• 📚 لوو اسٹوری فورم ممبرشپ

    بنیادی ڈیل

    وی آئی پی

    5000
    تین ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    وی آئی پی پلس

    8000
    چھ ماہ کے لیے
    ٹاپ پیکیج
    👑

    پریمیم

    20000
    چھ ماہ کے لیے

Life Story کوہ نور ۔۔۔

Joined
Jun 10, 2025
Messages
934
Reaction score
48,724
Points
93
Location
Karachi
Gender
Male
نور، دیکھنا تو، دروازے پر کون ہے؟ لگتا ہے آج گھنٹی ہی توڑ دے گا بجا بجا کر! رضیہ صوفے پر مونگ پھلی کے دانے منہ میں ڈالتی، ٹی وی پر کوئی پروگرام دیکھ رہی تھیں۔ اس میں کافی دیر سے آتی گھنٹی کی آواز مخل ہو رہی تھی۔ سو انہوں نے وہیں بیٹھے بیٹھے باورچی خانے میں کام کرتی اپنی بہو کو آواز دی۔ آواز پر لبیک کہتی، وہ باورچی خانے سے باہر آئی اور دروازہ کھولا۔ اتنی دیر سے بیل بجا رہا ہوں، دروازہ کھولنے میں اتنی دیر لگتی ہے؟ دروازے پر اس کا شوہر، رجب، کھڑا تھا جو دروازہ کھلتے ہی بڑبڑاتا ہوا اندر آیا۔ارے بس وہ کچن میں تھی، چاول پکا رہی تھی-دروازہ بند کر کے نور بھی اس کے پیچھے پیچھے، ہاتھ صاف کرتی ہوئی ٹی وی لاؤنج میں داخل ہوئی۔تب تک رجب صوفے پر اپنی ماں کے برابر بیٹھ کر جوتے اتارنے لگا تھا۔کھانا تیار ہے کیا؟ جوتے اتار کر وہ سیدھا بیٹھ گیا۔ہاں، بس چاول پکا لیے ہیں۔ سالن بھننے پر ہے، فٹا فٹ بریانی کو دم دوں گی۔نور نے چٹکیوں میں جواب دیا اور اس کے جوتے اٹھا کر ایک کنارے رکھ دیے۔آپ ہاتھ منہ دھو لیں، کپڑے الماری میں استری شدہ رکھے ہیں اور تولیہ وغیرہ بیڈ پر رکھا ہے۔ جب تک میں کھانے کو دیکھ لوں ذرا۔عجلت میں اسے ہدایت دے کر وہ باورچی خانے میں چلی گئی اور رجب کمرے میں۔وہ فٹا فٹ اپنا بقیہ کام سمیٹنے میں مصروف تھی کہ نہایا دھویا، تیار رجب باورچی خانے میں داخل ہوا۔تمہیں پتا ہے، آج آفس میں اچانک ایک الگ ہی ٹاپک چھڑ گیا تھا-رجب باورچی خانے کی سلیب پر چڑھ بیٹھا، جو ابھی نور نے صاف کی تھی۔کیا؟وہ مصروفیت کے باعث محض اتنا ہی کہہ سکی۔ یہ رجب کے معمول کا حصہ تھا۔ وہ ہر روز دفتر سے واپس آ کر اسے اپنی دن بھر کی مصروفیات بتا کر، دل کا بوجھ ہلکا کر لیا کرتا تھا اور ساری کثافت نکال کر ہلکا پھلکا ہو جایا کرتا تھا۔کوہِ نور کا۔۔رجب نے ہاتھوں کو ایسے ہوا میں اٹھایا گویا کوہِ نور اس کے ہاتھ میں ہو، اور محویت سے اپنی بات کا آغاز کیا۔ایک نازک مگر وزنی اور نایاب ہیرا۔وہ بولنا شروع ہوا۔نور نے اپنے دھان پان سے وزن پر پانچ کلو چاولوں سے بھرا وزنی پتیلا سنک سے اٹھا کر کچھ دور سلیب پر رکھا اور گہری سانس خارج کی۔پتا ہے، کتنا خوبصورت تھا وہ۔ راشد نے تصویریں بھی دکھائیں مجھے۔وہ محو تھا۔نور، ذرا دیکھو یہ شافع اٹھ گیا ہے اور نہ جانے کمرے سے کیا اٹھا لایا ہے؟بات کے درمیان میں رضیہ کی آواز نے رجب کا مزہ کرکرا کیا، جبکہ اپنی ساس کی آواز سنتے ہی نور، شافع کی فکر میں تیزی سے باہر بھاگی۔دو سالہ شافع کے ہاتھ میں، رجب اور نور کے ولیمے کی تصویر تھی جو ان کے کمرے کی سائیڈ ٹیبل پر رکھی ہوتی تھی۔اس نے احتیاط سے تصویر اس کے ہاتھ سے لی اور اسے گود میں اٹھا لیا۔پانی کی طرح شفاف، اور اس کے کٹس جھلمل کرتے، چمک دار چاند کی طرح آنکھوں کو خیرہ کر دینے والی چمک بھی اس میں۔۔آس پاس سے بے خبر، رجب اب بھی اپنی دفتر والی بات کر رہا تھا۔نور نے مسکرا کر رجب کو دیکھا اور تصویر وہیں میز پر رکھ کر شافع کو لیے واپس باورچی خانے میں چلی آئی۔اس تصویر میں رجب کے ساتھ وہ سلور، چاندی جیسے رنگ کے گاؤن میں ملبوس تھی۔ جگمگ کرتے نگینوں میں اس کا دو آتشہ حسن چاند کی چمک کو بھی شرما رہا تھا۔تصویر دیکھ کر میرے ذہن میں سب سے پہلی سوچ یہی آئی تھی کہ وہ اب، یعنی حقیقت میں کیسی دکھتی ہوگی؟حسبِ معمول، رجب بول رہا تھا، اور وہ — الجھے بالوں کو جوڑے میں لپیٹے، آسمانی رنگ کے لان کے جوڑے میں ملبوس، دو سالہ بچے کو گود میں اٹھائے، نقاہت زدہ چہرہ لیے — بریانی کی تہہ لگا رہی تھی۔تین دن سے وہ اسی جوڑے میں ملبوس تھی۔ نہانے دھونے کا وقت تھا نہ فرصت۔ جوڑے کا آسمانی رنگ اب کچھ پیلاہٹ مائل ہو کر، قدرے بدرنگ سا لگ رہا تھا۔اس وقت اس کا حلیہ اُس تصویر سے بالکل متضاد تھا۔ تمہیں پتا ہے، وہ پوری دنیا میں بس ایک ہی ہے! رجب نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر، اس کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔ بھابھی، آپ نے میری شرٹ ابھی تک پریس نہیں کی؟ بتایا تو تھا آپ کو، آج جانا تھا دوستوں کے ساتھ۔ رجب کا چھوٹا بھائی، اترا ہوا منہ لیے، ہاتھ میں شرٹ پکڑے باورچی خانے میں آیا، اور ساتھ ہی اس کی ساس کی آواز بھی اس کی سماعتوں سے ٹکرائی—کھانا تیار ہو جائے تو ذرا اِدھر آ کر میرے پاؤں پر مرہم لگا دینا، اور ساتھ ہی ابو کے لیے گرم دودھ بھی لے آنا۔ کھانے سے آدھا گھنٹہ پہلے دوا کھائی ہے اُنہوں نے۔ساس کی بات سنتے ہوئے، اُس نے بریانی کا پتیلا جلتے چولہے پر رکھے توے پر رکھ دیا۔ اب شافع بھی رونے لگا تھا کیونکہ اُسے بھی بھوک لگ رہی تھی۔نور نے فوراً دوسرے چولہے پر ابو کے لیے دودھ گرم کیا اور گلاس میں اُنڈیلا۔ اُسی دوران شافع کو گود میں سنبھالے رکھا۔نور، تم مجھے نظرانداز کر رہی ہو؟ رجب نے اُسے کاموں میں مصروف دیکھ کر چڑ کر کہا۔رجب، کام بہت ہے اور میں اکیلی سب کچھ کر رہی ہوں۔ آپ باہر آ جائیں، میرے ساتھ بیٹھیں۔ میں کام کے دوران بھی سنتی رہوں گی۔ وہ مسکرا کر بولی اور شافع کو گود میں سہلاتے ہوئے، دودھ کا گلاس ہاتھ میں لے کر باورچی خانے سے باہر نکل آئی۔رافع، شرٹ دو، میں استری کر دیتی ہوں۔ اُس نے دودھ رجب کو تھمایا، دراز سے بام نکال کر میز پر رکھا، پھر رافع سے شرٹ لے کر استری اسٹینڈ پر کھڑی ہو گئی۔ ایک ہاتھ سے استری کر رہی تھی اور دوسرے ہاتھ سے شافع کو بہلا رہی تھی۔تو مطلب میں بولوں؟ رجب اُس کے قریب آ کر مصنوعی خفگی سے بولا۔جی جی، بولیں، میں سن رہی ہوں۔ وہ اپنے معمولات میں مصروف، ہنستے ہوئے بولی۔وہ ہیرا اس وقت برطانیہ کی ملکہ کے تاج میں نصب ہے۔ اتنا قیمتی لگا کہ تاج ہی میں سجا دیا۔رجب استری اسٹینڈ کے پاس کرسی رکھ کر بیٹھ گیا۔واقعی؟ وہ حیرت سے بنا نہ رہ سکی۔بھابھی، یہ جوتے بھی پالش کر دیں، پلیز۔ رافع تیزی سے کہتا ہوا، جوتے اُس کے برابر رکھ کر چلا گیا۔آپ اسے ذرا پکڑیں، میں چولہا بند کر آؤں، پھر جوتے بھی پالش کر دوں گی۔ اُس نے شافع کو رجب کی طرف بڑھاتے ہوئے مصروف لہجے میں کہا۔نہیں یار، دیکھو یہ کتنا رو رہا ہے، اور میں بہت دیر سے کھڑا ہوں، تھک گیا ہوں۔ رجب نے ہاتھ اٹھاتے ہوئے کہا اور وہاں سے چلتا بنا۔وہ سر جھٹک کر شافع کو بہلاتی ہوئی باورچی خانے کی طرف چل دی۔چولہا بند کر کے باہر آئی اور شافع کو صوفے پر بٹھا کر اُس کے ہاتھ میں کھلونا پکڑا دیا۔ وہ اب کھلونے میں مگن ہو چکا تھا۔ اُسے کھیلتا دیکھ کر وہ نیچے بیٹھ گئی اور جوتے پالش کرنے لگی۔وہ حد درجہ مصروف تھی۔ ابھی سب کے لیے کھانا نکالنا تھا، پھر آخر میں برتن دھونے کے بعد باورچی خانہ بھی صاف کرنا باقی تھا۔
☆☆☆

سب کاموں سے فارغ ہو کر وہ قریباً بارہ بجے کمرے میں آئی تھی۔ اس دوران وہ شافع کو کھانا کھلا کر سلا چکی تھی، سو وہ ابھی گہری نیند میں تھا۔ بیڈ پر بیٹھ کر اس نے سکون کا سانس خارج کیا۔ رجب پر نظر پڑی تو وہ کسی گہری سوچ میں ڈوبا ہوا دکھائی دیا۔کیا سوچ رہے ہیں؟ اُسے گم سم دیکھ کر اُس نے رجب کے گھٹنے پر رکھے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا۔کوہِ نور کے بارے میں۔ وہ اُس کی طرف متوجہ ہوا، مگر انداز اب بھی کھویا کھویا سا تھا۔آپ کو اتنی ساری باتیں بتائیں ‘کوہِ نور’ کے حوالے سے آپ کے دوست نے، مگر ایک چیز نہیں بتائی شاید۔ وہ پہلی بار اس معاملے میں سنجیدہ دکھائی دی تھی۔کیا؟ اُسے تجسس ہوا۔یہی کہ کوہِ نور ہمیشہ سے برطانوی تاج میں نہیں تھا۔ وہ ایک لمحے کو رُکا۔وہ تو پہلے افغانیوں کے پاس تھا، وہاں سے مغلوں کے پاس آیا، اور پھر مغلوں نے اُسے تحفے کے طور پر برطانویوں کو دیا۔ اور انہوں نے اُسے شاہی تاج میں جگہ دی۔وہ کچھ عجیب سے انداز میں اپنی بات مکمل کر کے شافع کے جھولے کے پاس چلی گئی اور اُسے ہولے ہولے جھلانےلگی۔ وہ تھوڑا کسمسا رہا تھا۔کیا چیز ہے یہ ہیرا بھی؟ سچ میں بہت قیمتی ہے، کوہِ نور۔وہ جیسےاس خواب سے جاگ کے ہی نہیں دے رہا تھا.. کچھ قیمتی نہیں اگر اس کی قدر نہ کی جائے ۔ . نہ جانے کیوں نور کا لہجہ اس بار تھوڑا سخت ہو گیا تھا جو اسے خود بھی عجیب لگا تھا۔یہ کیسا واضح اقرار تھا رجب کا، جو نور کو اپنی تذلیل لگا۔وہ یہ سب “کوہِ نور” کے لیے کہہ رہا تھا، نور کے لیے نہیں۔۔۔یہ خیال آتے ہی اُس کی آنکھیں نم ہو گئی تھیں۔اور یہاں یہ قدر دانوں اور ناقدروں کی فکر کر رہی ہیں۔وہ بات کو یہیں روک کر دوسری جانب کروٹ لے کر سونے کے لیے لیٹ گیا۔نور، آنکھوں میں نمی لیے، بغور اُس کی پشت کو دیکھ رہی تھی۔کچھ دیر یونہی کھڑی رہنے کے بعد وہ بھی بیڈ پر آ کر دوسری طرف کروٹ لے کر لیٹ گئی، تاکہ سو سکے۔کیونکہ صبح اُسے جلدی اُٹھ کر روزمرہ کے کاموں میں لگ جانا تھا۔کیونکہ “کوہِ نور” تو نایاب نگینہ ہے، اور نور ..وہ تو ایک عام سی عورت ہے۔
☆☆☆
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Back
Top