قسط نمبر 51
ریاض عاقب کوہلر
رات کے کھانے کے بعد میں ایک بار پھر اپنے ٹھکانے سے نکل آیا تھا۔ممبئی کی تیز زندگی میں خود کش دھماکے سے جو عارضی تموج پیدا ہوا تھا اسے ختم ہونے میں بہ مشکل دو تین دن لگے تھے۔ اب بس ٹی وی پر تبصروں کی صورت وہ خبر سنائی دے جاتی ورنہ کئی نئے حادثوں نے اسے پرانا کر دیا تھا۔
ٹیکسی پر بیٹھ کرمیں اپنے ٹھکانے سے مناسب فاصلے پر اتر گیا۔آج میں اس دن والی جگہ سے مخالف سمت آیا تھا۔درمیانے درجے کے ایک ہوٹل میں کونے کی میز پر بیٹھ کرمیں نے چائے منگوائی اور شکلا کو کال ملا دی۔جو دوسری گھنٹی پر وصول ہو گئی تھی۔
”نمستے سر!کیسے ہیں آپ۔“
”جوان ، تمھیں ملنا چاہتا ہوں ۔“اس نے چھوٹتے ہی تقاضا کیا۔
”کیا آپ کو لگتا ہے میں اس ملاقات کا متحمل ہو سکتا ہوں ۔“
اس نے یقین دہانی کی کوشش کی۔”تمھیں ہر طرح کی حفاظت مہیا کی جائے گی، پچاس لاکھ روپے انعام دوں گا۔باقی تمھاری مادام اور اس کی تنظیم کی ذمہ داری بھی میں سنبھالتا ہوں ۔اور یاد رہے میں اکیلا نہیں را کی پوری قوت و طاقت میرے ساتھ ہے۔“
”سر ایسا ہی ہے۔لیکن میں اپنے اندیشوں کو کیسے جھٹلا و¿ں ۔فائدہ نقصان روپے پیسے کا ہو تو خطرہ مول لینا مشکل نہیں ہوتا،لیکن جب جان پر بنی ہو تو کسی تسلی اور دلاسے پر یقین کرنے کو دل نہیں کرتا۔“
اس نے بڑھک ماری۔”بالک!تم کسی ایرے غیرے سے نہیں انڈین آرمی کے جنرل سے بات کر رہے ہو۔“
”بھارت ماتا کے سپوت کی عزت و وقار سر آنکھوں پر ،پرنتو شما چاہتا ہوں مہاراج!یہ میدان جنگ نہیں کہ آپ دشمن کو پاﺅں تلے روند دیں گے۔یہ تو چالاکی،عیاری، دھوکے بازی کی جنگ ہے۔اور اس میدان میں ہمارے فوجی آفیسر سادہ لوح اور بھولے بھالے ہوتے ہیں ۔جرائم پیشہ افراد کے پیش نظر کوئی ضابطہ یا اصول نہیں ہوتا۔اور آپ ٹھہرے اصول پرست ،خوددار اور سیدھی سچی بات کرنے والے۔“میں اسے بانس پر چڑھاتے ہوئے انکار پر ڈٹا رہا۔
”تم ایک سمجھ دار اور بہادر جوان ہو۔اور بالکل صحیح کہہ رہے ہو، میں جرائم پیشہ افراد کی چالبازیوں سے واقف نہیں ہوں گا۔لیکن یہ کیوں بھول جاتے ہو میری پشت پر را جیسی تنظیم ہے۔ جن کا کام ہی دشمن ملک کے عیار جاسوسوں اور دھرتی ماں سے غداری کرنے والے مکاروں کو پکڑ کر انجام تک پہنچانا ہے۔“
”سر میں اب آپ کی نواسی کو پیٹ بھر کر کھانا کھلادیتا ہوں ۔اورکوشش کروں گا کہ اسے جلد از جلد بھاگنے کا موقع مل جائے،یوں کہ میری ذات بھی شک کی زد میں نہ آئے۔لیکن آپ سے مل نہیں سکتا۔بھگوان میری رکھشا کرے،بہت بری جگہ پر پھنس گیا ہوں ۔“
وہ پر ملامت لہجے میں بولا۔”یار سمجھنے کی کوشش کرو،تمھیں ایک عورت ہمارے مقابلے میں ناقابل شکست لگ رہی ہے۔اب اس سے زیادہ ہماری کیا توہین کرو گے۔“
میں رنکھے لہجے میں بولا۔”سر وہ ایک عورت نہیں ہے۔اس کی پشت پناہی بھی کوئی بین الاقوامی دہشت گرد تنظیم کر رہی ہے۔ اور اس نے واضح بتایا ہوا ہے کہ ،اگر کسی نے اس کی مخبری کی تو وہ تفتیش کے چکر میں نہیں پڑے گی اور تمام مقامی افراد کو ختم کر دے گی۔“
”تم اس کی لاعلمی میں مجھے کال بھی تو کر لیتے ہو۔ اسی طرح چوری چھپے ملنے بھی آجاﺅ۔ بے شک اپنی مادام کاپتا نہ بتانا۔میں بس رائفلوں کے موضوع پر گفتگو کروں گا۔شاید تمھیں معلوم نہ ہواس دن ایک خود کش بمبار کی وجہ سے ہمارا وہ گودام ہی دھماکے سے اڑ گیا ہے جس میں نئی رائفلیں ذخیرہ تھیں ۔مجھے رائفلیں جانچنے کا موقع ہی نہیں مل سکا۔اب مزید رائفلیں منگوانے سے پہلے میں آپ سے پوری تفصیل سننے کا خواہاں ہوں ۔کیوں کہ میں نہیں چاہتا دوبارہ کوئی ایسا سوداکر بیٹھوں جس میں پھنسنے کا امکان ہو۔پہلے تو بھگوان کی کرپا سے بچت ہو گئی، بار بار ایسے اتفاق نہیں ہوتے۔“
دل چاہا زوردار قہقہ لگاﺅں ۔اس مطلب پرست خود غرض نے جب اپنی گردن پھنستی دیکھی تو وہ گودام ہی دھماکے سے اڑا دیا جس میں ایس آرون رائفلیں ذخیرہ تھیں ۔یقینا اس نے ایک دو رائفلوں کی جانچ کراکر میری خبر کی تصدیق کی ہو گی۔یوں بھی کسی رائفل سے پچاس ساٹھ گولیاں چلانے میں دیر ہی کتنی لگتی ہے۔ اورجانچنے کے بعد اس کے پاس رائفلوں سے جان چھڑانے کے علاوہ چارہ نہیں رہا ہوگا۔لازماََ وہ نئی رائفلوں کو ذخیرہ کر کے تو نہیں رکھ سکتا تھا۔کیوں کہ نئے اسلحے کی آمد کے ایک دو دن کے اندر ٹیکنیکل ٹیم اس کی جانچ پڑتال کو تشکیل دی جاتی ہے۔جس میں فائرر،پرزوں کی جانکاری رکھنے والے،ایمونیشن جانچنے والے اوراسلحہ سازی کے ماہر موجود ہوتے ہیں ۔اور ٹیم جیسے ہی ہتھیار کو پاس کرتی ہے۔ہتھیارمختلف فارمیشنوں کی اسلحے سے متعلق شاخوں کو تقسیم کر دیئے جاتے ہیں ۔جو وہ ہتھیار فارمیشن کے ماتحت آنے والی یونٹوں کو بانٹ دیتی ہیں ۔
ایسی ہی ٹیکنیکل ٹیم اسلحہ منگوانے سے پہلے بھی مقرر کی جاتی ہے۔لیکن شکلا نے پرما کی خاطر کچھ زیادہ ہی تیزی دکھائی تھی۔یہ بھی ممکن تھا ایس آر ون خریدنے کی تیاری پہلے سے مکمل ہو۔کیوں جب ہم قید میں تھے تب بھی ایس آر ون کا سودا تو ہو چکا تھا۔البتہ معاہدے پر عمل درآمد سے پہلے ہمیں بھاگنے کا موقع مل گیا تھا۔تب شکلا نہایت سستے داموں رائفل خرید رہا تھااور اب لورا نے اچھی خاصی قیمت وصول کی تھی۔
اس کے گھناﺅنے فعل پر مجھے حیرت نہیں ہوئی تھی۔بھارت کی سیاست پاکستانی سیاست سے بھی کئی گنا زیادہ گھٹیا ہے۔یوں بھی ہندو سیاست کی بنیاد کوٹلیہ عرف چانکیہ کے بتائے ہوئے مکرو فریب کے طریقوں پر رکھی گئی ہے۔ مو¿رخین اس کی پیدائش چوتھی صدی قبل مسیح کانصف اول بتلاتے ہیں یہ پاکستان کے عظیم شہر ٹیکسلا میں پیدا ہوا تھا جو مختلف تہذیبوں اور بادشاہتوں کا مسکن رہا ہے۔ کوٹلیہ ذات کا برہمن تھا لیکن بہت زیادہ بدصورت تھا اور اپنی بدصورتی پراس نے علم و دانش کا پردہ ڈالے رکھا۔ا س نے 150ابواب پر مشتمل ”ارتھ شاستر“ نامی کتاب اس وقت کے راجہ کی رہنمائی کو لکھی۔ کوٹلیہ عرف چانکیہ کے(لفظی معنی مکار ہیں )۔ معتدل مزاج ہندو ادیب تسلیم کرتے ہیں کہ ،کوٹلیہ کی کتاب ایسی سیاست کی تعلیم دیتی ہے جو بے رحمی اور ظلم کی علمبر دار ہے اور جس میں حکومت کے وزراءکودھوکہ دہی کی تعلیم دی گئی ہے۔ایسی کتاب جس میں محبت کے رشتے خونریزی میں بدل جاتے ہیں ۔
میں نے چانکیہ کو دیکھا نہ اس کی کتاب ارتھ شاستر تک رسائی ہے۔البتہ میری سماعتیں چانکیہ کے ایسے ہی چیلے کی آواز سن رہی تھیں ،جس نے ذاتی فائدے کے لیے وطن کی پروا کی اور نہ بے چارے پہرہ داروں کی جان کی۔یقینا ایسا پہلی بار نہیں ہوا تھا۔ اپنے مفاد کی خاطر نہ جانے کتنی بار پاکستان،نامعلوم دہشت گرد اور بے گناہ مجاہد مودر الزام ٹھہرائے جا چکے تھے۔بھارتی سیاست دانوں اور آرمی کے لیے کسی بھی دہشت گردی کی وجہ پاک آرمی اور آئی ایس آئی کو ٹھہرانا آسان سا حل ہے۔اور آفرین ہے بھارتی عوام پر جو اسے ایسے ہی حقیقت مانتے ہیں جیسے ایک کروڑ دیوتاﺅں کو سچا مانتے ہیں ۔اس موضوع پر کافی دلائل اورشہادتیں دی جاسکتی ہیں مگر میرے پیش نظر بھارتی سیاست یا ہندو کی پاکستان دشمنی نہیں ہے۔ایک تفریحی ناول میں ثقیل و پر مغز ابحاث کی گنجائش نہیں نکل سکتی۔بس عادت سے مجبور ہو کر چند باتیں کہہ جاتا ہوں ۔
میں نے گویابادل نخواستہ ہامی بھرنے کا عندیہ دیا۔”اچھا سر!میں آپ سے اکیلے میں کیسے مل سکتا ہوں ۔جہاں بس میں اور آپ ہوں ،کوئی تیسرا موجود نہ ہو۔“
”یہ ہوئی نہ جوانوں والی بات۔“اس نے مکھن لگانے میں فراخ دلی کا مظاہرہ کیا تھا۔”یقیناتم کسی بھی طرح سرحد پر پہرہ دینے والے سپوت سے کم نہیں ہو۔ سیدھا میری کوٹھی میں چلے آﺅ۔اور نچنت رہو ہم دونوں ہی ہوں گے،کوئی تیسرا وہاں نہیں ہوگا۔“
”ناممکن۔“میں انکار کرنے میں ایک لمحہ بھی نہیں لگایا تھا۔”ہم کہیں باہر ملیں گے۔میں اچھی طرح اطمینان کرنے کے بعد ہی آپ کے قریب آﺅں گا۔“
شکلا مجھے سمجھانے لگا۔”جو لو گ تمھیں میری کوٹھی میں دیکھ لیں گے ان کے لیے کسی اور جگہ ہماری ملاقات کا پتا لگانا کون سا مشکل ہوگا۔“
میں فوراََ بدکتے ہوئے بولا۔”یہی تو میں آپ کو سمجھانا چاہتا ہوں سر!کہ ہمارا ملاقات کرنا ٹھیک نہیں ہے۔اس لیے رہنے دیں ۔“
اس نے فوراََ پینترابدلا۔”افوہ،میرے کہنے کا یہ مطلب نہیں تھا۔بہ ہرحال کہوکس جگہ ملنا چاہتے ہو میں پہنچ جاﺅں گا۔“
اس سے بات کرتے ہوئے اتنی دیر ہو گئی تھی،کہ اب مزید بیٹھنا خطرناک ہوسکتاتھا۔چائے کی خالی پیالی کے نیچے پچاس روپے کا نوٹ رکھ کر میں بیرونی دروازے کی طرف چل پڑا۔ہوٹل سے باہر نکلتے ہی میں نے محتاط انداز میں دائیں بائیں کا جائزہ لیا اور پھرسڑک کے کنارے چلنے لگا۔اس دوران شکلا سے بات چیت جاری رکھی۔
”سر جگہ کے بارے تو میں نے کچھ سوچا ہی نہیں ہے۔“
اس نے دوبارہ مشورہ دیا۔”بالک میری مانو تو میری کوٹھی سے بہترین جگہ کوئی نہیں ہے۔“
میں جھجکتے ہوئے پوچھا۔”سر! آپ ساحل سمندر پر آسکتے ہیں ۔“
اس نے جھلاتے ہوئے کہا۔”اس سے کیا ہوگا؟“
”میرا جی چاہتا ہے کسی بھیڑ والی جگہ پر ملاقات ہو۔یوں مجھے اطمینان رہے گا۔“
اس نے کسی نئی سوچ کے زیر اثر ،اشتیاق سے پوچھا۔”کیا تمھاری میڈم نے میرے ساتھ اپنی دشمنی کاتمھیں بتایا ہوا ہے؟“
”سر آپ کو بتایاتو تھا،مجھے اتفاق ہی سے اس کی گفتگوسننے کا موقع ملا اور تبھی آپ کے نام تک رسائی ہوئی۔اور مزید کھوج کے بعد چھپ کر آپ سے گفتگو کرنے پر تیار ہوگیا۔اگر آپ فوجی نہ ہوتے تو کبھی بات نہ کرتا۔ بس بھارت ماتا کے ایسے سپوت جس نے ساری جوانی دیش کی خدمت کرتے ہوئے بِتا ئی ہواسے ہوشیار کیے بنا نہیں رہا گیا۔“
”میرا نمبر کس سے ملا؟“اس نے ایک دم سوال کیا،شاید مجھے گڑبڑانا چاہتا تھا۔
”مادام نے آپ سے گفتگو کو کئی موبائل فون پاس رکھے ہوئے ہیں اور تمام میں آپ کا نمبر درج ہے۔“میں نے بے جھجکے جواب دے کر اسے مایوس کیا تھا۔
”اچھا پرسوں میرے پوتے کی سالگرہ ہے۔جسے منانے کا اہتمام بڑے پیمانے پر نہیں کیا جاتا۔اگر چاہو تو خصوصی تقریب کا انتظام کر سکتا ہوں ۔تمھاری بھیڑ میں ملنے کی تمنا بھی پوری ہو جائے گی۔اور کوئی دیکھ لے تو میرے کسی محافظ کو اپنا دوست بتا کر کہہ دینا اس سے ملنے گیا تھا۔“
اس کے مشورے نے میرے خون کی گردش تیز کر دی تھی۔دل چاہا فوراََ سے پہلے ہامی بھر لوں ۔لیکن پھر بے صبری دکھانا مناسب معلوم نہ ہوا۔اور سوچنے کی اداکاری کرتا ہوابولا۔”سر!میں ........“کہہ کر خاموش ہو گیا۔
”یار اپنا نام ہی بتا دو تاکہ مخاطب کرنے میں آسانی ہو۔“
میں جھجکتے ہوئے بولا۔”بلرام کولونکر۔“
اس نے جذباتی دھونس جمانا چاہی۔”بلرام!تم اپنی مایہ ناز آرمی کے جنرل کی یقین دہانی پر اعتماد نہیں کر رہے۔کیا اپنی فوج کی اتنی ہی عزت تمھارے دل میں ہے۔“
میں لہجے میں عقیدت سموتے ہوئے بولا۔”سر ،کیسی بات کر رہے ہیں ۔جان پر کھیل کر آپ کو اتنی اہم خبریں اسی لیے بتائی ہیں کہ آپ فوجی ہیں ۔دوسرا کوئی کتنا ہی بڑا آدمی کیوں نہ ہوتامیں ایسا سوچنے کی زحمت ہی گوارا نہ کرتا۔“
اس نے لہجے میں مایوسی پیدا کی۔”تمھارے قول و فعل کا تضاد ،میرے یقین کی راہ میں حائل ہو رہا ہے۔“
اس کی کوشش مجھے ہر حال میں ملاقات پر تیار کرنے کی تھی۔ایک بار میں اس کے ہاتھ آجاتا پھر مجھ سے سب کچھ اگلوانا مشکل نہیں تھا۔اس کی نواسی بھی مل جاتی اور لورا بھی ہاتھ آجاتی۔اور لورا کی گرفتاری سے وہ اپنی رقم بھی واپس لے سکتا تھا۔گو نقصان بھارت سرکار کا ہوا تھا۔لیکن کسی اور کا اتنی دولت اس سے نکلوا لینا بھی اسے ہضم نہیں ہو رہا تھا۔میری شروع سے یہی کوشش رہی تھی کہ اس کے سامنے اپنی شخصیت کا ایسا نقشہ کھینچوں گویا اپنے دیش اور فوج کی محبت میرے نزدیک بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔اور اس میں کافی حد تک کامیاب بھی ہوچکا تھا۔وہ میرے بچھائے ہوئے جال میں قدم دھر چکا تھا ،بس فوراََ ہاں کر کے اسے شبے میں نہیں ڈالنا چاہتا تھا۔اور اب اس کا اصرار او جذباتی دھونس جمانا کافی بڑھ گیا تھا تو مجھے طوہن و کرہن ہامی بھرنے کا موقع مل گیا تھا۔
”ٹھیک ہے، میں تیار ہوں ۔لیکن میں دورانِ تقریب ہی آپ کو ملوں گا۔تقریب کے خاتمے سے پہلے مجھے واپس آنا ہوگا۔“
اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اس نے مجھے لالچ دی۔”تمھارے دس پندرہ منٹ سے زیادہ نہیں لوں گااور یادرکھنا ان دس پندرہ منٹ میں تم لکھ پتی بننے والے ہو۔جنرل رندھیر شکلا اتنا کم ظرف نہیں کہ خودسے عقیدت و محبت رکھنے والے کی مالی سہائتا نہ کر سکے۔“
میں نے بھولے پن سے اپنی خواہش ظاہر کی۔”سر مجھے اپنی کار لینے کا شوق ہے۔“
اس نے لالچ دینا جاری رکھا۔”پرسوں تم ایک نئی اور قیمتی کار کے مالک بن جاﺅ گے۔“
اس کے بعد ہم نے دو تین منٹ باتیں جاری رکھتے ہوئے ملاقات کی مزید تفصیلات طے کیں اورپھر میں نے اجازت لے کر جے ہند کا نعرہ لگایااور رابطہ منقطع کر کے موبائل فون بند کر دیا۔ایک مشکل مرحلہ طے ہو گیا تھا۔ مجھے امید تھی میں ایسا موقع تلاش کرنے میں کامیاب ہو چکا تھاکہ شکلا پر کامیاب وار کر سکتا۔
کسی خالی رکشے یا ٹیکسی کی تلاش میں نظریں گھماتے ہوئے میرے دماغ میں وشواس سنگھ کا خیال در آیا۔ میں وعدے کے مطابق اس سے گفتگو نہیں کر پایا تھا۔یقینا میرے کال نہ کرنے پر اسے حیرانی اور میرے بارے پریشانی ہوگی۔ڈاکٹر سجاتا کے بھائی کا گھر زیادہ محفوظ سمجھتے ہوئے میں نے فی الحال اس کے پاس جانا موّخر کیا تھا۔لیکن اس بارے بتا نہیں سکا تھا۔
اپنا ذاتی موبائل فون نکال کر میں پریتو بھابی کا نمبر ملانے لگا۔دو گھنٹیوں کے بعد ہی نسوانی۔”ہیلو۔“ میرے کانوں میں پڑی۔
میں نے فوراََ اپنا تعارف کرایا۔”پرتیو بھابی ! راجا بول رہا ہوں ۔“
اس نے اپنائیت بھرے لہجے میں کہا۔” ست سری اکال ویر جی!اور کہاں غائب ہیں ۔وشو نے توآپ کے بارے پوچھ پوچھ کر میرے دماغ کی لسی بنائی ہوئی ہے۔“
”کہاں ہے وہ۔“
”لیں بات کریں ۔“لمحہ بھر بعد وشواس سنگھ کی آواز آئی۔”ابے کدھر چھپا ہے۔ایک دن کا بتا کر گئے تھے اور ہفتہ ہونے والا ہے۔“
”کچھ نہ پوچھو یار،اس دن پھنستے پھنستے بچا ہوں ۔دشمنوں نے میرے ٹھکانے پر چھاپہ مارا تھا۔ قسمت اچھی تھی جو فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔بہ ہرحال میں چند دنوں تک تمھارے پاس پہنچ جاﺅں گا۔ اور فکر نہ کرو اب بالکل خیریت سے ہوں ۔“
”تمھاری آمد کا سختی سے منتظر ہوں ۔دادا بھی پرنام کہہ رہے تھے۔“
”انھیں میرا آداب کہہ دینا۔فی الحال وقت نہیں ہے۔ملنے پر لمبی گپیں ہانکیں گے۔“میں نے اجازت لے کر رابطہ منقطع کر دیا۔
تھوڑی دیر بعد خالی ٹیکسی مل گئی تھی۔اویوفلیگ شپ ہوٹل کے پاس اتر کر میں نے ٹیکسی فارغ کی اور پیدل چل پڑا۔
لورا بڑی شدت سے میری منتظر تھی۔چھوٹتے ہی پوچھنے لگی۔”کیا رہا۔“
”کامیابی۔“
اس نے بے صبری ظاہر کی۔”تفصیل بتاﺅ۔“
”پرسوں شام کو اس کی کوٹھی کے سبزہ زار میں اس کے پوتے کی سالگرہ کی تقریب کا اہتمام کیا جا رہاہے۔وہیں اپنی ملاقات طے ہوئی ہے۔“
”کیا؟“لورا کی آنکھوں میں مسرت بھری چمک پیدا ہوئی۔”وہ احمق جانتا نہیں اس کے مخالفین سنائپر ہیں ۔“
میں نے تجزیہ کیا۔”شکار کو جب شکاری ہونے کی غلط فہمی میں مبتلا کیا جائے تو وہ بہت سی احتیاطوں کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ اپنے تیئں وہ مخالف کو پھانس رہا ہوتا ہے اور انجانے میں خود پھنستا جاتا ہے۔میں نے تقریب کا مشورہ دیا ،نہ ملاقات کا اور نہ آسانی سے ہامی بھری۔باقی اسے یہ بھی لگ رہا ہے کہ تمھارا بدلہ پورا ہو گیاہے۔کیوں کہ رقم بھی مل گئی اور تم نے اس کی نواسی کی عزت بھی خراب کر دی ہے۔اور اب بہ ظاہر بدلہ لینے کی باری اس کی بن رہی ہے۔اس کی مسلسل یہی کوشش تھی کہ میں کسی طرح اس سے ملنے پر آمادہ ہو جاﺅں ۔یوں مجھ پر قابو پا کر وہ تمھارے بارے سب کچھ اگلوا لے گا۔“
وہ متبسم ہوئی۔”لگتا ہے انڈیا میں اپنا دانہ پانی پورا ہو گیا ہے۔“
میں نے متفق ہوتے ہوئے کہا۔”جانتی ہو دوتین دن پہلے ممبئی میں جو دہشت گردی کی کارروائی ہے اس کے پس پردہ شکلا کا منحوس وجود ہی تھا۔“
لورا متعجب ہوئی۔”بھلا وہ کیسے؟“
اور میں نے تفصیل بتا دی۔
لورا کے چہرے پر مسرت ابھری۔”ریجا یہ تو بہت بڑی خوش خبری سنائی ہے۔“
میں نے پوچھا۔”بھلا وہ کیسے؟“
”یار !ایس آر ون رائفلوں کے ضائع ہونے کے بعد وہ ہماری کمپنی پر دھوکا دہی کا مقدمہ ہی دائر نہیں کرسکتا۔خبیث نے اپنی جان بچانے کے چکر میں ہمارے لیے بھی سہولت پیدا کر دی ہے۔اب اس کے مردار ہونے کے بعد تو کسی کو معلوم ہی نہیں ہو گا کہ ایس آر ون رائفل میں کیا خامی پائی جاتی ہے۔“
میں نے پوچھا۔”گویا دوبارہ اپنی رقم اسی کاروبار میں جھونکنا چاہتی ہو۔“
وہ خواب ناک لہجے میں بولی۔”بالکل نہیں ،بس شادی کر کے دنیا کی سیر کو نکلیں گے۔“
میں ہنسا۔”تو تمھاری شادی سے پہلے شکلا کی موت کا منصوبہ نہ سوچ لیں ۔“
اس نے مشورہ دیا۔”میرا خیال ہے کوئی مناسب جگہ ڈھونڈنے کے لیے گوگل کا سہارا لیتے ہیں ۔“
”چلو۔“میں خواب گاہ کی طرف بڑھ گیا۔کمپیوٹر آن کر کے ہم انٹر نیٹ پر ممبئی کا نقشہ دیکھنے لگے۔ اور پھر کافی دیر کسی ہوٹل کی تلاش کرتے رہے۔اس سے پہلے بھی ہم شکلا کی کوٹھی کو ہدف بنانے کی کوشش کر چکے تھے۔ تب ہم نے وشال گپتا کی فرمائش پر ”شری پتی آرکیڈ “ کو کمین گاہ چنا تھا۔لیکن اب وہ جگہ مناسب نہیں تھی۔ اگر شکلا کے دل میں رائی برابر بھی شک ہوتا تو اس نے ’شری پتی آرکیڈ‘ کی نگرانی ضرور کرانا تھی۔
دو تین مقامات کا انتخاب کر کے ہم نے اگلے دن وہاں کی تفصیلی قراولی کا منصوبہ بنایا اور آرام کرنے لیٹ گئے۔
٭٭٭٭٭
دس بجے ہم جانے کو تیار تھے۔پرماکو ناشتے میں خواب آور دوائی پلا دی تھی۔ کیوں کہ ہمارا کام کافی طویل تھا۔شام تک بہ مشکل ہی واپسی ہو پاتی۔
لورا اسے ہتھکڑی لگانے پر بہ ضد ہوئی لیکن مجھے مناسب نہ لگا۔ہم نے رات کو لوٹنا تھا۔اور انسان فطرتی حاجتوں کے سامنے بے بس ہوتا ہے۔بندھے ہونے کی حالت میں بے چاری کیا کرتی۔کوئی جانور تو تھی نہیں کہ اپنی غلاظت اس کے لیے بے معنی ہوتی۔ویسے بھی لکڑی کا دروازہ اتنا مضبوط تھا کہ پرما جیسی نرم و نازک لڑکی اسے توڑنے کا خواب بھی نہیں دیکھ سکتی تھی۔
جانے سے پہلے میں نے ایک نظر پرما کو دیکھنا ضروری سمجھا تھا۔وہ بغیر کمبل اوڑھے سو گئی تھی۔سردی کی وجہ سے گھٹنے چھاتی تک سکیڑے وہ چھوٹی سی بچی ہی لگ رہی تھی۔
اسے کمبل اوڑھا کر میں باہر نکلا۔اوردروازہ باہر سے بند کر کے نیچے آگیا۔لورا ڈرائیونگ سیٹ سنبھالے میری منتظر تھی۔ممبئی میں بلند و بالا عمارات کی کمی نہیں ہے۔زیادہ تر اچھے ہوٹل کئی منزلہ ہیں ۔(ایک بات کی وضاحت کر دوں کہ میں عموماََ مقامات اور افراد کے اصل نام لکھنے سے گریز کرتا ہوں ۔کیوں کہ یہ کوئی تاریخی دستاویز نہیں ہے۔اور قارئین کو بھی واقعات سے غرض ہوتی ہے نہ کہ مقامات یا افراد کے ناموں سے)
دو ہوٹلوں کی تفصیلی قراولی کے بعد ہم” بی ایس رائلزممبئی“ کے اندر موجود تھے۔یہ ایک چالیس منزلہ بہترین ہوٹل تھا۔پہلے ہوٹلوں کو ہم متفقہ رائے سے مسترد کر چکے تھے،کیوں کہ شکلا کی کوٹھی اور ان ہوٹلوں کے بیچ ایسی عمارتیں حائل تھیں جن کی وجہ سے کوٹھی کے سبزہ زار تک دکھاﺅ میسر نہیں آرہا تھا۔بی ایس رائلزممبئی پہلے والوں سے بلند بھی تھا اس کے اورشکلا کی کوٹھی کے درمیان کوئی اونچی عمارت بھی موجود نہیں تھی۔اور ہوٹل کی کھڑکیاں بھی ایسی بنی ہوئی تھیں جہاں سے فائرر لیٹ کر فائر کر سکتا تھا۔لورا نے چھت سے فائر کرنے کا مشورہ دیا لیکن میں کسی کمرے کو کمین گاہ بنانے پر مصر تھا۔چھت پر ہردم کسی نہ کسی کی آمد کا شبہ رہتا ،جبکہ کمرے میں ہم بالکل اطمینان سے فائر کر سکتے تھے۔
لورا نے منہ بنایا۔”بالائی منزل پر کوئی کمرہ خالی نہیں ہے۔“
میں اطمینان سے بولا۔”عارضی طور پر کسی بھی کمرے کے مکینوں کو یرغمال بنانا مشکل نہیں ہوگا۔“
وہ متفق ہوئی۔”ٹھیک ہے،لیکن فی الحال چھت ہی سے جائزہ لے لیتے ہیں ۔“
ہم چھت پر چڑھ گئے۔شمالی جانب کی منڈیر کے ساتھ اوندھے لیٹ کر میں نے آنکھوں کے ساتھ دوربین لگالی۔لورا نے بھی میرے پہلو میں جگہ سنبھال لی تھی۔
میرا موبائل فون بجا۔دوربین لورا کی طرف بڑھا کر اسکرین پر نگاہ دوڑائی تو ڈاکٹر سجاتا کا نام چمکتا نظر آیا۔اس کی کال عموماََ آتی رہتی تھی۔وہ وقت اس سے گپیں ہانکنے کا نہیں تھا۔کال منقطع کرتے ہوئے میں نے پیغام بھیج دیا۔
”فی الحال مصروف ہوں ،بعد میں کال کرتا ہوں ۔“
موبائل جیب میں ڈال کر میں بیگ سے ”لیز رینج فائینڈر “(فاصلہ ناپنے کا آلہ)نکالنے لگا۔اسے مختصراََ ایل آر ایف کہتے ہیں ۔اسی وقت جوابی پیغام کی گھنٹی بجی۔یقینا سجاتا نے۔ ”ٹھیک ہے۔“کا پیغام بھیجا تھا۔ مگر اتنا وقت کہاں تھا کہ پیغام پڑھ پاتا۔”میسج ٹون “کو نظر انداز کرتے ہوئے میں نے ایل آر ایف آنکھوں پر لگاکر کوٹھی کی اندرونی عمارت پر مرتکز کیا۔اور ٹریگر بٹن کو ایک سیکنڈدبا کر چھوڑ دیا۔اگلے ہی لمحے ایل آر ایف کی اندرونی اسکرین پر 2079کا ہندسہ چمکاجو عمارت کا فاصلہ تھا۔ایک دو شوٹ لے کر میں نے فاصلے کی تصدیق کی اور پھر ایل آر ایف لورا کی جانب بڑھا دیا۔اس نے بھی فاصلہ ناپا۔اور ساتھ ہی فکر مندی ظاہر کی۔
”یار! کچھ زیادہ نہیں ہے۔“
میں نے پوچھا۔”کتنا ہے؟“
وہ مایوسی سے بولی۔”2080، میرا خیال ہے شری پتی آرکیڈ سے فائر کرنا ہی بہتر رہے گا۔“
میں نے پوچھا۔”ایس آر ون کی رینج کتنی ہے؟“
”دو کلومیٹر۔“
میں متبسم ہوا۔”پھر فکرمندی کاہے کی۔“
وہ مدبرانہ لہجے میں بولی۔”موقع ضائع کرنے والی بات ہے،اتنے فاصلے پر غلطی کی گنجائش موجود رہتی ہے۔جب قریب سے فائر کرنے کی سہولت موجود ہے تو کیوں خطرہ مول لیا جائے۔“
”ایس ایس پر سچ میں اعتبار نہیں رہا یا جان بوجھ کر توہین پر تلی ہو۔“پراعتماد لہجے میں کہتے ہوئے میں نے اس کی پرکشش آنکھوں میں گھورا جو شوخ نیلے لینز کی وجہ سے گلگارے کی آنکھوں جیسی لگ رہی تھیں ۔
میرا ہاتھ تھامتے ہوئے اس نے صفائی پیش کی۔” چاہتی تھی لبلبی میں دباﺅں اور بس۔“
”اور میں چاہتا ہوں اپنی دوست کی توہین کا بدلہ میں لوں ،تاکہ جب وہ بہت زیادہ دور چلی جائے تب بھی مجھے بھلا نہ سکے۔“
اس کی آنکھوں میں ہلکی سی نمی نمودار ہوئی۔اور وہ جذباتی ہوتے ہوئے بولی۔”اتنا آسان ہے نا تمھیں بھلانا۔“
میں نے فوراََ موضوع تبدیل کیا ”چلیں ،دوہوٹلوں کی قراولی اب تک باقی ہے اور سہ پہر ڈھلنے کو ہے۔اندھیرا ہونے پر اطمینان بخش دیکھ بھال نہیں ہو سکے گی۔“
”چلو۔“دلفریب مسکراہٹ ہونٹوں پر بکھیرتے ہوئے وہ کھڑی ہو گئی۔
نیچے اتر کر ہم اگلے ہوٹل کی طرف بڑھ گئے،پارکنگ میں کار کھڑی نہیں کر پائے تھے کہ موبائل فون بجنے لگا۔ڈاکٹر سجاتا کی کال آرہی تھی۔
رابطہ منقطع کر کے میں نے ،گیئر پرہاتھ رکھا ،لیکن گھنٹی دوبارہ بجنے لگی۔
”اسے کیا مسئلہ ہے۔“ناگواری سے کہتے ہوئے میں کار ریورس کرنے لگا۔موبائل کی گھنٹی مسلسل بج رہی تھی۔
لورا نے پوچھا۔”کون ہے؟“
”ڈاکٹر سجاتا۔“کوفت بھرے لہجے میں کہتے ہوئے میں نے کار مناسب جگہ لگا دی۔
لورا مسکرائی۔”ہماری معتقد ہو گئی ہے نا ،اس لیے حال احوال پوچھنے کو کال کر لیتی ہے بے چاری۔ اس میں غصہ کاہے کا۔“
میں نے منہ بنایا۔”موقع محل بھی دیکھا جاتا ہے،میں بار بار کال کاٹ رہا ہوں اور وہ گھنٹی کیے جا رہی ہے۔“
لورا معنی خیز لہجے میں بولی۔”خوب صورت لڑکیوں کو نظر انداز ہونا اچھا نہیں لگتا جناب۔اور اب کال وصول کر ہی لو،کہیں مشکل میں نہ پھنسی ہو بے چاری۔“
میں نے اثبات میں سرہلاتے ہوئے موبائل فون کان سے لگا لیا۔”کال کیوں نہیں اٹھا رہے۔“ وہ چیخ پڑی تھی۔
میں نرمی سے بولا۔”حوصلے سے ڈاکٹر صاحب!کیا ہوگیا ہے جو ہانپ رہی ہو۔“
اس نے بغیر کسی تمہید کے کہا۔”بالائی منزل کے کمرے میں ایک لڑکی بند تھی۔“
ہم نے اسے پرما کے بارے بالکل سن گن نہیں لگنے دی تھی۔یوں بھی وہاں وہ صرف ایک دن آئی تھی۔ پھرمیں نے منع کر دیا تھااس لیے کال پر بات کر لیتی تھی۔
”پریشان نہ ہوں میں آکر وضاحت کر دیتا ہوں ۔“
”وہ بھاگ گئی ہے۔“ڈاکٹر سجاتا نے میرے سر پر بم پھوڑا۔
”کک....کیا....کیسے؟....ہوش میں تو ہو۔“میں چیخ پڑا تھا۔
وہ گھبراتے ہوئے بولی۔”مم....میں آپ کو لینے آئی تھی۔گھنٹا ڈیڑھ پہلے ہی بھیا کی کال وصول ہوئی۔ وہ واپس آرہے ہیں ۔سوچا آپ کو اپنے ہاں لے جاﺅں ۔“
میں غم و غصے سے دھاڑا۔”مگر تاکا جھانکی کا کس نے کہا تھا۔“
”سس....سوری....مم....مجھے کوئی پتا نہیں یہ کیسے ہوا۔میں تو بس آپ کی آمد سے پہلے کمروں کی حالت درست کرنا چاہتی تھی۔تاکہ وہاں آپ کی موجودی کے نشان مٹا دوں ۔او....اوپر پہنچی تو کمرے میں ایک لڑکی سوئی نظر آئی۔میں نے تجسس کے ہاتھوں اسے جگا دیا۔حالانکہ مجھے بند دروازے کو دیکھ کر اندازہ کر لینا چاہیے تھا....پلیز راجا مجھے معاف کر دو۔“
موبائل فون ڈیش بورڈ پر پھینکتے ہوئے میں نے سر پکڑ لیا تھا۔لورا بھی میری حالت دیکھ کر پریشان تھی۔اوربار بار۔
”’ریجا کیا ہوا....کیوں غصہ کر رہے ہو....ٹھنڈے ہو جاﺅ۔“کہہ رہی تھی۔
جاری ہے
قسط نمبر52
ریاض عاقب کوہلر
لورا بھی میری حالت دیکھ کر پریشان تھی۔اوربار بار۔
”’ریجا کیا ہوا....کیوں غصہ کر رہے ہو....ٹھنڈے ہو جاﺅ۔“کہہ رہی تھی۔
میں نے جیسے ہی موبائل فون ڈیش بورڈ پر پھینکا ،لورا نے جھپٹ کر اٹھایا اور ایک نظر اسکرین پر ڈال کر کال جاری ہونے کا یقین کر کے موبائل فون کان سے لگا لیا۔
”ہیلو....ڈاکٹر کیا بات ہے۔“
اور سجاتا کا جواب سنتے ہی اس کی بھی بولتی بند ہو گئی تھی۔پرما کے معاملے میں میری لاکھ مخالفت کے باوجود وہ اسے بھاگنے کی اجازت نہیں دے سکتی تھی۔وہ بغیر کسی تردد اور شبے کے جانتی تھی کہ پرما کا حصول ہی میرا اصل مشن تھا۔اور اب اسے دوبارہ اغواءکرنا یقینا بہت دشوار ہونے والا تھا۔مجھے سب سے بڑامسئلہ ہی دیر سے تھا۔پلوشہ کی جدائی مجھے بہت کھل رہی تھی۔اور میری بہ قول شاعر وہ حالت تھی کہ ....
ادھیڑ ڈالے ہیں بخیے میرے جدائی نے
کہ کھا گیا ہے تیرا غم کتر کتر کے مجھے
دوسروں کی محبت و چاہت کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے میں اپنے جانان کے لیے ترس رہا تھا۔بلا شبہ میراتجربہ ہے کہ ....
چیت ،بہار دا ایوں ناں ہیے
چس آندی ہیے ڈھولڑن نال
لیکن ذمہ داریوں نے کہیں کا نہیں رہنے دیا تھا۔وہ صرف جدا ہی نہیں خفا بھی تھی۔میرے احساسات سے بے خبر لورا،ڈاکٹر سجاتا کو کچھ سمجھا رہی تھی۔
”ڈاکٹر رونے کی ضرورت نہیں،ریجاتم سے خفا نہیں ہے۔بس وقتی طور پر جذبات میں آگیا تھا۔ اس لیے ڈانٹ دیا۔اور اب دھیان سے میری بات سنو۔وہ لڑکی ایک بہت بڑے آرمی آفیسر کی بیٹی ہے۔جونھی گھر پہنچی پولیس اور ایجنسیوں نے مکان پر دھاوا بول دینا ہے۔اور اس سے پہلے کہ ایسا کچھ ہو تم فوراََ پولیس کو بلالو۔ہم سے بالکل لاتعلق ہو جاﺅ۔صاف بتا دو بھیا بھابی ہنی مون سے لوٹ رہے ہیں اور تم ان کے مکان کا جائزہ لینے آئی تھیں۔آگے سے کمرے میں بند لڑکی ملی جو تمھارے دروازہ کھولتے ہی بھاگ نکلی۔گھر کے دوسرے کمروں میں بھی ایسے آثار موجود ہیں جیسے وہاں کئی دنوں سے لوگ رہ رہے ہوں۔ہمارے پیغام نمبر اور یہ کال کی یاداشت وغیرہ اپنے موبائل فون سے مٹا دو۔سمجھ میں آگئی میری بات۔“چھوٹے سے وقفے کے بعد وہ بولی۔
”بتا دیا ناریجا خفا نہیں ہے۔ خود کو سنبھالو ، وقت ضائع نہ کرواورجو کہا ہے اس پرفوراََ عمل کرو۔“
تھوڑا اور سمجھانے کے بعد اس نے رابطہ منقطع کیااوراحتیاط کی بناپراپنا اور میرا موبائل فون بند کردیا۔
میں اسٹیئرنگ پر سر ٹیکے بیٹھا تھا۔میری پیٹھ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے وہ تسلی دینے لگی۔
”ریجا پریشان کیوں ہوتے ہو،میں ہوں ناں تمھارے ساتھ۔جب تک پری نہیں ملے گی واپس نہیں لوٹوں گی۔فی الحال اس خبیث کے قتل پر توجہ مرکوز کرو۔امید ہے اس کی ہلاکت کے بعد پری کا اغواءزیادہ دشوار نہیں رہے گا۔“
سیدھا ہوکر میں نے سیٹ سے ٹیک لگائی اور اطمینان بھرے لہجے میں پوچھا۔”چلیں؟“
وہ خفگی سے بولی۔”تمھارا سنبھلنا حیران کن نہیں لگ رہا،البتہ تمھاری پریشانی نے ضرور متعجب کیاتھا۔“
میں ندامت سے بولا۔”سوری یار!جذباتی ہو گیا تھا۔“
”ڈاکٹر سجاتا بے چاری اتنا رو رہی تھی،کوئی ایسے بھی ڈانٹتا ہے۔اس نے کون سا جان بوجھ کربھگایا۔بدقسمتی ہماری ہے کہ قراولی میں ضرورت سے زیادہ وقت صرف ہو گیا۔پری صبح سے سوئی تھی،ڈاکٹر نے ذرا سا ہلایا تو اٹھ گئی۔اور جب ڈاکٹر نے پوچھا تم کون ہو؟....چالاک لڑکی نے فوراََ اندازہ کر لیا کہ ہم موجود نہیں ہیں۔ پس سجاتا کو دھکا دے کر ننگے پاﺅں بھاگ پڑی۔ڈاکٹر پہلے تو ششدر رہ گئی تھی،پھر وہ بھی اس کے پیچھے باہر نکلی،مگر تب تک پرما گھر سے نکل کر گلی میں پہنچ چکی تھی۔سجاتا نے باہر جھانکا تو وہ بھاگتے ہوئے سڑک کی طرف جا رہی تھی۔سجاتا میں اتنی ہمت کہاں تھی کہ اس کا پیچھا کر کے گرفتار کرسکتی۔وہ بے چاری بس اندازہ لگا رہی تھی کہ اس سے بہت بڑی غلطی ہو گئی ہے۔اورتمھارا برتاﺅ دیکھ کرمزیدپریشان ہو گئی۔اگر میں اسے نہ سنبھالتی تو بری طرح پھنس جاتی۔“
”جس طرح پرما بھاگی ہے،میرے خیال میں ڈاکٹر سجاتا ذرا سا بھی مشکوک نہیں ٹھہرتی۔کیوں کہ اس نے پرما کو جگا کر اس سے تعارف پوچھا۔اور پرما نے بھاگنے میں ذرا سی دیر بھی نہ لگائی۔“
اس نے میری توجہ بٹائی۔”اب چھوڑو اس موضوع کو اور مشن پر توجہ مرکوز کرو۔“
میں نے گہرا سانس لیا۔”مجھے نہیں لگتا اب اس کی ضرورت باقی ہے۔بس کہیں چل کر آرام کرتے ہیں۔میرا سونے کو دل کر رہا ہے۔“
وہ برہم ہوئی۔”ذرا مجھے بھی سمجھا دو کہ ضرورت کیوں نہیں ہے۔“
میں نے خیال ظاہر کیا۔”اب تک پرما گھر پہنچ گئی ہو گی۔اس سے تفصیل جان کر شکلا کو میرا جھوٹا ہونا واضح ہو جائے گا۔یقینا اس کے بعد تقریب وغیرہ کا اہتمام ثانوی رہ جاتا ہے۔“
لورا نے کھل کر اختلاف کیا۔”تقریب کا اہتمام فقط تمھاری ملاقات کو نہیں تھا۔اس کے پوتے کی سالگرہ ہے۔اور امید یہی ہے کہ اب تک دعوت نامے اہم افراد تک پہنچ گئے ہوں گے۔مجھے نہیں لگتاتمھاری سوچ کے مطابق ہوگا۔“
میں ڈتا رہا۔”وہ مکار شخص بدک جائے گااور مجھے نہیں امید وہ ہدف بننے کاخطرہ مول لے گا۔“
وہ حتمی لہجے میں بولی۔”تمھارے اندیشے تخمینی ہیں۔اور فقط احتمال کی بنیاد پرہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھ سکتے۔ ’بی ایس رائلز ‘ میں ایک دو دن کے لیے کسی کا زبردستی مہمان بننا اتنا مہنگا سودا نہیں ہے کہ تمھیں لیت و لعل کرنے کی ضرورت ہو۔“
بلا شبہ اس کا تجزیہ مجھ سے بہتر تھا۔پرما کے بھاگ جانے کی فکر نے مجھے قنوطی کر دیا تھا۔ورنہ شکلا سے ملاقات کا طے ہونالازم نہیں کرتا تھاکہ ہم اسے دور مار رائفل سے قتل کرنے والے تھے۔یوں بھی اس ملاقات کا اصرار شکلا کی طرف سے ہوا تھا۔اور بالفرض تقریب نہ بھی ہوتی،ہماراتیاری کرنا نقصان کا باعث تو نہیں بن سکتا تھا۔البتہ اس کے برعکس ہونے کی صورت میں موقع ضائع ہونے کاقلق ہمیشہ رہتا۔
اس سے اتفاق کرتے ہوئے میں نے چپکے سے کار پارکنگ سے نکالی اور بی ایس رائلزممبئی کی جانب بڑھ گیا۔ان ہوٹلوں کا فضائی فاصلہ ایک دوسرے سے اتنا زیادہ نہیں تھا۔البتہ عمارتوں کی کثرت،بے تحاشا ٹریفک ، لوگوں کا ہجوم ایسے عوامل تھے جس کی وجہ سے تیزی سے حرکت کرنا مشکل ہوجاتا تھا۔راستے میں ہم رہائش کے حصول کامنصوبہ تشکیل دے چکے تھے۔اور پھر بی ایس رائلز سے ذرا فاصلے پر تھے کہ اچانک میرے دماغ میں ایک تجویز آئی۔اورر میں نے فوراََ لورا کے گوش گزار کر دی۔
”کبھی کبھی تم مجھے حیران کر دیتے ہو۔“اس نے میری تعریف میں بخل سے کام نہیں لیا تھا۔ اور پھر ایک موبائل فون نکال کر شکلا کا نمبر ڈائل کرکے اسپیکر آن کر دیا۔دو تین گھنٹیوں کے بعد کال وصول ہوئی۔
”ہیلو۔“شکلا کی کرخت آواز ابھری۔
لورا اطمینان سے بولی۔”امید ہے تمھیں نواسی مل گئی ہوگی۔“
شکلا نے پوچھا۔”مگر اتنی دیر سے واپس کرنا میری سمجھ سے باہر ہے۔“
”ارادہ بدل گیا تھا،مگر پھر ایک دوست کے سمجھانے پر کڑوا گھونٹ پینا پڑا۔سوچا پری بے قصور ہے اور تمھارے گناہ کی سزا اسے دینا مناسب نہ ہوگا۔“
شکلا نے دانت پیسے۔”تم نے رائفلوں کے بارے بھی خیانت کی۔اور یقینا تم پہلے ہی سے مجھے دھوکا دینے آئی تھیں۔“
”ایسا ہی ہے۔اوراب بہ ظاہر تو ہماری دشمنی کو ختم ہو جانا چاہیے۔“
وہ خوش دلی سے بولا۔”بالکل اوراس کا ثبوت تم میری تقریب میں شامل ہو کر دے سکتی ہو۔“
وہ زہر خند ہوئی۔”شکلا تم سٹھیا گئے ہو،فوج نے تمھیں دفع کر دیا ہے تو اب بہتر ہوگاجرم کی دنیا سے بھی کنارا کش ہوجاﺅ۔“
شکلا نے قہقہ بلند کیا۔”یاد ہے پہلی بار رائفلوں کے سودے کے ساتھ یہ بھی طے ہوا تھا تم ایک مہینا میری میزبانی کرو گی۔اور جہاں تک میرا خیال ہے انتیس دن اب بھی بقایا ہیں۔“
لورا کا چہرہ شرم ،ذلت و غصے سے گلنار ہو گیا تھا۔بہ مشکل خود پر قابو پاتے ہوئے وہ نارمل لہجے میں بولی۔”یہ یادہانی تب کرانی تھی نا جب پرما میرے پاس تھی۔اب تو اسے آزاد کردیا ہے پھر بکواس کرنے کا مطلب۔“
شکلانے ایک اور قہقہ لگایا۔”سچ میں بے بی ،تم جیسی بہت کم ہی ملی ہیں۔“
لورا نے یہ وار بھی سہہ لیا۔”امید کرتی ہوں میرا پیچھا کرنے کی کوشش نہیں کرو گے۔آدھے گھنٹے تک میں ممبئی سے نکل جاﺅں گی۔ کبھی دوبارہ ملاقات ہوئی تو میزبانی کا حساب بھی برابر کردوں گی۔اور ہاں بھونک اچھا لیتے ہو۔“جوابی بات سنے بغیراس نے رابطہ منقطع کیااور موبائل فون بند کر کے کار سے باہر اچھال دیا۔ایسے کئی موبائل فون ڈاکٹر دیواشش کے ہاں سے ہمارے ہاتھ لگے تھے۔
لمحہ بھر غصے پر قابو پانے کے بعد وہ میری طرف متوجہ ہوئی۔ ”کیسا رہا؟“
”بہترین۔“میں نے تحسین آمیز انداز میں سرہلادیاتھا۔
بی ایس رائلز پہنچنے تک شام کا ملگجا اندھیرا پھیل گیا تھا۔سائن بورڈوں،کھمبوں ،دیواروں اورچھتوں کے کناروں پر لگی روشنیاں جل اٹھی تھیں۔کار پارکنگ کے کونے میں کھڑی کر کے ہم باہر نکلے۔میں نے ایس آر ون کا بیگ ڈگی سے نکال لیا تھا۔ تھنڈر بولٹ کی ضرورت پیش نہیں آسکتی تھی کہ اس کی رینج ہزار میٹر تھی اور ہمیں دوکلومیٹر کے فاصلے پر فائر کرنا تھا۔
لفٹ کے ذریعے ہم بالائی منزل پر پہنچے۔ہمارے مطلب کے کمرے وہ تھے جن کی کھڑکیاں شمال کی جانب کھلتی تھیں۔ان میں بھی سب سے بہترکونے والے دو کمرے تھے۔کونے سے پہلے والے کمرے کے سامنے رک کر لورا نے دستک دی۔میں ساتھ والے کمرے کے سامنے یوں کھڑا ہوگیا جیسے اندر جانے کو دروازہ کھول رہا ہوں۔
دو تین لمحے بعد دروازہ کھلا۔”جی؟“میرے کانوں میں سوالیہ مردانہ آواز گونجی۔
لورا اعتماد سے بولی۔”مسٹر شکلاسے ملاقات طے تھی۔غالبا کمرے کا نمبر390ہی بتایا گیا تھا۔“
وہ اوباشانہ انداز میں بولا۔”مس یہاں کوئی شکلا نہیں رہتا۔البتہ چاہو تونادر خان تمھیں اس کی کمی محسوس نہیں ہونے دے گا۔“لورا کا انداز کسی پیشہ ورانہ طوائف کا سا تھا۔انڈیا میں جسم فروشی کا دھندہ عروج پر ہے خاص کر ممبئی تو اس کا گڑھ ہے۔زیادہ جدید قحبہ خانے ایسے ہیں جہاں لڑکیاں ایک فون کال پر مطلوبہ مقام پر پہنچ جاتی ہیں۔
لورا نے بے باکی سے جواب دیا۔”مجھے تو کوئی اعتراض نہیں اپنی جیب سے مشورہ کرلو۔“
وہ باچھیں پھیلاتے ہوئے بولا۔”تمھاری شکل دیکھنے کے بعد کون کم بخت جیب سے مشورہ کرنے کے چکرمیں پڑے گا۔“
لورا نے اس کے اکیلے ہونے کی تصدیق کرنا چاہی۔”ایک سے زیادہ کی گنجائش نہیں ہے۔“
”اکیلا ہی ہوں جانِ من۔“اس نے لورا کو پکڑنے کو ہاتھ بڑھایا۔
بائیں ہاتھ سے اس کی پیش قدمی کو روکتے ہوئے لورا نے دائیں ہاتھ سے سائیلنسر لگا زگانہ نائین ایم ایم اس کی چھاتی پر رکھ دیا۔”اتنی بھی کیا جلدی ہے دوست۔“
”یہ کیا ہے؟“نادر خان کے لہجے میں ڈر سے زیادہ طنز تھا۔
”تمھیں اتنا انجان نہیں ہونا چاہیے۔“قریب پہنچتے ہوئے میں نے لقمہ دیا۔چونکہ وہ دونوں انگریزی میں بات کر رہے تھے اس لیے مجھے بھی انگریزی ہی بولنا پڑی تھی۔
”غلط بندے پر ہاتھ ڈال رہے ہو۔“نادر خان گھبرایا نہیں تھا۔اس کا اعتماد بھرا انداز ظاہر کر رہا تھا وہ جرائم پیشہ شخص تھا۔کوئی عام بندہ مسلح افراد کا سامنا یوں بے خوفی سے نہیں کر سکتا۔مگرہم ایک بار ظاہر ہو گئے تھے تو پیچھے ہٹنا مناسب نہیں تھا۔
میں نے اس کی چھاتی پر ہاتھ رکھ کر پیچھے دھکیلتے ہوئے کہا۔”اس کا فیصلہ تمھاری صوابدید پر نہیں چھوڑ سکتے۔ انٹرویو لینے کے بعد ہی طے کریں گے۔“
وہ دو تین قدم پیچھے ہوا۔ہم اندر گھس گئے،لورا دروازہ بند کرنے لگی۔اس کا غافل ہونا نادر خان کو غلط فیصلے پر مجبور کر گیا تھا۔مجھے نظر انداز کرتے ہوئے اس نے لورا کے ہاتھ پر لات رسید کرنا چاہی۔مگر اسے یہ معلوم نہ تھا کہ وہ کن کے قبضے میں ہے۔اس کے تیئں ہم عام سے اچکے تھے۔اور اتنے بودے تھے کہ جن پر قابو پانے کو اسے صرف لورا کو غیر مسلح کرنے کی ضرورت تھی۔
اس کی ٹانگ کے حرکت میں آتے ہی میرا ایک ہاتھ اس کی متحرک ران کے نیچے گھسا اور دوسرا ہاتھ اس کی پیٹھ کے پیچھے ڈال کر میں نے گھماکر دیوار پر دے مارا۔
”اوغ....“اس کے ہونٹوں سے درد بھری کراہ نکلی اور اس نے کمر ہاتھ رکھ لیا۔
لورا نے استہزائی قہقہ بلند کیا۔”اسے کیا ہواجو دیواروں کو ٹکریں مار رہا ہے۔“
”اسی سے پوچھ لو۔“اطمینان بھرے انداز میں کہتے ہوئے میں اس کے قریب ہوا۔تب تک وہ لڑکھڑاتے ہوئے کھڑا ہو گیا تھا۔
”اور ورزش کرنی ہے یا میں تلاشی لے لوں۔“اس بار میں اردو میں بولا تھا۔
ہونٹ کاٹتے ہوئے وہ چپ رہا۔ایک ہی ضرب نے اسے جتا دیا تھا کہ اچھل کود بے سود تھی۔
میں نے ماہرانہ انداز میں اس کے جسم پر ہاتھ پھیرا۔پنڈلی سے بندھے باریک دھار کے خنجر نے میرے یقین کو تقویت دی تھی۔خنجر اوراس کا موبائل فون اپنے قبضے میں کر کے میں پیچھے ہو گیا۔
لورانے بیڈ کے قریب پہنچ کر تکیہ اٹھایا،نیچے زستاواتیس بور پستول اور اس کا بٹواپڑا تھا۔
پستول کو اپنی پتلون میں اڑستے ہوئے لورا بولی۔”اپنا رشتا دار لگتا ہے۔“ساتھ ہی بٹوا اٹھا کر اندر سرسری نظر دوڑائی اور واپس رکھ دیا۔
”بیٹھو۔“بیڈ پر نشست سنبھال کر میں نے کرسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اسے تشریف ٹیکنے کی اجازت دی۔
کرسی پر بیٹھتے ہوئے وہ اطمینان سے بولا۔”مجھے قتل کرنے کے علاوہ کچھ حاصل نہ کر سکو گے۔“
میں ہنسا۔”یہ کم ہے کیا۔“
لورا درشتی سے بولی۔”ریجا انگریزی میں بات کرو۔“
میں نے وضاحت کی۔”بھائی کہہ رہا ہے ہمارے پاس فقط اسے قتل کرنے کا انتخاب موجود ہے۔اور کچھ نہیں کر سکتے۔“
نادر خان جلدی سے بولا۔”میں نے سارا مال دوسری پارٹی کے حوالے کر دیا ہے۔“
لورا نے پوچھا۔”کون سا مال؟“
نادرخان نے حیرانی بھرے انداز میں تصدیق چاہی۔”تم منوج جوشی کے آدمی ہو نا؟“
لورا ہنسی۔”تمھیں ایسا لگتا ہے تو تمھاری مرضی۔“
میں کھڑکی کے نزدیک پہنچااور پردے ہٹا کر سامنے دیکھنے لگا۔بلاشبہ وہ جگہ نہایت مناسب تھی۔شکلا کی کوٹھی کی روشنیاں جل گئی تھیں۔محل نما کوٹھی اندھیرے میں بھی اپنی آب و تاب کی وجہ سے پہچانی جا رہی تھی۔
نادر خان سنبھل کر بولا۔”کیا چاہتے ہو؟“
”کیا دے سکتے ہو۔“لورا اسے چھیڑنے پر تلی تھی۔
اس نے بے نیازی سے کندھے اچکائے۔”تم میرے بٹوے میں جھانک چکی ہو۔اس کے علاوہ تو کچھ نہیں ہے۔“
لورا نے درشتی ظاہر کی۔”پھر تو مرنا پڑے گا۔“
وہ حیران ہوا۔”میرے پاس رقم کا نہ ہونا ایسا قصور نہیں کہ موت کی سزا سنائی جائے۔“
لورا مجھے ہوئی ۔”ریجا!اس کی بات میں وزن ہے۔“
میں کھڑکی کا پردہ برابر کر کے ان کے نزدیک آیا۔”تم مسلمان ہو؟“
وہ فخر سے بولا۔”الحمداللہ۔“
میرا تجربہ ہے کہ گناہ گار سے گناہ مسلمان بھی اپنے مذہب سے بیزار یا شاکی نہیں ہوتا۔انجانے میں اللہ پاک کی ذات بابرکات سے شاکی ہو سکتا ہے،لیکن یہ نہیں کہ اسے مسلمان ہونے پر ندامت ہو۔اسلام کے برعکس کسی بھی مذہب کے پیروکار کا اپنے مذہب کے بارے بتانے کا یہ طریقہ نہیں ہوتا۔ وہ خالی اقرار کرتے ہیں کہ ہاں ہم ہندو،سکھ،عیسائی، یہودی وغیرہ ہیں۔یعنی بھگوان کی کرپا سے ہندو ہوں، واہ گرو کا شکر ہے سکھ ہوں،تھینکس گاڈ کہ عیسائی ہوںوغیرہ سننے کو نہیں ملتا۔یہ میرا تجربہ ہے،کوئی طے شدہ کلیہ یااصول نہیں ہے۔
میں نے اگلا سوال پوچھا۔”کیا کرتے ہو؟“
وہ گھمبیر لہجے میں بولا۔”اسے باضابطہ تفتیش سمجھوں یا تجسس۔“
”اچھا رہنے دو۔“جیب سے باریک ریشمی ڈوری نکال کر میں اس کی طرف بڑھا۔”البتہ تمھارے ہاتھ باندھنا پڑیں گے۔“
اس نے الجھن ظاہر کی۔”ایسا کرنا ضروری ہے۔“
”پتا نہیں ،مگر کھلا نہیں چھوڑ سکتے۔“
”اگر میرے ساتھ دشمنی نہیں ہے تو مجھے جانے دو۔کمرے کا ایک ہفتے کا کرایہ ادا کرچکا ہوں،کہتے ہو تو دو آدمیوں کے کھانے وغیرہ کی ادائی بھی پیشگی کر دیتا ہوں۔“
میں خاموشی سے اس کے ہاتھ پشت پر باندھنے لگا۔کسی مجرم کے ہاتھ باندھنے کو بھی مہارت چاہیے۔ کیوں کہ عام قسم کی گانٹھیں ایسے افراد آسانی سے کھول لیتے ہیں۔ہمیں دوران کورس گانٹھوں کی اٹھار ہ اقسام پڑھائی گئی تھیں۔اور وہ گانٹھیں عملی زندگی میں بہت سے مواقع پر کام آتی رہیں ہیں۔
”ہاں ،ناں تو کردیں بھائی۔“اس نے جواب پر اصرار کیا۔
”اپنی کہانی سنا دیتے تو شاید میں سوچنے کی زحمت گوارا کر بھی لیتا۔“خشک لہجے میں کہہ کر میں نے گانٹھ کے ختمے لگائے جو رسی کو سرکنے سے روکتے ہیں۔ورنہ ریشمی ڈوری آسانی سے کھولی جا سکتی ہے۔
”بیڈ اکیلا ہے اور ہم تین۔“کرسی چھوڑ کر لورا نے بیڈ پر قبضہ جمایا۔”اور یقینا” لیڈیز فرسٹ “ کا اصول تمھیں بھی ازبر ہو گا۔“
”نہیں مجھے تو ”جینٹس مَسٹ “ کااصول پڑھایا گیا ہے۔زیادہ سے زیادہ آدھے بیڈ کی قربانی دے سکتا ہوں۔“
وہ شوخ لہجے میں بولی۔”اب اتنے بھروسے لائق بھی نہیں ہو کہ اپنے ساتھ سلا لوں۔“
میں ترکی بہ ترکی بولا۔”یہ تمھارا مسئلہ ہے۔اور میرا مسئلہ ہے بیڈ پر سونا۔تم اپنا مسئلہ حل کروجس کا متبادل فرش پر بچھا بہترین قالین ہے۔“
اس نے آنکھیں نکالیں۔”ریجا باز آجاﺅ۔“
”میں یا تم۔“اطمینان سے کہتے ہوئے میں نے بھی بیڈ پر نشست سنبھال لی۔
اس نے مزاحیہ انداز میں دھمکی دی۔”میں پیلاوشہ کوگھنٹی کر کے بتا دوں گی کہ تم میرے ساتھ سوتے ہو۔“
دل کی دھڑکن ہلکا سا گڑبڑائی، کم بخت نے کس کا نام لیا تھا۔میرے ہونٹوں پر تبسم ابھرا ، اپنی شہزادی کا مکھڑا آنکھوں کے سامنے نمودار ہوااور میں کھوئے کھوئے لہجے میں بولا۔”اس کا نمبر کہاں سے ڈھونڈو گی۔“
”کبھی تو مل ہی جائے گا،بلکہ میجر جینی سے مانگ لوں گی۔“
”پھر تو مجبوری ہے۔“میں بیڈ چھوڑ کر کرسی پر آبیٹھا۔
لورا کے چہرے پر تعجب نمودار ہوا،ہنستے ہوئے بولی۔”یار مذاق کر رہی تھی۔“
”شاید،مگر میں سچ میں ڈر گیا ہوں۔ یقین مانو محبت کرنے والی بیوی ایسی باتوں پر فوراََ سے پہلے یقین کرتی ہے۔ہمارے ہاں مثل مشہور ہے، سانپ کا ڈسا رسی سے بھی ڈرتا ہے اور دودھ کا جلا چھاچھ بھی پھونک مار کر پیتا ہے۔“
ہم نے نادر خان کو بالکل نظر انداز کر دیا تھا۔یوں بھی اس کے بارے تفصیل جاننا ہمارے کسی کام کا نہیں تھا۔ آنے والے کل کی شام تک کا وقت اتنا طویل نہیں تھا کہ اس کے ساتھ مغز کھپاتے۔سیانے کہتے ہیں جس گاﺅں نہ جانا ہواس کا پتا دریافت کرنا حماقت ہے۔
وہ شوخ لہجے میں بولی۔”پتا ہوتا اس سے اتنا ڈرتے ہو تو دھونس جما کر کئی کام نکلوا لیتی،کم از کم پری کی پٹائی تو کہیں نہیں گئی تھی۔“
میں مسوس کر رہ گیا تھا۔”احمق ڈاکٹر نے کہیں کا نہیں رکھاتھا۔دوبارہ جانے کتنی محنت کرنا پڑے۔“
وہ اعتماد سے بولی۔”ریجا جانے بھی دو۔اس موذی سے جان چھوٹنے دو پری کو لانا میری ذمہ داری ہے۔“
میں نے مطعون کیا۔”تم کب سے اتنی اچھی بن گئی ہو۔“
وہ طنزیہ لہجے میں بولی۔”ہاں تمھارے نزدیک تواچھا ہونا خوب صورت لڑکیوں کی خدمت گزاری ہے نا۔“
”کب تمھاری خدمت کی ہے یاخود کو خوب صورت نہیں سمجھتی ہو۔“
اس نے بے نیازی سے کندھے اچکائے۔”کافی عرصے سے خدمت کر رہے ہو،بلکہ تھوڑی دیر پہلے ہی آرام دہ بیڈ سے دست بردار ہوئے ہو۔“
میں نے بھناتے ہوئے بولا۔”دھونس جما کر لیا ہے محترمہ۔“
”اچھا سچ بتاﺅ،کیا پری ہوتی تو اسے نیچے سلاتے۔“
میں نے نفی میں سرہلایا۔”نہیں ،البتہ اس کی خوب صورتی میرے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی۔بلکہ کسی بھی لڑکی شکل وصورت میرے لیے لائق اہمیت نہیں ہے۔“
نادر خان مخل ہوا۔”اگر میری الجھن بھی سلجھا دوتو یقینا دعائیں دوں گا۔“
میں اطمینان سے بولا۔”تم غیر ضروری حرکت نہ کر کے اپنی زندگی اور کھال بچا سکتے ہو۔باقی جب تم کیپٹن پر حملہ کر رہے تھے تومیں نے اپنا تعارف توکرا دیا تھا،مادام کی شناخت باقی ہے۔شوق ہو تو موقع دے سکتا ہوں۔“
”دھمکانے کے بجائے اگر اپنا تعارف اور مطمح نظر ہی بتا دیتے تو احسان ہوتا۔“
لورا نے کہا۔”ہمیں عارضی استعمال کو یہ کمرہ چاہیے تھا اور بس۔“
وہ لجاجت سے بولا۔”میرے لیے تمھارا کمرے پرقابض ہوناقابل اعتراض نہیں ہے، البتہ اپنی درگت پر ضرور شاکی ہوں۔ جب میرے دشمن نہیں ہو اور میں بھی تمھیں نہیں جانتا توکیوں نہ اچھے ماحول میں بات کی جائے۔“
”تم چھوٹی سی حماقت سے اپنی جان گنواﺅ گے ہی، ہمارے لیے بھی مشکل کھڑی کر دو گے۔ اس لیے خطرہ مول لینے کا بالکل من نہیں کر رہا۔البتہ خاموش بیٹھتے ہوئے بیزاری یا الجھن محسوس کر رہے ہو تو اپنی کہانی سنانا شروع کر دو۔تم پر احسان جھاڑتے ہوئے ہم سن لیں گے۔“
وہ طنزیہ انداز میں بولا۔”کافی نیک آدمی لگتے ہو،ورنہ اتنے بڑے احسان کرنا عام آدمی کے بس کی بات نہیں ہے۔“
لورا کھل کھلائی۔”خوش قسمت ہو جو اتنے نیک لٹیروں سے واسطہ پڑا ہے۔“
”مادام تم نام سے عیسائی لگتی ہو،بھائی کانام شاید راجا ہے جسے ریجا پکارنا یقینا تمھارے انگریزی لب و لہجے کا کمال ہے۔باقی راجانام ، ہندو و مسلم دونوں قوموں میں پایا جاتا ہے۔لیکن غالباََ ان کی بیوی کا نام پلوشہ ہے جس سے اندازہ کر سکتا ہوں کہ یہ مسلمان ہوں گے۔“
میں مصنوعی گھمبرتا سے بولا۔”ہمارے بارے اتنی جانکاری رکھنے والا اگر یہ سمجھتا ہے کہ زندہ چھوڑ دیا جائے گا،تویقینااحمق ہے۔“
وہ ہکلایا۔”قق....قسم سے ....میں اندازہ لگا رہاہوں۔تصدیق تونہیں ہوئی۔“
لورا نے قہقہ لگایا۔”ڈرا دیا بے چارے کو۔“
لورا کے قہقہے نے اس کے چہرے کی رونق لوٹائی اور وہ بغیر استفسار کے اپنے بارے بتانے لگا۔”میرا نام نادر خان ہے۔عموماََ اکیلے ہی کام کرتا ہوں۔ہر قسم کی اسمگلنگ ، مخصوص افراد کا اغواء، اندرون ملک غیر قانونی مال کی ترسیل،مخصوص اشیاءکی چوری وغیرہ میرے دھندے ہیں۔اصول ہمیشہ یہی رکھا ہے کہ پیسہ کمانا ہے۔البتہ معاوضا لے کر قتل کرنا اپنے اصولوں سے خارج ہے۔ نجّو چکر باز کے نام سے مشہور ہوں۔چند دن پہلے ایک نامی گرامی اسمگلرمنوج جوشی کے آدمی سے کلو بھر کوکین خریدی جو اس نے پندرہ لاکھ کی قلیل رقم وصول کر کے میرے حوالے کی۔بعد میں کم بخت پکڑا گیا۔منوج جوشی کے جلادوں کے سامنے اس نے سب کچھ اگل دیا۔اب منوج جوشی میرے درپے ہے کہ اس کا مال واپس کروں اور وہ میری رقم لوٹا دے گا۔جبکہ میں کوکین آگے بیچ چکا ہوں یہ ہے میری غم بیتی۔“
میں نے کہا۔”اگر کبھی کبھار ٹی وی دیکھنے کا اتفاق رہتا ہوتوہماری آپ بیتی روزانہ مرچ مسالہ لگا کر پیش کی جاتی ہے۔“
اس نے اثبات میں سرہلایا۔”مجھے کچھ کچھ اندازہ تھا،بس چہرے دیکھ کر الجھن ہو رہی تھی۔“
”اگر الجھن سلجھ گئی ہے تو آرام سے کسی کونے میں لیٹ جاﺅ کہ اب میں تمھارے پاﺅں بھی جکڑنے والا ہوں ۔“
وہ شاکی ہوا۔”مجھ پر اعتماد کیوں نہیں کر رہے۔“
میں اطمینان سے بولا۔”کیوں کہ اپنی جان پیاری ہے۔“
لورا کمبل میں گھستے ہوئے بولی۔”ریجا میں سورہی ہوں ،پہرے داری کا شوق خود ہی پورا کرتے رہنا۔مجھے جگایا تو بغیر دیر کیے پیلاوشہ کو گھنٹی کروں گی۔“
میں نے پریشانی ظاہر کی۔”ایک اور مسئلہ بھی ہے مادام،کمبل صرف ایک ہے۔“
کمبل سے چہرہ باہر کر کے اس نے آنکھیں نکالیں۔”ایسا سوچنا بھی مت کہ اس کمبل میں جگہ مل جائے گی۔“
”کھانا نہیں کھانا۔“مجھے اچانک ہی خیال آیاتھا۔
وہ اٹھ بیٹھی۔”بھوک تو لگی ہے،مگر باہر جانے کا بالکل موڈ نہیں ہے۔“
میں نے نادر خان سے باورچی خانے کا نمبر پوچھ کرڈائل کیا اور انٹرکام کا رسیور کان سے لگالیا۔
نسوانی آواز میں پوچھا گیا۔”روم سروس پلیز؟“
اور میں نے کمرہ نمبر بتا کرپر تکلف عشائیہ نوٹ کرادیا۔
کھانے کی آمد میں ادھ پون گھنٹا لگ گیا تھا۔اس سے پہلے میں نے نادر خان کو عارضی طور پر رہا کر دیا کہ عموماََہر کمرے کی خدمت گزاری پر مخصوص ویٹریس مقرر ہوتی ہے جوان کمروں کے مکینوں کو اچھی طرح پہچانتی ہیں۔اورنادر خان کو نہ پا کر ویٹریس چونک سکتی تھی۔
”نجّو چکر باز!یادرکھنامیں نے زندگی میں صرف ایک کام ڈھنگ سے کیا ہے اور وہ ہے سر میں روشن دان کھولنا۔ بہتر یہی ہوگا کہ مجھے نہ آزمانا،ورنہ تمھیں یقین تو آجائے گا،لیکن عمل کے قابل نہیں رہو گے۔“میں نے اسے دھمکانا ضروری سمجھا تھا۔
وہ اطمینان سے بولا۔”ضرور ڈرتا ،اگر کچھ کرنے کا ارادہ ہوتا۔باقی تمھارے بارے پہلے سے جانتا ہوں۔گوراجپوت داداکے اغواءکی خبر ٹی وی پر نہیں چلی تھی مگر زیر زمین حلقوں میں اس کے کافی چرچے ہیں۔اورتم دونوں کو سراہنے والے کثیر تعداد میں ہیں۔ان میں میرا نام بھی شامل ہے۔“
میں نے قہقہ لگایا ۔”موخّر الذکر فقرہ ظاہر کرتا ہے کہ تمھاری چکربازی کی حس جاگ اٹھی ہے۔“
جاری ہے
قسط نمبر 53 ریاض عاقب کوہلر
میں نے قہقہ لگایا ۔”موخّر الذکر فقرہ ظاہر کرتا ہے کہ تمھاری چکربازی کی حس جاگ اٹھی ہے۔“
وہ ڈھٹائی سے بولا۔”خیر ایسی بھی کوئی بات نہیں ہے۔اورمادام کو دیکھنے کی خواہش رکھنے پر توقسم کھا سکتا ہوں ۔“
”کیوں ؟“لورا متعجب ہوئی۔
وہ کھسیاتے ہوئے بولا۔”ویسے ہی نشانہ باز لڑکیاں کم ہی نظر سے گزری ہیں ناں ۔“
میں نے لورا کو چھیڑا۔”یہ تمھارے نینوں کے تیروں کا ذکر کر رہا ہے۔“
وہ برہمی سے بولی۔”مردوں کی رگ رگ سے واقف ہوں اسی لیے تو کبھی لبلبی دباتے ہوئے جھجک محسوس نہیں ہوئی۔“
نادر نادم ہوا۔”مادام میں نے ایسا کچھ نہیں کہا۔“
لورا تیکھے لہجے میں بولی۔”ذراکہہ تو دیتے۔“
اسی گپ شپ کے دوران ہی دروازہ بجا،میں جلدی سے پردے کے پیچھے ہو گیا۔لورا نے دروازہ کھولا۔کالے رنگ کے تھری پیس سوٹ میں ملبوس خوش شکل ویٹریس ٹرالی کو دھکیلتے ہوئے اندر آئی۔اور میز پر کھانا چننے لگی۔اس نے لورا کی موجودی پر حیرانی ظاہر نہیں کی تھی،کیوں کہ وہاں رات رنگین کرنے کو ایسے مہمان کو بلانا انوکھا نہ تھا۔
کھانا لگا کر وہ ٹرالی دھکیلتے ہوئے باہر نکل گئی۔اس دوران لورا بہ ظاہر بے پروائی سے مگر بہ باطن چوکنے انداز میں ویٹریس پر نظر رکھے رہی۔اس کا دایاں ہاتھ جیب میں تھا۔اور یہ تو نادر خان اچھی طرح جانتا تھا کہ اس کے ہاتھ میں کیا ہے۔
ویٹریس کے جاتے ہی لورا نے دروازہ قفل کیا،میں بھی باہر آگیا۔کھانا کھا کر میں نے نادر خان کو کافی اور کمبل منگوانے کو کہا۔اس نے ساتھ وسکی کی بوتل بھی منگوا لی۔لورا نے بھی کافی کے بجائے وسکی پینے کو ترجیح دی تھی۔ وہ خال ہی شراب پیتی تھی۔بلکہ اپنے ٹھکانے پر اس نے کبھی شراب کی بوتل نہیں رکھی تھی۔البتہ ہوٹل وغیرہ میں کھانا کھاتے ہوئے کبھی کبھارایک ادھ پیگ منگوا لیتی تھی۔
لورا نے پوچھا۔”ریجا! تم کیوں نہیں پیتے،نادر بھی تو مسلم ہے؟“
میں طنزیہ انداز میں بولا۔”نادر تو غیر عورتوں سے تعلقات بھی رکھتاہے،اسمگلر بھی ہے،چوری ڈکیتی کرتے بھی نہیں جھجکتالوگوں کو اغواءبھی کرتا ہے تو کیا مجھے بھی یہ سب کرنا چاہیے۔“
لورا ترکی بہ ترکی بولی۔”میں تمھاری بیوی ہوں جو ایک کمبل میں گھسنے پر تلے رہتے ہو۔پری کے آگے پیچھے بھی ایسے گھومتے تھے جیسے تمھاری منکوحہ ہو۔تم نے راجپوت دادا اورپری ،کو اغواءبھی کیا تھا،وشال گپتا کے ہاں ڈکیتی بھی کی،قاتل تو پکے ہوپھر صرف شراب نہ پینے میں تمھاری کون سی مسلمانی اٹکی ہے۔“
میں اطمینان سے بولا۔”میرے ہر عمل کے پس پردہ تکمیل ِ مشن کی تحریک ہے۔میں نے اپنی ذات کے لیے کوئی جرم نہیں کیا۔“
وہ شرارت سے بولی۔” پری کوپھانسنا کون سا مشن تھا۔“
میں ریشمی ڈوری اٹھا کر نادر کے قریب ہوا۔”ناگوار نہ گزرے تو ہاتھ پیچھے کرنے کی زحمت کر لیں مہاراج!مادام کی بکواس تو اتنی آسانی سے ختم نہیں ہو گی۔“
وہ لجاجت سے بولا۔”گنجائش نہیں ہو سکتی۔“
میں نے نفی میں سرہلایا۔”چکر باز کے ساتھ گنجائش کی تو اپنابیڑا ڈبوئیں گے۔“
”کوئی ایسا طریقہ کہ میں ہاتھ پاﺅں بندھوانے سے بچ جاﺅں ۔“
”غسل خانے میں سو سکتے ہو توگنجائش نکال لیتا ہوں ۔“
وہ ہاتھ پیچھے کرتا ہوا بولا۔”کس کے باندھنا ،رسی کم پڑے تو الماری میں بھی رسی رکھی ہے۔“
لورا نے بے ساختہ قہقہ بلند کیا۔”ریجا،پری کو توبندش کی تکلیف سے بچانے کو رت جگا منا لیتے تھے۔ اس بے چارے پر ترس کیوں نہیں آرہا۔“
میں بھناتے ہوئے بولا۔”بھول گیا ہے اس عفیفہ نے کیا کیا تھا۔سر کا زخم ٹھیک ہونے میں ہفتہ لگا تھا۔“
اس نے اپنے گلاس سے آخری گھونٹ بھر کر ایک اور قہقہ بلند کیا۔ ”بہ ہرحال مجبور نہیں کرتی کہ یہ تمھاری ذمہ داری ہے۔اور اس کا پستول بھی سنبھالو“زستاوا میری جانب اچھال کروہ کمبل میں گم ہو گئی۔
میں نے پستول پکڑ کر جیب میں ڈالا۔اور نادر سے پوچھا۔”اگر بیت الخلاءوغیرہ کی حاجت ہے تو پوری کر لو۔میں سو گیا تو پھر امید نہ رکھنا کہ تمھارے واویلے پر دھیان دوں گا۔“
”پھر چند منٹ رک جاﺅ۔“وہ غسل خانے کی طرف بڑھ گیا۔
میں اس کے پستول کا جائزہ لینے لگا۔عمدہ ساخت کازستاوا تیس بور پستول(Zastava) جس کا بٹ بھورے رنگ کا تھا۔میں نے میگزین اتاری جو گولیوں سے بھری ہوئی تھی۔ پستول کو کاک کر کے میں نے خالی ہونے کی تصدیق کی۔میں پہلے بھی بتا چکاہوں کہ ہر تربیت یافتہ آدمی جب بھی اسلحہ ہاتھ میں لے گا اس کے بھرے یا خالی ہونے کی تصدیق ضرور کرے گا۔میں ایک بار پہلے بھی زستاوا استعمال کر چکا تھا۔ مگر میری اپنی پسند ہمیشہ سے گلاک رہا ہے۔بریٹا بھی بہترین پستول ہے۔اور میرے گلاک کو بریٹا پر ترجیح دینے کی کوئی ٹیکنکل وجہ بھی نہیں ہے۔ عام طور پر تو جو پستول میسر ہو ،کام چلا یتا ہوں مگر چناﺅ کا موقع ملے تو میرا انتخاب گلاک ہی ہوتا ہے۔
غسل خانے کے دروازے پر آہٹ ہوئی اور میں نے میگزین لگا کر زستاوا جیب میں ڈال لیا۔
نادر خان نے کرسی پر نشست سنبھالی اور ہاتھ پشت پر باندھ لیے۔گویا وہ بندھنے کو تیار تھا۔ اس کا تعاون آمیز رویہ مجھے ترغیب دے رہا تھا کہ اس پر اعتبارکروں ۔
”کیا ہمیں تم سے کوئی خطرہ ہے؟“لورا کمبل میں گم تھی اس لیے میں نے اردو بولنے میں حرج نہیں سمجھی تھی۔
وہ معنی خیز لہجے میں بولا۔”تمھاری ساتھی کو ہو سکتا تھا اگر تعارف نہ ہوا ہوتا۔“
”ویسے کبھی کبھار دھوکا کھالینا چاہیے۔“رسی جیب میں ڈال کر میں نے اس کی پیٹھ تھپتھپائی۔
وہ مسمسے لہجے میں بولا۔”میرا تو خیال ہے ایسا نہ کرنا بہتر رہے گا،کہیں تمھاری ساتھی کی ترغیب آمیز مسکراہٹ مجھے بھٹکا نہ دے۔“
میں نے ڈانٹا۔”بے غیرتا!گندی موت مرو گے۔اس معاملے میں اس کے اندر کسی مشرقی لڑکی کی روح حلول کیے ہوئے ہے۔“
وہ گہرا سانس لیتے ہوئے بولا۔”مذاق کر رہا تھا یار۔“
”چل سوتے ہیں ....اور یہ بھی پاس رکھو۔“میں نے زستاوا بھی اس کی جانب بڑھادیا۔
اس کے چہرے پر حیرانی ابھری۔
میں متبسم ہوا۔”کہتے ہیں جب اعتبار کرو تو پورا کرو۔“کمبل اور دو تکیے اٹھا کر میں کونے کی طرف بڑھ گیا۔فرش پر عمدہ قالین بچھا تھا۔ہم دونوں ایک ہی کمبل اوڑھ کر سو سکتے تھے۔
”بات سنو۔“میں نے کمبل نیچے رکھا ہی تھا کہ اس نے عجیب سے لہجے میں پکارا۔
”ہونہہ!“کہتے ہوئے میں پیچھے مڑا۔زستاوا کی خوف ناک نال کا رخ میری جانب تھا۔
”یی....یہ کیاہے؟“میں ہکلا گیا تھا۔
”معذرت یار،مگر اس چھوکری نے مجھے کہیں کا نہیں رکھا۔دیکھو کمبل میں بھی اس کا شباب کیسے ابل رہا ہے ۔اب موقع مل ہی رہا ہے تو فائدہ نہ اٹھانا زیادتی ہوگی۔“یہ کہتے ہی اس نے کمبل کے کونے سے پکڑ کر گھسیٹ کر نیچے پھینک دیا۔
لورا پہلو کے بل لیٹی تھی۔ ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھی۔”کک....کیا ہوا؟“شاید اس کی آنکھ لگ گئی تھی۔ اگر جاگ رہی ہوتی تب بھی اردو اس کے خاک پلے پڑنا تھی،کہ صورت حال کا جائزہ لیے بغیر سمجھ سکتی۔
پستول کا رخ باری باری دونوں کی جانب کرتے ہوئے اس نے دھمکی دی۔”تم دونوں اپنے ہاتھ گردن کے پیچھے باندھ لو....ذرا سی غلط حرکت مجھے گولی چلانے پر مجبور کر دے گی۔“
”ریجا !یہ کیا ہے؟“ہاتھ گردن کے پیچھے باندھتے ہوئے لورا برہم ہوئی۔
”غلطی ہو گئی۔“ہاتھ گردن کے پیچھے باندھتے ہوئے میں نادم ہوا۔
”کیا چاہتے ہو۔“لورانے ہونٹ چباتے ہوئے اسے گھورا۔
”تمھیں چاہتاہوں ۔اورنّجو جو چاہتا ہے ضرور حاصل کرتا ہے۔“
لورا نے مشورہ دیا۔”ہماری تم سے کوئی دشمنی نہیں ہے،بہتر ہوگاپھوٹ لو۔“
وہ مکروہ لہجے میں بولا۔”تمھارا گھنٹا ادھ لوں گا اور پھر دفع ہو جاﺅں گا۔سچ بتاﺅں جب سے تمھاری تعریف سنی ہے پاگل ہواپھر رہا ہوں ۔معلوم ہی نہ تھا آسمان والا ایک دم یوں مہربان ہو جائے گا۔“
”اتنی سی بات پر اتنا کھٹ راگ پھیلانے کی کیا ضرورت تھی۔آجاﺅ میں نے کون سا اعتراض کیا ہے۔“ لورانے اطمینان بھرے لہجے میں کہتے ہوئے ہاتھ نیچے کرنا چاہے۔
”خبردار، حرکت نہیں ۔میں گولی چلا دوں گا۔“اس نے اضطراری انداز میں پستول کی نال کو حرکت دی۔
لورا کے ہونٹوں پرترغیب آمیز ہنسی نمودار ہوئی۔”گولی مارو گے تو عیاشی کس کے ساتھ کرو گے۔“
نادر غلیظ انداز میں بولا۔” فکر نہ کرو اپنی حاجت تو میں تمھارے زخمی جسم سے بھی پوری کرلوں گا۔“
لورا نے منہ بنایا۔”تم خواہ مخواہ ڈر رہے ہو،ریجا نے شاید الٹی سیدھی پٹی پڑھائی ہے۔جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ہاں یہ فعل کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتا۔اگر پہلے کہہ دیتے تب بھی مان جاتی،ریجا تو خود دور بھاگتا ہے۔“
”نجو لوگوں کو چکر دیتا ہے بے بی،تمھاری چال میں نہیں آسکتا۔اور اگر سچی ہوتواپنے کپڑے اتار دو تاکہ مجھے یقین آجائے۔“
لورا نے گہرا سانس لیتے ہوئے غصہ ضبط کرنے کی کوشش کی۔میں بھی برہم ہوا۔”نادر خان تم حد سے بڑھ رہے ہو۔اب بھی وقت ہے چلے جاﺅ۔یہ نہ ہوبعد میں پچھتانے کا موقع بھی نہ ملے۔“
”ہونہہ۔“اس نے طنزیہ ہنکارا بھرا۔”سنائپر صاحب، ایک قدم ہلا کر دکھاﺅ۔اور میرا نشانہ دیکھو۔ اگر شاگردی کی درخواست نہ کرنے لگے تو نّجو نہ کہنا۔“
میں نے اسے مطعون کیا۔”میرے احسان کا یہ بدلہ دے رہے ہو۔“
”تو کیا کروں ،ایسے شباب سے دست بردار ہوجاﺅں ۔حالاں کہ اس کے حصول کو میں کوئی بھی قیمت ادا کرسکتا ہوں ۔احمق آدمی تم نے صرف اس کا رنگ چھپایا ہے۔اور میں رنگ سے زیادہ انگ پر نظر رکھتا ہوں ۔“
میں درشتی سے بولا”بس مجھ میں اتنی ہی برداشت تھی۔“اور ایک دم ہاتھ نیچے کرتے ہوئے اس کی طرف قدم بڑھائے۔
”خخ....خبردار....“گڑبڑاتے ہوئے اس نے تنبیہ کی اور پھر فوراََ لبلبی دبا دی۔
”ٹرنچ۔“کی آواز سنتے ہی اس کا چہرہ پیلا پڑ گیاتھا۔میں نے جیب میں ہاتھ ڈال کر زستاواکی گولیاں نکالیں ۔اور مٹھی اس کے سامنے کھولتے ہوئے بولا۔”پتر !تم جس مدرسے میں پڑھے ہو اس کے استاد خاکسار کو ابا کہتے ہیں ۔میں بس جانچنا چاہتا تھاکہ تم پر کتنا اعتبار کر سکتا ہوں ۔“میں نے گولیاں بیڈ پر پھینکیں اور گلاک اس کی طرف سیدھا کیا۔
اس نے پستول پھینکتے ہوئے ایک دم ہاتھ بلند کیے۔”مم....میں تو بس مذاق کر رہا تھا .... سس....سچ میں ،ورنہ ........“
”ریجا ہٹو سامنے سے ۔“لورا مجھے ایک جانب دھکیلتی ہوئی اس پر جا پڑی تھی۔نادر کو جب تک سمجھ آتی اس نے اپنا گھٹنا ،نادر کی ٹانگوں کے بیچ اٹھا دیا تھا۔
”اففف....“وہ درد کی شدت سے دہرا ہو گیا تھا۔لورا کا دوسرا گھٹنا اس کے ماتھے پر لگا،وہ کولہوں کے بل نیچے گرا اور لورا نے اس پر ٹھوکروں کی بارش کر دی۔
میں نے کہا۔”پتر !بہت سمجھایا تھا،مگر تیری........میں جو کیڑا تھا اس کا علاج کیپٹن ہی کے پاس ہے۔“
چند لمحوں میں لورا نے اسے روئی کی طرح دھُنَک دیاتھا۔باتوں کی حد تک بے شک وہ بے باک و آزاد خیال تھی،مگر میں نے مشاہدہ کیا تھا کہ جب کوئی مرد سچ میں اس کی طرف غلط نیت سے بڑھتا وہ بہت طیش کھاتی تھی۔
تھوڑی دیر بعد ہی نادر نے ہاتھ پاﺅں ڈھیلے چھوڑ دیے تھے۔میں نے لورا کا بازو تھام کر پیچھے کھینچا۔ ”بس کرو لورا۔“
وہ ہانپتے ہوئے بولی۔”اسے اچھی طرح ٹھنڈا تو کر لوں ۔“
”کافی ہو گیا ہے۔“اسے بیڈ کی طرف دھکیل کر میں نادر کی مُشکیں کسنے لگا۔ہاتھ پاﺅں جکڑ کر اس کے منہ پر بھی کپڑا باندھ دیا تھا تاکہ شور نہ کر سکے۔
اتنی دیر میں لورا نے زستاوا کی میگزین اٹھا کر دوبارہ بھر دی تھی۔میں نے جونھی نادر کو گھسیٹ کر ایک کونے میں پھینکا،اس نے تعجب ظاہر کیا۔
”کیا ہوا تھا؟....اور گولیاں میگزین سے کب نکالیں ۔“
”اسے خواہ مخواہ قیدی بنا کر رکھنے نے مجھے الجھن میں ڈال دیا تھا۔اسے پرکھنے کا یہی طریقہ تھا ۔یہ غسل خانے میں گیا تو میں نے میگزین خالی کر دی۔اور پستول اس کے حوالے کر دیا۔پستول ہاتھ میں آتے ہی کم بخت نے چند لمحے بھی صبر نہیں کیا۔“یہ کہتے ہوئے میں لمحہ بھر توقف کر کے شرارتی لہجے میں بولا۔”ویسے دھیان رہے انڈیا میں کافی چاہنے والے پیدا ہو گئے ہیں تمھارے۔“
وہ بگڑ کر بولی۔”شاید تم بھی اس کے پہلو میں لیٹنا چاہتے ہو۔“
”اس کے تو نہیں ....البتہ............“اس کے نتھنے پھولتے پچکتے دیکھ کر میں نے فوراََ بات تبدیل کی۔”بلکہ کسی کے بھی نہیں ۔“
”لوفر،لفنگا....“باآواز بلند بڑبڑاتے ہوئے وہ کمبل میں روپوش ہو گئی۔میں بھی مسکراتے ہوئے اپنی جگہ لیٹ گیا تھا۔لورا کا چڑنا اور غصہ کرنا ہی تھا جو مجھے مذاق کرنے کی ترغیب دیتا تھا۔ورنہ جینی سے میں نے کبھی اس قسم کا مذاق نہیں کیا تھا۔
٭٭٭٭٭
اگلا دن ہم نے کمرے کے اندر ہی گزارا تھا۔ناشتے اور کھانے کے وقت نادر کو غسل خانے میں بند کر کے میں خود کمبل میں روپوش ہو گیا، ویٹریس کو لورا نے وصول کیا تھا۔نادر ہوش میں آنے کے بعد چپ چاپ لیٹا رہا۔یوں بھی وہ زیادہ سے زیادہ ۔”غوں غاں “ہی کر سکتا تھا کہ میں نے اس کا منہ بھی باندھا ہوا تھا۔
لورا نے کھاناکھاتے ہوئے نادر کی طرف اشارہ کیا۔”اس کا کیا کریں گے؟“
”دھوکا دینے والے کو معاف کرنے کا میں قائل نہیں ۔اگر یہ ہم سے تعرض نہ کر کے جانے کا سوچتا تو اسے کچھ نہ کہتا،مگر اس نے بہت گھٹیا سوچا ہے۔اور ایک لڑکی کی توہین کے مرتکب کو معاف کرناتو انسانیت کی تذلیل ہے۔“
وہ شوخی سے بولی۔”اگر سوچ رہے ہو ایسی باتوں سے مجھے متاثر کر لوگے تو فضول کوشش ہے۔ڈیوڈ تم سے زیادہ خوب صورت اور میرا خیال رکھنے والا ہے۔“
میں بھناتے ہوئے بولا۔”تمھیں متاثر کرنے والے پر اللہ کی لعنت۔“
”ہا....ہا....ہا۔“اس کا مترنم قہقہ گونجا۔”صفائیاں دینے کی ضرورت نہیں ،اپنی نیت درست کرو۔“
”فضول عورت۔“بیزاری سے کہتے ہوئے میں ٹی وی کی طرف متوجہ ہو گیا جہاں بریکنگ نیوز میں ایک خالی مکان میں ہمارے چھپنے کی بابت انکشاف کیا جارہا تھا۔میڈیا کو کافی دیر سے خبر دی گئی تھی۔کہانی تقریباََ وہی تھی جو لورا نے ڈاکٹر سجاتا کو فون پر بتا دی تھی۔وہاں سے فرار ہونے والی لڑکی کی شناخت نہیں ہو سکی تھی۔ پولیس لڑکی کی تلاش میں تھی۔نیوز کاسٹر نے نامعلوم لڑکی کو پولیس کے پاس پیش ہونے کی درخواست کرتے ہوئے تحفظ کی یقین دہانی کرائی تھی۔
لورا بھی اسکرین کی طرف متوجہ تھی مگر اس کی سمجھ میں تفصیل نہیں آرہی تھی۔
وہ استفسار کرنے لگی۔”کیا کہہ رہے ہیں ؟“
”ہمارے گزشتہ ٹھکانے کو زیرِ بحث لائے ہوئے ہیں ۔سب کچھ وہی، جیسا ہم نے سوچا تھا۔“ میں نے ڈاکٹر سجاتا کے ذکر سے احتراز برتا تھا کہ نادر خان کو قتل کرنے کا ارادہ نہیں تھا۔البتہ اسے سبق سکھانے کا عہد کرچکا تھا۔لورا نے بھی میرے گول مول جواب پر اثبات میں سر ہلا دیا۔کیوں کہ اس معاملے میں اس کا دماغ بھی خوب کام کرتا تھا۔میری بہت سی باتوں کووہ بغیر وضاحت جان جاتی تھی۔ہم میں پیشہ ورانہ یکسانیت پائی جاتی تھی۔اور دوسنائپر بے شک مختلف ممالک و جنس سے تعلق رکھتے ہوں لیکن میدان ِعمل میں ان کے سوچنے کا انداز قریباََ ایک ہی جیسا ہوگا۔
خود کھاکر میں نے نادر خان کے ہاتھ کھولے اور سامنے کھانارکھ دیا ۔
اس نے بے چینی سے پوچھا۔”آپ لوگ میرے ساتھ کیا کرنے کا ارادہ رکھتے ہو؟“
میں اطمینان سے بولا”کم از کم قتل نہیں کریں گے۔“
اس کے چہرے پر بشابشت نمودار ہوئی۔”جانتا تھا کہ کوئی مسلمان اتنا ظالم نہیں ہو سکتا۔“
میں طنزیہ لہجے میں بولا۔”ظالم نہیں ہو سکتا،دھوکے بازتو ہوسکتا ہے نا۔“
اس نے سرجھکایا۔” شرمندہ ہوں ۔“
”ہونا بھی چاہیے ،مگراظہارِندامت پر معاف کردیناشانِ ربوبیت کا خاصا ہے ،تم ہم جیسے گناہ گاروں سے غلط امیدیں نہ باندھ لینا۔“
نادر خان کو چپ لگ گئی تھی۔میں وشواس سنگھ سے بات کرنے کو اپنا موبائل فون آن کرنے لگا۔
موبائل فون کے آن ہوتے ہی پیغامات کی گھنٹیاں بجنے لگیں ۔میں نے متجسس ہو کر پیغام کھولے، تمام ڈاکٹر سجاتا کے تھے۔معذرت اور ندامت ظاہر کرنے کے ساتھ اس نے اپنی خیریت کا بتایا تھا۔کال کرنے کی بھی درخواست کی تھی۔
پیغامات کی مسلسل گھنٹیاں سن کر لورا بھی سوالیہ نظروں سے مجھے گھورنے لگی تھی۔
”ڈاکٹر اپنی خیریت کا بتا رہی ہے۔اور بات کرنا چاہتی ہے۔“
لوراتدبر سے بولی۔”ضرورکرو،ورنہ اس کی پشیمانی میں اضافہ ہوتا جائے گا۔“
”پہلے اس کا بندوبست کر لوں ۔“میں نے نادر کی طرف اشارہ کر کے پریتو بھابی کو کال ملا دی۔
پریتوبھابی سے ہیلو ہائے کر کے میں وشواس سنگھ سے بات کرنے لگا۔رسمی کلمات کی ادائی کے بعد میں مطلب کی بات پر آیا۔”شاید آج رات تمھارے ہاں آنا پڑے۔“
وہ خوش دلی سے بولا۔”ایسی خوش خبری سننے کو بے تاب تھا۔“
”خوش خبری سن لی ہے تو اب کام کی بات بھی سن لو....کیا منوج جوشی نامی کسی اسمگلر سے واقف ہو؟“
وہ بغیر لمحہ ضائع کیے بولا۔”اس کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔“
میں نے کہا۔”میرا خیال ہے اس کا ایک مطلوبہ شخص میرے قبضے میں ہے،کیا اس سے تصدیق کرا سکتے ہو۔“
وشواس سنگھ نے تسلی دی ۔”ادھ ،پون گھنٹا لگ جائے گا۔تم بندے کا نام بتاﺅمیں پتا کرالیتا ہوں ۔اور یہ بھی بتاﺅ اس کے بدلے کیا درکار ہے۔“
میں نے انکشاف کیا۔”نارد خان عرف نجّو چکر باز نام ہے غالباََ۔“
”کیا........“وشواس سنگھ حیران رہ گیا تھا۔”یہ بلونگڑا تمھارے ہاتھ کیسے چڑھا۔اور اسے منوج جوشی کے حوالے کیوں کر رہے ہو۔“
میں نے جان چھڑانا چای۔”تفصیل بتانے کا وقت نہیں ہے۔“
اس نے اشتیاق سے پوچھا۔”نجّو ہے کہاں ؟“
” میرے سامنے بیٹھا ہے۔“
وشواس سنگھ نے کہا۔”اسے فون دو۔“
میں نے بادل نخواستہ موبائل فون نادر خان کی طرف بڑھا دیا۔اس کے چہرے پر پریشانی مترشح تھی۔ گو اسے یہ معلوم نہ تھا کہ میں کس سے بات کر رہا ہوں البتہ میری یک طرفہ گفتگو بھی اس کی گھگی بند ھانے کو کافی تھی۔وہ کھانے کے بھی دو تین نوالوں سے زیادہ نہیں لے سکا تھا۔لورا بہ ظاہر ٹی وی کی طرف متوجہ تھی مگر درپردہ نادر خان پر نظر رکھے ہوئے تھی۔
نادر خان وشواس سنگھ کی آواز سنتے ہی خوشی سے ہکلایا۔”استادجی ی ی ی ی !پرنام،ست سری اکال، پائے لاگوں ،نمستے،آداب........آپ کی آواز سننے کو کان ترس گئے تھے۔“”جی “کی ”یا “کو لمبا کھینچتے ہوئے وہ ایک ہی سانس میں مختلف مذاہب کاسلام کہتا گیا۔اور پھر وشواس سنگھ کا جواب سن کر رنکھا ہوا۔
”استاد جی !غلطی میری ہے۔بس ایک بار معافی دلا دیں میرے ابے،دادے،پردادے بلکہ استاد کی بھی توبہ جو اس عفیفہ پر بری نظر بھی ڈالی۔“
شاید وشواس سنگھ نے واقعہ جاننے میں دلچسپی ظاہر کی تھی کہ وہ تفصیل بتانے لگا۔حیران کن طور پر اس نے ذرا بھی ہیرا پھیری نہیں کی تھی۔شاید میری وجہ سے چکر بازی سے باز رہا تھا۔ تفصیل بتا کر اس نے وشواس سنگھ کی بات سنی اور پھر موبائل فون میری طرف بڑھا دیا۔
میں نے موبائل فون کان سے لگایا۔”جناب۔“
وشواس ملتجی ہوا۔”راجا بھائی کیا میری سفارش کوئی کام کر سکتی ہے؟“
میں طنزیہ لہجے میں بولا۔”کیا اس قابل ہے کہ اس کی سفارش کی جاسکے۔“
”کنجر کا مقروض ہوں ۔ دھرمو دادا کے اڈے پر جب چھاپہ پڑا تھا تب اسی کی وجہ سے مجھے فرار کا موقع ملا تھا۔ویسے بھی کافی دفعہ کام آیا ہے۔اگر زیادہ غصہ نہیں ہو تو گنجائش کر دو۔ورنہ میں سفارش ہی کر سکتا ہوں ۔ “
میں متبسم ہوا۔” یہ تو تمھاری غلط فہمی ہے کہ تم صرف سفارش کر سکتے ہو۔بہ ہرحال اس کا کیا کروں ؟“
وشواس سنگھ اعتماد سے بولا۔”جانے دو۔اور بے فکر رہویہ تمھاری جگہ کے بارے کسی کو کچھ نہیں بتائے گا۔اس کی ذمہ داری میں لیتا ہوں ۔“
”جیسا تمھاری مرضی۔“کہہ کرمیں نے الوداعی کلمات کہے اور رابطہ منقطع کر دیا۔
لورا بھناتے ہوئے بولی۔”اب مجھے بھی بتادوکہ کیا چل رہا ہے۔“
میں نے مختصراََ کہا۔”وشواس سنگھ اسے چھوڑنے کی سفارش کر رہا ہے۔“
لورا برہم ہوئی۔”میں اسے سزا دیے بغیر نہیں بخشنے والی۔“
”میں وشواس سنگھ کو زبان دے چکا ہوں ۔“
”مجھ سے مشورہ کیے بغیر........“وہ بپھر گئی تھی۔
”کیا یہ خفا ہونے کی بات ہے۔“میں نے بیزاری ظاہر کی۔
وہ شاکی ہوئی۔”اوراب بھی بتانے کی کیا ضرورت تھی۔“
میں جھلاتا ہوا بولا۔”وشواس سنگھ نے کہاہے اسے چھوڑ دو،میں بھی یہی چاہتا ہوں ۔اگر تمھیں کوئی اعتراض ہے توجو مرضی آئے کرو۔“
وہ طنزیہ لہجے میں بولی۔”چند لمحے پہلے تمھارا کوئی اور ارادہ تھا۔یا وشواس سنگھ کے کہنے پر اس کا گناہ ہلکا ہو گیا۔“
میں نے صفائی دی۔”دنیا کا کوئی بھی قانون ارادے پر سزا نہیں سناتا۔اگر یوں ہوتا تو مجھے منوج جوشی کا سہارا نہ ڈھونڈنا پڑتا۔“
” تمھاری بکواس نہیں سننا۔“ناراضی سے کہتے ہوئے اس نے تکیے پر سر رکھ کرآنکھیں موند لیں ۔
نادر خان کے ہاتھ کھانا کھانے کو آزاد کیے تھے۔میں نے اسے پاﺅں کی رسی کھولنے کا اشارہ کیا۔
اس نے جلدی سے پاﺅں آزاد کیے اور پنڈلیوں کو مسل کر کھڑا ہوگیا۔
میں نے زستاوا تیس بور اس کی جانب اچھالا۔”تم آزاد ہو۔اپنا سامان اٹھاﺅ اورغائب ہو جاﺅ۔“
”شکریہ راجا صاحب!اور ہو سکے تو مجھے معاف کر دینا۔“پستول پکڑ کے اس نے جیب میں ڈالا، تپائی پر رکھا بٹوہ اٹھایا اور ایک الماری سے چھوٹا سا بیگ نکال کر باہر نکل گیا۔گو وشواس سنگھ کی یقین دہانی کے باوجود مجھے نادر خان کواپنا کام پورا ہونے سے پہلے چھوڑنا مناسب نہیں لگ رہا تھالیکن مجبورا کڑوا گھونٹ لینا پڑا۔ کبھی کبھار دوستوں کی خاطر ایسے خطرے مول لیناپڑتے ہیں ۔
نادر خان کے رخصت ہوتے ہی میں ڈاکٹر سجاتا کو کال کرنے لگا۔پہلی گھنٹی پر اس نے کال وصول کر لی تھی۔وہ سخت شرمندہ تھی۔بار بار معذرت چاہ رہی تھی۔ میں نے خوشگوار موڈ میں اسے تسلی دی ۔اور مسئلہ حل ہونے کا بتا کر رابطہ منقطع کر دیا۔خواہ مخواہ اسے ذہنی اذیت اور خود ساختہ گناہ میں مبتلا رکھنا کہاں کا انصاف تھا۔ اگر ہم اس کے محسن تھے تو اس نے بھی ہمارے لیے خطرہ مول لیا تھا اور مجھے تو ایک بار پولیس سے بھی بچایا تھا۔
لورا گھنٹا ادھ گھنٹا لیٹنے کے بعد اٹھ گئی تھی۔نادر خان کا ذکر چھیڑے بغیر وہ کھڑکی کے قریب پہنچی۔ اور پھر ایس آر ون کا بیگ کھول کر رائفل جوڑنے لگی۔میں بھی اٹھ کر اس کے قریب پہنچ گیا۔
ہم ہدف سے بلند ی پر تھے اس لیے براہ راست رینج کے بجائے افقی رینج کا فارمولا لگناتھی۔میں اس بارے پہلے بھی وضاحت کر چکا ہوں کہ بلندی سے پستی یا نشیب سے اونچائی پر فائر کرتے وقت ایک ہی فارمولا لگتاہے۔ہر زاویے کا مخصوص کوسائن ہوتا ہے ۔نشیب یا بلندی پر موجود ہدف کا جو زاویہ ہو گا اس کا کوسائن معلوم کر کے اسے رینج سے ضرب دینے پر اصل رینج معلوم ہو جاتی ہے ۔ہم دونوں نے علیحدہ علیحدہ حساب کیا تھا تاکہ غلطی کی گنجائش نہ رہے۔دونوں کی پیمائش ایک جیسی نکلنے پر ہمیں اطمینان ہوا تھا۔
گو یہ ہمارے لیے نیا کام نہ تھا،لیکن شکلا کا قتل اتنا پرجوش کرنے والا تھا کہ ہم کوئی غلطی نہیں کرنا چاہتے تھے۔
سہ پہر کو ہمیں شکلا کی کوٹھی میں چہل پہل نظر آنے لگی۔پرما کے مل جانے کے بعد بھی تقریب ملتوی نہیں ہوئی تھی۔جس کا صاف مطلب یہی تھا کہ سچ میں اس کے پوتے کی سالگرہ تھی۔اس کے علاوہ لورا کی اختتامی گفتگو نے بھی اسے بھٹکایا تھا۔
اصل رینج 2080میٹر تھی جو افقی فرق نکال کر 1955میٹر بن رہی تھی۔
”تمھیں یقین ہے کر لو گے؟“لورا کے لہجے میں الجھن پنہاں تھی۔
میں اعتماد سے بولا۔”میں اس سے زیادہ فاصلے پر بھی فائر کرچکا ہوں ۔“
”پتا ہے جب تم ہمارے مخالف آئے تھے۔میں اور نک بہ ظاہرتمھیں کوئی اہمیت دینے پر تیار نہ تھے، مگر دل میں ڈرتے تھے۔تب تم ناقابل شکست لگتے تھے۔اور اب میری جانب ہو تو تشویش ہو رہی ہے۔“
”سرائیکی کی کہاوت ہے: آپڑیں گھاں دا چڈاچھوٹا نظر آندا ہیے۔“
وہ منہ بناتے ہوئے بولی۔”کوئی انسانوں والی بولی بولو۔“
”انسانوں والی ہی بول رہا ہوں ،اب سامنے ہی انسان نہ ہو تو میرا کیا قصور۔“
”اب مطلب بھی سمجھاﺅ گے یا اس کے لیے پاکستان جا کر ساری زبانیں سیکھنا پڑیں گی۔“
میں نے وضاحت کی۔”مطلب ،اپنی گائے کے تھن چھوٹے نظر آتے ہیں ۔عرف عام میں گھر کی مرغی دال برابر۔“ جاری ہے
قسط نمبر 54
ریاض عاقب کوہلر
وہ فکرمندی سے بولی۔”ریجا !یہ موذی بچ گیا توپھر مشکل ہے ہاتھ آئے۔میں آج ہی اس کا کانٹا نکالنا چاہتی ہوں ،تاکہ واپس جا کر بقیہ زندگی سکون سے گزار سکوں ۔ڈیوڈ کے ساتھ بڑے لمبے پروگرام سوچے ہوئے ہیں ۔“
میں ہنسا۔” تم نے پرما کے اغواءتک میرے ساتھ رہنے کا بھی وعدہ کیا ہے۔“
وہ خلوص سے بولی۔”تمھارے ساتھ تب تک رہوں گی جب تک تم خود نہیں کہہ دیتے کہ میری جان چھوڑو۔“
میں ہنسا۔”اگر ایسا ہے تو صبح تمھیں الوداع کروں گا۔“
اس نے آنکھیں نکالیں ۔”اتنے تنگ آئے ہو۔“
”جتنا تم سوچ رہی ہو اس سے کہیں زیادہ۔“
وہ طنزیہ لہجے میں بولی۔”پیلاوشہ کھان یاد آرہی ہو گی ناں ۔“
میں نے حقیقت اُگلی۔”وہ بھولی کب ہے جو یاد آئے گی۔“
اس نے منہ بنایا”مکالمے کے علاوہ بھی کچھ آتا ہے۔“
میں ترکی بہ ترکی بولا۔”جو نہ مانے اس سے زبردستی کچھ تسلیم کرانا حماقت کہلاتی ہے۔“
ہمار ی نوک جھوک کے دوران اندھیرا چھا گیا تھا۔کوٹھی کے وسیع سبزہ زار پر چہل پہل شروع ہو گئی تھی۔ موسموں کا تغیر و تبدل اللہ پاک کی مرضی و منشا کے تحت کام کرتا ہے۔لیکن دولت والے اپنے لیے گرم کو سرد اور ٹھنڈ کو حدت میں تبدیل کر لینے کا ہنر جانتے ہیں ۔ایک خوب صورت رنگ کابڑا سا شامیانہ لگا کر عارضی چھت قائم کی گئی تھی۔پہلے تو شامیانہ لگنے پر ہمارے دل دھڑکے کہ شامیانہ گولی کی نہ سہی نظری آڑ پیدا کر سکتا تھا۔اور جب ہدف نظر ہی نہ آتا تو میں فائر کیسے کرتا۔
مگر خیریت رہی کہ شامیانے کی بلندی کافی زیادہ تھی اس لیے دیوار کے اوپر اور شامیانے کی چھت کے درمیان بہ ہرحال اتنی جگہ خالی تھی کہ آدھے سے زیادہ سبزہ زار نظر آرہا تھا۔
ادھ پون گھنٹے میں کافی لوگ جمع ہو گئے تھے۔اور پھر تقریب کا آغاز ہوا۔اتنے فاصلے سے بالکل واضح تو نظر نہیں آرہا تھاالبتہ وہ ہمارا دیکھا بھالا تھا اس لیے پہچاننااتنا مشکل بھی ثابت نہیں ہوا تھا۔سوکھا سڑا ،اونچا لمباقداس کی پہچان کو آسان بنا رہا تھا۔
پنڈال بقعہ نور بنا ہوا تھا۔رنگ برنگے آنچل لہراتے نظر آرہے تھے۔پھر شاید کیک کاٹا جارہا تھا کہ تمام ایک بڑی سی میز کے گرد کھڑے ہو گئے تھے۔
لورا سپاٹر سائیٹ آنکھوں سے لگاتے ہوئے بولی۔”مجھے نہیں لگتا ہم کامیاب ہو پائیں گے۔“
شکلا جمگھٹے کے اندر تھا،اگر وہاں میں اسے کامیابی سے نشانہ بنا بھی لیتا ،تب بھی گولی اس کے سر سے گزر کر پیچھے کھڑے ہوئے کسی بے گناہ کو نشانہ بنا سکتی تھی۔اس وجہ سے مجھے لورا سے اتفاق کرتے ہی بنی۔
کیک کٹنے کے بعد لوگ کھانے میں مشغول ہو گئے۔چند آدمی صوفو ں پر بیٹھ گئے تھے۔ جن میں شکلا بھی شامل تھا۔تمام کے رخ ہماری ہی جانب تھے ۔وہ وقت بالکل مناسب تھا۔بس ہمیں لوگوں کی احتیاط رکھنا تھی جو دائیں بائیں گھوم رہے تھے۔کیوں کہ اتنے طویل فاصلے پرفائر کرنے سے گولی کو رستا طے کرنے میں قریباََ اڑھائی،تین سیکنڈ لگتے ہیں ۔اور تین سیکنڈ کے وقفے کو اتنا معمولی بھی نہیں سمجھا جا سکتا،کوئی بھی عجلت پسندسامنے آکراس کی جان بچاسکتا تھا۔یا ازخود پہلو تبدیل کر کے وہ کاری وار کوبے کار کر سکتا تھا۔
”کیا خیال ہے۔“میں نے لورا کی رائے مانگی۔
”زیادہ فاصلہ مجھے کھل رہا ہے ورنہ ہدف تو سنائپر کی پسندیدہ حالت میں آگیا ہے۔“اس نے صاف گوئی سے اندیشہ بیان کیا۔
میں نے ایس آر ون کا بٹ دائیں کندھے میں پھنساتے ہوئے بٹ پر گال ٹیکا۔بائیں آنکھ بند کی، دائیں آنکھ کو آئی گلاس سے مخصوص فاصلے پر رکھ کرٹیلی اسکوپ کے کراس کو شکلا کے چہرے پر شست کیا اور لورا کو بولا۔ ”آخری بار ایلیویشن اور ڈیفلیکشن ناب کا جائزہ لے لو۔“
”سب کچھ ٹھیک ہے۔لیکن ایک منٹ رکو،میں نے شکلا سے بات کرنا ہے۔“اس نے موبائل فون نکال کرشکلا کا نمبر ڈائل کیا.
شکلا نے موبائل فون نکال کر سکرین پر نگاہ دوڑائی اور پھر موبائل فون کان سے لگا لیا۔”ہیلو۔“اس کی منحوس آواز میری سماعتوں تک بھی پہنچی کہ لور ا نے اسپیکر آن کر دیا تھا۔
گو شکلا جیسے بڑے آدمی انجان نمبر سے کال نہیں اٹھاتے مگر میں اور لورا چونکہ مسلسل اسے انجان نمبروں سے کال کر رہے تھے اس لیے اسے کال وصول کرنا پڑ رہی تھی۔
لورا بغیر تمہید کے مطلب کی بات پر آئی۔”شکلا جانتے ہو میں رقم وصول ہونے کے بعد بھی انڈیا میں کیوں رکی ہوں ۔“
وہ غلیظ انداز میں بولا۔”یقینارندھیر شکلا کی قربت کی چاہ تمھارے پاﺅں کی بیڑی بنی ہو گی۔“
وہ نفرت سے بولی۔”نہیں بلکہ میں تمھارے گندے وجود سے دھرتی کا سینہ پاک کرنا چاہتی تھی۔ الوداع سؤر....تم نے لاعلمی میں غلط لڑکی سے پنگا لے لیا تھا۔“
لورا کا الوداع سنتے ہی میں نے لبلبی دبا دی تھی۔کیوں کہ میں نہیں چاہتا تھا لورا کی بات مکمل ہوتے ہی وہ ہڑبڑا کر اٹھنے کی کوشش کرے۔
”اچھا بھونک لیتی ہومگر................“یہ آخری الفاظ تھے جو اس کے مکروہ ہونٹوں سے ادا ہوئے ،اس کے بعد ایس آر ون کی گولی نے اسے موقع نہیں دیاتھا۔طاقتور گولی نے پیچھے دھکا دیا ،صوفے کی ٹیک سے ٹکرا کر وہ پھڑکنے لگا۔اسپیکر سے ایک نسوانی چیخ برآمد ہوئی،شکلا کے موبائل کو گزند نہیں پہنچی تھی اور رابطہ نہیں ٹوٹاتھا۔اس کے بعد ہڑبونگ مچ گئی تھی۔عورتوں اور بچوں کی چیخ و پکار زیادہ واضح تھی۔ایسے موقعوں پر عورتیں زیادہ ہی ڈر جاتی ہیں ۔
لورا نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر مجھے لیٹے لیٹے بھینچا۔”یار! تم لاجواب ہو۔نہ چاہتے ہوئے بھی تمھاری تعریف کرنا پڑجاتی ہے۔بے شک ایس ایس کا لقب تمھارے ساتھ جچتا ہے۔“(وہ ایس ایس کا مطلب ”شارپ شوٹر“سمجھتی تھی)
میں شرارتی لہجے میں بولا۔”خالی تعریف پر نہ ٹرخاﺅ۔“
اس نے موبائل فون کھڑکی سے باہر اچھالا اور ایس آر ون کو کھولتے ہوئے بولی۔”اگر تمھیں بکواس کی عادت نہ ہوتی تو بہت قیمتی آدمی تھے۔اور اب جلدی کرویہاں زیادہ دیر نہیں ٹھہر سکتے۔
واقعی بحث و تکرار اور گپ شپ کا وقت نہیں تھا۔میں بھی اس کا ہاتھ بٹانے لگا۔اگلے دو تین منٹ میں ہم کمرے سے باہر نکل رہے تھے۔لفٹ کے ذریعے ہم نیچے پہنچے،ہوٹل کا ہال لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔
ہم اطمینان سے چلتے ہوئے ہال اور پھر ہوٹل سے نکل آئے۔ایس آر ون کا بیگ ڈگی میں ڈال کر میں نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی اور سڑک پر آگیا۔وشواس سنگھ کی حویلی ممبئی کے مضافات میں تھی اور جتنا جلدی وہاں پہنچ جاتے مناسب رہتا۔
سڑکوں پر ٹریفک کا ازدحام دن کی طرح ہی تھا۔سات ساڑھے بجے کا وقت ایسا نہیں ہوتا کہ سڑکیں خالی ہوتیں ۔میری کوشش جلد از جلد وشواس سنگھ کے پاس پہنچنے کی تھی۔شکلا کی موت خبر ایجنسیوں اور پولیس محکمے تک لمحوں میں پہنچنا تھی۔شکلا کو جس نمبر سے آخری کال کی گئی تھی اس کی” لوکیشن“تلاش کرنا چنداں دشوا ر نہ تھا۔ پولیس اورر ایجنسیوں نے حتی الوسع تیزی سے اس علاقے کو گھیرنا تھا،ہمیں گھیراﺅ سے پہلے وہاں سے غائب ہونا تھا۔
مجرم ،تکمیل جرم کے بعد پوری کوشش سے جائے حادثہ سے دور بھاگتے ہیں ،لیکن تفتیش کرنے والے حادثے کے مقام کے گرد ہی چکراتے رہتے ہیں ۔اور اس کی بنیادی وجہ یہی ہوتی ہے کہ تفتیشی پارٹیوں کو سراغ وغیرہ جائے حادثہ ہی سے ملتا ہے۔
پہلے پولیس ناکے پر ہمیں کسی خاص مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑا۔لیکن دوسرے ناکے پر گاڑیوں کی قطار کو دیکھ کر مجھے پریشانی ہوئی تھی۔جب تک میں مڑنے کا فیصلہ کرتا میرے عقب میں ایک کار آکر رک گئی تھی۔
لورا نے تشویش ظاہر کی۔”تفصیلی چیکنگ ہو رہی ہے۔“
میں نے کہا۔ ”ابھی اتر کر بھاگے تو مصیبت میں پڑ جائیں گے۔اور میں سنائپر رائفلوں سے بھی دست بردار نہیں ہونا چاہتا۔“
لورا کا اندیشہ کم نہیں ہوا تھا۔”ڈگی کھلوا کر دیکھ رہے ہیں ۔“
میں نے تسلی دی۔”امید ہے سنبھال لوں گا،نہیں توبھاگنا پڑے گا۔چار پانچ پولیس والوں کو سنبھالنا اتنا مشکل نہ ہوگا۔“
ہمارے سامنے قریباََدس بارہ کاریں تھیں ،ان کے بعد ہمارا نمبر تھا۔بیرئر کے ساتھ دو جوان کھڑے تھے۔ڈگی کی تلاشی صرف ایک جوان لے رہا تھا۔دو پولیس والے اپنے سینئر کے دائیں بائیں یوں کھڑے تھے جیسے اس کی حفاظت پر مامور ہوں ۔ایک سب انسپکٹر چھوٹی سی میز کے عقب میں براجمان کال پر بات کر رہا تھا۔
”چل اوئے ڈگی کھول۔“پولیس سپاہی براہ راست کار کی ڈگی کی طرف چلا گیا تھا۔
”تیار رہنا۔“لورا کو اشارہ کر کے میں اتر گیا۔جھک کر ڈگی میں چابی لگاتے ہوئے میں نے دو ہزار والے تین نوٹ سپاہی کے ہاتھ میں پکڑا دیئے۔
گلاکھنکارتے ہوئے اس نے اپنے سینئر پر نظر ڈالی۔پیسے جیب میں منتقل کرتے ہوئے وہ باآواز بلند بولا۔”ٹھیک ہے جاﺅ۔“
بلاشبہ چھے ہزار اس کی توقع سے بھی زیادہ تھے۔اس کی بلا سے ڈگی میں کیاتھا۔وہ پکڑ لیتا تو سب کچھ سب انسپکٹر کی جیب میں جاتااوراسے چند سوسے زیادہ وصول نہ ہوتا۔میں واپس آیا،لورا ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گئی تھی۔مجھے دیکھتے ہی دوبارہ اپنی سیٹ پر منتقل ہو گئی۔
”اتنی جلدی جان چھوٹ گئی۔“
میں نے فلسفہ بگھارا۔”واقفیت ہونا چاہیے،دیر نہیں لگتی۔“
اس نے حیرانی ظاہر کی۔”پولیس والا تمھارا واقف کار تھا۔“
میں ہنسا”میرا تو نہیں ،البتہ گاندھی جی کا پرانا واقف کار ہے۔ان کی تصویر دیکھتے ہی نرم پڑ گیا۔پاکستان میں بابائے قوم حضرت قائداعظم محمد علی جناح کی تصویر کا احترام کرنے والے کروڑوں ملیں گے اور انڈیا میں جناب گاندھی کے۔“
لورا نے قہقہ لگایا۔”سیدھی طرح کہو ناں ، رشوت دی ہے۔“اور میں کندھے اچکا کر رہ گیا تھا۔
گھنٹے ڈیڑھ بعد ہم مصروف سڑکوں سے نکل آئے تھے۔سوا نو ہونے کو تھے جب ہم وشواس سنگھ کی حویلی کے قریب پہنچے۔میں نے اسے راستے ہی میں کال کر کے مطلع کر دیا تھا۔وہ اپنی حویلی کے باہر ہمارے استقبال کو موجود تھا۔مصافحے اور رسمی کلمات ی ادائی کے بعد کہنے لگا۔
”جگر،تمھارے لیے ایک واقف کار کے فارم ہاﺅس پر جگہ تیار کر دی ہے۔وہاں پرتاپ سنگھ تمھاری خدمت کرے گا۔“اس نے قریب کھڑے ہوئے ایک مضبوط جثے کے سکھ کا تعارف کرایا۔
”تو اجازت دیں ۔“میں نے الوداعی مصافحے کو ہاتھ آگے کیا کہ وہاں ٹھہرنا مجھے بھی مناسب نہیں لگ رہا تھا۔
مجھے بازوﺅں میں بھر کر وہ بشاشت سے بولا۔”کوئی پریشانی ہوتی ہے تو اپنی بھابی کے نمبر پر اطلاع کر دینا۔“
”بے فکر رہو۔“میں ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا۔پرتاپ سنگھ کے پاس اپنی جیپ تھی۔وہ ہمارے آگے آگے چل پڑا۔مزید گھنٹا پون گھنٹا پکی سڑک پر چلنے کے بعد ہم کچے راستے پر اتر گئے۔ بیس منٹ کچے راستے پربھی لگ گئے تھے۔
آخر ہم ایک فارم ہاﺅس کے سامنے پہنچے۔چوکیدار نے پہچان کر دروازہ کھول دیاتھا۔
گاڑیاں وسیع احاطے میں کھڑی کر کے ہم نیچے اتر آئے۔رہائشی عمارت کی تعمیر میں پختہ اینٹیں استعمال ہوئی تھیں ۔طرز تعمیر جدید تھا،عمارت کا رنگ و روغن بھی نہایت عمدہ تھا۔پرتاپ سنگھ کی معیت میں چل کر ہم اندر داخل ہوئے۔ہمارے لیے علیحدہ علیحدہ کمرے تیار کیے گئے تھے۔شاید اس بارے وشواس سنگھ پہلے سے ہدایات دے چکا تھا۔تازہ دم ہو کر ہم کھانا کھانے لگے۔
لورا بولی۔”تمھاری لاڈلی کا بکھیڑا نہ ہوتا تو میرا کام تو مکمل ہو گیا تھا۔“
میں رکھائی سے بولا۔”میری لاڈلی کے لیے تمھیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ۔“
وہ استہزائی انداز میں بولی۔”چچ....چچ....اس کے بارے تو ذرا سی بات برداشت نہیں ہوتی بے چارے ریجا سے۔“
میں اس کی رائے معلوم کرنے کوبولا۔”کیا لگتا ہے سچ میں پرما کا اغواءہی میرا مشن ہے۔“
وہ خوشگوار بے یقینی سے بولی۔”سچ بتاﺅ،مذاق مت کرو۔“
اس کی مسرت نے مجھے اچنبھے میں ڈال دیا تھا۔لگا وہ انڈیا سے نکلنے کو بے چین ہے۔لیکن مجھ سے پرما کے اغواءتک رکنے کا وعدہ اس کے پاﺅں کی زنجیر بنا تھا۔بلاشبہ وہ قیمتی اور اہم ساتھی تھی۔مگر اس کی دلی خوشی کے بغیر اسے رکنے پر مجبور کرنا مناسب نہ تھا۔ہمارا ساتھ اپنا اپنا مطلب پوراکرنے کو تھا۔میں نے اسے قید سے چھڑانے کو زور لگایا تھا تو صرف اس لیے کہ وہ میرے ساتھ مل کر کام کر سکے۔اب اس کا مقصد پورا ہو چکاتھا۔ جذباتی دھونس جما کر اسے روکنایقینا مناسب نہ ہوتا۔اگر کہتا کہ میں پرما کو اکیلے اغواءکر لوں گا تووہ کبھی واپس جانے کو راضی نہ ہوتی۔ اتنا عرصہ اکٹھے گزار کر اب کم از کم میں یہ دعویٰ ضرور کر سکتا تھا کہ لورا کی فطرت کو گہرائی تک جانتا ہوں ۔وہ نہ صرف میری ممنون و احسان مند تھی بلکہ خاص قسم کا لگاﺅ بھی رکھتی تھی۔اس پسندیدگی میں مرد و عورت کے مابین رشتے جیسا کچھ نہ تھا۔یہ تعلق تو ایسا تھا جیسا قریبی دوستوں میں ہوتا ہے۔سردار خان،تصور صاحب، الیاس، شہزاد، اویس وغیرہ میرے ایسے دوست ہیں جنھیں ہمیشہ میری فکر ہوتی ہے۔وہ میری خوشی میں خوش اور غم میں اداس ہو جاتے ہیں ۔اب ان میں لورا کااضافہ ہو گیا تھا۔
میں بھی لورا کے بارے ایسے ہی جذبات محسوس کرتا تھا۔ کبھی اسے چھوکر ایسا کچھ محسوس نہیں ہوا تھا جو ایک جوان اور پرکشش لڑکی کے لمس سے محسوس ہوتا ہے۔وہ میرے جذبات اور احساسات سے اسی طرح آگاہ تھی جیسے میں اس کے بارے جانتا تھا۔
میں نے اس کی غلط فہمی برقرار رکھی۔”جانتی ہو جاسوس کبھی اپنے مقصد کی خبر کسی کو بھی نہیں لگنے دیتا۔“
اس نے ناراض ہونے کو پرتولے۔”گویا اعتراف کر رہے ہو کہ تم نے بہت کچھ چھپایاہے۔“
میں نے گول مول انداز میں کہا۔”اگر تم دشمن کے ہاتھ لگ جاتیں تو کیامیرا راز رکھ پاتیں ۔یاد ہے نا جلادوں نے میری کیا درگت بنائی تھی۔اور تم تو عورت ہو۔ان کے سامنے گھنٹا بھر بھی نہ ٹھہرپاتیں ۔“
وہ تلملائی۔”اب مجھے غصہ دلا رہے ہو۔“
”حقیقت سے نظریں چرانے والے احمق ہوتے ہیں ۔ہمارے ملاپ کی وجہ فقط اتنی تھی کہ ،دشمن کا دشمن دوست ہوتا ہے اوربس ،ورنہ لورا براﺅن کی مشکلات میرے لیے کیا معنی رکھتی تھیں ۔اور راجا ذیشان حیدر کے مسائل تمھارے لیے کیوں اہم ہوتے۔“
ملامت بھری نظروں سے مجھے گھورتے ہوئے اس نے چاولوں کا بھراچمچ پلیٹ میں پھینکا۔ ”ٹھیک کہہ رہے ہو۔“کہتے ہوئے وہ کرسی کھسکا کر اٹھی اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
مجھے ہلکی سی ندامت ہوئی۔بلاشبہ میں نے تلخ باتیں کی تھیں مگر اسے واپس جانے پر مجبور کرنے کو اس کے علاوہ چارہ بھی نہیں تھا۔اس کے جانے کا انداز ایسا تھا گویا میں کھل کھلا کر اسے آواز دوں گا کہ ۔
”کیا ہے یار لورا!مذاق بھی برداشت نہیں کر سکتی ہو۔“مگر میں خاموشی سے کھانا کھاتا رہاہے۔اسے بعد میں بھی حقیقت بتلائی جا سکتی تھی۔اس کا ای میل ایڈریس مجھے یاد تھا۔ویسے بھی ہمارے درمیان کوئی ایسے لطیف جذبات نہیں پائے جاتے تھے کہ اسے میری بے رخی زیادہ تکلیف دہ محسوس ہوتی۔
کھانا کھا کر میں خواب گاہ میں آگیا۔اب مجھے پرما کے اغواءکا منصوبہ دوبارہ سے سوچنا تھا۔ پہلے والی ترکیب بروئے کار لانا ویسے بھی ممکن نہیں رہا تھا۔مگر اس حقیقت کو بھی نہیں جھٹلایا جا سکتا تھا کہ شکلا باقی نہیں رہا تھا۔اب اپنے ماموں وگنیش شکلاکے لیے وہ کتنی اہم تھی۔اور وہ اس کے لیے کس حد تک جا سکتا تھااس بارے معلوم ہونے کے بعد ہی اگلا قدم اٹھایا جا سکتا تھا۔
بستر پر لیٹتے ہوئے میں نے ٹی وی چلایا۔اورخبروں کا چینل لگا لیا۔ سیاسی مذاکرہ شروع تھا۔ اسکرین کے نیچے خبروں کی پٹیاں چل رہی تھیں ،مگر وہ ہندی رسم الخط میں ظاہر ہو رہی تھیں اس لیے میرے سر پر سے گزر گئیں ۔ایک دو اور چینل پر بھی یہی صورت حال نظر آئی مجبوراََ دس منٹ انتظار کرنا پڑا۔گھنٹا پورا ہوتے ہی تازہ خبریں آنے لگیں ۔سب سے پہلی خبر ہی جنرل ریٹائرڈ رندھیر شکلا کے قتل کے متعلق تھی۔اسے گولی لگنے والی تصویر تو شائع نہیں کی جا رہی تھی البتہ یہ بتایا جا رہا تھا کہ گولی اس کے منہ میں گھس کر باہر نکلی تھی۔آخری تقریب کی ہلکی سی وڈیو جھلک بھی دکھائی گئی جس میں وہ پوتے کے ہاتھ سے کیک کا ٹکڑا کھارہا تھا۔پرما اس کے دائیں بائیں نظر نہیں آرہی تھی۔قتل کا ذمہ دار بغیر کسی تحقیق و تفتیش کے پاکستانی دہشت گرد کے سر منڈھا جا رہا تھا۔گو وہ حقیقت بیان کر رہے تھے،مگر اس بیان کے پیچھے مصدقہ اطلاعات یا تصدیقی تفتیش کے بجائے وہ پرانا عناد اور پاکستان دشمنی کار فرما تھی جو ان کی خون میں شامل تھی۔قتل کی اصل وجہ ان کے فرشتوں کو بھی معلوم نہ تھی۔قتل کی کڑیاں کشمیر کے محاذ سے ملائی جا رہی تھیں ۔شکلا کے بھارتی سرکار کے لیے انجام دینے والے کارناموں کا ذکر کر کے اس کے قاتل کو کیفر کردار تک پہنچانے کے بلند بانگ دعوے دہرائے جا رہے تھے۔
مختلف چینلوں پر اسی سے ملتی جلتی تفصیل دہرائی جا رہی تھی۔ایل ای ڈی بند کر کے میں سونے کی کوشش کرنے لگا۔
٭٭٭٭٭
ناشتا میں نے اپنے کمرے میں کیا تھا۔اس کے بعد بھی میں کمرے سے نہ نکلا اور ٹی وی دیکھنے میں مشغول رہا۔پولیس کا جگہ جگہ چھاپے مارناجاری تھا۔خبروں کی مسلسل تکرار سے تنگ آکر میں دستاویزی فلم دیکھنے لگا۔
ناشتا دیر سے کرنے کی وجہ سے مجھے دوپہر کوکوئی خاص بھوک محسوس نہیں ہورہی تھی۔میں نے باورچی کوکافی کے ساتھ کچھ ہلکا پھلکا تیار کرنے کا کہا۔
تھوڑی دیر بعد وہ برگر بنا کر لے آیا۔
برگر اٹھاتے ہوئے میں نے پوچھا۔”مادام نے کھانا کھالیا ہے؟“
باورچی بولا۔”انھوں نے تھوڑی ہی دیر پہلے ناشتا کیا ہے۔“
میں اثبات میں سرہلاتے ہوئے برگر کھانے کی طرف متوجہ ہو گیا۔کافی پی کر میں لورا کے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔دروازہ کھٹکھٹانے پر اس کی مترنم۔”یس۔“سنائی دی۔
میں اندر گیا۔وہ کمبل میں گھسی تھی۔مجھے دیکھ کر اس کے چہرے پر کوئی خاص تاثر نہیں ابھرا تھا۔سنجیدہ و بے تعلق چہرہ لیے وہ چھت کو گھورنے لگی۔
”طبیعت تو ٹھیک ہے مادام۔“میں کرسی گھسیٹ کر بیڈ کے ساتھ بیٹھ گیا۔
”کسی اجنبی کے پاس بیٹھتے ہوئے اس کی مرضی پوچھ لینا اخلاقیات کے زمرے میں آتا ہے۔“
میں بے نیازی سے بولا۔”خیر اتنے اجنبی بھی نہیں ہیں کہ حال احوال پوچھنے کو اجازت کی ضرورت پڑے۔“
وہ برہم ہوئی۔” بہتر تو یہی ہو گا کہ فوراََ سے پہلے یہاں سے دفع ہو جاﺅ۔“
میں اطمینان سے بولا۔”یہ میرے دوست کا گھر ہے۔گویا تمھارے لیے میری حیثیت میزبان کی سی ہے۔اور میزبان پریوں حکم جمانااصول ہی کے نہیں عقل کے بھی منافی ہے۔“
”تو میں جا رہی ہوں ۔“وہ بپھرتے ہوئے اٹھی اور جوتے پہننے لگی۔
میں نے جھپٹ کر جوتے پکڑے اور کمرے کے کونے کی طرف اچھال دیئے۔”لورا آرام سے لیٹو۔ ایک آفیسر ہو کر بچکانہ حرکتوں سے گریز کرو۔“
وہ حلق کے بل چیخی۔” دفع ہو جاﺅ یہاں سے۔“
میں بے پروائی سے بولا۔”نہیں جاتا۔اور نہ تمھیں جانے دوں گا۔“
اس نے دھمکایا۔” مجبور نہ کرو کہ تم پر ہاتھ اٹھا لوں ۔“
”کوشش کر کے دیکھ لو۔“
”گھٹیا انسان۔“بستر پر لیٹ کر اس نے سر پر کمبل لے لیا تھا۔
میں ترکی بہ ترکی بولا۔”احمق کپتان۔“وہ خاموش لیٹی رہی۔
لمحہ بھر انتظار کے بعد میں بولا۔”اچھا جانے کے بارے کیا سوچا ہے۔تمھارا اصل پاسپورٹ تو گم ہو گیا ہے۔“
چھوٹا سا وقفہ دے کر میں بولا۔”اگر اپنے سفارت خانے سے رابطہ کر لو تو کیسا رہے گا۔“
وہ خاموش لیٹی رہی ۔میں نے گفتگو جاری رکھی۔”لیکن انڈیا سرکار کے پاس تمھارے بارے کافی ثبوت موجود ہیں ۔اس لیے گڑبڑ کی گنجائش موجود ہے۔تو بہتر ہوگا تم حلیہ تبدیل کر کے انڈین پاسپورٹ بناﺅ اور برطانیہ جا کر نیا پاسپورٹ بنوا کر ڈیوڈ کے پاس چلی جانا۔کیسا ہے؟“میں نے تصدیق چاہی۔
”آخر تم دفع کیوں نہیں ہوجاتے۔“کمبل اتارتے ہوئے وہ روہانسا ہو کراٹھ بیٹھی۔
میں نے کرسی چھوڑ کر بیڈ پراس کے سامنے نشست سنبھالی اور اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے نرمی سے بولا۔”دوست سے کوئی یوں بد تمیزی سے بات کرتا ہے۔“
وہ حلق کے بل چیخی۔”تم نہیں ہو میرے دوست۔“
”اگر سوچ رہی ہو میں گزشتہ رات کے رویے پر معذرت کہوں گا توتمھیں مایوسی ہوگی۔تمھیں اہمیت دیتی ہے میری جوتی۔“
”آخر تمھیں مسئلہ کیا ہے۔“
میں اطمینان سے بولا۔”بالکل ٹھیک ٹھاک ہوں ،تمھیں ہی کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔“
وہ طنزیہ انداز میں بولی۔”تم ہو نا شہزادہ چارلس کہ مجھے غلط فہمی ہوگی۔“
میں برجستہ بولا۔”اس بندر کے ساتھ تو میری شکل نہ ملاﺅ یار۔اتنا بھی بدصورت نہیں ہوں ۔“
وہ اطمینان سے بولی.
”مجھے سچ جاننا ہے۔“
جاری ہے
قسط نمبر 55
ریاض عاقب کوہلر
”مجھے سچ جاننا ہے۔“
میں حقیقت کو گول مول کرتا ہوا بولا۔”سچ یہ ہے کہ تمھاری وجہ سے میری مشکلات میں اضافہ ہورہا ہے۔تم مقامی لوگوں میں گھل مل نہیں سکتی ہواور آسانی سے پہچانی جاتی ہو۔میرے خفیہ مددگاراور دھرمودادا کے کارندے مجھے کافی ہیں ۔شکلا کی موت کے بعد پرما کا اغواءاتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے کہ تمھیں خواہ مخواہ رو ک کر احسان لوں ۔اس لیے جتنا جلدی ہو سکے تم یہاں سے دفع ہو جاﺅ۔“
”ہونہہ“اس نے طنزیہ ہنکارا بھرا۔”تو میں تمھارے لیے مسائل پیدا کر رہی ہوں ۔“
میں نے منہ بنایا۔”کل رات سے یہی بکواس تو کر رہا ہوں اور کیا لکھ کر دوں ۔“
”شکلا کی موت تک میں مفید تھی اور اب ناکارہ....واہ۔“
”شکلا کی ہلاکت اور پیسے کا حصول تمھاری چاہت تھی میں نے فقط ساتھ دیا ۔“
وہ اطمینان سے بولی ”اور اب میں ساتھ دوں گی۔“
میں نے نفی میں سرہلایا۔”کہا ناں ضرورت نہیں ہے۔میری مشکلا ت میں اضافے کا شوق ہے تو ٹکی رہو۔“
گہرا سانس لیتے ہوئے اس نے غصہ ضبط کیا۔”پاسپورٹ کا کسے بتاﺅ گے۔“
”امید ہے وشواس سنگھ کو مشکل پیش نہیں آئے گی۔پیسے ہمارے پاس کافی پڑے ہیں ،انھیں منہ مانگے دام دے سکتے ہیں ۔“
وہ بے مروتی سے بولی۔”ایس آر ون میں ساتھ لے کر جاﺅں گی۔“
میں نے اطمینان سے کہا۔”ایسا بس تم سوچتی ہو۔“
وہ مصر ہوئی۔”وہ میری ہے۔“
میں نے وضاحت کی۔”وشال گپتا کے ہاں سے چوری کی تھی۔اور جتنی رقم وہاں سے چوری ہوئی تمام تمھارے علاج پر صرف ہوگئی۔اب بتاﺅ رائفل کس کی ہوئی،البتہ تھنڈر بولٹ چاہیے تو لے جا سکتی ہو۔“
وہ تلخی سے بولی۔”بھاڑ میں جاﺅ۔“
میں جانتا تھا کہ اس سے اپنی توہین برداشت نہیں ہو رہی تھی ۔اسی وجہ سے فضول اور احمقانہ ابحاث میں الجھ رہی تھی۔
میں نے موضوع تبدیل کیا۔”چائے یاکافی....“
اس نے دانت پیسے۔”تمھارا خون پینے کو دل کر رہا ہے۔“
میں نے جلتی پر تیل چھڑکا۔”تم خیر خیریت سے یہاں سے دفع ہوجاﺅ،یہی میری سب سے بڑی مدد ہو گی۔ایک وقت میں ایک لڑکی کا دھیان رکھ سکتا ہوں اور فی الحال پرما اہم ہے۔“
”اچھی طرح جانتی ہوں کل سے کیوں بکواس کر رہے ہو۔تمھاری لاڈلی مجھے سخت ناپسند ہے اس لیے مجھے بھگانا چاہتے ہو تاکہ اسے کچھ کہہ نہ سکوں ۔“
میں نے اثبات میں سر ہلایا۔”جب جانتی ہو تو تکرار کیوں کرتی ہو۔“
”تمھاراساتھ دینا چاہتی ہے میری جوتی۔تمھاری لاڈلی پر تھوکنا بھی گوارا نہیں کرتی۔کیپٹن لورا براﺅن کوئی عام لڑکی نہیں کہ کسی تھرڈ کلاس لڑکی کو اغواءکرنے کوبھاگتی پھرے۔“
”شکر ہے تمھارا چھوٹا سا دماغ کام کرنے لگا ہے۔اب یہ بتاﺅ چائے یا کافی؟“
وہ پرسکون ہوئی۔”شاید کافی سے غصہ قابو کرنے میں مدد ملے۔“اور میں انٹرکام اٹھا کر کافی کا بتانے لگا۔
٭٭٭٭٭
شکلا کی ہلاکت کا چرچا جاری تھا۔ہم وہیں ٹکے رہے ۔تھنڈر بولٹ میں نے وشواس سنگھ کے حوالے کر دی تھی کہ میرے لیے ایس آرا ون کافی تھی۔دوسری رائفل سنبھالے رکھنافضول تھا۔لورا کا مسئلہ میں نے وشواس سنگھ کو بتا دیا تھا۔اگلے تین چاردنو ں میں لورا کا نیا پاسپورٹ بن گیا تھا۔اس کا نام شمسہ عزیز تھا۔وہ مسلم طالبہ تھی جو میڈیکل کی تعلیم کو برطانیہ جا رہی تھی۔اس کی لشکارے مارتی سفید رنگت کو ہلکا گندمی کر کے آنکھوں میں کالے لینز ڈالے تھے۔آدھے چہرے کو ڈھانپنے والی گول شیشوں کی بڑی عینک،سر پر اسکارف،ناک کے نتھنوں میں اسپرنگ ڈال کر باریک ستواں ناک کو پھلا دیا تھا۔دانتوں میں گم شیٹ سے جبڑوں کو ابھار اگیاتھا۔یوں اس کی صورت یکلخت تبدیل ہو گئی تھی۔میرے بہت زیادہ اصرار کے باوجود وشواس سنگھ نے پاسپورٹ پر ہونے والا خرچ لینا گوارا نہیں کیا تھا۔
ہزار ڈالر کے بہ قدر رقم میں نے لورا کے پرس میں ڈال دی تھی کہ اپنے اصل حلیے میں آنے تک اسے ضرورت پڑسکتی تھی۔ریوندر مترااور ڈکٹر دیواشش کے ہاں سے ہمیں کافی رقم ہاتھ لگی تھی جو بہت کم ہی خرچ کر پائے تھے۔
اس وقت ہم چترپتی شیوا جی انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر موجود تھے۔رخصت ہونے سے پہلے وہ بے ساختہ بانہیں پھیلا کر مجھے لپٹ گئی تھی۔”آج بہت خوش ہوں ،کچھ بھی منوا سکتے ہو۔یہاں تک کہ ڈیٹ پرجانے کی درخواست بھی ردنہیں کروں گی۔“
میں ہنسا۔”تمھارے گلے لگنے کی خبر بھی اگر پلوشہ تک پہنچ گئی تو میری خیر نہیں ۔“
”ایسا بھی کیاہے؟....“اس نے منہ بنایا۔”ہم اچھے دوست ہیں اور دوستوں کا معانقہ کرناعام رواج ہے۔“
اسے نرمی سے علیحدہ کر کے میں مسکرایا۔”تمھارارواج ہوگا،ہمارے ہاں عورت سے مصافحہ کرنابھی گناہ ہے۔“
اس نے بے پروائی سے کندھے اچکائے۔”پھر بھی میری پیش کش برقرار ہے۔کل بھی جا سکتی ہوں ۔“
میں سنجیدہ ہوا۔”وعدہ کرتی ہو،جو کہوں گا مانو گی۔“
اس کے لبوں پر مدھر مسکان ابھری۔”امید تو ہے کہ پیچھے نہیں ہٹوں گی۔“
”انٹرنیٹ پرروزانہ پانچ منٹ قرآن مجید کی تلاوت سننااور کسی اسلامک سنٹر میں جاکر اسلام کے بارے مکمل تحقیق کرنا۔لیکن یہ تحقیق مسلمانوں کی کتابیں پڑھ کر کرنا،کسی مستشرق (علوم اسلامیہ کا غیر مسلم ماہر) کی کتابیں نہیں ۔“
وہ متعجب ہوئی۔”کیا ایسا کرنے سے اسلام قبول کر لوں گی۔“
میں نے آسمان کی طرف انگلی اٹھائی۔”وہ اس کی مرضی ہے کہ یہ سعادت تمھاری قسمت میں لکھتا ہے یا نہیں ۔“
اس نے شرارتی قہقہ لگایا۔”اگر اسلام قبول کر لیا،تمھاری بیوی پھر بھی نہیں بنوں گی۔البتہ پہلے والی دونوں کو طلاق دے دو تو شاید تمھاری درخواست پر غور کر لوں ،وعدہ پھر بھی نہیں کرتی۔“
میں ہنسنے میں اس کا ساتھ دیتے ہوئے بولا۔”وہ بعد کا مسئلہ ہے۔“
اس نے پوچھا۔”کیا جینی کو بھی اسلام قبول کرنے کی ترغیب دی تھی۔“
میں نے نفی میں سرہلایا۔”اس نے کبھی اسلام مخالف بات نہیں کی تھی۔تمھیں بھی اسلام قبول کرنے کا نہیں کہا صرف اسلام کو جاننے کی ترغیب دی ہے۔“
”یار! بہت یاد آﺅ گے۔انڈیا سے جو کچھ لے جا رہی ہوں اس میں سب سے قیمتی تمھاری دوستی ہے۔ اگر تم نہ ہوتے تو شاید اب تک سب کچھ ہار کر خودکشی کر چکی ہوتی۔“
”ایسا بس تم سوچتی ہو۔“
اس نے منہ بنایا۔”اگر کبھی کال کروں تو وصول کر لینا۔یا گھنٹی پر بات کرنے کو بھی پیلاوشے کی اجازت درکار ہوگی۔“
”اور ڈیوڈ کا کیا؟“
وہ اطمینان سے بولی۔”اس کے سامنے تمھارے ساتھ ڈیٹ پر بھی جا سکتی ہوں ۔“
میں ہنسا۔”اسے تم پر اعتماد ہے یا تمھیں اس کی پروا نہیں ۔“
وہ خلوص دل سے بولی۔”نہیں بلکہ میرے لیے ریجا بہت خصوصی ہے۔“
میں صاف گوئی سے بولا۔”مجھے نہیں لگتا تھا کہ جینی جیسی مخلص کوئی اور دوست بھی مل جائے گی۔“
”بہت بہت شکریہ ریجا۔“میرے ہاتھ کو بوسا دیکھ کر اس نے رخ موڑلیا۔جب تک نظر آتی رہی میں تکتا رہا۔وہ مضبوط کردار کی حوصلہ مند اور بہادر لڑکی تھی۔ڈینو کی شہادت کے بعد میری طاقت آدھی رہ گئی تھی جو اس کے ملنے پر بحال ہوئی۔نہ صرف جسمانی بلکہ دماغی طور پر بھی بہترین کمانڈو تھی۔بلاشبہ اس کی وجہ سے میں کافی مشکلات سے بچا تھا۔ایک اکیلا اور دو گیارہ تبھی ہوتے ہیں جب دوسرا بھی برابر کا ہو۔
گو وہ پرما کے اغواءتک رکنا چاہتی تھی لیکن میں چاہتا تھا کم از کم ایک کے مسائل تو اختتام پذیر ہوں ۔ اس کے جاتے ہی جہاں طمانیت محسوس ہو رہی تھی وہیں ہلکاسا افسوس بھی ہو رہا تھا۔اس کی معیت میں بہترین وقت گزرا تھا۔بلاشبہ وہ بہترین دوست ثابت ہوئی تھی۔اور ایسے دوست بھلانے کے نہیں ہوتے۔
٭٭٭٭٭
لورا کے جانے کے بعد ایک دو دن میں نے آرام سے گزارے کہ پرما کے اغواءکا کوئی مناسب طریقہ نہیں سوجھ رہا تھا۔ اس بار ارادہ تھا کہ اسے اغواءکرتے ہی ممبئی چھوڑنے کی کوشش کروں گا۔گویا دو مسئلے ایک ساتھ درپیش تھے۔پرما کو اغواءکرنا اور اسے پاکستان پہنچانا۔
انڈیا میں کافی وقت گزار لیا تھا۔اب تو وطن کی فضائیں سپنا لگنے لگی تھیں ۔بلاشبہ باقی تکالیف اور مشکلات ایک جانب اور وطن سے دوری دوسری جانب رکھیں تو اذیت کے پلڑے کو جدائی و دوری کا دکھ جھکا دے گا۔
رات گئے انجان نمبر سے کال وصول ہوئی ،انڈیا کا نمبر نہیں تھا۔مجھے شک گزرا وہ لورا کی کال ہے۔
میں نے محتاط انداز میں ۔”ہیلو۔“کہا۔
”ریجا!میں بول رہی ہوں ۔“لورا کی چہکتی آواز سن کر مجھے اچھا لگا تھا۔
میں شاکی ہوا۔”حالاں کہ تمھیں اسی دن پہنچتے ہی خیریت کا بتا ناچاہیے تھا۔“
اس کی مترنم ہنسی ابھری۔”تم سے ناراض تھی تبھی کال نہ کر سکی۔“
میں شرارتی لہجے میں بولا۔”ناراض تو مجھے ہونا چاہیے کہ ڈیٹ کا وعدہ ایفاءکیے بغیر تم بھاگ گئیں ۔“
وہ سنجیدہ ہو ئی۔”ریجا!معذرت چاہتی ہوں یار! تمھاری توقعات پر پورا نہ اتر سکی۔اچھی طرح جانتی ہوں تمھیں میری ضرورت تھی ،مگر میری سہولت اورآرام کو اپنی ضرورت پر ترجیح دیتے ہوئے تم نے نہ صرف مجھے جانے کی اجازت دی بلکہ ایسا ڈراما کیا گویا میرا جانا تمھارے لیے زیادہ مفید ہے۔حالاں کہ........“
میں نے قطع کلامی کرتے ہوئے موضوع تبدیل کرنا چاہا۔”بکواس کے بجائے ،کوئی کام کی بات کرو۔“
وہ گلو گیر ہوئی۔”بکواس تم کرتے ہو میں نہیں ۔مجھے وہ پل اچھی طرح یاد ہیں جب ایک درندے کی وحشت کے بعد میں موت کو گلے لگانے کا سوچ رہی تھی،مگر تم نے نہ صرف مجھے سنبھالا بلکہ قید سے نکلنے کا بھی حل ڈھونڈ لیا۔اور جب مجھے گولی لگی تو کسی محبوبہ کی طرح گلے سے لگائے بھاگتے رہے،حالاں کہ میری وجہ سے تم پکڑے جا سکتے تھے۔تب مجھے اپنی موت کا یقین ہو گیا تھالیکن تم مجھے موت کے فرشتے سے چھین لائے۔میری تیمار داری کی ،وہ رقم جو تم اپنے مشن کی ضروریات پر خرچ کر سکتے تھے، میری آسائش پر خرچ کرتے رہے۔ پھرمجھے ہوس پرست ٹولے سے بچانے پہنچ گئے۔ تم نہ آتے توجانے وہ میرے ساتھ کیا کرتے۔سوچا تھا شاید تمھاری بھی اس خبیث کی دولت پر نظر ہے،مگر وہ رقم بھی تم نے میرے منہ پر دے ماری۔میری بکواس ،ناز نخرے اور موڈ برداشت کرتے رہے۔تم بہت اچھے ہو ریجا۔بہت زیادہ۔شروع میں میں حیران ہوتی تھی کہ تم نے دو لڑکیوں سے کیسے شادی کر لی۔حالاں کہ تمھاری صورت ایسی انوکھی بھی نہیں ہے کہ دو بیویوں کے ساتھ جینی جیسی لڑکی بھی تمھیں چاہے۔مگر قریب رہ کر محسوس ہوا کہ تم کتنا خیال رکھنے والے،عورت کو اہمیت دینے والے ، توجہ اور عزت دینے والے ہو۔قسم سے بہت یاد آﺅ گے۔دو دن ندامت کی وجہ سے گھنٹی نہ کر سکی۔اگر سمجھتے ہو میں جانتی نہیں کہ تمھیں میری ضرورت تھی۔تو یقینا تمھاری خوش فہمی حد سے زیادہ بڑھی ہوئی ہے۔تمھارے بچکانہ دلائل مجھے تب دھوکا دے سکتے تھے کہ تمھاری فطرت سے انجان ہوتی۔اب تو تمھاری رگ رگ سے واقف ہوں ۔ اپنے بارے اندازہ لگانے میں شایدغلطی کر جاﺅں تمھارے بارے غلطی کا امکان نہیں ہے۔“
میں نے اسے جذباتی کیفیت سے نکالنے کی کوشش کی۔”سچ بتاﺅ کتنی بوتلیں چڑھائی ہیں ۔“
وہ پھیکے لہجے میں بولی۔”تم جانتے ہو زیادہ نہیں پیتی۔“
”وطن پہنچنے کی خوشی میں شاید حساب نہ رکھا جا سکا ہو۔“
” خفا تو نہیں ہو۔“وہ اسی موضوع کو چمٹی رہی۔
میں نے اسے تسلی دی۔”پاگل نہ بنو،حقیقت میں تمھاری ضرورت نہیں تھی۔اب کسی کو قتل تو کرنا نہیں تھا کہ ضرورت ہوتی۔ اور پھر پری کے حصول کے بعد میرے پاس اتنا وقت نہ ہوتا کہ تمھیں واپس بھجوانے کے بکھیڑے میں پڑ سکتا۔ شاید تمھیں معلوم نہ ہو مگر تمھارے پیچھے کافی لوگ پڑے تھے۔اور میں پری پر قبضہ جماتے ہی ایک منٹ ضائع کرنے کے حق میں نہیں ہوں۔ اس لیے یہ خیال ہی ذہن میں نہ لاﺅ کہ اپنی ضرورت کو تمھاری سہولت کی وجہ سے نظر انداز کر دیا۔“
وہ ہنسی۔”فطرت کبھی نہیں تبدیل ہوتی۔“
میں بیزاری سے بولا۔”کوئی اور موضوع ہے یا کال بند کر دوں ۔“
وہ شرارتی انداز میں ہنسی۔”گویا چاہتے ہو صرف پری کی باتیں کروں ۔“
میں نے کہا۔”نہیں ڈیوڈ کا بتاﺅ کیسا ہے،تمھاری واپسی پر خوش تو ہوا ہوگا۔“
”اس سے ملاقات نہیں ہوئی۔پاسپورٹ بننے کا انتظار کر رہی ہوں ........“وہ تفصیل بتانے لگی۔ پندرہ بیس منٹ گپ شپ کر کے ہم نے رابطہ منقطع کر دیا۔
اگلے دن میں بدلے ہوئے حلیے کے ساتھ شکلا کی کوٹھی کے سامنے موجود تھا۔کار کے بجائے میں نے موٹر سائیکل کی سواری کو ترجیح دی تھی۔موٹر سائیکل خریدنا میرے لیے مسئلہ نہیں تھا۔
دو دن مسلسل نگرانی کے بعد بھی پرما کی شکل نظر نہیں آئی تھی۔تیسرے دن میری امید برآئی کالے رنگ کی مرسڈیز کے عقب میں دو جیپوں کو دیکھ کر مجھے اندازہ کرنے میں دیر نہیں ہوئی تھی کہ کار میں کون ہو سکتا تھا۔ کار کو مطلوبہ ہسپتال و کالج کا رخ کرتے دیکھ کر میرا گمان یقین میں تبدیل ہو گیا تھا۔ٹریفک اتنی زیادہ تھی کہ انھیں تعاقب کا شبہ نہیں ہو سکتا تھا۔
پارکنگ میں کار روک کر وہ نیچے اترے۔پرما کے چہرے پر مجھے اداسی نظر آئی تھی۔ اس کے عقب میں نیا محافظ نظر آرہا تھا۔باقی محافظ اس کے پیچھے چل پڑے تھے۔
چونکہ لوگوں کی آمدورفت جاری تھی اس لیے میں بھی تھوڑے سے وقفے سے ان کے پیچھے ہو لیا۔پرما کے محافظوں کو دیکھ کر میری یہ غلط فہمی تو دور ہو گئی تھی کہ شکلا کے بعد اس کی اہمیت میں کوئی کمی آئی تھی۔کالج میں اس کے ہمراہ دو محافظ گئے تھے۔باقی محافظ کنٹین میں چلے گئے تھے۔ان کی روز مرہ میں بس یہی تبدیلی آئی تھی کہ اب کالج میں پرما کے ساتھ دو محافظ جانے لگے تھے۔
اس کی واپسی تک کا وقت میں نے وہیں دائیں بائیں گھوم کرگزارا تھا۔اور پھر اسے گھر تک چھوڑ کر میں اپنے ٹھکانے پر لوٹ آیا۔آج کے لیے اتنا کافی تھا ۔میں جلد بازی میں کوئی ایسی غلطی نہیں کرنا چاہتا تھا کہ انھیں معلوم ہوتا میں پرما کو اغواءکرنا چاہتا ہوں ۔پہلے والا اغواءان کے نزدیک شکلا کی دشمنی کی وجہ سے ہوا تھا۔ اور پھر پرما کا ڈرامائی فرار اس کی مزید تائید کرتا تھا۔
شام کے کھانے پر بیٹھنے لگا تھاکہ موبائل فون بجا،اسکرین پر پریتو بھابی کا نام دیکھ کر میں نے کال وصول کی۔ دوسری جانب وشواس سنگھ تھا۔بغیر کسی تمہید کے بولا۔
”ایک ضروری بات کرنا تھی،میرے پاس آﺅ گے یا آجاﺅں ۔“
میں نے فوراََ فیصلہ کیا۔”منتظر ہوں ۔“
”تمھاری بھابی نے ساگ بنایا ہے۔مکئی کی روٹی،تازہ مکھن اور لسی....تو کیا خیال ہے۔“
میں نے کہا۔”ابھی کھانا ہی کھانے لگا تھا۔اور اگر اس کے بعد تمھاری گھنٹی آئی ہوتی تو اس استفسار پر تمھیں بہت گالیاں پڑنے والی تھیں ۔اب بچ گئے ہو۔اور بہنوں کے ہاتھ کا بنا کھانا تو قسمت والوں کے نصیب میں لکھا ہوتا ہے۔“
زوردار قہقہ لگا کر اس نے رابطہ منقطع کر دیا تھا۔میں نے باورچی کو کھانا لے جانے کا اشارہ کیا۔اور اس کی حیرانی بھری سوالیہ نظروں کو دیکھ کر کہا۔”وشواس سنگھ گھر سے کھانا بنوا کر لا رہا ہے۔“
وہ اثبات میں سرہلاتے ہوئے برتن سمیٹنے لگا۔وشواس سنگھ کے لیے تھوڑا انتظار کرنا پڑا تھا لیکن ساگ واقعی کمال کا بنا تھا۔اور پھر دیسی مکھن،مکئی کی روٹی اور لسی نے لطف دوبالا کر دیا تھا۔
میں پیٹ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا۔”میرا خیال ہے چہل قدمی کرتے ہوئے گپ شپ مناسب رہے گی۔“
وشواس سنگھ اثبات میں سرہلاتے ہوئے اٹھ گیا۔دو تین رسمی باتوں کے بعد وہ مطلب کی بات پر آیا۔
”کوئی لمبے فاصلے سے ایک بندہ مروانے کا تمنائی ہے۔اور اس مقصد کو دس پندرہ لاکھ خرچ کر سکتا ہے۔“
”دن کے بارہ بھی نہیں بجے کہ مجھے لگے تمھارا دماغ جگہ پر نہیں ہے۔“میں نے سکھوں کے بارے مشہور مقولہ کہ بارہ بجے ان کا دماغ کام نہیں کرتا ہے۔زیر بحث لایا۔”میں تمھیں کرائے کا قاتل لگتا ہوں ۔“ میں نے خفگی نہیں چھپائی تھی۔
وشواس سنگھ نے صفائی دی۔”تم تک پیش کش پہنچائی ہے جگر،ترغیب نہیں دی۔“
میں بیزاری سے بولا۔”میں ایسی پیش کش پر تھوکنا بھی پسند نہیں کرتا۔“
وہ متبسم ہوا۔”پوچھو گے نہیں پیش کش کرنے والا کون ہے۔“
”بھاڑ میں جائے۔ اب کوئی اور موضوع چھیڑو ۔“
”شکلا سے تمھاری کیا دشمنی تھی۔“مجھے لگا اس نے موضوع تبدیل کر دیا ہے۔
میں نفرت سے بولا۔”شکلا ،انسان کے روپ میں وہ درندہ تھا جس نے وادی کشمیر کے مسلمانوں پر بہت ظلم ڈھائے۔ ایسے آدمی کی تو نسل مٹا دینا چاہیے۔“
وشواس نے کہا۔”بس جو خواہش تمھارے دل میں ہے،اسی کو کوئی عملی شکل میں ڈھالنا چاہتا ہے۔“
”سمجھا نہیں ۔“میں نے حیرانی ہوتے ہوئے وضاحت چاہی۔
وہ ہنسا۔”شکلا کی نسل کو مٹانے کا مفت میں موقع مل رہا ہے،بلکہ معاوضا بھی ملے گا۔“
میں دلچسپی لینے پر مجبور ہوا۔”شکلا کا کون دشمن پیدا ہو گیا؟“
”یہ تو معلوم نہیں بس اتنا معلوم ہوا ہے کہ کوئی شکلا کی نواسی پرما کے قتل کا خواہاں ہے۔اور شاید اس کے محافظوں کی وجہ سے سنائپر کی ضرورت پیش آرہی ہے۔“
”کیا ........؟؟؟“میں ششدر رہ گیا تھا۔”تمھیں کس نے بتایا۔“
”راجپوت دادا تم سے ملنا چاہتا ہے،اسے لگا دھرمو دادا ملاقات کا بندوبست کر لے گا۔دھرمو دادا نے اسے میرانمبر دیا۔میں نے تمھارے بارے لا علمی ظاہر کی،البتہ تم تک راجپوت کی بات پہنچانے کی ہامی بھر لی۔تب اس نے رازداری رکھنے کی تاکید کے ساتھ صرف اتنا بتا یا کہ جو میں اگل چکا ہوں ۔مزید تفصیلا ت راجپوت خود بتائے گا۔“
میرا دماغ فوراََ جوڑ توڑ میں مصروف ہو گیا تھا۔راجپوت دادا کو ملناضروری ہوگیا تھا۔آیاپرما کا دشمن کون ہو سکتا تھا۔ اور راجپوت دادا کے لیے پرما کو ٹھکانے لگانا کون سا مشکل تھا کہ ایک سنائپر کی ضرورت پیش آگئی تھی۔مجھے یہ پرما کی ہلاکت سے زیادہ اپنے گرد بنا جانے والا جال لگ رہا تھا۔لیکن یہ سچ ہوتا تو میرے انکار پر راجپوت کوئی اور قدم بھی اٹھا سکتا تھا۔اور میں نہیں چاہتا تھا کہ پرما کوکوئی ٹھیس پہنچے۔اچانک یاد آنے پر میں مستفسرہوا۔
”شکلا کی نواسی کے بارے میں نے تمھیں جو کچھ بتایا تھا وہ تو راجپوت کے سامنے نہیں اگلا۔“کیوں کہ میں نے اسے پرما کے بارے اجمالاََ بتایا تھا کہ اسے اس کے والدتک پہنچانا چاہتا ہوں ۔
وہ فخریہ لہجے میں بولا۔”وشواس سنگھ کی چھاتی دوستوں کے رازوں کا قبرستان ہے۔“
میں نے اندیشہ ظاہر کیا۔”تمھیں یقین ہے وہ مجھے پھانسنے کا خواہش مند نہیں ہے۔“
وہ سکھوں کی ازلی حماقت سے بولا۔”یقین مجھے اس کا بھی نہیں ہے کہ آیا پریتو کی کوکھ میں میرا بچہ ہے یا کسی اور بھائی کی محنت ہے۔“
میں نے کہا۔”وہ تمھارا ذاتی مسئلہ ہے۔اور یہاں میری جان جا سکتی ہے۔“
وہ اعتماد سے بولا۔”ایسا کچھ بھی نہیں ہوگا۔ملاقات کا مقام میرے آدمیوں کی نظر میں ہوگا۔راجپوت کو اکیلا آنا پڑے گااوراس کی آمد کے بعد جب ہمیں یقین ہو جائے گا کہ خطرے کی کوئی بات نہیں تب تمھیں اس تک پہنچا دیا جائے گا۔“
میں نے رضامندی ظاہر کی۔”توملاقات کرادو۔“
”ضرور،البتہ یہ پھانس نکال دوکہ تم نے مجھے اس لڑکی کے بارے کوئی اور کہانی سنائی تھی۔ اور بعد میں اسے آزاد کردیا۔“یہ سوال اسے بہت پہلے پوچھنا چاہیے تھا۔نجانے اتنے دن صبر کیسے کیے رکھا۔یہ بھی ممکن ہے وہ میرے اندرونی معاملات میں مخل نہیں ہونا چاہتا تھااور اب پرما کا تذکرہ ہوا تو وہ اپنے اشتیاق کو نہ دبا سکا۔
میں نے وضاحت کی۔”چھوڑا نہیں وہ بھاگ گئی تھی۔اور اب یہاں اس لڑکی کے اغواءکی خاطر ہی رکا ہوں ۔اور اس بارے صرف تمھیں پتا ہے۔میں راجپوت سے مل کر اس کے قتل کی وجوہات جاننے کی کوشش کرتا ہوں ۔کیوں کہ میرے انکار پر وہ کسی اور سے بھی رابطہ کر سکتے ہیں ۔دنیا میں میں اکیلا سنائپر نہیں ہوں ۔جبکہ میں اس لڑکی کو خراش بھی نہیں لگنے دے سکتا۔“
وشواس سنگھ نے سمجھ جانے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا۔”کل دوپہر کو تیار رہنا۔“
اس کے بعد ہم تھوڑی دیر فضول گپیں ہانکتے رہے۔اور پھر وشواس سنگھ اجازت لے کر رخصت ہو گیا۔
٭٭٭٭٭
راجپوت سے ملاقات کو مجھے گھنٹا بھر کا سفر کرنا پڑا تھا۔میں وشواس سنگھ کے آدمی کے ہمراہ جیپ پر روانہ ہوا تھا۔وشواس سنگھ کی طرف سے سب اچھا کا اشارہ ملتے ہی میں ایک گاﺅں کے مضافات میں موجود چھوٹے سے مکان پر پہنچا۔دھرمو دادا کے کارندوں نے دور سے اس مکان پر نظر رکھی تھی۔کوئی مشکوک حرکت نظر آتے ہی انھوں نے مجھے آگاہ کرنا تھا۔مکان میں داخل ہونے سے پہلے میں نے اپنے موبائل فون کی آڈیو ریکارڈنگ چالو کر دی تھی۔
راجپوت دادا ایک چارپائی پر پھیل کر بیٹھا تھا۔مجھے دیکھتے ہی اس کے چہرے پر ہلکی سی الجھن نمودار ہوئی،کیوں کہ میں میک اپ میں تھا۔لیکن جونھی اسے مخاطب کیا۔وہ مسکراتا ہوا اٹھا اور معانقے کو بازو پھیلا دیئے۔
رسمی کلمات کی ادائی کے بعد ہم آمنے سامنے بیٹھ گئے۔وہ فوراََ مدعے پر آیا۔
”وشواس سنگھ آپ کو ملاقات کی غرض و غایت سے تو مطلع کر چکا ہوگا۔“
میں اطمینان سے بولا۔”مگر میں سب کچھ آپ سے سننا چاہتا ہوں ۔“
اس نے فوراََ پیش کش کی۔”شکلا کی نواسی پرما کو نشانہ بنانا ہے۔دس لاکھ کام سے پہلے اور پانچ لاکھ کام کی تکمیل پر۔“
میں نے بے تابی سے پوچھا۔”اسے کون مروانا چاہتا ہے اور کیوں ؟“
”آم کھاﺅ پیڑ گننے سے کچھ حاصل نہ ہوگا۔یوں بھی اپنے دشمن کی نسل کو ختم کرنے کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہیے۔“
میں نے حیرانی ظاہر کی۔”آپ کو کس نے کہا شکلا میرا دشمن ہے۔“
وہ متبسم ہوا۔”زیر زمین طبقے کا بچہ بچہ جانتا ہے،شکلا کے حلق میں گولی اتارنے والاکون ہے۔“
”میں صرف لورا کی وجہ سے اس کا مخالف تھا۔لورااپنا بدلہ لے کر چلی گئی،اب مجھے شکلا کے خاندان سے دشمنی پالنے کی کیا ضرورت ہے۔“
وہ معنی خیز لہجے میں بولا۔”کسی کو گولی مارنے کو پندرہ لاکھ کی رقم آپ کی نظر میں کم ہے ۔“
میں نے چابک دستی سے اپنا پتا پھینکا۔”مجھے تو لگتا ہے پندرہ لاکھ کا چارہ مجھے گرفتار کرنے کو پھینکا جا رہا ہے۔اور آپ جان بوجھ کر یا نادانستگی میں ان کے آلہ کار بن گئے ہیں ۔“
وہ خلوص سے بولا۔”آپ کو محسن سمجھتا ہوں ۔احسان نہ بھی چکا سکا،دھوکا نہیں دوں گا۔“
”میرے دماغ میں چند شبہات ہیں ،اگر جواب دے کر مطمئن کر سکتے ہو تو ہامی بھر لوں گا کہ پندرہ لاکھ کی خطیر رقم چھوڑنا واقعی نادانی ہو گی۔مگر اپنی جان کا خطرہ ہو تب پندرہ لاکھ کیا پندرہ کروڑ کی بھی اہمیت باقی نہیں رہتی۔“
وہ جلدی سے بولا۔”میں بھگوان کی سوگندھ کھا کر یقین دلاتا ہوں کہ آپ کو پھانسنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔“
”یہ شیطان کا راستہ ہے دوست،یہاں بھگوان کا ذکر رہنے دو۔ہم ایک بے گناہ کے قتل کا سودا کر رہے ہیں اوراس میں بھگوان کی منشا شامل نہیں ہے تو اس کے نام کی قسم کی کیا اہمیت ہو گی۔“
”آپ کو کیسے یقین آئے گا۔“وہ آہستہ آہستہ میرے ڈھب پر آرہا تھا۔
میں اطمینان سے بولا۔”حقیقت جان کر۔راجکماری پرما کا دشمن کون ہے،اسے قتل کرنے کی وجہ کیا ہے اور اسے قتل کرنے کو میرا انتخاب کیوں کیا جا رہاہے۔کیوں کہ ممبئی کا طاقتور دادا اگر ایک لڑکی کے چند محافظوں سے ڈر کر سنائپر کے بندوبست میں مصروف ہو جائے گا توعجیب تو لگے گا۔“
اس نے میرے سر پر بم پھوڑا۔”وگنیش شکلا اپنی بھانجی کو قتل کرانا چاہتا ہے۔“
جاری ہے
قسط نمبر 56
ریاض عاقب کوہلر
اس نے میرے سر پر بم پھوڑا۔”وگنیش شکلا اپنی بھانجی کو قتل کرانا چاہتا ہے۔“
”کیا....؟؟؟“میں حقیقت میں اچھل پڑا تھا۔
وہ گہرا سانس لیتے ہوئے بولا۔”دولت بہت بری چیز ہے دوست!اور یہ ایسی نحوست ہے کہ جتنااس میں اضافہ ہوتا جاتا ہے ، ہوس بڑھتی جاتی ہے۔شکلا نے اپنی دولت و جائیدادکا دوتہائی اپنی نواسی کے نام لکھا ہے۔ اوریہ وگنیش سے ہضم نہیں ہورہا۔گو فی الحال تو پرما اس کی سرپرستی میں ہے۔مگر جلد ہی کسی کو جیون ساتھی چن کر اپنا رستہ الگ کرنے کا سوچے گی۔تب وگنیش کی یہ حیثیت نہیں رہے گی جو اس وقت ہے۔اور وہ وقت آنے سے پہلے وگنیش اس کانٹے کو نکالنا چاہتا ہے۔“
”میرے انتخاب کی وجہ کیا ہے؟جبکہ یہ کام آ پ آسانی سے کر سکتے ہیں ۔“
اس نے وضاحت کی۔”وہ چاہتا ہے پرما کا قتل اس کے ذمے نہ لگے،کیوں کہ پرما کا کوئی دشمن نہیں ہے اور اس کے مرتے ہی فوراََ وگنیش کی ذات شبے کی زد میں آئے گی۔“
میں طنزیہ لہجے میں بولا۔”سنائپر کی گولی پر کیا تفصیل لکھی ہو گی کہ وگنیش بے گناہ ہے۔“
” شکلا کا قتل آپ کی اس سے دشمنی کو ظاہر کرتا ہے اورپرما کوجب ایک سنائپر کی گولی نشانہ بنائے گی تو دھیان فوراََ آپ کی طرف جائے گا۔وگنیش دعویٰ کر سکتا ہے کہ آپ ان کے خاندان کے خاتمے کے درپے ہیں ۔“
میں نے الجھن ظاہر کی۔”تو میں ہی کیوں ؟کوئی بھی سنائپر اس سے کم قیمت میں یہ کام کر سکتا ہے۔“
اس نے الجھن سلجھائی۔۔”دو کلومیٹر سے صرف راجا ہی یہ کر سکتا ہے۔اور پرما کو بھی دوکلومیٹر کے فاصلے سے نشانہ بنانا ہے تاکہ آپ کے علاوہ کسی پر شبہ ہی نہ کیا جاسکے۔“
میں نے اور شبہ اٹھایا۔”پچھلے دنوں ہم نے پرما کو اغواءکیا تھا اور اپنا کام نکلوا کر چھوڑ دیا۔اگر ہم چاہتے تبھی اسے قتل کر سکتے تھے۔کیا اب یہ سوال نہیں اٹھے گا۔“
اس نے شبے کا قلع قمع کیا۔”پرما کے اغواءکے بارے چند قریبی لوگوں کے علاوہ کوئی واقف نہیں ۔کیا آپ نے ٹی وی پر کوئی ایسی خبر سنی تھی؟“
میں نے اگلا نکتہ اٹھایا۔”شکلا اور پرما کے قتل کے بعد خاندان کے باقی افراد پر حملہ نہ کرنا کس کھاتے میں جائے گا۔“
اس نے اطمینان بھرے انداز میں انکشاف کیا۔”کیوں کہ پرما کے قتل کے بعد آپ مارے جائیں گے۔“
میں طنزیہ لہجے میں بولا۔”ماشاءاللہ ،اچھی بات ہے کہ میں اپنے قتل کے منصوبے میں برابر کا شریک ہوں ۔“
”قتل کوئی اور ہو گا جسے آپ کی پہچان دی جائے گی۔جب چہرہ دھماکے سے اڑ جائے تو باقی جسم کی شناخت چند ماہرین کرتے ہیں اور ان بے چاروں تک جو خون پہنچایا جائے گا وہ آپ ہی کا ہوگا۔یوں دو جمع دو چار ہو جائیں گے۔“
منصوبہ ہر لحاظ سے مکمل اور جامع تھا۔کوئی جھول ،رخنہ ، کمی یا کجی بہ ظاہر نظر نہیں آرہی تھی۔ اور جہاں تک میرا دماغ کام کرتا تھا میری جگہ کسی دوسرے کا قتل مجھے حوصلہ دینے کو بیان کیا گیا تھا۔ورنہ لگتا یہی تھا کہ پرما کے فوراََ بعد میرا ہی نمبر لگنا تھا۔
میں نے اچانک پوچھا۔”پرما کی ماں کا قتل بھی شکلا نے آپ سے کرایا تھا۔“
اسے حیرت کا جھٹکالگا۔”آپ کو کیسے معلوم کہ شکلا نے بیٹی کا قتل کرایا تھا۔“
میں صاف گوئی سے بولا۔”ایس باتیں چھپی نہیں رہتیں دوست!اور سچ پوچھو تو مجھے یہ بات لورا براﺅن سے معلوم ہوئی تھی۔“
”میں ممبئی میں رہتا ہوں ،پاروتی شکلا کا قتل انبالہ سے آگرہ آتے ہوئے ہوا تھا۔البتہ اس کا قاتل جو شکلا کا خاص آدمی تھااسے شکلا نے ممبئی میں چھپنے کی ہدایت کی تھی اور اس کے قتل پر مجھے مامور کیا تھا۔اسے قتل کرنے سے پہلے میں نے فطری تجسس کے تحت اس وجہ پوچھ لی تھی ۔اور جیسے ہی اسے معلوم ہوا کہ اس کے قتل کے پس پردہ شکلا ہے تب غصے سے بے قابو ہو کر اس نے سب کچھ اگل دیا تھا کہ کس طرح اس شقی القلب نے بیٹی کو اپنے شوہر سے محبت کرنے کی کڑی سزا دی۔گو بعد میں اسے پشیمانی نے گھیر لیا تھا ،تبھی وہ پرما سے بے پناہ محبت کرتا تھا۔البتہ اس محبت میں بھی اس نے یہ ڈنڈی ضرور ماری کہ پرما بے چاری کی ماں کا قتل اس کے باپ کے کھاتے میں ڈال دیایوں ا سے ماں کے ساتھ باپ کی شفقت سے بھی محروم کر دیا۔“اس نے گہرا سانس لیا۔”خیر یہ غیر متعلق بات ہے ،آپ اپنا فیصلہ سنائیں ۔“
”ایک بے گناہ لڑکی کے قتل پر آپ کا ضمیر مطمئن ہے۔“میں نے اسے جانچنا چاہا۔
اس نے سنگ دلی سے فلسفہ بگھارا”شیر کے شکار کو بکرے کی بَلی دینے والے شکاری کے مدنظربکرے کی زندگی نہیں اپنا فائدہ ہوتا ہے۔ بلی چوہے کی فکر میں پڑ جائے گی تو اپنا پیٹ کیسے بھرے گی۔پیدل چلنے والے کو کیڑوں مکوڑوں کو بچانے کی فکر لاحق ہو گی تو اپنی منزل کھوٹی کرے گا۔“
اس کی مثالیں پرما کی جان لینے کے مسئلے پر بالکل منطبق نہیں ہو رہی تھیں ،لیکن میں پرما کا وکیل بن کر نہیں بیٹھا تھا کہ فضول کی بحث کرتا۔میرا مقصد اپنے مشن کی تکمیل تھی۔میرا دماغ اس تگ و دو میں تھا کہ اس ملاقات کو اپنے لیے کیسے مفید بنایا جا سکتا ہے۔
میں نے پوچھا۔”پرما کا والد زندہ ہے یا اسے بھی سورگ باشی (جنت مکانی)کر دیا گیا ہے۔“
راجپوت نے منہ بنایا۔”اس سوال کا ہمارے معاملے سے کیا تعلق۔“
میں نے بہ ظاہر بے نیازی و بے پروائی سے اس کے سامنے تجویز رکھی۔”بس یونھی خیال آگیا تھا کہ اگر، وگنیش شکلا اپنی بھانجی کو کسی طریقے سے باپ کے پاس بھجوا دے تو اس پر الزام بھی نہیں آئے گا اور بھانجی سے بھی جان چھوٹ جائے گی۔“
”وہ اپنے خاندان کی سبکی کہاں کرانا چاہے گا۔اس کی بھانجی مسلمان بن کر پاکستان میں پرورش پائے۔یہ اس سے برداشت نہ ہوگا۔مخالفین کے ہاتھ اسے نیچا دکھانے کا موقع ہاتھ آجائے گا۔شکلا کی زندگی میں پرما پاکستان نہیں گئی تھی اب کیوں چلی گئی....اس کا جواب اگلے خود ہی فرض کر لیں گے جو شکلا کی دولت و جائیداد کا حصول ہوگا۔اور سب سے بڑھ کر پرما ہمیشہ اس کے سر پر تلوار کی صورت لٹکتی رہے گی،کیوں کہ وہ کسی بھی وقت بھارت لوٹ کر اپنی جائیداد کا مطالبہ کر سکتی ہے۔اس لیے سوچا جائے تو پرما کے قتل سے بہتر اس مسئلے کا کوئی حل نہیں ہے۔“
میں لالچی انداز میں بولا۔”مجھے جاننا ہے کہ ،وگنیش شکلا نے پرما کے قتل کے بدلے کتنے انعام کا اعلان کیا ہے۔“
راجپوت جلدی سے بولا۔”آپ کوپندرہ لاکھ کم لگ رہا ہے تو ایک دو لاکھ کا اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے۔“
میں حریص بن کر بولا۔”میری یہاں آمد کا مقصد تو کوئی اور ہے لیکن آپ کی پیش کش کچھ زیادہ ہی پرکشش اور ڈگمگا نے والی ہے۔مجھے دو دن سوچنے کا موقع دو،پرسوں شام کو یہیں ملاقات ہو گی ۔“
وہ بولا۔”مجھے نہیں لگتا اس میں مشورہ لینے جیسا کچھ ہے۔بلکہ میں مخلصانہ مشورہ دے دیتا ہوں کہ اپنی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاﺅ۔پندرہ لاکھ کوئی کم رقم نہیں ہوتی ،آپ کی خاطر میں سولہ، سترہ لاکھ کر دیتا ہوں ۔اتنی زیادہ رقم ساری زندگی سرکار کی نوکری میں ناک رگڑ کر حاصل نہیں کر سکو گے۔“
میں نے اثبات میں سرہلایا۔”کب اختلاف کیا ہے۔“
”پھر مشورہ چاہنے اور ایک دو دن سوچنے کا کیا مطلب ہوا۔“
میں لالچی انداز میں بولا۔”آپ سے کیا پردہ،سیانے کہتے ہیں سوچنے کی مہلت طلب کرنا، مشورہ کرنے کا جھانسا دینااور فوراََ ہامی نہ بھرنے سے بندہ اپنا بھاﺅ بڑھاسکتا ہے۔کیا پتا وگنیش شکلا میرے سوچنے کا سن کر معاوضا دگنا کر دے۔“
اس نے منہ بنایا۔”وگنیش شکلا اس پر بھی بڑی مشکل سے راضی ہوا ہے۔“
میں نے معصومیت سے اسے چھیڑا۔”ویسے اس سودے میں آپ کو کیا ملے گا۔“
گلا کھنکارتے ہوئے اس نے ہلکا سا توقف کیا اور پھر بات گول مول کرتا ہوابولا۔”میں تو اس کا خاص آدمی ہوں ۔ اوراسے مجھ سے کوئی ایک کام تو نہیں ہوتا کہ واضح بتا سکوں ۔“
”پرسوں ملاقات ہوگی۔اور کوشش کرنا بیس لاکھ دینے پر تیار ہو جائے۔پندرہ کام سے پہلے پانچ بعد میں ۔“ کوشش تھی کہ میری لالچ دیکھتے ہوئے وہ سوچے میں بالکل بھی انکار نہیں کروں گا۔
وہ مصر ہوا۔”یار بیس لاکھ معاوضے کی ذمہ داری میں لیتا ہوں ۔اب سوچنے وغیرہ کا ڈراما چھوڑو اور ہامی بھرو۔“
میں ذومعنی لہجے میں بولا۔”دیکھ لیا ناں ،تھوڑی سی لیت و لعل دکھانے سے پندرہ سے بیس لاکھ ہو گیا ہے ۔بہ ہر حال ٹھیک ہے،بیس لاکھ کے بدلے میں وگنیش جی کی جان اس مصیبت سے چھڑا دوں گا۔“
”توآپ تیار ہیں ۔“اس نے خوش گوار حیرانی ظاہر کی۔
میں مسمسے لہجے میں بولا۔”آپ نے انکار کے قابل چھوڑا ہی کہاں ہے۔“
”ہا....ہا....ہا۔“راجپوت کھل کھلا کر ہنسا۔”اب سمجھ داری دکھائی ہے۔“کوٹ کی اندررونی جیب سے بڑے نوٹوں کی پانچ گڈیاں نکال کر اس نے میز پر رکھیں ۔”یہ دس لاکھ ہیں ،پانچ لاکھ کل مل جائیں گے۔“
حریصانہ انداز میں نوٹوں کی گڈیاں جھپٹتے ہوئے میں مستفسر ہوا۔”کب قتل کرنا ہے؟“
وہ بے صبری سے بولا۔”کل جمعہ ہے اور اتوار سے پہلے کام ہوجانا چاہیے۔“
میں نے اثبات میں سر ہلایا۔”جمعہ کے دن مسلمان صرف نیکی کا کام کرتے ہیں ،کاروبار کی باتیں اگلے دن پر۔البتہ آپ کل شام تک رقم پہنچا دینا تاکہ دلجمعی سے کام کر سکوں ۔“
”رقم کل صبح ہی وشواس سنگھ کے حوالے کر دی جائے گی۔“
میں جلدی سے بولا۔”ایسا بھول کر بھی نہ کرنا۔وشواس سنگھ ایجنسی کی نظروں میں ہے۔یہ آپ کی خوش قسمتی ہے کہ میرا نمبر اس کے پاس محفوظ تھا ،ورنہ یہاں میرا خیر خوہ کوئی نہیں ہے۔دھرمودادا اور اس کے آدمیوں سے میرا کوئی واسطہ تعلق نہیں ۔ اس کے ساتھ فقط آپ کو پکڑنے کی بات ہوئی تھی اوراب یہاں سے جاتے ہی میں اپنا موبائل فون پھینک دوں گا۔کیوں کہ اس کے ذریعے دشمن آسانی سے مجھ تک پہنچ سکتے ہیں ۔ کرن چاولہ میرے پیچھے پڑا ہے اور میں دوبارہ پکڑا گیا تو گیا کام سے۔“
وہ کہنے لگا۔”جانتا ہوں ،کرن چاولہ اور اتھری حسینہ........“
”ایک منٹ راجپوت دادا۔“میں نے سرعت سے قطع کلامی کی،کیوں کہ مجھے لگا وہ ممتا دیدی کے متعلق کوئی بکواس کرنے والا ہے۔”سنیتا جیسوال کے متعلق سوچ سمجھ کر کچھ بولنا۔وہ میری دیدی ہیں ۔“
راجپوت پھیکی مسکراہٹ سے بولا۔”وہ مضبوط کردار کی لڑکی ہے۔اور ایسی لڑکیوں کو دو نمبر لوگ یونھی بے ہودگی سے پکارا کرتے ہیں ۔بہ ہرحال آپ نے پہلے سے مطلع کر کے اچھا کیا۔میں بس یہ کہنا چاہتا تھا کہ وہ بھی آپ کی تلاش میں سرگرم ہے۔بہت چالاک و ہوشیار ہے۔“
میں نے فقط سر ہلانے پر اکتفا کیا تھا۔
اس نے پوچھا۔”تو رقم آپ تک کیسے پہنچائی جائے۔“
میں اطمینان سے بولا۔”اپنے چھوٹے بھائی وشال گپتا کے پاس رکھوا دینا،میں وصول کر لوں گا۔“
وہ ہنسا۔”ویسے وشال گپتا کے ساتھ آپ کی آخری ملاقات کوئی بہتر حالات میں نہیں ہوئی تھی۔“
میں سنجیدگی سے بولا۔”اگر اپنی زندگی کو وہ میرا احسان نہیں مانتا،تو اس سے بڑا احسان فراموش کوئی نہ ہوگا۔“
اس نے جلدی سے تردید کی۔”ایسی بات نہیں ہے،وہ آپ کی بڑی تعریف کر رہا تھا۔“
”اسے بتا دینااچھا سا بندوبست کر لے،کل دوپہر کا کھانا ان شاءاللہ اس کے ہمراہ کھاﺅں گا۔“
”ضرور۔“اس نے نشست چھوڑدی۔ الوداعی مصافحہ کر کے میں باہر نکل آیا۔ڈرائیور جیپ کے پاس تیار کھڑا تھا۔موبائل فون کی ریکارڈنگ آف کرتے ہوئے میں نے نشست سنبھالی۔
گاڑی مکان سے باہر نکالتے ہوئے اس نے پوچھا۔”واپس جائیں گے۔“
اثبات میں سر ہلاتے ہوئے میں آڈیو ریکارڈنگ لورا کے ای میل ایڈریس پر بھیجنے لگا۔کیوں کہ میں نہیں چاہتا تھا کسی حادثے کی وجہ سے اتنی قیمتی ریکارڈنگ ضائع ہو جائے۔ساتھ ہی میں نے لورا کوبھی وضاحت لکھ دی تھی تاکہ خواہ مخواہ سر نہ کھپاتی رہے۔
ایک نہر کے پل پر سے گزرتے وقت میں نے اپنا موبائل فون اندر اچھال دیا ،کیوں کہ اب وشواس سنگھ کے پاس میرے نمبر موجود ہونے کی خبر نے پھیل جانا تھا۔اور میں خطرہ مول لینے کے حق میں بالکل نہیں تھا۔
وشواس سنگھ میری رہائش پر بے چینی سے منتظر تھا۔میں نے راجپوت سے ہونے والی گفتگو تفصیل سے اسے بتا دی تھی۔
اس نے پوچھا”اب کیا ارادہ ہے؟“
میں نے کہا۔”پرما کو اغواءکرنے کومیرے پاس کل کا دن ہے۔اور جہاں تک میرا خیال ہے اگر ان کے دل میں مجھے قتل کرنے کا منصوبہ پل رہا ہے تو کل وشال گپتا کے ہاں میری گرفتاری کی تیاری مکمل ہو گی۔ایسا نہ ہوا تب بھی کل تعاقب کر کے میرا ٹھکانہ ضرور ڈھونڈیں گے،تاکہ جب میں پرما کو نشانہ بنالوں تو اس کے بعد مجھے قتل کرنے کوانھیں زیادہ تگ و دو نہ کرنا پڑے۔“
وہ خلوص دل سے بولا۔”اغواءکے بارے کچھ سوچابھی ہے یا مجھے ہی کچھ کرنا پڑے گا۔“
”تمھاری شمولیت،تمھارا بیڑا غرق کر دے گی۔وگنیش شکلا اپنے باپ سے کم درجہ کمینہ نہیں ہے۔ اور اسی وجہ سے میں نے اپنے تعلق کی آخری کڑی یعنی موبائل فون نہر میں پھینک دیا ہے۔“
وہ تپتے ہوئے بولا۔”ایسی کی تیسی شکلا خاندان کی....“
میں قطع کلامی کرتے ہوئے بولا۔”وہ میں کر لوں گا۔تم بھروسے کے دو تین آدمی ڈھونڈ کر دو۔جن کا تعلق تمھارے گروہ سے نہ ہو۔“
اس نے منہ بنایا۔”اب اتنی احتیاط بھی ضروری نہیں ہے۔“
اس کی پیٹھ تھپتھپاتے ہوئے میں مسکرایا۔”تمھارے لیے نہیں کررہا یار!اپنی بھابی پریتو کے لیے فکر مند ہوں ۔“
وشواس سنگھ نے گہرا سانس لیتے ہوئے شکست کا اعلان کیا۔”نجّو چکر باز بہترین بلونگرا ہے۔مزید آدمیو ں کا بندوبست بھی وہ کر دے گا۔“
بلاشبہ عورت ،انسان کو کمزور کرتی ہے۔وشواس سنگھ کوئی عام آدمی نہیں دھرمودادا کا دست راست تھا۔لیکن جب بیوی کی بات آئی تو اسے پیچھے ہٹنا پڑا۔شکلا خاندان سے ٹکر لینے کی اسے ذرا بھی پروا نہیں تھی،مگر پریتو کی تھی۔اور یقینا وہ پریتو پر آنچ آتے نہیں دیکھ سکتا تھا۔
میں نے پوچھا۔”کہاں ملے گا؟“
اس نے موبائل فون نکالا۔”پوچھ لیتا ہوں ۔“
میں نے جیب سے ایک نیا موبائل فون نکال کر اس کی جانب بڑھایا۔”اس موبائل فون سے بات کرو۔تمھارا نمبر قابل اعتماد نہیں رہا۔مجھے شک ہے ’ آبزرویشن ‘ پر نہ لگا ہو۔“
ڈاکٹر دیواشش کی تجوری سے ہمارے ہاتھ دس بارہ موبائل فون لگے تھے،جن میں سے دو تین اب تک میرے پاس موجود تھے۔اس نے اپنے موبائل فون سے نمبر ڈھونڈ کر دوسرے میں ڈائل کیا اور موبائل فون کان سے لگا لیا۔ رابطہ ہوتے ہی اس نے اپنا تعارف کراتے ہوئے ملاقات کی خواہش ظاہر کی۔
نجّو کے استفسار پر وہ بولا۔”اپنا ٹھکانہ بتاﺅ میرا آدمی گھنٹے دو میں وہیں پہنچ جائے گا، اس دوران دو قابل اعتماد ساتھی بھی ڈھونڈ لو۔کیونکہ کم از کم تین آدمیوں کی ضرورت پڑے گی۔“
نجّو چکر باز نے اپنا پتا بتا کر رابطہ منقطع کر دیا۔
وشواس سنگھ نے پوچھا”منصوبہ کیا ہے؟یا مجھ سے مخفی رکھو گے۔“
وہ ایسا شخص نہیں تھا کہ کچھ چھپایا جاتا،میں صاف گوئی سے بولا۔”کچھ بہتر نہیں سوچ سکا ہوں ۔مگر اتنی جلدبازی میں اور کوئی سوجھ بھی نہیں رہا۔میرا ارادہ پرما کوہسپتال کی پارکنگ میں گھیرنے کا ہے۔میں سنائپر رائفل سے اس کے محافظوں سے نبٹوں گا۔اس دوران نجّو اور اس کے ساتھی پرما کو اغواءکر لیں گے۔“
وشواس نے خیال ظاہر کیا۔”منصوبہ بالکل سادہ ہے اور خطرہ موجود ہے۔“
”جلدی میں یہی سوچا جا سکا،تمھارے پاس کوئی بہتر رائے موجود ہے تو بتاﺅ۔“
اس نے نفی میں سرہلادیا۔
میں نے پوچھا۔”ممبئی سے نکلنے کا کوئی بندوبست کر سکتے ہو۔“
”دوسرے ملک یا شہر؟“
میں نے کہا۔”جو آسان لگے۔“
”ہو جائے گا،تم لڑکی پر قبضہ جماﺅ۔میں بندوبست کرتاہوں ۔“
میں نے تاکید کی۔”بہت احتیاط سے اور خود سامنے نہ آنا۔“
اس نے منہ بنایا۔”بچہ نہیں ہوں یار!تم پتا جی بننے کی کوشش نہ کرو۔“
میں نے قہقہ لگایا۔”جس کے نام کالاحقہ سنگھ ہو اس سے سمجھ داری اوربخیل سے خیرات ملنے کی توقع ایک برابرہے۔“
وہ اطمینان سے بولا۔”تمھاری بے تکی جگتیں اس قابل بھی نہیں کہ مجھے ذرا سا غصہ دلا دیں ۔“
میں نے موضوع تبدیل کیا۔”نجّو کا پتا میرے حوالے کرو تاکہ میں رخصت لوں ۔“
اس نے مشورہ دیا۔”کھانا کھا کر چلے جانا۔“
اور مجھے اثبات میں سرہلانا پڑا۔
٭٭٭٭٭
کھانا کھا کر میں فارم ہاﺅس سے نکل آیا، ایک موبائل فون اس کے پاس چھوڑ آیا تھا،تاکہ اس سے بے دھڑک ہو کر رابطہ کرسکوں ۔اپنی موٹر سائیکل میں نے وہیں چھوڑ دی تھی کہ آگے کار کی ضرورت پڑ سکتی تھی۔راجپوت دادا سے وصول کیے دس لاکھ میں نے وشواس سنگھ کے حوالے کر دیئے تھے کہ کل شام کو انھیں راجپوت دادا تک پہنچا دے۔بے اصولی میں بھی اصول کا دھیان رکھنا میری فطرت ہے۔جب اس سے کیے معاہدے پر عمل نہیں کرنا تھا تو اس سے وصول کی ہوئی رقم کو استعمال میں لانا قطعی درست نہ ہوتا۔
اندھیرا چھا گیا تھا۔نجّو کی رہائش تک پہنچتے ہوئے دو گھنٹے لگے تھے۔عجیب اتفاق تھا کہ اس نے رہایش کو وہی علاقہ چنا تھا جہاں کچھ عرصہ پہلے میں لورا کے ساتھ رہ چکا تھا۔وہ مفلسوں کی بستی تھی۔چھوٹے چھوٹے تنگ و تاریک کمرے،ہر طرف پھیلی غلاظت و گندگی،ننگ دھڑنگ بچے اوربنیادی ضرورتوں سے محروم علاقہ۔
گلی میں کار کا رستہ موجود تھا لیکن گلی میں کار پارک کی جاتی تو رستہ بند ہوجاتا۔اس لیے کار میں نے گلی کی نکڑ پر ایک مناسب جگہ پارک کر دی تھی۔
تھوڑی سی تگ و دو کے بعد مطلوبہ کھولی مل گئی تھی۔لوہے کا سفید دروازہ جس پر سرخ رنگ سے دل بنا تھااور دل میں پیوست تیراور نوک سے ٹپکتے قطرے کسی سستے عاشق کے جذبات کی عکاسی کر رہے تھے۔
دستک کے جواب میں قدموں کی آواز ابھری اور پھر نجّوکی محتاط آواز سنائی دی۔”کون؟“
میں اطمینان سے بولا۔”وہی جس نے تمھیں ایک لڑکی سے پٹتے دیکھا ہے۔“
ایک دم دروازہ کھلانجّو کا چہرہ نظر آیا،بازو پھیلاتے ہوئے وہ رنکھے لہجے میں بولا۔”آہ باس!کس کٹھور کا نام لے دیا۔جب سے بچھڑی ہے سالی مسلسل خواب میں آرہی ہے۔“
معانقہ کرتے ہوئے میں ہنسا۔”کیوں پہلی مار کے اثرات معدوم ہو گئے ہیں ۔“
علیحدہ ہوتے ہوئے اس نے مجھے اندر آنے کا رستہ دیا۔”جسمانی چوٹوں کی کوئی اہمیت نہیں باس، البتہ دل پر جو زخم آئے ہیں وہ جلدی ٹھیک ہوتے دکھائی نہیں دیتے۔“
میں نے انکشاف کیا۔”بہ ہرحال اب ان زخموں کے ساتھ ہی جینا سیکھو کہ وہ واپس چلی گئی ہے۔“
اس نے دہائی دی۔”جانتا تھا،سالی محبت وحبت اپنی قسمت میں نہیں ہے،پھولن دیوی ڈاکو بن گئی، انوشکا شرما نے کرکٹر ڈھونڈ لیا، کرینہ کپور کو نواب خاندان مل گیا،کترینہ کیف لفٹ نہیں کراتی اور اب لورا براﺅن اتنی دور چلی گئی جہاں غریب نجّو کی چیخیں بھی نہیں پہنچیں گی۔“
میں ہنسا۔”پھولن دیوی توتمھارے دادے کی ہم عمر تھی،اس سے کیسے عشق کر بیٹھے۔“
اس نے منہ بنایا۔”سپنوں میں کسی سے بھی عشق ہوسکتا ہے۔انوشکا،کرینہ اور کترینہ سے بھلا کب ملا ہوں ۔“
”ہاں ،صرف ایک سے ملے ہو اور اس نے بھی وہ دھلائی کی ہے کہ کافی عرصے تک صابن و سرف کی ضرورت سے بے نیاز رہو گے۔“
”زخموں پر نمک چھڑکنا تو کوئی آپ سے سیکھے۔بہ ہرحال عاجز کو کیسے یاد کیا۔“ لکڑی کی کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے وہ مدعے پر آیا۔
میں بغیر لگی لپٹی رکھے بولا۔”ایک لڑکی اغواءکرنی ہے،جس کے ہمراہ آٹھ دس محافظ ہروقت ہوتے ہیں ۔“
اس نے اندازہ لگایا۔”شاید وہی لڑکی ہے،جس کا نام لورا، پری لے رہی تھی۔“کم بخت کا دماغ کافی تیز تھا۔لورا کی گفتگو اسے بھولی نہیں تھی۔اور بغیر تفصیل جانے پرما تک پہنچ گیا تھا۔
میں نے اثبات میں سرہلایا۔”بالکل وہی لڑکی ہے۔“
اس نے دوبارہ اندازہ لگایا۔”شاید رندھیر شکلا کی کوئی رشتہ دار ہے جس کا کریا کرم آپ لوگوں نے اس دن کیا تھا۔“
میں نے کچھ کہے بغیر اوپر نیچے سر ہلادیا۔
اس نے دیر کیے بغیر فیصلہ سنایا۔”کافی مشکل کام ہے باس ،تین لاکھ لگیں گے۔“
”منظور ہے۔“میں نے بھی دیر نہیں لگائی تھی۔
اس نے پوچھا۔”کب ۔“
میں نے کہا۔”کل۔“
وہ اطمینان سے بولا۔” کام خطرناک ہے لیکن آپ کو مایوس نہیں کروں گا باس۔“
میں نے تنبیہ کرنا ضروری سمجھا۔”ایک بات دھیان میں رہے،لڑکی کو خراش بھی نہیں آنا چاہیے۔ ورنہ یاد رکھنا اس بار معافی کی گنجائش نہیں ہوگی۔“
اس نے منہ بسورا۔”کیا ہے باس!خوب صورت لڑکیوں کو سامنے لاکر آزمائش میں ڈالتے ہوئے آپ اپنے کس جذبے کی تسکین کرنا چاہتے ہیں ۔“
”نجّو!میں تاکید کر رہا ہوں ،لڑکی کے ساتھ ذرا سی بھی چھیڑ خانی سے پہلے یہ سوچ لینا کہ انجام صرف دردناک موت ہوگا۔“
اس نے ہونٹوں پر زبان پھیری۔”کیا بہت زیادہ خوب صورت ہے۔“
میں نے کہا۔”زندگی سے خوب صورت نہیں ہے۔“
اس نے مجھے تسلی دلائی۔”بے فکر رہیں باس،نجّو کو صرف لورا براﺅن سے عشق ہوا تھا،کوئی انڈین لڑکی نجو کو متاثر نہیں کرسکتی۔“
میں اطمینان سے بولا۔”فکر کی ضرورت تمھیں ہے،کیوں کہ سنائپر رائفل میرے ہاتھ میں ہوگی۔اور میرے لیے سر میں گولی اتارنا ایسا ہی ہے جیسے تمھارے لیے نوالہ منہ تک لے جانا۔“
وہ طعنہ زن ہوا۔”کیا لگتا ہے، میں یوں ٹھیک طرح سے کام کر سکوں گا۔“
میں نے بے نیازی سے کندھے اچکائے۔”پتا نہیں ،البتہ یوں تم محتاط ضرور رہو گے۔اور مجھے تمھاری زندگی سے زیادہ پری کی عزت مطلوب ہے۔“
اس نے قہقہ لگایا ۔”تو مس لورا براﺅن کی باتیں صحیح تھیں ،آپ کو پری بی بی سے محبت ہے۔“
”مطلب کی بات بتا دی کہ محتاط رہنا ہے اور کس سے رہنا ہے۔البتہ کیوں رہنا ہے یہ جاننا تمھارے کس کام کا۔“
اس نے ہاتھ جوڑتے ہوئے دہائی دی۔”ایسا ہی ہو گا میرے باپ،اب منصوبے پر روشنی ڈالو تاکہ اس کے مطابق بندوں کا انتظام کر سکوں ۔“
میں نے کہا۔”کارروائی ’کے ایچ نارینہ ہسپتال اینڈ ریسرچ سنٹر‘کی پارکنگ میں ہوگی۔پارکنگ ہسپتال کے غربی جانب بنی ہے۔میں شمالی جانب، سڑک کے پار بلڈنگ کی چھت پر موجود ہوں گا۔جو ’گنیش جی مہاراج پارک‘ اور کے ایچ نارینہ ہسپتال کی پارکنگ کے درمیان میں پڑتی ہے۔“میں نے موبائل فون پر نقشہ کھول کر اسے دکھایا۔ ”اس رہائشی بلڈنگ کی چھت پر جانا میرے لیے کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔اور اندازے کے مطابق یہاں سے پارکنگ کا ہوائی فاصلہ چھے سات سو میٹر سے زیادہ نہ ہوگا۔اور اتنے کم فاصلے سے میرے لیے بندوں کا سنبھالنا مشکل نہ ہوگا۔“
وہ مخل ہوا۔”چھے سات سو کم فاصلہ ہے؟“
”وضاحتوں کو رہنے دواور جو کہہ رہا ہوں یقین کے ساتھ سنتے رہو۔“اسے جھڑکتے ہوئے میں مطلب کی گفتگو پر آیا۔”پرما سے پہلے محافظ باہر نکل کر اس کے لیے دروازہ کھولتا ہے۔جیسے ہی وہ باہر نکلے گی میں اس کے محافظ کو ناکارہ کر دوں گا۔باقی محافظوں میں سے جو جیپ سے اتر کر آگے آنے کی کوشش کریں گے وہ سلامت نہیں بچیں گے۔ جونھی فائرنگ شروع ہو تم پرما کو یرغمال بنا کر اسی کی کار میں بیٹھ جانا۔ڈرائیور کو باہر نکال کر تمھارا ساتھی ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لے گا۔ان کی جیپوں کو میں تعاقب کے قابل نہیں چھوڑوں گا۔تم لوگوں کا تیسرا ساتھی اپنی کار لے کر راستے میں کھڑا ہونا چاہیے۔وہاں پرما کی کار کو چھوڑ کر اپنی کار میں بیٹھ کریہیں پہنچ جانا۔پرما کو پہلی فرصت میں بے ہوش کردینا۔باقی اس کے محافظ پرما کی وجہ سے تم پر گولی چلانے سے گریز کریں گے۔کوئی اعتراض....؟“میں نے بات ختم کرنے کا اعلان کیا۔
وہ اطمینان سے بولا۔”بالکل ہے،بس یہ بتا دومجھے جو دھمکیاں دی ہیں ان میں کتنی حقیقت ہے۔“
میں نے تصحیح کی۔”اسے دھمکیاں دینا نہیں برے انجام سے بچانے کی کوشش کرنا کہہ سکتے ہو۔“
وہ کراہتے ہوئے بولا۔”مارے گئے۔“اور موبائل فون پر کسی کا نمبر ڈائل کرکے کان سے لگا لیا۔ ”سلام دعا رہنے دواوربیس ہزار کمانے ہیں تو جمی کے ساتھ فوراََ میرے پاس پہنچو۔“
لمحہ بھر خاموش رہ کر اس نے دوسرے کی بات سنی اور پھروضاحت کرتا ہوا بولا۔”دونوں کو بیس بیس ہزار ملیں گے۔اور اب پہنچنے کی کرو۔“اپنا پتا بتا کر اس نے رابطہ منقطع کر دیا۔
میں نے طنز کیا۔”مجھ سے تین لاکھ لے رہے ہو اور اپنے ساتھیوں کو بیس بیس ہزار پر ٹرخا رہے ہو۔“
وہ بے نیازی سے بولا۔”باس! آپ کو کام سے غرض ہونا چاہیے۔“
”جائز بات۔“برا منائے بغیر میں نے اثبات میں سرہلایا۔اور جیب سے بڑے نوٹوں کی گڈی نکال کر اس کی جانب پھینکی۔”یہ دو لاکھ ہیں ۔ایک لاکھ کام کے بعد۔اور کام اچھا پایا تو ساتھ انعام بھی ملے گا۔“
اس نے ڈھیٹوں کے انداز میں دانتوں کی نمائش کی۔”شکریہ مجھے تقاضے سے بچا لیا۔“
میں بستر سنبھالتے ہوئے بولا۔” تھوڑی دیر آرام کروں گا۔ بہتر ہوگا اپنے دوستوں کو باہر ہی وصول کر کے کسی کھوکے پر چائے وغیرہ پلا دو۔“
وہ چاپلوسی سے بولا۔”کل تک تو نجّو آپ کا ملازم ہے باس!اس کے بعد بھی خادم ہی سمجھو۔“ یقینا دو لاکھ کی خطیر رقم پاکر اس نے تابعداری تو دکھانا تھی۔
اس کے باہر جانے کے بعد میں بستر میں ہو گیا۔کل کا دن بہت اہم تھا۔اور مجھے بغیر تیاری کے میدان میں اترنا تھا۔
جاری ہے
قسط نمبر 57
ریاض عاقب کوہلر
صبح سویرے اٹھ کر میں نے نماز پڑھی اور تیار ہوگیا۔نجّو اور اس کے دو ساتھی فرش پر چٹائی بچھا کر لیٹے تھے۔انھیں جگا کر میں نے وقت سے ’کے ایچ نارینہ ہسپتال اینڈ ریسرچ سنٹر ‘کی پارکنگ میں پہنچنے کا کہا۔
سنائپر ہمیشہ منصوبہ بنا کر اور ہدف وغیرہ کی مکمل قراولی کر کے میدان میں اترتے ہیں ۔لیکن یہ ایسا مشن تھا کہ نہ تو میرے پاس تیاری کا وقت تھا۔ اور نہ میں مشن کو مو¿خر کر سکتا تھا۔انصاری صاحب کی لاڈلی کی زندگی خطرے میں تھی۔جو شقی القلب ماموں دولت و جائیداد کی خاطر اپنی بھانجی کو قتل کرا سکتا تھا،اس سے بعید نہ تھا کہ پرما کو ہاتھ سے نکلتا دیکھ کر ساری قباحتوں کو پس پشت رکھ کر کسی احتیاط کو خاطر میں نہ لاتا۔انسان کی فطرت ایسی ہے کہ پہلے خود کو بے گناہ ،بے قصور اور لوگوں کی نظر میں صاف ستھرا بننے کے لالچ میں کئی قسم کی احتیاطیں مد نظر رکھتا ہے۔خود کو شک سے بچانے کو خطیر رقم بھی خرچ کرتا ہے۔لیکن کام بنتا ہوا نظر نہ آئے یا شکار ہاتھ سے نکلتا دیکھے تو پھر انجام سے بے پروا ہو کر اندھی کھائی میں چھلانگ لگا دیتا ہے۔
آخرت کی فکر اور اللہ تعالیٰ کا خوف جب دل میں نہ ہو تو انسان کو دھن دولت اور جائیداد ہر خوشی، آسائش اور سکون سے بڑھ کر لگتے ہیں ۔ان کے سامنے خو ن کے رشتے بھی اپنی پہچان کھو بیٹھتے ہیں ۔اخلاقی اقدارکوئی حیثیت نہیں رکھتے،رحم دلی،ہمدردی اور انسانیت کوئی معنی نہیں رکھتے۔اور پرما بے چاری کا واسطہ بھی ایسے ہی خانوادے سے پڑا تھا۔نانا نے اپنی انا ،جھوٹی غیرت اوراسلام و پاکستان دشمنی کی وجہ بیٹی کا بلیدان دیا تھا، نواسی کو اس کے باپ کی شفقت سے محروم رکھا تھا تو ماموں دولت کی خاطر اس کی جان کے درپے تھا۔
کھولی سے نکل کر میں کار کے پاس پہنچا۔ڈگی کا قفل کھول کر ایس آرون کے بیگ کا جائزہ لیااور ’گنیش جی مہاراج پارک‘ کو چل پڑا۔طلوع آفتاب کے تھوڑی دیر بعد میں مطلوبہ رہائشی بلڈنگ کے پاس پہنچ گیا تھا۔ وہ عمارت میں ایک دو بار پہلے سڑک سے گزرتے ہوئے دیکھ چکا تھا۔اور اس کی بلندی سے کے ایچ نارینہ ہسپتال کی پارکنگ میں فائر کرنامشکل نہ تھا۔شوبھا منزل کی پانچ چھے منزلہ عمارت میں بہت سے رہائشی فلیٹ بنے تھے۔پارکنگ میں کار کھڑی کر کے میں نے ایس آر ون کا بیگ نکالا اور سیڑھیوں کے ذریعے آخری منزل پر پہنچ گیا۔چھت پر جانے کو لوہے کی ایک پتلی سی سیڑھی لگی تھی۔جس پر لوہے کا ایک پٹ والا دروازہ بنا تھا۔دروازہ کھولنے کواوپر اٹھانا پڑتا۔چھت پر پہنچ کر میں نے سیڑھی بھی اوپرگھسیٹی اوردروازہ گرا دیا۔سردیوں کی صبح کو کسی کا آٹھ نو بجے اوپر آنا متوقع نہ تھا۔لیکن احتیاط لازمی تھی۔سیڑھی کی غیر موجودی پر اتنا واویلا نہ اٹھتا،لیکن کوئی میرے سر پر آکر کھڑا ہو جاتا تو یقینا مسئلہ کھڑا ہو سکتا تھا۔
چھت پر چاروں کونوں میں سیمنٹ کی چار بڑی ٹینکیاں رکھی ہوئی تھیں ۔میں مطلوبہ پارکنگ کی شمالی جانب موجود تھا۔گویا پارکنگ میرے جنوب کی طرف آرہی تھی۔درمیان میں ’ایسٹرن ایکسپریس ہائی وے روڈ‘ گزر رہا تھا ۔لیزر رینج فائینڈر سے فاصلہ ناپنے پر 710میٹر بنا تھا۔میں عمارت کی جنوب مغربی کونے والی ٹینکی کی چھت پر چڑھ گیا۔ضروری کارروائی کر کے میں نے ایلی ویشن وغیرہ لگائی،رائفل کے پیچھے لیٹ کر اپنی پوزیشن درست کی ۔اور پھر ہدف ہی پر نظر جمائے رکھی۔لیٹا ہونے کی وجہ سے میں لوگوں کی نظروں میں آنے سے محفوظ تھا۔
نجّو کااپنی جگہ پر پہنچ جانے کا پیغام مل گیا تھا۔پرما کی آمد سے تقریباََ گھنٹا سوا گھنٹا باقی تھا۔اور سنائپر کے لیے گھنٹوں کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ہم تو وہ مخلوق ہیں کہ ہدف کے لیے ڈیڑھ دو دن تک ایک ہی جگہ پر چھپ کر بیٹھ سکتے ہیں ،یہاں تو ایک دو گھنٹے کی بات تھی۔اور بیٹھنا نہیں لیٹنا تھا۔
ایس آر ون کی ٹیلی اسکوپ سائیٹ کے دیکھنے کی صلاحیت عام آنکھ کی نسبت تیس گنا زیادہ تھی۔ مطلوبہ پارکنگ بالکل واضح اور صاف نظر آرہی تھی۔پرما کی آمد کا وقت قریب آیا تو میں نجّو کو کال کرنے لگا۔
اس کی چہکتی ہوئی آواز ابھری۔”ہم تیار ہیں باس۔“ایسی حالت میں اس کا پر اعتماد لہجہ ظاہر کر رہا تھا کہ وہ اس کام کے لیے موزوں شخص تھا۔اگر لورا براﺅن موجود ہوتی تو اسے سنائپنگ پر بٹھا کر میں خود پرما اغواءکرتا، مگراب وہ چلی گئی تھی۔اورمنجھے ہوئے سنائپر کے علاوہ کوئی آدمی اتنے فاصلے سے حالات کو قابو میں نہیں کر سکتا تھا۔کسی ایک آدمی کو نشانہ بنانا اتنا مشکل نہیں ہوتا جتنا بہت سے لوگوں پر نشانہ سادھنا ہوتا ہے۔مسلسل شست تبدیل کرنا ،ایک ہدف سے دوسرے ہدف پر جانایوں کہ کوئی گولی خطا نہ جائے ۔اور خاص کر جب لوگوں کو قتل کرنے کے بجائے وہاں اپنے آدمیوں کی حفاظت ملحوظ ہو۔
امید یہی تھی کہ پرما کاکوئی محافظ اسے نشانہ بنانے کی کوشش نہ کرتا۔مگر گولی میں عقل و شعور ہوتا ہے نہ اس کی آنکھیں ہوتی ہیں ۔اندھا دھند فائر کے نتیجے میں کوئی اچٹتی ہوئی گولی اسے نشانہ بنا سکتی تھی۔اور ایسا ہونے کی صورت پچھلے کئی ماہ کی تپسیا خاک میں مل جاتی۔بلاشبہ زندگی و موت اللہ پاک کے قبضہ قدرت میں ہے۔ حاثاتی موت کاذمہ دار کسی انسان کو ٹھہرانازیادتی و کم عقلی کے زمرے میں آتا ہے۔مگر جس کا پیارا کھو جائے اسے غصے کی نکاسی اورجذبات کے اظہار کو کسی ہدف کی تلاش ضرور ہوتی ہے۔اور میں انصاری صاحب کی شکوہ کرتی آنکھوں کی تاب لانے کا متحمل نہیں ہوسکتا تھا۔
میں نے نجّو کو محتاط رہنے کی تاکید کرتے ہوئے کہا۔”بس چند لمحوں میں وہ پہنچ جائے گی۔اور ایک بار پھر تاکید کر رہا ہوں ،اس کی جان بہت قیمتی ہے۔میں اس کے کسی محافظ کو قتل نہیں کرنا چاہتا لیکن پری کی جان کو خطرے میں دیکھ کر تم بالکل لحاظ نہ رکھنا۔“
وہ مزاحیہ انداز میں بولا۔”باس!کچھ زیادہ ہی پیاری ہے آپ کو۔“
میں نے تکرار ختم کی۔” تمھیں سمجھا نہیں سکتا،اس لیے جو بکواس سوچنا ہے کھلی اجازت ہے،بس پرما کو کچھ نہیں ہونا چاہیے۔“
”بے فکر رہیں باس،نجّو جب پیشگی وصول کر لے تو جان لڑا دیتا ہے۔چکر بازی صرف چکر بازوں کے ساتھ کرتا ہے۔“
اس دوران میری نظریں ’ایسٹرن ایکسپریس ہائی وے روڈ‘ سے منسلک اس طویل روش پر گھوم رہی تھیں جو ہسپتال کی بڑی عمارت کے پاس جا کر دائیں طرف مڑ جاتی تھی۔
کالی مرسڈیز اور اس کے آگے پیچھے دو جیپوں کو دیکھتے ہی میرا دل بری طرح دھڑکا۔میں سرعت سے بولا۔
”نجّو وہ پہنچ گئے ہیں ۔“
”ٹھیک ہے باس۔رابطے میں رہنا ۔“
”ہونہہ!“میں نے ہنکارا بھرنے پر اکتفا کیااور نظریں جانی پہچانی مرسڈیز پر گاڑ دیں ۔
سبک روی سے چلتے ہوئے تینوں گاڑیاں پارکنگ کے اندر داخل ہوئیں ۔پارکنگ کافی وسیع تھی۔ ڈرائیور نے مرسڈیز شمالی جانب موڑ کر ریورس کر کے جنوبی کونے میں لگائی یوں کہ کار کے بونٹ کا رخ شمالی جانب ہو گیا جدھر میں موجودتھا۔جیپیں مغربی کونے کی طرف بڑھیں ،ڈرائیور وں نے جیپیں گھما کر ان کی پشت مغرب کی طرف کرتے ہوئے بونٹ کا رخ مشرقی جانب کر دیا تھا۔مرسڈیز کے رکتے ہی مجھے نجّو کی آواز سنائی دی۔
”باس !میں قریب جا رہا ہوں ۔“
”تیار رہنا،پری کے باہر نکلتے ہی میں کام کر جاﺅں گا۔“اسے ہدایت دیتے ہوئے میں نے محافظ پر شست باندھ لی۔دروازہ کھول کر وہ سرعت سے باہر نکلا اور عقبی سیٹ کا دروازہ کھول دیا۔
پرما نے نزاکت سے پاﺅں باہر دھرا،محافظ نے ایک طرف ہو کر پرما کو گزرنے کا راستہ دیا، تب اس کا چہرہ میری جانب تھا۔میں نے اس کے دائیں کندھے پر شست سادھی ہوئی تھی،کیوں ایک تو پرما اس کے بائیں جانب موجود تھی،یوں پرما کو گولی لگنے کا خطرہ بالکل نہ ہوتا ،دوسرا دایاں ہاتھ ناکارہ ہو جانے پر وہ مزاحمت کے قابل نہ رہتا۔
جیسے ہی محافظ کی حرکت رکی،میں نے لبلبی دبا دی۔سات سو میٹر کے فاصلے پر ایس آر ون کی طاقتور گولی نے اسے کولہوں کے بل گرنے پر مجبور کر دیا تھا۔پرما کے ہونٹوں سے تیز چیخ نکلی تھی....میں فوراََ محافظوں کی جیپ کی طرف متوجہ ہوا۔سب سے پہلے دو محافظ جیپ سے اتر کر اس طرف بھاگے ،مگر دونوں تین چار قدم سے زیادہ نہ لے سکے اور اپنی اپنی ران پر ہاتھ رکھتے ہوئے لمبے لیٹ گئے تھے۔ان کے پیچھے ایک اور محافظ نے بھی فرض شناسی کی کو شش کی۔اگلی گولی نے اس کی ران میں شگاف ڈال دیا تھا۔
گولی کی ایک خاصیت یہ بھی ہوتی ہے کہ جس جانب سے اندر گھستی ہے وہاں بالکل چھوٹا سا سوراخ ہوتا ہے۔مگر جب دوسری جانب نکلتی ہے توگوشت پھاڑکر چوڑا شگاف چھوڑ جاتی ہے اورمضروب عضو کا کافی گوشت ساتھ لے جاتی ہے۔
تیسرے آدمی کے گرتے ہی باقی محافظوں نے گاڑیوں کی پناہ لے لی تھی۔
اس دوران نجّو اور اس کا ساتھی ان کے قریب پہنچ گئے تھے۔پارکنگ میں موجود لوگوں میں افراتفری مچ گئی تھی اور جس کا جدھر منہ اٹھا بھاگ پڑا تھا۔پرما کا ڈرائیور باہر نکلا،پرما محافظ کے پاس ہی ششدر کھڑی تھی۔
نجّو نے ایک دم پرما کے بازو پر گرفت جمائی اور چلایا۔”پلیز مس !کار کے اندر ہو جاﺅ،گولیاں چل رہی ہیں ۔“
”جج....جی بھائی۔“وہ ہکلا گئی تھی۔اسی وقت میری رائفل نے پانچویں گولی اگلی اورمحافظ کو سنبھالنے والا ڈرائیور کولہے پر گولی کھا کر اس کے اوپر ہی اوندھے منہ گر پڑا۔
”یہاں سے نکلنا پڑے گا ورنہ راجکماری ماری جائے گی۔“نجّو پر تشویش آواز میں کہتا ہوا عقبی نشست میں پرما کے ساتھ بیٹھا ،جبکہ اس کے ساتھی نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی تھی۔
”کک....کون ہیں آپ....؟“پرما ہکلا گئی تھی۔
”فکر نہ کرو ہم آپ کو بچانے آئے ہیں ۔“نجّو نے اسے تسلی دینا چاہی۔اس دوران اس کے ساتھی نے کار اسٹارٹ کر کے آگے بڑھا دی۔
”کار روکو،ہمارے محافظ موجود ہیں ،ہم تمھیں نہیں پہچانتے....مدد....کوئی ہے ....“پرما کی تیز ابھری۔اور پھر ۔ ”کک....کک....اوں اوں “کی آواز آئی جیسے پر ما کے ہونٹوں پر کچھ رکھا گیا ہو۔
نجّو کی شرارتی آواز ابھری۔”لیں باس آپ کی شہزادی کو اپنی جراب سنگھا دی، اب ایک ہفتے تک آنکھ نہیں کھولے گی۔“
یقینا اس نے پرما کونشہ آور دوائی سنگھائی تھی۔یا گردن کی رگ وغیرہ دبا کر بے ہوش کیا تھا۔پھر بھی میں نے جھڑکنا ضروری سمجھا تھا۔”در فٹے منہ تیرا۔“اسے کہتے ہوئے میں نے شست جیپوں پر مرکوز کر دی، جیپ ڈائیوروں نے کار کا پیچھا کرنے کی کوشش کی تھی۔جیپ کا پہیہ گھومتے ہی میں نے مسلسل دو بار لبلبی دبائی،ٹائر پھٹنے کے دھماکے مجھے بھی سنائی دیے تھے۔
ایک محافظ نے تیزی دکھاتے ہوئے ایک موٹرسائیکل سوار کے قریب ہوا جووہاں سے بھاگنے کی تگ و دو میں تھا۔ اسے نیچے گرا کر محافظ نے موٹر سائیکل چھینی اور سوار ہوامگر آگے بڑھنے سے پہلے گولی اس کے بازو کے آر پار ہو گئی تھی ۔ گولی کھا کر وہ نیچے گر گیا تھا۔اس کے بعد کسی بھی محافظ کو تیزی دکھانے کی ہمت نہیں ہوئی تھی۔
ان بے وقوفوں کو علم نہیں تھاکہ ایس ایس کے نشانے پر تھے۔ان کی خوش قسمتی تھی کہ میں نے ان کے سروں میں روشندان نہیں کھولے تھے۔پرما کی کار پارکنگ گیٹ سے نکل کر طویل روش پر دوڑ رہی تھی۔محافظوں نے آڑ میں رہتے ہوئے ہوائی فائرنگ شروع کر دی۔اس کے علاوہ فرض شناسی کا انھیں کوئی طریقہ سمجھ نہیں آیا تھا۔میری گولیوں کی آواز نہیں آرہی تھی صرف نتیجہ سامنے آرہا تھا اور پارکنگ سے باہر لوگوں کو خطرے کا احساس نہیں تھا۔ لیکن جونھی پرما کے محافظوں نے ہوائی فائرنگ شروع کی ہر طرف سراسیمگی پھیل گئی تھی۔
پرما کی کار جونھی سڑک پر چڑھی،میں نے رابطہ منقطع کیااور ایس آر ون کو کھول کر بیگ میں منتقل کرنے لگا۔اس میں دو منٹ سے زیادہ خرچ نہیں ہوئے تھے۔تیسرے منٹ کے آغاز میں بیگ پشت پر لٹکا کر میں ٹینکی سے اتر رہا تھا۔چھت کے دروازے تک میں بھاگتے ہوئے پہنچا ۔سیڑھی نیچے لٹکاتے ہوئے مجھے تین آدمی نیچے کھڑے نظر آئے۔وہ غالباََ سیڑھی کے غائب ہونے پر تبصرہ کر رہے تھے۔مجھے دیکھتے ہی حیران رہ گئے تھے۔
”کون ہو اوئے....اوپر کیا کر رہے تھے........سیڑھی کیوں اٹھائی۔“تینوں کے ہونٹوں سے ایک ساتھ تین مختلف سوال برآمد ہوئے۔لہجہ کافی سخت اور انداز باز پرس والا تھا۔
میں جواب دیئے بغیر نیچے اترنے لگا۔
”یہ دیکھا بھالا تو نہیں لگتا۔“مجھے خاموش پاکر ایک باقیوں سے تصدیق چاہنے لگا۔
ان کے جواب سے پہلے میں نیچے اتر چکا تھا۔قدم فرش پر دھرتے ہی میرا دایاں ہاتھ جیب میں داخل ہوا۔اور واپسی پر اس میں سائیلنسر لگا پستول موجود تھا۔
ان کے جارحانہ تیور اور ترشی و تندی ایک دم ہوا ہو گئی تھی،نسبتاََ بڑی عمر والا ہکلایا۔ ”بب.... بھائی سس....صاب، شما چاہتے ہیں شاید آپ کوہماراپوچھنا برا لگا۔“
”میرے اپنے فلیٹ میں پہنچنے تک کوئی بھی یہاں سے ہلا تو نتیجے کا ذمہ دار خود ہوگا۔“انھیں دھمکاتے ہوئے بھی میں نے رکنے کی کوشش نہیں کی تھی۔سیڑھیوں کے قریب پہنچتے ہی ایک قدم میں دو دو تین تین سیڑھیاں عبورکرتے ہوئے میں نیچے اترنے لگا۔لوگوں کی آمدورفت جاری تھی۔کافی لوگوں نے مجھے حیرت سے دیکھا تھا لیکن میں نے توجہ دیئے بغیر رفتار میں کمی نہ آنے دی۔
نیچے اترکر میں تیز قدموں سے چل پڑا۔بیگ کو ڈگی میں مقفل کر کے میں نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی۔تھوڑی دیر بعد میں ٹریفک کے ہجوم میں شامل ہو چکا تھا۔
نجّو کی رہائش تک میں تیز رفتاری سے پہنچا تھا۔اس کی بہت زیادہ یقین دہانی کے باوجود میں اسے زیادہ دیر پرما کے ساتھ اکیلا نہیں چھوڑ سکتا تھا۔کار کو مخصوص جگہ پارک کر کے جب کھولی کے دروازے کے سامنے پہنچا، تبھی اندر سے پرما کی ہلکی سی چیخ سنائی دی تھی۔میں نے بے تابی سے دروازہ کھٹکھٹایا۔
منٹ بھر بعد ہی دروازہ کھل گیا تھا۔کھولنے والا نجّو کا ساتھی جمی تھا۔
”لڑکی کیوں چیخ رہی ہے۔“درشت انداز میں کہتے ہوئے میں اندر داخل ہوا۔
جمی نے بے نیازی سے کہا۔”نجّو استاد نے تھپڑ مارا ہے۔“
میں نے اس کی بات سننے تک مختصر صحن عبور کر لیا تھا۔پرما گال پر ہاتھ رکھے ہلکی ہلکی سسکیاں لیتے ہوئے رو رہی تھی۔میں نے استفسار کے بغیر ہی ہاتھ گھمایا۔””چٹاخ“ کی زوردار آواز سے کمرہ گونج اٹھا تھا۔ نجّو گال پر ہاتھ رکھتے ہوئے دو تین قدم لڑکھرا کر پیچھے ہٹا تھا۔
میں غرایا۔”کہا تھا کہ لڑکی کو ہلکی سی خراش بھی نہ پہنچے۔“
”تمھاری یہ جرات....؟“رتنیش نے پستول نکال کر تانا۔
”نہیں رتنیش۔“نجّو نے اسے روکا،لیکن اس دوران میں پستول نکال کر لبلبی دبا چکا تھا۔اتنی تیزی سے چلنے والی گولی بھی اس کے پستول پر لگی تھی۔
”افف۔“کرتے ہوئے اس نے ہاتھ بغل میں دبا لیا تھا۔میں نے پستول کا رخ جمی کی طرف کرتے ہوئے دھاڑا۔”تمام ہاتھ اٹھا لوورنہ تمھیں دھرتی سے اٹھانے لگا ہوں ۔“
”باس !اتنا غصہ کرنے کی ضرورت نہیں ۔“مجھے ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرتے ہوئے نجّو اپنے ساتھی پر چلایا۔”رتنیش ،ہوش میں رہ کر کام کیا کرو۔“
”غلطی ہو ئی استاد۔“رتنیش نے اعتراف کرنے میں دیر نہیں کی تھی۔
نجّو نے خفگی بھرے لہجے میں احتجاج کیا تھا۔”یار !پوچھ تو لو مارا کیوں ہے۔“
میں بے پروائی سے بولا۔”یہ کوئی معنی نہیں رکھتا۔تمھیں تنبیہ کی تھی، اس کی خلاف ورزی کرنے پر تھپڑ تو معمولی بات ہے،میں گولی چلانے کا بھی استحقاق رکھتا تھا۔“
”سوری راجکماری!ان سے غلطی ہوئی ۔اور بے فکر رہو آپ یہاں بالکل محفوظ ہو۔“
”آ....آپ راجا ہیں نا؟“وہ میری آواز و انداز سے پہچان گئی تھی،ورنہ میری شکل کافی بدلی ہوئی تھی۔
”ہاں ۔“اثبات میں سرہلاتے ہوئے میں نے جیب سے نوٹوں کی گڈی نکال کر نجّو کی طرف پھینکی۔”شاباش،اچھا کام کیا ہے۔“
نجّو نے گال پر ہاتھ پھیرتے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا۔”آپ نے بھی ۔“
”غلطی تمھاری ہے۔“
وہ مَسمُسے انداز میں بولا۔’نجّو تو پیدا ہی غلط ہوا ہے۔“دو لاکھ کی دوسری گڈی پاکر اس کے لہجے میں خفگی و رنجش دور ہو گئی تھی۔کم بخت نوٹوں کا نشہ ہی ایسا مدہوش کن ہے کہ اچھائی برائی کی تمیز اور غیرت و خودداری پر عمل مشکل کر دیتا ہے۔میرے پاس روندر مترا اور ڈاکٹر دیواشش سے حاصل کی ہوئی بڑی رقم موجود تھی۔اور وہ میں نے انھی مقاصد میں استعمال کرنا تھی۔
”مجھے جانا ہوگا،نکڑ پر میری کار کھڑی ہے یہاں لے آﺅ۔“میں نے چابی نجّو کی طرف اچھالی۔
”ٹھیک ہے باس!“چابی پکڑتا ہوا وہ باہر نکل گیا۔
پرما نے جھجکتے ہوئے پوچھا۔”ہمیں کیوں اغواءکیا۔“
میں نے کہا۔”آپ کی بہتری کے لیے،وہاں آپ کی جان کو خطرہ تھا۔“
اس کا لہجہ گلو گیرا ہوا۔” کیالگتاہے ہم یقین کر لیں گے۔“
میں نے ہلکی سی دھوکا دہی جائز جانی تھی۔”تفصیل بتانے کا وقت نہیں ،مجھے تھوڑی سی مہلت دو۔اگر خود کو سچا ثابت نہ کر سکا تو آپ کو چھوڑ دوں گا۔پہلے بھی تو چھوڑ دیا تھا۔“
وہ صاف گوئی سے بولی۔” گرینڈ پا کے قاتل پر اعتبار کرنے کی حماقت ہم نہیں کر سکتے ۔“
”درست کہا۔“تکرار میں الجھے بغیر میں نے جیب سے بے ہوش کرنے والا سپرے نکالا اورسانس روکتے ہوئے اس کے چہرے پر ہلکا سا اسپرے کر دیا۔
آنکھوں میں حیرانی بھرے وہ لہراتے ہوئے پیچھے کو گر گئی تھی۔فی الحال اس پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا تھا۔اس کے ہاتھ پاﺅں باندھ کر منہ پر ٹیپ چپکادی۔
ہارن کی آواز سن کر میں نے اسے بانہوں میں بھرتے ہوئے جمی کا کار کی ڈگی کھولنے کا بتایا۔
وہ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے میرے آگے آگے بھاگ پڑاتھا۔
داخلی دروازے سے نکلنے سے پہلے میں نے گلی میں جھانکنا ضروری سمجھا تھا۔تین چار آدمی سڑک کی طرف روانہ تھے،لیکن ان کی ہماری طرف پیٹھ تھی،اس لیے میں نے سرعت سے باہر نکل کر پرما کو ڈگی میں منتقل کر دیا۔
نجو نے کہا۔”باس اس کا پرس بھی ساتھ لیتے جاﺅ۔“ساتھ ہی اپنے ساتھی کو اشارہ کیا۔وہ بھاگ کر پرما کا شولڈربیگ لے آیا۔
نجّو اور اس کے دونوں ساتھیوں سے الوداعی مصافحہ کر کے میں نے ایک بار پھر شکریہ کہا اور وہاں سے نکل آیا۔میرے دماغ میں کوئی مناسب ٹھکانہ نہیں تھا۔وشواس سنگھ کی طرف بھی میں فی الحال نہیں جانا چاہتا تھا۔ کیوں کہ معاملہ گرم تھا اور وگنیش شکلا کے بندوں اور ایجنسیوں نے پرما کی تلاش میں پہلی فرصت میں میرے ہمدردوں کے ٹھکانوں پر دھاوا بولنا تھا۔ممبئی سے نکلنے والے راستوں کی بھی نگرانی بڑھانے کا انتظام کرنا تھا۔اس لیے چند دن کہیں چھپ کر رہنا مناسب تھا۔پرما کے دوبارہ حصول کے بعد اسے دوبارہ کھونے کا حوصلہ مجھ میں نہیں تھا۔جہاں اتنا انتظار کیا تھا وہیں چند دن کسی محفوظ کمین گاہ میں گزارنا اتنا مشکل نہ ہوتا،لیکن پرما چھن جاتی تو بہت بڑی مصبت میں پڑ جاتا۔
کسی مناسب ٹھکانے کا سوچتے ہوئے اچانک دماغ میں ڈاکٹر سجاتا کا خیال آیا۔اس کا وجود شک کی زد میں نہیں آیا تھا،کیوں کہ اتفاق سے واقعات کا تسلسل ایسے بنا تھا کہ وہ سراسر بے گنا ہ اور لاتعلق دکھائی دی تھی۔
اس کا موبائل فون نمبر میری یاداشت میں محفوظ تھا۔الحمداللہ اس معاملے نے میری یاداشت نے کبھی دھوکا نہیں دیا ۔
نمبر ڈائل کر کے میں نے موبائل فون کان سے لگا لیا۔گھنٹیاں جانے کے باوجود اس نے کال وصول نہیں کی تھی۔شاید انجان نمبر کی وجہ سے وہ اٹینڈ نہیں کر رہی تھی۔
میں نے دوبارہ کوشش کی اور اس مرتبہ اس نے کال وصول کر لی۔”ہیلو....“اس نے روکھے لہجے میں پوچھا۔
”راجا بات کررہا ہوں ۔“
”آپ ....؟کیسے ہیں ....؟ دوسرے نمبر سے کیوں کال کی؟“وہ پرجوش لہجے میں ایک ساتھ دو تین سوال پوچھ گئی تھی۔
میں مطلب کی بات پر آیا۔”چند دن تمھارا مہمان بننا چاہتا ہوں ۔“
وہ خلوص دل سے بولی۔”مجھے خوشی سے کچھ ہو نہ جائے۔“
”تو کہاں پہنچوں ؟“
وہ خوشی سے چہکی۔”میں ڈیوٹی پر ہوں ۔لیکن ابھی چھٹی لے کر نکلتی ہوں ۔آپ اسی جگہ پہنچیں جہاں پہلی ملاقات ہوئی تھی۔اس سے دوگلیاں آگے ہنومان جی ٹاور میں میرا فلیٹ ہے۔“
میں نے مسئلہ بتایا۔”میری کار کی ڈگی میں بے ہوشی کی حالت میں ایک مہمان موجود ہے۔اسے بھی فلیٹ تک لے جانا ہوگا۔“
’ ’کے ایچ نارینہ ہسپتال اینڈ ریسرچ سنٹرکے باہر ہونے والے ہنگامے کی خبر ٹی وی پر چل رہی ہے۔ کسی بڑے خاندان کی لڑکی کا نام........“اچانک خیال آنے پر اس نے ہیجان بھرے لہجے میں پوچھا۔”کہیں یہ وہی تو نہیں ۔“
میں ہنسا۔”وہی ہے۔“
”بھگوان کا شکر ہے آپ کامیاب ہوئے ورنہ میں خود کو کبھی معاف نہ کر پاتی۔“
”باقی باتیں ملنے پر ہوں گی۔“کہتے ہوئے میں نے رابطہ منقطع کر دیا۔میرا رخ قدرتی طور پر اس جانب تھا۔پندرہ بیس منٹ کی ڈرائیونگ کے بعد میں ہنومان جی ٹاور کی عمارت کی پارکنگ میں پہنچ گیا تھا۔اگلے دس پندرہ منٹ میں ڈاکٹر سجاتا کی کار وہاں پہنچ گئی تھی۔اس نے میری کار پہچان لی تھی۔نزدیک ہی کار پارک کرتے ہوئے وہ نیچے اتری ۔میں بھی باہر آگیا۔اوروارفتگی سے مصافحہ کرتے ہوئے بولی۔
”شکریہ آپ نے سیوا کا موقع دیا۔سچ کہوں تو اب تک اپنی حماقت پر پچھتا رہی ہوں ۔آپ اور لورا براﺅن نے مجھے نئی زندگی دی۔اور یہ احسان میں کبھی نہیں بھلاﺅں گی۔“
میں انکساری سے بولا۔”ہم نے تمھارے احسان کا بدلہ چکایا تھااور بس۔“
کار کی عقبی نشست پر نظر دوڑاتے ہوئے وہ پوچھنے لگی۔”لورا کہاں ہے؟“
”چلی گئی ۔“
اس نے اداسی سے پوچھا۔”مجھ سے خفا ہوگی،یقینا اسی لیے مل کر نہیں گئی۔“
میں نے تسلی دی۔”وہ بالکل خفا نہیں تھی اور مل کر اس لیے نہیں گئی کہ اسے تمھاری سلامتی عزیز تھی۔“
وہ ہنسی۔”مہمان اب تک ڈگی میں ہے۔“
میں نے پوچھا۔”کیسے لے جائیں گے؟“
”پکا بندوبست کر کے آئی ہوں ۔“کار کی عقبی نشست سے فولڈنگ ویل چیئر نکال کر اس نے درست کی ۔اور گہرے سبز رنگ کا کمبل کرسی پر بچھا تے ہوئے بولی۔”اس پر بٹھاﺅ۔“
میں نے ڈگی کھولی ،پرما اب تک بے ہوش پڑی تھی۔اس کی بندشیں کھول کر میں نے دائیں بائیں کا جائزہ لیا اور برقی کوندے کی سی لپک سے پرما کو اٹھا کر کرسی پر بٹھا دیا۔
ڈاکٹر سجاتا نے کمبل اس کے گرد یوں لپیٹا جیسے بیمار کے گرد لپیٹتے ہیں ۔یوں پرما کا لباس اور چہرہ بھی چھپ گیا تھا۔وہ مجھے ہدایت دیتے ہوئے بولی۔”دوسری منزل،کمرہ نمبر انیس اے کے پاس پہنچو۔اسے میں لاتی ہوں ۔“
میں نے نفی میں سرہلایا۔” تمھارے پیچھے پیچھے آرہا ہوں ۔“
وہ اثبات میں سرہلاتے ہوئے آگے بڑھ گئی۔مناسب فاصلہ رکھ کر میں بھی لاابالی انداز میں قدم اٹھاتا ہوا اس کے پیچھے ہو لیا۔
وہ ہنومان جی ٹاور کی مستقل رہائشی تھی۔اور ڈاکٹر بھی تھی۔دروازے پر متعین چوکیدار اور کسی اور دیکھنے والے نے اس کے ویل چیئر کو دھکیلنے پر حیرانی کا اظہار نہیں کیا تھا۔ایک دو عورتوں نے استفسار ضرور کیا تھا اور اس نے بھابی کی بہن کا بتا کر جان چھڑا لی تھی۔
سیڑھیوں کے بجائے وہ لفٹ سے اوپر پہنچی۔جب تک وہ اوپر پہنچتی میں سیڑھیوں کے ذریعے دوسری منزل پر پہنچ گیا تھا۔ہم ایک ساتھ فلیٹ نمبر انیس اے کے دروازے پر پہنچے۔دائیں بائیں کا جائزہ لے کر اس نے دروازہ کھولا اور ہم اندر گھس گئے۔درمیانے حجم کا فلیٹ چھوٹے سے کنبے کی ضروریات کو کافی تھا۔دو خواب گاہیں ،ایک سٹور روم،ڈرائینگ روم ،کھانے کا کمرہ اور ٹی وی لاﺅنج وغیرہ کو ایک ہی ہال تھا۔جو داخلی دروازے کے آغاز ہی میں بنا تھا۔اندر گھستے وقت باورچی خانہ دائیں ہاتھ پڑتا تھا۔اس کا حجم چھوٹا تھا مگر سامان کے ریک اس ترتیب سے بنے تھے کہ مسئلہ نہیں ہوتا تھا۔
دروازہ قفل کر کے وہ ایک کمرے کی طرف بڑھ گئی۔وہ درمیانے حجم کی خواب گاہ تھی۔اس میں کھڑکی موجود نہیں تھی،اس لیے مجھے پسند آئی تھی۔کیوں کہ پرما کو جکڑ کر رکھنامجھے اچھا نہیں لگتا تھا۔
ہم دونوں نے مل کر اسے کرسی سے بیڈ پر منتقل کیا۔سجاتا نے اس کے جوتے اتار کر کمبل اوڑھایا اور ہم باہر آگئے۔
میں نے دروازہ باہر سے کنڈی کر دیا تھا کہ ذرا سی بے احتیاطی ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتی تھی۔
ڈرائینگ روم میں پہنچ کرڈاکٹر سجاتا میری طرف متوجہ ہوئی۔”چائے یا کافی۔“
میں بے تکلفی سے بولا۔”کھانا کھاﺅں گا۔“
دوسرے صوفے پر نشست سنبھالتے ہوئے اس نے پوچھا۔”کیا کھانا پسند کرو گے۔“
میں نے انتخاب کی ذمہ داری اسی پر ڈالی۔”کوئی بھی حلال کھاناچل جائے گا۔“
وہ قریبی ہوٹل کا نمبر ملا کر پر تکلف کھانے کا آرڈر نوٹ کرانے لگی۔اپنے فلیٹ کا نمبر بتا کر اس نے رابطہ منقطع کیااور میری طرف متوجہ ہوتے ہوئے متبسم ہوئی۔
”اب اس لڑکی کا قصور بھی بتادوکہ جسے آپ جیسے آدمی نے حبس بے جا میں رکھا ہوا ہے۔“
میں تھکے تھکے لہجے میں بولا۔”کافی لمبی کہانی ہے ڈاکٹر!مختصر یہ کہ میں نے لڑکی کے فائدے کو اسے اغواءکیا ہے ورنہ دو تین دنوں کے اندر اس پر جان لیوا حملہ ہونے والا تھا۔“
وہ تدبر سے بولی۔”یہ اطلاع اس کے گھروالوں تک پہنچانا کافی ہوتا۔ایک جوان لڑکی کو اغواءکرنے سے اس کی زندگی بہت سے سوالات اوراس کا کردار شبہات کی زد میں آجاتا ہے۔“
میں ذومعنی لہجے میں بولا۔”جسے خطرہ ہی اس کے گھر والوں سے ہو۔“
اس نے منہ بسورا۔”بہتر ہوگا آپ ساری تفصیل بتائیں ورنہ میرے دماغ کوخود ساختہ شکوک سے لڑنے کو ہٹ دھرمی کا راستہ اختیار کرنا پڑے گا۔“
میں نے اختصار کو مدنظر رکھتے ہوئے ضروری باتو ں سے پردہ اٹھا دیا تاکہ اس کے شبہات کا قلع قمع ہو۔ورنہ وہ مجھ سے بہت عقیدت رکھنے لگی تھی اور بعید نہ تھا کہ آئیڈیل کا ایسا فعل اسے الجھن میں مبتلا رکھتا۔
وہ پر اعتماد لہجے میں بولی۔”جانتی تھی میں نے آپ کا جو خاکہ بنایا ہوا ہے آپ اس کے بر عکس ہو ہی نہیں سکتے۔“
دروازے کی گھنٹی سن کر میں خواب گاہ میں چلا گیا ۔ڈاکٹر سجاتا نے کھانا وصول کر کے بل ادا کیا اور دروازہ بند کر دیا۔پرما کے لیے کھانا علیحدہ کر کے ہم اکٹھے کھانے لگے۔کھانے کے بعد ڈاکٹرسجاتا باورچی خانے میں کافی بنانے گھس گئی ۔میں نے ٹی وی لگانے کو ریموٹ اٹھایامگر اسی وقت خواب گاہ کا دروازہ بجنے لگا۔یقینا پرما کو ہوش آگیا تھا۔
ریموٹ واپس رکھ کر میں خواب گاہ کی طرف بڑھ گیا۔دروازہ کھولنے پر وہ سامنے ہی نظر آئی۔ آنکھوں میں برہمی و درشتی لیے مجھے گھور رہی تھی۔
میں خوش دلی سے مسکرایا۔”آپ جاگ گئیں راجکماری۔“
وہ تپتے ہوئے بولی۔”ہم نہیں ہیں راجکماری اور نہ ان ڈھکوسلوں سے آپ ہمیں بہلا سکتے ہیں ۔“
”بیٹھ کر بات کرتے ہیں ۔“میں نے اسے بازو سے پکڑنے کی کوشش کی ۔
میرا ہاتھ جھٹکتے ہوئے وہ نخوت سے بولی۔”ہمیں ہاتھ نہ لگائیں ۔“
”اچھا نہیں لگاتا،مگر بیٹھ تو جائیں ۔“
وہ موڈ بناتے ہوئے بیڈ پر بیٹھ گئی۔میں نے کرسی پر نشست سنبھالی۔”بھوک لگی ہے،کھانا لاﺅں ۔“
وہ معترض ہوئی۔”اغواءہونے والی لڑکی کو اتنی جلدی بھوک لگ سکتی ہے۔“
میں اطمینان سے بولا۔”اغواءنہیں کیا،آپ کی جان بچائی ہے۔“
وہ طنزیہ لہجے میں بولی۔”آپ دوسری بارہماری جان بچا رہے ہیں ،کیا جان سکتے ہیں آپ کے احسان کب تک سہنا پڑیں گے۔“
جاری ہے
قسط نمبر 58
ریاض عاقب کوہلر
وہ طنزیہ لہجے میں بولی۔”آپ دوسری بارہماری جان بچا رہے ہیں ،کیا جان سکتے ہیں آپ کے احسان کب تک سہنا پڑیں گے۔“
اس کے طنز کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے میں بدستور نرمی سے بولا۔”ایک سوال پوچھ سکتا ہوں ۔“
وہ بیزاری سے بولی۔”یہ نرمی،اخلاق اور انسانیت کاڈھونگ رہنے دیں ۔ صاف صاف اپنے مقصد پر آئیں ۔ ہم سے کیا چاہتے ہیں ۔اور اگر دماغ میں کوئی فتور ہے تو براہ مہربانی اپنے تک رکھنا۔بلکہ مشورہ دیں گے کہ ایسی فلمیں نہ دیکھا کروجن میں محبت کو غربت و امارت کے تصور سے بے نیاز دکھایا جاتا ہے۔“
میں نے ایک دم پوچھا۔”آپ کو اپنا والد یاد نہیں آتا۔“
اسے جھٹکالگا ,یوں جیسے میں نے اس کے سر پر ڈنڈا رسید کیا ہو۔گہر اسانس لیتے ہوئے اس نے غصہ ضبط کیا۔”آپ کوہماری ذاتیات پر سوال اٹھانے کا کوئی حق نہیں ۔“
میں اطمینان سے بولا،”تبھی توسوال کی اجازت لی تھی اور آپ اپنے حسن کے قصیدے گانے لگیں ۔ یہ بھول گئیں کہ عشق ومحبت کا تعلق شکل و صورت سے ہوتا ہے،مال و دولت سے نہیں ۔میں یقین سے کہتا ہوں اگر آپ کی کلاس فیلو بیس لڑکیاں ہیں تو ان میں سے اٹھارہ آپ سے زیادہ خوب صورت و پر کشش ہوں گی۔ آپ جیسی مغرور اور مال و دولت سے لوگوں کی حیثیت کا تعین کرنے والی کو کوئی احمق ہی دل دے سکتا ہے۔“
اس نے احتجاج کیا۔”کیاہمارا دھن اورگھمنڈ لازم کرتا ہے کہ ہمیں حبس بے جا میں رکھا جائے۔“
شروع میں اس کے محافظ سے پتا چلا تھا کہ پرما کو گھورنے والے طالب علم کو ایک آنکھ سے محروم کیا گیا تھا۔میں نے اسی واقعے کی طرح اشارہ کیا ۔” کسی گھورنے والے کی آنکھ نکلوا دینے کو بھی جرم مانتی ہو یاجس کی لاٹھی اس کی بھینس ،والی کہاوت رٹ رکھی ہے۔“
اس نے چونک کر مجھے دیکھا اور پھر صفائی دینے لگی۔”ایسے کسی بھی حادثے میں ہماری مرضی و منشا کومدنظر نہیں رکھا گیا۔جس کا حکم تھا اس بے چارے کو پوتے کی سال گرہ منانے کی بھی مہلت نہیں دی گئی۔“
میں نے کہا۔”خیر یہ وجہ تو نہیں تھی اسے تو قتل کے بدلے قتل ہونا پڑا۔“
”آپ کو کس نے جج بنایا ہے کہ لوگوں پر فرد جرم عائد کر کے نہ صرف سزا سنا رہے ہو بلکہ بغیر صفائی کا موقع دیئے بغیرعمل درآمد بھی کر رہے ہو۔“اس کا مجھے آپ کہنا بہ حالت مجبوری تھا۔ورنہ لہجے کے اتارچڑھاﺅ سے اندازہ ہوتا تھا کہ کتنا تپی ہوئی تھی۔
میں نے معنی خیز لہجے میں کہا۔”پوچھا نہیں کس کے قتل کی وجہ سے اسے ہلاک ہونا پڑا۔“
وہ استہزائی انداز میں بولی۔”نہیں ،کیوں کہ جانتے ہیں ایک اور جھوٹ سننے کو ملے گا۔“
اس کے انکار کے باوجود میں نے بتانا ضروری سمجھا۔”شکلا کے جرائم کی فہرست تو بہت طویل ہے، اس پر روشنی ڈالنے کوکافی وقت چاہیے۔البتہ میں نے اسے پاروتی ملہوترا کے قتل کے جرم میں مارا ہے۔“
”تمھیں ہمارے خاندانی معاملات میں دخل اندازی کا کوئی ادھیکار نہیں ۔“غصے میں اسے آپ کہنا بھی یاد نہیں رہا تھا۔
”وکیل کا کسی کے خاندانی معاملات میں بولنا خاندان کے کسی فرد کی اجازت کے مرہون منت ہوتا ہے۔اور میں بریگیڈئر فہیم اسلم انصاری کا وکیل ہوں ،جس کی محبت کرنے والی بیوی کو شکلا جیسے درندے نے اس لیے قتل کیاکہ اس بے چاری نے اپنے محبوب شوہر کو بھاگنے میں مدد دی تھی۔“
”شٹ اپ....جھوٹے....جھوٹے ....جھوٹے....“اس کی آنکھیں نم اور آواز پھٹ گئی تھی۔ جسم یوں کانپ رہا تھا جیسے رعشے کی مریض ہو۔”اس ظالم کی طرف داری کر رہے ہو جس نے اپنے مفاد کو محبت کا ڈراما رچا یا،اپنے ملک کے لیے جاسوسی کرتا رہا اور جب بھانڈا پھوٹا تونہ صرف بیوی کو یرغمال بنا کر بھاگ گیا۔ بلکہ محفوظ جگہ پر پہنچتے ہی بے چاری کو قتل کر دیا۔گرینڈ پا سے دشمنی تھی ،اس کی بے گناہ و معصوم بیٹی کا کیا قصور تھا۔ ہمارا کیا قصور تھا کہ ہمیں ماں کی شفقت و محبت سے محروم کردیا۔“
”کہانی تو شکلا نے اچھی گھڑی ہے۔آخر پاکستانی جاسوس کو اذیت دینا تو بنتا تھا۔ظالم نے اس کی بیوی کو قتل کرتے وقت اتنا بھی نہ سوچا کہ اپنی بیٹی کا خاتمہ کر رہا ہے۔کیوں کہ خبیث اچھی طرح جانتا تھا پارورتی زیادہ عرصہ اپنے محبوب شوہر سے دور نہ رہتی اور جلد ہی وہ وقت آناتھا کہ اپنی بیٹی کو ساتھ لے کر پاکستان کا رخ کرنے پر مجبور ہو جاتی۔“
وہ بپھرتے ہوئے بھاگی اور قریب پہنچتے ہی مجھے گریبان سے پکڑ کر چلائی۔”ہم تمھیں جان سے مار دیں گے جھوٹے....تم سارے پاکستانی وحشی درندے ہوتے ہو۔جھوٹی، مکاردہشت گرد قوم, ایک باپ پر اس کی بیٹی کے قتل کا الزام لگاتے ہوئے تمھیں شرم و حیا نہیں آتی۔اور اس کی وکالت کرتے ہو جس میں بیٹی سے بات کرنے اور اس کا سامنا کرنے کی جرا¿ت نہیں ہے۔جو بزدلوں کی طرح پاکستان میں چھپا ہے۔“
میں نے گریبان چھڑانے کی کوشش نہ کی،کیوں کہ اس کے جذبات اور غصہ میرے لیے نہ تھا۔نہ وہ شکلا کے قتل پر سیخ پا تھی،اس کی حالت توحیرانی و لا علمی کی گہری کھائی میں گرنے والے اس شخص کی سی تھی جو نہ تہہ تک پہنچ پایاتھا اور نہ اس کے ہاتھ میں کھائی کا کوئی کنارا آرہا تھا کہ اسے پکڑ کر گرنے سے بچ سکے۔
”آپ بھی ایک محبت کرنے والے شوہر پراس کی محبوب بیوی کے قتل کا الزام اس کے دشمن کے کہنے پر دھر رہی ہیں ۔اوربیٹی سے سامنا نہ کرنے کی تہمت لگا رہی ہیں ۔“
میری چھاتی میں دوہتڑ رسید کرتے ہوئے اس نے دھمکایا ۔”تم سے بات ہی نہیں کرنا چاہتے جھوٹے!ہم ابھی ابھی یہاں سے جا رہے ہیں روکنے کی کوشش کی تو جان سے مار دیں گے....سمجھے تم ،ہم جارہے ہیں ۔روکنے کاسوچنا بھی مت ....تم گرینڈ پا کے قاتل ہو،ہم تمھیں زندہ نہیں چھوڑیں گے۔“
چہرے کو ہاتھوں سے ڈھانپتے ہوئے وہ بیڈ پر بیٹھ کر ہچکیاں لے کر رونے لگی۔اس نے باہر جانے کی کوشش نہیں کی تھی۔
میں نے اسے رونے دیا۔جذبات کو قابو کرنے کا سب سے بہتر طریقہ آنسو بہانا ہے۔آنکھوں سے نمکین پانی کا خروج بہت سے صدمات،اذیتوں اورپریشانیوں کو بہا کر لے جاتا ہے یاکم از کم انسان میں ان مسائل کا سامنا کرنے کا حوصلہ بھر دیتا ہے۔
اس کی سسکیوں میں کمی آتے ہی میں نے گفتگو آگے بڑھائی۔”کیا باپ کے بھاگنے کے بعدکبھی ان سے رابطے کی ہمت کی۔کبھی ان سے جواب جاننے کی کوشش یا بازپرس کا حوصلہ کیا؟“
چہرے سے ہاتھ ہٹاتے ہوئے وہ دھاڑی۔”کیا وہ اس قابل تھا کہ بات کرتے۔“گال آنسوﺅں سے گیلے ہو گئے تھے،لیکن آنکھوں کے چشمے خشک نہیں ہو رہے تھے۔
میں نے ایک اور وار کیا۔”میں نے رندھیر شکلا کا جرم بتایا،مگر آپ اس کے دفاع میں میدان میں اتر آئی ہیں ۔کیا باپ کا دفاع کرنے کی بھی تھوڑی سی کوشش کی تھی یا جو کچھ شکلا کہتا گیا، آپ مانتی گئیں ۔انھیں صفائی کا موقع دیا؟....ان کا غم اور دکھ جاننے کی زحمت گوارا کی؟....بے شک وہ بھارت سرکار کا مجرم تھا،مگر حکومت کا مجرم ہونا بیوی بچوں سے نفرت کی دلیل نہیں ہے۔آپ کو پندرہ سولہ سال گود میں کھلایا، محبت دی،شفقت سے نوازا کیا وہ سب ڈراما تھا۔کیا آپ میں دکھاوے کی محبت اور حقیقی محبت کی پہچان کا شعور نہیں ہے۔بناوٹی و جھوٹی محبت کو بے زبان جانور بھی جان جاتے ہیں ،آپ اور آپ کی امی جان اتنی کم عقل و نا سمجھ تھیں کہ اتنے سال دوغلے شخص کو نہ پرکھ سکیں ۔گو پاروتی کے بارے یہ کہنا غلط ہے ۔ اسے بالکل شعور تھا،وہ شوہر کی محبت کو نہ صرف اچھی طرح جانتی تھی بلکہ جب موقع آیا تو وطن کی محبت پر شوہر کی محبت کو ترجیح دی اور اسے اپنی کار میں چھپا کر اگرہ سے انبالہ لے گئیں اور وہاں سے واپس آتے ہوئے بے چاری ظالم باپ کی شقی القلبی کا شکار ہو گئی۔“
وہ گلو گیر لہجے میں بولی۔”تمھیں جھوٹ بولتے ہوئے ذرا بھی جھجک نہیں ہوتی۔اپنے اللہ (تعالیٰ) ہی سے شرم کر لو جسے ہر جگہ موجود مانتے ہو۔مما اسے چھوڑنے نہیں گئی تھیں ،وہ انھیں یرغمال بنا کر لے گئے تھے۔“
”اتنا تو آپ بھی جانتی ہوں گی کہ کسی کو یرغمال تب بنایا جاتاہے جب مجرم گھیرے میں آ جاتا ہے۔ ایسی حالت میں بے شک اسے جانے دیا جاتا ہے ،مگر گھیرنے والے پیچھا نہیں چھوڑتے۔اور وہ جسے یرغمال بنا کر لے جاتا ہے کم از کم اسے قتل نہیں کر سکتا،کیوں کہ ایسا کرنے پر اس کا پکڑا جانا یقینی ہوجاتا ہے۔پھر وہ بیوی کو قتل کر کے زندہ سلامت بھاگنے میں کیسے کامیاب ہوا۔ سوچنے پر دال میں کالا ضرور نظر آئے گا۔اور یقین کرو آپ کی ماں کا قاتل کون ہے اس بارے کافی لوگ جانتے ہیں صرف آپ بے خبر ہیں ۔وہ کیا کہتے ہیں ....
ع جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے ،باغ تو سارا جانے ہے۔“
اس نے ایک اور دلیل پیش کی ۔”اورہم پر دو مرتبہ قاتلانہ حملہ کیوں کرایا،یہاں تک کہ ہمیں آگرہ چھوڑ کر ممبئی منتقل ہونا پڑا۔اس کے توہم خود گواہ ہیں ۔“
”چلیں آپ کے والد کی مکمل کہانی سنا دیتا ہوں ،یوں ٹکڑوں میں بات کر کے ہماری بحث زیادہ ہی طول کھینچنے لگی ہے۔“میری تمہید پر اس نے بے اعتنائی سے منہ موڑ لیا گویا اسے جاننے کا کوئی شوق نہ تھا۔لیکن مجھے معلوم تھا اس کا رواں رواں باپ کی بے گناہی سننے کا خواہاں تھا۔میں گویا ہوا۔ ”انصاری صاحب نوجوانی میں انڈیا آئے۔وہ خوبرو ،پرکشش اور وجیہہ مرد تھے۔ان کے ذمہ پاروتی شکلا کو محبت کے جال میں پھانس کر اس سے ناجائز تعلقات استوار رکھتے ہوئے شکلا تک پہنچنا تھا۔اس کے بعد وہ مطلب کی معلومات حاصل کر کے واپس لوٹ جاتے۔مگر پاروتی سے پہلا مکالمہ ہوتے ہی انصاری صاحب اس کی معصوم شکل پر ایسے لٹو ہوئے کہ اس کام سے ہاتھ کھینچ لیا۔تب بڑوں نے انھیں اجازت دی کہ وہ چاہیں تو اس لڑکی سے شادی کر سکتے ہیں ۔اور یہ یقین دہانی بھی کرائی گئی کہ لڑکی کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔اس کے بعد بھی وہ پاروتی کو دھوکا دینے پر تیار نہ تھے مگر برا ہو محبت کا کہ پاروتی ایک دم ان کے دل پر قابض ہو گئی۔تب وطن کی محبت اور کام سے ایمانداری سے زیادہ وہ پاروتی کی محبت میں پھنس کر شادی کر بیٹھے۔ان کا ارادہ تھا کہ جلد ہی بیوی کو طلاق دے کر واپس پاکستان لوٹ جائیں گے جہاں ان کا پورا خاندان موجود تھا۔لیکن وہ ایسا نہ کر سکے۔آپ کی پیدائش بھی ان کی مرضی کے خلاف ہوئی اور پھر بیوی و بیٹی کی محبت میں انھوں نے اپنے وطن اور خون کے رشتوں کو بھلا دیا۔ شاید وہ ساری زندگی ہندو بن کر انڈیا ہی میں گزار دیتے کہ نہ بیوی کو چھوڑ سکتے تھے اور نہ بیٹی کے بغیر رہ سکتے تھے،لیکن تقدیر کے سامنے کس کی چلی ہے۔ان کے جاسوس ہونے کا راز فاش ہو گیا۔اور شاید آپ کو حیرانی ہو کہ ان کی مخبر پاروتی تھی۔اسے یہ خبر تب پتا چلی جب شکلا کو خفیہ ایجنسی کا ایجنٹ یہ راز بتا رہا تھا۔ وہ شوہر کو اطلاع دینے بھاگی اور نہ صرف اسے مطلع کیا بلکہ اپنی گاڑی میں چھپا کر انبالہ تک بھی چھوڑ آئی۔اگر پاروتی انھیں نہ نکالتی تو وہ پھنس چکے تھے ۔کیوں کہ ان کی باقاعدہ نگرانی ہو رہی تھی۔شکلا کو بیٹی کی یہ جسارت ناگوار گزری اوراس نے فوراََ ہی بیٹی کو قتل کرادیا۔آپ کو اپنے قبضے میں لے کر جھوٹی اور خلاف واقعہ کہانی سنائی۔اس کے جھوٹا ہونے کوفقط یہ دلیل ہی کافی ہے کہ اس نے آپ کا باپ سے رابطے کا اکیلا ذریعہ ہی ختم کر دیا۔میری مراد آپ کے موبائل فون سے ہے جو شکلا نے انصاری صاحب کے جانے کے بعد تبدیل کردیا تھا۔ وہ کیسے رابطہ کرتا۔ اور جسے آپ قاتلانہ حملے گردان رہی ہیں وہ اپنی بیٹی کو واپس لینے کی کوششیں تھیں ۔ مظلوم باپ بیٹی کی محبت میں تڑپ تڑپ کر شکلا سے رحم کی بھیک مانگتا رہا مگر اس ظالم کے مدنظر جھوٹی انا،قوم پرستی اور دیش بھگتی کے بلند بانگ دعوے تھے۔شکلا صاحب ِحیثیت اور طاقتور شخص تھا۔سرکاری ذرائع کے ساتھ ساتھ اس کے پاس اپنے کارندوں کی بھی فوج تھی۔حکومتی سطح پر بھی یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکتا تھا۔تب بے چارہ انصاری صاحب کیا کرتا........“
”محبت کرنے والے ہار نہیں مانتے،کوشش کرتے رہتے ہیں ۔“وہ جیسے پھٹ پڑی تھی۔
میں اطمینان سے بولا۔”تو کوششوں سے کب رکے ہیں وہ۔ کیا خیال ہے آپ کو اغواءکرنے کے پس پردہ کیا وجہ ہوسکتی ہے۔آپ کو عزت سے مخاطب کرنا،کوئی گزند نہ پہنچنے دینا،ہر قسم کی آسائش پہنچانے کی کوشش کرنایہ سب آپ کے حسن سے متاثر ہو کر یا محبت میں پھنس کر نہیں کیاگیا۔“
وہ بپھر کر بولی۔”تھوکتے بھی نہیں ہیں تمھاری بخشی ہوئی عزت اورآسائشوں پر۔نہ تمھاری جھوٹی کہانی اس لائق ہے کہ اعتبار کیا جائے۔بہتر ہو گاہمیں فوراََ رہا کر دو۔“
”ایسا کر دیتا،مگر آپ کی جان کو خطرہ ہے۔“
وہ ہٹ دھرمی سے بولی۔”ہماری جان کو صرف تم سے اور پاکستان میں موجودہماے نام نہاد باپ سے خطرہ ہے۔“
میں دروازے کی طرف متوجہ ہوا۔”ڈاکٹر اندر آجاﺅ۔“میرا اندازہ تھا کہ اس نے ہماری باتوں پر کان دھرے ہوں گے۔
”جج....جی۔“وہ بوکھلائے ہوئے اندر آئی۔میرے پکارنے کو اس نے میری ناراضی پر محمول جانا تھا۔
میں نے پوچھا۔”انٹرنیٹ کا کنکشن مل جائے گا۔“
”ہاں ۔“اس نے اثبات میں سرہلایا۔
میں نے کہا۔”اپنا لیپ ٹاپ لے آﺅ۔“
انٹر نیٹ کا روٹر آن کر کے وہ لیپ ٹاپ لے آئی۔اپنا ای میل کھول کر میں نے لورا کو بھیجی ہوئی آڈیو ریکارڈنگ ڈاﺅن لوڈ کی اور پرما کی طرف متوجہ ہوا۔
”اس گفتگو کو غور سے سننا ۔“یہ کہہ کر میں نے آڈیو کلپ چلا دیا۔راجپوت کے ساتھ میری تفصیلی گفتگو سنتے ہوئے اس کے چہرے پر کئی رنگ آئے تھے۔گفتگو کے اختتام پراس کی گلو گیر آواز ابھری۔
” جھوٹوں کے بیچ پھنس گئے ہیں ،کہاں جائیں ۔“یہ کہتے ہوئے اس نے کمبل اپنے اوپر کھینچا۔”اس دنیا میں ہمارا کوئی بھی نہیں ہے ،کوئی بھی نہیں ہے۔“
”ایسا نہیں کہتے گڑیا۔“ڈاکٹر سجاتا نے اس کے ساتھ بیٹھتے ہوئے شفقت بھرے لہجے میں کہا۔ ”تمھیں بس دھیان دینے کی ضرورت ہے۔ایک باپ کبھی اتنا ظالم نہیں ہو سکتا کہ بغیر کسی وجہ کے اپنی بیٹی پر قاتلانہ حملہ کرائے اور بے گناہ بیوی کو قتل کر دے۔“
وہ ہچکی لیتے ہوئے بولی۔”مما بھی گرینڈ پا کی بیٹی تھیں ناں ۔“
”تمھارے نانا کا کردار ٹھیک نہیں تھا میری جان!اتنے بڑے ثبوت کے بعد اور کیا رہ جاتا ہے۔ لورا براﺅن کے ساتھ بھی تمھارے نانا نے بہت گھٹیا سلوک کیا تھا۔اس نے اپنی ساری کہانی مجھے سنائی تھی۔اور یقین کرو میں مان ہی نہیں سکتی کہ راجا جیسا شخص کسی مظلوم کو قتل کر سکتا ہے۔“
پرما بد تمیزی سے بولی۔”آپ اس کی دوست ہیں ، طرف داری تو کریں گی۔“
سجاتا نے کہا۔”میں نہ تو راجا کی دوست ہوں اور نہ اسے اچھی طرح جانتی ہوں ۔بس راجا کی عقیدت مند ہوں ۔ کیوں کہ اس نے بغیر کسی لالچ کے میرے لیے وہ کیا جو شاید میرا سگا بھائی بھی نہ کر پاتا۔ اور اب تم دونوں کی بات سن کر میں بغیر کسی کی طرف داری کیے بھگوان کی سوگندھ کھا کر کہہ سکتی ہوں کہ تم غلطی پر ہو۔ راجاکے دلائل بھی عقل تسلیم کرتی ہے اور اس کے پاس ثبوت بھی ہے۔ریکارڈنگ میں اس کے ساتھ محو گفتگو آدمی کا تعلق اگر واقعی تمھارے ماموں جان سے ہے تو پھرتمھیں تردد نہیں ہونا چاہیے۔ “
وہ رنکھی ہوئی۔”آپ لوگ ہمیں اکیلا چھوڑ سکتے ہیں ۔“
”تم سوچو اورخوب اچھی طرح سوچو،بھوک لگے تو اپنی دیدی کو آواز دے دینا۔“ڈاکٹر سجاتا نے اسے ماتھے پرپیار دیا اور ہم باہرنکل آئے۔
”کافی گرم کر لوں ٹھنڈی ہو گئی ہے۔“اس نے بھرے ہوئے مگ اٹھائے اور باورچی خانے کی طرف بڑھ گئی۔
میں نے صوفے پر بیٹھ کر ٹی وی لگا دیا۔پرما کے غائب ہونے پر پتا نہیں کتنا ہنگامہ مچا ہوا تھا۔ تین بجنے میں چند منٹ باقی تھے۔ٹی وی پر کمرشل چل رہی تھیں ۔سجاتا کے آنے تک خبروں کی سرخیاں شروع ہو گئی تھیں ۔سب سے پہلی خبر ہی پرما کے اغواءکی تھی۔جنرل رندھیر شکلا کی نواسی کو ’ ’کے ایچ نارینہ ہسپتال اینڈ ریسرچ سنٹرکی پارکنگ سے اغواءکیا گیا تھا۔اغواءکرنے والے دو جوان تھے جن کے چہرے شناخت نہیں ہو سکے تھے۔ ان کاسنائپر ساتھی شوبھا منزل کی چھت پرموجود تھا۔تفصیل بعد میں بتائی جانا تھی۔
ڈاکٹر سجاتا کافی لے آئی ۔کافی کی چسکیاں لیتے ہوئے میں خبر کی تفصیل سنتا رہا۔نیوز کاسٹر کا لہجہ کافی بدلا ہوا تھا۔وہ شکلا خاندان کے ساتھ میری دشمنی کو اجاگر کرنے کی پوری کوشش کر رہی تھی اور ممبئی میں مجھ سے جتنے بھی سچے جھوٹے واقعات منسوب تھے تمام کے ڈانڈے میری شکلا خاندان سے دشمنی سے جوڑ رہی تھی۔ اس کی وجہ تو بلاشبہ وگنیش کی ڈالی ہوئی ہڈی تھی۔
پاکستان کی طرح بھارت کا میڈیا بھی بکاﺅاور دولت والوں کا پالتو کتا ہے۔ آزاد صحافت اور بغیر لگی لپٹی کہنے کا شوق صرف کمزور،مفلس اور نچلے درجے کے طبقے کے لوگوں کی خامیاں و غلطیاں اجاگر کر کے پورا کیا جاتا ہے۔ایک اندازہ یہ بھی لگایا جا رہا تھا کہ پرما کو اغواءکرنے کے پس پردہ وجہ قتل سے پہلے اس کی عصمت دری کرنا تھی،تاکہ شکلا خاندان کی سبکی کی جاسکے ۔پرما کے زخمی محافظوں کے اجسام سے ایس آر ون کی گولیاں برآمد ہوئی تھیں ۔ اب ماہرین یہ جانچ رہے تھے کہ آیا شکلا کے جسم سے برآمد ہونے والی اور محافظوں کے جسم سے نکلنے والی گولیاں ایک رائفل سے چلائی گئی ہیں یا مختلف رائفلیں استعمال ہوئیں ۔اس سے پہلے ممبئی کی ایک کاروباری شخصیت راجیش گپتاعرف راجپوت کو اغواءکرتے وقت بھی اس کے محافظوں پر اسی رائفل سے گولیاں چلائی گئی تھیں ۔ رندھیر شکلا سے میری دشمنی کی وجہ بیان کرتے ہوئے رندھیر شکلا کی کشمیر کے محاذ پر خدمات اور وہاں دہشت گردوں کی صفیں درہم برہم کرنے کے کارناموں پر روشنی ڈالتے ہوئے مجھے انھی دہشت گردوں کا ساتھی قرار دیا گیا تھا جو حکومت پاکستان کی ایما پر بھارت میں موجود تھا۔وگنیش شکلا نے بھی اپنی بھانجی کی بہ خیریت واپسی کامطالبہ کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اسے میرے ارادے خطرناک لگتے تھے اور یقین تھا کہ میں پرما کو نقصان پہنچاﺅں گا ،کیوں کہ رندھیر شکلا کو کال پراس کی نواسی کے بارے دھمکا بھی چکا تھا۔ وگنیش نے یہ بھی بتایا کہ میری دھمکی کی وجہ سے اس نے کئی بارپرما کو کالج جانے سے منع کیا مگر پرما کم سن و نادان تھی اس وجہ سے ماموں کی بات کو اہمیت نہیں دے رہی تھی۔ وگنیش چونکہ اپنی یتیم بھانجی سے از حد محبت کرتا تھا اس وجہ سے اس کی خواہش کے راستے میں دیوار نہ بنا البتہ اس کی حفاظت کا انتظام محافظوں کی تعداد دگنی کر کے کیا۔تاکہ پرما کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔ مگر دہشت گردوں نے بڑی تعداد میں حملہ کیا اور انھیں سنائپر کی مدد بھی حاصل تھی اس وجہ سے پرما کے محافظ اسے اغواءہونے سے نہ بچا سکے۔
پرما کے اغواءپر کافی تفصیل سے روشنی ڈالی جا رہی تھی۔اور اس کی وجہ وگنیش شکلا کی مظلومیت کواجاگر کرنا تھا۔یقیناایک طرف یہ چرچا کر کے دوسری جانب وگنیش شکلا نے اپنے پالتو کتوں کے ذریعے پرما کی تلاش میں سر دھڑ کی بازی لگا دینا تھی۔
ایک غلطی بلاشبہ مجھ سے ہو گئی تھی کہ پرما کے اغواءکے وقت ایس آر ون کو استعمال نہیں کرنا چاہیے تھا۔ یہ رائفل استعمال کر کے میں نے نادانستگی میں وگنیش شکلا کے موقف کی تاکید کی تھی کہ پرماکے اغواءکے پیچھے میں چھپا ہوں ۔ایس آر ون کا ہلکا ہونا ،دور مار ہونا اور چھوٹے بیگ میں پیک ہونے کی اضافی خوبیوں کی وجہ سے یہ غلطی سرزد ہوئی تھی۔گو ایس آر ون اور میرا ساتھ زیادہ عرصہ نہیں چل سکتا تھا کہ پچاس گولیوں کے بعد یہ رائفل میرے کام کی نہ رہتی۔مگر یہ بھی حقیقت تھی کہ میں دو تین معرکوں میں بیس سے زیادہ گولیاں نہیں چلا سکا تھا گویا اب تک تیس گولیوں کی مہلت باقی تھی۔
میں وشواس سنگھ سے رابطہ کرنے لگا۔ اس مقصد کومیں اس کے پاس ایک نیا موبائل فون چھوڑ آیا تھا۔
ایک دو گھنٹیوں کے بعد موبائل مصروف کر دیا گیا۔سوچا ”میرا نمبر اس کے پاس موجود نہیں تھا شاید اس وجہ سے کال نہیں اٹھا رہا۔“مگر اسی دوران پیغام کی گھنٹی بجی،لکھا تھا۔”کون؟“
”راجا۔“میں نے جوابی پیغام بھیجا۔اور دوبارہ کال کی مگر آگے سے نمبر مصروف کر دیا گیا۔ تعارف کے بعد بھی اس کا کال کاٹنا حیران کن تھا۔مجھے لگا کوئی مسئلہ ہے۔
منٹ بھر بعد اس کا اگلا پیغام آیا۔”ویر جی ،میں پریتو ہوں ۔کال پر بات نہیں کر سکتی۔وہ وشو کو پوچھ گچھ کو لے گئے ہیں ۔ وشو نے مخصوص ہدایت دے کرنیا موبائل پہلے سے میرے پاس رکھو ادیا تھا۔الحال وشو نے آپ کو رابطہ ختم کرنے کی تاکید کی ہے۔میں بھی آپ کی کال کے انتظار میں تھی۔اب یہ موبائل آپ کو وشو کی آمد تک بند ملے گا۔جو بولے سو نہال،ست سری اکال۔“
”ربّ راکھا بھابی۔“میں نے بھی آخری پیغام دے کر صوفے سے ٹیک لگا لی۔
”کیا ہوا۔“ڈاکٹر سجاتا میرے چہرے پر تفکر دیکھتے ہوئے پوچھے بنا نہیں رہ سکی تھی۔
میں پھیکی مسکراہٹ سے بولا۔”کوئی ایک مسئلہ نہیں ہے ڈاکٹر صاحب۔“
وہ متبسم ہوئی۔”ایسا ہی ہو گا،مگر آپ کے چہرے پر پریشانی نہیں جچتی۔“
میں نے سمجھایا۔”یہ تو فطرتی عمل ہے ،بس میں تھوڑی ہوتا ہے۔“
وہ عجیب سے لہجے میں بولی۔”آپ میرے آئیڈیل ہیں ،کم از کم میرے سامنے جھوٹ موٹ ہی سہی مگر خود کوہشاش بشاش ظاہر کریں ۔ورنہ میں بھی مشکلات و مسائل سے ہمت ہارنے کو فطرت مان لوں گی۔“
میں نے قہقہ لگایا۔”تفکر ظاہر کرنے اور ہمت ہارنے میں فرق ہے پگلی!حوصلہ بزدل ہارتے ہیں اور تفکر جرا¿ت مندوں کو بھی لاحق ہوتا ہے۔“
میرے قہقہے پر اس نے مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔”اب خوش ہوں ۔“
”ایک کال کر لوں ۔“میں موبائل نکال کر ذہن پر زور دینے لگا۔ نادر خان عرف نجّو چکر باز کا نمبر یاد کر کے نمبر ڈائل کیا اور موبائل فون کان سے لگا لیا۔چونکہ پہلے والا موبائل فون میں وہیں پھینک کر آگیا تھا اس لیے نمبر یاد کرنے کی ضرورت پڑ رہی تھی۔
دوسری تیسری گھنٹی پر اس نے کال اٹھا لی تھی۔
”نجّو میں راجا بول رہاہوں ،اس وقت کہاں ہو ؟“
وہ جمائی لیتا ہوا بولا۔”وہیں ہوں باس جہاں چھوڑ گئے تھے۔“یقینا وہ نیند سے جاگا تھا۔
”بیس ہزار ڈالر کمانے ہیں ۔“
”بب ....باس مذاق کرنے کو میں ہی ملا ہوں ۔“
”مجھے ممبئی سے نکلنا ہے، انتظام کر سکتے ہو۔“
”اکیلے یا وہ چھمک چھلو بھی ساتھ ہو گی۔“
مجھے تپ چڑھا۔”پہلے صرف تھپڑ مارا تھا ناں ،اب تمھارے سر میں گولی اتاردوں گا۔“
وہ احمقانہ انداز میں بولا۔”بب....باس!بیس ہزار ڈالر دینے کے بعد ہی گولی چلانا۔“
میں جھلاتے ہوئے بولا۔”یار تم نادر خان ہو، نادر سنگھ تو نہیں ہو، پھر احمقانہ گفتگو سے کیا ثابت کرنا چاہتے ہو۔“
”باس آپ میرا وقت ضائع کر رہے ہیں ۔مطلب کی بات کریں تاکہ انتظامی امور کی طرف متوجہ ہو سکوں ۔“
”ہم دو آدمی ہیں ،لیکن یہ ذہن میں رہے تمام ایجنسیاں ،وگنیش کے کتے اور پولیس وغیرہ شدت سے ہماری تلاش میں ہیں ۔اور ہمیں دیکھتے ہی قتل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔“
وہ اعتماد سے بولا۔”میں مکمل جائزہ لے کر آپ سے رابطہ کرتا ہوں ۔“
ڈاکٹر سجاتا امید بھری نظروں سے مجھے گھور رہی تھی،پوچھنے لگی۔”کام بنا؟“
میں خوش دلی سے بولا۔”پہلا مرحلہ تو شروعات کا ہوتا ہے نا۔بننے، بگڑنے کی باری بعد میں آتی ہے۔“
”میں کسی کام آسکتی ہوں ۔“اس نے خلوص دل سے پیش کش کی۔
میں اطمینان سے بولا۔”تمھاری جتنی مدد چاہیے تھی بغیر کسی تکلف کے لے لی۔“
وہ چہکی۔”اسی وجہ سے تو خوش ہوں “
”ذرا اس کی حالت بھی دیکھ لوں ۔“میں اٹھ کر پرما کی خواب گاہ کی طرف بڑھ گیا۔دروازہ کھٹکھٹاکر لمحہ بھر انتظار کیا اور پھر اندر چلا گیا۔وہ گھٹنوں کے گرد ہاتھ لپیٹے جانے کس سوچ میں کھوئی تھی۔
میں نے کرسی بیڈ کے قریب کھینچی اور نشست سنبھال لی۔
میرے بولنے کا انتظار کیے بغیر اس نے زبان کھولی۔”وہ جھوٹ بول رہے تھے۔“
میں نے بے ساختہ تصحیح کی ۔”وہ سے میں مراد ہوں تو یہاں ،تم یا آپ کے تخاطب سے پکارا جاﺅں گا۔“
وہ اداسی سے بولی۔”وگنیش ماموں جھوٹ کہہ رہے تھے۔نہ تو انھوں نے محافظوں کی تعداد بڑھائی اور نہ ہمیں کالج جانے سے روکا۔بلکہ ہمارا دل پڑھنے سے اچاٹ ہو گیا تھا وہ با اصرار زور دیتے رہے کہ ہمیں پڑھنا چاہیے اور اسی مصروفیت میں کھو کرہم ذہنی تناﺅ اور فکرمندی سے چھٹکارا پاسکتے ہیں ۔ہمارے پہلے اغواءاور واپسی کی خبر کو بھی وہ پی گئے۔ ہم نے گرینڈ پا اور ان سے صاف کہا تھا کہ دورانِ قید ہمیں نہ تو اذیت پہنچائی گئی اور نہ ہماری حرمت پر ہاتھ اٹھایا گیا۔جبکہ وہ ہماری عصمت دری کا ذکر کر رہے ہیں ۔“یقینا اس نے خبروں کی آواز پر کان دھرے تھے۔ممکن تھا دروازے کے قریب کھڑے ہو کر تفصیل سنی ہو۔
میں نے کہا۔”اب تو یقین آگیا کہ میں درست کہہ رہا ہوں ۔“
گھٹنوں سے سر اٹھا کر اس نے ڈبڈبائی ہوئی آنکھوں سے مجھے گھورا۔اور پھر گلو گیر لہجے میں بولی۔ ”ہمیں پاپا سے بات کرنا ہے۔“
میں نے نفی میں سرہلایا۔”وہ پاکستان میں ہیں ۔اور یہاں سے انھیں کال کرنا مناسب نہ ہوگا۔ کیوں کہ انھوں نے کال کرنے کو سختی سے منع کیا تھا۔“
وہ مچلی۔”تو ہمیں پاکستان لے چلیں ۔“
جاری ہے
قسط نمبر 59
ریاض عاقب کوہلر
وہ مچلی۔”تو ہمیں پاکستان لے چلیں ۔“
”اسی کوشش میں لگا ہوں ۔ہمارے پیچھے بہت سے لوگ پڑے ہیں ۔وگنیش صرف اپنے آدمیوں پر اکتفا نہیں کرے گا ،کرائے کے قاتل اور بھاڑے کے غنڈوں کی خدمات حاصل کرنا اس کے لیے چنداں دشوار نہ ہوگا۔مجھ سے زیادہ آپ کی جان کو خطرہ ہے۔“
اس کے چہرے پر زخمی تبسم ابھرا۔”پہلے یقین نہیں آرہا تھا۔بے وقوف ہیں ناں ....پاپا سے بات چیت کیے بغیر، انھیں اپنی آنکھوں سے جرم کرتا دیکھے بغیراتنا عرصہ مصنوعی نفرت کی آگ میں جلتے رہے۔ دل کہتا وہ ایسے نہیں ہوسکتے اور ہم کہتے ایسا ہی ہوگا کیوں کہ سارے مسلمان ظالم ہوتے ہیں اور پاکستانی تو ہیں ہی بے حس و ظالم قوم۔یاداشت ان کی شفقتوں اور محبتوں کی تصویر دکھاتی اورہم ان کے دشمنوں کی پیش کی ہوئی صورت آنکھوں کے سامنے رکھتے۔“گہرا سانس لے کر وہ میری طرف متوجہ ہوئی ،چند شفاف قطرے ملائم گالوں پر لڑھکے۔انھیں صاف کیے بغیر وہ ممنونیت سے بولی۔
”شکریہ،ہمیں مرنے سے پہلے حقائق سے روشناس کردیا۔آپ بہت اچھے ہیں ۔“
میں مزاحیہ انداز میں بولا۔”آپ مجھ پر ڈورے ڈال رہی ہیں ،لیکن سوری اب میں نے آپ سے شادی کا خیال دل سے نکال دیا ہے۔“
بے ساختہ اس کا مترنم قہقہ ابھرا،آنکھوں میں آنسو اور لبوں پر تبسم یقینا دیکھنے کے قابل نظارا تھا۔ ”پھر اغواءکیوں کیا،اب ہمیں محبت ہوئی تو آپ بھاگنے کی فکر میں ہیں ۔“ وہ میرے مذاق پر محظوظ ہوئی تھی۔
”بس ایسے ہی ہنستی رہو۔انصاری صاحب نے کہا تھا ان کی پری جب ہنستی ہے تو فضا مسکرانے لگتی ہے۔یقین مانوپہلی بار پورے ماحول کو مسکراتا دیکھ رہا ہوں ۔“
وہ زندہ دلی سے بولی۔ ”اوپر اوپر سے نظر انداز کرنے کا دکھاوا اور اندر سے متاثر کرنے کی کوشش،یہ نہیں چلے گا بھئی۔“
میں نے قہقہ لگایا۔”بھول گئیں کیا کہا تھا میری زندگی میں کوئی اور ہے۔“
وہ اچانک سنجیدہ ہوتے ہوئے پوچھنے لگی۔”پاپا کا اصل نام فہیم اسلم انصاری ہے؟“
”ہاں ۔“
”ہمیں یاد کرتے تھے۔“پرما کے لہجے میں حسرت ہلکورے لے رہی تھی ۔
میں نے نفی میں سرہلایا۔”پگلی یاد انھیں کیا جاتا ہے جو بھول جائیں ۔ان کی حالت تو بہ قول شاعر یہ ہے کہ ....
میں ایک پل بھی جو بھولوں تمھیں تو مر جاﺅں
تمھاری یادکا پہرہ ہے میرے سانسوں پر
یقین مانو اس عہدے کے آفیسر کو پہلی بار آنسو بہاتے دیکھا ہے۔پاروتی اور پرما دو ایسے نام ہیں جو وہ بار بار جپتے رہتے ہیں ۔اب ان کی گپ شپ ،ان کی گفتگوکا موضوع،ان کی معلومات،ان کی ترجیحات، ان کی سوچیں کا محوراور ان کا سب کچھ پاروتی اور پرما کی یادیں ہیں ۔آپ کے نانا کے سامنے وہ گڑگڑائے،منتیں کیں ،معافیاں مانگیں مگر شکلا صاحب کو ترس نہ آیا۔آپ کے حصول کی تین چار کوششیں وہ پہلے بھی کر چکے تھے جو ناکام گئیں ۔آخر ان کی نظر انتخاب مجھ پر پڑی اور مجھے قسمت آزمانے آنا پڑا۔ان شاءاللہ ان کی پری کو ان تک پہچانے کا سہرا میرے سر بندھے گا۔“
باپ کے ذکر پر وہ محویت میں کھو گئی تھی۔لبوں پر ملکوتی تبسم اور آنکھوں میں ستارے جھلملانے لگے تھے۔ بے تابی سے پوچھنے لگی ۔”صبر نہیں ہورہا،کب پہنچیں گے۔“
”اسی کام میں لگا ہوں ،وگنیش ماموں آپ کی محبت میں پاگلوں طرح پوری ممبئی کو چھان رہا ہے۔“
وہ ملتجی ہوئی۔”پلیز انھیں گولی نہ مارنا۔“
میں نے تسلی دلائی۔”کوشش تو یہی ہے۔“
وہ پوچھنے لگی۔”آپ بہت ہی اچھے نشانہ باز ہیں ۔کیا سارے پاکستانی فوجی ایسے ہی ہوتے ہیں ۔“
میں نفی میں سرہلایا۔”عام فوجیوں اور سنائپروں میں فرق ہوتا ہے۔البتہ یہ کہہ سکتی ہو کہ پاکستانی سنائپر ایسے ہوتے ہیں ۔“
”ہونہہ!“ہنکارا بھرتے ہوئے اس نے اثبات میں سرہلایا۔”پاپا کے بارے کچھ اور بتاﺅ نا؟“ وہ ایک دم تبدیل ہو گئی تھی۔جس باپ کا نام لینا اسے گوارا نہ تھا اب اس کے علاوہ کچھ سننا نہیں چاہ رہی تھی۔بلا شبہ رندھیر شکلا نے بے چاری پر بہت ظلم ڈھایا تھاکہ نہ صرف اس کی ماں کو قتل کیا بلکہ باپ کو بھی چھین لیا تھا۔اور محبتیں جب نفرتوں کا روپ دھار لیں تو بہت تباہی لاتی ہیں ۔
میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔”پہلے کچھ کھا پی لو ورنہ انصاری صاحب نے میری کلاس لے لینا ہے کہ اس کی پری کو کمزور کر کے لے آیا ہوں ۔“
وہ کھل کھلا کر ہنسی۔”جب ہم پہلے قید میں تھے تب ،سمجھ میں نہیں آتا تھاکہ آپ ہمارا اتنا خیال کیوں رکھتے ہیں ،اتنی عزت کیوں دیتے ہیں اور کوئی بات بھی نہیں ٹھکراتے۔آپ کی مہربانیاں کسی نچلے درجے کے عاشق کی کوششیں لگتی تھیں جو وہ اپنی امیر محبوبہ کا دل جیتنے کو کررہا ہو۔“
”اگر اصل بات بتا دیتا تو آپ نے بدک جانا تھا۔ میرے پاس اپنی سچائی میں کوئی ثبوت موجود نہیں تھا۔اوربغیر ثبوت کے یہ موضوع چھیڑنا آپ کو مزید متنفر کر سکتا تھا۔اب اپنی خوش قسمتی سمجھوکہ آپ کے قتل کو وگنیش کی نظر مجھ پر پڑی اور کام آسان ہو گیا۔“
”سوری آپ کو بہت زیادہ تنگ کیا،برا بھلا بھی کہااور نفرت تو دل کھول کر کی۔“ذرا سا توقف کر کے اس نے آنکھیں نکالیں ۔”کمی تو خیر آپ نے بھی نہیں چھوڑی تھی۔سچ میں اتنا ڈرا دیا تھا کہ ہم مصنوعی طور پرعزت کرنے پر مجبور ہو گئے تھے۔“
میں ترکی بہ ترکی بولا۔”اور میرے سر میں جگ مارنے کا کارنامہ بھول گئیں ۔“
وہ کھل کھلا کر ہنسی۔”اس کے لیے بھی سوری۔اب کافی کے ساتھ برگراور چکن سینڈوچز منگوا لیں ، بہت بھوک محسوس ہو رہی ہے۔“
اور میں نے اثبات میں سرہلاتے ہوئے ڈاکٹر سجاتا کو آواز دے دی۔
٭٭٭٭٭
رات کو میں نے ڈرائینگ روم میں سونا پسند کیا تھا۔ڈاکٹر سجاتا نے کافی کوشش کی کہ میں خواب گاہ میں لیٹ جاﺅں مگر میں نے انکار کردیا۔پرما اکیلے سونے کی عادی تھی اس لیے اس کے ساتھ ڈاکٹر سجاتا کو سلانا نہیں بنتا تھا۔اور میں نہ تو ڈاکٹر کے ساتھ ایک خواب گاہ میں سو سکتا تھا نہ اسے ڈرائینگ میں سلانا مناسب تھا کہ صنف نازک کے بجائے خود جوکھم اٹھا لینا شیوہ مردانگی ہے۔
رات گئے نجّو کی کال ملی، اس نے مشوررہ چاہنے کے انداز میں پوچھا۔”باس! پرسوں کی فلائیٹ کیسی رہے گی۔“
میں نے حیرانی سے پوچھا۔”جہاز کی سیٹیں کرا رہے ہو؟“
وہ مسمسے انداز میں بولا۔”ڈرائیور کہہ رہا تھا کہ وہ جہاز کا مافق ٹرک اڑائے گا۔“
میں نے ڈانٹا۔”بے شرم انسان سیدھی طرح کیوں نہیں بتاتے۔“
وہ مُسکنت سے بولا۔”سوچا آپ کو تھوڑا سا خوش کر دوں ۔“
میں نے دانت پیسے۔”مجھے خوش کرنا ہے تو صبح کا ناشتا منوج جوشی کے ساتھ مل بیٹھ کر کرو۔“
وہ احتجاجی انداز میں بولا۔”باس !میں توآپ کو اپنا خیر خواہ سمجھ رہا تھا۔اورآپ میرے دشمنوں کا کام آسان کرنے پر تلے ہیں ۔“
”اچھا فضول بکواس چھوڑو اور مطلب کی بات پر آﺅ۔“
وہ تفصیل بتاتا ہوابولا۔” ایک فوجی میجر کی ممبئی سے تبدیلی ہوئی ہے ۔اس کے گھر کا سامان ممبئی سے پٹنہ جا رہا ہے۔پانڈے گڈز ٹرانسپورٹ کمپنی کا ٹرک کرائے پر لیا گیا ہے جس نے آج شام کو نکلنا تھا،مگر اب کل شام کو نکلے گا۔ سامان لوڈ کرنے والے فوجی ہوں گے مگر میں اپنے آدمی مزدوروں کے بھیس میں لے جاﺅں گا تاکہ اپنی مرضی سے سامان کو ترتیب دے کر رکھوا سکوں ۔ اور یقینا مفت کے مزدور ملنے پر وہ شکر کا کلمہ پڑھتے ہوئے آرام کرنے کو ترجیح دیں گے....باقی آپ کی مرضی ہے کہ پٹنہ تک ٹرک میں سفر کرنا چاہتے ہیں یا راستے میں اترنے کو ترجیح دیتے ہیں۔“
میں نے کہا۔”اس کا فیصلہ بعد میں کروں گا،پہلے ممبئی سے نکلا جائے۔“
اس نے مجھے معاوضے کی طرف متوجہ کیا۔”یقینااب نجّو انعام کا حقدار بن گیا ہے۔“
”کام کی تکمیل سے پہلے ہی تمھیں معاوضے کی پڑ گئی ہے۔صبح ہنومان جی ٹاور کی پارکنگ میں پہنچ جاناطے شدہ معاوضا مل جائے گا۔“
وہ صاف گوئی سے بولا۔”نجّو اعتبار تو کسی پر نہیں کرتا،مگر آپ کو آزما چکا ہے ۔“
میں طنزیہ لہجے میں بولا۔”ہاں خود چکر بازیاں کرنے والا دو سروں کو بھی ایسا ہی سمجھتا ہے۔“
وہ شاکی ہوا۔”باس!نجو کی چکر بازی مطلب کے حصول کو ہوتی ہے نہ کہ اپنے گاہکوں کودھوکا دینے کو۔ معاملات میں بالکل کھرا ہوں ۔ورنہ آپ کی خبر دینے کا انعام پچاس لاکھ تک پہنچ گیا ہے اور بتانے والے کا نام بھی صیغہ راز میں رکھنے کا وعدہ کیا جارہا ہے۔“
مجھے اچھا خاصا جھٹکا لگا تھا۔بلاشبہ انعام کی یہ رقم میرے لیے نہیں پرما کے حصول کی خاطر اعلان کی گئی تھی۔ وگنیش شکلا دولت و جائیدا د کے لالچ میں اندھا ہو گیا تھا۔پرما کی خوش قسمتی تھی یاشاید انصاری صاحب کی مناجاتیں تھیں کہ مجھے نہ صرف بروقت پتا چل گیا تھا بلکہ اسے قتل کرانے کو میری ہی خدمات لینے کی کوشش کی گئی تھی۔بلاشبہ یہ فائدہ اپنا راز چھپانے کی وجہ سے حاصل ہوا تھا۔امیر المومنین سیدنا عمر ؓ کا ارشاد ہے ”من کتمہ سرہ بلغ مرادہ“(جس نے اپنا راز چھپایا وہ مراد کو پہنچ گیا)
میں نے طنز کیا۔”تو احسان جتا رہے ہو۔“
وہ ڈھٹائی سے بولا۔”پچاس لاکھ کو ٹھوکر مار رہا ہوں پھر بھی احسان نہیں مان رہے ،حالا ں کہ بدلہ چکانا بالکل آسان ہے۔ بس مجھے مس بھوری کا رابطہ نمبر عنایت کر دو۔“اس نے لورا براﺅن کو یاد کیا۔
میں ہنسا۔”شاید اس کی پہلی تواضع کے اثرات معدوم ہو چکے ہیں ۔“
وہ عاشقانہ لہجے میں بولا۔”باس!قسم سے سالی دل چھین کر لے گئی ہے۔“
”میرے پاس فضول بک بک کا وقت نہیں ہے یار۔“
وہ تیزی سے بولا۔”کل بات ہو گی۔اپنی راجکماری کوسلام کہہ دینا۔“اور بغیر میراجواب سنے رابطہ منقطع کر دیا۔
ممبئی سے باہر نکلنا ہی بہتر تھا۔گو ہفتے ڈیڑھ تک وشواس سنگھ میرے بھاگنے کا بندوبست کر دیتا، مگر اتنے دن وہاں گزارنا مجھے مناسب معلوم نہیں ہو رہا تھا۔کیوں کہ وگنیش شکلا کو اگر اتفاق سے میرا ٹھکانہ معلوم ہو جاتا تو ہمیں مرنے سے دنیا کی کوئی طاقت نہیں بچا سکتی تھی۔کرن چاولہ کے خطرے کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تھا۔ جبکہ پورے انڈیا میں ہمیں تلاش کر لینا بھوسے کے ڈھیر سے سوئی ڈھونڈنے کے مترادف تھا۔کافی دیر میں اسی مسئلے میں سر کھپاتا رہا اور پھر نیند نے ان خیالات سے جان چھڑا دی۔
٭٭٭٭٭
دوسرے دن صبح سویرے ہی نے نجّو کی کال آگئی تھی ۔وہ پارکنگ میں میرا منتظر تھا۔اسے مل کر معاوضے کی ادائی کی ۔وہیں کھڑے کھڑے چند ضروری باتیں ہوئیں اور میں واپس آگیا۔واپسی پر ڈاکٹر سجاتا جاگتی ہوئی ملی تھی۔ناشتا وغیرہ اکٹھے کر کے میں نے اسے زبردستی ہسپتال بھیج دیا تھاتاکہ اس کی روز مرہ متاثر نہ ہو۔فلیٹ بھی باہر سے قفل کرنے کا کہہ دیا تھا۔
پرما ،ڈاکٹر سجاتا کے لیپ ٹاپ پررات گئے تک فلمیں دیکھتی رہی تھی ،اس لیے کافی دیر سے اٹھی۔تازہ دم ہو کر وہ خود باورچی خانے میں گھس گئی تھی۔میں بھی پیچھے چلا گیا کہ نازوں پلی امیرزادی کو جانے ناشتا بنانا آتا بھی تھا یا نہیں ۔
مجھے دیکھ کر وہ خوش دلی سے بولی۔”شکریہ کہ آپ آگئے،ورنہ ہمارا کافی نہ بنانے کا ریکارڈ ٹوٹ جاتا۔“
میں ہنسا۔”ریکارڈ تو خیر ضرور ٹوٹے گا کیوں کہ میں چائے یاکافی بنانے کا طریقہ سکھاﺅں گا۔بنا کر نہیں دوں گا۔“
اس نے منہ بنایا۔”ہم بچے نہیں کہ طریقہ نہیں پتا۔“
”پھر بھی پہلی بار کوئی کام کرتے وقت رہنما کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔“
وہ اداس ہو گئی تھی۔”مذاق کر رہے تھے،ورنہ پاپا صرف ہمارے ہاتھ کی بنی کافی پیتے تھے۔“
میں نے کہا۔”وہ آج بھی اپنی پری کے ہاتھ کی بنی کافی کو ترس رہے ہیں ۔اور ان شاءاللہ جلد ہی ان کا سپنا تعبیر کا چولا پہننے کو ہے۔“
”پتا نہیں کب وہ لمحے آئیں گے۔“حسرت بھرے لہجے میں کہتے ہوئے اس نے الیکٹرک کیتلی میں دودھ ڈال کر بٹن آن کر دیا۔میں فرج کھول کر دوسرے لوازمات نکالنے لگا۔
پر تکلف ناشتے کرا کر میں اسے ممبئی سے نکلنے کی تفصیلات بتانے لگا۔
اس کی آنکھوں میں پریشانی جھلکی۔”ہم ٹرک میں کیسے سفر کریں گے۔“
میں اطمینان سے بولا۔”ٹرک کی بھی سیٹ پر نہیں ،باڈی میں سفر کرنا پڑے گا۔اور براہ مہربانی پاکستان پہنچنے تک عیش و آرام کو بھول جاﺅ۔راستے میں کافی مشکلات پیش آسکتی ہیں۔ بہتر ہو گا میرے لیے زیادہ پریشانیاں پیدا نہ کرنا۔“
اس نے منہ پھلا یا۔”جب ہم ساتھ نہیں جا رہے تھے تو منتیں کر رہے تھے،اب طعنے دینا شروع کر دیے۔“
میں نرمی سے بولا۔”طعنے نہیں دے رہا ،سمجھا رہا ہوں ۔ہم سیر و تفریح کو نہیں جا رہے دشمنوں سے بچ کر بھاگ رہے ہیں اس لیے عارضی طور پر آرام و آسائشوں کو بھولناہوگا۔“
وہ شوخی سے بولی۔”خیال رہے جتنے نظر آتے ہیں نا، اس سے تھوڑا زیادہ ہی نازک ہیں ۔“
”آپ کی نزاکت و کمزوری تو تب مدنظر رکھتا جب مستقبل کے واقعات میری منشا کے مطابق پیش آتے۔مگر مقدر لکھنے والا کوئی اورہے۔“
منہ بناتے ہوئے کہنے لگی۔”بھگوان،خدااور اللہ(تعالیٰ) کا وجودبس اپنی کجیوں ،کمزوریوں اورنالائقیوں پر پردہ ڈالنے کو انسان نے ایجاد کر لیا ہے ۔براہ مہربانی سب کچھ اپنے اللہ(تعالیٰ)پر چھوڑ کر حفاظتی تدابیر سے لا غرضی نہ برتنا۔“
”ہر تخلیق ،خالق کی متقاضی ہوتی ہے۔برتن، کپڑے ،مکانات، گاڑیاں ،ہوائی جہاز،راکٹ الغرض ہر چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی چیز کے بنانے والے کا وجود تسلیم کرتی ہواورچاند ،ستارے،انسان، جانور، درخت، پھل ،پھول ،پانی اورکائنات کی کروڑہا اکمل تخلیقات کے وجود کو بغیر خالق کے تسلیم کر تی ہو۔یقینا اللہ پاک ستار ،ہے کہ اس نے احمقوں کے سینگ نہیں بنائے ورنہ کسی کو پہچاننے کواس کی زبان کا سہارا نہ لینا پڑتا، سینگ دیکھتے ہی بندہ کنارا کرتا کہ اس سے بحث نہ کرنااحمق ہے۔“
وہ اطمینان سے بولی۔” سب مادے کا کھیل ہے جناب۔“
”جانتی ہو آپ کی سائنس کے جتنے اصول ،ضوابط اور نظریئے ہیں یہ ایک ”کیوں “کا جواب نہیں دے سکتے ۔زمین کو بے جان کہتے ہواور گندم کے بیج ڈالتے وقت ذرا بھی اندیشہ نہیں کرتے کہ چنا اگے گا، کیوں ؟ ایک ہی بیج سے اگنے والے پودے ،کے تنے کا رنگ اور ہوتا ہے،پتے سبز ہوتے ہیں اور پھول سرخ ،سفید،نیلا، پیلا....جب جڑ کو پانی و خوراک تو ایک جیسی مل رہی ہے پھر تخلیق میں اختلاف کیوں ؟ بلکہ بعض اوقات ایک پھول کی آدھی کلی سفید اور آدھی سرخ ہوتی ہے۔کیوں ؟....انسان کی زبان ہے ،جانوروں کی بھی زبان ہے انسان بول سکتے ہیں جانور نہیں بول سکتے کیوں ؟....ستارے و سیارے اپنے اپنے مدار میں گردش کر رہے ہیں یہ ایک دوسرے سے کبھی نہیں ٹکراتے....کیوں ؟....ڈیزل و پٹرول سے مشینیں چلتی ہیں ،پانی سے نہیں چلتی کیوں ؟.... آپ ڈاکٹر بن رہی ہیں اور مجھ سے کئی گنا بہتر جانتی ہوں گی کہ ایک انسان کے جسم میں لاکھوں کیوں مقید ہیں ۔انسان کو سانس لینے کو آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے کاربن ڈائی اکسائیڈ کی کیوں نہیں ،آنکھوں سے کیوں دکھائی دیتا ہے۔ کان کیوں کر سن سکتے ہیں ....سردی گرمی کا احساس کیوں ہوتا ہے....ایک لمبی فہرست ہے....“
وہ قطع کلامی کرتے ہوئے بولی۔”اور ہمارے پاس آپ کے ہر”کیوں “کا جواب موجود ہے بس تفصیل کا متقاضی ہے۔“
میرے چہرے پر للکارتی ہوئی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔”ایسا بس آپ سمجھتی ہیں ۔کیوں کہ آپ کی لمبی تفصیل کا اختتام جس نقطے پر ہوگا اس کے آگے ایک کیوں سوالیہ نشان کی صورت آپ کے علم کو للکار رہا ہوگا۔“
وہ ترکی بہ ترکی بولی۔”اور ایسا بس آپ سمجھتے ہیں ۔“
میں اعتماد سے بولا۔”اچھا انسان جب مر جاتا ہے تو میڈیکل سائنس کہتی ہے کہ اس کے بعد بھی اس کے اعضاءکچھ دیر زندہ رہتے ہیں ۔اور یہی وجہ ہے کہ آج کل تبدیلی قلب،نئی آنکھیں لگنا،اور گردوں وغیرہ کی پیوند کاری ممکن ہو سکی ہے۔میرا سوال یہ ہے کہ انسان کے جسم سے کیا چیز نکلی ہے جووہ مرگیا۔دل خون پمپ کر رہا ہے،آنکھوں کی پتلیوں میں دیکھنے کی صلاحیت موجود ہے،ہاتھ پاﺅں سلامت ہیں ،ذرہ برابر کمی نہیں ہوئی تو مر کیسے گیا؟....کون سی چیز اس کے جسم سے نکلی کہ اب وہ نہ حرکت کر سکتا ہے اور نہ بول سکتا ہے اور اگر ویسے ہی اس کا جسم پڑا رہے تو ایک دن بعد بدبو پیدا ہونا شروع ہو جائے اور دو تین دنوں کے اندر گل سڑ کر سارا گوشت ہڈیا ں علیحدہ علیحدہ ہو جائیں ۔جبکہ کوما میں پڑا ہوا شخص سالہا سال بستر پر پڑارہتا ہے مگر اس کا گوشت گل سڑ کر بدن سے علیحدہ نہیں ہوتا۔حالاں کہ اس میں اورمردے میں بس سانس لینے کا فرق ہوتا ہے۔“
وہ گلا کھنکارتے ہوئے بولی۔”دیکھیں میڈیکل سائنس اس کی تحقیق میں لگی ہے۔جلد ہی جواب ڈھونڈ لے گی....“
میں طنزیہ انداز میں بولا۔”اور ایسا لاکھوں کروڑوں احمق سمجھتے ہیں ۔جن میں کئی خود قبر کی آغوش میں پہنچ گئے ہیں ۔“
وہ للکارتے ہوئے بولی۔”تو آپ دے دیں جواب۔آپ کے پاس بھی تو کوئی جواب نہیں ہے۔“
”کیوں نہیں ہے....صاف جواب ہے کہ اس کی روح نکل گئی ہے۔“
”اورروح کیا ہے؟“طنزیہ انداز برقرار رہا۔
”یہ وہ سوال ہے جو ہمارے نبی پاک ﷺ سے بھی پوچھا گیا ۔اور جواب احکم الحاکمین نے ارشاد فرمایا کہ [روح اللہ کا حکم ہے]اور یہی ہر کیوں کا جواب ہے۔اس کے علاوہ لاکھ سر پھوڑ لو،تحقیقات کر لو،چاند پر پہنچ جاﺅ ،سمندر کی تہہ کھنگال لو،پاتال کا رستہ دریافت کر لوایک کیوں سے سامنا رہے گا۔اور اس کیوں کے بوتھے پر جب تک اللہ پاک کے احسن الخالقین ہونے کا جھانپڑ رسید نہیں کرو گے وہ نہیں سدھرے گی یونھی آنکھیں دکھاتی رہے گی۔سائنس کے اصول و ضوابط،قوانین اور دریافتوں کی پہنچ ”کیسے “ تک ہی ہے ۔”کیوں “تک نہیں ہے۔“
وہ منہ بناتے ہوئے بولی۔”جتنی تگ و دو اپنے خالق کے وجود کو ثابت کرنے کو کر رہے ہیں ، اس سے آدھی کوشش بھی آگے کے سفر کو آسان کرنے کی کرتے تو آپ کے پیارے کمانڈر کی لاڈلی بیٹی یعنی مابدولت جوکھم اٹھانے سے بچ جاتے۔“
”ایک بات یاد رہے،حقیقی مسلمان دنیاوی اسباب کو کبھی بھی غیراہم یا فضول نہیں جانتا۔اپنے مقصد کے حصول کو پوری کوشش کرتا ہے۔چاہے دنیا ہو یا آخرت اس کے لیے تقدیر پر بھروسا کرنے پر اکتفا نہیں کرتا۔ بلکہ اپنی مکمل طاقت،وسائل اور صلاحیتیں استعمال کرنے کے بعد نتائج اللہ پاک پر چھوڑ دیتا ہے۔ہمارے قرآن میں بالکل واضح ارشاد ہوا[لیس للانسان الا ماسعی](انسان کو اتنا ہی ملتا ہے جتنی وہ کوشش کرتاہے)اس لیے بے فکر رہو اپنی کوشش مکمل کروں گا۔“
وہ جان چھڑاتے ہوئے بولی۔”ہمارا قد پانچ فٹ دو انچ ہے اور آپ کی باتوں کی اونچائی کم از کم ساڑھے پانچ فٹ ہوگی۔صاف کہیں تو ساری باتیں ہمارے سر کے بہت اوپر سے گزر رہی ہیں ۔“
میں نے قہقہ لگایا۔”اگر میز پر کھڑے ہو کر سن لیتیں توساری باتیں سمجھ میں آجاتیں ۔“
اس نے پیش کش کی۔”اگر پیسوں کی کمی آڑے آرہی ہے توہمارے اکاﺅنٹ میں کافی رقم موجود ہو گی۔“
میں نے نفی میں سرہلایا۔”تمھارے بینک اکاﺅنٹ پر ان کی گہری نظر ہوگی۔“
کہنے لگی۔”ہمارے پاس کریڈٹ کارڈبھی موجودہے۔“
”جہاں بھی استعمال کیا ،ہماری جگہ ظاہر ہو جائے گی۔کیوں کہ وگنیش شکلاکی اس پر سختی سے نظر ہو گی۔“
اس نے تشویش ظاہر کی۔”پھر کیا کیا جائے۔“
میں نے تسلی دیتے ہوئے کہا۔”فکر نہ کرو میں سنبھال لوں گا۔“
اس نے فراخ دلی سے پیش کش کی۔”ہمارابریسلٹ (کنگن )ٹاپس اور لاکٹ بہت قیمتی ہیں ۔گرینڈ پا نے تحفے میں دیے تھے،کہیں رقم کی رکاوٹ پیدا ہو تو بتانا ہم بیچ دیں گے۔“
میں نے نفی میں سرہلایا۔”کہا نا پیسوں کا مسئلہ نہیں ہے۔“
وہ بھولپن سے بولی۔”پھر کار وغیرہ کرائے پر لے لونا۔“
”میرا خیال ہے ہوائی جہاز زیادہ مناسب رہے گا۔“
”یہ ٹھیک ہے۔“وہ خوشی سے چہکی۔”اور خرچے کی فکر نہ کروہم پاپا سے لے کر ایک ایک پائی ادا کر دیں گے۔“
”نہ بھئی،ادھار نہیں چلے گا۔“خود کو سنجیدہ ظاہر کرتے ہوئے میں نے نفی میں سرہلایا۔”پہلے بھی آپ پر کافی خرچ کر چکا ہوں ۔جس کی واپسی کا بھی وعدہ ہوا تھا۔وہ رقم ملی نہیں اور مزید خرچا۔“
وہ تنک مزاجی سے بولی۔”وہ بھی دے دیں گے،کہیں بھاگے نہیں جا رہے۔اگر یقین نہیں آتا تو ہمارا لاکٹ گروی رکھ لو۔“
میں متبسم ہوا۔”جانتی ہو ٹرک کے انتظام پر کتنے پیسے خرچ کر رہا ہوں ۔“
اس نے منہ بسورا۔”ہزار ،پندرہ سو ہی لیے ہوں گے نا؟“
میں نے دھماکا کیا۔”بیس ہزار ڈالر۔“
”کک....کیا۔“وہ ہکلائی۔”اتنے کی تو بہترین کار خریدی جا سکتی ہے۔“
”مسئلہ کرائے کا نہیں چھپ کر نکلنے کا ہے محترمہ۔“
”پھر بھی یہ بہت زیادہ ہیں ۔“
میں نے کہا۔”اور آپ کی جان کتنی قیمتی ہے،اس بارے انصاری صاحب ہی بتا سکتے ہیں “
اس نے پوچھا۔”یہ پیسے پاپا نے دیئے تھے؟“
میں اطمینان سے بولا۔”مجرموں کا مال ہے جو مجرموں کو لوٹا رہا ہوں ۔“
٭٭٭٭٭
شام کو نجّو کی کال موصول ہوئی۔رسمی کلام کے بعد وہ مطلب کی بات پر آیا۔”باس سات بجے ٹرک ڈرائیور اپنے ٹھکانے سے نکلے گا اور امید ہے آٹھ بجے ہنومان جی ٹاور اورسوامی ویوک نند روڈ جنکشن پر پہنچ جائے گا۔بہتر ہو گا آپ پہلے سے وہاں منتظر ہوں ،کیوں کہ ٹرک کو چھوٹی سڑک اور گلیوں میں لانا مناسب نہ ہوگا۔ ڈرائیور کو آپ کا نمبر لکھوا دیا ہے آپ بھی اس کا نمبر درج کر لیں ۔“وہ ڈرائیور کا موبائل فون نمبر بتانے لگا۔
نمبر نوٹ کر کے میں بولا۔”ٹھیک ہے ،ہم پہنچ جائیں گے۔“
”اپنا خیال رکھنا باس!اور مس بھوری کا نمبر یاد سے میسج کر دینا۔“یہ کہتے ہی اس نے میری ڈانٹ سے بچنے کوسرعت سے کال کاٹ دی۔میں نے مسکراتے ہوئے موبائل فون جیب میں ڈال لیا۔
ڈاکٹر سجاتا نے پھیکے لہجے میں پوچھا۔”گویا تیاری مکمل ہو گئی ہے۔“
میں اسے جھڑکتے ہوئے بولا”تم میرے حالات پر غور کیے بغیر خفا ہونے پر تلی بیٹھی ہو۔بھول گیا جب ضرورت تھی تو میں نے خود کال کر کے ٹھکانہ مانگا تھا۔“
وہ خلوص سے بولی۔”خفا تو نہیں ہوں ،پریشان تھی کہ کہیں باہر جانا آپ کے لیے نقصان دہ نہ ہو۔ بہتر ہوتا چند دن میرے فلیٹ میں چھپے رہتے۔یوں بھی جانے کب دوبارہ ملاقات ہو۔“
میں ہنستے ہوئے بولا۔”اپنی شادی کا دعوت نامہ بھیجنا امید ہے پہنچ جاﺅں گا۔“
”وچن دو۔“وہ سنجیدہ ہو گئی تھی۔
میں نے جان چھڑاناچاہی۔”کوشش تو پوری کروں گا۔“
وہ شرماتے ہوئے بولی۔”آپ کی اطلاع کو عرض ہے کہ میری شادی میں رکاوٹ اس خبیث کی وجہ سے پڑی تھی۔ورنہ ڈاکٹر سدارتھ کافی عرصے سے تقاضا کر رہا ہے۔اور اب تو میں نے بھی ہامی بھر لی ہے۔“
میں صاف گوئی سے بولا۔”ابھی جن حالات سے گزر رہا ہوں تو آپ کی شادی تک رکنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔“
وہ پھیکے لہجے میں بولی۔”جانتی ہوں ۔اور بے فکر رہیں خفا نہیں ہوں ۔“
میں نے فلسفہ بگھارا۔” ایک بھائی موجود ہو تو دوسرے کے موجودی ثانوی رہ جاتی ہے۔“
وہ عقیدت سے بولی۔”بھگوان میرے بھائیو ں کی رکھشا کرے،دونوں جہاں رہیں خوش و خرم رہیں ۔مگرسچ یہی ہے کہ ایک کا ہونا دوسرے کی کمی کو پورا نہیں کر سکتا۔“
میں نے کہا۔”تمھاری دعاﺅں کی سخت ضرورت ہے۔“
پرما خواب گاہ سے برآمد ہوئی۔”بڑی دعائیں دی جا رہی ہیں ۔“
گھڑی دیکھتے ہوئے میں سجاتا کو مخاطب ہوا۔”کھانا لگاﺅ،ہم سات بجے نکلیں گے۔“ وہ سرہلاتے ہوئے باورچی خانے کی طرف بڑھ گئی۔
سوئیاں پانچ کے عدد پر جمع ہو گئی تھیں ۔شام کی اَذان کی ہلکی ہلکی آواز سماعتوں میں پڑی اور میں صاف چادر بچھا کر ڈرائینگ روم کے کونے میں نماز پڑھنے لگا۔پرما ،ڈاکٹر سجاتا کے پیچھے باورچی خانے کی طرف بڑھ گئی۔
ڈاکٹر سجاتا نے پر تکلف کھانے کا بندوبست کیا تھا۔کھانے کے بعد میں نے پرما کو احتیاطی تدابیر کے متعلق سمجھایا۔ڈاکٹر سجاتا کو کہہ کر کالا گاﺅن پہلے سے منگوا لیا تھاتاکہ ٹرک تک بہ خیریت پہنچا جا سکے۔
سات بجنے میں دو تین منٹ باقی تھے کہ میں ایس آر ون کا بیگ کندھے پرلٹکا کر چلنے کو تیار ہو گیا۔پرما نے جینز ، قمیص اور ہلکے گلابی رنگ کی جرسی پہنی ہوئی تھی۔میرے کہنے پر اس نے اوپر گاﺅن پہن لیا تھا۔مغربی لباس کی دلدادہ کو گاﺅن میں الجھن تو ہو رہی تھی ،مگر مجبوری تھی۔اس کے ناک بھوں چڑھانے پر میں نے سختی سے تنبیہہ کی تھی۔
”صحیح سلامت پاکستان پہنچنے کے لیے اپنی پسند اور طبعی عادات کو پس پشت ڈالنا ہوگا۔من مانی وہاں کی جاتی ہے جہاں انتخاب کا اختیار موجود ہو۔“
وہ منہ بسورتے ہوئے بولی۔”آپ ہمیں مسلسل ڈرا رہے ہیں اور ڈانٹ بھی رہے ہیں ۔“
میں اطمینان سے بولا۔”کیوں فی الحال آپ میری ذمہ داری ہیں ۔ان شاءاللہ خیریت سے پاکستان پہنچ گئے تو اپنے رویے پر معذرت کر لوں گا۔“
وہ برجستہ بولی۔”اورہم جیسے معاف کر دیں گے۔“ڈاکٹر سجاتا قہقہ لگا کر ہنس دی تھی۔
اچانک میری نظر اس کے پاﺅں کی طرف اٹھی۔فیش ایبل جوتے دیکھ کر میں نے ناک بھوں چڑھائی۔”بی بی آپ شاپنگ کرنے یا کسی تقریب میں نہیں جا رہیں ۔اگر پیدل چلنا یا بھاگنا پڑ گیا تو ان سینڈلوں کے ساتھ کیسے کر پاﺅ گی۔“
وہ چونکی۔”کک....کیا مطلب بھاگنے کا۔ہم تو ٹرک میں سفر کرنے والے ہیں ناں ؟“
میں نے کہا۔”ٹرک میں سفر کرنا ہمارا منصوبہ ہے۔اور مستقبل کے حالات ہماری منشا نہیں اللہ پاکی کی مرضی کے محتاج ہوتے ہیں ۔“
جاری ہے
قسط نمبر 60
ریاض عاقب کوہلر
میں نے کہا۔”ٹرک میں سفر کرنا ہمارا منصوبہ ہے۔اور مستقبل کے حالات ہماری منشا نہیں اللہ پاکی کی مرضی کے محتاج ہوتے ہیں ۔“
وہ بگڑ کر بولی۔”تو کیا پہنوں ۔“
میں ڈاکٹر سجاتا کی طرف متوجہ ہوا۔”آپ کے پاس سپورٹس شوز یا کوئی بند جوتے ہوں گے۔“
اس نے اثبات میں سرہلایا۔
پرما نے ناک بھوں چڑھائی”ہم کسی اور کے جوتے نہیں پہنیں گے ۔“
ڈاکٹر سجاتا کے چہرے پر انقباض پھیل گیا تھا۔
میں پرما کے اعتراض کو نظر انداز کرتا ہوا سجاتا کو بولا۔”لے آﺅ۔“
وہ جوتوں کے ریک سے دو جوڑے بوٹ اٹھا لائی۔سفید رنگ کے تسموں والے سپورٹس شوز تھے اور بغیر تسموں والے مضبوط کینوس کے بوٹ جن کا تلوا ہموار،لچکدار اور مضبوط تھا۔مجھے بغیر تسموں کے بوٹ بہت پسند آئے تھے۔کیوں کہ ان کا پہننا ،اتارنا، بھی آسان تھا۔اور ان میں دوڑنا،بھاگنا ،چلنا بھی سہل تھا۔
میں نے وہ بوٹ پرما کی طرف بڑھائے۔”یہ پہن لوان میں پاﺅں بھی گرم رہیں گے اور .... ....“
وہ قطع کلامی کرتے ہوئے بے پروائی سے بولی۔”ضرورت پڑنے پر ننگے پاﺅں بھاگ لیں گے،مگر یہ نہیں پہن سکتے۔“اور پھر ڈاکٹر سجاتا کی طرف متوجہ ہوئی۔ ”شما چاہتے ہیں دیدی!ہمارا مقصدہرگز آپ کی توہین نہیں ہے۔ لیکن ہم کسی اور کی چیز استعمال نہیں کر سکتے۔“
جوتے فرش پر اچھالتے ہوئے میں نے بڑی مشکل سے غصہ قابو کیا ۔اور گہرا سانس لیتے ہوئے انھیں آگے کا لائحہ عمل بتانے لگا۔”پارکنگ تک دونوں گپ شپ کرتے ہوئے جاﺅ....اور ڈاکٹر کی کار میں بیٹھ کر نکل جاﺅ۔آپ دونوں ڈاکٹر کی کار میں ٹرک تک جاﺅ گی۔اور میں پیچھے اپنی کار میں اکیلا آﺅں گا۔“
وہ سرہلاتے ہوئے آگے بڑھ گئیں ۔تبھی میں نے بغیر تسموں والے جوتے اٹھا کر ایس آرون کے بیگ میں گھسیڑ دیئے تھے۔کیوں وہ کم عقل تھی،ایک دم حالات سے ناواقف و انجان ۔جبکہ میں طویل عرصے سے عملی میدان میں رگڑا کھا رہا تھا۔اور اچھی طرح جانتا تھا کہ حادثات کیسے وقوع پذیر ہوتے ہیں ۔
لمحہ بھر انتظار کر کے میں باہر نکلا،وہ لفٹ کے انتظار میں کھڑی تھیں ۔ اسی وقت لفٹ وہاں آکر رکی اوروہ اندر گھس گئیں ۔میں سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا۔میرے نیچے پہنچنے تک وہ لفٹ سے نکل کرلوہے کی سلاخوں سے بنے عمارت کے داخلی دروازے سے باہر جا چکی تھیں ۔
دروازے پر ایک چوکیدار ہر وقت موجود ہوتا تھا۔اور آنے جانے والوں سے وہ کم ہی تعرض کرتا تھا۔ اس وقت چوکیدار کے ساتھ جینز والے دو جوان بھی کھڑے تھے۔میری چھٹی حس نے انھیں دیکھ کر خطرے کا سگنل دیا لیکن ،میں واپس مڑنے کا موقع کھو چکا تھا۔میرے دائیں ہاتھ کی انگلیاں جیکٹ کی جیب میں گلاک نائینٹین کے دستے کے گرد لپٹ گئی تھیں ۔
چوکیدار مجھے دیکھ کر ہلکے سے کچھ بڑبڑایا۔تبھی ایک جوان نے ہاتھ اٹھا کر مجھے قریب آنے کا اشارہ کیا۔ میں ایک دم نتیجے پر پہنچ گیا تھا۔وہ داخلی دروازے پر کھڑے ہو کر چوکیدار سے ہر آنے جانے والے کی شناخت پوچھ رہے تھے۔یقینا عمارت کے مکینوں کو چوکیدار اچھی طرح سے پہچانتا تھاتبھی ان سے تعرض نہیں کیا جا رہاتھا۔اور نئی شکل دیکھتے ہی چوکیدار اسے مطلع کردیتا تھا۔
میں پر اعتماد انداز میں چلتا ہوا اس کے قریب پہنچا۔ایک نے جیب سے ایجنسی کا مخصوص کارڈ نکال کر میری آنکھوں کے سامنے لہرایا۔
”اسپیشل ایجنٹ ونود کمار....آپ کی شناخت جان سکتا ہوں ؟“
میں اطمینان سے بولا۔ ”انوپ مشرا ۔“اور اپنا نقلی شناختی کارڈ اس کی طرف بڑھا دیاجو دھرمودادا نے تیار کرا کے دیا تھا۔
شناختی کارڈ کے مندرجات پر نظریں دوڑا کر اس نے کارڈ واپس کیا۔”آپ کی یہاں آمد کا مقصد پوچھ سکتا ہوں ۔“
”مس پاربتی سے ملاقات کو آیا تھا۔“
ونود نے سوالیہ نظروں سے چوکیدار کو گھورا۔اس نے بے بسی سے کندھے اچکائے۔”سر میں تمام رہائشیوں کے نام نہیں جانتا،البتہ شکل سے پہچانتا ہوں ۔“
ونود نے رسمی ندامت ظاہر کی۔”زحمت کے لیے شما چاہتا ہوں ،لیکن کیا آپ مس پاربتی سے تصدیق کرا سکتے ہیں ۔“
میں اطمینان سے بولا۔”بالکل کرا سکتا ہوں سر! آپ کو میرے ساتھ چلنا ہوگا۔“
وہ اپنے ساتھی کو مخاطب ہوا۔”تم یہیں رکو۔“
اس نے اثبات میں سرہلایا۔
”سرکیا وجہ جان سکتا ہوں ؟“خوش دلی سے کہتے ہوئے میں پیچھے مڑا۔
میرے اعتماد نے اسے شش و پنج میں ڈال دیا تھا۔میرے ساتھ قدم بڑھاتے ہوئے وہ نرم لہجے میں بولا۔”روز مرہ کی چیکنگ ہے۔“
میں نے مشورہ دیا۔”پانچویں منزل پر جانے کو لفٹ کا انتظار بہتر رہے گا۔“
”ہونہہ!“اس نے ہنکارا بھرنے پر اکتفا کیا۔
لفٹ میں ایک ادھیڑ عمر جوڑا بھی ہمارے ساتھ سوار ہوا جو دوسری منزل پر اتر گئے۔دروازہ بند ہو کر جونھی لفٹ نے حرکت کی ایک دم میرا ہاتھ جیکٹ کی جیب سے باہر آیا،سائیلنسر لگے گلاک کی نال ونود کی طرف اٹھی تھی۔
وہ زہریلے تبسم سے بولا۔”بڑی جلدی ظاہر ہو گئے مہاراج!“
میں اطمینان سے بولا۔”ظاہر ہونا پڑتا ہے بالک!البتہ تم تلاشی کی وجہ سے پردہ اٹھا کر جان بچا سکتے ہو۔“
”تمھاری کار کے ماڈل، رنگ اور نمبرکو شوبھا منزل کے دو تین مکینوں نے یاد رکھا۔آج سہ پہر کو تمھاری کار کو تلاش کر لیا گیا۔اور تب سے عمارت خفیہ اہلکاروں کے گھیرے میں ہے۔مخلصانہ مشورہ یہی ہے کہ گرفتاری دے کر جان بچا لو۔“
لفٹ پانچویں منزل پر رک گئی تھی۔دروازہ کھلنے سے پہلے میں نے اس کے کندھے کے گرد بازو گھما کر پستول کی نال اس کی پسلیوں میں چبھو دی تھی۔”اور میرا مشورہ ہے اپنی جان بچانے پر دھیان دو۔“
لفٹ سے باہر دو تین آدمی موجود تھے۔میں ونود کے ساتھ قدم ملاتے ہوئے باہر آیا۔لفٹ کے روانہ ہوتے ہی میں ایک قدم پیچھے ہٹا اور سرعت سے پستول کی نال سے پکڑتے ہوئے دستہ اس کے سر پر رسید کر دیا۔
”اوغ۔“کی دردناک کراہ کے ساتھ وہ لمبا پڑ گیا تھا۔اسے گھسیٹ کر ایک کونے میں ڈالا اور دوڑتے ہوئے سیڑھیاں اترنے لگا۔ساتھ ہی موبائل نکال کر ڈاکٹر سجاتا کا نمبر ملا دیا تھا۔
اس نے چھوٹتے ہی پوچھا۔”آپ کہاں رہ گئے ہیں ۔“
میں نے پوچھا۔”تم پارکنگ سے نکل گئی ہو؟“
وہ فوراََ بولی۔”چار پانچ منٹ ہو گئے ہیں ۔“
میں نے سرعت سے منصوبہ بتایا۔”میرا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں پری کو ٹرک میں سوار کرادو۔ میں فی الحال پھنس گیا ہوں ،اگر وقت پر پہنچ گیا تو ٹھیک ہے ورنہ ٹرک کو روانہ کر دینا،مجھے راستے کا پتا ہے ،اس کے پیچھے پہنچ جاﺅں گا۔“
”ہوا کیا ہے؟“سجاتا نے پریشانی ظاہر کی۔
”تفصیل بتانے کا وقت نہیں ہے ٹی وی پر دیکھ لینا۔“کہتے ہوئے میں نے رابطہ منقطع کردیا ۔
نچلی منزل پر پہنچتے ہی بجائے دروازے کا رخ کرنے کے میں دائیں طرف مڑ گیا۔عمارت کی چاردیواری، تین فٹ پختہ اینٹوں کی دیوار اور اس کے اوپر لوہے کی تین تین فٹ لمبی سلاخیں لگی تھی۔سلاخوں کا عمودی سراتیر کی انی کی طرح بنایا گیا تھا۔مگر وہ صرف نمونہ تھا،اصل تیر کی طرح نوک دار ہرگز نہ تھے۔اس لیے سلاخوں کے اوپر سے گزرنا چنداں دشوار نہ تھا۔فرار کی سمت کا چناﺅ تو وہاں آمد کے ساتھ ہی میں نے کر لیاتھااور اس متعلق پہلے کئی بار وضاحت کر چکا ہوں بار بار دہرانا اچھا نہیں لگتا۔
سنائپرکے خطرے کا سدباب میں کوشش کے باوجود نہیں کر سکا تھا ۔کیوں کہ اگر ہنومان جی ٹاور ہی کی چھت پر کوئی سنائپر بٹھا دیا جاتا تووہ چاروں اطراف کا دھیان رکھ سکتا تھا۔
ونود کے بہ قول میں چاروں طرف سے گھیرا جا چکا تھا۔ایسا جانے ڈرانے کو کہا تھا یا حقیقت یہی تھی یہ چند لمحوں میں پتا چل جانا تھا۔
بھاگتے ہوئے میرے دائیں ہاتھ نے جیکٹ کی جیب میں پستول کے دستے کو جکڑا ہوا تھا۔
ہنومان جی ٹاور جس کالونی میں تھا،اس کے چاروں جانب سڑک موجو دتھی۔پارکنگ عمارت کے شرقی جانب بنی تھی ،جہاں سے سیمٹڈ روش، لنک روڈ تک چلی گئی تھی۔یہ لنک روڈ ہنومان جی ٹاور کے چاروں اطراف پھیلا تھا،مگرباقی جوانب درمیان میں دوسری عمارتیں موجودتھیں ۔ شمالی سڑک جنگلے سے پندرہ بیس گز سے زیادہ دور نہ تھی۔اور سڑ ک کے دوسری جانب بھی مکانات موجود تھے۔شمال ہی کی جانب ہنومان جی ٹاور کے قریب کسی کا چھوٹا سا مکان تھا۔ایک راستہ ہنومان ٹاور اور اس مکان کے درمیان سے ہو کرمغربی جانب جاتا تھا۔اس مکان کے بعد غربی جانب چند اور عمارات بھی تھیں ۔
جنگلا عبور کرنے کو میں نے ایسی جگہ کا انتخاب کیا تھا جہاں پر داخلی دروازے سے نظر نہیں ڈالی جا سکتی تھی۔ارادہ یہی تھا کہ سڑک عبور کر کے شرقی کالونی میں گھسا جائے۔عمارت سے باہر آتے ہی میں بہ مشکل چند قدم لے پایا تھا کہ اچانک ایک استہزائیہ آواز نے مجھے ٹھٹک کر رکنے پر مجبور کر دیا۔
”ایسی بھی کیا جلدی ہے مہاراج! جل پان،بھوجن، کوئی اور سیوا،آخر ہم آپ ہی کے منتظر تھے۔“
قدم روکتے ہوئے میں گھوما،دو جوان ہاتھوں میں انساس رائفل پکڑے کھڑے تھے۔(اس رائفل بارے پہلے تفصیل سے بتا چکا ہوں )ایک کی چھوٹی چھوٹی داڑھی اور گھنی مونچھیں تھیں ،جبکہ دوسراکلین شیو تھا۔ کلین شیو عمر میں بڑا لگ رہا تھا۔کلین شیو کے ہونٹ ہلانے پر اندازہ ہوا کہ پہلے بھی اسی نے بات کی تھی۔
”یقینا ہاتھ اٹھانے کے فوائد پر بھاشن دینا وقت کا ضیاع ہوگا۔“
ہاتھ اٹھانے کی صورت میں میں نے پھنس جانا تھا۔ایک فائدہ یہ تھا کہ پستول کا دستہ میرے ہاتھ میں تھا۔لیکن مسئلہ یہ تھا کہ پستول جیب میں ہونے کی وجہ سے سو فیصد درست نشانہ سادھنا مشکل تھا۔حالات ایسے نہیں تھے کہ سوچوں میں زیادہ دیر گزاری جا سکتی۔
شطرنج کی بساط پر موجود مہرے کو چلانے کو وقت کی کمی نہیں ہوتی،جواری کو تاش کا پتا پھینکنے کو منہ مانگا وقت میسر ہوتا ہے۔چوسر کی گوٹ کو حرکت دینے کو تیزی کی ضرورت نہیں ہوتی۔لیکن عملی زندگی میں موت سر پر دوپہر کے سورج کی طرح منڈلا رہی ہوتی ہے اور فیصلہ سیکنڈ کے دسویں ،بیسویں حصے میں کر کے عمل کر گزرنا ہوتا ہے۔اگر میں اپنی گزشتہ زندگی کا تجزیہ کرنے بیٹھوں تو یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ مقدر اسی کا ساتھ دیتا ہے جو پہل پن اور کوشش کا دامن نہیں چھوڑتا۔ کامیابی اسی کا نصیب بنتی ہے جس نے ہاتھ پاﺅں ہلائے۔ خطرے سے محفوظ رہنے کو خطرہ مول لینا پڑتا ہے۔حادثہ ٹالنے کو حادثہ کر گزرنا ہوتا ہے۔گولی سے بچنے کو گولی چلانا پڑتی ہے۔مرنا نہیں چاہتے تو مارنا پڑتاہے۔
گو پستول کے جیب کے اندر ہونے کی وجہ سے درست نشانہ سادھنا مشکل تھااور گولی کا ہدف سے چوکنا ان کی زندگی کو خطرے میں ڈال سکتا تھا۔مگر یہ ان کا مسئلہ تھا،میرا مسئلہ جان بچا کر بھاگنا تھا۔دوران کورس انسٹرکٹر کہا کرتے تھے ”سوچو اور کر دو۔“میں نے بھی سوچنے کے ساتھ ہی دو مرتبہ لبلبی دبا دی تھی۔
ہمیشہ نشانہ سادھنے کو پستول کی بیرل کو ہدف کی سیدھ میں کرنا ضروری ہوتا ہے۔اور جیب میں پڑے پستول کی نال کو ہدف سیدھ میں تاننا اندازے ہی سے ہو سکتا تھا۔اور اندازے کی درستی اتفاق کے مرہون منت ہوا کرتی ہے۔گو یہ اندازہ بھی ایک سنائپر کا تھا،مگر تھا تو اندازہ....گولی کلین شیو کی رائفل سے ٹکرانے کے بجائے کندھے پر،جبکہ داڑھی والے کے پیٹ میں لگی تھی۔کلین شیو کے ہاتھ سے رائفل نیچے گرگئی تھی۔ البتہ داڑھی والا بے ساختہ پیٹ پر ہاتھ رکھ کر نیچے جھکا،لیکن رائفل اس کے ہاتھ میں موجود تھی۔ میں نے پستول جیب سے نکال کر تیسری گولی چلائی ،جو رائفل کے فرنٹ ہینڈ گارڈ پر لگی۔وہ بھی رائفل سے محروم ہو گیا تھا۔
” معذرت کہ ہاتھ اٹھانے کا وقت نہیں ہے۔تمھاری سیوا میں کر دیتا ہوں اور مشورہ یہ دوں گا کہ میرا پیچھا کرنے کے بجائے اپنی جان بچانازیادہ ضروری ہوگا۔“ ان کی طنزیہ گفتگو کا خاطر خواہ جواب دیتا ہوا میں مڑکر بھاگ پڑا۔
سڑک پر چڑھتے ہی ،ہنومان جی ٹاور کی جانب سے ایک تیز رفتار کار قریب آتی نظر آئی۔میں نے بھاگ کر سڑک عبور کی اور دوسری جانب ہلکی سی ڈھلان سے اترا ہی تھا کہ بریکوں کی اونچی چیخ کے ساتھ کار رکی،لگا اب دوڑنا بے کار ہے۔کیوں کہ میں گولی سے زیادہ تیز رفتار نہیں تھا۔انساس رائفل کی اچھی خاصی رینج ہے، اگر صرف پستول کا خطرہ ہوتا تو میں رکنے کی کوشش نہ کرتا۔
”پیٹھ پر گولی کھانے کے بجائے مجھے مقابلہ کرنا مناسب لگا۔ہتھیار میرے ہاتھ میں بھی موجود تھااور گولی ان سے بہتر طریقے سے چلا سکتا تھا۔
گھومتے ہی میرے منہ سے گہرا سانس نکلا تھا۔ممتا دیدی کار سے نکل کر مجھ پر پستول تان چکی تھیں ۔
دھمکی آمیز لہجے میں بولیں ۔”راج بھاگنے کی کوشش کی تو رام قسم گولی چلا دوں گی۔“
میں نے کہا۔”پستول میرے پاس بھی ہے۔“
وہ دھاڑیں ۔”بے غیرت،دیدی کو پستول دکھاتا ہے ۔چلاﺅ گولی، روکا کس نے ہے۔“
مگر اتنا تو وہ بھی جانتی تھیں کہ میں صرف دھمکا سکتا تھا ان پر گولی نہیں چلا سکتا تھا۔جبکہ میں یہ اچھی طرح جانتا تھا کہ وہ بھارت ماتا کی خاطر گولی چلانے سے کبھی دریغ نہ کرتیں ۔
وہ آگے بڑھتے ہوئے باآواز بلند بولیں ۔”بہتر ہو گا گرفتاری دے دو۔“ساتھ ہی آنکھ میچتے ہوئے ان کی سرگوشی ابھری۔”بدھو! پیچھے نہ ہٹو ،مجھے یر غمال بنا کر نکلنے کی کوشش کرو۔تم گھیرے میں آچکے ہو۔“
میرے دماغ کو حیرانی کا جھٹکا لگاتھا،شاید وہ مجھے دھوکے سے پکڑنا چاہتی تھیں ۔کیوں کہ مجھ پر گولی چلاتے ہوئے انھیں بھی جھجک ہو رہی تھی۔
”راج ،میں کہتی ہوں گرفتاری دے دو ورنہ میں گولی چلانے لگی ہوں ۔“چلا کر کہتے ہوئے وہ تھوڑا نزدیک ہوئیں اور تیز سرگوشی میں بولیں ۔”عقل گھاس چرنے گئی ہے بدھو۔“
وہ اتنے قریب آگئی تھیں کہ میری لات کی حدود میں تھیں ۔میں نے ایک دم جسم کو بائیں جھکاتے ہوئے دائیں پاﺅں سے ان کے پستول والے ہاتھ کو نشانہ بنایا۔جھکنے اور لات چلانے میں میں نے سرعت سے کام لیا تھا مگر یہ دھیان ضروررکھاتھا کہ ان کے ہاتھ پر زور سے چوٹ نہ لگے۔
پاﺅں کا ہاتھ سے اتصال ہوتے ہی انھوں نے اس مہارت سے پستول کو دور پھینکا جیسے وہ سچ میں پاﺅں لگنے سے دور جا گرا ہو۔ممتا دیدی کے عقب میں چند مسلح افراد برآمد ہو گئے تھے۔میں نے ایک دم ممتا دیدی کا بازو پکڑ کر مروڑا اور ان کی پیٹھ کو چھاتی سے لگا لیا۔ساتھ ہی پستول کی نال ان کنپٹی پر رکھ کر دھمکی آمیز لہجے میں بولا۔
”اگر حرکت کی تو گولی چلا دوں گا۔“
”تم اتنے بے غیرت نکلو گے،ذلیل کمینے....اپنی دیدی پر گولی چلاﺅ گے۔“وہ مصنوعی غم و غصے سے چلائیں ۔ان کا انداز دیکھتے ہی مجھے یقین ہو گیا کہ وہ دھوکا نہیں دے رہی تھیں ۔
میں اطمینان سے بولا۔”زندگی و موت کی لڑائی میں مخالف کوئی بھی ہو جیت کی کوشش اپنی سلامتی کے حصے میں آتی ہے۔“
وہ تھوڑا سا مچلیں ،مگر ان جیسی تربیت یافتہ ایجنٹ کا اناڑی پن سے خود کو چھڑانے کی کوشش کرنا واضح کر رہا تھا کہ وہ میری گرفت سے نہیں نکلنا چاہتی تھیں ۔”چھوڑ مجھے،میں کہہ رہی ہوں چھوڑو....“مگر ان کا بازو مروڑ کرایک ہاتھ سے بازو پر گرفت جماکر میں نے پستول کی نال ان کی کنپٹی سے لگائی ہوئی تھی۔
”محترمہ زیادہ حرکت کی تو بھیجا اڑا دوں گا،گرفتار ہونے سے پہلے آپ کو انجام تک پہنچا دوں گا۔“
وہ روہانسا ہوتے ہوئے بولیں ۔”تم جیسے بے غیرت، بھائی کے نام پر دھبہ ہوتے ہیں ۔“
”اگر ان کی زندگی چاہتے ہو تو ہتھیار پھینک دو۔“میں ان کے آدمیوں کو مخاطب ہواجو میرے سامنے آدھے چاند کی شکل میں رک گئے تھے۔
ایک بولا۔”تم گھیرے میں ہو،بہتر ہو گا خود کو ہمارے حوالے کر دو۔“
میں نے کہا۔”میرے تین گننے تک اگرتم نے پیچھے نہ ہٹے تو نتیجے کے ذمہ دار خود ہو گے۔ ایک....“
”وقت ضائع نہ کرو،کار میں بیٹھو بدھو....“ممتا دیدی بہ ظاہر غصے میں بڑبڑائیں جیسے مجھے کوس رہی ہوں ۔
میں نے فوراََ انھیں آگے دھکیلا اور گنتی گننا جاری رکھا۔”دو....تین....“وہ الٹے قدم پیچھے ہونا شروع ہو گئے تھے۔کار چند قدم کے فاصلے پر کھڑی تھی۔اگلی نشست کا ڈرائیونگ سائیڈ کے بجائے دوسری جانب کا دروازہ کھول کر میں نے ممتا دیدی کو اندر دھکیلا اور خود بھی اندر ہو گیا۔
”کار چلاﺅ۔“میں زور سے دھاڑا،مگر ممتا دیدی اس سے پہلے ہی ڈرائیونگ سیٹ کی طرف کھسک گئی تھیں ۔میں دوبارہ دھاڑا۔”جلدی کرو ورنہ کھوپڑی میں سوراخ کر دوں گا۔“
کار پہلے سے سٹارٹ کھڑی تھی،ہنڈ بریک چھوڑ کر انھوں نے کار آگے بڑھادی۔ان کے آدمی مڑ کر ہنومان جی ٹاور کی پارکنگ کی طرف بھاگ پڑے،یقینا اپنی کارو ں کی طرف جارہے تھے۔ممتا دیدی تیز رفتاری سے ڈرائیو کرتے ہوئے دور جانے لگیں ،ایک گلی میں گھستے ہی انھوں نے ایک ہاتھ سے اسٹیئرنگ سنبھالتے ہوئے دوسرے ہاتھ سے میرا کان پکڑا۔
”کیا بکواس کر رہے تھے....میں محترمہ ہوں ۔“
پستول گود میں رکھتے ہوئے میں ندامت سے بولا۔”سوری دیدی،جلدی میں بول دیا۔“
وہ سنجیدہ ہوئیں ۔”اب وقت نہیں ہے جلدی جلدی بھارت آمد کا مقصد پھوٹو ۔“
میں اپنا مشن مکمل کر چکا تھا،بغیر ہچکچائے بتایا۔”رندھیر شکلا کی نواسی پرما کو اغواءکرنے آیا تھا جو ہمارے بریگیڈئر صاحب کی بیٹی ہے۔قسم لے لیں دیدی !بھارت سرکار کو نقصان پہنچانے یا کسی راز وغیرہ کی تلاش میں بالکل نہیں آیا تھا۔“
وہ تشویش سے بولیں ۔”دیدی کی جان!تمھاری جان کو خطرہ ہے۔وگنیش شکلا تمھیں اور پرما کو قتل کرانے کو پوری قوت استعمال کر رہا ہے۔کرن چاولہ بھی اس کا ساتھ دے رہاہے۔تمھیں بہت زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔“
میں متبسم ہوا۔”آپ کے لیے توکرن چاولہ ، راہی تھا نا۔“
ان کی آنکھوں میں نمی نمودار ہوئی۔”اب نہیں رہا۔میرے راج کا دشمن میرے کسی جذبے کا امین نہیں ہو سکتا۔“
میں شاکی ہوا۔”دیدی میرا دشمن تو وہ شروع سے ہے۔تب آپ نے بھی اس کا ساتھ دیا تھا۔“
انھوں نے نفی میں سرہلایا۔”تب اس کی دشمنی بھارت سرکار کے مجرم کے لیے تھی۔اب کھل گیا ہے کہ تم شکلا کے دشمن تھے۔اور را کی ذمہ داری دیش کی حفاظت ہے رندھیر شکلا جیسے غلیظ کی حفاظت نہیں ۔زیادہ سے زیادہ یہ پولیس کیس ہے توانھیں سنبھالنے دیا جائے۔یہی بات میں نے کرن کو سمجھانے کی کوشش کی،مگر اس کی آنکھوں پر وگنیش شکلا نے بیس کروڑ کی دبیز پٹی باندھ دی ہے۔بہ ظاہر اس نے میری ہاں میں ہاں ملائی اور درپردہ وگنیش سے گٹھ جوڑ کر لیا۔مگر یہ نہیں جانتاکہ سنیتا جیسوال اتنی گئی گزری نہیں ہے ۔اگر وہ را کا میجر ہے تو سنیتا بھی را کی میجر ہے۔اور اس سے کم روابط نہیں رکھتی۔اگر تم شروع دن سے اپنی دیدی پر اعتماد کر لیتے تو کم از کم مجھے اپنے دل پر جبر کر کے اذیت نہ سہنا پڑتی۔رندھیر شکلا جیسے خبیث کو بچانے کی خاطر میں اپنے راج کو کبھی جلادوں کے حوالے نہ ہونے دیتی۔اس خبیث نے توتمھاری دیدی پر بھی گندی نظر یں گاڑے رکھیں ۔ البتہ میں اتنی گری پڑی نہیں تھی کہ ہاتھ ڈال سکتا۔“
”دیدی آپ دکھی لگ رہی ہیں ۔“جھک کر میں نے ان کے اسٹیئرنگ پر رکھے ہاتھ کوعقیدت سے بوسا دیا۔
میرا سوال نظر انداز کرتے ہوئے وہ مطلب کی بات پر آئیں ۔”میری کار میں ٹریکر لگا ہوا ہے۔اور وہ کلومیٹر بھر کا فاصلہ رکھ کر ہمارے پیچھے آئیں گے۔دوسرا ٹریکر تمھارے کوٹ کے عقب میں چمٹا ہے۔اس لیے میری کار سے اترنے کے بعد بھی تم ان کی نظر میں رہو گے۔وہ بس اس انتظار میں ہیں کہ تم پرما تک ان کی رہنمائی کروتاکہ وہ ایک ساتھ دونوں کو انجام تک پہنچا دیں۔“
میں حیرانی سے ہکلایا۔”مم....میرے کوٹ میں ٹریکر....“
وہ اطمینان سے بولیں ۔”ونودکمار نے لفٹ میں گھستے ہی چپکا دیا تھا۔“
میں نے حیرانی ظاہر کی۔”ٹریکر چپکانے کے بعد اس ڈرامے کی کیا ضرورت تھی۔“
وہ اطمینان سے بولیں ۔”وہ کرن کی چال تھی اور یہ تمھاری دیدی کی تجویز ہے۔میں بہ ظاہر تمھیں پکڑنے پر زور دے رہی تھی۔ مگر اصل مقصد تمھیں بھگانا تھا۔اگر ویسے ہی جانے دیتی تو خطرے سے آگاہ کیسے کرتی۔ اور تمھارے دوست نادر خان عرف نجّو کی تلاش بھی جاری ہے۔کرن اپنے تیئں میری بے خبری میں منصوبے بنا رہا ہے ،لیکن سنیتا اتنی بھی گئی گزری نہیں کہ اس کے منصوبوں سے لا علم رہے۔“
میں تاسف سے بولا۔”وہ بے چارہ پہلے ہی منوج جوشی جیسے اسمگلر سے بھاگا پھر رہا ہے اب نئی مصیبت اس کے گلے پڑ رہی ہے۔“
” نئی نہیں پرانی مصیبت ہی ہے۔بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ منوج جوشی کی حیثیت ہاتھی کے ان دانتوں کی سی ہے جو سب کی نظر میں رہتے ہیں ۔ اصل کرتا دھرتا وگنیش شکلا ہے۔“
میں فکر مندی سے بولا۔”اب کیا کروں ۔“ایک دم لگا کہ میں شدید خطروں میں گھرا ہوں ۔اگر ممتا دیدی اپنی محبت کے ہاتھوں مجبور ہو کر درمیان میں نہ آئی ہوتیں تو کرن چاولہ کا پرما اور مجھے ڈھونڈنا ذرا بھی مشکل نہ ہوتا۔گو خطرہ اب بھی موجود تھا۔کیوں کہ نجّو کے کرن کے ہاتھ میں آتے ہی پرما کے ٹرک تک رسائی مشکل نہ رہتی۔اب مجھے جلد از جلد ٹرک تک پہنچ کر پرما کو قبضے میں لینا تھا۔
”مجھے بے ہوش کر کے نکلنے کی کرو۔لباس تبدیل کرنے کے بہانے کوٹ اتار دینا۔اور سوری کہ تمھیں انڈیا سے نکلنے میں مدد نہیں دے سکتی۔کرن مجھ پر شک کر رہا ہے اور میری سرگرمیوں پر نظر رکھتا ہے۔اسے بھول گیا ہے کہ ایس ایس کی گولی سے اسے کس نے بچایا تھا۔“
میں محجوب ہوا۔”اسے قتل کرنے کا ارادہ نہیں تھا دیدی!بھارت سرکار کے کسی بھی شہری اور سرکاری ملازم کو نقصان پہنچانا نہ تو میرا مطمح نظر ہے اور نہ میرے ملک کا قانون اس کی اجازت دیتا ہے۔یہاں پر میں دفاعی جنگ لڑا ہوں اور حتی الوسع کوشش کی ہے کہ کسی کی جان نہ لوں ۔“
انھوں نے حقیقت اگلی۔”جان نہ لیتے ناکارہ تو کردیتے۔سنائپر کی گولی تو بعض اوقات ہمیشہ کی معذوری مقدر کر جاتی ہے۔اور رہا تمھاری اتّفاقی جنگ کا بہانہ توبدھو،رندھیر شکلا کو کس نے گولی ماری تھی۔“
”وہ لورا براﺅن کی دشمنی بھینٹ چڑھا،کیوں کہ اس نے لورا کے ساتھ زبردستی کی۔اور اسے بلیک میل کر کے ہتھیار ہتھیانے کی کوشش کی۔اور آپ کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ اسلحے کے گودام میں جو دھماکا ہوا تھا وہ رندھیر شکلا نے خود کروایا تھا تاکہ اپنی نالائقی پر پردا ڈال سکے۔“
انھوں نے حیرانی سے پوچھا۔”میں سمجھی نہیں ۔“
میں نے اجمالاََ پرما کے اغواءکے بعد لورا براﺅن کا مطالبہ اور ایس آر ون کی خریداری کا واقعہ دہرا دیا۔
”ہونہہ!“انھوں نے طنزیہ ہنکارا بھرا۔”ایساپہلی مرتبہ نہیں ہوا۔را کا چیف بھی اس کے سامنے بے بس تھا۔بہ ہرحال ،اب میرے سر میں پستول کا دستہ مار کر بھاگنے کی کرو۔اور اپنا بہت زیادہ خیال رکھنا۔“یہ کہتے ہوئے اپنا ہاتھ میرے سر پر رکھ کر وہ شفقت سے سہلانے لگیں ۔
میں نے کہا”اپنا موبائل فون نمبر بتائیں ۔“
انھوں نے اپنا موبائل نمبر بتادیا۔میں نے کہا۔”پرما کو کسی مقصد سے اغواءکر رہا ہوں اس بارے کسی کو کچھ نہ بتانا۔“
”بے فکر رہو۔“انھوں نے اثبات میں سرہلایا۔
میں اگلی ہدایت دی۔”ہمارے عقب میں ایک موٹر سائیکل کی بتی نظر آرہی ہے۔اسے روکیں ۔“
ممتا دیدی نے کار کی رفتار مدہم کرتے ہوئے ہاتھ لہرانا شرع کر دیا۔ان کے کار روکنے تک موٹر سائیکل سوار بھی رک گیا تھا۔ممتا دیدی بولیں ۔
”میں تمھیں روکنے کا ڈراما جاری رکھوں گی۔تم ایک دم پستول کا دستہ میرے سر میں مار کر نکل جانا۔“
میں ہنسا۔”اپنی دیدی کو تکلیف پہنچانے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔آپ کو بے ہوش کرنے کا طریقہ میرے پاس ہے۔“یہ کہہ کر میں پستول تھامے نیچے اترا۔موٹر سائیکل سوار کو اندازہ نہیں تھا کہ اسے کیوں روکا گیا ہے۔
ممتا دیدی چلائیں ۔”راج ،ایسا نہ کرو گرفتاری دے دو....دیکھو میں تمھیں کچھ نہیں ہونے دوں گی۔میں وچن دیتی ہو ں ............“
بیگ سے بے ہوشی کا اسپرے نکال کرمیں دیدی کے قریب ہواجو مسلسل مجھے رکنے کی ترغیب دے رہی تھیں ۔
”سوری دیدی،آپ کے مشورے قابل قبول نہیں ۔اپنا بہت خیال کرنا۔“یہ کہتے ہی میں نے بے ہوشی کا سپرے ان کے چہرے پر کیا۔انھوں نے اسٹیئرنگ ویل پر سرٹیک دیا تھا۔
مجھے پستول بدست دیکھ کر موٹر سوار گھگیایا۔”پپ....پلیز میں بہت غریب آدمی ہوں ۔میرے پاس پیسے نہیں ہیں ۔“
”مجھے بس تمھارا موٹر سائیکل اور گرم جیکٹ چاہیے۔“
”بب....بھگوان کے لیے دیا کرو،بڑی مشکل سے پائی پائی جمع کر کے موٹر سائیکل خریدا ہے۔“وہ رونے پر تیار ہو گیا تھا۔
”کتنے کا خریدا ہے؟“
وہ ہکلایا۔”سس....ستّر ہزار۔“
میں نے سو سو ڈالرکے بیس نوٹ اس کی جانب بڑھائے۔”یہ دو ہزار ڈالر ہیں ۔امید ہے ان سے دو موٹرسائیکل خرید سکو گے۔اور اب وقت ضائع نہ کرو جلدی کرو۔“
مجھے بے یقینی سے دیکھتے ہوئے وہ ہکلایا۔”جج....جی....“
”جلدی کرو۔“میں دھاڑا۔
”جی جی جی ۔“نوٹ پکڑتے ہوئے اس نے سرعت سے کوٹ اتار کر میری طرف بڑھا دیا۔
میں نے اپنا کوٹ اتار کر موٹرسائیکل کے ہینڈل پر رکھا۔اس کا کوٹ پہن کر ہیلمٹ سر پر رکھا اور اسے ہدایت دیتا ہوا بولا۔
”جوان یہ پولیس کی بڑی آفیسر ہے۔اور تمھارے لیے یہاں سے بھاگ جانا زیادہ مفید رہے گا۔ فی الحال موٹر سائیکل چھننے کا ذکر بھول کر بھی کسی سے نہ کرنا ورنہ تفتیش کرنے والے تمھیں ان دوہزار ڈالر سے محروم کر دیں گے۔صبح موٹر سائیکل چھیننے کی رپورٹ تھانے میں جا کرکرا دینا،لیکن ان پیسوں کا ذکر کسی سے نہ کرنا۔“
یہ کہتے ہی میں نے کک لگا کر موٹر سائیکل اسٹارٹ کیا اور گیئر تبدیل کرتے ہوئے آگے بڑھ گیا۔
پہلے ممتا دیدی کی کار کا ٹریکر اور میرے کوٹ کا ٹریکر اکٹھے تھے۔اب ان کی کار کا ٹریکر ایک جگہ رک گیا تھا جبکہ میرے کوٹ پر چپکا ٹریکر حرکت میں تھا۔بلاشبہ تعاقب کرنے والوں کو معلوم ہو جانا تھا کہ میں کار سے نکل گیا تھا۔انھوں نے ممتا دیدی تک پہنچنے میں دو تین منٹ سے زیادہ نہیں لگانے تھے۔
جاری ہے