• 📚 لوو اسٹوری فورم ممبرشپ

    بنیادی ڈیل

    وی آئی پی

    5000
    تین ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    وی آئی پی پلس

    8000
    چھ ماہ کے لیے
    ٹاپ پیکیج
    👑

    پریمیم

    20000
    چھ ماہ کے لیے

امجد اسلام امجد

بزدل
امجد اسلام امج


ہجوم سنگ انا اور ضبط پیہم نے
مثال ریگ رواں بے قرار رکھا ہے
مرے وجود کی وحشت نے رات بھر مجھ کو
غبار قافلۂ انتظار رکھا ہے
بہ پیش خدمت چشم سراب آلودہ
ہوا نے دست طلب بار بار رکھا ہے
میں تیری یاد کے جادو میں تھا سحر مجھ کو
نجانے کون سی منزل پہ لا کے چھوڑ گئی
کہ سانس سانس میں تیرے بدن کی خوشبو ہے
قدم قدم پہ تری آہٹوں کا ڈیرا ہے
مگر نظر میں فقط شب زدہ سویرا ہے
تہی تہی سے مناظر ہیں گرد گرد فضا
متاع عمر وہی ایک خواب تیرا ہے
ترے جمال کا پرتو نہیں مگر پھر بھی
خیال آئینہ خانہ سجائے بیٹھا ہے
جدھر بھی آنکھ اٹھاتا ہوں ایک وحشت ہے
تو ہی بتا کہ کہاں تک فریب دوں خود کو
کہ میرا عکس مرے خوف کی شہادت ہے
مرا وجود ہے اور شہر سنگ باراں ہے
بچاؤں جان کہ تعمیر قصر ذات کروں
میں اپنا ہاتھ بغل میں دبائے سوچتا ہوں
مرے نصیب میں سورج کہاں جو بات کروں
میں وادیوں کی مسافت سے کس لیے نکلوں
سفر اک اور پہاڑوں کے پار رکھا ہے
 
آتے جاتے دن
امجد اسلام امجد


آتے جاتے دن کیا کہتے ہیں سن
علم کے چاند چراغ سے ساتھی
جیون کے اس باغ سے ساتھی
ساری کلیاں چن
آتے جاتے دن کیا کہتے ہیں سن
آدھا ہے ایمان صفائی
جس نے عادت یہ اپنائی
اس کا روشن نام ہے ساتھی
سب سے بھلا یہ کام ہے ساتھی
سب سے اچھا گن
اچھی آنکھیں اچھے خواب
ساز ہے دنیا دل مضراب
چاروں جانب پیار ہو ساتھی
ہر اک راہ بہار ہو ساتھی
دل میں ہو جو دھن
آتے جاتے دن کیا کہتے ہیں سن
 
خود سپردگی
امجد اسلام امجد




رات بھیگے تو پرانے قصے
پئے ترتیب کوئی اور سہارا ڈھونڈیں
چاندنی نیند کا پھیلا ہوا جادو لے کر
دل کے بے خواب نگر میں اترے
اور ہوا دھوپ سے بولائی ہوئی سڑکوں پر
لوریاں گاتی نکلے
اوس ہر پھول کے دامن میں ستارے بھر دے
لیکن اس خواب خیالی کا نتیجہ کیا ہے
رات کی گود مرے درد کی منزل تو نہیں
دامن گل پہ چمکتی شبنم
لوریاں دیتی ہوئی سرد ہوا
چاندی کی نرم سنہری کرنیں
سب کے سینوں میں اتر جائیں گی
کل کے سورج کی جھلستی کرنیں
درد پھر خاک بہ سر آئے گا
خواب کی آنکھ میں سمٹا ہوا سارا کاجل
خود اسی خواب کے چہرے پہ بکھر جائے گا
دل کے قصوں کا مقدر ہے پریشاں حالی
پئے ترتیب سہاروں کا تعاقب چھوڑو
سوچ کے بخت میں اظہار کا لمحہ کب تھا
دل ناکام سرابوں کا تعاقب چھوڑو
صبح دم پھر وہی پتلی کا تماشا ہوگا
جاگتی رات کے خوابوں کا تعاقب چھوڑو
 
شکست انا
امجد اسلام امجد


آج کی رات بہت سرد بہت کالی ہے
تیرگی ایسے لپٹتی ہے ہوائے غم سے
اپنے بچھڑے ہوئے ساجن سے ملی ہے جیسے
مشعل خواب کچھ اس طور بجھی ہے جیسے
درد نے جاگتی آنکھوں کی چمک کھا لی ہے
شوق کا نام نہ خواہش کا نشاں ہے کوئی
برف کی سل نے مرے دل کی جگہ پا لی ہے
اب دھندلکے بھی نہیں زینت چشم بے خواب
آس کا روپ محل دست تہی ہے جیسے
بحر امکان پہ کائی سی جمی ہے جیسے
ایسے لگتا ہے کہ جیسے مرا معمورۂ جاں
کسی سیلاب زدہ گھر کی زبوں حالی ہے
نہ کوئی دوست نہ تارا کہ جسے بتلاؤں
اس طرح ٹوٹ کے بکھرا ہے انا کا شیشہ
میرا پندار مرے دل کے لیے گالی ہے
نبض تاروں کی طرح ڈوب رہی ہے جیسے!
غم کی پنہائی سمندر سے بڑی ہے جیسے!
آنکھ صحراؤں کے دامن کی طرح خالی ہے
وحشت جاں کی طرف دیکھ کے یوں لگتا ہے
موت اس طرح کے جینے سے بھلی ہے جیسے
تیرگی چھٹنے لگی، وقت رکے گا کیوں کر
صبح خورشید لیے در پہ کھڑی ہے جیسے
داغ رسوائی چھپانے سے نہیں چھپ سکتا
یہ تو یوں ہے کہ جبیں بول رہی ہے جیسے!
 
وہ ابھی اپنے چہرے میں اترا نہیں
امجد اسلام امجد




کس سے پوچھوں وہ کیا
شخص ہے جو مری
آرزو کے جھروکوں میں ٹھہرے ہوئے
سارے چہروں میں بکھرا ہوا ہے مگر
خود ابھی اپنے چہرے میں اترا نہیں
کس سے پوچھوں وہ کیا
نام ہے جو مری
دھڑکنوں کے مقدر میں مرقوم ہے
اور وہ کیا اجنبی ہے جو صدیوں سے میرے خیالوں کے قریے میں آباد ہے
مگر میرا صورت شناسا نہیں
کس کی آواز ہے!
جو مری روح میں نغمہ پرواز ہے
کون بتلائے گا اس نگر کا پتہ
جس کی مٹی کی خوشبو مرے جسم کے واسطے درج ہے،
جس کے دیوار و در میری بے خواب آنکھوں سے مانوس ہیں
اور جس کو کبھی میں نے دیکھا نہیں
نارسائی مری نارسائی مری!
جس کو پایا نہ تھا اس کو کھونے کا غم
میری خواہش کے سینے کا ناسور ہے
کس کو آواز دوں کس کا ماتم کروں
وہ ابھی اپنے چہرے میں اترا نہیں
کس سے پوچھوں مرا مدعا کون ہے!
نارسا کون ہے!
 
مجھے اپنے جینے کا حق چاہیے
امجد اسلام امجد


مجھے اپنے جینے کا حق چاہیے
​​​​​​
زمیں جس پہ میرے قدم ٹک سکیں
اور تاروں بھرا کچھ فلک چاہیے
مجھے اپنے جینے کا حق چاہیے
نعمتیں جو میرے رب نے دھرتی کو دیں
صاف پانی ہوا بارشیں چاندنی
یہ تو ہر ابن آدم کی جاگیر ہیں
یہ ہماری تمہاری کسی کی نہیں
مجھ کو تعلیم صحت اور امید کی
سات رنگوں بھری اک دھنک چاہیے
مجھے اپنے جینے کا حق چاہیے
نہ ہوا صاف ہے نہ فضا صاف ہے
وہ جو آب بقا تھا وہ ناصاف ہے
زمیں ہو سمندر ہو یا آسماں
اک ذرا سوچیے اب کہ کیا صاف ہے
موت سے پر خطر ہے یہ آلودگی
دوستو دل میں تھوڑی کسک چاہیے
مجھے اپنے جینے کا حق چاہیے
 
چمکو چمکو پیارے تارو
امجد اسلام امجد


چمکو چمکو پیارے تارو
رنگوں اور امیدوں والے
آنکھوں میں پھر خواب اتارو
چمکو چمکو پیارے تارو
رات بہت ہے کالی کالی
گلیاں ہیں سب خالی خالی
ہوا چلے تو ڈر لگتا ہے
سونا سونا گھر لگتا ہے
روشن سارے منظر کر دو
دنیا کو خوشیوں سے بھر دو
چمکو چمکو پیارے تارو
چپکے سے کھڑکی میں آؤ
اچھے اچھے گیت سناؤ
سب سے بچ کر سب سے چھپ کے
بات کریں گے چپکے چپکے
بادل سے تم دور ہی رہنا
جو کہنا ہو ہم سے کہنا
چمکو چمکو پیارے تارو
رنگوں اور امیدوں والے
آنکھوں میں پھر خواب اتارو
چمکو چمکو پیارے تارو
 
آواز کے پتھر
امجد اسلام امجد


کون آئے گا!
شب بھر گرتے پتوں کی آوازیں مجھ سے کہتی ہیں
کون آئے گا!
کس کی آہٹ پر مٹی کے کان لگے ہیں!
خوشبو کس کو ڈھونڈ رہی ہے!
شبنم کا آشوب سمجھ
اور دیکھ کہ ان پھولوں کی آنکھیں
کس کا رستہ دیکھ رہی ہیں
کس کی خاطر
قریہ قریہ جاگ رہا ہے
سونا رستہ گونج رہا ہے
کس کی خاطر!!
تنہائی کے ہول نگر میں
شب بھر گرتے پتوں کی آوازیں چنتا رہتا ہوں
اپنے سر پر تیز ہوا کے نوحے سنتا رہتا ہوں
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Back
Top