی سہارے تھے
نہ گل کھلے ہیں نہ ان سے ملے نہ مے پی ہے
عجیب رنگ میں اب کے بہار گزری ہے
Create an account or login to read stories
You must be a member in order to leave a comment
Create account
Create an account on our community. It's easy!
Log in
Already have an account? Log in here.
New posts