• 📚 لوو اسٹوری فورم ممبرشپ

    بنیادی ڈیل

    وی آئی پی

    5000
    تین ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    وی آئی پی پلس

    8000
    چھ ماہ کے لیے
    ٹاپ پیکیج
    👑

    پریمیم

    20000
    چھ ماہ کے لیے

Bold Story سیکسی پڑوسن۔۔

Joined
Jun 10, 2025
Messages
934
Reaction score
48,717
Points
93
Location
Karachi
Gender
Male
میرا نام دانش ہے اور میں لاہور میں رہتا ہوں۔ میں ۲۵ سال کا ہوں اور مجھے باڈی بلڈنگ اور چُدائی کا بہت شوق ہے۔ لڑکی یا آنٹی کو چودنے کے لیے میں ہمیشہ کوئی نہ کوئی پلاننگ کرتا رہتا ہوں۔ میری پلاننگ ۷۰٪ وقت کامیاب ہو جاتی ہے، اس لیے میں اپنا تجربہ شیئر کر رہا ہوں کہ میں نے اپنی خوبصورت سیکسی پڑوسن کیسے چودا۔

میرا فلیٹ دوسری منزل پر ہے اور ہمارے سامنے والا فلیٹ کافی دنوں سے خالی تھا۔ ایک دن شام کو جب میں جم سے آیا تو میں نے دیکھا کہ وہاں کوئی آ گیا ہے۔ میں گھر آ کر ابو سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ کسی نے یہ فلیٹ لے لیا ہے اور اب یہ لوگ یہیں رہیں گے۔ میں باہر جا کر دیکھا تو وہاں ایک ۲۷-۲۸ سال کا لڑکا کھڑا تھا اور اس کے ساتھ اس کی ۲۲-۲۳ سال کی بیوی کھڑی تھی۔ دوستو، کیا لڑکی تھی وہ! بالکل گوری، اس کے چہرے پر کوئی داغ نہیں تھا، بہت سیکسی اور چکنا چہرہ تھا۔ اس کی آنکھیں براؤن تھیں اور بڑی نشیلی تھیں۔ اس نے ہلکے نارنجی کلر کی قمیض اور سفید شلوار پہن رکھی تھی اور اس کا فیگر تو یار بس کمال کا تھا — ۳۴-۲۶-۳۸ ہوگا۔ اسے ایک بار دیکھنے والا بس دیکھتا ہی رہ جائے۔ اتنی خوبصورت تھی۔ اسے دیکھتے ہی میرا دل کر گیا کہ میں اسے ضرور چودوں گا۔ میں بس اسے دیکھتا ہی رہ گیا۔ اس کے شوہر نے مجھے دیکھا اور مسکرا دیا۔ مجھے ان سے بات کرنے کا موقع مل گیا۔ میں نے انہیں ہیلو کیا اور فارمل انٹروڈکشن ہو گئی۔ ان سے بات کرنے سے پتا چلا کہ ان کی ابھی ابھی شادی ہوئی ہے اور اس لڑکے کی لاہور میں نئی جاب لگی ہے تو یہ لوگ یہیں سیٹل ہو گئے ہیں۔ اس نے اپنی بیوی سے مجھے ملوایا۔ اس کا نام یاسمین تھا۔ اس نے مجھے دیکھ کر مسکرا دی۔ میں تو یار بس اسے دیکھتا ہی رہا، پھر دھیان آیا کہ ابھی زیادہ جلدی نہیں کرنی چاہیے ورنہ کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔

ایسے کرتے کرتے ایک ہفتہ گزر گیا۔ اب میں نے یاسمین کو پٹانے کا پلان بنانا شروع کیا۔ میں ہمیشہ اسے دیکھتا رہتا تھا۔ اس نے شروع میں تو مجھے دیکھ کر مسکرا دی، پھر بعد میں اس نے مجھے اگنور کرنا شروع کر دیا۔ شاید اسے میری نیت کا پتا چل گیا تھا۔ پر میں نے ہار نہیں مانی اور اسے امپریس کرنے کے لیے ہمیشہ کچھ نہ کچھ کرتا تھا۔ وہ کبھی کبھی ہمارے گھر میری ممی سے باتیں کرنے آ جاتی تھی تو میں فل والیوم پر رومانٹک سونگ چلا دیتا۔ اور جب بھی وہ ٹیرس پر جاتی تو میں بھی چلا جاتا۔ میں زیادہ تر اپنی جینز اور سلیو لیس ٹی شرٹ میں رہتا تھا جس سے میرے بائی سیپس اور چیسٹ مست دکھتے تھے۔ ایک دن اس نے مجھے بتایا کہ تمہاری باڈی بہت اچھی ہے۔ یہ سن کر مجھے بہت اچھا لگا اور میں نے بھی بول دیا کہ آپ بھی بہت خوبصورت ہیں اور آپ جتنی خوبصورت لڑکی میں نے کہیں نہیں دیکھی۔ میں نے اس سے پوچھا کہ تم اتنی خوبصورت ہو پھر تمہارا شوہر اتنے اچھے نہیں ہیں، ایسا کیسے ہوا؟ اس پر اس نے بولا کہ جاوید دل کا بہت اچھا ہے اور وہ اسے بہت پیار کرتا ہے اور اس کے بغیر نہیں رہ سکتی۔ یہ سب سن کر مجھے لگا کہ اسے پٹانے کے لیے تو بہت پاپڑ بیلنے پڑیں گے، پر میں نے بھی سوچ لیا کہ اب تو بس اسے ہی چودوں گا، چاہے جیسے بھی۔ تو میں نے اب اس کا پیچھا کرنا شروع کر دیا۔ وہ کسی بینک میں اسسٹنٹ مینیجر تھی تو میں روز اس کے پیچھے جانے لگا۔ میں اس کا اپنی کار سے پیچھا کرتا تھا اس لیے اسے پتا نہیں لگا۔ ایسے کرتے کرتے دو ہفتے ہو گئے تھے مگر ابھی تک میں کامیاب نہیں ہوسکاتھا۔

ایک دن شام کو جب وہ گھر آ رہی تھی تو بہت ہی ڈسٹرب تھی اور کسی سے فون پر بات کر رہی تھی۔ روز کی طرح میں سیڑھیوں پر اس کا انتظار کر رہا تھا۔ اس نے مجھے دیکھا اور جھٹ سے فون کاٹ دیا۔ میں سمجھ گیا کہ وہ جاوید سے تو بات نہیں کر رہی تھی، ضرور کوئی گڑبڑ ہے۔ میں نے اس سے پوچھا کہ پوچھا سب ٹھیک تو ہے؟ اس نے کہا ہاں اور جلدی سے اپنے فلیٹ میں جا کر فلیٹ لاک کر لیا۔ میری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیا ہوا ہے۔ اگلے دن وہ کچھ جلدی ہی بینک جانے کے لیے نکل پڑی۔ میں بھی اس کے پیچھے پیچھے چل دیا۔ اسے پتا نہیں تھا کہ میں اس کا پیچھا کر رہا ہوں۔ آج وہ اپنے بینک نہیں جا رہی تھی۔ اس نے اپنی کار کسی کیفے کے پاس روکی اور اندر چلی گئی۔ میں بھی کار پارک کر کے اندر چلا گیا۔ اندر میں نے دیکھا کہ وہ کسی لڑکے سے بات کر رہی تھی اور بہت ہی پریشان تھی۔ میری تو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ پھر میں جان بوجھ کر اس کے سامنے سے گزرا۔ مجھے دیکھ کر وہ اور پریشان ہو گئی۔ میں نے اسے دیکھا اور بولا: ارے میم آپ یہاں کیا کر رہی ہو؟ اس نے بولا کہ کچھ نہیں، کلائنٹ سے میٹنگ تھی۔ میں نے بھی مزے لیتے ہوئے کہا: صحیح ہے، بینک کے کلائنٹ سے کیفے میں میٹنگ۔ اور اسے مسکرا کر وہاں سے چلا گیا۔

شام کو وہ آئی اور اس نے مجھے سیڑھیوں میں دیکھا اور کہا کہ ٹیرس پر آ جاؤ، مجھے کچھ بات کرنی ہے۔ میں تو خوش ہو گیا اور بھاگ کر ٹیرس پر چلا گیا۔ اس نے مجھے بتایا کہ وہ اس کا فرینڈ تھا اور پلیز اس کے بارے میں جاوید کو نہ بتانا۔ میں نے اسے بولا کہ ٹھیک ہے، میں جاوید کو نہیں بتاؤں گا۔ اسے اچھا لگا اور میرے پلان کا ایک سٹیپ پورا ہو گیا تھا۔ اب وہ مجھ پر ٹرسٹ کرنے لگی تھی پر ابھی بھی چُدائی کے لیے بہت محنت باقی تھی۔ ہم لوگوں میں اب کافی باتیں ہونے لگیں۔ ایک دن وہ ٹیرس پر اسی لڑکے سے بات کر رہی تھی کہ اس کے فون کی بیٹری لو ہو گئی۔ میں وہیں اپنی ممی کے ساتھ بیٹھا بات کر رہا تھا۔ وہ آئی اور اس نے مجھ سے فون مانگا: پلیز ایک کال کرنی ہے۔ میں نے ممی کو دیکھا، ممی نے بولا دے دو۔ تبھی میرے ذہن میں ایک آئیڈیا آیا۔ میں نے اپنے فون پر ریکارڈر آن کیا جس سے اس کی بات ریکارڈ ہو جائے اور اسے دے دیا۔ وہ فون لے کر چلی گئی اور ۱۰-۱۵ منٹ بعد واپس آئی اور بہت ٹینشن میں دکھ رہی تھی۔ اس نے مجھے میرا فون دیا اور تھینک یو بولا۔ میں بھی بہت خوش تھا کیونکہ ریکارڈر سے اس کی باتیں آٹومیٹک میرے فون میں سیو ہو گئی تھیں۔ میں نے لاسٹ کال والا نمبر دیکھا پر وہ لسٹ میں نہیں تھا۔ یاسمین نے اسے ڈیلیٹ کر دیا تھا۔ پر اسے پتا نہیں تھا کہ کال لاگ میں جا کر واپس نمبر دیکھ سکتے ہیں۔ میں نے اس نمبر کو سیو کر لیا اور ایئر فون لگا کر اس کی ریکارڈڈ باتیں سننے لگا۔ ان کی بات سن کر مجھے پتا لگا کہ وہ لڑکا اس کا پرانا محلہ دار تھا اور وہ اسے بار بار ملنے کو بول رہا تھا۔ یاسمین اسے منع کر رہی تھی تو وہ غصے ہو کر بولا کہ اگر وہ اس سے نہیں ملی تو وہ اس کے شوہر کو بتا دے گا کہ اس نے یاسمین کے ساتھ شادی سے پہلے بہت بار سیکس کیا ہے اور یہ بھی بتا دے گا کہ یاسمین کے لیفٹ ممے اور لیفٹ ٹانگ میں تل ہے جو اسے سیکس کرتے وقت پتا چلا۔ یہ سن کر یاسمین رونے لگی اور اس سے بولی: پلیز ایسا مت کرنا ورنہ اس کا شوہر اسے طلاق دے دے گا اور وہ اس کے بغیر نہیں رہ سکتی۔ پر وہ حرامی بولا کہ اسے یاسمین کو دوبارہ چودنا ہے اس پر یاسمین نے فون کاٹ دیا۔

یہ سب سن کر میری خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا۔ مجھے لگا کہ اب تو میں یاسمین کو اس پرابلم سے نکالوں گا اور ساتھ میں اسے چودوں گا بھی۔ اگلے دن میں نے اس لڑکے کو فون کیا اور اسے بتایا کہ میں یاسمین کا شوہر جاوید ہوں اور یاسمین نے مجھے سب کچھ سچ سچ بتا دیا ہے اور میں اس سے اب بھی اتنا ہی پیار کرتا ہوں۔ اگر پھر کبھی اس نے اسے فون کیا یا اس سے ملنے کی کوشش کی تو میں پولیس کمپلین کر دوں گا۔ یہ سب سن کر اس لڑکے کی حالت خراب ہو گئی اور اس نے مجھ سے سوری بولی اور پرامس کیا کہ کبھی بھی یاسمین کو کانٹیکٹ نہیں کرے گا۔

تو دوستو، میں نے یاسمین کو اس لڑکے سے چھٹکارا دلا دیا۔ میں فون کاٹ کر یاسمین کا انتظار کرنے لگا۔ تھوڑی دیر میں وہ آفس جانے کے لیے آئی اور پارکنگ پر گاڑی نکالنے لگی۔ میں وہیں تھا۔ میں نے اس سے کہا کہ مجھے تم سے اس لڑکے کے بارے میں ضروری بات کرنی ہے۔ وہ یہ سن کر گھبرا گئی اور بولی کہ یہاں نہیں، مجھے میرے سیل پر فون کرو۔ اور مجھے اپنا سیل نمبر دے دیا۔ میں نے تھوڑی دیر میں اسے کال کیا اور اسے ساری بات بتا دی۔ یہ سب سن کر وہ بہت خوش ہو گئی اور مجھے بار بار تھینک یو بولنے لگی۔ وہ بولی کہ اسے تو لگا تھا کہ اس کی لائف برباد ہو جائے گی پر میں نے اسے بچا لیا۔ اس نے مجھے بہت بار تھینک یو بولا۔ ابھی میں بھی بہت خوش تھا کیونکہ مجھے لگا کہ اب یاسمین کی چوت زیادہ دور نہیں ہے۔

ایک دن وہ اپنے بینک نہیں گئی اور گھر پر ہی تھی۔ میں نے اسے فون کیا اور پوچھا کہ سب ٹھیک ہے نا؟ اس نے بولا کہ ہاں سب ٹھیک ہے، اسے کچھ ضروری کام کرنا تھا اس لیے اس نے آج کا آف لے لیا۔ یہ سن کر مجھے لگا کہ آج اچھا موقع ہے اسے چودنے کا۔ میں نے اس سے کہا کہ مجھے ابھی اس سے ارجنٹ ملنا ہے۔ وہ بولی کیا کام ہے؟ میں نے کہا کہ اس لڑکے کا پھر سے فون آیا تھا۔ تو وہ تھوڑا ڈر گئی اور بولی کہ ٹھیک ہے تم میرے فلیٹ میں آ جاؤ، میں نے دروازہ اوپن کر رکھا ہے۔ میں چپکے سے اس کے فلیٹ میں گھس گیا اور سیدھا اس کے بیڈروم میں چلا گیا۔ وہ آئی اور بولی: دانش کیا ہوا؟ تم کیوں آئے ہو؟ میں نے اسے کہا کہ مجھے تمہیں کچھ دکھانا ہے۔ وہ بولی کیا؟ تو میں نے اسے اپنا فون دیا اور اس کی ریکارڈنگ والی باتیں سنا دیں۔ ساری بات سن کر وہ بہت پریشان ہو گئی۔ میں نے اسے کہا: یاسمین اگر یہ سب تمہارا شوہر سنے گا تو کیا ہوگا؟ وہ بولی: پلیز اسے غلطی سے بھی یہ اب مت سنانا ورنہ وہ مجھے طلاق دے دے گا۔ میں نے اسے کہا: یاسمین میں نے تمہاری ہیلپ کی ہے، اب وہ لڑکا کبھی بھی تمہیں کال نہیں کرے گا۔ اس کے بدلے مجھے بھی تمہاری ہیلپ چاہیے۔ اس نے بولا: کیسی ہیلپ؟ میں نے اسے بتایا کہ یاسمین تم مجھے بہت پیاری لگتی ہے اور میں تمہیں چودنا چاہتا ہوں ۔ اس پر وہ شدید غصے میں آگئی اور چلّا کے بولی: دانش اسی وقت میرے گھر سے دفع ہوجاؤ ورنہ میں شور مچا دوں گی اور اس نے میرا فون بھی توڑ دیا اور بولی اب تم کچھ نہیں کر سکتے۔ میں نے اسے بولا کہ میرے لیپ ٹاپ اور ای میل میں یہ سب سیو ہے اور اگر اس نے میری بات نہیں مانی تو کل میں یہ سب جاوید کو سنا دوں گا۔ وہ رونے لگی اور بولی: پلیز دانش میں جاوید سے بہت پیار کرتی ہوں اور اسے دھوکہ نہیں دے سکتی۔ میں نے اسے کہا کہ میں تمہیں پیار کرتا ہوں اور تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا۔ میں نے اسے کہا کہ جلدی سے سوچ لو اور میں دوسرے روم میں چلا گیا۔ وہاں پر اس کی بلیو برا اور پینٹی پڑی تھی۔ میں نے انہیں دیکھا تو میرا لنڈ کھڑا ہو گیا۔ میں نے اپنی پینٹ کی زپ کھولی اور اپنے لنڈ پر اس کی برا پینٹی ڈال دی اور لنڈ ہلانے لگا۔ ۵ منٹ بعد وہ آئی اور رونے لگی: پلیز دانش ایسا نہ کرو ۔ میں نے اسے کہا: سالی بہت ناٹک ہو گیا تیرا،اس لڑکے سے تو بہت چدوایا ہے تم نے ، چلو اب جلدی سے میرا لنڈ پکڑو ۔ اس نے روتے ہوئے اپنے ہاتھ سے میرا لنڈ پکڑ لیا اور ہلانے لگی۔ یارو مجھے اتنا مزہ آ رہا تھا کہ میں آپ کو بتا نہیں سکتا ۔ میں نے اس کی برا پینٹی اپنے لنڈ پر سے ہٹا دی اور اس کے ہاتھ میں میرا ۷ انچ کا ننگا لنڈ آ گیا۔ اسے دیکھ کر وہ ڈر گئی اور اسے چھوڑ دیا۔ میں نے اسے اٹھایا اور بیڈ پر بٹھا دیا اور اس کی گردن پر کس کرنے لگا۔ اس نے شلوار قمیض پہنی ہوئی تھی ۔ میں ان کے روکنے کے باوجود اس کے کپڑے اتار دئیے ، اب وہ میرے سامنے صرف برااور پینٹی میں تھی۔اف کیا سیکسی جسم تھا یاسمین کا، میرا لن تو فل جھٹکے کھانے لگاتھا ۔ میں نے اس کے ہونٹوں پر کس کرنا چاہا تو اس نے منع کیا۔ میں نے جبراً اس کا سر پکڑا اور اس کے ہونٹ چوسنے لگا۔ اس کے ہونٹ بہت ہی ٹیسٹی تھے، من کر رہا تھا ساری عمر انہیں چوستا ہی رہوں۔ ۵ منٹ تک میں اسے خوب چوستا رہا۔ پھر میں نے اسے اپنا لنڈ چوسنے کو بولا۔ وہ انکار کرتی رہی، بولی کہ یہ سب اس نے آج تک نہیں کیا اور اس نے کہا کہ یہ تو اس نے جاوید کے ساتھ بھی نہیں کیا۔ مجھے غصہ آ گیا اور میں نے اسے کہا کہ تم نے جاوید کا نہیں تو اس لڑکے کا لن تو ضرور چوسا ہوگا۔اب نخرے کیے تو جاوید کو سب کچھ بتادوں گا۔ اس پر وہ رونے لگی اور روتے روتے میرا لنڈ ہاتھ میں لے لیا۔ اور میں نے اس کے منہ میں ڈال دیا۔ وہ اسے صرف کس کر رہی تھی۔ میں نے کہا: سالی رنڈ چوس اسے۔ اور میں نے اس کا سر دونوں ہاتھوں سے پکڑا اور اسے لنڈ چوسوانے لگا۔ دوستو میں بتا نہیں سکتا کہ مجھے کتنا مزہ آ رہا تھا۔ جس عورت کے بارے میں میں دن رات سوچتا تھا آج وہ میرے سامنے بیٹھ کر میرا لنڈ چوس رہی تھی۔ میں تو پاگل ہی ہو رہا تھا۔ میں اس کے منہ میں زور زور سے اسٹروک لگانے لگا۔ میں جھڑنے والا تھا، اسے شاید پتا لگ گیا اور اس نے اپنا منہ نکالنے کی کوشش کی پر میں نے اس کا سر نہیں چھوڑا اور پورا اس کے منہ میں ڈسچارج ہو گیا۔ اس نے مجھے چھڑایا تو سارا سپرم اس کے چہرے اور ہونٹوں پر آ گیا۔ وہ اٹھی اور بھاگ کر باتھ روم میں جا کر منہ صاف کرنے لگی۔ میں بھی اس کے پیچھے چل گیا۔ میں نے دیکھا کہ وہ باتھ روم میں آئینے کے سامنے کھڑی ہو کر اپنا منہ دھو رہی ہے۔ اس کی گانڈ مست لگ رہی تھی۔ میں گیا اور اس کو پیچھے سے پکڑ لیا اور اس کی گردن پر کس کرنے لگا۔ وہ ابھی بھی بول رہی تھی: پلیز دانش مجھے چھوڑ دو ۔ میں نے اسے اٹھایا اور بیڈروم میں لے آیا۔ میں نے اسے بیڈپر لٹادیا اور اس کی وائٹ برا کے اوپر سے ہی اس کے بوبس دبانے لگا اور چوسنے لگا۔ میں نے اس کی برا نکال دی اور اس کے ۳۴ کے موٹے موٹے بوبس چوسنے لگا۔ بہت سیکسی بوبس تھے، ایک دم ٹائٹ۔ میں باری باری انہیں چوستا رہا۔ میں نے اس کے لیفٹ بوب پر وہ تل بھی دیکھا جو وہ لڑکا بول رہا تھا۔ پھر میں اس کے پیٹ کو اور اس کی نیول کو سک کر نے لگا۔ وہ ابھی بھی منع کر رہی تھی اور اپنی ٹانگیں بند کیے لیٹی تھی۔ میں نے اس کی ٹانگیں کھولیں اور اس کی پینٹی کے اوپر سے ہی اس کی چوت چاٹنے لگا۔ میں نے اس کی پینٹی اتار دی اور اس کی چوت میں اپنی زبان ڈال کر چاٹنے لگا۔ بہت مزہ آ رہا تھا۔ اب اس کی مزاحمت کم ہوگئی تھی ۔ میں اپنی زبان اس کی چوت کے چاروں طرف گھمانے لگا۔ وہ بھی اب سسکیاں لینے لگی: آہ آہ… آہ آہ… دانش پلیزپلیز … آہ آہ آہ۔ میں اور زور سے اسے سک کرنے لگا۔ وہ اور چلّانے لگی: آہ آہ آہ آہ… میں نے اس سے کہا: کیوں ڈارلنگ تمہارا شوہر سے اچھا ہوں نا؟ تو وہ غصے ہو کر بولی:تم کبھی اس جیسے نہیں ہوسکتے، وہ بہت اچھے ہیں اور مجھ سے بہت پیار کرتے ہیں ۔ اس پر مجھے غصہ آیا اور میں نے اس کی ٹانگیں کھولیں اور اپنا ۷ انچ کا موٹا لنڈ اس کی چوت پر رکھا اور دھیرے دھیرے رب کرنے لگا۔ اسے بہت اچھا لگ رہا تھا اور وہ آہ آہ آہ سسکیاں لے رہی تھی۔ میں ۲ منٹ تک ایسے ہی کرتا رہا۔ وہ بولی: پلیز اب ڈالو پلیز ورنہ میں مر جاؤں گی۔ میں نے اسے بولا: سالی رنڈ ی بول میں ہوں نا تیرے شوہر سے اچھا۔ تو وہ بولی: ہاں جان تم بہت اچھے ہو۔ مجھے یہ سن کر اچھا لگا اور میں نے اپنا لنڈ ایک جھٹکے میں اس کی چوت میں ڈال دیا۔ لنڈ اندر جاتے ہی اس کے منہ سے چیخ نکل گئی: آ ہ آہ آہ ممی… میں… مر گئی… آہ… پلیز… نکالو اسے پلیز… آہ اور وہ جھٹپٹانے لگی۔ میں نے اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھے اور اسے سک کرنے لگا۔ تھوڑی دیر میں وہ نارمل ہوئی اور مجھے سک کرنے لگی۔ میں نے اب اسے چودنا شروع کیا۔ سلولی سلولی اسے جھٹکے مارنے شروع کیے۔ آہ آہ دوستو مجھے اتنا مزہ کبھی نہیں آیا لائف میں جتنا یاسمین کو چودنے میں آیا تھا۔ میں اسے زورزور سے چودنے لگا۔ اسے بھی بہت مزہ آ رہا تھا۔ وہ بولی: پلیز اور چودو اور چودو۔ آئی لو یو دانش تمہاری باڈی بہت مست ہے آہ چود مجھے آہ آہ آہ … آہ آہ آئی لو یو آہ ، جان آہ… میں اسے ۱۰ منٹ تک چودتا رہا اور پھر اس کی چوت میں ہی جھڑ گیا۔ اسے بہت اچھا لگا۔ وہ بھی جھڑ گئی تھی۔ اس نے مجھے کس کیا اور کہا کہ لائف میں پہلی بار اسے چدائی سے اتنا مزہ ملا ہے اور میرے اوپر لیٹ گئی۔

میں نے اسے بولا کہ میں تمہیں ایک بات بتانا چاہتا ہوں ۔ وہ بولی: بولو جانو جو بولنا ہے۔ میں نے اسے بتایا کہ میرے پاس اس کی کوئی بھی ریکارڈڈ ساؤنڈ کلپ نہیں ہے۔ صرف ایک تھی موبائل میں جو اس نےتوڑ دیا تھا، اور میں نے اسے جھوٹ بولا تھا کہ میرے لیپ ٹاپ اور میل میں کلپ ہے۔ میں نے اسے کہا کہ تم فری ہو اور ویسے بھی اگر تم میری بات نہیں مانتی تو میں یہ کلپ کسی کو بھی نہیں دیتا اور ڈیلیٹ کر دیتا۔ اس پر وہ مجھے دیکھنے لگی اور بولی: دانش تم بہت اچھے لڑکے ہو آئی لو یو ۔ اور اس نے کہا اچھا ہوا کہ تم نے مجھے پہلے سچ نہیں بتایا ورنہ آج جتنا مزہ نہیں آتا۔ اور مجھ سے لپٹ گئی۔

میں نے پھر سے اس کی چُدائی کی اور اس کی گانڈ بھی ماری۔ اس کی گانڈ یارو بہت مست تھی۔ گانڈ مار کر مزہ ہی آ گیا۔

تو دوستو کیسی لگی آپ کو میری یہ کہانی؟ امید ہے آپ کو پسند آئی ہوگی۔ اگر آپ کو یہ کہانی پسند آئی ہو تو ضرور ریپلائی کریں۔ شکریہ!

 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Back
Top