• 📚 لوو اسٹوری فورم ممبرشپ

    بنیادی ڈیل

    وی آئی پی

    5000
    تین ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    وی آئی پی پلس

    8000
    چھ ماہ کے لیے
    ٹاپ پیکیج
    👑

    پریمیم

    20000
    چھ ماہ کے لیے

Love Story نیا سفر ۔۔۔

Joined
Jun 10, 2025
Messages
934
Reaction score
48,765
Points
93
Location
Karachi
Gender
Male
میرے والد، سیٹھ ناصر کی کوٹھی پر چوکیدار تھے اور میرا بھائی فیکٹری میں کام کرتا تھا۔ دونوں کی تنخواہوں سے ہی گھر کا گزارہ ہو رہا تھا۔ ایک دن سیٹھ صاحب کی کوٹھی پر ڈاکو آ گئے۔ میرے والد نے مزاحمت کرتے ہوئے اپنا فرض نبھانے کی کوشش کی، تو ڈاکوؤں نے کلاشنکوف کا برسٹ مار کر انہیں گیٹ پر ہی شہید کر دیا۔ اس شور پر محلہ جاگ اٹھا، لوگ گھروں سے نکل آئے تو ڈاکو بھاگ گئے، مگر میرے والد نے فرض نبھاتے ہوئے جان دے دی۔اس کے بعد ہمارے مشکل دن شروع ہو گئے۔ گھر کا سارا بوجھ زبیر بھائی کے کندھوں پر آ گیا۔ اس کی تنخواہ بہت کم تھی، اس لیے ماں کو سیٹھ کے گھر نوکری کرنا پڑی۔ اسکول کا خرچ نہ ہونے کی وجہ سے میری تعلیم رک گئی اور میں آگے نہ پڑھ سکی۔اب میں سارا دن گھر پر رہتی اور ماں کو روتے دیکھتی، تو مجھے بھی رونا آ جاتا۔ وقت اسی طرح غم میں گزرتا رہا۔ والد کی وفات کو پانچ سال گزر چکے تھے اور اب میری عمر پندرہ برس ہو چکی تھی۔ اب میں اکیلے گھر میں گھبرانے لگی، اس لیے ماں مجھے اپنے ساتھ لے جانے لگیں۔ میں ان کے کام میں ہاتھ بٹانے لگی، جس پر سیٹھانی مجھ سے خوش رہتی تھیں۔اُدھر بھائی یکسانیت سے تنگ آ چکا تھا۔ ایک تو محنت زیادہ، اوپر سے مالک تنخواہ نہیں بڑھاتا تھا۔ گھر کا خرچ پھر بھی پورا نہ ہوتا، کیونکہ سیٹھانی امی کو کم تنخواہ دیتی تھیں اور سارا دن کام کرواتیں۔ بس ایک فائدہ یہ تھا کہ بچا ہوا کھانا مل جاتا اور مجھے اکیلے گھر میں نہیں رہنا پڑتا تھا۔اچانک بھائی بیمار پڑ گیا اور کئی دن کام پر نہ جا سکا۔ فیکٹری کے مالک نے اسے خوب ڈانٹا اور آدھی تنخواہ بھی کاٹ لی۔ اس واقعے کے بعد بھائی بددل ہو گیا اور کہنے لگا کہ اگر تنخواہ نہیں بڑھاؤ گے، تو میں نوکری نہیں کر سکتا۔ مالک کو یہ بات پسند نہ آئی اور اس نے بھائی کو نوکری سے نکال دیا۔ بھائی گھر بیٹھ گیا۔ اس نے نئی ملازمت تلاش کرنے کی کوشش بھی نہ کی، جیسے اسے کسی بات کی پروا ہی نہ ہو۔ امی سمجھاتیں کہ کوئی کام ڈھونڈ لو، لیکن وہ اُلٹا ماں سے جھگڑنے لگتا۔اب اسے روکنے ٹوکنے والا کوئی نہ تھا۔ وہ آوارہ دوستوں کے ساتھ وقت گزارنے لگا اور رات کو دیر سے گھر آتا۔ اگر کہیں تھوڑا بہت کام کرتا بھی، تو امی کو بہت کم پیسے دیتا، باقی باہر خرچ کر آتا۔ ایک دن وہ جلدی گھر آیا اور سیدھا اپنے کمرے میں جا کر لیٹ گیا۔ میں نے کھانے کا پوچھا، تو کہا کہ کچھ نہیں کھانا، طبیعت خراب ہے۔ امی نے جا کر دیکھا، تو معلوم ہوا کہ اس نے نشہ کیا ہوا ہے۔ تب ہمیں یقین ہو گیا کہ ہماری یہ واحد امید بھی برباد ہو گئی ہے۔صبح امی بھائی کے کمرے میں گئیں اور نشہ کرنے پر ڈانٹنے لگیں، تو اس نے ماں کو دھکے دیے۔ میں ماں کی ڈھال بنی، تو مجھے بھی مارا اور گھر سے نکل گیا۔ وہ پوری رات گھر نہ آیا۔ ہم ماں بیٹی روتی رہیں اور اس کے لیے دعائیں کرتی رہیں۔اگلی رات نصف شب کے قریب وہ گھر آیا۔ ماں سو رہی تھیں۔ میں نے دروازہ کھولا، وہ خاموشی سے اپنے کمرے میں چلا گیا۔ میں نے کھانے کا پوچھا، مگر کوئی جواب نہ ملا۔ میں بھی مایوس ہو کر سو گئی۔ جانے کس پہر اس نے ماں کے صندوق کا تالا توڑا اور جتنا زیور اور پیسہ تھا، سب لے کر چلا گیا۔ اس کے بعد وہ پھر کبھی واپس نہ آیا۔امی کو بیٹے کے چلے جانے کا شدید صدمہ ہوا۔ وہ اپنے غم کو اندر ہی اندر دبائے رکھتیں اور اسی غم نے ان کا دل کھا لیا۔ وہ بیمار پڑ گئیں۔ سیٹھانی انہیں ڈاکٹر کے پاس لے گئیں، مگر بیٹے کی گمشدگی اور جدائی ایک ایسا دکھ تھا جس کا کوئی علاج نہ تھا۔ کچھ دن وہ کام پر جاتیں اور کچھ دن چارپائی پر پڑی رہتیں۔اب میں ان کی جگہ سیٹھانی کے گھر صبح جاتی اور شام کو واپس آتی۔ کام اتنا زیادہ ہوتا کہ تھک کر چور ہو جاتی۔ سیٹھ صاحب کا ایک ہی بیٹا تھا، جمال۔ وہ شہر کے کالج میں پڑھتا تھا اور چھٹیوں میں گھر آتا تھا۔ وہ ایک سلجھا ہوا، نرم دل اور غریبوں کا ہمدرد نوجوان تھا، مگر اس کی ایک بات مجھے پسند نہ تھی کہ وہ اکثر میری طرف دیکھتا رہتا۔ایک دن اس نے کہا کہ ناز، تمہارے والد نے ہمارے تحفظ کے لیے جان دی تھی۔ میرے ڈیڈی کو چاہیے تھا کہ وہ بدلے میں تم لوگوں کو بہت کچھ دیتے تاکہ تمہیں ہمارے گھر کام نہ کرنا پڑتا۔میں نے کہا کہ یہ بھی بڑی بات ہے، اگر ہمیں یہاں کام نہ ملتا، کھانا نہ ملتا، تو ہمارا گزارہ کیسے ہوتا؟ ہمارا تو سگا بھائی بھی ہمیں چھوڑ گیا ہے۔جمال کو یہ سن کر بُرا لگا کہ میں اسے چھوٹے صاحب کہتی ہوں۔ وہ کہتا کہ مجھے میرے نام سے پکارا کرو، لیکن مجھے لحاظ آتا تھا۔ سیٹھانی بھی کہتیں کہ جاؤ، چھوٹے صاحب کے لیے ناشتہ بناؤ، کھانا دے آؤ۔ایک دن میں جمال کے کمرے کی صفائی کر رہی تھی کہ وہ آ گیا۔ کہنے لگا کہ ناز، میرا دل چاہتا ہے کہ تمہیں اس گھر میں ملازمہ کا نہیں بلکہ عزت کا مقام حاصل ہو۔ تمہارے والد نے ہم پر جان وار دی، یہ ایک بڑا احسان ہے۔میں نے کہا کہ ملازم کی بیٹی کو ملازمہ کا ہی مقام مل سکتا ہے، دوسرا کوئی مقام کیسے مل سکتا ہے؟جمال بولا کہ دوسرا مقام رشتہ جوڑنے سے ملتا ہے۔ مثلاً اگر میری ممی تمہیں اپنی بہو بنا لیں، تو تمہارا مقام اس گھر میں اونچا ہو جائے گا۔

یہ ناممکن بات ہے صاحب! اس لیے میں ایسی باتیں سننا چاہتی ہوں اور نہ ہی سوچنا چاہتی ہوں۔ میں نہیں سمجھ پاتی تھی کہ جمال مجھ سے مذاق کرتا ہے یا واقعی سنجیدہ ہے کیونکہ امیروں کا تو بھروسہ ہی نہیں ہوتا۔ میں یہ حقیقت بخوبی جانتی تھی کہ ہم ایک کبھی نہیں ہو سکتے۔ ایسی آن ہوئی سوچنا خود کو ہلاک کرنے کے سوا اور کیا تھا۔ اس طرح تو انسان کا دماغ الجھتا رہتا ہے اور وہ کسی کام کرنے کے قابل بھی نہیں رہتا۔آج ماں کی طبیعت بہت خراب تھی۔ دل میں درد ہو رہا تھا۔ پھر یہ درد اتنا بڑھا کہ وہ برداشت نہ کر سکیں اور شدت سے کر اپنے لگیں۔ خالہ آمنہ ہمارے محلے کے برابر میں رہتی تھیں۔ میں دوڑی ہوئی ان کے پاس گئی اور اماں کی تکلیف کے بارے بتایا۔ وہ ڈاکٹر کو لے آئیں۔ ڈاکٹر نے انجکشن لگایا، تو امی سو گئیں، پھر خالہ بھی چلی گئیں۔ ماں کو سوتا دیکھ کر میرا دل گھبرانے لگا۔ میں دوبارہ خالہ کے پاس گئی اور انہیں بلالائی۔ تمام شب خالہ ماں کے پاس بیٹھی رہیں۔ صبح امی کو ہوش آیا تو ان کی طبیعت پھر خراب ہو گئی۔ بخار تیز ہو گیا۔ ہمارے پاس اتنے پیسے نہ تھے کہ ڈاکٹر کو دوبارہ گھر بلاتے۔ مجھے سیٹھ صاحب کو بھی بتانا تھا، اس لیے میں ان کے گھر چلی گئی اور ان کو بتایا کہ امی کی طبیعت بہت خراب ہے۔ وہ مجھے گاڑی میں بٹھا کر ہمارے گھر آگئے تاکہ ماں کو اسپتال لے جا سکیں۔ مجھے راستے میں عجیب قسم کے خیال آتے رہے۔ جب گاڑی ہماری گلی کے موڑ پر مڑی تو گلی میں بہت سے لوگ اکٹھے تھے۔ دل دھک سے رہ گیا۔ یکدم خیال آیا کہ کہیں ماں چلی تو نہیں گئیں؟ اگلے لمحے اس اذیت ناک خیال کو جھٹک دیا اور سیٹھانی کے ساتھ جلدی جلدی گاڑی سے اتری۔ سامنے ہی آمنہ خالہ اور محلے کی عورتوں کے افسردہ چہرے نظر آئے۔ گویا ہونی ہو چکی تھی۔ اپنی نبض رکی ہوئی محسوس ہوئی۔ مجھے نہ تو کچھ دکھائی دے رہا تھا اور نہ سنائی دے رہا تھا۔ تیزی سے عورتوں اور بچوں کے ہجوم کو چیرتی ہوئی ماں کی چارپائی تک پہنچی۔ ان کا بے جان چہرہ دیکھ کر کھڑا رہنا میرے بس میں نہ رہا۔ میری آنکھوں تلے اندھیرا چھا گیا اور میں دھڑام سے گر پڑی۔ اس کے بعد دو دن تک مجھے ہوش نہ آیا۔رات دن روتی تھی کہ اب میرا کیا بنے گا؟ میں بالکل اکیلی رہ گئی تھی۔ مرنے کی دعائیں کرتی، مگر موت مانگے سے نہیں ملتی۔ آمنہ خالہ میرے پاس رہ رہی تھیں۔ تھوڑی دیر کو گھر چلی جاتیں، پھر واپس آ جاتیں۔ ان کے گھر کو بہو سنبھالتی تھیں۔ کئی دن سیٹھ صاحب کے گھر کام پر نہ گئی، تو سیٹھانی خود آئیں۔ سمجھا بجھا کر مجھے گاڑی میں بٹھا کر گھر لے گئیں۔ پیار سے گلے لگایا، سمجھاتی رہیں کہ مرنے والوں کے ساتھ کوئی مر نہیں جاتا۔ تم اب مجھے ہی ماں سمجھو میں ہر طرح سے تمہارا خیال کروں گی۔ ان کا پیار پایا تو دل سے ان کی باتوں پر یقین کر لیا۔ مجھے پیار کی اشد ضرورت تھی اور انہیں میرے جیسی ملازمہ کا ملنا ممکن نہ تھا۔ پیار کے لیے انسان اپنی جان بھی دے دیتا ہے۔ جب مجھے سیٹھانی سے پیار ملنے لگا تو اپنا غم بھلا کر ان کی سیوا میں لگ گئی اور دوبارہ سے ان کا گھر سنبھال لیا۔ اب جمال بھی میرے خیال رکھنے لگا تھا۔ آمنہ خالہ روز میرا حال دریافت کرنے آتی تھیں۔ میں پھر سے زندگی کی طرف لوٹنے لگی، تاہم جمال سے ایسی توقعات نہ لگائیں جو میری حیثیت کو زیب نہیں دیتیں تھیں۔ایک دن میں اس کے کمرے کی صفائی کر رہی تھی کہ وہ آگیا۔ کہنے لگا کہ کتابوں کو جھاڑ کر الماری میں ترتیب سے لگا دو۔ میں نے حکم کی تعمیل کی۔ وہ مجھ سے باتیں کرنے لگا۔ ناز تم اتنی اچھی لڑکی ہو۔ میں نے سوچ لیا ہے کہ جو بھی ہو، میں تم سے شادی کروں گا۔ تم سکون دینے والی صابر لڑکی ہو، گھر کو جنت بنا دو گی۔ جانتی ہو، مرد کو عورت سے سوائے سکون اور عزت کے اور کچھ نہیں چاہیے۔تمہارے والد نے وفا کی اور تمہاری ماں نے بھی، یقیناً تم بھی وفا کرو گی۔ وفا ایسی چیز ہے جس کا کوئی مول نہیں۔ میرے ہاتھ کتابیں درست کرنے میں مصروف تھے اور زبان خاموش تھی، جب کہ وہ بولتا جا رہا تھا۔ مجھے خبر نہ تھی کہ سیٹھانی ہماری باتیں سن رہی ہیں۔ جانے کب وہ دبے قدموں وہاں آ کر کھڑی ہو گئی تھیں۔ وہ دروازے کے پاس ساکت کھڑی، جمال کی باتیں سنتی رہیں۔ یہ باتیں ان کو سخت گراں گزریں۔ اس کے بعد انہوں نے ہم دونوں کی کڑی نگرانی شروع کر دی۔ جمال کو پتہ چل چکا تھا کہ ماں نے باتیں سن لی ہیں۔ وہ ان کی نگرانی سے تنگ آ گیا، تبھی ایک دن اس نے ان سے کہہ دیا کہ ممی! میں نے کوئی غلط حرکت نہیں کی۔ ناز پاکیزہ لڑکی ہے، خوبصورت ہے۔ میں اس سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔ اس کے باپ نے ہماری خاطر جان کی قربانی دی اور آپ لوگوں نے ان کے کنبے کے لیے کچھ نہیں کیا۔ ماں باپ دونوں مر چکے ہیں، تو ناز کا کون ہے؟ اس کا کیا بنے گا؟ کیا آپ نے کبھی اس بارے سوچا ہے؟ یا آپ عمر بھر اس سے اپنے گھر کا کام ہی کرواتی رہیں گی؟ کیا دنیا میں ایسا ہوتا ہے کہ ایک یتیم لڑکی بغیر تنخواہ اس وجہ سے غلامی کرے کہ اس کا اس دنیا میں کوئی ولی وارث نہیں ہے؟ سیٹھانی بیٹے کے منہ سے یہ سب سن کر آگ بگولہ ہو گئیں اور ڈانٹ کر کہا، اپنی تقریر بند کرو۔ تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے۔ کیا تم ایک چوکیدار کی بیٹی سے شادی کرو گے؟ لوگ کیا کہیں گے؟ اس کے باپ کی جان گئی تو اپنا فرض نبھاتے ہوئے، اس ڈیوٹی کا وہ ہم سے معاوضہ لیتا تھا۔ وہ ایک اتفاقی حادثہ تھا۔ نہ ہم نے اسے مروایا اور نہ اس اہم ادا کا کام۔ اسے دیکھنے ہم پر احسان کیا۔ اس کی موت اسی طرح لکھی تھی۔ اس مہربانی کا بدلہ یہ ہے کہ کسی ہمپلہ اچھے گھرانے میں دیکھ بھال کر ہم اس لڑکی کی شادی کرا دیں گے۔ مگر تم اس سے شادی کر دو گے اور ہم اسے بہو بنائیں گے، یہ انہونی بات ہے۔ کیا دنیا میں ایسا کبھی ہوا ہے کہ لڑکی کو اس وجہ سے بہو بنا لو کیونکہ وہ لاوارث ہے؟ ممی! منع کرنا ہے تو ایک لفظ ہی کافی ہے کہ نہیں کرنی شادی۔ اس کے بعد کیا ہوگا، دیکھا جائے گا۔ کل کے بارے آپ کو معلوم ہے اور نہ مجھے، کل کس نے دیکھی ہے؟ اور ویسے بھی میری شادی آج تو نہیں ہو سکتی۔ ابھی مجھے اپنی تعلیم مکمل کرنی ہے، کچھ کرنا ہے، کمانا ہے۔ آپ ساری باتیں بھول جائیں اور سکون سے آرام کیجئے۔ جمال نے ماں کو تسلی دی۔

سیٹھانی نے مگر ان باتوں کو نہ بھلایا۔ وہ پہلے مجھ سے پیار سے پیش آتی تھیں، اب غصے اور نفرت سے بات کرتی تھیں۔ بات بات پر کہتیں کہ انسان کو اپنی اوقات کبھی نہیں بھولنی چاہیے۔ ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ اس کی حیثیت کیا ہے۔ میں سب سمجھتی تھی مگر چپ رہتی تھی۔ اس گھر کو چھوڑ کر بھی نہیں جا سکتی تھی۔ کہاں جاتی؟ جمال تو چھٹیوں پر آیا تھا چند دنوں کے لیے، واپس لاہور چلا گیا۔ اس کے بعد وہ محتاط ہو گیا۔ گھر آتا بھی تو مجھ سے بات نہ کرتا اور نہ ہی مخاطب ہوتا۔ پھر سالانہ امتحان ختم ہو گئے تو وہ گھر لوٹ آیا۔ ماں باپ نے اس کی شادی کا تذکرہ چھیڑ دیا۔ بتایا کہ ایک امیر گھرانے کی لڑکی سے رشتہ طے کرنا چاہتے ہیں۔جمال نے دوبارہ کہا کہ امیر لڑکی کے مزاج کا پتہ نہیں کیسا ہوگا۔ وہ شادی کسی غریب لڑکی سے کرے گا۔ یہ سن کر اس کے والد غصے میں آگئے اور بولے، جمال کو کیا ہو گیا ہے؟ پڑھ لکھ کر اس کی مت ماری گئی ہے۔چوکیدار کی لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہے؟ سیٹھانی بولی، ہاں، ایسا ہی ہے، شاید لڑکی نے بہکایا ہو۔ گرچہ ایسی لگتی نہیں، پھر بھی لاوارث لڑکیاں سہارے ڈھونڈتی ہیں۔ بڑے گھروں میں سما جانے کے خواب دیکھنے لگتی ہیں۔ اس سے پہلے کہ کوئی نیا فساد ہو، لڑکی کو اپنے گھر سے چلاتا کر دینا چاہیے۔ ابھی تو لڑکا ہمارے کنٹرول میں ہے۔ لڑکی کو غائب کرو۔ بات بڑھ گئی تو ایسا نہ ہو ہم ہاتھ ملتے رہ جائیں۔میاں بیوی اس بات پر متفق ہو گئے کہ مجھے خاصی رقم دے کر اپنے کسی دوست کے گھر ملازمہ رکھوادی جائے تاکہ نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری، اور میں رقم کے لالچ میں ان کی بات مان لوں۔ میں نے خالہ آمنہ کو سب احوال بتا دیا، یہ بھی کہ میں ان کے کسی دوست کے ہاں نوکری نہیں کرنا چاہتی۔ یہ مجھے کسی دوسرے شہر پہنچانے کی بات کرتے ہیں۔ پیچھے سے میرا بھائی آگیا تو گھر کا گھر چھوڑ کر کہیں کو تالا لگا ہوگا۔ میں اپنے باپ کے پاس نہیں جاؤں گی۔ آمنہ خالہ بولیں، اس سے پہلے کہ یہ تمہیں نکالیں، تم خود ان کو چھوڑ دو۔ کہہ دو کہ میرا بھائی مجھے لینے آرہا ہے۔ وہ گھر بیچ کر مجھے اپنے ساتھ کراچی لے جانا چاہتا ہے جہاں وہ فیکٹری میں کام کرتا ہے۔میں نے کہا، حالانکہ وہ میری بات کا یقین نہیں کریں گے۔ پوچھیں گے کہ کون زبیر بھائی کا پیغام لایا؟ تو میں کیا کہوں گی؟آمنہ خالہ بولیں، تم کچھ مت کہو، میں سیٹھانی سے کہوں گی کہ میرے پاس اس کے بھائی کا کراچی سے فون آیا ہے۔اگلے دن آمنہ سیٹھانی کے پاس گئیں اور باتوں باتوں میں کہا، یہ آپ کے گھر چند دن کی مہمان ہے۔ اس کے بھائی کا کراچی سے فون آیا ہے، شاید وہ جلد اس کی شادی کر دے۔ اس نے مجھے بتایا ہے کہ کراچی میں اپنے ایک دوست کے ساتھ جو اس کی فیکٹری میں ہی کام کرتا ہے، ناز کی شادی کا ارادہ رکھتا ہے۔سیٹھانی کو آمنہ خالہ کی بات پر شک نہ ہوا۔ وہ خالہ پر اعتبار کرتی تھیں کیونکہ آمنہ خالہ ایک دیندار اور اچھے کردار کی خاتون تھیں۔ خالہ کی باتیں جمال نے بھی سن لیں۔ اگلے دن میں ان کے گھر نہ گئی۔ خالہ نے مجھے اپنی بہن کے گھر لے جانا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ میں چند دن وہاں رہ لوں تاکہ وہ ان لوگوں کا ردعمل دیکھ سکیں۔ جب وہ مجھے اپنے ساتھ بس اڈے پر لائے تو جمال نے ہمیں وہاں آلیا اور خالہ سے کہا، آپ ذرا سا حالات کو سنبھالیے۔ اور مجھ سے کہا، ناز تم گھبرانا مت، میں جلد سب کچھ ٹھیک کر کے والدین کو راضی کرلوں گا۔ پھر اس نے آمنہ خالہ کو اعتماد میں لیا۔میں تو چپ تھی بلکہ مجھے اس پر غصہ تھا کہ وہ نہ اس قسم کے شوشے چھوڑتا اور نہ میں سیٹھانی کے گھر سے نکل کر بے آسرا ہوتی۔ جمال کی ہی غلطی تھی۔ بھلا کوئی ماں باپ کیوں ایک ملازمہ سے بیٹے کی شادی کریں؟ ہمارا ان کا میل ہی نہ تھا۔ اس حماقت میں میرا کوئی قصور نہ تھا۔ ساری گڑبڑ جمال نے کی تھی، ورنہ سیٹھانی تو مجھ سے پیار کرتی تھیں۔ مجھ کو ان کے سچے بھرے سلوک سے محروم ہو جانے کا بھی دکھ تھا۔آمنہ خالہ مجھے اپنی بہن کے گھر چھوڑ کر چلی گئیں جو بیوہ تھیں۔ ان کا لڑکا فوج میں صوبے دار تھا۔ وہ کافی دور کسی علاقے میں ڈیوٹی پر تھا۔ صالحہ خالہ اپنی بیٹی کے ساتھ رہتی تھیں۔ شروع میں میرے یہاں دل نہ تھا۔ دن رات سلگ رہتی تھی، جیسے جسم سے روح نکل گئی ہو۔ ہر لمحہ رونے کو جی کرتا۔ اپنے گھر کے سوا کہیں نیند نہ آتی تھی۔ جب خالہ مجھے روتا پوتا دلاسا دیتیں تو میرا جی کرتا کہ کوئی دلاسان دے، کوئی چپ نہ کرائے، میں بس روتی رہوں۔ ایک ہی بات سوچتی تھی کہ اب میرا کیا بنے گا؟ کب تک خالہ آمنہ کی بہن کے گھر رہوں گی؟ کب تک ان پر بوجھ بنی رہوں گی؟گھر لوٹ کر گئی تو جمال سرینہ ہو جائے گا۔ مجھے اس سے نفرت نہ تھی، وہ مجھے اچھا بھی لگتا تھا، مگر اس کے ماں باپ کانٹوں کا پیڑ تھے۔ وہ طاقت ور اور میں مفلس اور ناتواں، میں ان کا مقابلہ نہیں کر سکتی تھی جو دولت کے فخر میں ڈوبے ہوئے تھے۔ جمال نے مجھ سے کوئی رابطہ نہیں کیا، مگر وہ خالہ آمنہ سے رابطے میں تھا۔ میں تین ماہ ان کی بہن کے گھر رہی۔ سیٹھانی کو یقین ہو گیا کہ میرا بھائی آکر مجھے لے گیا ہے تو وہ سکون میں آگئیں۔ایک روز میں خالہ کے ساتھ چپکے سے اپنے گھر لوٹ آئی۔ آمنہ خالہ بولیں، تم پریشان نہ ہو۔ اب سیٹھ اور سیٹھانی کو تمہاری پروا نہیں ہے۔ انہوں نے بیٹے کی بات ایک ہم پلہ گھرانے میں طے کر دی ہے۔ شادی سال بعد ہونا طے پایا ہے کیونکہ لڑکی پڑھ رہی ہے۔میں نے سکون کا سانس لیا کیونکہ جو دکھ تھا، میں نے جھیل لیا تھا۔ اپنا گھر چاہے کچا، ٹوٹا پھوٹا ہو، انسان کو سکون اپنے گھر میں ہی ملتا ہے۔بس ایک مسئلہ پریشان کرتا تھا کہ میرا خرچہ آمنہ خالہ اٹھا رہی تھیں اور یہ بات مجھے بے سکون رکھتی تھی۔ ان کی بیٹی خالدہ نے سلائی اور کٹنگ کا کورس کیا ہوا تھا۔ وہ ایک بوتیک کے کپڑے سلائی کرتی تھیں۔ خالہ نے ان کے ذمے لگایا کہ وہ مجھے گھنٹہ بھر میرے گھر میں سلائی اور کٹنگ سکھائیں گی۔ تین ماہ میں میں نے اچھا خاصا ہنر سیکھ لیا۔ امی کی سلائی مشین موجود تھی۔ خالدہ کو سلائی کے کپڑے ملتے، ان میں سے وہ مجھے دیتی کہ یہ تم سلائی کر کے دیا کرو۔ اس طرح مجھے اتنی اجرت مل جاتی کہ اپنی ضروریات کی اشیاء خرید لیتی۔

جمال نے ایک دن مجھے خالہ آمنہ کے گھر جاتے دیکھ لیا۔ اس نے مجھ سے رابطہ کیا اور کہلوایا کہ ایک بار مجھے گراؤنڈ میں ملو، ورنہ میں تمہارے گھر آجاؤں گا۔ اس دھمکی سے میں ڈر گئی۔ گراؤنڈ میرے گھر کے عقب میں بھٹہ تھا جہاں وہ کھیلنے آتا تھا۔ میں اس کے بتائے وقت پر وہاں چلی گئی۔ یہ گراؤنڈ صبح کو خالی ہوتا تھا۔جمال وہاں موجود تھا۔ اس نے مجھے بتایا کہ میرے والدین کسی طرح راضی نہیں ہوتے۔ آواس مسئلے کو خود ہی حل کر لیتے ہیں۔ ہم کورٹ میرج کر لیتے ہیں۔ جب شادی ہو جائے گی تو میں تم کو اپنے گھر لے جاؤں گا، تب میرے والدین تم کو قبول کر لیں گے۔ میں نے خالہ آمنہ کو یہ بات بتادی۔ انہوں نے کہا کہ تم اس کی باتوں میں مت آنا۔ اس کی منگنی ہو چکی ہے۔ اس کے والدین تم کو قبول نہیں کریں گے۔ تم خوار ہو جاؤ گی۔ جمال کو دل سے نکال دو، تمہاری اس سے شادی نہیں ہو سکتی۔ میں جلد تمہاری شادی ایک اچھے گھرانے میں کروادوں گی، میں نے لڑکا دیکھ لیا ہے۔میں نے خالہ کی باتوں کو ہی حقیقت جانا کیونکہ میرا دل بھی یہی کہتا تھا کہ میری اور جمال کی شادی نہیں ہو سکتی۔ اس کے بعد خالہ نے جمال کو کہہ دیا کہ ناز کورٹ میرج پر راضی نہیں، تم اسے پریشان مت کرو۔ اسے اپنے گھر میں رہنے دو۔ ایسا نہ ہو کہ اس پریشانی میں اپنا گھر چھوڑ کر کہیں چلی جائے۔خالہ آمنہ نے اپنی بہن صالحہ سے بات کی۔ ان کا بیٹا جو فوج میں ملازم تھا، اس کی ماں اس کے لیے لڑکی ڈھونڈ رہی تھیں۔ میں تین ماہ خالہ صالحہ کے گھر رہی۔ انہوں نے مجھے دیکھا، پسند کیا۔ بیٹے سے بات کی اور اس کو راضی کیا۔ اس طرح آمنہ خالہ نے اپنے بھانجے سے میری شادی کر دی۔ وہ مجھے اپنی بہن کے گھر لے گئیں۔ ان کے شوہر اور بیٹے میرے وکیل بنے اور لڑکے والوں کے گھر پر ہی میری ارسلان سے شادی ہو گئی۔ادھر جمال کے والدین نے اس پر شادی کے لیے زور دیا اور اپنی منوالی۔ اس کا نکاح ہو گیا، لیکن رخصتی چھ ماہ بعد ہوئی تھی کیونکہ لڑکی کے سالانہ امتحان میں ابھی چھ ماہ باقی تھے۔ جب جمال کی شادی ہو گئی اور دلہن گھر آگئی، تب خالہ آمنہ نے اسے بتا دیا کہ میری شادی ہو گئی ہے۔ میں تو شادی کے بعد دوسرے شہر جا بس گئی تھی۔ مجھے جمال کے بارے میں کوئی علم نہ تھا۔میں نے اس بندھن سے سمجھوتہ کر لیا تھا کیونکہ ارسلان بہت اچھے اور سلجھے ہوئے انسان تھے۔ اللہ تعالیٰ بے سہاروں کا مددگار ہے۔ شادی سے کچھ دن پہلے آمنہ خالہ کے شوہر نے اخبار میں میرے بھائی کی گمشدگی کا اشتہار بھی دیا تھا، مگر زبیر کا پتہ چلا کہ وہ کہاں کھو گیا۔ آج تک مجھے اپنے بھائی کا غم ہے، تاہم میری زندگی دکھوں سے پاک گزر رہی تھی۔ خوشی ہے کہ عزت کی زندگی ملی اور عزت سے جی رہی ہوں۔خالہ سے سنا تھا کہ جمال بھی شادی کے بعد خوش و خرم ہو گیا تھا۔ یقیناً اس نے مجھے بھلا دیا ہوگا۔ میں نے بھی اسے بھلا دیا، مگر کبھی کبھی یہ سوچتی ضرور ہوں کہ کیا اس کو سچ مچ مجھ سے پیار تھا یا یہ محض ہمدردی کا جذبہ تھا؟ خیر، جو بھی ہوا، ٹھیک ہوا۔
 
اس کہانی سے یہ سبق ملتا ہے کہ جو ہوتا ہے اچھے کے لیے ہوتاہے۔۔۔۔اگر جمال کو واقعی محبت ہوتی تو وہ سب کے خلاف جا کے لڑکی کا سہارا بنتا۔۔۔
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Back
Top