خوش آمدید

لو اسٹوری فورم ، اردو دنیا کا نمبر ون اردو اسٹوری فورم ، ابھی فورم کےممبر بنیں اور اردو کی بہترین کہانیاں پڑھیں ۔

Register Now!
Welcome image
  • PAID PLANS

    ٹاپ پیکیج
    👑

    PREMIUM

    16000
    چھ ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    VIP+

    6000
    چھ ماہ کے لیے
    بنیادی ڈیل

    VIP

    3500
    تین ماہ کے لیے

Spy Thriller ماکازونگا۔۔۔۔عمران سیریز ۔۔۔

صفدر نے اپنی موٹر سائیکل ریستوران کے پارکنگ شیڈ کی طرف گھمادی وہ نیچے اترا اور جیبوں میں ہاتھ ڈالے
ریستور ان کے ہال میں داخل ہو گیا۔ اس نے دیکھا کہ دونوں غیر ملکی ایک کونے والی میز پر بیٹھ رہے ہیں۔ صفدر آہستہ سے چلتا ہوا ان کی طرف بڑھا اور ان کے قریب کی میز پر جا کر بیٹھ گیا وہ اسے دیکھ کر قطعاًنہ چونکے جس سے صفدر نے اندازہ لگایا کہ انہیں تعاقب کا علم نہیں ہو اوہ آج صبح سے ایکسٹو کے حکم سے ان دونوں کا تعاقب کر رہا تھا اس لئے کسی حد تک صفدر بور ہو گیا تھا لیکن حکم بہر حال حکم تھا بوریت کی انتہا ہی
کیوں نہ ہو جائے صفدر نے بیرے کو کافی کا آرڈر دیا اور جیب سے سگریٹ نکال کر منہ سے لگایا اب اس نے جیب سے لائٹر نکالا جو جسامت میں عام لاکٹروں سے قدرے بڑا اور وزن میں قدرے زیادہ تھا اس نے لائٹر سے سگریٹ سلگا یا لیکن اس دوران دوان دونوں کے دود و پوز لے چکا تھا اس لائٹر میں ایک انتہائی چھوٹا مگر انتہائی طاقتور کیمرہ نصب تھا۔ صفدر نے لائٹر جیب میں رکھ لیا اور پھر اطمینان سے کافی پینی شروع کر دی جو بہرہ اس کی میز پر رکھ گیا تھا وہ دونوں بھی چپ چاپ کافی پی رہے تھے۔ اچانک ان میں سے ایک بولا۔
آج کدھر جانا ہے۔ نمبر تین میں۔
نمبر ایک تباہ ہو گیا ہے۔
ہاں زبردست نقصان پہنچا ہے۔
اور پھر چپ ہو رہے اتنے میں ایک لڑکی ان کی طرف بڑھتی ہوئی نظر آئی وہ کوئی غیر ملکی نظر آرہی تھی۔ صفدرا کے چہرے سے اس کی قومیت کا اندازہ لگانے میں ناکام رہاوہ۔ اس کے نزدیک آتے ہی وہ دونوں احتراماً کھڑے ہو گئے اور وہ بھی ان کے برابر کرسی پر بیٹھ گئی۔ پھر صفدر کو بھی چونکنا پڑا کیوں کہ جولیا بھی ہال میں داخل ہو رہی تھی اور اس کی نظریں ہال میں کسی کو ڈھونڈ رہی تھیں صفدر سمجھ گیا کہ جو لیا اس لڑکی کے تعاقب میں یہاں آئی ہے۔ چنانچہ جیسے ہی جو لیا کی نظریں اس لڑکی پر پڑیں اس کے چہرے پر اطمینان کی جھلک نظر آئی صفدر نے جولیا کو اشارہ کیا اور وہ سیدھی اس کی میز کی طرف چلی گئی۔
کیسے بیٹھے ہو ؟ جولیانے بیٹھتے ہی سوال کیا۔
دو شعروں پر غور کر رہا ہوں۔ صفدر نے جواب دیا۔ شعروں پر ایک لمحے کے لیے جو لیا کو حیرت ہوئی لیکن پھر وہ سمجھ گئی کہ صفدر کسی کا تعاقب کرتے ہوئے
یہاں تک آیا ہے اس لئیے اس نے اور سوال نہ کیا۔ صفدر نے اس کے لیے کافی کا آرڈر دیا اور پھر غور سے ساتھ والی میز کی گفتگو سنتار ہاوہ لوگ اب اطالوی زبان میں گفتگو کر رہے تھے۔ صفدر کسی حد تک اطالوی زبان سمجھ رہا تھا لیکن جو لیا اس زبان سے نابلد تھی چناچہ خاموشی سے بیٹھی کافی پیتی رہی صفدر نے سنا کہ وہ آپس میں کسی آپریشن کے سلسلے میں بات کر رہے ہیں لیکن ان کی آواز اتنی مدھم تھی کہ صفدر کافی کوشش اور توجہ کے بعد سوائے چند لفظوں کے اور کچھ نہ سن سکاکافی
دیر تک گفتگو کرنے کے بعد وہ لڑکی اٹھ کر چلی گئی اور اس کے ساتھ جو لیا بھی چلی گئی صفدر نے دوبارہ کافی منگائی اور اسے پینے بیٹھ گیا۔ اب دونوں اٹھ کر اوپر بنے ہوئے کمرے میں جارہے تھے اور صفدر سوچ رہا تھا کہ آیا یہ اسی ریستوران میں رہائش پزیر ہیں یا کسی اور سے ملنے جارہے ہیں چنانچہ اس نے چیک کرنے کا فیصلہ کیا
اور جیسے ہی وہ دونوں اوپر جا کر ایک اور گیلری کی طرف مڑے صفدر نے پھرتی سے اپنی میز چھوڑی اور سیر ھیوں کی طرف بڑھ گیا اس سے پہلے وہ میز پر نوٹ رکھنانہ بھولا تھا صفدر جب اس گیلری تک پہنچا جس پر وہ دونوں مڑے تھے تو اسے وہ ایک کمرے میں گھستے دکھائی دیئے وہ اس کمرے کی طرف بڑھا اور پھر گیلری میں ادھر ادھر دیکھا تمام گیلری سنسان تھی صفدر نے اپنی آنکھیں کی ہول پر لگائیں اندر اسے چار آدمی ایک
میز کے گرد بیٹھے نظر آئے اچانک قدموں کی چاپ ہوئی اور صفدر پھرتی سے دروازے کے ایک طرف ہٹ گیا اور پھر آہستہ آہستہ آگے جانے لگا یہ ایک ویٹر تھا جو ٹرے ہاتھ میں لئیے اسی کمرے کی طرف بڑھ رہا تھا اس کی ٹرے میں چار گلاس تھے صفدر آگے بڑھ کر نیچے اتر گیا اور پھر اس نے ایکسٹو کو فون کیا تا کہ اس سے مزید ہدایات لے ایکسٹو نے اسے وہاں سے فوراً کیفے گلستان پہنچنے کو کہا جہاں عمران اس کا انتظار کر رہا تھا اور یہاں صفدر کی بجائے نعمانی کی ڈیوٹی لگادی تھوڑی دیر بعد نعمانی ہال میں داخل ہو ا صفدر نے اسے تمام حالات سے آگاہ کر دیا اور خود باہر نکل کر موٹر سائیکل سٹارٹ کر کے سڑک پر نکل آیا اب اس کارخ کیفے گلستان کی طرف
تھا کیفے گلستان اس شہر کا ایک ماڈرن کیفے تھا اس کی سب سے بڑی شہرت اس کا باغ تھا شائد اس شہر کا بہترین باغ تھا اس وجہ سے شام کے وقت لوگ عموماً کیفے گلستان جانازیادہ پسند کرتے۔ صفدر کی موٹر سائیکل بڑی تیزی سے سڑک پر بھاگ رہی تھی اور صفدر کاذہن ان دو آدمیوں کی طرف لگا ہوا تھا جنہیں وہ پیچھے نعمانی کی نگرانی میں چھوڑ آیا تھا اس ادھیٹرپن میں اسے تعاقب محسوس نہ ہوا حالانکہ اسی ریستوران ہی سے ایک چھوٹی سفید رنگ کی کار اس کا تعاقب کر رہی تھی۔ اس میں دو آدمی سوار تھے صفدر کی موٹر سائیکل کیفے گلستان کے کمپاؤنڈ میں مرگئی اور اس کے ساتھ ہی وہ موٹر بھی اس کمپاؤنڈ میں آکر ر کی صفدر موٹر سائیکل کو لاک کرتے ہوئے ہال کی طرف بڑھا یہاں عمران ایک میز پر بیٹھا اونگھ رہا تھا صفدر اس کی میز کی طرف بڑھا اس نے عمران کے کاندھے پر ہاتھ رکھا لیکن پھر وہ اپنی جگہ سے اچھل پڑا کیوں کہ عمران اس کے ہاتھ لگاتے ہی کرسی کے نیچے آگرا تھا لیکن فور اٹھ کھڑا ہوا اس پاس بیٹھے ہوئے لوگوں کے حلق سے بے اختیار قیقے نکل پڑے لیکن عمران صفدر کو اس طرح آنکھیں جھپکا جھپکا کر دیکھ رہا تھا جیسے پہلی بار دیکھ رہاہو صفدر ندامت سے سرخ ہو رہا تھا عمران کا یہ مذاق اسے کھل گیا مگر وہ کر بھی کیا سکتا تھا چپکے سے ساتھ بیٹھ گیا عمران دوبارہ کرسی پر بیٹھ کر اونگھنے
لگا جیسے کچھ بھی نہ ہوا ہو آخر تنگ آکر صفدر نے عمران کو کہا۔
عمران صاحب۔
عمران نے آنکھیں پھاڑ کر صفدر کی طرف دیکھا اور پھر بولا آپ نے مجھے کچھ کہا ہے ؟
نہیں تو تمہارے فرشتوں سے کہ رہاہوں۔ صفدر نے جھنجلا کر کہا۔ معاف کیجئیے میں نے آپ کو پہچانا نہیں۔ عمران نے معصومیت سے جواب دیا۔ صفدر سمجھ گیا کہ عمران کسی وجہ سے اس سے انجان بنا چاہتا تھا اس لئے اب وہ بھی چپ چاپ بیٹھ گیا اور عمران
پھر اونگھنے لگا صفدر راتنی شدت سے بور ہو گیا کہ جس کی انتہا نہیں اس کا ذہن لگاتار بوریت بوریت کی گردان
کر رہا تھا اس نے عمران کو دیکھا اور دوسرے لمحے وہ جھٹکے سے اپنی کرسے چھوڑ چکا تھا وہ تیزی سے باہر کو لپکا اس کے اٹھتے ہی وہ دونوں بھی اپنی اپنی میزوں سے اٹھ کر باہر کو لیکے عمران نے کن آنکھوں سے انہیں دیکھا اور پھر وہ بھی کرسی سے اٹھ کر باہر جارہا تھا لیکن باہر جانے لے لیے اس نے سامنے والے دروازے کی بجائے عقبی دروازے کا رخ کیا اس طرف سے وہ تیزی سے گھومتا ہوا باہر نکل کر دیکھا تو اسے وہ دونوں ایک کار میں بیٹھے تیزی سے ایک طرف جاتے دکھائی دیئے۔ عمران نے ایک ٹیکسی رو کی اور پھر تیزی سے اس کار کا تعاقب
کرنے لگا۔ صفد ر اپنے تعاقب سے بے خبر انتہائی جھنجلاہٹ میں مبتلا اپنے فلیٹ کی طرف جارہا تھا یہ اس کی زندگی کا پہلا موقع تھا جب وہ اتنی شدید جھنجلاہٹ میں مبتلا ہو گیا تھا کہ وہ ایکسٹو کے حکم کو بھی بھلا بیٹھا تھا اور تیزی سے اپنے فلیٹ کی طرف چل پڑا۔ عمران سیکسی میں بیٹھا سوچ رہا تھا کہ کسی طرح صفدر کو اس کے فلیٹ جانے سے روکا جائے وہ نہیں چاہتا تھا کہ صفدر کی رہائش گاہ دشمنوں کی نظر میں آجائے کیوں کہ عموما سیکرٹ سروس کے ارکان ایک دوسرے کے ہاں آتے جاتے رہتے ہیں اس طرح تھوڑی سی نگرانی کے بعد تمام سیکرٹ سروس کے ارکان سے واقف ہو جائیں گے وہ دوسروں کو بھی بحیثیت ایکسٹو صفدر کے فلیٹ میں جانے سے روک سکتا ہے لیکن وہ نہیں چاہتا تھا کہ صفدر کا فلیٹ ان کی نظروں میں آئے لیکن صفدر کی موٹر سائیکل کچھ اتنی تیز رفتاری سے دوڑ رہی تھی کہ وہ کچھ نہ کر سکتا تھا اچانک صفدر کا ذ ہن پلٹا اور اسے ایکسٹو کا حکم یاد آیا کہ وہ عمران سے ملے اس کا مطلب تھا کہ وہ عمران سے کوئی ہدایت لے یا اس کے ساتھ مل کر کام کرے لیکن عمران نے اسے وہاں نہ پہچانا جس سے بور ہو کر وہ واپس پلٹ پڑا تھا لیکن اب اسے خیال آیا کہ عمران نے یہ سب کچھ کسی وجہ سے کیا ہوگا اور پھر اسے اپنے تعاقب کا خیال آتے ہی اس کے ذہن پر چھائی ہوئی تمام دھند چھٹ گئی اور اب وہ اپنے آپ کو کوسنے لگا کہ وہ ایک سیدھی اور صاف بات بھی نہ سمجھ سکا یقینی
بات تھی کہ صفدر کا تعاقب کیا جارہا ہے اس لئے عمران نے اسے نہ پہچانا بھی عمران کوئی اور راستہ نکالتا کہ
صفدر واپس جانے کی حرکت کر بیٹھا۔ اب اسے اپنے آپ پر غصہ آنے لگا اچانک اسے خیال آیا کہ اگر اس وقت اس کا تعاقب ہو رہا تھا تو یقینا اب بھی ہو رہا ہو گا یہ سوچتے ہی وہ ایک اور سڑک مڑ گیا عمران نے جیسے ہی اسے وہ سڑک مڑتے دیکھ وہ سمجھ گیا کہ صفدر کو عقل آگئی ہے چنانچہ اس نے ایک ٹیلی فون یوتھ کے پاس اپنی ٹیکسی روک لی اور خود اتر کر ٹیلی فون بوتھ میں گھس گیا ٹیلیفون میں سکے ڈالنے کے بعد اس نے ڈائل گھمایا
دوسری طرف فون اٹھانے والا بلیک زیر و تھا۔
ہیلویکسٹو سپیکنگ۔ بلیک زیرو کی آواز آئی۔
عمران سپیلنگ۔
میں سر۔
ایکسٹو پہلے تو کار نمبر 1210 کے جے ڈی کے مالک کا پتہ کر اؤ جلدی دوسرے تمام ممبران سے کہہ دو کہ وہ
اب صفدر کو مت ملیں وہ ماکاز و نگا کہ نظروں میں آگیا ہے۔
او کے سر میں ابھی ہدایات جاری کر دیتا ہوں۔
نعمانی سے جیسے ہی رپورٹ ملے مجھے مطلع کر دینا۔ اس کے ساتھ ہی عمران نے رسیور رکھ دیا۔ ادھر صفدر نے دو تین موڑ کاٹنے سے ہی محسوس کر لیا کہ واقعی اس کا تعاقب ہو رہا ہے چنانچہ وہ مالا بار ہوٹل کی طرف چلا گیا مالا بار ہوٹل میں وہ تیزی سے داخل ہوا پھر فور ار یکریشن ہال سے ہوتا ہوا عقبی دروازے سے باہر نکل آیا۔ اب وہ گھومتا ہو اد و بارہ ہوٹل کے سامنے ایک چھوٹے سے کیفے میں بیٹھا چائے پی رہا تھا لیکن اس کے چہرے پر گھنی مونچھوں کا اضافہ ہو چکا تھا ایک انتہائی سادہ سا میک اپ مگر اس سے اس کا چہرہ بدل گیا تھا اب سوائے غور سے دیکھنے کے اسے پہچان نہ جاسکتا تھا بھی اسے پانچ منٹ ہی ہوئے تھے کہ وہ دونوں اشخاص جو اس
کا پیچھا کر رہے تھے سراسیمگی کی حالت میں باہر نکلے انہوں نے صفدر کی موٹر سائیکل دیکھی شند لمحے باتیں
کرتے رہے اور پھر کار میں بیٹھ کر ایک طرف چل دیئے صفدر تیزی سے اٹھا ایک چھوٹا نوٹ میز پر رکھا اور ٹیکسی پکڑ کر ان کے پیچھے چل دیا۔ وہ نزدیک ہی ایک کو عظمی میں کھس گئے یہ ران منزل تھی شہر کے مشہور رئیں رانا شہزاد کی کوٹھی صفدر اس کے بعد نزد یکی ہو تھ کی طرف چلا گیا اور ایکسٹو کو تمام حالات بتائے اور پھر
اپنے فلیٹ کی طرف چلا گیا اسے کیفے گلستان سے اٹھ آنے پر کافی جھاڑ پڑی تھی۔
☆☆☆
 
آج کا دن پورے دارالحکومت پر قیامت بن کر گزرا۔ آج سارا دن سڑکوں پر فائرنگ ہوتی رہی بے گناہ لوگ گولیوں کی بوچھاڑ میں مرتے رہے پولیس کی پوری مشینری حرکت میں آگئیلیکن اس قتل و غارت پر قابونہ پایا جاسکا اور یہ قتل وغارت عجیب طریقے سے ہوتی بھرے بازار میں اچانک ایک خوش پوش آدمی پستول نکالتا اور پھر چھ سات آدمی زمین پر گر کر تڑپنے لگتے۔ لیکن اچانک ایک نامعلوم سمت سے گولی آئی اور اس کا سینہ توڑتی نکل جاتی سارا دن شہر میں یہی ہو تا رہا دو پہر تک لوگ گھروں میں بندر ہے سارا شہر سنسان ہو گیا صرف
پولیس شہر میں گشت کر رہی تھی لیکن پھر یہ وباپولیس میں بھی پھیل گئی اور پولیس والوں نے اپنے سروس ریع الور نکال لئیے اور پھر پولیس کے سپاہی اور آفیسر سڑکوں پر ڈھیر ہونے لگے اب تو حکام انتہائی پریشان لیکن چار بجے کے بعد یہ قتل و غارت ختم ہو گئی اس کے بعد رات تک کچھ نہ ہوا تو لوگ ڈرتے ڈرتے گھروں سے نکلنے لگے ایک بار پھر بازاروں میں ازدھام ہو گیا ہر طرف اس قتل و غارت کے چرچے تھے انداز دس پندرہ ہزار آدمی مر چکے تھے ساری رات حکام پریشان ہو کر میٹنگ پر میٹنگ بلاتے رہے لیکن کسی کی بھی سمجھ میں نہ آیا کہ یہ سب کچھ کیا ہے ؟ ادھر عمران بھی سخت پریشان ہو گیا اس کے خیال میں کسی مخصوص مقناطیسی اثر کے تحت ایسا ہوا تھا اس نے اپنے تمام ممبروں کو حکم دیا کہ وہ صبح ہوتے ہی بازاروں میں گشت کریں اور جہاں کسی شخص کو پستول نکالتے دیکھیں اسے فورا گولی مار دیں اگر ہو سکے تو ایسے کسی ایک دو اشخاص کو دانش منزل
پہنچادیں ساممران کو اس وبا سے محفوظ رکھنے کے لئے اینٹی میگنٹ آلات دیئے گئے جو انہوں نے جیبوں میں رکھے ہوئے تھے۔ یہ عجیب و غریب حکم ملتے ہی سارے ممبران سخت پریشان تھے زندگی میں پہلی بار نہیں سرکاری حکم کے تحت کھلے بندوں قتل و غارت کرنی تھی یہ ان کا پہلا بھیانک تجربہ تھا لیکن اس کے باوجود مجبور تھے چنانچہ صبح ہی صبح وہ سارے شہروں میں پھیل گئے ان میں سے ہر ایک کے پاس دو دوریوالور اور فالتو کارتوسوں کا کافی ذخیرہ تھا۔ عمران کا خیال تھا کہ سورج نکلتے ہی قتل و غارت شروع ہو جائے گی۔ چنانچہ ایساہی ہوا چھ بجے صبح جیسے ہی سورج طلوع ہوا ایک بار پھر بازاروں میں فائرنگ کی آواز میں اور زخمیوں کی چیخوں اور آہوں کی فریادیں گونجنے لگیں۔ اس بار بالواسطہ تو ر پر سیکرٹ سروس کرار کان بھی ملوث تھے۔ وہ جیبوں میں ریوالوروں ہر ہاتھ رکھے ہر شخص کو غور سے دیکھتے پھر رہے تھے پھر جیسے اچانک کوئی شخص پستول نکالتا ان کے ریوالور سے ایک گولی نکلتی اور اس شخص کی کھوپڑی سے پار ہو جاتی کہیں کہیں وہ گولی مارتے دیکھے جاتے تو انہیں لوگوں سے جان بچانے کے لئیے بھاگنا پڑتا ابھی تک کیپٹن شکیل اور صفدر ہی ایک ایک شخص کو دانش منزل میں پہنچانے میں کامیاب ہو سکے تھے دن کے بارہ بجے تک ایک بار پھر سینکڑوں لوگ مر چکے تھے اگر سیکرٹ سروس کے ارکان واقعی قتل و غارت نہ کرتے تو شائد تعداد ہزاروں میں تبدیل ہو جاتی۔ دارالحکومت میں کرفیو نافز کر دیا گیا شہر کا نظام فوج نے سنبھال لیا جو ٹامی گنوں اور مشین گنوں سے مسلح تھے ایک گھنٹے تک امن وامان رہا لیکن پھر اس دن کا بھیانک دور شروع ہواوہ و باملٹری کے سپاہیوں پر اثر انداز ہو گئی اور پھر پستول کی گولیوں کی بجائے ٹامی گن مشین گنیں اور ٹینکوں پر لگی ہوئی تو ہیں چلنے لگیں اور ملٹری کے نوجوان مکئی کے دانوں کی طرح بھنے لگے حکام چیخ پڑے یہ صور تحال انتہائی بھیانک پریشان کن اور نازک تھی۔ فوراً اعلیٰ حکام کی میٹنگ ہوئی اس میں صدر مملکت تک شامل ہوئے۔ عمران بھی بحیثیت ایکسٹو نقاب پہن کر اس میں شامل ہوا اس نازک مسئلے پر بحث شروع ہو گئی لیکن کوئی نتیجہ نہ نکلا ادھر بُری سے بُری خبریں آرہی تھیں اگر چند
گھنٹے اور اسی طرح قتل و غارت ہوتی تو شائد ساری فوج ختم ہو جاتی اور اس صور تحال کو بند کر ناضروری تھا انتہائی ضروری تھا مگر اس کا حل کسی کے پاس نہ تھا سب کے چہرے لٹکے ہوئے تھے آنکھوں کی چمک مدھم ہو چکی تھی لیکن ایکسٹو نے صرف ایک لفظ کہہ کر سب کے چہروں پر رونق بڑھادی وہ کہہ رہا تھا۔
حضرات اس و با کا علاج میں نے ڈھونڈ لیا ہے۔
اور سب کے چہرے اس کی طرف مڑ گئے۔
خدا کے لئیے بتاؤ میر اتو دماغ خراب ہو نیوالا ہے۔ صدر مملکت چیخ اٹھے۔
بتاتو رہا ہوں جناب۔ دراصل یہ مقناطیسی قوت کا کرشمہ ہے۔ مقناطیسی قوت کا کیا مطلب۔ کمشنر حیران ہو کر بولے۔ میر امطلب اس سے یہ ہے کہ کسی مخصوص مقناطیسی اثر سے لوگوں کے دماغوں کارخ قتل و غارت کی طرف موڑ دیا گیا ہے چنانچہ آج میں نے اپنے آدمیوں کو اینٹی میگنٹ آلات دے کر شہر میں پھر ایا ان میں سے کسی پر بھی اس و با کا اثر نہ ہوا چنانچہ میری رائے میں تمام ملٹری کو یہ آلات فوری طور پر تقسیم کر دیئے جائیں در مملکت نے ایک لمحے کے لیے سوچا اور پھر فورا کمانڈر انچیف کی طرف مخاطب ہوئے ایکسٹو ٹھیک کہتے ہیں آپ جلد از جلد ایسے آلات تقسیم کرنے کا انتظام کریں۔ یہ کہہ کر صدر مملکت اٹھ کھڑے ہوئے اور میٹنگ ختم ہو گئی اور پھر آدھے گھنٹے کے اندراندر ایسے آلات تمام
صدر
ملٹری میں تقسیم کر دیئے گئے اور نتیجہ حسب توقع رہا کیوں کہ ملٹری کے ذہنوں سے دھند چھٹ گئی اور پھر حالات معمول پر آگئے لیکن یہ دودن دارالحکومت کی تاریخ میں ہمیشہ ہمیشہ اس عبرت ناک تباہی کی یاد دلاتے رہیں گے۔ دس دن تک شہر میں کر فیور ہا فوج گشت کرتی رہی پھر کر فیوہٹالیا گیا اور حالات معمول پر آگئے۔
☆☆☆
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Back
Top