• 📚 لوو اسٹوری فورم ممبرشپ

    بنیادی ڈیل

    وی آئی پی

    5000
    تین ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    وی آئی پی پلس

    8000
    چھ ماہ کے لیے
    ٹاپ پیکیج
    👑

    پریمیم

    20000
    چھ ماہ کے لیے

گھر بیتی

qamar44

Well-known member
Joined
Jun 12, 2025
Messages
46
Reaction score
599
Points
83
Location
Pakistan
Gender
Male
میرا نام علیان ہے امید ہے آپ سب خیریت سے ہوں
گے ۔یہ سن 2004 کی بات ہے جب میری عمر 19
برس تھی ۔میں اپنے بارے میں کچھ بتاتا دیتا ہوں
جس سے اسٹوری کو سمجھنے میں مدد ملے گی ۔میں
بچپن سے ہی خلیجی ملک عمان میں رہتا تھا اور
وہیں پر اپنی تعلیم شروع کی بارہویں جماعت تک ۔
کالج نہ ہونے کہ وجہ سے اکثر بچوں کو ہائیر
ایجوکیشن کے لیے پاکستان آنا پڑتا ہے ، میری تو ہائیر
ایجوکیشن کے ساتھ سیکس ایجوکیشن بھی شروع
ہونے والی تھی وہ بھی اپنے گھر سے ۔ گھر کس کا
اپنی خالہ کا ، وہ بھی اپنا ہی گھر ہوتا یے ۔
چلو اسٹوری پر اتے ہیں ، 2004 میں پہلی بار
پاکستان آیا تو اتنا پرجوش تھا کہ میں بتا نہیں
سکتا ، اپنے ملک کو دیکھنا کی خواہش اور پھر
کزنوں سے ملنے کی تمنا۔ میری رہائش کا انتظام میری
بڑی خالہ کے گھر میں کیا گیا جہاں ان کے دو بیٹےاور دو خوبصورت جوان مٹکٹی گانڈ والی بہوں ہوتی
رہتی تھی گھر میں دولت کی فراوانی تھی نوکری
پیشہ لوگ تھے مگر بڑی سرکاری ملازمت تھی اور
اپنے علاقے کے شرفاء میں شمار ہوتے تھے ۔ میں ایک
ہفتہ تو مختلف جگوں پر گھومتا رہا سیکس طلب
سے بے نیاز۔ میری زندگی میں سیکس صرف مٹھ
مارنے کو کہتے تھے اس وقت۔ عمان میں رہتے ہوے
کسی لڑکی یا عورت سے کچھ تعلق نہ تھا صرف
پڑھی کرتا اور سوچوں میں کسی کو چودتے ہوے
مٹھ مارنا بس
پاکستان اکر آزادی کا احساس ہوا اس وقت مشرف
جانی کی حکومت تھی اور ہر انٹرنیٹ کیفے میں
مجرے اور سیکس ویڈیوز کی بھر مار تھی
میں کبھی کبھار جا کر ہوس پوری کر آتا
ایک دن کیفے گیا اور وہاں ایک انگریزی اسٹوری والی
پوری سیکس فیلم دیکھی جس میں بڑی عمر کی
عورت کم عمر لڑکوں سے سیکس کرتی ہے ۔ وہ فلم
میری ذہن سازی کا بحث بن گئ اس کے بعد میں وہ
نہ رہا جو پہلے تھا اب مجھے خالہ کی بہوں میں
دلچسپی بڑھنے لگی میں ان سے بات کرتا اور کبھیکبھار راے وغیرہ بھی لیتا ۔میری خالہ کا گھر صبح 8
بجے کے بعد کوئئ مرد گھر نہ ہوتا اور خالہ بھی اکثر
پڑوس میں اپنی دوسری بہن کے گھر چلی جاتی پھر
میں اور ان کی جوان مٹکٹی گانڈ والی بہویں۔شروع
شروع میں دونوں سے بات کرتا اور ان کے سینوں پر
بیٹھے خوبصورت کبوتروں کا نظارہ کرتا مگر کچھ
دن بعد احساس ہوا ایک بڑی مغرور ہے اور وہ زیادہ
لفٹ نہیں دینے والی ۔ دوسری بہو جو نمبر میں پہلی
تھی وہ مجھ سے کافی گپ شپ کرنے بیٹھ جاتی اور
اتفاق سے میرے کمرے کی صاف صفائی بھی اسی
کی ذمہ داری تھی اس لیے وہ اکثر میرے کمرے میں
آتی جاتی رہتی ۔ دوپٹے سے بے نیاز ہو کر وہ کبھی
بھی ا ٹپکتی اور بعض اوقات ایسا بھی ہوتا جیسے
میں ابھی ابھی شلوار یا ٹراؤزر پہن رہا ہوتا اور وہ
دروزے پر ا جاتی کسی کام کے بہانے ۔ اس کا کمرا
میرے کمرے کے بلکل قریب تھا اور میرے آنے سے
پہلے وہ کمرہ ان کے استعمال میں ہوتا تھا اور اب
بھی ان کا سامان رکھا ہوتا تھا شاید اس لیے آنا جانا
لگا رہتا میں انتظار میں رہتا کب مرد کام ہر روانہ
ہوں اور میں اپنی مردانگی شروع کروںیہ بتاتا چلوں میں نے کامرس کالج میں داخلہ لے
رکھا تھا اور اکثر چھٹی کرتا تھا کیونکہ میں نے بی
کام میں جو سبجیکٹ پڑھنے تھے وہ پہلے ہی پڑھ کر
آیا تھا تو مجھے کورس کا ڈر نہیں ہوتا تھا اور شام
کو ٹیوشن بھی ہوتی تھی
۔۔خیر تو مرد جاتے اور میں تیار ہو جاتا کہ آج کیا
نظارہ ملتا ہے دیکھنے کو ۔ میری معشوق کا نما سمیرہ
ہے (جس کے ارد گرد یہ کہانی ہے) میں سمیرہ کو
دیکھتا رہتا وہ کبھی ناشتہ لے کر ا رہی ہے کبھی
کوئی سامان اٹھانا پہنچ جاتی ۔ کچھ مجھ سے پوچھ
لیا عمان کے بارے میں کبھی میں نے کچھ ان کے
بارے میں پوچھ لیا، وہ جان تو گئ تھی کہ میں اس
میں دلچسپی لیتا ہوں مگر کبھی نا اس نے کہا اس
وقت نا میں نے کچھ اشارہ دیا۔ لیکن یہ کب تک چلتا
ایک دن یہ ہونا تھا جب مجھے کچھ ایسا کرنا تھا جو
مجھے وہ منزل دلا دے جس پر اکثر لوگ پھسل جاتے
ہیں ۔ مجھے اس کی مست گاىڈ کو چھونے کا اتنا دل
کرتا تھا کہ لن کنٹرول سے باہر ہو جاتا۔ اللہ اللہ کر کے
ہمت کرنے کا ٹھان لیا ۔
میں نے فیصلہ کیا کہ اس کو اپنی خواری سےمتعارف کروایا جاے تاکہ اس کو پتہ چلے یہ بیچارہ
لن کتنا ٹرپتا ہے اس کی یاد میں اور مٹھ مار مار کر
بے زار ہو گیا یے ۔
میں نے فیصلہ کر لیا تھا اب یہ گیم ایسے نہیں
چلانی اب ہمت کر کے سمیرہ کو بتانا ہے کہ میں کتنا
خوار ہوں اس پر اور میرا لن اس کی یاد میں تھوک
تھوک کر تھک گیا ہے ۔
سمیرہ کا تعارف اس حصے میں کے لیے رکھا تھا تاکہ
کہانی میں کردار باقی یا تو نہ ہوں یا انتہائی کم
حوالہ ہو ۔
ً
سمیرہ مجھ سے تقریبا 15 سال بڑی تھی اور تین
بچوں کی خوبصورت اور مست جسم رکھنے والی
ماں تھی ۔ chubby جسم تھا اور قد چھوٹا تھا ۔اس
وجہ سے گاىڈ کافی نمایاں تھی اور جسم بلکل ٹایٹ ،
جب چلتی تو گانڈ سپرنگ کی طرح ہلتی اور چاہے
جو بھی پہنا ہو گانڈ ہر حال میں پورے جسم سے الگ
نظر آتا ۔ بہت مشکل ہوتی اس سے نظر ہٹانا اس لیے
میں کوشش کرتا جب باقی گھر والے موجود ہوں تو
اس کی طرف نہ دیکھوں تاکہ کسی کو شک نہ ہو اور
بنتی گیم بگڑ جاے۔ سمیرہ کی گانڈ کا ساخت ناقابلبیان ہے ، اوپر کی طرف اٹھان ، انتہائی گورا رنگ اور
کہ سکتا ہوں ایسی گانڈ ابھی
ً
لچک دار ۔ میں حلفا
تک کسی اور کی نہیں دیکھی۔ لیکن ایک بات اور
بتاتا چلوں اکثر پاکستانی خواتین اپنی گانڈ کی ویلیو
سے ناواقف ہوتی ہیں ۔ ایسی قیمتی چیز کو اتنا کم
رتبہ دینا انتہائی افسوس کی بات یے ۔ خیر تذکرہ ہو
رہا تھا اس کی گاىڈ کا۔ تو دوستو اس کی اس گانڈ نے
مجھے اپنے چنگل میں پھنسا رکھا تھا اور میں
خوشی سے یہ قید کاٹ رہا تھا ۔
فیصلہ تو ہو چکا تھا اب آگے بڑھنا ہے اور موقع بہت
ملتا تھا تو سوچا سمیرہ کو ازمایا جاے یہ کتنے پانی
میں ہے ۔
روازنہ کی روٹین کی طرح صبح ہوتے ہی مرد اور
بچے چلے جاتے ، میں کیونکہ صبح دیر سے اٹھتا تھا
تو میرے جاگنے سے پہلے ہی میدان خالی ملتا ۔ لیکن
اس دن میں بیڈ پر لیٹا رہا تاکہ سمیرہ کو چیک کیا
جاے ۔ میں نے بیڈ میں پڑا رہنا کا ڈرامہ سوچا تھا اور
غیر ارادی طور پر اپنا لن شارٹ سے نکال رکھا تھا اور
کمبل لن کے اوپر ۔ کمبل کو اس طرح اوپر رکھا تھا کہ
لن کا نظارہ نظر اے سمیرہ کو جب وہ میرا پتہ کرنےاے اور اگر کچھ دیر کھڑی رہی تو می۔ لن کو مزید
واضح دیکھنے کی ترکیب رکھی تھی ۔ مجھے اس کے
آنے اور کہاں کتنی دیر کھڑی ہوتی ہے سب اندازہ
تھا ۔ اگر گیم خراب ہوئی تب بھی میرے پاس عذر
تھا کہ بچہ سو رہا تھا لن کہاں سے باہر نکل آیا کہاں
پتہ چلتا ہے اور تھا بھی اپنے ہی روم میں جو کچھ
بھی کرتا میری مرضی ۔
لیکن اس دن یہ گیم کھیلتے ہوے اور اس کا نتظار
کرتے ہوے دل بہت زور زور سے ڈھڑک رہا تھا ، خوف
سے زیادہ شہوت غالب تھی ایک عجیب سے سرور
جسم میں ہو رہا تھا ، ایسے ہی خیالوں میں گم تھا
اور اچانک مجھے سمیرہ کی قدموں کی آواز آئی
لیکن اس آواز کے ساتھ کسی اور کی بھی آواز آئی
جیسے کوئی ساتھ ہو ، میں نے کمبل کو صیح کیا تاکہ
شک نہ ہو اور سونے کے اندازے میں بیڈ پر لیٹا رہا
لیکن آنکھیں کھیلی ہی تھیں ۔
سمیرہ کمرے میں آئی اور کچھ چیز اٹھا کر چل دی
اس کے ساتھ پڑوسن کی بیٹی تھی جو سامان کے لیے
آئی تھی شاید کچھ برتن وغیرہ ۔ جاتے ہوے اس نے
میری طرف دیکھا اور پوچھا خیریت تو ہے آج زیادہدیر تک سو رہے ہو ، میں نے کہا سب خیریت ہے بس
آج موسم ذرا ٹھنڈا ہے اور دل کہ رہا ہے بیڈ ٹی مل
جاے ۔ یہ سن کر وہ مسکرا کر چلئ گئ چاے لانے ،
اب مجھے یقین تھا اب جب وہ اے گئ تو اکیلے ہو
گئ ، میں نے وہی گیم دوبارہ شروع کیا کہ اپنے لن کا
درشن آج کروا کر اس کو بھیجنا ہے ، اتنے کام کرتی
ہے ٹپ دینا بھی ضروری ہے ۔
میں انیگل بنا کر لیٹا رہا اور وہ موقع بھی ا گیا ،
مٹکٹی گانڈ والی سمیرہ کمرے میں آئی اور سائد
ٹیبل پر چائے رکھ دیا ، جو میری دائیں طرف ہوتا تھا
ٹیبل کے ساتھ ایک کرسی رکھی ہوتی تھی جہاں
سمیرہ ا کر مجھ سے باتیں کرتی تھی ، میں نے لن تو
ٹرواز سے باہر ہی نکال کر رکھا تھا لیکن کمبل کے اندر
تھا اب مجھے گیم اسٹارٹ کرنی تھی اور اس کے لیے
بہترین وقت تھا ۔
سمیرہ چائے رکھ کر جانے لگی تو میں ىے کچھ بات
چھیڑ دی کہ خالہ کہاں یے اور کچھ گھریلو باتیں ۔
مقصد اس کو کرسی پر بیٹھانا تھا ، اور وہ جاتے ہوے
روک کر بیٹھ گئ ، باتیں چل رہی تھی اچانک اس کی
نظر لن صاحب پر پڑی ، وہ لمحہ آج بھی یاد ہےجیسے سمیرہ کا حلق خشک ہو گیا ہو اور آنکھیں
کبھی مجھ پر اور کبھی نیچے لن پر ہوتی ۔ میں
سمجھ گیا کہ بے خیالی میں لن پر کمبل زیادہ ہی اٹھ
گیا یے ، خیر جو ہونا تھا وہ اب ہو گیا تھا ۔ سمیرہ
بیٹھی رہی اور مختلف موضوع پر مختصر باتیں
ہوتی رہیں ۔ اس وقت ایک خیال ایسا آیا کہ میں ذرا
پوزیشن بدل لوں تاکہ وہ کچھ ریلکس ہو لیکن ارادہ
ملتوی کر دیا میں چاہتا تھا وہ آج جی بھر کر دیکھ
لے اور میں جب ہلاؤں اس کو اندر کمبل میں تو وہ
بھی دیکھے کیسے ہے یہ جھلے لال۔
میری توقع کے بر عکس سمیرہ بیٹھی رہی اور
سیریس میری سے باتیں کرتی رہی ، لیکن بیچ میں
مسکرا بھی دیتی بات کے حساب سے ۔ وہ بلکل بھی
اشارہ نہیں دے رہی تھی کہ وہ کچھ پریشان ہے یا
میری حرکت سے ناراض ۔ یہ میرے لیے بڑے حوصلے
کی بات تھی ۔ وہ پانچ دس منٹ کے بعد چلئ گئ ۔
میں نے اپنی کامیابی پر دل ہی دل میں جشن منایا
اور چائے پینے لگا ۔ اور اپنے لن پر ناز کر رہا تھا
میں بھی ہر مرد کی طرح اپنے لن کو سب بڑا لن
سمجھتا ہوں ، میں 19 سال کا نوجوان منڈا پھر بلکلکو سلیم باڈی اور اس پر 5.8 کا لن ، موٹائی میرے
لن کی تین انچ ہے اور یہ باقاعدہ چیک کیا تھا میں
نے ، میرے لن کی ٹوپی کافی موٹی تھی اس کو بیان
نہیں کر سکتا یہ بات آگے کسی اور کہانی میں ضرور
بتاؤں گا ۔
تو سمیرہ کو لن درشن ہونے کے بعد میں نے اور بھی
زیادہ فریڈلی پایا۔ مجھے اب وہ ایسی باتیں بھی شئر
کرنے شروع کر دیں جو میں سمجھتا ہوں ایک عورت
اپنا راز سمجھتی ہے جیسے پریڈ ہیں اس لیے آج
تھکی ہوئی ہوں وغیرہ ۔ اب وہ دوست بىتی جا رہی
تھی اور یہ سب کچھ دنوں میں ہوا جب لن درشن کر
چکی تھی ۔ اس سب کے باوجود مجھے ایسا کوئی
اشارہ نہیں ملا سمیرہ سے جیسے اس نے میرا لن
دیکھ لو تھا یا میں نے کوئی غلط حرکت کی ۔ وہ بس
فری ہوتی جا رہی تھی لیکن وہ بھی اس وقت اس
لمحے جب کوئی اور نہ ہوتا اس پاس ۔ کافی میچور
تھی اور انتہا کی رعب والی گھر میں ۔ تو ایک
خوبصورت اور رعب والی سے دوستی کا مزہ کچھ
الگ ہی ہوتا ہے جس پر میں کافی خوش تھا
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Back
Top