• 📚 لوو اسٹوری فورم ممبرشپ

    بنیادی ڈیل

    وی آئی پی

    5000
    تین ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    وی آئی پی پلس

    8000
    چھ ماہ کے لیے
    ٹاپ پیکیج
    👑

    پریمیم

    20000
    چھ ماہ کے لیے

Life Story نقلی روپ ۔۔۔

Joined
Jun 10, 2025
Messages
952
Reaction score
49,070
Points
93
Location
Karachi
Gender
Male
نی آرا، ادھر آ کر میری بات سن انہوں نے ٹی وی کا ریموٹ گھماتے ہوئے بہو کو آواز دی۔امی بھا بھی کا نام آرا نہیں، آئرہ ہے۔ صوفے پر قریب بیٹھے مٹھو نے فوراً ماں کو ٹوکا – پتا ہے مجھے، ایڈا توں قابل نہیں پتر، پہلے خود تو دو جماعتیں پاس کر لے، پھر ماں کو پڑھانا۔ ایسے جیسے میرے علاوہ تو اس گھر میں سارے ڈاکٹر ہیں، اور میں یہاں ان پڑھ ہوں۔آئرہ ساس کی پہلی آواز پر کمرے میں چلی آئی تھی۔ مٹھو نے گھوری ڈال کر ماں کو بریک پر پاؤں رکھنے کا کہا، جو بہو کے سامنے سارے بھید کھولنے والی تھیں۔ ایک تو لوگوں کا بھی کوئی حال نہیں، ایسے اوکھے نام رکھ لیتے ہیں، جیسے نیلام گھر میں، گھر میں طارق عزیز نے بلاتے ہوں۔ آئرہ سامنے آن کھڑی ہوئی تھی، پر پروین کی زبان نہیں رک رہی تھی۔ وہ ساس کو اپنے نام کی اصطلاحیں بیان کرتا دیکھ، بس مسکرانے پر اکتفا کر رہی تھی۔اس سے زیادہ، وہ کر بھی کیا سکتی تھی جی، آپ نے بلایا اس سے پہلے کہ وہ اس کے نام کے اگلے حصے کا پوسٹ مارٹم کرتی، آئرہ نے فوراً بلانے کا سبب دریافت کیا، جو اس سے کہیں مشکل تھا۔ہاں، وہ میں کہہ رہی تھی، کوئی کام بھی آتا ہے کہ بس، اس کے آگے آنکھوں کے اشارے اتنے شان دار تھے کہ کچھ کہنے کی ضرورت نہ تھی۔ میری ماں نے گاؤں سے مکئی کا آٹا بھیجا ہوا ہے، تمہیں ٹوڈے تو بنانے آتے ہی ہوں گے۔اس نے نام پہلی مرتبہ سنا تھا، بنانا تو دور کی بات تھی – ٹوڈے اس نے یوں ادا کیا جیسے کوئی انگریزی کا لفظ ادا کر رہی ہو۔ “ٹوڈے” مکئی کی روٹی، کارن، چھلی۔مٹھو نے موبائل سے نظر اٹھا کر اس کی مشکل آسان کرنے کی کوشش کی۔نو اس نے شرمندہ ہوتے ہوئے گردن ہلائی۔ہیں، تجھے ٹوڈے بتانے نہیں آتے؟ پروین نے یوں پوچھا جیسے وہ دنیا کا سب سے اہم اور ضروری کام نہ جانتی ہو۔خیر، امی کو بھی نہیں آتے۔

پروین سے پہلے پھر مٹھو بول پڑا۔توں نے اپنی بکواس بند کر، یہ بھی کوئی بات ہوئی بھلا؟ ٹوڈے تو لڑکیوں کو بنانے آنے چاہئیں۔ چل، کوئی بات نہیں، آج کل یہ کام بھی یوٹیوب نے آسان کر دیا ہے۔مٹھو کی زبان بند کروا کر انہوں نے پہلے تو افسوس کا اظہار کیا، پھر ساتھ ہی اس کا حل بھی بتا ڈالا۔جا میری دھی! کچن میں آٹا پڑا! ہے، یوٹیوب پر ویڈیو دیکھ کر ٹوڈے بنا کر لا۔وہ ساس کی فرمائش پر پریشان کھڑی تھی، خود ہی مسئلہ بتایا اور پھر اس کا حل بھی بتا دیا تھا۔ مرvی کیا نہ کرتی، ساس کی ہر فرمائش پوری کرنا اس کی زندگی کا اولین مقصد تھا۔وہ سر جھکا کر کچن میں چلی آئی۔ پہلی کیبنٹ سے آٹا تو مل گیا، اب آٹے کو گوندھنے کے لیے اس نے یوٹیوب سے مدد مانگی۔ان گنت ویڈیوز میں سے کسی ایک پر تو بھروسا کیا۔ ایک ویڈیو کو دیکھ کر بسم اللہ پڑھ کر کام شروع کیا، تو کچن میں فضا عرف فری کا نزول ہو گیا۔ہاتھ میں موبائل لیے ویڈیو دیکھتی، فری کے پاس زیادہ ٹائم نہیں تھا۔ وہ اسے ناشتہ بنانے آرڈر دے کر وہیں فریج کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑی ہوگئی۔ وہ آٹا نکال کر پہلے فریکا ناشتہ بنانے لگ گئی۔فری یہ مجھے پانی کا جگ تو ادھر دینا- فری صاحبہ کی نگاہیں پوری موبائل اسکرین پر تھیں۔ اس نے جگ پکڑ کر اس کی طرف بڑھایا۔ جگ کو بھی اس کے ہاتھ میں جانے سے زیادہ جلدی تھی۔ فری نے پانی کا سارا جگ پرات میں ڈال دیا، اور آٹے کو نہلا گیا ہائے مارے گئے، یہ کیا ہو گیا؟ آئرہ کی تو جان پر بن آئی۔ پرات میں آٹا کم اور پانی زیادہ تھا۔اس میں اتنا ڈرنے کی کیا بات ہے، اور آٹا مکس کر دیں؟فری کے پاس اس کا آسان حل تھا، لیکن اس حل پر عمل کرتے کرتے اس نے پورے شا پر انڈیل ڈالا۔ آٹا کسی دلدل کی طرح رکنے میں نہیں آ رہا تھا۔ بڑی مشکلوں سے اس نے پہلے فری نامی مصیبت کو سر سے ٹالا، پھر آٹے پر زور آزمائی شروع کر دی،جو گیلے گارے کی طرح ہاتھ سے پھسلتا جا رہا تھا۔اسے خیال آیا، کیوں نہ اس میں گندم کا آٹا ڈال کر اسے سخت کر دیا جائے۔اس خیال کے آتے ہی اس نے جھٹ سے گندم کا آٹا نکالا اور اس میں شامل کر کے گوندھ ڈالا۔ شکر ہے، اب آٹا کچھ ٹھیک ہو گیا تھا۔نی آرا ٹوڈے کیا آج کی تاریخ میں بن جائیں گے؟ آنٹی کی آواز پر وہ جھنجھلا اٹھی۔ اس نے روٹی بیل دی، پھر غور کیا کہ توے کے نیچے چولھا تو جل ہی نہیں رہا تھا۔ یا اللہ! مکئی کی روٹی کس نے ایجاد کی؟وہ گھبراہٹ کے مارے کبھی توے پر پڑے اس بے ڈھنگے، موٹے ڈھیر کو دیکھ رہی تھی جو آپس میں جڑ گیا تھا لیکن پکنے کا نام نہیں لے رہا تھا، اور کبھی باہر کی طرف دیکھتی، جہاں سے ابھی پروین کسی فرشتے کی طرح اس کے سر پر سوار ہونے والی تھی۔ہیں، نی، ابھی تک تجھ سےٹوڈے نہیں بنے؟پروین نے جیسے اس کے پیچھے آ کر آواز لگائی۔ وہ گھبرا کر رک گئی۔ ٹوڈوں سے کہیں زیادہ اس کی اپنی حالت خراب ہو رہی تھی۔ آٹا اس کے چہرے اور کھلے بالوں سے لپٹ گیا تھا۔ ٹوڈوں کی پوری کہانی بیان کر رہا تھا۔ہائے! میں مر گئی! تیرا استیا ناس سارے آٹے کا بیڑا غرق کر دیا-پروین کی دہائیاں بلند ہو گئی تھیں اور آئرہ آٹے والے ہاتھ چہرے پر رکھے اونچی آواز میں رونے بیٹھ گئی۔میرا تو آٹا برباد ہوا ہے، تیرا کیا برباد ہوا ہے جو تو رو رہی ہے؟پروین نے اسے روتا دیکھا تو دونوں ہاتھ کمر پر رکھ کر گھورتی ہوئی بولیں کہ آپ کا آٹا برباد ہوا ہے اور اس کی قسمت برباد ہو گئی ہے۔ماں کی دہائی سن کر مٹھو بھی کچن میں آ گیا تھا۔ انہیں جواب وہی دے سکتا تھا۔رونا تو بنتا ہے مٹھو کی بات سن کر پروین نے جوتا پکڑ لیا۔ادھر آ پہلے، میں تیری تو خبر لے لوں، پھر اس سے نمٹوں گی۔وہ جوتا لے کر مٹھو کو مارنے کچن سے باہر نکل گئیں۔
☆☆☆

پھر اگلا پورا ہفتہ پروین اماں مکئی کے آٹے کا سوگ مناتی رہیں۔ اللہ معافی، کسی نے ایسے ٹوڈے نہیں بنائے ہوں گے جیسے ٹوڈے اُس دن آرا نے بنا ڈالے تھے۔ میری اماں بیچاری نے کتنی محبت سے آٹا بھیجا تھا، سب کچھ برباد کر ڈالا۔حرا (بڑی بیٹی) کے آنے پر پھر سے وہی فائل کھل گئی۔ارے پینو بہن، آج کل کی لڑکیوں کو ٹوڈے کہاں بنانے آتے ہیں؟ رشیدہ (حرا کی ساس) پروین کی بات سن کر حیران رہ گئیں۔یہ سوغات تو ہمارے تمہارے جیسے بزرگوں کے بنانے کی چیز ہے، ہم ہی بناتے ہیں اور کھاتے بھی ہم ہی ہیں۔ بچے تو ایسی چیزیں پسند ہی نہیں کرتے۔ہیں، بزرگ کس کو کہا ہے؟ آپ ہوں گی بزرگ، میں تو ابھی جوان ہوں رشیدہ باجی۔آپ سے پورے چھ سال چھوٹی ہوں میں پروین کو ٹوڈے سے زیادہ اپنے آپ کو بزرگ کہلانے پر اعتراض ہوا تھا- ابھی تو میں جوان ہوں۔ ہاں بھئی تم تو جوان ہو ۔ ہم تو اب بوڑ ھے ہی بھلے۔ رشیدہ نے ہنستے ہوئے اپنی سَمدھن کو دیکھا جو اس عمر میں بھی جوان بن رہی تھی۔ چھوڑیں امی ! آپ بھی کن باتوں کو لے کر بیٹھ گئیں جلدی چلیں ۔ پہلے ہی کافی دیر ہوتی ہے۔ حرا کو جانے کی جلدی بھی اس نے پروین کو فضول کی بحث میں الجھتا دیکھ کر جانے کے لیے کہہ دیا۔ اچھا پھر میں حرا کے ساتھ جارہی ہوں تم کھانا بنا لیانا۔ اور رشیدہ باجی کا اچھی طرح خیال رکھنا ہم شام تک آجائیں گی پروین بہو کو ہدایات دے کر حرا کے ساتھ گھر سے نکل گئیں۔حرا اور پروین کا ہر مہینے مارکیٹ کا ایک پورے دن کا وزٹ ہوتا تھا۔ دونوں ماں بیٹی جی بھر کر شاپنگ کرتی تھیں۔پچھلے ہفتے حرا کی ساس اس کے پاس رہنے آئی ہوئی تھیں۔ اس کے آئے دن گھر سے غائب رہنے پر ساس کے ساتھ ساتھ اس کے شوہر فہیم کو بھی اعتراض ہونے لگا تھا۔اگر تم یونہی اُڑان بھر کر گھر سے چلی جاؤ گی تو وہ بزرگ ہیں، اگر ان کی طبیعت خراب ہوگئی تو؟فہیم کی اپنی ماں کے لیے توجہ اور محبت دیکھ کر حرا کی کوفت بڑھ گئی۔تو کیا میں گھر میں قید ہوکر رہ جاؤں؟ تمہاری ماں کے پلو سے بندھ کر سارا دن بیٹھتی رہوں؟ پروین کی طرح بے دھڑک بولنے والی لڑکی شوہر کی بھی بات برداشت نہیں کرتی تھی۔ہ کب کہا میں نے؟ میں تو کہہ رہا تھا کہ وہ شوگر کی مریضہ ہیں۔ تم سارا دن گھر سے غائب رہو گی تو ہو سکتا ہے ان کی طبیعت خراب ہو جائے۔فہیم نے اسے سمجھانے کی کوشش کی تو وہ پھٹ پڑی۔میرے ہوتے ہوئے بھی اگر ان کی طبیعت خراب ہو جائے تو میں کیا کر سکتی ہوں؟اس نے تیوری چڑھا کر جواب دیا تو وہ لاجواب ہو گیا۔امی ٹھیک کہہ رہی ہیں۔ تم ایسا کرو، باہر جاتے ہوئے امی کو پروین آنٹی کے گھر چھوڑ دینا۔ ان کے گھر میں کافی لوگ ہوتے ہیں، وہاں وہ اکیلی نہیں ہوں گی۔فہیم کی یہ بات اس نے مان لی تھی۔ آج شاپنگ کے لیے نکلتے ہوئے اس نے رشیدہ کو اسپتال جانے کا کہہ کر امی کو پروین کے گھر چھوڑ دیا تھا، اور خود وہ اپنی اماں کو لے کر نکل گئی تھی۔
☆☆☆

خالہ، آپ دوپہر میں کیا کھائیں گی؟ ساس کے نکلتے ہی آئزہ کو دوپہر کے کھانے کی ٹینشن نے گھیر لیا۔ارے بیٹا، ہم تو شوگر کے مریض ہیں۔ سالن کے ساتھ سادہ روٹی کھاتی ہوں۔ گھر میں کوئی سالن پڑا ہوگا، اس کے ساتھ روٹی بنا لو۔ رشیدہ انتہائی سادہ طبیعت تھیں۔ دکھاوا یا بناوٹ نام کو نہ تھی۔اپنے گھر والی بات ہے، تم روٹی بناؤ، تب تک میں نماز پڑھ کر آتی ہوں۔ظہر کی نماز کا وقت ہو گیا تھا۔ وہ نماز پڑھنے چلی گئیں تو آئزہ ان کے لیے روٹی بنانے رسوئی میں آ گئی۔ فریج میں رات کا سالن رکھا تھا، اسے گرم کر کے دو روٹیاں بنا کر باہر لائی تو رشیدہ نماز پڑھ کر آ چکی تھیں۔خالہ، آپ کو اگر کچھ چاہیے ہو تو مجھے بتا دیں۔ان کے سامنے کھانا رکھ کر آئزہ نے گھبرائے ہوئے انداز میں پوچھا تو رشیدہ اسے ہاتھ باندھے اپنے قریب کھڑا دیکھ کر حیران رہ گئیں۔نہیں بیٹا، سب کچھ ہے۔ تم ادھر آ کر میرے ساتھ کھانا کھاؤ۔رشیدہ کے شگفتہ محبت بھرے لہجے نے تھوڑی ہی دیر میں اس کے اندر کا سارا خوف دور بھگا دیا۔نہیں خالہ، آپ کھائیں۔اس گھر میں بھی اس نے کبھی کسی کے لہجے میں اپنے لیے محبت یا ہمدردی نہیں دیکھی تھی۔ رشیدہ کی محبت پر اس کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ارے بیٹا، اگر میں کہوں کہ میں تمہاری امی کی طرح ہوں تو کیا تب بھی میرے پاس نہیں بیٹھو گی؟رشیدہ کے اتنا کہنے کی دیر تھی کہ وہ دوڑ کر ان کے پاس آ بیٹھی۔رشیدہ کی جہاں دیدہ نظروں نے بھانپ لیا تھا کہ پروین نے بچی کو کس طرح کھینچ کر رکھا ہوا ہے۔ اتنی سی جان پر پورے گھر کی ذمہ داری ڈال دی تھی۔رات کے کھانے میں بھی پروین قورمہ قورمہ اور پلاؤ پلاؤ بنانے کا آرڈر دے کر گئی تھیں۔ وہ بچی شام ہوتے ہی رات کا کھانا بنانے رسوئی میں چلی آئی تھی۔قورمہ تو جیسے تیسے بنا لیا تھا، پلاؤ شروع کیا تو چاول خراب ہو گئے۔ وہ گھبرا کر رشیدہ کے پاس باہر آ گئی۔کیا ہوا؟ رشیدہ نے اس کا گھبرا ہوا چہرہ دیکھا اور فوراً سمجھ گئیں کہ اس سے ضرور کوئی کام خراب ہو گیا ہے۔ وہ بتا نہیں پا رہی تھی کہ چاول کیسے خراب ہو گئے۔ آئزہ کو یہ سب بتاتے ہوئے اس کی آنکھوں سے آنسو ٹپ ٹپ کرنے لگے۔ اسے پتہ تھا کہ پروین آنٹی تو آج اسے چھوڑنے گئی ہیں۔لاؤ، مجھے دکھاؤ کیا ہوا ہے۔رشیدہ اٹھ کر اس کے ساتھ کچن میں چلی آئیں۔آئزہ کا ڈھکن اٹھا کر دیکھا تو چاول ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہوئے تھے اور ان کا منہ چڑھا ہوا تھا۔ چاول نئے تھے، اس نے پانی زیادہ ڈال دیا تھا۔
☆☆☆

تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا کہ میں تمہارے پاس کچن میں آجاتی۔رشیدہ نے چاولوں کی پرات چولہے سے اتار دی۔ پروین خالہ تو بہت غصہ کریں گی، یہ سوچ کر اسے خوف آگیا۔اسے کون بتائے گا؟ تم ایسا کرو، یہ چاول غائب کرو، میں تمہیں نئے چاول بنا دیتی ہوں۔رشیدہ کے ذہن میں فوراً ایک پلان بن گیا۔ انہیں کہاں غائب کروں ؟ تمہارا گھر ہے، کہیں بھی بہا دو۔ یہ سنک کا پائپ کھولو اور اس میں ڈال دو۔فوری طور پر رشیدہ کو یہی ایک جگہ نظر آئی۔ اس نے فوراً سنک کے پائپ کا جوڑ کھول کر چاولوں کی ساری پرات اس میں ڈال دی۔ رشیدہ نے تھوڑی دیر میں نیا پلاؤ بنا دیا، اس میں تڑکا لگا کر اسے نئے سرے سے تازہ دم کر دیا۔ وہ چکن بھی کالا ہونے سے بچ گیا۔ وہ برتن دھوتی رہی جب پروین اور حرا کی واپسی ہوئی۔ کھانا آج پہلی بار بغیر کسی تبصرے کے کھایا گیا تھا۔ رشیدہ اس کنفیوز لڑکی کو غور سے دیکھ رہی تھیں جو اس وقت ان کی تھوڑی سی مدد سے کیسے کھل اٹھی تھی۔کھانے کا آج پہلی بار مزہ آیا ہے، چلو شکر ہے رشیدہ باجی کے سامنے تم نے عزت رکھ لی-وہ جھوٹے برتن اٹھا رہی تھی جب پروین، میز سے اٹھتے ہوئےبولی -اب چائے بھی ایسی ہی مزے کی بنا کر لاؤ۔ اسے چائے بنانے کا کہہ کر پروین اپنے کمرے میں چلی گئیں۔ اس نے گندے برتن سمیٹتے ہوئے پوری محبت سے رشیدہ کا ہاتھ دبایا۔ اپنے طور پر وہ ان کی محبت اور تعاون کا شکریہ ادا کر رہی تھی۔ رشیدہ نماز پڑھ کر آئیں تو وہ چائے بنا کر لے آئی۔ حرا اور پروین کہاں ہیں؟ چائے پیتے ہوئے انہوں نے ان دونوں کے بارے میں پوچھا جو کھانا کھاتے ہی غائب ہو گئی تھیں۔وہ اندر ہیں، میں انہیں چائے دے کر آتی ہوں۔وہ چائے لے کر کمرے کی طرف بڑھی تو ادھ کھلے دروازے سے پروین کی آواز سن کر رک گئی۔

کچھ شرم کر! باہر تیری ساس کے ساتھ ساتھ میری بھی بہو ابھی بیٹھی ہے۔ یہ سب اب دیکھے گی تو کیا سوچے گی؟ ابھی یہ سارے سوٹ ادھر میرے پاس ہی ہیں، جو شاپنگ کر کے آئی تھیں۔ ان ہی سوٹوں کی بات ہو رہی تھی-کیوں رہنے دوں انہیں آپ کے پاس ہے میں کسی سے ڈرتی ورتی نہیں ہوں ۔۔ یہ میری زندگی یہ ہے جیسے میرا دل کرے گا، گزاروں گی۔ آنٹی کون ہوتی ہیں مجھے روکنے والی یہ کپڑے تو میں آج ہی لے کر جاؤں گی۔ تیری ساس ایک نیک عورت ہے، اس کی قدر کرنا سیکھ بیوقوف لڑکی ۔ وہ دیکھ رہی تھی پروین کا لہجہ بیٹی سے بات کرتے ہوئے کیسا ملائم اور نرم تھا۔ نا چاہتے ہوئے بھی وہ کان لگا کر دونوں کی باتیں سنے لگی ۔ ہاں جیسی میری ساس نیک ہے، اسی طرح آپ کی بہو بھینیک ہے آپ بھی اس کی قدر کرنا سیکھیں۔ کیسا پٹاخ سے جواب آیا تھا۔ بے شرم ، بے غیرت اولاد کیسے ماں کو پٹاخ ، پٹاخ جواب دے رہی ہے۔۔۔ تجھ سے تو لاکھ درجے آرا اچھی ہے جو میرے سامنے بولتی نہیں-پروین غصے میں آ کر جوتا اٹھایا اور حرا تیزی سے دروازے کی جانب بھاگی۔ وہ فوراً چائے کی ٹرے لے کر وہاں سے نکل گئی۔ چائے ٹھنڈی ہو چکی تھی۔ ایسی چائے دین کو دے کر وہ باتیں نہیں سن سکی تھی۔ کچن کے پاس آ کر پہلی چائے سنک میں بہا دی، اب وہ ان کے لیے دوبارہ چائے بنا رہی تھی-آرا آرا چائے بنا رہی تھی کہ پائے بھی بنا رہی تھی۔ دو گھنٹے ہو گئے، لیکن ابھی تک تیری چائے نہیں بنی ۔پروین لاؤنج میں رشیدہ کے پاس آ کر بیٹھ گئی تھیں۔ پروین ایک بار پھر اسی لہجے میں اس پر ناراض ہو گئی تھیں۔

انہیں اعتراض تھا کہ یہ چائے پانی کی طرح پتلی ہے -چائے تو فری بناتی ہے، دودھ اور ملائی ڈال کر۔ اب اٹھو اور اپنی ماں کے لیے چائے بنا کر لے آؤ۔پروین ایک بار پھر اسی لہجے میں بول رہی تھیں، لیکن اب ان کے لہجے کی تکلیف اتنی زیادہ محسوس نہیں ہو رہی تھی۔ شاید کچھ دیر پہلے وہ ان کا اصل روپ دیکھ چکی تھی ۔ یہ نقلی چہرہ انہوں نے اپنی بہو کو قابو میں رکھنے کے لیے بنایا ہوا تھا۔و ہ مسکراتے ہوئے چائے کا بھرا کپ اٹھا کر جانے لگی۔ تبھی کچن میں برتن دھوتی ماسی برتن چھوڑ کر باہر آ گئی اور کہنے لگی:باجی، آپ نا سنک کا پائپ ٹھیک کرائیں، دیکھیں آج پھر بند ہو گیا ہے۔ ابھی میں نے برتن دھونے شروع کیے ہیں، اور پانی نہیں جا رہا-ریحانہ کی بات سن کر رشیدہ نے آئرہ کی طرف دیکھا، اور آئرہ نے رشیدہ کی طرف۔ آئرہ کی جان نکل گئی، لیکن شکر ہے کہ اس سے پہلے ہی پروین ریحانہ پر برس پڑیں-پائپ کا کوئی قصور نہیں بی بی، یہ تو ہے جو چاولوں کا ڈھیر اندر ڈال کر ٹوٹی کھلی چھوڑ دیتی ہے۔ اسی لیے بند ہوتا ہے! غضب خدا کا، ابھی اگر میں گٹر کھولوں تو اندر سے چاولوں کا پہاڑ نکلے گا۔پروین آئٹی کی بات سن کر آئرہ کا سانس رک گیا۔ سچ میں کہیں، گٹر کھول ہی نہ دے-باجی، آپ سے تو بات کرنا ہی فضول ہے۔ آپ تو سارا الزام دوسرے بندے کے سر پر ڈال دیتی ہیں۔ اب مجھے تیزاب دیں، میں گٹر میں ڈال کر اسے کھول دوں۔ماسی نے کام کر کے آگے بھی جانا تھا۔ گٹر کھلتا تو اس کا کام ہو سکتا تھا۔ہاں ہاں بیٹا! اسے تیزاب دو… وہ کھل جائے گا۔ اور پروین، تم اب مہینے کے سودے میں تیزاب کی دو بولیں منگوایا کرو، کچن کا گٹر کھولنے کے لیے۔ وقتاً فوقتاً تیزاب ڈالتے رہنا چاہیے- رشیدہ نے آئرہ کو کچن کی طرف بھیجتے ہوئے سمدھن کو گٹر کھولنے کا نیا مشورہ بھی دے ڈالا۔
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Back
Top