• 📚 لوو اسٹوری فورم ممبرشپ

    بنیادی ڈیل

    وی آئی پی

    5000
    تین ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    وی آئی پی پلس

    8000
    چھ ماہ کے لیے
    ٹاپ پیکیج
    👑

    پریمیم

    20000
    چھ ماہ کے لیے

احمد فراز

ساقیا ایک نظر جام سے پہلے پہلے
احمد فراز


ساقیا ایک نظر جام سے پہلے پہلے
ہم کو جانا ہے کہیں شام سے پہلے پہلے
نو گرفتار وفا سعئ رہائی ہے عبث
ہم بھی الجھے تھے بہت دام سے پہلے پہلے
خوش ہو اے دل کہ محبت تو نبھا دی تو نے
لوگ اجڑ جاتے ہیں انجام سے پہلے پہلے
اب ترے ذکر پہ ہم بات بدل دیتے ہیں
کتنی رغبت تھی ترے نام سے پہلے پہلے
سامنے عمر پڑی ہے شب تنہائی کی
وہ مجھے چھوڑ گیا شام سے پہلے پہلے
کتنا اچھا تھا کہ ہم بھی جیا کرتے تھے فرازؔ
غیر معروف سے گمنام سے پہلے پہلے
 
اول اول کی دوستی ہے ابھی
احمد فراز


اول اول کی دوستی ہے ابھی
اک غزل ہے کہ ہو رہی ہے ابھی
میں بھی شہر وفا میں نو وارد
وہ بھی رک رک کے چل رہی ہے ابھی
میں بھی ایسا کہاں کا زود شناس
وہ بھی لگتا ہے سوچتی ہے ابھی
دل کی وارفتگی ہے اپنی جگہ
پھر بھی کچھ احتیاط سی ہے ابھی
گرچہ پہلا سا اجتناب نہیں
پھر بھی کم کم سپردگی ہے ابھی
کیسا موسم ہے کچھ نہیں کھلتا
بوندا باندی بھی دھوپ بھی ہے ابھی
خود کلامی میں کب یہ نشہ تھا
جس طرح روبرو کوئی ہے ابھی
قربتیں لاکھ خوبصورت ہوں
دوریوں میں بھی دل کشی ہے ابھی
فصل گل میں بہار پہلا گلاب
کس کی زلفوں میں ٹانکتی ہے ابھی
مدتیں ہو گئیں فرازؔ مگر
وہ جو دیوانگی کہ تھی ہے ابھی
 
ہوئی ہے شام تو آنکھوں میں بس گیا پھر تو
احمد فراز


ہوئی ہے شام تو آنکھوں میں بس گیا پھر تو
کہاں گیا ہے مرے شہر کے مسافر تو
مری مثال کہ اک نخل خشک صحرا ہوں
ترا خیال کہ شاخ چمن کا طائر تو
میں جانتا ہوں کہ دنیا تجھے بدل دے گی
میں مانتا ہوں کہ ایسا نہیں بظاہر تو
ہنسی خوشی سے بچھڑ جا اگر بچھڑنا ہے
یہ ہر مقام پہ کیا سوچتا ہے آخر تو
فضا اداس ہے رت مضمحل ہے میں چپ ہوں
جو ہو سکے تو چلا آ کسی کی خاطر تو
فرازؔ تو نے اسے مشکلوں میں ڈال دیا
زمانہ صاحب زر اور صرف شاعر تو
 
تیرے قریب آ کے بڑی الجھنوں میں ہوں
احمد فراز


تیرے قریب آ کے بڑی الجھنوں میں ہوں
میں دشمنوں میں ہوں کہ ترے دوستوں میں ہوں
مجھ سے گریز پا ہے تو ہر راستہ بدل
میں سنگ راہ ہوں تو سبھی راستوں میں ہوں
تو آ چکا ہے سطح پہ کب سے خبر نہیں
بے درد میں ابھی انہیں گہرائیوں میں ہوں
اے یار خوش دیار تجھے کیا خبر کہ میں
کب سے اداسیوں کے گھنے جنگلوں میں ہوں
تو لوٹ کر بھی اہل تمنا کو خوش نہیں
یاں لٹ کے بھی وفا کے انہی قافلوں میں ہوں
بدلا نہ میرے بعد بھی موضوع گفتگو
میں جا چکا ہوں پھر بھی تری محفلوں میں ہوں
مجھ سے بچھڑ کے تو بھی تو روئے گا عمر بھر
یہ سوچ لے کہ میں بھی تری خواہشوں میں ہوں
تو ہنس رہا ہے مجھ پہ مرا حال دیکھ کر
اور پھر بھی میں شریک ترے قہقہوں میں ہوں
خود ہی مثال لالۂ صحرا لہو لہو
اور خود فرازؔ اپنے تماشائیوں میں ہوں
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Back
Top