- Thread starter
- Admin
- #11
“عمائم جاؤ بیٹا اپنے ماموں کے پاس ” عابدہ بیگم نے کوئی چوتھی بار اسے کہا تھا۔شائستہ بیگم نے اسے ہائیر کر لیا تھا سیلری گو کہ زیادہ نہیں تھی مگر اتنی ضرور تھی کہ وہ آرام سے اپنی ضروریات پوری کر سکتی تھی وہ اس میں بھی مطمئن تھی کیونکہ کچھ نا ہونے سے ہونا زیادہ بہتر تھا۔۔”افف جاتی ہوں آپ تو بھیج کر ہی رہیں گیں””ہاں جاؤ اور اپنی زبان کو زرا قابو میں رکھنا”ان کی بات کر سر ہلاتے وہ چادر اوڑھتے گھر سے نکلی تھی۔۔ماموں کے گھر میں داخل ہوئی تو وہ اسے وہیں لاونج میں چائے پیتے نظر آئے انہیں سلام کرتے وہ ان کے سامنے پڑے صوفے پر بیٹھ گئی۔”مل گئی فرصتِ آنے کی ؟” رابعہ ممانی کی طنز سے بھرپور آواز پر اس نے بمشکل چہرے پر مسکراہٹ سجائے انہیں دیکھا۔ کچھ بھی کہنے سے البتہ گریز کیا تھا۔۔”ہاں تو تم نوکری کرنا چاہتی ہو؟””جی ماموں””ایسی کون سی ضرورت ہم تمہاری پوری نہیں کر رہے عمائم جو نوکری کرنے کی ضرورت پڑ گئی؟”افتخار ماموں کی بات پر اس نے ایک نظر رابعہ ممانی کو دیکھا وہ سمجھ گئی تھی ماموں کے منہ میں زبان کس کی ہے۔۔۔”کوئی کمی نہیں ماموں مگر اب میں اس قابل ہوگئی ہوں کہ خود کما سکوں آپ نے اتنے سالوں سے ہمیں کھلایا ہے اب مزید آپ کو تنگ کرنا اچھی بات تو نہیں نا؟””جو بھی ہے تم چھوڑو اس نوکری کے خیال کو””معذرت ماموں مگر نوکری مجھے مل گئی ہے گھر کے اندر کی نوکری ہے بے فکر رہیں آپ کی ساخت خراب نہیں ہوگی ” اپنی بات مکمل کرکے وہ اپنی جگہ سے اٹھی تھی۔۔”امی گھر میں اکیلی ہیں میں چلتی ہوں” اس سے پہلے رابعہ ممانی اسے کچھ بھی کہتیں وہ وہاں سے نکل آئی تھی۔۔۔__________کالج کی چھٹی ہوئی تو وہ سب لوگوں کے ساتھ باہر آئی نگاہ سامنے کھڑی گاڑی سے جا ٹکرائیں جہاں اجمل گاڑی سے ٹیک لگائے کھڑا تھا اسے دیکھ ایک دم سیدھا ہوا۔۔نور نے اسے مکمل نظر انداز کیا تھا اس کا کوئی ارادہ نہیں تھا اس شخص کے پاس جانے کا۔۔”میڈم پلیز گاڑی میں بیٹھ جائیں” وہ آگے بڑھنے لگی جب اجمل کی آواز پر اسکے قدم تھمے ۔”اور میں ایسا کیوں کروں؟” سینے پر ہاتھ باندھے وہ ماتھے پر تیوری چڑھائے اجمل کو دیکھ رہی تھی۔”دیکھیں میڈم سائیں آپ سے ملنا چاہتے ہیں””اپنے ٹھرکی سائیں سے کہو مجھ سے دور رہے آئی سمجھ “”آپ سمجھ نہیں رہی ہیں میڈم “”کیا سمجھوں تم کیا چاہتے ہو میں شور مچا مچا کر لوگوں کو اکھٹا کرلوں؟”اسکی دھمکی پر اجمل نے ایک نظر اسے دیکھا۔”تو آپ میرے ساتھ نہیں آئیں گی؟””نہیں اب کیا لکھ کر دوں ؟”پھاڑ کھانے کے انداز میں کہتی وہ مڑی تھی۔۔”یہ آپ کا اپنا فیصلہ ہے آگے جو ہوگا اسکی زمہ دار بھی آپ خود ہونگی”اجمل کی بات پر اس کے گردن موڑ کر اسے دیکھا اس سے پہلے وہ کچھ بھی سمجھتی پیچھے سے دو بھاری بھرکم عورتوں نے اسکے بازوؤں کو سختی سے پکڑا تھا۔۔”اے۔۔ اے کون ہو ہاتھ چھوڑو میرا” اس سے پہلے وہ شور مچاتی وہ دونوں عورتیں اسے اپنے پاس کھڑکی گاڑی میں دھکیلتی اسکے فرار کی راہیں مفقود کرتی گاڑی کا دروازہ بند کرگئی۔وہ چیخ رہی تھی خود کو چھڑانے کی کوشش کر رہی تھی مگر سب بے سود ۔۔۔
http://twitter.com/share?url=https:...fn-episode-6/&text=Dil Ishqam by FN Episode 6
___________چہرے پر سیاہ نقاب لگائے وہ خاموشی سے اس گھر میں داخل ہوا تھا گھر کا کام اسکے ساتھ آیا شخص پہلے ہی توڑ چکا تھا۔آس پاس سناٹے کا راج تھا آنکھوں میں چمک لئے اس نے سیاہ جوتوں میں مقید اپنے پیر اس گھر کے اندر رکھے۔۔چھوٹا سا دو کمروں کا صاف ستھرا اپارٹمنٹ۔۔ادھر ادھر نظر دوڑاتے اس نے کسی کو ڈھونڈا تھا۔۔”تم نے تو کہا تھا وہ یہی ہیں ؟”ماتھے پر بل ڈالے اس نے ناگواری سے اپنے ساتھ آئے شخص کو گھورا۔”سر وہ اندر ہی ہیں پکی خبر ہے””گاڑی تیار ہے؟” آس پاس دیکھتے اب اس نے ایک کمرے کا دروازہ کھولا تھا جو اندر سے خالی تھا۔”,ہر چیز ریڈی ہے سر”اسکی بات پر سر ہلاتے اس نے دوسرے کمرے کا دروازہ کھول کر اندر دیکھا تو بیزاری بھرا تاثر لئے آنکھیں ایک دم چمکیں۔کچھ فتح کرلینے کی چمک۔۔مسکراتی نظروں سے بیڈ پر بےخبر سوئی شہرے کو دیکھتے اس نے اپنا ہاتھ اس آدمی کے آگے کیا جو اسکا مطلب سمجھتے فوراً سے جیب سے رومال نکال اسے تھما گیا۔”گاڑی بالکل ریڈی رکھنا۔۔ ” اسے جانے کا اشارہ کرتا وہ سیٹی پر اپنی من پسند دھن بجاتا اندر بیڈ کے قریب آکر رکا۔۔گھنٹوں کے بل بیڈ کے پاس بیٹھتے اس نے بغور اس نازک وجود کے ایک ایک نقش کو دیکھا تھا۔۔سوجی آنکھیں مڑی پلکیں، اسکا چہرہ بھی سرخ ہو رہا تھا چھوٹی سی ناک۔۔ وہ کسی کو بھی اپنے حسن سے متاثر کر سکتی تھی مگر سامنے مامون شیرازی تھی جو اس کے حسن کی وجہ سے نہیں بلکہ اس سے نفرت کی وجہ سے یہاں موجود تھا۔سامنے موجود لڑکی کا انکار۔۔ اس کے لئے انا کا مسئلہ تھا۔۔”ہے لٹل گرل لک” اسکے چہرے پر آئے بالوں کو انگلی کی مدد سے پیچھے کرتے اس نے شہرے کے کان میں سرگوشی کی۔۔”ویک اپ لٹل گرل۔۔ لک آئی ایم ہئیر” وہ اسکے کان پر جھکا سرگوشیاں کر رہا تھا۔اپنے کان پر گرم سانسوں کی تپش محسوس کرتے وہ نیند میں کسمسائی۔۔”آنکھیں کھولو لٹل گرل۔۔ ایسے چپکے سے لے جانے میں مزہ نہیں آئے گا” اسکے گال پر انگلی رکھتا وہ اب گول دائرہ بنا رہا تھا اپنے گرم ہوتے چہرے پر ٹھنڈے ہاتھ کا لمس محسوس کر شہرے نے آنکھیں کھولیں۔خود پر جھکے مامون کو دیکھ اسکا دل دھک سے رہ گیا تھا۔۔۔”تم۔۔۔””ششش۔۔۔شور نہیں” اسکے ہونٹوں پر انگلی رکھتا وہ اسے کچھ بھی کہنے سے روک گیا۔خوفزدہ نگاہوں سے شہرے نے مامون کو دیکھا۔ بڑی بڑی آنکھیں کھولے وہ مامون کے چہرے کو دیکھ رہی تھی جہاں بس اسکی آنکھیں نمایاں تھیں۔۔۔”پلیز”نم لہجہ نم آنکھیں اس نے بمشکل اتنا کہا تھا۔۔”ارادہ کچھ وقت کا تھا مگر تم نے مجھے مجبور کردیا لٹل گرل۔۔”اسکے ہونٹوں پر سے انگلی ہٹاتا وہ دھیمے سے مسکرایا۔”میرے ساتھ یہ مت کرو”وہ ڈر گئی تھی بہت زیادہ۔۔ لڑنے کی ہمت ہی نہیں تھی اب اس میں۔۔”کہاں کچھ کر رہا ہوں بس تمہیں اپنے ساتھ لے کر جا رہا ہوں “”کی۔۔ کیا۔۔مم۔۔۔مطلب” کسی خوفزدہ ہرنی کی طرح اس نے مامون کو دیکھا۔مامون کو آج وہ بہت الگ لگی دو ملاقاتوں سے یکسر مختلف۔۔۔ ڈری سہمی سی۔۔ معصوم سی دل کو اپنی طرف مائل کر لینے والی۔۔۔”میری دنیا میں لے کر جا رہا ہوں تمہیں لٹل گرل” اسکی اداس آنکھوں میں دیکھ کر کہتا وہ اچانک ہی ہاتھ میں موجود رومال اسکی ناک پر رکھ گیا بنا اسے۔ سنبھلنے کی مہلت دئیے ۔۔پھیلی آنکھوں سے ہاتھ پیر چلاتے وہ اسکے آغوش میں کسی کٹی ڈال کی طرح گری تھی۔آنکھ سے ایک آنسو ٹوٹ کر اسکے گال پر بہا تھا۔۔مامون نے ایک نظر اس آنسو کو دیکھا اور پھر اسے بانہوں میں بھرے اس گھر سے نکل کر اپنی گاڑی میں بیٹھا تھا۔۔”سر کہا چلنا ہے؟”اسکے آدمی کے پوچھنے پر مامون نے بے خبر پڑی شہرے پر سے نگاہیں ہٹا کر اسے دیکھا جس کی گود میں شہرے کا بیگ پڑا تھا۔”ائیر پورٹ””سر میڈم کا پاسپورٹ نہیں ہے” اس آدمی نے آہستہ سے کہا ناجانے کب اسکے پاس کا موڈ خراب ہو جائے۔۔”پرائیویٹ جیٹ کا استعمال کرو رات ہونے سے پہلے ہمیں اس ملک کو خدا حافظ کہنا ہے” باہر نظر آتے نظاروں پر نگاہیں جمائے کہتا وہ واپس سے اپنے کندھے سے لگی بےہوش پڑی شہرے کو دیکھنے لگا۔۔۔”اتنی معصوم ہو یا بس ایسے ہی لگ رہی ہو؟” اسکے چہرے کو دیکھتے اس نے آہستہ سے ہاتھ بڑھاتے اسکے چہرے پر پھیلے بال سمیٹ کر سائیڈ کئے۔”ظہیر تم میرے ساتھ آرہے ہو” ظہیر کو کہتے وہ سکون سے آنکھیں موند گیا چہرے پر فتح کی چمک تھی۔۔۔__________بیگ پر گرفت مضبوط کئے اس نے سامنے موجود گھر کو دیکھا کل کے مقابلے میں آج وہ ناجانے کیوں کنفیوز تھی۔۔۔”ارے عمائم بچے آگئی آپ ؟”شائستہ بیگم کی آواز پر ہولے سے مسکراتے وہ اندر داخل ہوئی۔”اسلام وعلیکم آنٹی””وعلیکم السلام عمائم یو لک پریٹی” جواب شائستہ بیگم کے بجائے زارون کی جانب سے آتا اسکے چہرے پر مسکراہٹ بکھیر گیا۔”یور لکنگ ہینڈسم زارون” اسے اپنے ساتھ لگائے وہ اسکے گال پر پیار کر گئی۔”دادو آپ جائیں نا””آپ کہیں جا رہی تھیں آنٹی ؟” زراون کی بات پر اس کی شائستہ بیگم کو دیکھا۔”ہاں بس میں یہاں پاس میں ہی جا رہی بس تھوڑی دیر میں واپس آجاؤں گی”ان کے بتانے پر وہ سر ہلاتی زارون کے ہمراہ اسکے روم میں آگئی۔تھوڑی ہی دیر میں وہ دونوں کمفرٹیبل انداز میں بیٹھے ڈرائنگ کر رہے تھے۔۔
“زارون۔۔۔” مردانہ آواز پر عمائم نے چونک کر دروازے کی جانب دیکھا۔دروازہ کھلا اور ضوریز کا چہرہ نمودار ہوا تھا ۔۔نگاہوں کے تصادم پر ضوریز ٹھٹک کر رکا۔۔۔”آپ ۔۔ آپ یہاں کیا کر رہی ہیں؟””آپ یہاں کیا کر رہے ہیں یہ سوال تو مجھے آپ سے پوچھنا چاہیے””میں آپ کو جواب دہ نہیں ہوں آئی سمجھ ” عمائم کے پوچھنے پر اس نے تڑخ کر جواب دیا۔”تو میں بھی آپ کو جواب دہ نہیں ہوں مسٹر” سینے پر ہاتھ باندھے اس نے ناگواری سے ضوریز کو دیکھا۔”میرے ہی گھر میں کھڑی ہیں جواب تو دینا ہوگا آپ کو””آپ کے گھر؟” اب کے چونکنے کی باری عمائم کی تھی۔۔”بابا۔۔۔ آپ عمائم سے ایسے بات مت کریں ” زارون کی پکار پر عمائم کی آنکھیں پھیلیں۔شاکڈ سے پھیلی آنکھوں سے اس نے پہلے ضوریز کو دیکھا اور پھر زارون کو جو اب اپنے باپ کی گود میں چڑھ رہا تھا۔۔”عمائم؟””بابا شی از مائے ٹیوٹر آئی لائک ہر ویری مچ” آنکھیں پٹپٹاتے اس نے اپنے طریقے اسے ضوریز کو وارن کیا تھا کہ اسے کچھ نا کہا جائے۔۔گہرا سانس بھرتے ضوریز نے عمائم کو دیکھا اور پھر سر جھٹکتے وہ زارون کی جانب متوجہ ہو گیا۔۔عمائم نے بہت ضبط کے ساتھ اس شخص کو اپنے سامنے دیکھا تھا ہر بار کی طرح اس ملاقات میں بھی کوئی خوشگواریت نہیں تھی۔۔”آپ میرے ساتھ آئیں” زارون کو اتارتا وہ اسکے کہتا بنا اسکا انتظار کئے باہر بڑھ گیا۔اسکے اس اٹیٹیوڈ پر عمائم کھول کر رہ گئی مگر وہ یہاں نوکری کر رہی تھی اس لئے ضوریز کی بات ماننا بھی ضروری تھا اس لئے وہ خاموشی سے باہر آگئی۔۔”جی کہیے؟””کیا مقصد ہے آپ کا مس عمائم ؟ “”کیا مطلب میں سمجھی نہیں کیا کہنا چاہتے ہیں آپ ؟””میں نے بہت صاف انداز میں کہا ہے پہلے میرے آفس اب میرے گھر کس مقصد کے تحت آئی ہیں آپ اس گھر میں “؟ اسکی بات پر عمائم کا منہ کھلا تھا وہ اسے سمجھ کیا رہا تھا؟””دیکھیں مسٹر میرا آپ سے کوئی مقصد نہیں یہاں میں کومل آپی کی وجہ سے آئی ہوں مجھے تو پتا بھی نہیں تھا اور اگر پتا ہوتا تو کبھی یہاں جاب نا کرتی “”اوو رئیلی۔۔۔؟””جی ہاں “”تو اب پتا چل گیا ہے نا تو اب آپ چھوڑ دیں یہ جاب ؟”وہ اسے نوکری سے نکال رہا تھا عمائم نے حیرت سے اسے دیکھا۔۔”اور ایسا میں کیوں کروں؟””کیونکہ یہ میرا گھر ہے اور میں آپ کو جاب چھوڑنے کے لئے کہہ رہا ہوں””ٹھیک ہے آنٹی ابھی آتی ہونگی ان کے سامنے بات کرینگے اب”اسے کہتے وہ اسکے پہلو سے نکلی تھی جب گھبراتے ضوریز نے اسکا بازو تھام اسے روکا۔۔”ہاتھ چھوڑیں میرا کیا بدتمیزی ہے ؟””امی کے سامنے آپ “”میں سب کہوں گیں۔۔ یہ آپ مجھے اس گھر سے نکال رہے ہیں اور میں واقعی جا رہی ہوں” ایک جھٹکے سے اپنا ہاتھ اسکی گرفت سے نکالتے وہ غصے سے باہر نکلی تھی۔”عمائم۔۔۔ بیٹا کہاں جا رہی ہیں؟”اندر آتی شائستہ بیگم نے حیرت سے اسے دیکھا۔”آپ کے بیٹے نے مجھے نوکری سے نکال دیا ہے آنٹی””کیا ؟ تم کہیں نہیں جا رہی ہو میرے ساتھ آؤ یہ کیا دماغ خراب ہوگیا ہے ضوریز کا” اسکا ہاتھ تھامے وہ اسکے ناچاہنے کے باوجود اسے لئے اندر بڑھی تھیں۔۔۔____________”یہ کیا بدتمیزی ہے چھوڑو مجھے ” بری طرح چلاتے وہ خود کو ان عورتوں کی گرفت سے آزاد کروانے کی کوشش کر رہی تھی جو کانوں کو لپیٹے بہری بنی ہوئی تھیں۔۔”چھوڑو میرا ہاتھ ۔۔۔ جانے دو مجھے” بنا اسکی کوئی بھی بات سنے وہ دونوں اسے زبردستی تھامے اس کمرے تک لائیں نور کو کمرے میں دھکیلتے انہوں نے پیچھے سے دروازہ لاک کیا تھا۔”دروازہ کھولو ۔۔۔ کوئی ہے سنو۔۔۔ دروازہ کھولو” وہ پاگلوں کی طرح دروازہ پیٹ رہی تھی اسکے ہاتھ سرخ ہوگئے تھے مگر وہاں اسکی سننے والا کوئی نہیں تھا اس کمرے میں سوائے بیڈ اور ایک اٹیچڈ باتھ کے ایسا کوئی دروازہ یا کھڑکی نہیں تھی جہاں وہ فرار ہو سکتی۔۔”یا اللہ میری مدد کریں” بیڈ پر بیٹھتے اس نے اپنا سر ہاتھوں میں گرایا۔۔وہ رونا نہیں چاہتی تھی اسے کمزور نہیں پڑنا تھا۔۔”جازب شاہ یہ ہے تمہاری مردانگی چھپ کر پیٹھ پیچھے وار کرتے ہو ہمت ہے تو سامنے آؤ” وہ ایکدم غصے سے چلائی تھی بیڈ پر پڑے کشن اور چادر اس نے غصے سے زمین بوس کئے تھے۔۔۔فرار کی کوئی راہ نہیں تھی تھک کر وہ بیڈ پر بیٹھی تھی۔۔بے دردی سے لب کچلتے اس نے خود کو رونے سے باز رکھا تھا۔۔کلک کی آواز کے ساتھ دروازہ کھلا تھا نور نے جھٹکے سے سر اٹھا کر دروازے کی جانب دیکھا۔۔جہاں جازب شاہ اپنی بھرپور شاندار پرسنالٹی کے ساتھ اسکے سامنے کھڑے تھے۔۔۔”تم۔۔۔ تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھے زبردستی یہاں بلانے کی ” وہ چیل کی طرح اس پر جھپٹی تھی اس سے پہلے وہ اسکا گریبان پکڑتی جازب شاہ نے اسکے دونوں ہاتھوں کو سختی سے اپنی گرفت میں لیتے اسکی کمر سے لگاتے ایک جھٹکے سے اسے اپنے قریب کیا تھا۔۔۔اس انتہا کی قربت پر نورے اپنا سانس تک روک گئی۔”میں نے کہا تھا نا مجھے مجبور نا کریں ؟” جازب شاہ کی نگاہیں اسکے چہرے کا طواف کررہی تھیں اور یہ نظریں نورے کو مضطرب کرنے کا باعث بنی تھیں ۔۔”چھوڑو مجھے ۔۔ میں نے کہا چھوڑو مجھے” اسکی گرفت میں مچلتے وہ غرائی۔۔جاذب شاہ کے چہرے پر مسکراہٹ کھلی تھی۔”کیا میری مردانگی کا ثبوت نہیں دیکھنا چاہیں گیں؟” اسے مزید اپنے قریب کرتا وہ اسے سانس روکنے پر مجبور کر گیا۔جازب کی سلگتی سانسیں وہ اپنے چہرے پر پڑتی محسوس کر رہی تھی۔”میں نے کہا تھا نا مجھے اپنی کرنے پر مجبور نا کرنا کیوں ایک بات سمجھ نہیں آتی نور فاطمہ ؟””دور ہوکر بات کریں مجھ سے “رخ موڑے وہ بمشکل بولی تھی۔زندگی میں پہلی بار وہ کسی مرد کے قریب آئی تھی اتنی سی قربت نے ہی اسکا چہرہ لال سرخ کیا تھا۔۔”یہ قربت تو ابھی کچھ بھی نہیں ہے اتنی سی پر بس ہوگئی آپ کی؟” اسکے چہرے پر پھونک مارتا وہ زومعنی لہجے میں کہتا نورے کو مٹھیاں بھینچنے پر مجبور کرگیا تھا۔۔ایک نظر اسکے چہرے کو دیکھتے جاذب نے اسے ایک جھٹکے سے خود سے دور کیا تھا۔۔”مجھے جانے دو پلیز””بیٹھو سامنے” اسکا انداز اتنا قطعی تھا کہ نورے بنا کچھ بھی کہے خاموشی سے بیڈ کی پائیتی پر ٹکی۔۔اپنی فتح پر مسکراتے جاذب نے دیوار سب ٹیک لگاتے سینے پر ہاتھ باندھے۔۔”مجھے کیوں بلایا ہے کیا صرف میری شکل دیکھنے کے لئے بلایا ہے؟” اسکے مسلسل دیکھنے پر وہ تڑخ کر بولی تھی یہ شخص اب اسکے حواس جھنجھلا رہا تھا۔۔”اپنی بیوی کو صرف شکل دیکھنے کے لئے نہیں بلایا بلکہ” وہ پراسرار سا مسکرایا تھا جبکہ بیوی لفظ پر نور نے جھٹکے سے اسے دیکھا تھا۔جاری ہے
http://twitter.com/share?url=https:...fn-episode-6/&text=Dil Ishqam by FN Episode 6
___________چہرے پر سیاہ نقاب لگائے وہ خاموشی سے اس گھر میں داخل ہوا تھا گھر کا کام اسکے ساتھ آیا شخص پہلے ہی توڑ چکا تھا۔آس پاس سناٹے کا راج تھا آنکھوں میں چمک لئے اس نے سیاہ جوتوں میں مقید اپنے پیر اس گھر کے اندر رکھے۔۔چھوٹا سا دو کمروں کا صاف ستھرا اپارٹمنٹ۔۔ادھر ادھر نظر دوڑاتے اس نے کسی کو ڈھونڈا تھا۔۔”تم نے تو کہا تھا وہ یہی ہیں ؟”ماتھے پر بل ڈالے اس نے ناگواری سے اپنے ساتھ آئے شخص کو گھورا۔”سر وہ اندر ہی ہیں پکی خبر ہے””گاڑی تیار ہے؟” آس پاس دیکھتے اب اس نے ایک کمرے کا دروازہ کھولا تھا جو اندر سے خالی تھا۔”,ہر چیز ریڈی ہے سر”اسکی بات پر سر ہلاتے اس نے دوسرے کمرے کا دروازہ کھول کر اندر دیکھا تو بیزاری بھرا تاثر لئے آنکھیں ایک دم چمکیں۔کچھ فتح کرلینے کی چمک۔۔مسکراتی نظروں سے بیڈ پر بےخبر سوئی شہرے کو دیکھتے اس نے اپنا ہاتھ اس آدمی کے آگے کیا جو اسکا مطلب سمجھتے فوراً سے جیب سے رومال نکال اسے تھما گیا۔”گاڑی بالکل ریڈی رکھنا۔۔ ” اسے جانے کا اشارہ کرتا وہ سیٹی پر اپنی من پسند دھن بجاتا اندر بیڈ کے قریب آکر رکا۔۔گھنٹوں کے بل بیڈ کے پاس بیٹھتے اس نے بغور اس نازک وجود کے ایک ایک نقش کو دیکھا تھا۔۔سوجی آنکھیں مڑی پلکیں، اسکا چہرہ بھی سرخ ہو رہا تھا چھوٹی سی ناک۔۔ وہ کسی کو بھی اپنے حسن سے متاثر کر سکتی تھی مگر سامنے مامون شیرازی تھی جو اس کے حسن کی وجہ سے نہیں بلکہ اس سے نفرت کی وجہ سے یہاں موجود تھا۔سامنے موجود لڑکی کا انکار۔۔ اس کے لئے انا کا مسئلہ تھا۔۔”ہے لٹل گرل لک” اسکے چہرے پر آئے بالوں کو انگلی کی مدد سے پیچھے کرتے اس نے شہرے کے کان میں سرگوشی کی۔۔”ویک اپ لٹل گرل۔۔ لک آئی ایم ہئیر” وہ اسکے کان پر جھکا سرگوشیاں کر رہا تھا۔اپنے کان پر گرم سانسوں کی تپش محسوس کرتے وہ نیند میں کسمسائی۔۔”آنکھیں کھولو لٹل گرل۔۔ ایسے چپکے سے لے جانے میں مزہ نہیں آئے گا” اسکے گال پر انگلی رکھتا وہ اب گول دائرہ بنا رہا تھا اپنے گرم ہوتے چہرے پر ٹھنڈے ہاتھ کا لمس محسوس کر شہرے نے آنکھیں کھولیں۔خود پر جھکے مامون کو دیکھ اسکا دل دھک سے رہ گیا تھا۔۔۔”تم۔۔۔””ششش۔۔۔شور نہیں” اسکے ہونٹوں پر انگلی رکھتا وہ اسے کچھ بھی کہنے سے روک گیا۔خوفزدہ نگاہوں سے شہرے نے مامون کو دیکھا۔ بڑی بڑی آنکھیں کھولے وہ مامون کے چہرے کو دیکھ رہی تھی جہاں بس اسکی آنکھیں نمایاں تھیں۔۔۔”پلیز”نم لہجہ نم آنکھیں اس نے بمشکل اتنا کہا تھا۔۔”ارادہ کچھ وقت کا تھا مگر تم نے مجھے مجبور کردیا لٹل گرل۔۔”اسکے ہونٹوں پر سے انگلی ہٹاتا وہ دھیمے سے مسکرایا۔”میرے ساتھ یہ مت کرو”وہ ڈر گئی تھی بہت زیادہ۔۔ لڑنے کی ہمت ہی نہیں تھی اب اس میں۔۔”کہاں کچھ کر رہا ہوں بس تمہیں اپنے ساتھ لے کر جا رہا ہوں “”کی۔۔ کیا۔۔مم۔۔۔مطلب” کسی خوفزدہ ہرنی کی طرح اس نے مامون کو دیکھا۔مامون کو آج وہ بہت الگ لگی دو ملاقاتوں سے یکسر مختلف۔۔۔ ڈری سہمی سی۔۔ معصوم سی دل کو اپنی طرف مائل کر لینے والی۔۔۔”میری دنیا میں لے کر جا رہا ہوں تمہیں لٹل گرل” اسکی اداس آنکھوں میں دیکھ کر کہتا وہ اچانک ہی ہاتھ میں موجود رومال اسکی ناک پر رکھ گیا بنا اسے۔ سنبھلنے کی مہلت دئیے ۔۔پھیلی آنکھوں سے ہاتھ پیر چلاتے وہ اسکے آغوش میں کسی کٹی ڈال کی طرح گری تھی۔آنکھ سے ایک آنسو ٹوٹ کر اسکے گال پر بہا تھا۔۔مامون نے ایک نظر اس آنسو کو دیکھا اور پھر اسے بانہوں میں بھرے اس گھر سے نکل کر اپنی گاڑی میں بیٹھا تھا۔۔”سر کہا چلنا ہے؟”اسکے آدمی کے پوچھنے پر مامون نے بے خبر پڑی شہرے پر سے نگاہیں ہٹا کر اسے دیکھا جس کی گود میں شہرے کا بیگ پڑا تھا۔”ائیر پورٹ””سر میڈم کا پاسپورٹ نہیں ہے” اس آدمی نے آہستہ سے کہا ناجانے کب اسکے پاس کا موڈ خراب ہو جائے۔۔”پرائیویٹ جیٹ کا استعمال کرو رات ہونے سے پہلے ہمیں اس ملک کو خدا حافظ کہنا ہے” باہر نظر آتے نظاروں پر نگاہیں جمائے کہتا وہ واپس سے اپنے کندھے سے لگی بےہوش پڑی شہرے کو دیکھنے لگا۔۔۔”اتنی معصوم ہو یا بس ایسے ہی لگ رہی ہو؟” اسکے چہرے کو دیکھتے اس نے آہستہ سے ہاتھ بڑھاتے اسکے چہرے پر پھیلے بال سمیٹ کر سائیڈ کئے۔”ظہیر تم میرے ساتھ آرہے ہو” ظہیر کو کہتے وہ سکون سے آنکھیں موند گیا چہرے پر فتح کی چمک تھی۔۔۔__________بیگ پر گرفت مضبوط کئے اس نے سامنے موجود گھر کو دیکھا کل کے مقابلے میں آج وہ ناجانے کیوں کنفیوز تھی۔۔۔”ارے عمائم بچے آگئی آپ ؟”شائستہ بیگم کی آواز پر ہولے سے مسکراتے وہ اندر داخل ہوئی۔”اسلام وعلیکم آنٹی””وعلیکم السلام عمائم یو لک پریٹی” جواب شائستہ بیگم کے بجائے زارون کی جانب سے آتا اسکے چہرے پر مسکراہٹ بکھیر گیا۔”یور لکنگ ہینڈسم زارون” اسے اپنے ساتھ لگائے وہ اسکے گال پر پیار کر گئی۔”دادو آپ جائیں نا””آپ کہیں جا رہی تھیں آنٹی ؟” زراون کی بات پر اس کی شائستہ بیگم کو دیکھا۔”ہاں بس میں یہاں پاس میں ہی جا رہی بس تھوڑی دیر میں واپس آجاؤں گی”ان کے بتانے پر وہ سر ہلاتی زارون کے ہمراہ اسکے روم میں آگئی۔تھوڑی ہی دیر میں وہ دونوں کمفرٹیبل انداز میں بیٹھے ڈرائنگ کر رہے تھے۔۔
“زارون۔۔۔” مردانہ آواز پر عمائم نے چونک کر دروازے کی جانب دیکھا۔دروازہ کھلا اور ضوریز کا چہرہ نمودار ہوا تھا ۔۔نگاہوں کے تصادم پر ضوریز ٹھٹک کر رکا۔۔۔”آپ ۔۔ آپ یہاں کیا کر رہی ہیں؟””آپ یہاں کیا کر رہے ہیں یہ سوال تو مجھے آپ سے پوچھنا چاہیے””میں آپ کو جواب دہ نہیں ہوں آئی سمجھ ” عمائم کے پوچھنے پر اس نے تڑخ کر جواب دیا۔”تو میں بھی آپ کو جواب دہ نہیں ہوں مسٹر” سینے پر ہاتھ باندھے اس نے ناگواری سے ضوریز کو دیکھا۔”میرے ہی گھر میں کھڑی ہیں جواب تو دینا ہوگا آپ کو””آپ کے گھر؟” اب کے چونکنے کی باری عمائم کی تھی۔۔”بابا۔۔۔ آپ عمائم سے ایسے بات مت کریں ” زارون کی پکار پر عمائم کی آنکھیں پھیلیں۔شاکڈ سے پھیلی آنکھوں سے اس نے پہلے ضوریز کو دیکھا اور پھر زارون کو جو اب اپنے باپ کی گود میں چڑھ رہا تھا۔۔”عمائم؟””بابا شی از مائے ٹیوٹر آئی لائک ہر ویری مچ” آنکھیں پٹپٹاتے اس نے اپنے طریقے اسے ضوریز کو وارن کیا تھا کہ اسے کچھ نا کہا جائے۔۔گہرا سانس بھرتے ضوریز نے عمائم کو دیکھا اور پھر سر جھٹکتے وہ زارون کی جانب متوجہ ہو گیا۔۔عمائم نے بہت ضبط کے ساتھ اس شخص کو اپنے سامنے دیکھا تھا ہر بار کی طرح اس ملاقات میں بھی کوئی خوشگواریت نہیں تھی۔۔”آپ میرے ساتھ آئیں” زارون کو اتارتا وہ اسکے کہتا بنا اسکا انتظار کئے باہر بڑھ گیا۔اسکے اس اٹیٹیوڈ پر عمائم کھول کر رہ گئی مگر وہ یہاں نوکری کر رہی تھی اس لئے ضوریز کی بات ماننا بھی ضروری تھا اس لئے وہ خاموشی سے باہر آگئی۔۔”جی کہیے؟””کیا مقصد ہے آپ کا مس عمائم ؟ “”کیا مطلب میں سمجھی نہیں کیا کہنا چاہتے ہیں آپ ؟””میں نے بہت صاف انداز میں کہا ہے پہلے میرے آفس اب میرے گھر کس مقصد کے تحت آئی ہیں آپ اس گھر میں “؟ اسکی بات پر عمائم کا منہ کھلا تھا وہ اسے سمجھ کیا رہا تھا؟””دیکھیں مسٹر میرا آپ سے کوئی مقصد نہیں یہاں میں کومل آپی کی وجہ سے آئی ہوں مجھے تو پتا بھی نہیں تھا اور اگر پتا ہوتا تو کبھی یہاں جاب نا کرتی “”اوو رئیلی۔۔۔؟””جی ہاں “”تو اب پتا چل گیا ہے نا تو اب آپ چھوڑ دیں یہ جاب ؟”وہ اسے نوکری سے نکال رہا تھا عمائم نے حیرت سے اسے دیکھا۔۔”اور ایسا میں کیوں کروں؟””کیونکہ یہ میرا گھر ہے اور میں آپ کو جاب چھوڑنے کے لئے کہہ رہا ہوں””ٹھیک ہے آنٹی ابھی آتی ہونگی ان کے سامنے بات کرینگے اب”اسے کہتے وہ اسکے پہلو سے نکلی تھی جب گھبراتے ضوریز نے اسکا بازو تھام اسے روکا۔۔”ہاتھ چھوڑیں میرا کیا بدتمیزی ہے ؟””امی کے سامنے آپ “”میں سب کہوں گیں۔۔ یہ آپ مجھے اس گھر سے نکال رہے ہیں اور میں واقعی جا رہی ہوں” ایک جھٹکے سے اپنا ہاتھ اسکی گرفت سے نکالتے وہ غصے سے باہر نکلی تھی۔”عمائم۔۔۔ بیٹا کہاں جا رہی ہیں؟”اندر آتی شائستہ بیگم نے حیرت سے اسے دیکھا۔”آپ کے بیٹے نے مجھے نوکری سے نکال دیا ہے آنٹی””کیا ؟ تم کہیں نہیں جا رہی ہو میرے ساتھ آؤ یہ کیا دماغ خراب ہوگیا ہے ضوریز کا” اسکا ہاتھ تھامے وہ اسکے ناچاہنے کے باوجود اسے لئے اندر بڑھی تھیں۔۔۔____________”یہ کیا بدتمیزی ہے چھوڑو مجھے ” بری طرح چلاتے وہ خود کو ان عورتوں کی گرفت سے آزاد کروانے کی کوشش کر رہی تھی جو کانوں کو لپیٹے بہری بنی ہوئی تھیں۔۔”چھوڑو میرا ہاتھ ۔۔۔ جانے دو مجھے” بنا اسکی کوئی بھی بات سنے وہ دونوں اسے زبردستی تھامے اس کمرے تک لائیں نور کو کمرے میں دھکیلتے انہوں نے پیچھے سے دروازہ لاک کیا تھا۔”دروازہ کھولو ۔۔۔ کوئی ہے سنو۔۔۔ دروازہ کھولو” وہ پاگلوں کی طرح دروازہ پیٹ رہی تھی اسکے ہاتھ سرخ ہوگئے تھے مگر وہاں اسکی سننے والا کوئی نہیں تھا اس کمرے میں سوائے بیڈ اور ایک اٹیچڈ باتھ کے ایسا کوئی دروازہ یا کھڑکی نہیں تھی جہاں وہ فرار ہو سکتی۔۔”یا اللہ میری مدد کریں” بیڈ پر بیٹھتے اس نے اپنا سر ہاتھوں میں گرایا۔۔وہ رونا نہیں چاہتی تھی اسے کمزور نہیں پڑنا تھا۔۔”جازب شاہ یہ ہے تمہاری مردانگی چھپ کر پیٹھ پیچھے وار کرتے ہو ہمت ہے تو سامنے آؤ” وہ ایکدم غصے سے چلائی تھی بیڈ پر پڑے کشن اور چادر اس نے غصے سے زمین بوس کئے تھے۔۔۔فرار کی کوئی راہ نہیں تھی تھک کر وہ بیڈ پر بیٹھی تھی۔۔بے دردی سے لب کچلتے اس نے خود کو رونے سے باز رکھا تھا۔۔کلک کی آواز کے ساتھ دروازہ کھلا تھا نور نے جھٹکے سے سر اٹھا کر دروازے کی جانب دیکھا۔۔جہاں جازب شاہ اپنی بھرپور شاندار پرسنالٹی کے ساتھ اسکے سامنے کھڑے تھے۔۔۔”تم۔۔۔ تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھے زبردستی یہاں بلانے کی ” وہ چیل کی طرح اس پر جھپٹی تھی اس سے پہلے وہ اسکا گریبان پکڑتی جازب شاہ نے اسکے دونوں ہاتھوں کو سختی سے اپنی گرفت میں لیتے اسکی کمر سے لگاتے ایک جھٹکے سے اسے اپنے قریب کیا تھا۔۔۔اس انتہا کی قربت پر نورے اپنا سانس تک روک گئی۔”میں نے کہا تھا نا مجھے مجبور نا کریں ؟” جازب شاہ کی نگاہیں اسکے چہرے کا طواف کررہی تھیں اور یہ نظریں نورے کو مضطرب کرنے کا باعث بنی تھیں ۔۔”چھوڑو مجھے ۔۔ میں نے کہا چھوڑو مجھے” اسکی گرفت میں مچلتے وہ غرائی۔۔جاذب شاہ کے چہرے پر مسکراہٹ کھلی تھی۔”کیا میری مردانگی کا ثبوت نہیں دیکھنا چاہیں گیں؟” اسے مزید اپنے قریب کرتا وہ اسے سانس روکنے پر مجبور کر گیا۔جازب کی سلگتی سانسیں وہ اپنے چہرے پر پڑتی محسوس کر رہی تھی۔”میں نے کہا تھا نا مجھے اپنی کرنے پر مجبور نا کرنا کیوں ایک بات سمجھ نہیں آتی نور فاطمہ ؟””دور ہوکر بات کریں مجھ سے “رخ موڑے وہ بمشکل بولی تھی۔زندگی میں پہلی بار وہ کسی مرد کے قریب آئی تھی اتنی سی قربت نے ہی اسکا چہرہ لال سرخ کیا تھا۔۔”یہ قربت تو ابھی کچھ بھی نہیں ہے اتنی سی پر بس ہوگئی آپ کی؟” اسکے چہرے پر پھونک مارتا وہ زومعنی لہجے میں کہتا نورے کو مٹھیاں بھینچنے پر مجبور کرگیا تھا۔۔ایک نظر اسکے چہرے کو دیکھتے جاذب نے اسے ایک جھٹکے سے خود سے دور کیا تھا۔۔”مجھے جانے دو پلیز””بیٹھو سامنے” اسکا انداز اتنا قطعی تھا کہ نورے بنا کچھ بھی کہے خاموشی سے بیڈ کی پائیتی پر ٹکی۔۔اپنی فتح پر مسکراتے جاذب نے دیوار سب ٹیک لگاتے سینے پر ہاتھ باندھے۔۔”مجھے کیوں بلایا ہے کیا صرف میری شکل دیکھنے کے لئے بلایا ہے؟” اسکے مسلسل دیکھنے پر وہ تڑخ کر بولی تھی یہ شخص اب اسکے حواس جھنجھلا رہا تھا۔۔”اپنی بیوی کو صرف شکل دیکھنے کے لئے نہیں بلایا بلکہ” وہ پراسرار سا مسکرایا تھا جبکہ بیوی لفظ پر نور نے جھٹکے سے اسے دیکھا تھا۔جاری ہے