• 📚 لوو اسٹوری فورم ممبرشپ

    بنیادی ڈیل

    وی آئی پی

    5000
    تین ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    وی آئی پی پلس

    8000
    چھ ماہ کے لیے
    ٹاپ پیکیج
    👑

    پریمیم

    20000
    چھ ماہ کے لیے

Poetry اردو شاعری

ابھی کچھ اور کرشمے غزل کے دیکھتے ہیں​
فرازؔ اب ذرا لہجہ بدل کے دیکھتے ہیں​
جدائیاں تو مقدر ہیں پھر بھی جان سفر​
کچھ اور دور ذرا ساتھ چل کے دیکھتے ہیں​
رہ وفا میں حریف خرام کوئی تو ہو​
سو اپنے آپ سے آگے نکل کے دیکھتے ہیں​
تو سامنے ہے تو پھر کیوں یقیں نہیں آتا​
یہ بار بار جو آنکھوں کو مل کے دیکھتے ہیں​
یہ کون لوگ ہیں موجود تیری محفل میں​
جو لالچوں سے تجھے مجھ کو جل کے دیکھتے ہیں​
یہ قرب کیا ہے کہ یک جاں ہوئے نہ دور رہے​
ہزار ایک ہی قالب میں ڈھل کے دیکھتے ہیں​
نہ تجھ کو مات ہوئی ہے نہ مجھ کو مات ہوئی​
سو اب کے دونوں ہی چالیں بدل کے دیکھتے ہیں​
یہ کون ہے سر ساحل کہ ڈوبنے والے​
سمندروں کی تہوں سے اچھل کے دیکھتے ہیں​
ابھی تلک تو نہ کندن ہوئے نہ راکھ ہوئے​
ہم اپنی آگ میں ہر روز جل کے دیکھتے ہیں​
بہت دنوں سے نہیں ہے کچھ اس کی خیر خبر​
چلو فرازؔ کوئے یار چل کے دیکھتے ہیں​
 
یہ دنیا مطلب سے چلتی ہے​
جب مطلب ہو تو آپ کی ہر برائی اچھائی نظر آتی ہے اور​
جب مطلب نکل جائے تو آپ کی اچھائیاں بھی برائی بن جاتی ہیں??​
 
میری نیند آ.. میری بات سُن​
میری التجاء، میری آہ سُن...​
میری آنکھ کے سبھی راستے​
تیری آہٹوں کو ترس گئے​
تیری راحتوں کو ترس گئے​
تیری بے رخی کی ہے انتہا​
تیرے ہجر میں کٹی رات سُن​
میری نیند آ... میری بات سُن​
تجھے کیا خبر، کئی خواب ہیں​
تیری راہ میں کھڑے منتظر...​
تری چاہ میں ہوئے منتشر​
جنہیں تیری کب سے تلاش ہے​
انہی بانجھ آنکھوں کی راہ چُن​
میری التجاء، میری آہ سُن....​
کئی وسوسے، تجھے گَھیر کر​
کہیں دُور لے کر چلے گئے​
یوں قصور دے کر چلے گئے​
میں نے دی صدا، یہ کہا بھی تھا​
زرا رُک تو جا.....۔میری بات سُن​
میری نیند آ..... میری بات سُن​
تری منتظر جو بِچھائی ہیں​
وہی پلکیں دیتی ہیں واسطہ​
کبھی بھول آ تُو بھی راستہ...​
بھلا یوں بھی جاتے ہیں توڑ کر؟​
کُھلا در کو ایسے ہی چھوڑ کر؟​
میری آنکھ کے سوالات سُن​
میری نیند آ... میری بات سُن​
یہاں قحط نیندوں کے پڑ گئے​
گویا بخت آنکھوں کے مر گئے​
کبھی مُوندھ کر کبھی کھول کر​
نہ تھکا اِنہیں یونہی رول کر...​
اب لوٹ آ.... یوں سُلا مجھے​
میرے خواب سے تُو مِلا مجھے​
جو بچھڑ گئے ہیں دِکھا مجھے​
جسے چھوڑ کر تُو چلی گئی​
اُسی آنکھ کے سبھی راستے​
تیری آہٹوں کو ترس گئے.​
 
کہ میری محبت ہے کوئی مجبوری تو نہیں​
وہ مجھے چاہے یا مل جائے یہ ضروری تو نہیں​
اور یہ کیا کم ہے کہ وہ بسی ہے میری سانسوں میں​
وہ سامنے رہے میری آنکھوں کے یہ ضروری تو نہیں​
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Back
Top