- Moderator
- #1
میرا نام صائمہ ہے اور میری عمر 23 سال ہے ۔۔ابھی میں اپنے شوہر کے ساتھ امریکہ میں رہتی ہوں۔ شادی کو دو سال ہو چکے ہیں لیکن ابھی تک کوئی بچہ نہیں ہوا۔ مجھے دیکھتے ہی ہر کوئی میرے قریب آنا چاہتا ہے کیونکہ میں بہت خوبصورت ہوں۔ میرا قد 5 فٹ 6 انچ ہے، فگر 34B-28-36 ہے، رنگ بہت گورا ہے اور آنکھیں موٹی موٹی ہیں۔ میں اپنے جسم کو ہمیشہ اچھی طرح مینٹین رکھتی ہوں ۔
شادی کے ایک سال بعد میں پاکستان سے امریکہ آ گئی تھی۔ یہاں آنے کے بعد مجھے پتا چلا کہ میرے شوہر کا ایک عربی دوست بھی ہے جس کا نام مختوم ہے۔ وہ اکثر ہمارے گھر آیا کرتا تھا۔ میرے ہبی ایک بینک میں کام کرتے ہیں جبکہ مختوم ایک پرائیویٹ کمپنی میں کام کرتا ہے۔ ہفتے اور اتوار کو دونوں کی چھٹی ہوتی ہے۔ مختوم ہر جمعہ اور ہفتے کی رات کو ہمارے گھر آتا تھا۔ وہ اور میرا ہبی لیونگ روم میں بیٹھ کر باتیں کرتے اور میں ان کے لیے کھانا وغیرہ بنا کر لاتی تھی۔ اکثر دونوں لیونگ روم میں بیٹھ کر ڈرنک بھی کیا کرتے تھے۔
شروع شروع میں میں نے کبھی محسوس نہیں کیا تھا کہ مختوم میرے جسم کو بڑی گہری نظر سے دیکھتا ہے۔ لیکن ایک دو بار جب میں کھانے کی چیزیں ٹیبل پر رکھنے کے لیے جھکی تو میں نے محسوس کیا کہ مختوم میری چھاتیوں کو بڑے غور سے دیکھ رہا ہے۔ میں اس کی اس طرح دیکھنے سے مزہ لینے لگی تھی۔ میں جان بوجھ کر اپنی قمیض کا اوپر والا بٹن کھول دیتی تھی تاکہ مختوم میری چھاتیوں کا اچھا مزہ لے سکے۔ کیونکہ میں بھی مختوم کی مضبوط اور خوبصورت باڈی سے متاثر تھی۔ اس کا قد 6 فٹ سے زیادہ ہے، چوڑی چھاتی ہے اور جسم پر بال بھی ہیں۔ وہ اکثر شرٹ کے دو بٹن کھلے رکھتا تھا تاکہ اس کی ہیری چیسٹ نظر آئے۔
اب میں اصل کہانی کی طرف آتی ہوں۔
ایک دن وہ دونوں ڈرنک کر رہے تھے اور میں انہیں مختلف چیزیں سرو کر رہی تھی کہ اچانک میرا ہبی نشے میں باہر ہو گیا اور الٹی کرنے لگا۔ میں اور مختوم دونوں نے مل کر اسے سہارا دے کر واش روم تک پہنچایا۔ سہارا دیتے ہوئے میرا ایک بازو ہبی کی پیٹھ پر تھا اور مختوم کا بھی۔ اس نے اپنا ہاتھ میرے بازو پر رکھ دیا۔ جب میں نے اس کی طرف دیکھا تو اس نے مجھے ایک بہت خوبصورت مسکراہٹ دی اور بڑی گہری نظروں سے مجھے دیکھا۔ میں کچھ شرما گئی۔
دسمبر کی رات تھی اور قریب گیارہ بجے کا وقت تھا۔ واش روم سے ہبی کو لا کر بیڈ پر لٹا دیا تو مختوم نے کہا، "بھابی، میں چلتا ہوں، آپ دروازہ لاک کر لیں۔"
میں نے "اوکے" کہا۔ میں مختوم سے پہلے ہی بیڈ روم سے نکل آئی تھی۔ جب مختوم باہر والے دروازے کے قریب آیا تو اس نے بڑی دلیری سے مجھے اپنی بانہوں میں لے لیا۔ اس سے پہلے کہ میں کچھ بولتی، اس نے اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں پر رکھ دیے اور میرے ہونٹ چوسنے لگا۔
میں نے اس کی بانہوں سے نکلنے کی کوشش کی لیکن بے سود۔ جب مجھے کچھ موقع ملا تو میں نے کہا، "میں…… مختوم، یہ آپ نے کیا کیا؟"
مختوم: "وہی جو مجھے کرنا چاہیے تھا۔"
میں: "اگر انہوں نے دیکھ لیا تو؟"
مختوم: "وہ آج کچھ نہیں دیکھ سکتے۔"
میں: "کیوں؟"
مختوم: "میں نے آج اس کی شراب میں نیند کی گولی ڈال دی ہے۔"
میں نے خمار بھری نظروں سے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ تو وہ پھر میرے ہونٹ، کان اور گال چومنے لگا۔ اس بار میں بھی اس کا ساتھ دے رہی تھی۔ جب وہ میرے منہ میں اپنی زبان ڈالتا تو میں اس کا پورا رس پی لیتی تھی اور بڑے مزے سے اس کی ہیری چیسٹ پر اپنی انگلیاں پھیر رہی تھی۔
پھر اس نے میرے کان میں کہا، "صائمہ، آج سے تم میری بھی ویسی ہی بیوی ہو جیسی اپنے ہبی کی ہو۔ ہفتے میں چھ راتیں تم اپنے ہبی کے ساتھ سو جانا، لیکن ہر ہفتے کی رات میں ساری رات تمہیں چودا کروں گا۔ اس کو شراب میں نیند کی گولی ڈال کر۔"
یہ باتیں کرتے ہوئے مختوم میرے جسم کے ہر حصے سے کھیل رہا تھا اور میں اس سے مزہ لے رہی تھی۔ پھر وہ مجھے دوسرے بیڈ روم میں لے گیا۔ جاتے ہی اس نے مجھے ننگا کر دیا اور خود بھی ننگا ہو گیا۔
جب میں نے اس کا لن دیکھا تو حیران رہ گئی۔ وہ تقریباً 8 انچ لمبا اور 3 انچ موٹا تھا۔ جیسا میں نے عربی مردوں کے لن کے بارے میں سنا تھا وہ بالکل ویسا ہی تھا۔مجھے ڈر بھی لگ رہاتھا۔اتنا موٹا لن میری چوت پھاڑ کررکھ دے گا۔ مختوم نے مجھے بیڈ پر لٹا کر میرے جسم کو اتنا چوما اور چوسا کہ میں مزے سے پاگل ہوگئی ۔اس کی زبان میرے جسم کے چپے چپے کو چاٹ رہی تھی ۔ میں اس دوران کئی بار فارغ ہوئی اور اب اس کا لن اپنی چوت میں لینے کے لیے بے قرار تھی ۔ مختوم پلیز اب مجھے چودو۔میں اس کے بال کھینچتی ہوئی بولی ۔ اس نے مسکراتے ہوئے میری طرف دیکھااور میری ٹانگیں پھیلا کر اپنے کندھوں پر رکھیں اور اپنا موٹا لن میرے اندر گھسانے لگا۔ میری چوت اتنی گیلی ہوگئی تھی کہ اتنے موٹے لن کو اندر لینے کے لیے زیادہ وقت نہیں لگا اور دو تین جھٹکوں کے بعد وہ مکمل اندر تھا۔آآآآآآآآہ مجھے لگا جیسے اس کا موٹا لن میرا پیٹ بھی پھاڑ دے گا۔مگر مجھے بے انتہا مزا آرہاتھا۔ اور مختوم دھکے پر دھکا مارنے لگا۔ ساتھ ساتھ وہ دونوں ہاتھوں سے میرے ممون کو کھینچ رہا تھا۔
آج مختوم مجھے ایسے چود رہا تھا جیسے آج تک کبھی نہیں ہوا تھا۔ تقریباً دس منٹ بعد مختوم نے دھکے تیز کر دیے اور میرے اندر ہی اپنا سارا منی چھوڑ دیا۔ پھر میرے اوپر ہی لیٹ گیا اور میرے کان میں بولا، "صائمہ، سچ بتاؤ، مزہ آیا یا نہیں؟"
میں نے مسکرا کر اس کی چیسٹ کو چوم لیا۔
میں نے کہا، "ذرا ہٹو، میں اس بیڈ روم سے ہو آؤں۔" وہ پیچھے ہٹا اور میں جا کر دیکھا کہ میرا ہبی بہت گہری نیند سو رہا ہے۔ میں سوچنے لگی کہ اسے کیا پتا کہ آج سے اس کا دوست اس کی بیوی کا پارٹنر بن چکا ہے۔
یہ سوچتے ہوئے میں دوبارہ مختوم کی بانہوں میں آ گئی۔ اس رات مختوم نے مجھے دو بار چودا۔
اس کے بعد سے ہر ہفتے کی رات ہم یہ ڈرامہ دہراتے رہے اور آج تک دہراتے جا رہے ہیں۔ اب مختوم زور دے رہا ہے کہ میں اس کے بچے کی ماں بنوں۔ شاید یہ بھی ہو جائے۔