خوش آمدید

لو اسٹوری فورم ، اردو دنیا کا نمبر ون اردو اسٹوری فورم ، ابھی فورم کےممبر بنیں اور اردو کی بہترین کہانیاں پڑھیں ۔

Register Now!
Welcome image
  • If you are unable to access the site, please try accessing it via a VPN.
    Try these VPN apps — CLICK HERE
  • PAID PLANS

    ٹاپ پیکیج
    👑

    PREMIUM

    16000
    چھ ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    VIP+

    6000
    چھ ماہ کے لیے
    بنیادی ڈیل
    ⭐

    VIP

    3500
    تین ماہ کے لیے

کرشمہ آ نٹی

Man mojiMan moji is verified member.

Staff member
Super Mod
Joined
Dec 24, 2022
Messages
11,927
Reaction score
378,487
Location
pakistan
Gender
Male
کرشمہ آنٹی کی حسرتیں​
Part 1​
رفعت! بات سنو بچے!" اک خوبصورت کھنکتی سی آواز نے​
مجھے اپنی طرف متوجہ کیا۔ میں اس وقت گلی کے نکڑ کو​
کراس کرنے کو تھا۔ میں نے پیچھے دیکھا تو نہایت ہی شفیق​
لیکن خوبرو خاتون دروازے سے آدھی باہر کو نکلی مجھ سے​
مخاطب تھی۔ یہ کرشمہ آنٹی تھی۔ میں قریب جا کے آداب​
بجا الیا اور روکنے کی وجہ دریافت کی۔ کرشمہ آنٹی نے چند​
اشیاء کی فہرست مجھے تھما کر دوپٹے کے اندر ہاتھ ڈاال​
اور نہاں خانہ سے پیسے نکال کر مجھے دئے۔ مجھے بازار سے​
آتے وقت ان کے لئے سودا سلف کا انتظام کرنا تھا۔ رفعت​
یعنی میں، محلے کا شریف النفس بچوں میں تصور ہوتا تھا۔​
پھوپھی نے نام تو رفعت رکھا تھا لیکن مجھ میں گن سارے​
ابا کے تھے جو محلے میں اپنی وجاہت کی وجہ سے الگ​
پہچان رکھتے تھے۔ ابا سیمنٹ کے ہول سیل ڈیلر تھے، بزنس​
چمک رہا تھا، اس لئے محلے میں ہمیں اور بھی قدر کی نگاہ​
سے دیکھا جاتا تھا۔ تاہم انہوں نے ہماری تعلیم پر خصوصی​
توجہ دے رکھی تھی اور بائیس سال تک مجھے بزنس کے​
جھمیلوں سے دور ہی رکھا۔ تاہم انکے لئے کھانا پانی لے کے​
جانا میری ذمہ داری تھی۔ فی الوقوع میری عمر پندرہ سال​
تھی، آٹھویں کا طالبعلم تھا۔موسم گرما کی چھٹیاں تھیں​
اور اس وقت میں ابا کے لئے کھانا لے کر اپنی سیمنٹ کے​
گودام کی طرف جا رہا تھا۔ کرشمہ آنٹی ہمارے بچپن میں​
محلے شفٹ ہو گئی تھی۔ ان کے شوہر خلیل صاحب پہلے​
فروٹ سیلر تھے۔ کمائی اچھی تھی لیکن تھوڑے ایم بشس​
واقع ہوئے تھے۔ اسی لئے کوئی دس سال پہلے جب انہوں نے​
بہتر روزگار کی خواہش ظاہر کی تو ابا نے تھوڑی معاونت​
فراہم کر کے ان کا دبئ کا ویزہ کرا دیا تھا اور اب وہ اپنی​
زندگی کا بیشتر حصہ وہیں کاٹ رہے تھے۔ کام کاج بہتر ہونے​
کی وجہ سے اب گھر کے حاالت بدل گئے تھے۔ ان کے جانے کے​
بعد کرشمہ آنٹی اپنی بیٹی کے ساتھ رہتی تھی۔ ان کی بیٹی​
مجھ سے کوئی پانچ سال بڑی تھی۔ اکیلے ہونے کی وجہ سے​
کبھی کبھی خلیل صاحب کا اک بھتیجا انور ان کے پاس آ​
رہتا، کبھی کرشمہ آنٹی کا بھانجا سلمان۔ سلمان چونکہ ہمارا​
ہم عمر تھا، اسی لئے ہم کرکٹ بھی ساتھ کھیال کرتے تھے​
اور اس توسط سے کرشمہ آنٹی کے گھر آنا جانا ہوتا تھا۔​
ویسے بھی کبھی وہ ہمارے گھر، کبھی محلے داری میں امی​
ان کے ہاں آتے جاتے رہتے تھے۔ کرشمہ آنٹی کی عمر تب کوئیچالیس سال رہی ہوگی لیکن انکا جسم ابھی بھی جواں اور​
فگر اچھی طرح مینٹینڈ تھا۔ سلمان کا داخلہ اسی سال​
بورڈنگ سکول میں کرنے کی وجہ سے اور پچھلے سال بیٹی​
کی شادی کرنے سے اب کرشمہ آنٹی اکیلی رہتی تھی۔ میں نے​
بازار سے واپسی پہ سودا سلف ان کے گھر چھوڑنا تھا۔ کوئی​
ڈیڑھ بجے گودام سے واپسی پر میں نے دروازے پر دستک​
دی۔ کرشمہ آنٹی نے دور سے پوچھا "کون ہے؟"​
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Back
Top