• 📚 لوو اسٹوری فورم ممبرشپ

    بنیادی ڈیل

    وی آئی پی

    5000
    تین ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    وی آئی پی پلس

    8000
    چھ ماہ کے لیے
    ٹاپ پیکیج
    👑

    پریمیم

    20000
    چھ ماہ کے لیے

Life Story راہِ ۔۔۔۔۔زندگی

رات کے نو بج رہے تھے وہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا ہوا کار ڈرائیو کر رہا تھا۔ اس کی کار کے پیچھے گارڈز کی گاڑیاں تھیں۔ وہ سکھر شہر کے لیے روانہ ہوا تھا۔ اس کے موبائل کی رنگ ٹون بجی تو اس نے سیٹ سے موبائل اٹھا کر کال اٹینڈ کی یہ نمبر اس کے موبائل میں محفوظ تھا۔”ایس ایس پی فواد میر کیسے ہو؟ تم بھی کال کرکے مجھ سے خیریت پوچھ لیا کرو۔” اس طرف سے کہا گیا تو وہ مسکرانے لگا۔”تم سے کال کرکے پوچھتا ہوں تو تم غصہ کرتے ہو، اس لیے اب کال نہیں کرتا۔” فواد نے کار کو ٹرن کرتے ہوئے کہا تو وہ ہنسنے لگا۔”اچھا۔ تم باتیں ہی ایسے کرتے ہو مجھے غصہ آجاتا ہے، تم سکھر جا رہے ہو نا؟” اس نے بتا کر پوچھا تو فواد کو اس پر غصہ آیا۔”ایس ایچ او صاحب تمہیں کس نے بتایا؟” اس نے پوچھا تو وہ ہنسنے لگا۔”تم سے بات کرنے پولیس اسٹیشن گیا تھا وہاں سے پتا چلا تم سکھر کے لیے روانہ ہو گئے ہو۔” وہ اسے بتا کر خاموش ہو گیا۔”تم نے کیا بات کرنی تھی جو پولیس اسٹیشن چلے گئے تھے؟” فواد نے اس سے پوچھنا ضروری سمجھا۔”ابھی اس بات کو رہنے دو۔” اس نے فواد کی بات کو نظر انداز کیا تو اسے تجسس ہوا۔”میں سہیل انکل کو بتاؤں گا، تم اسمگلنگ کرتے ہو۔” فواد نے کہا تو اسے غصہ ہی آگیا۔”تم نے بابا کو بتایا تو میں بدلہ ضرور لوں گا، اس لیے بتانے کی کوشش بھی مت کرنا۔” اس نے دھمکی دیتے ہوئے کہا اور رابطہ منقطع کر دیا تو فواد نے موبائل کو سیٹ پر رکھا اور اپنی توجہ ڈرائیونگ پر مرکوز کر گیا۔




 
رات کے نو بج رہے تھے جب وہ گھر کے اندر داخل ہوئی اس نے تحریم بیگم کو کال کرکے بتا دیا تھا کسی نے اس کی کار کا ٹائر پنکچر کر دیا ہے اس لیے اسے گھر آنے میں دیر ہو جائے گی۔ وہ لاؤنج کے اندر داخل ہوئی وہ اس وقت تھک چکی تھی اس نے تحریم بیگم کو بتایا اور اپنے کمرے کی جانب بڑھی ہی تھی جب راحیل کی بات سن کر اس نے اپنے قدم روکے اور پلٹ کر اسے دیکھنے لگی جو غصے میں اسے دیکھ رہا تھا۔
“گھر واپس آنے کا یہ وقت ہے؟” اس نے سوال پوچھا تو وہ پریشان ہو گئی۔
“میری جاب کا وقت چھ بجے تک تھا، کسی نے کار کا ٹائر پنکچر کر دیا تھا اس لیے گھر آنے میں دیر ہو گئی۔” کنزہ نے بتایا تو اس نے تحریم بیگم کی جانب دیکھا۔
“ماما۔ میں نے منع کیا تھا اسے کار کی چابی نہ دیں لیکن آپ نے میری بات نہیں مانی تھی روزانہ یہ دیر سے آتی ہے اگر ایسا رہا تو اسے گھر بٹھا دیں جاب کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔” اس نے تحریم بیگم سے کہا اور اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا جبکہ وہ کنزہ کی جانب دیکھنے لگیں جو پریشان کھڑی تھی۔
“کنزہ اپنے کمرے میں جاؤ۔” تحریم بیگم نے کہا تو اس کی سوچوں کا تسلسل ٹوٹا وہ اثبات میں سر ہلا کر اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی تو تحریم بیگم صوفے پر بیٹھ گئیں۔
 
صبح کا آغاز چڑیوں کی چہچہاہٹ سے ہوا۔ وہ سب ڈائیننگ ٹیبل کے گرد بیٹھے ہوئے ناشتہ کر رہے تھے جب ہارن کی آواز سن کر وہ مسکرانے لگے۔ وہ کب سے اس کا انتظار کر رہے تھے۔
حویلی کے سامنے گاڑیاں رکیں تو چوکیدار نے حویلی کا دروازہ کھولا۔ ڈرائیور نے گاڑی آگے بڑھائی اسے دیکھ کر پیچھے والے ڈرائیور نے بھی گاڑی چلائی اور حویلی کے اندر آکر گاڑی سائیڈ میں پارک کرکے باہر آکر پچھلی سیٹ کا دروازہ کھولا۔ وہ کالے رنگ کی شرٹ پر کالے ہی رنگ کی پینٹ زیب تن کئے، اس پر کوٹ پہنے، بالوں کو جیل سے سیٹ کئے، ہاتھ میں ورسٹ واٹچ پہنے۔ وہ گاڑی سے باہر آیا اور حویلی کی جانب بڑھ گیا جبکہ اس کے آدمی وہاں کھڑے ہو کر باتیں کرنے لگے۔
“السلام عليكم!” اس نے اندر داخل ہو کر سلام کیا۔ حویلی میں اس وقت گہری خاموشی تھی جبکہ وہ تینوں ڈائیننگ ٹیبل کے گرد بیٹھے ہوئے تھے۔
“وعليكم السلام!” ان سب نے جواب دیا تو وہ ان سے ملا۔
“کیسے ہو؟ وہاں جاکر تو ہمیں بھول ہی گئے تھے۔” سدرہ بیگم نے شکوہ کیا تو وہ مسکرانے لگا۔
“ماما ٹھیک ہوں، میں کیسے بھول سکتا ہوں۔” اس نے کہا اور صوفے پر بیٹھ گیا۔
“میں تمہارے لیے ناشتہ لے کر آتی ہوں، تم دیر سے آئے ہو میں کب سے تمہارا انتظار کر رہی تھی۔” انہوں نے کہا اور کچن کی جانب بڑھ گئیں جبکہ وہ فیصل صاحب کی جانب متوجہ ہوا وہ اسے الیکشن کے متعلق بتا رہے تھے۔
“مجھے تو تم بھول گئے ہو، نہ کال کرتے ہو اور نہ
ابھی مجھ سے باتیں کیں۔” عماد نے اس کی یاد دہانی کروائی تو وہ اسے گھور کر رہ گیا۔
“پولیس آفیسر فواد میر مجھے گھورنا بند کرو۔” اس کی بات سن کر اسے کنزہ کا خیال آیا وہ بھی اسے پولیس آفیسر کہتی تھی اس نے جھر جھری لی اور اس کی جانب متوجہ ہوا۔
“یونیورسٹی جاتے ہو؟” اس نے سوالیہ نگاہوں سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
“ہاں جاتا ہوں۔” اس نے بتایا۔
“کیا سوچا ہے سیاست جوائن کرو گے یا پولیس آفیسر بنو گے؟” فواد نے پرسوچ انداز میں پوچھا تو عماد نے اس کی طرف دیکھا۔
“پولیٹیکل سائنس پڑھ رہا ہوں، سیاست جوائن کروں گا۔” اس نے بتایا تو وہ اثبات میں سر ہلا گیا۔
فیصل صاحب، فواد سے بات کر رہے تھے جب ان کے موبائل کی رنگ ٹون بجی انہوں نے کال اٹینڈ کی۔
“کیا ہوا ہے؟” فیصل صاحب نے ناسمجھی سے پوچھا۔
“اجمل صاحب نے گاؤں کے آدمی کو بہت مارا ہے زمین کا مسئلہ تھا، وہ آدمی بہت پریشان ہے۔” آدمی نے ان کو بتایا۔
“میں اجمل کی حویلی جاکر اس سے بات کرتا ہوں۔” انہوں نے کہا اور رابطہ منقطع کر دیا جبکہ وہ سب ناسمجھی سے ان کی طرف دیکھنے لگے۔
“بابا۔ کیا ہوا ہے؟” فواد نے انھیں پریشان دیکھ کر پوچھا تو وہ اس کی جانب متوجہ ہوئے۔
“زمین کے مسئلے پر اجمل نے گاؤں کے آدمی کو بہت مارا ہے، میں حویلی جاکر اس سے بات کروں گا۔” انہوں نے بتایا اور صوفے سے اٹھ گئے۔
“بابا میں بھی آپ کے ساتھ چلتا ہوں۔” اس نے کہا۔
“ٹھیک ہے، تم ناشتہ کرو۔” انہوں نے کہا تو اس نے اثبات میں سر ہلایا۔ سدرہ بیگم نے لوازمات سے بھرا ٹرے ٹیبل پر رکھا تو اس نے چائے کا کپ اٹھایا اور ناشتہ کرنے لگا۔
 
صبح کے دس بج رہے تھے وہ ناشتہ کرنے کے بعد اپنے بیگ اٹھائے لاؤنج میں آئے وہ سب سکھر جانے کے لیے روانہ ہو رہے تھے وہ بہت خوش تھی۔
“تم نے آفس میں بتایا کہ آج سکھر جاؤ گی؟” ریاض صاحب نے پوچھا تو وہ ان کی جانب متوجہ ہوئی۔
“جی میں نے ایک ہفتے کی چھٹیاں لی ہیں۔” اس نے بتایا تو وہ اثبات میں سر ہلا گئے۔
“ٹھیک ہے تحریم اور تم کار میں بیٹھو، ہم گھر کو تالا لگا کر آتے ہیں۔” انہوں نے کہا تو وہ اپنا بیگ اٹھائے تحریم بیگم کے ساتھ باہری دروازے کی جانب بڑھ گئی۔
“وہ پیلے رنگ کا لباس زیب تن کئے، آنکھوں پر چشمہ پہنے، ہلکا میک اپ کئے کار میں جا بیٹھی تو تحریم بیگم نے بھی کار کا دروازہ کھولا اور بیک سیٹ پر بیٹھ گئیں۔ کچھ دیر بعد ریاض صاحب اور راحیل آئے تو انہوں نے بیگ رکھے ریاض صاحب فرنٹ سیٹ پر بیٹھے جبکہ راحیل ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا اور کار کو آگے بڑھا گیا۔


وہ ناشتہ کرنے کے بعد اجمل صاحب کی حویلی میں آئے تھے وہ باہر رکھی گئی کرسیوں پر براجمان تھے جب ریحان آیا تو اسے غصہ ہی آگیا اس نے کرسی سے اٹھ کر اسے کالر سے دبوچا اور اس کے چہرے پر تھپڑوں کی برسات شروع کر دی جواباً ریحان نے بھی اس کے چہرے پر مکا رسید کیا۔ اس نے اپنے آدمی سے گن لی اور اس کا رخ ریحان کی جانب کیا تو فیصل صاحب کو معاملے کی سنگینی کا احساس ہوا۔
“فواد گن نیچے رکھو۔” انہوں نے اسے روکنا چاہا۔
“تم نے اس آدمی کو کیوں مارا؟” اس نے ریحان سے دریافت کیا تو اس نے زور سے قہقہہ لگایا۔
“وہ اس آدمی اور میرا مسئلہ ہے، تم دخل اندازی مت کرو۔” ریحان نے اپنے ہونٹوں سے خون صاف کیا۔
“یہ تمہارا اور اس آدمی کا مسئلہ نہیں ہے، میں تھانے جاکر تم پر ایف آئی آر درج کرواؤں گا۔” فواد نے آگے بڑھ کر کہا تو اس کے آدمی راستے میں آئے اور اسے مارنے سے روکا۔
“ویسے تمہاری نوکری تو کراچی میں ہے، کیا وہاں جاکر ایف آئی آر درج کرواؤ گے؟ میں تو کہتا ہوں اپنا ٹرانسفر سکھر میں کرواؤ پھر جب دل چاہے مجھ پر ایف آئی آر درج کرواتے رہنا۔” ریحان نے ہنستے ہوئے کہا تو اس نے غصے میں اپنے ہاتھ کی مٹھی کو بھینچا۔
“اب اگر تم نے گاؤں کے کسی بھی آدمی پر ہاتھ اٹھایا تو پھر جیل میں بیٹھ کر چکی پیستے رہنا۔” فواد نے غصے میں کہا اور فیصل صاحب کے ساتھ وہاں سے چلا گیا جبکہ ریحان نے اپنے موبائل میں نمبر ڈائل کیا اور کال پر بات کرتا ہوا حویلی کے اندر چلا گیا اجمل صاحب نفی میں سر ہلاتے ہوئے صوفے پر بیٹھ گئے۔
 
وہ پولیس اسٹیشن میں بیٹھا ہوا موبائل استعمال کرنے میں مصروف تھا اس نے وردہ کا نمبر ڈائل کیا تو کچھ دیر بعد کال اٹینڈ کی گئی۔
“السلام عليكم!” اس نے سلام کیا۔
“وعليكم السلام!” اس طرف سے جواب دیا گیا۔
“کزن صاحبہ کیسی ہو؟” اس نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
“ٹھیک ہوں، تم بتاؤ کیسے ہو؟” اس نے جواب دینے کے بعد پوچھا۔
“میں ٹھیک ہوں، مجھے تم سے کچھ پوچھنا ہے۔” اس نے کہا تو وہ حیرانی سے موبائل کو دیکھنے لگی وہ اتنی سنجیدگی سے بات کر رہا تھا۔
“ہاں پوچھو۔” اس نے کہا۔
“اس دن جو لڑکیاں تمہارے ساتھ تھیں وہ کون تھیں؟” اس نے دریافت کیا۔
“وہ میری دوستیں تھیں، کیوں؟” اس نے بتاکر ناسمجھی سے پوچھا۔
“کیا تم مجھے اپنی دوست کا نمبر دو گی؟” اس نے کچھ دیر کی توقف کے بعد پوچھا تو وہ گہری سوچ میں مبتلا ہو گئی۔
“پولیس آفیسر رضوان میں ابھی کال کرکے چاچو کو بتاتی ہوں یہ مجھ سے میری دوست کا نمبر مانگ رہا ہے۔” اس نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا تو وہ گڑبڑا گیا۔
“وردہ تم بابا کو کال نہیں کرو گی۔” اس نے گڑبڑاتے ہوئے کہا تو وہ مسکرانے لگی۔
“میں ماما بابا، چاچو چاچی سب کو بتاؤں گی۔” اس نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا اور کال کاٹ دی جبکہ وہ دوبارہ سے اس کے نمبر پر کال کرنے لگا وہ اب اس کی کال نہیں اٹھا رہی تھی۔
“کال اٹھاؤ۔” اس نے میسج لکھ کر سینڈ کیا۔
“نہیں” کچھ دیر بعد رپلائی آیا تو اس نے ٹیبل پر موبائل رکھا اور کانسٹیبل کو بلایا جو اسے آج کی رپورٹس کے بارے میں آگاھ کرنے لگا تھا۔
 
وہ اپنے کمرے میں بیٹھی ہوئی تھی صبح سے اس کے سر میں درد تھا اس نے آرام کرنے کی غرض سے بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا لی تبھی اس کے موبائل کی رنگ ٹون بجنے لگی اس نے بیڈ کے کونے سے موبائل اٹھایا اور نمبر دیکھا وردہ کا نام سکرین پر جگمگا رہا تھا اس نے کال اٹینڈ کی تو اس نے اپنی عادت کے مطابق بولنا شروع کیا۔
“کیا کر رہی ہو؟” اس نے پوچھا تو وہ نا چاہتے ہوئے بھی مسکرانے لگی۔
“تم سے بات کر رہی ہوں۔” اس نے مسکراہٹ کو روکا اور اسے جواب دیا تو اس نے منہ بسورا۔
“کیا تمہیں کنزہ نے بتایا کہ وہ آج سکھر کے لیے روانہ ہو گئے ہیں؟” اس نے ناسمجھی سے پوچھا۔
“میں نے اس سے پوچھا ہی نہیں۔” اس نے بتایا۔
“ہم بھی اس کے ساتھ جاتے۔” وردہ نے اداس لہجے میں کہا۔
“تمہیں بس گھومنا ہے کیا؟” سارہ نے پوچھا تو وہ مسکرانے لگی۔
“تم بھی میرے ساتھ گھومنے چلا کرو، جب دیکھو کالج کے پیپرز چیک کرنے میں مصروف ہوتی ہو۔” وردہ نے کہا تو اس نے نفی میں سر ہلایا۔
“اچھا تم گھر آنا ماما تمہیں یاد کر رہی تھیں۔” سارہ نے یاد آنے پر بتایا تو وہ خوش ہو گئی۔
“تم میرے لیے بریانی بناؤ گی کیا؟” اس نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
“اچھا تو اب فرمائشی پروگرام شروع ہو گیا ہے۔” سارہ نے مسکراتے ہوئے کہا تو اس نے موبائل کو گھورا۔
“ہاں” اس نے کہا تو سارہ نے کچھ دیر اس سے بات کرکے رابطہ منقطع کر دیا اور کھانا بنانے کی غرض سے کچن میں چلی گئی۔


وہ جب سے اجمل حویلی سے آیا تھا اسے ریحان پر شدید غصہ تھا اس نے ریحان کے خلاف ایف آئی آر درج کروائی تھی۔ وہ صوفے پر بیٹھا ہوا تھا جب فیصل صاحب نے اسے بلایا تو وہ ان کی جانب متوجہ ہوا۔
“تم تسلی رکھو، میں اجمل سے بات کروں گا۔” انہوں نے اسے غصے میں دیکھ کر کہا۔
“بابا ان سے بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے، ریحان کبھی سدھر ہی نہیں سکتا۔” اس نے گہرا سانس ہوا کے سپرد کیا تو وہ گہری سوچ میں مبتلا ہو گئے۔
“مجھے کام کے سلسلے سے شہر سے باہر جانا ہے، تم ہوشیار رہنا۔” فیصل صاحب نے صوفے سے اٹھتے ہوئے کہا تو اس نے اثبات میں سر ہلایا اور موبائل میں میسج لکھ کر سینڈ کیا کچھ دیر بعد اسے رپلائی موصول ہوا تو اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آگئی تبھی سدرہ بیگم لاؤنج میں آئیں تو اس نے موبائل کو ٹیبل پر رکھا۔
“آج اجمل حویلی میں مہمان آرہے ہیں، مجھے ملازمہ نے بتایا تمہیں پتا چلا کیا؟” سدرہ بیگم نے دریافت کیا۔
“ماما کون سے مہمان آرہے ہیں؟” اس نے تجسس کے سبب پوچھا۔
“اجمل کا بھائی کراچی شفٹ ہو گیا تھا کافی عرصے بعد ان سے ملنے آرہا ہے، مجھے اس کے بچے بہت اچھے لگتے تھے۔” انہوں نے بتایا تو وہ ناسمجھی سے انھیں دیکھنے لگا۔
“ماما آپ ریاض صاحب کی بات کر رہی ہیں؟” اس نے یاد آنے پر پوچھا تو انہوں نے اثبات میں سر ہلایا۔
“ہاں تحریم میرے ساتھ کالج پڑھتی تھی شادی کے بعد اس سے میرا رابطہ ہی نہیں ہوا، اس کے بچے مجھے شاپنگ مال میں ملے تھے تب چھوٹے تھے اس کے بعد وہ کراچی شفٹ ہو گئے تھے۔” سدرہ بیگم نے بتایا تو وہ گہری سوچ میں مبتلا ہو گیا۔
“وہ اجمل صاحب اور ریحان کی حرکتوں کی وجہ سے ہی کراچی شفٹ ہوئے ہوں گے۔” فواد نے پرسوچ انداز میں کہا تو وہ اس کی جانب متوجہ ہوئیں۔
“ہاں” انہوں نے اثبات میں سر ہلایا۔
“ماما مجھے کچھ کام ہے، میں رات تک واپس آجاؤں گا۔” اس نے کہا اور صوفے سے اٹھ گیا۔
“ٹھیک ہے۔” سدرہ بیگم نے کہا تو وہ باہری دروازے کی جانب بڑھ گیا۔
 
شام کے چھ بج رہے تھے جب انہوں نے کار کو حویلی کے سامنے روکا ریاض صاحب باہر نکلے تو راحیل بھی کار سے باہر آیا۔ وہ کئی سالوں بعد سکھر آئے تھے تو اردگرد دیکھنے لگے حویلی کے دروازے پر سیکیورٹی گارڈ کھڑے تھے تحریم بیگم اور کنزہ بھی کار سے نکل کر باہر آئیں تو ریاض صاحب نے موبائل میں نمبر ڈائل کیا کچھ دیر بعد کال اٹینڈ کی گئی تو انہوں نے بات کرکے کال کاٹ دی پانچ منٹ بعد اجمل صاحب اور ان کی بیوی مسکراتی ہوئیں باہر آئیں تو ریاض صاحب، اجمل صاحب سے ملے۔
“السلام عليكم!” راحیل اور کنزہ نے ان کو سلام کیا تو وہ ان کی جانب متوجہ ہوئے۔
“وعليكم السلام!” انہوں نے جواب دیا۔
“راحیل کیسے ہو؟” اجمل صاحب نے اس سے ملتے ہوئے پوچھا۔
“تایا ابو میں ٹھیک ہوں، آپ کیسے ہیں؟” اس نے ہلکی مسکراہٹ لبوں پر سجائی اور جواب دینے کے بعد ان سے بھی دریافت کیا۔
“میں ٹھیک ہوں، آپ سب حویلی کے اندر چلیں، اور تم ادھر آؤ کار کو حویلی میں پارک کرو۔” اجمل صاحب نے ان سے کہنے کے بعد اپنے آدمی کو بلا کر کہا تو وہ ان کی جانب آیا راحیل نے اسے کار کی چابی دی اور اجمل صاحب کے ساتھ حویلی کے اندر چلا گیا۔
وہ جیسے ہی مین گیٹ سے اندر آئے اردگرد دیکھنے لگے بڑا سا ہال نما لان تھا جہاں ایک طرف گارڈن تھا جبکہ دوسری جانب گاڑیوں کے لیے پارکنگ ایئریا بنا ہوا تھا جہاں گاڑیاں کھڑیں تھیں بیچ میں حویلی تھی وہ جیسے ہی اندر داخل ہوئے اندر گہما گہمی تھی بڑا سا لاؤنج تھا جہاں بیچ میں صوفے رکھے گئے تھے سامنے ہی کمرے بنے ہوئے تھے ایک سائیڈ پر کچن بنا ہوا تھا جبکہ دوسری طرف سیڑھیاں تھیں لاؤنج کو سجایا گیا تھا وہ صوفے پر آکر بیٹھے تو ملازمہ نے ان کو پانی کا گلاس دیا اسے گاؤں کا ماحول بہت پسند تھا ریاض صاحب باتوں میں مشغول ہو گئے تو وہ اٹھ کر اردگرد دیکھنے لگی۔
“کیسی ہو کنزہ؟” لڑکی کی آواز پر وہ اس کی جانب متوجہ ہوئی جو مسکرا کر اسے دیکھ رہی تھی۔
“میں ٹھیک ہوں، آپ کیسی ہیں؟” کنزہ نے جواب دے کر مسکراتے ہوئے پوچھا۔
“میں بھی ٹھیک ہوں۔” اس نے جواب دیا۔
“آؤ میں تمہیں کمرہ دکھاتی ہوں۔” ہانیہ نے کہا اور سیڑھیوں کی جانب بڑھ گئی تو وہ بھی اس کے ساتھ چلنے لگی۔
“کون ہو تم؟” وہ موبائل ہاتھ میں لیے اردگرد دیکھ رہی تھی جب مردانہ آواز سن کر اس نے اپنے قدم سیڑھیوں پر روکے وہ اسے گھور رہا تھا اس نے ناسمجھی سے ہانیہ کی جانب دیکھا جو ان دونوں کی طرف ہی دیکھ رہی تھی۔
“کنزہ ریاض ہوں، کراچی سے آئی ہوں۔” اس نے بتایا تو اس نے غور سے اسے دیکھا گوری رنگت، ہلکا میک اپ کئے، پیلے رنگ کا لباس زیب تن کئے وہ اسے خوبصورت لگی۔ وہ ہانیہ کے بلانے پر آگے بڑھ گئی جبکہ وہ اپنے خیالات کو جھٹکتا ہوا اردگرد دیکھنے لگا لاؤنج میں ریاض صاحب کی فیمیلی بیٹھی ہوئی تھی۔
“تم نے مجھے نظرانداز کیا۔” وہ زیرِ لب بڑبڑایا تھا اور کچھ دیر وہاں کھڑے رہنے کے بعد لاؤنج کی جانب بڑھ گیا۔

“سر میں نے کچھ نہیں کیا، مجھے پیسوں کی ضرورت تھی میں اس آدمی کو اپنے ساتھ اس کی حویلی لے گیا تھا میں نے اس آدمی کو نہیں مارا۔” اس آدمی نے روتے ہوئے بتایا۔
“اگر پیسوں کی ضرورت تھی تو کما لیتے، ان کاموں میں پڑنے کی کیا ضرورت ہے۔” اس نے صوفے سے اٹھتے ہوئے کہا تو وہ اردگرد دیکھنے لگا اس کے آدمی اسے چڑانے والی نظروں سے دیکھ رہے تھے اسے شرمندگی ہونے لگی۔
“سر میں نوکری کروں گا، آپ مجھے یہاں سے جانے دیں۔” اس نے منت بھرے انداز میں کہا تو اس نے اپنے آدمی کو بلا کر اسے باہر چھوڑنے کا کہا اور خود گھڑی میں ٹائم دیکھتا ہوا باہری دروازے کی جانب بڑھ گیا۔


اس نے کمرے میں آکر ملازمہ سے اپنا بیگ منگوایا اور خود آرام کرنے کی غرض سے سو گئی تھی شام کے سات بج رہے تھے جب وہ نیند سے بیدار ہوئی۔ وہ بیڈ سے اٹھ کر منہ دھو کر آئی اور ہلکی گلابی رنگ کی لپ گلوز لگا کر کمرے سے باہر آئی۔ اس نے سیڑھیوں سے اترتے ہوئے نیچے دیکھا سب ڈائیننگ ٹیبل کے گرد بیٹھے ہوئے کھانا کھانے میں مصروف تھے وہ سیڑھیوں سے اتر کر نیچے آئی تو ہانیہ نے اسے بلایا وہ رک کر اسے دیکھنے لگی۔ ہانیہ نے اسے ڈائیننگ ٹیبل کی طرف چلنے کا کہا تو اس نے اپنے قدم آگے بڑھائے اور کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گئی۔ وہ اپنے اوپر کسی کی نظروں کو اچھی طرح محسوس کر رہی تھی اس نے بریانی کی پلیٹ آگے کی اور سامنے دیکھا تو اسے غصہ ہی آگیا وہ اسے دیکھ رہا تھا کنزہ نے اسے گھورا تو اس نے اپنی نظریں کھانے کی طرف کیں۔
“راحیل تم کھانا کھا کر ریحان کے ساتھ جانا وہ تمہیں گاؤں دکھائے گا۔” اجمل صاحب کی بات سن کر وہ ان کی جانب متوجہ ہوا۔
“ٹھیک ہے۔” اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔
“تایا ابو میں بھی جاؤں؟” کنزہ نے سوالیہ نگاہوں سے دیکھتے ہوئے پوچھا تو وہ خاموش رہے۔ گاؤں میں لڑکیاں زیادہ تر باہر نہیں جاتی تھیں۔
“ریاض سے پوچھ لو، اگر وہ اجازت دے تو چلی جانا۔” انہوں نے کچھ دیر کی توقف کے بعد کہا تو وہ ان کی جانب دیکھنے لگی۔
“ٹھیک ہے، راحیل کے ساتھ چلی جانا۔” ریاض صاحب نے کہا تو اس نے اثبات میں سر ہلایا اور ہانیہ کی جانب دیکھنے لگی جو کھانا کھا رہی تھی۔
“آپ چلیں گی؟” اس نے دریافت کیا۔
“نہیں تم چلی جاؤ۔” اس نے مسکرانے کی سعی کی اور کرسی سے اٹھ کر برتن سمیٹنے لگی جبکہ وہ ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی اچانک وہ اداس کیوں ہو گئی تھی اس نے بعد میں پوچھنے کا سوچا اور راحیل کے بلانے پر اپنا موبائل اٹھا کر کھڑی ہو گئی وہ جیسے ہی باہری دروازے کی جانب بڑھے وہ بھی ان کے پیچھے چلی گئی۔
باہر آکر ریحان ڈرائیونگ سیٹ پر جبکہ راحیل فرنٹ سیٹ پر بیٹھا تو اس نے بیک سیٹ کا دروازہ کھولا اور بیٹھ گئی تو ریحان نے گاڑی کو اسٹارٹ کیا اور اپنی توجہ ڈرائیونگ پر مرکوز کر گیا۔ وہ باہر کے مناظر دیکھنے لگی پانچ منٹ کی مسافت کے بعد اس نے کار کو روکا اور باہر نکل آیا جبکہ وہ ناسمجھی سے سامنے دیکھنے لگی جہاں ہریالی ہی ہریالی تھی اس سے تھوڑا آگے ہی گھر بنے ہوئے تھے۔
“کنزہ باہر آؤ۔” راحیل نے کہا تو وہ کار سے باہر آئی۔
ریحان نے راحیل کو بلایا اور اسے وہاں کے بارے میں بتانے لگا جبکہ وہ ناسمجھی سے انھیں دیکھنے لگی۔
“مجھے آنا ہی نہیں چاہیے تھا۔” کنزہ نے ان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تو وہ اس کی جانب دیکھنے لگے۔
“ہم نے تو نہیں کہا تھا آؤ، خود ہی آگئی ہو۔” ریحان نے کہا تو اسے غصہ ہی آگیا۔
“تمہیں کوئی مسئلہ ہے کیا؟” اس نے لفظوں کو چباتے ہوئے پوچھا تو اس نے گہری مسکراہٹ سے اسے دیکھا۔
“تمہیں کیا لگتا ہے؟” اس نے چڑانے کی غرض سے پوچھا اور وہ چڑ بھی گئی اس سے قبل کہ وہ جواب دیتی ہارن کی آواز پر وہ سامنے دیکھنے لگی جہاں سفید رنگ کی کار کھڑی تھی اس کے پیچھے دو کالے رنگ کی گاڑیں تھیں وہ راستے میں کھڑی تھی تبھی ہارن بجایا گیا تھا۔ وہ جو بیک سیٹ پر بیٹھا ہوا تھا ڈرائیور نے جیسے ہی کار روکی سامنے کی جانب دیکھنے لگا تبھی وہ لڑکی ہارن کی آواز پر پلٹی اسے دیکھ کر کئی باتیں اس کے ذہن میں گردش کرنے لگیں اسے پہچاننے میں اسے چند سیکنڈز لگے تھے۔
“یہ لڑکی یہاں کیا کر رہی ہے؟” وہ زیرِ لب بڑبڑایا تو ڈرائیور نے اس کی طرف دیکھا۔
“سر یہ اجمل صاحب کی بھتیجی ہے، آج کراچی سے آئے ہیں۔” ڈرائیور نے بتایا تو اس نے سامنے کی جانب دیکھا جہاں وہ لڑکی ریحان سے بات کر رہی تھی۔
“اس نے ریحان کے کہنے پر وہ نیوز چینل پر چلائی تھی؟” مختلف قسم کی سوچوں نے اسے اپنے گھیرے میں لیا تھا ڈرائیور کار کو آگے بڑھا گیا تھا جبکہ وہ اپنے ہی خیالوں میں گم تھا۔
“راحیل میں بازار جاؤں؟” اس نے ریحان کو نظرانداز کرتے ہوئے پوچھا۔
“نہیں کل آئیں گے، ابھی تم کار میں جا کر بیٹھو کافی وقت ہو گیا ہے۔” اس نے کہا تو وہ ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی شاید ریحان کا بات کرنے کا طریقہ اسے برا لگا تھا تبھی اس نے کہا تھا جبکہ اس نے اثبات میں سر ہلایا اور بیک سیٹ پر جاکر بیٹھی۔
“تمہیں کیا ہوا ہے؟” ریحان نے اسے سنجیدہ دیکھ کر پوچھا۔
“کچھ نہیں ہوا۔” اس نے جواب دیا اور کار کی فرنٹ سیٹ پر جا بیٹھا جبکہ وہ کندھے اچکاتا ہوا ڈرائیونگ سیٹ پر جا بیٹھا اور ان دونوں کی جانب دیکھا کنزہ موبائل استعمال کر رہی تھی جبکہ راحیل ناجانے کیوں سنجیدگی سے بیٹھا ہوا تھا اس نے ڈرائیونگ اسٹارٹ کی اور کار کو حویلی کے راستے پر بڑھا گیا۔
 

وہ حویلی آیا تو سدرہ بیگم اور عماد لاؤنج میں بیٹھے ہوئے تھے وہ کچھ دیر ان کے ساتھ وہاں بیٹھا رہا اور پھر اپنے کمرے میں چلا گیا اس نے کمرے میں آکر موبائل کو ٹیبل پر رکھا اور صوفے پر جا بیٹھا اسے کنزہ کو یہاں دیکھ کر حیرانی ہوئی تھی۔
“مس اینکر کنزہ ریاض تو تم نے اجمل صاحب کے کہنے پر بابا کے متعلق خبر سنائی تھی؟” اس نے کہا اور موبائل میں اس کا نمبر تلاش کرنے لگا اس نے کال لسٹ میں جاکر دیکھا اسے نمبر ڈھونڈنے میں ٹائم لگا اس نے کنزہ کے نمبر پر کال ملائی مگر اس نے کاٹ دی اسے غصہ ہی آگیا۔
“کال اٹھائیں مس اینکر صاحبہ۔” اس نے میسج سینڈ کیا وہ جو کار میں بیٹھی ہوئی تھی اس نے میسج پڑھا اور رپلائی کرنے لگی۔
“آپ کون؟” اس نے میسج سینڈ کیا۔
“پولیس آفیسر فواد میر۔” جواب موصول ہوا۔
“میں گھر جاکر کال کروں گی، ابھی باہر ہوں۔” اس نے میسج لکھ کر سینڈ کیا اور موبائل کو پرس میں رکھا جبکہ اس کا میسج پڑھ کر فواد نے موبائل رکھا اور صوفے سے ٹیک لگا لی۔
وہ صوفے پر آنکھیں موندیں بیٹھا ہوا تھا جب اس کے موبائل کی رنگ ٹون بجی اس نے ٹیبل سے موبائل اٹھایا اور نمبر دیکھا وہ اسی کا انتظار کر رہا تھا اس نے کال اٹینڈ کی اور اس کی بات سننے لگا۔
“کال کیوں کی تھی؟” کنزہ نے ناسمجھی سے پوچھا وہ کشمکش میں مبتلا تھی کہ اس نے کال کیوں کی ہے تبھی اس سے پوچھنے لگی۔
“تم اس وقت کہاں ہو؟” اس نے کنزہ کے سوال کو نظرانداز کرتے ہوئے پوچھا تو وہ غصے میں سلگ اٹھی۔
“تم سے مطلب؟” اس نے لفظوں کو چباتے ہوئے پوچھا۔
“جواب دو، تم اس وقت کہاں ہو؟” اس نے دبی ہوئی آواز میں پوچھا تو فون کی اس طرف خاموشی چھا گئی۔
“میں سکھر آئی ہوں۔” اس نے اپنے اردگرد دیکھتے ہوئے جواب دیا تو اس کے جواب دینے پر اسے ناجانے کیوں خوشی محسوس ہوئی مگر اگلے ہی پل اسے غصہ آگیا۔
“ریحان تمہارا کیا لگتا ہے؟” اس نے غصے میں دریافت کیا تو وہ ناسمجھی سے موبائل کو دیکھنے لگی۔
“تمہارا مسئلہ کیا ہے؟” کنزہ نے چلاتے ہوئے پوچھا جسے وہ سراسر نظرانداز کر گیا۔
“میں نے کچھ پوچھا ہے؟” اس نے پھر سے کہا۔
“وہ میرا کزن ہے۔” اس نے بتایا۔
“اچھا۔ تو اس کے کہنے پر تم نے بابا کے متعلق نیوز پڑھی تھی؟” اس نے دریافت کیا جبکہ اسے سمجھ نہیں آئی وہ کیوں ایسے پوچھ رہا ہے۔
“میں نے تمہیں بتایا تھا وہ خبر رپورٹر نے ریکارڈ کروائی تھی اور جیسے ہی ہم تک پہنچی میں نے وہ خبر پڑھی۔” کنزہ نے اسے بتایا جبکہ وہ گہری سوچ میں مبتلا ہو گیا۔
“فواد تم ریحان کو کیسے جانتے ہو؟” کنزہ کی آواز سن کر اس کی سوچوں کا تسلسل ٹوٹا تو وہ اس کی بات سننے لگا۔
“تم نے شاید میرا انٹرویو نہیں سنا، میں سکھر شہر سے تعلق رکھتا ہوں۔” اس نے بتایا۔
“تو کراچی میں کیا کرتے ہو؟” اس نے ناسمجھی سے پوچھا تو ناچاہتے ہوئے بھی اس کے چہرے پر مسکراہٹ در آئی جسے بروقت اس نے قابو کیا۔
“میں نے یونیورسٹی کی تعلیم کراچی سے حاصل کی تھی اب کراچی میں ہی جاب کر رہا ہوں۔” اس نے بتایا تو اسے سمجھ آئی۔
“میں سکھر شہر آئی ہوں، اور مجھے کچھ دیر قبل ہی تم نے بتایا تم سکھر شہر سے تعلق رکھتے ہو۔” وہ اسے بتانے لگی جبکہ اس کی بات سن کر وہ سوچنے لگا وہ کیوں اس سے نارملی بات کر رہی تھی۔
“اچھا۔” فواد نے سنجیدگی سے کہا۔
“جی۔” اس نے جواباً کہا اور کال کاٹ دی جبکہ وہ موبائل کو رکھ کر ڈریسنگ ٹیبل کی جانب بڑھ گیا اور اپنے بالوں کو جیل سے سیٹ کرنے لگا
اس کے دماغ میں مختلف قسم کی سوچیں چل رہی تھیں جنھیں جھٹکتا ہوا وہ کھانا کھانے کی غرض سے کمرے سے باہر چلا گیا۔


رات کے آٹھ بج رہے تھے وہ سب لاؤنج میں بیٹھے ہوئے چائے پی رہے تھے جب اس کے موبائل کی رنگ ٹون بجی تو وہ چائے کا کپ ٹیبل پر رکھ کر سائیڈ پر آیا اور کال اٹینڈ کرکے بات کرنے لگا اس طرف سے کوئی بات بتائی گئی تھی جسے سن کر اس کے لبوں پر مسکراہٹ آئی وہ جو لاؤنج میں کھڑی ہوئی تھی اسے مسکراتے ہوئے دیکھ کر اسے ناجانے کیوں خوشی محسوس ہونے لگی مگر اگلے ہی پل اس کے چہرے پر اداسی آگئی وہ اسے نظرانداز کر رہا تھا جبکہ وہ ناجانے کیوں اس کے بارے میں سوچتی تھی۔
“ہانیہ کیا ہوا؟” اسے سوچوں میں مصروف دیکھ کر کنزہ نے پوچھا تو وہ اس کی جانب متوجہ ہوئی اور نفی میں سر ہلانے لگی۔
“مجھے یہاں کی ویڈیوز بنانی ہیں تم کل میرے ساتھ باہر چلو گی؟” کنزہ نے اس سے پوچھا۔
“تم بابا سے پوچھ لینا، انہوں نے اجازت دی تو میں چلوں گی۔” ہانیہ نے کچھ دیر سوچنے کے بعد کہا تو وہ اثبات میں سر ہلا گئی۔
“ٹھیک ہے۔” اس نے کہا اور کمرے کی جانب بڑھ گئی جبکہ ہانیہ نے راحیل کی جانب دیکھا جو کال کاٹ کر اب صوفے کی جانب آیا اور بیٹھ گیا وہ کچھ دیر تو وہاں کھڑی رہی اس کے بعد کنزہ کے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔

وہ کمرے میں کب سے ٹہل رہی تھی جب دروازے کی آواز سن کر کمرے سے باہر آئی رضوان نے سلام کیا تو وجہیہ بیگم نے اسے جواب دیا اور اس سے بات کرنے لگی۔
“میں کب سے تمہیں کال کر رہی ہوں اور تم ابھی آئے ہو، تمہاری ڈیوٹی تو رات دس بجے ہے نا؟ پھر لیٹ کیوں آئے ہو؟” وردہ نے سوالیہ نگاہوں سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
“اسے بیٹھنے تو دو۔” وجہیہ بیگم نے اسے ٹوکا جبکہ رضوان صوفے پر بیٹھ گیا۔
“ضروری کام سے تھانے گیا تھا اس لیے دیر ہو گئی۔” رضوان نے بتایا۔
“میں تمہارے لیے چائے بنا کر آتی ہوں۔” وجہیہ بیگم نے کہا اور کچن میں جانے لگیں جب رضوان نے انھیں روکا۔
“چاچی میں وردہ کو اس کی دوست کے گھر چھوڑ کر آؤں، نہیں تو غصے میں یہ اور زیادہ کمزور ہو جائے گی۔” اس نے اپنی مسکراہٹ کو چھپاتے ہوئے کہا تو وہ اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھنے لگی اور اپنا پرس اٹھانے کی غرض سے کمرے میں چلی گئی۔
“ٹھیک ہے۔” انہوں نے کہا تو وہ باہری دروازے کی جانب بڑھ گیا کچھ دیر بعد وردہ کمرے سے اپنا پرس اٹھا کر آئی اور وجہیہ بیگم کو بتا کر گھر سے باہر آئی تو رضوان کار میں بیٹھا ہوا اس کا انتظار کر رہا تھا وہ جاکے بیک سیٹ پر بیٹھ گئی تو اس نے پیچھے مڑ کر اسے دیکھا مگر کہا کچھ نہیں وہ اس وقت غصے میں تھی اور اسے اچھی خاصی باتیں سنا لیتی۔
“تم نے مجھے اپنی دوست کا نمبر نہیں دیا؟” اس نے کار کو ڈرائیو کرتے ہوئے کہا تو وہ اس کی جانب متوجہ ہوئی۔
“تمہیں کیوں میری دوست کا نمبر چاہیے؟” وردہ نے اسے گھورا تو وہ گڑبڑا گیا۔
“مجھے اس سے پوچھنا ہے تمہاری وردہ سے دوستی کیسے ہوئی؟” اس نے جلدی میں کہا تو وہ غصے میں سلگ اٹھی۔
“میں چاچو کو بتاؤں گی تم میری دوست کا نمبر مانگ رہے تھے۔” اس نے دھمکی دی اور سامنے کی طرف دیکھنے لگی جبکہ اس نے نفی میں سر ہلایا اور اپنی توجہ ڈرائیونگ پر مرکوز کر گیا۔ وہ گہری سوچ میں مبتلا ہو گئی کچھ دیر کی مسافت کے بعد اس نے سارہ کے گھر کے سامنے کار روکی تو وہ اپنے خیالوں کو جھٹکتی ہوئی باہر آئی اس سے قبل کہ وہ کچھ کہتی اس نے ڈرائیونگ اسٹارٹ کی اور کار کو آگے بڑھا گیا جبکہ وہ غصے میں اسے کوسنے لگی۔
“لگتا ہے ناراض ہو گیا ہے۔” وہ زیرِ لب بڑبڑاتی ہوئی سارہ کے گھر کی جانب بڑھ گئی۔
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Back
Top