• 📚 لوو اسٹوری فورم ممبرشپ

    بنیادی ڈیل

    وی آئی پی

    5000
    تین ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    وی آئی پی پلس

    8000
    چھ ماہ کے لیے
    ٹاپ پیکیج
    👑

    پریمیم

    20000
    چھ ماہ کے لیے

Love Story محبت، بے رخی اور انجام

Joined
Jun 10, 2025
Messages
934
Reaction score
48,717
Points
93
Location
Karachi
Gender
Male
گھر سے گویا منتظر فردار ہے۔ ایسے میں دانیہ کی رفاقت کسی نعمت سے کم نہ تھی۔ جب بھی آتی، اس کی زبان پر اپنے کالج کا ذکر ضرور ہوتا۔ وہ طالب علمی کا زمانہ نہیں بھول پارہی تھی، اور کچھ یہی حال میرا بھی تھا۔ کالج کی سنہری یادیں بھلا ابتدا کے دنوں میں کس کو بھولتیں؟ ہماری گفتگو کا پہلا موضوع ہمیشہ کالج کا زمانہ ہی ہوتا۔ ہم ایک دوسرے کو اپنے اپنے کالج کے قصے سناتے۔ یہی مشترکہ دلچسپی ہمیں دوستی کے بندھن میں باندھنے کا سبب بنی۔ انجم بھائی دانیہ سے بہت محبت کرتے تھے۔ ویسے بھی، شادی کو صرف دو ماہ ہوئے تھے۔ وہ روز آفس سے آتے ہوئے اس کے لیے کچھ نہ کچھ ضرور لاتے۔ کبھی خالی ہاتھ گھر نہیں آتے تھے۔ دانیہ کہتی، “انجم! آپ کی توجہ اور محبت ہی میرے لیے سب کچھ ہے۔ ان بے جان چیزوں کی کوئی وقعت نہیں۔ پیار تو دل سے ہوتا ہے۔ مجھے آپ کے گھر لوٹ آنے کا انتظار رہتا ہے، تحفوں کا نہیں دونوں ایک دوسرے کو پا کر بہت خوش تھے۔ ان کی زندگی گویا جنت تھی۔ انجم صبح آفس جاتے اور سہ پہر تین بجے گھر لوٹ آتے۔ دفتر کے سوا ان کی کوئی اور مصروفیت نہ تھی۔ انہیں ہمارے پڑوس میں رہتے ہوئے ڈیڑھ برس ہو چکا تھا۔ ان ڈیڑھ برسوں میں کوئی دن ایسا نہیں گزرا کہ میری اور دانیہ کی ملاقات نہ ہوئی ہو۔ انجم بھائی کے آفس جانے کے ایک گھنٹے بعد ہی وہ ہمارے گھر آجاتی، یا کبھی میں اس کے ہاں چلی جاتی۔ شادی سے پہلے دانیہ کو کھانا پکانا نہیں آتا تھا، اس لیے وہ امی سے مختلف ڈشز بنانا سیکھنے آتی۔ اسے کھانا پکانے سے زیادہ اپنے شوہر کی پسند و ناپسند میں دلچسپی تھی۔ جو کھانے انجم کو پسند تھے، وہی وہ امی سے سیکھتی، اور جب اچھی طرح پکانا سیکھ لیتی، تو اپنے شوہر کے لیے تیار کر کے گھر لے جاتی۔ اگلے دن خوشی سے بتاتی کہ انجم اس کے ہاتھ کے پکے کھانوں سے کتنا خوش ہوا۔ اسی خوشی کی خاطر وہ محنت کرتی، حالانکہ اس کے گھر میں نوکر چاکر تھے، باورچی بھی تھا، اور اسے کسی گھریلو کام کی ضرورت نہ تھی۔ دن کے وقت بوریت دور کرنے کے لیے وہ ہمارے گھر آجاتی، اور شام کو انجم کے آنے کے بعد دونوں گھر پر وقت گزارتے۔ البتہ روزانہ رات کو گھومنے پھرنے جانا ان کا معمول تھا۔ دو سال تک یہی روٹین رہی، مگر اس کے بعد وقت آہستہ آہستہ بدلنے لگا۔ دانیہ تو ویسی ہی رہی، لیکن انجم بھائی اب پہلے جیسے نہ رہے تھے۔ جیسے بیوی اب پرانی ہو چکی ہو، ان کے رویے میں سرد مہری آ گئی تھی۔ شاید یکسانیت سے اکتاہٹ مرد کی فطرت ہوتی ہے۔ دانیہ ان سے پندرہ برس چھوٹی تھی۔ وہ ہر وقت کسی نہ کسی سے بات کرنا، ہنسنا بولنا، اور دوستانہ صحبت چاہتی تھی۔ خاموشی اسے بے چین کر دیتی تھی۔ اسے تنہائی کی عادت نہ تھی۔وہ ایک بھرے پرے گھر سے آئی تھی، جہاں ہر وقت رونق رہتی تھی، اور یہاں صرف خاموش دیواریں تھیں۔ جب انجم بھائی آفس سے لوٹتے تو دانیہ ان کا والہانہ استقبال کرتی، مگر اب وقت بدل رہا تھا — یا شاید دانیہ کا نصیب بدل رہا تھا۔انجم کی چاہت میں پہلے جیسا جوش و خروش باقی نہ رہا تھا۔ انہوں نے بے رخی اور سرد مہری اختیار کر لی تھی۔ دانیہ ایسے سناٹوں کی عادی پہلے بھی نہ تھی، اور اب تو شوہر کی موجودگی کے باوجود اس کے گھر میں خاموشی بسی ہوئی تھی۔

دانیہ اس خاموشی سے بیزار ہو چکی تھی۔ وہ ایک چلبلی سی لڑکی تھی، جو ہر وقت ہنسنا، بولنا اور خوش رہنا چاہتی تھی، لیکن جواب میں اسے خاموشی، بیزاری اور بعض اوقات تلخ لہجہ سننے کو ملتا۔ تب اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگتے۔ وہ میرے پاس آتی اور دل کی بھڑاس نکال کر کچھ دیر کو ہلکی ہو جاتی۔ کہتی، نیہا، شکر ہے تم مل گئی ہو۔ انجم تو اتنے بدل گئے ہیں۔ اگر تم نہ ہوتیں تو میں پاگل ہو جاتی۔ تمہارا سہارا میرے لیے ایک نعمت ہے۔انہی دنوں ان کے شوہر کی پروموشن ہو گئی، اور وہ ایک اعلیٰ افسر بن کر ایک بڑے گھر میں شفٹ ہو گئے، جو ہمارے گھر سے کچھ فاصلے پر تھا۔ اب دانیہ ہفتے میں ایک بار آتی، اور آتے ہی شوہر کی کوتاہیوں کا ذکر شروع کر دیتی۔ کہتی، تم یقین نہیں کرو گی، ان کا ہر وقت منہ چڑھا رہتا ہے۔ بات کرتی ہوں، تو جھڑک دیتے ہیں۔ پتہ نہیں ان کو کیا ہو گیا ہے؟میں اسے سمجھاتی، ان کا عہدہ بڑا ہو گیا ہے، ذمہ داریاں بھی بڑھ گئی ہیں۔ اسی لیے شاید وقت نہیں دے پاتے ہوں گے۔وہ کہتی، جو بھی ہو، کبھی تو آدمی گھر میں نارمل ہوتا ہے۔ ہر وقت تو آفیسر نہیں بنا رہتا۔ان دنوں دانیہ بہت پریشان رہنے لگی تھی۔ وہ نہ اب پہلے کی طرح سجتی سنورتی، نہ اس میں کوئی خوشی باقی رہی تھی۔ وہ ایک زندہ لاش بن چکی تھی۔ شوہر کی بے رخی نے اسے اندر سے کھوکھلا کر دیا تھا۔دانیہ کو دیکھ کر یقین نہیں آتا تھا کہ یہ وہی لڑکی ہے، جو شادی سے پہلے سرخ و سفید، چمکتی دمکتی نظر آتی تھی۔ میں اسے سمجھاتی تو وہ کہتی، نیہا، سنو، میری مشکلات تمہیں معمولی لگتی ہوں گی، مگر جیون ساتھی کی بے رخی کے زخم بہت گہرے ہوتے ہیں۔ اس کا اندازہ وہی عورت کر سکتی ہے، جو انہیں سہتی ہے۔ مرد اتنے بدل جاتے ہیں، یہ تو میں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا۔دانیہ، جو کبھی پھول کی طرح کھلی کھلی رہتی تھی، اب مرجھائی ہوئی کلی بن چکی تھی۔ میں اسے ہنسانے کی کوشش کرتی، تو وہ ہنستے ہنستے رو پڑتی۔کہتی، اگر تم چلی گئی، تو میں بالکل تنہا ہو جاؤں گی۔ اب مجھے ڈراؤنے خواب آنے لگے ہیں۔ایک دن اس نے مجھے بتایا، مجھے بار بار ایک ہی خواب آتا ہے کہ کوئی مجھے قتل کرنا چاہتا ہے۔ میں چیخ کر اٹھ جاتی ہوں، لیکن انجم مجھے تسلی دینے کے بجائے غصے سے کہتے ہیں، تم تو نفسیاتی مریضہ ہو، نہ خود سوتی ہو نہ مجھے سونے دیتی ہو۔ سچ بتاؤ نیہا، کوئی مجھے مار تو نہیں دے گا؟میں نے کہا، ایسے کلمات منہ سے مت نکالو۔ کبھی کوئی گھڑی قبولیت کی ہوتی ہے، اس لیے ہمیشہ اچھی بات کہنی چاہیے۔ تمہیں صرف وہم ہے۔لیکن میں سمجھ چکی تھی کہ ہر وقت سوچنے اور رنج میں رہنے سے دانیہ کے ذہنی توازن پر اثر پڑنے لگا تھا۔ وہ شدید ڈپریشن کا شکار ہو چکی تھی۔ میرا دل نہیں چاہتا تھا کہ میں اسے اس حالت میں چھوڑ کر جاؤں، لیکن شادی تو زندگی کا ایک لازمی مرحلہ ہوتی ہے۔میری شادی ہو گئی اور میں شوہر کے ساتھ سکھر چلی آئی۔ اب جب بھی امی کا فون آتا، میں دانیہ کا حال ضرور پوچھتی۔ امی کہتیں، جب بھی آتی ہے، تمہارا ضرور پوچھتی ہے۔ایک دن یہ معمہ یوں کھلا کہ ابو نے امی سے کہا، یہ انجم کو کیا ہو گیا ہے؟ میں تو اسے شریف آدمی سمجھتا تھا، لیکن میں نے دو تین بار اسے رات کے وقت کسی عورت کے ساتھ گھومتے دیکھا ہے۔ لگتا ہے وہ سیدھے راستے سے بھٹک گیا ہے۔امی بولیں، دانیہ کو بھی شک ہے۔ وہ کافی دنوں سے پریشان ہے، لیکن شوہر سے اتنا پیار کرتی ہے کہ میکے بھی نہیں جاتی۔انجم ہمیشہ اپنے بریف کیس میں آفیشل کاغذات رکھتے تھے اور اسے لاک رکھتے۔ ایک دن اتفاقاً وہ لاک کرنا بھول گئے۔ دانیہ نے صفائی کرتے ہوئے بریف کیس پر رومال پھیرا تو وہ کھل گیا۔ اندر سونے کے کنگن کی ایک جوڑی اور پرفیوم کا ڈبہ رکھا تھا۔یہ چیزیں دیکھ کر وہ حیران رہ گئی۔ جب وہ کنگن ہاتھ میں لے کر حیرت سے دیکھ رہی تھی، انجم غسل خانے سے نہا کر باہر آئے۔ دانیہ نے پوچھا، یہ کس کے لیے ہیں؟انجم بولے، یہ تمہارے لیے ہیں۔ بس ابھی تمہیں دینے والا تھا۔ مگر ان کی آواز میں جھجھک تھی۔دانیہ نے کنگن کلائیوں میں پہنے، مگر وہ بہت ڈھیلے تھے۔ بولی، یہ میرے سائز کے نہیں ہیں۔ اس کی چھٹی حس کہہ رہی تھی کہ یہ کنگن اس کے لیے نہیں ہیں۔ اس نے کنگن اتار دیے اور کہا، مجھے یہ کنگن نہیں چاہییں، کیونکہ یہ میرے لیے نہیں ہیں۔وہ رونے لگی۔ ہمارے گھر آئی اور امی کو سارا ماجرا بتایا۔ امی تو پہلے ہی ابو سے انجم کے بدلتے رویے کے بارے میں سن چکی تھیں۔ اب دانیہ کے شوہر کی بے رخی کی گتھی پوری طرح سلجھ چکی تھی۔

شادی کے تقریباً ایک سال بعد میرے شوہر نے چھٹی لی، اور میں اپنے والدین سے ملنے میکے آئی۔ دانیہ کے گھر کے سامنے سے گزرتے ہوئے دل میں ایک عجیب سا احساس ہوا۔ جب سے میری شادی ہوئی تھی، شروع کے دنوں میں دانیہ سے چند بار بات ہوئی تھی، پھر مصروفیت میں وہ سلسلہ بھی منقطع ہو گیا۔ اپنی گھرداری میں اتنی مصروف ہو گئی تھی کہ اس سے رابطہ رکھنا ممکن نہ رہا۔ صرف امی سے ہی کبھی کبھار اس کی خیریت معلوم کر لیا کرتی تھی۔ آج جب اس کے گھر کے سامنے سے گزری، تو شدت سے اس کی یاد آ گئی اور اپنی کوتاہی پر افسوس بھی ہوا کہ نہ فون کیا، نہ حال چال پوچھا۔ سوچا، پہلے امی ابو سے مل لوں، شام کو اس کے گھر جاؤں گی اور بچے کی مبارکباد بھی دوں گی۔ امی ابو سے ملنے کے بعد ہم نے کھانا کھایا، کچھ دیر آرام کیا، اور شام ہونے لگی۔ میں نے ماں سے کہا، میں ذرا دانیہ سے ملنے جا رہی ہوں، اسے بچے کی مبارکباد بھی دوں گی۔ امی چونک کر بولیں: -کس بات کی مبارکباد؟ دانیہ تو وہاں رہی ہی نہیں۔ میں حیرت سے بولی: -تو کیا وہ بچہ، جسے ان کے گیٹ پر ملازمہ نے گود میں اٹھا رکھا تھا، انجم صاحب کا نہیں ہے؟ امی نے گہرا سانس لیا: “انجم کا تو ہے، لیکن دانیہ کا نہیں۔ کیا کہہ رہی ہیں، امی! میں آپ کی بات کا مطلب نہیں سمجھی- پھر امی نے جو کچھ بتایا، وہ سن کر میرا دل جیسے صدمے سے بیٹھ گیا۔ وہ کہنے لگی – یہ تقریباً ایک سال پہلے کی بات ہے۔ انجم کسی سرکاری دورے پر شہر سے باہر گئے ہوئے تھے، اور دانیہ گھر پر اکیلی تھی۔ انہی دنوں ان کے چوکیدار کو گردے میں شدید درد اٹھا، تو دانیہ نے اسے اسپتال بھیج دیا۔ چوکیدار نے ہمارے چوکیدار سے کہا کہ انجم صاحب کے گھر کا خیال رکھنا، میں ایک دو روز میں لوٹ آؤں گا۔ اس نے انجم کو بھی فون کر دیا تھا۔ انجم نے تسلی دی کہ ایک رات کی بات ہے، اگلی شام تک میں واپس آ جاؤں گا۔ ہمارے چوکیدار کے مطابق، اس نے اس رات دو تین بار ان کے گھر کا چکر لگایا، سب کچھ معمول کے مطابق تھا۔ مگر غالباً واردات رات کے آخری پہر ہوئی، جب وہ فجر کی نماز کے لیے مسجد چلا گیا تھا۔ صبح تک دانیہ کی لاش ملی۔ قاتل کا کوئی سراغ نہ ملا، نہ ہی قتل کی وجہ سامنے آ سکی۔ البتہ دانیہ کے وہ زیورات جو وہ پہنے ہوئے تھی، اور کچھ زیور جو ڈریسنگ ٹیبل پر رکھے تھے، وہ غائب تھے۔ انجم کو فون پر اطلاع دی گئی، تو وہ فوراً گھر واپس لوٹ آئے۔ چوکیدار پر شک نہیں گیا، کیونکہ وہ اسپتال میں داخل تھا اور انجم شہر سے باہر تھے۔ نہ دانیہ کا کوئی دشمن تھا، نہ کوئی ذاتی عناد۔ پولیس نے یہ شبہ ظاہر کیا کہ قاتل کو معلوم تھا کہ وہ اکیلی ہے اور یہ بھی جانتا تھا کہ دانیہ جب نیند نہ آئے تو خواب آور گولی کھاتی ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ سے پتہ چلا کہ واردات والی رات بھی اس نے خواب آور گولی لی تھی، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسے مزاحمت کا موقع ہی نہ ملا۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ گھر کا قیمتی سامان ویسا کا ویسا تھا۔ کسی چیز کو ہاتھ تک نہیں لگایا گیا، سوائے زیورات کے۔ آخر اس قاتل نے دانیہ کی جان کیوں لی؟ جبکہ اس نے انجم کی قیمتی کلائی کی گھڑیاں تک نہیں اٹھائیں۔ کچھ عرصے کی تفتیش کے بعد کیس بند کر دیا گیا، مگر قاتل کا پتہ نہ چل سکا، اور نہ ہی کوئی گرفتاری عمل میں آئی۔انجم صاحب نے کچھ ہی عرصے بعد اسی خاتون سے شادی کر لی جس کے عشق میں وہ عرصے سے گرفتار تھے۔یہ تین ماہ کا بچہ اسی دوسری بیوی سے تھا۔افسوس کہ انجم صاحب نے دانیہ کا سوگ تک نہ منایا۔ اس کی موت کے صرف تین ماہ بعد انہوں نے شادی کر لی۔

شروع میں وہ نئی بیوی سے بہت خوش تھے، مگر جلد ہی ان کی طبیعت اس سے بھی اکتا گئی۔ اکثر لڑائی جھگڑے رہنے لگے، اور وہ عورت ناراض ہو کر میکے چلی گئی۔اب اس بچے کو سنبھالنے کے لیے انجم صاحب کی والدہ ان کے پاس آ گئی تھیں۔یہ سب سن کر میرے دل پر گہرا صدمہ گزرا۔ میں دانیہ کے گھر نہ گئی، کیونکہ وہاں اب میرا کوئی تعلق باقی نہ رہا تھا۔میں نے امی سے شکوہ کیا کہ آپ نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا؟امی نے جواب دیا کہ تم دوسرے شہر میں تھیں اور میں تمہیں اتنی دکھی خبر دے کر پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی۔پھر انہوں نے بتایا کہ انجم نے اپنی دوسری بیوی کو طلاق دے دی ہے۔ ان دونوں میں نباہ نہ ہو سکا۔ اب وہ شخص، جو کبھی دانیہ کی بے قدری کرتا تھا، اس کی یاد میں دن رات تڑپتا ہے۔
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Back
Top