• 📚 لوو اسٹوری فورم ممبرشپ

    بنیادی ڈیل

    وی آئی پی

    5000
    تین ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    وی آئی پی پلس

    8000
    چھ ماہ کے لیے
    ٹاپ پیکیج
    👑

    پریمیم

    20000
    چھ ماہ کے لیے

Life Story راہِ ۔۔۔۔۔زندگی

اس نے دروازہ بجایا تو سارہ نے دروازہ کھولا وہ مسکراتی ہوئی گھر کے اندر داخل ہوئی تو انیسہ بیگم لاؤنج میں بیٹھی ہوئی تھیں اس نے سلام کیا تو وہ اس کی جانب متوجہ ہوئیں۔
“السلام عليكم!” وہ ان کی جانب آئیں۔
“وعليكم السلام! کیسی ہو؟” انیسہ بیگم نے جواب دیا اور اس سے دریافت کیا تو وہ صوفے پر بیٹھ گئی۔
“میں ٹھیک ہوں، آپ کیسی ہیں؟” اس نے جواب دینے کے بعد پوچھا۔
“میں بھی ٹھیک ہوں۔” انہوں نے مسکراتے ہوئے بتایا۔
“مجھے بھول گئی ہو کیا؟” سارہ نے اسے گھورا تو وہ دانت نکالنے لگی۔
“تمہیں کیسے بھول سکتی ہوں، میری دوست۔” وردہ نے مسکراتے ہوئے کہا تو وہ ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی۔
“تمہیں کیا ہوا ہے؟” اس نے تجسس سے پوچھا۔
“کچھ بھی نہیں ہوا، ریستوران چلیں۔” اس نے صوفے سے اٹھتے ہوئے پوچھا تو وہ نفی میں سر ہلا گئی۔
“میں نے بریانی بنائی ہے، ریستوران جانے کی ضرورت نہیں ہے۔” سارہ نے منہ بسورتے ہوئے کہا تو اس کا قہقہہ لاؤنج میں گونجا جبکہ وہ اسے گھورنے لگی۔
“میری لیے بریانی بنائی ہے۔” اس نے خوشی سے پوچھا۔
“ابھی ہونے والا جیجو تو نہیں ملا جو کہوں اس کے لیے بنائی ہے۔” سارہ کی بات سن کر اس نے منہ بسورا۔
“تنگ مت کرو۔” اس نے چڑنے کے انداز میں کہا تو وہ ہنسنے لگی۔
“میں کھانا لے کر آتی ہوں۔” سارہ نے کہا اور کچن میں چلی گئی جبکہ وہ انیسہ بیگم سے بات کرنے لگی۔
سارہ نے ٹیبل پر لوازمات سے بھرا ہوا ٹرے رکھا اور صوفے پر بیٹھ گئی۔
“وردہ کھانا کھاؤ۔” اس نے کہا تو وہ کھانے کی جانب متوجہ ہوئی۔
کچھ دیر بعد وہ کھانے سے فارغ ہوئیں تو سارہ برتن اٹھا کر کچن میں رکھنے گئی انیسہ بیگم کے موبائل کی رنگ ٹون بجی تو وہ کال اٹینڈ کرتی ہوئیں اپنے کمرے میں چلی گئیں۔
“مجھے تمہیں کچھ بتانا ہے۔” وردہ نے کچن میں داخل ہوکر اسے کہا تو وہ اس کی جانب دیکھنے لگی۔
“کیا ہوا ہے؟” اس نے ناسمجھی سے پوچھا۔
“رضوان نے مجھے کہا میں اسے اپنی دوست کا نمبر دوں۔” وردہ نے اسے ساری بات بتائی تو وہ گہری سوچ میں مبتلا ہو گئی کچھ دیر بعد اس نے
پوچھا۔
“کونسی دوست کا نمبر مانگ رہا تھا۔” وہ کچن سے باہر آئی۔
“یہ تو میں نے پوچھا ہی نہیں۔” اس نے بتایا اور لاؤنج میں آکر صوفے پر بیٹھ گئی۔
“میرا نمبر کسی کو مت دینا۔” سارہ نے اسے سختی سے منع کیا۔
“اچھا ٹھیک ہے۔” اس نے کہا اور باتوں میں مصروف ہو گئی۔
انیسہ بیگم ان کے لیے چائے بنا کر آئی تھیں انہوں نے چائے کا ٹرے ٹیبل پر رکھا تو سارہ اور وردہ نے چائے کا کپ اٹھایا۔ انیسہ بیگم بہت خوش تھیں انھیں سارہ کی دوستیں اچھی لگتی تھیں۔ چائے پینے کے بعد وہ باتیں کرنے لگیں۔
رات کے نو بج رہے تھے وہ اپنے گھر کے لیے روانہ ہو گئی تو سارہ نے ٹیبل سے چائے کے کپ اٹھائے اور کچن میں رکھنے چلی گئی۔


(سکھر شہر)
صبح کے دس بج رہے تھے وہ سب ڈائیننگ ٹیبل کے گرد بیٹھے ہوئے ناشتہ کر رہے تھے کنزہ نے ناشتہ کرنے کے بعد ہانیہ کو بلایا اور اسے باہر چلنے کا کہا تو وہ پریشان ہو گئی۔ اس نے نفی میں سر ہلایا اور ڈائیننگ ٹیبل کی جانب بڑھ گئی۔
“تایا ابو مجھے باہر جاکر کچھ ویڈیوز بنانی ہیں کیا میں ہانیہ کے ساتھ جاؤں؟” اس نے آہستہ سے بات کرتے ہوئے پوچھا تو وہ اس کی جانب متوجہ ہوئے۔
“تم راحیل کے ساتھ چلی جانا، ہانیہ نہیں جائے گی۔” اجمل صاحب نے کہا تو وہ ناسمجھی سے ان کی طرف دیکھنے لگی۔
“تایا ابو ہم دور نہیں جائیں گے۔” اس نے کہا تو اجمل صاحب نے کھانے سے ہاتھ روکا اور کرسی سے اٹھ گئے سب سنجیدگی سے ان کی جانب دیکھ رہے تھے۔
“ہانیہ نہیں جائے گی، تمہیں جانا ہے تو ریاض سے پوچھ کر چلی جانا۔” انہوں نے کہا اور وہاں رکے نہیں بلکہ باہری دروازے کی جانب بڑھ گئے۔
“بابا میں نے صرف تایا ابو سے پوچھا ہے، وہ ناجانے کیوں ناراض ہو گئے ہیں۔” اس نے کہا تو ریاض صاحب نے اس کی طرف دیکھا۔
“تم راحیل کے ساتھ باہر جانا اور جلدی واپس آجانا، میں اجمل بھائی کو منا لوں گا۔” ریاض صاحب نے کہا تو اس نے اثبات میں سر ہلایا اور کمرے کی جانب بڑھ گئی جبکہ وہ سب کھانے کی جانب متوجہ ہو گئے۔
“السلام عليكم! نیوز چینل کے ساتھ میں ہوں کنزہ ریاض، جی تو آج میں آپ کو سندھ کے شہر سکھر کی خوبصورتی دکھاؤں گی۔
سکھر پاکستان کے صوبہ سندھ کا تیسرا بڑا شہر ہے، جو دریائے سندھ کے مغربی کنارے پر واقع ہے۔ یہ ایک قدیم اور تاریخی شہر ہے جو سکھر بیراج، لینس ڈاؤن پل جیسے مقامات کے لیے مشہور ہے۔
وہ موبائل راحیل کو دے کر خود آگے بڑھ کر بتاتی جا رہی تھی جبکہ راحیل اس کی ویڈیو بنا رہا تھا۔ اس جگہ کے بارے میں بتا کر اس نے وقفہ لیا اور گاڑی کی جانب گئی اور کچھ دیر کے لیے بیٹھ گئی۔
“راحیل تھوڑا آگے چلیں؟ مجھے اس علاقے کی بھی ویڈیو بنانی ہے۔” اس نے پوچھا تو وہ کڑے تیور لیے اسے دیکھنے لگا۔
“ضرورت نہیں ہے۔” اس نے انکار کیا۔
“اچھا۔” کنزہ نے کہا اور اس سے موبائل لیا تبھی راحیل کے موبائل کی رنگ ٹون بجی تو وہ کال اٹینڈ کرتا ہوا آگے بڑھ گیا جبکہ اس نے موبائل کا کیمرہ آن کیا اور مسکراتی ہوئی وہاں کی ویڈیو بنانے لگی ساتھ ہی وہ اس جگہ کے بارے میں بتا رہی تھی۔
“مس اینکر صاحبہ کیا کر رہی ہو؟”
مردانہ آواز سن کر اس نے پلٹ کر پیچھے دیکھا۔
“تم یہاں کیا کر رہے ہو؟” اس نے جواب دینے کے بجائے حیرانی سے پوچھا اور موبائل کا کیمرہ بند کیا۔
“پہلے میں نے تم سے پوچھا ہے۔” اس نے اپنا چشمہ اتارا تو وہ اس کی براؤن آنکھوں میں دیکھنے لگی پھر جلد ہی اس نے اپنی نظروں کا زاویہ تبدیل کیا۔
“میں یہاں تایا ابو کے گھر آئی ہوں۔” اس نے بتایا تو اسے چند پل کے لیے غصہ آیا جسے بروقت اس نے قابو کیا۔
“میری فیملی سکھر رہتی ہے، تمہیں میں نے کل بتایا تھا اور ہاں تم نے نیوز بھی تو پڑھی تھی۔”
فواد نے طنزیہ لہجے میں کہا تو اس نے غصے میں اسے دیکھا۔
“ہاں یاد ہے۔” جواباً اس نے کہا۔
“یاد رکھنا بھولنا مت کہ تم نے کیا نیوز پڑھی تھی۔” اس نے لفظوں کو چباتے ہوئے کہا تو اسے غصہ ہی آگیا اس سے قبل کہ وہ کچھ کہتی فواد کو دکھا دیا گیا اس نے سنبھلتے ہوئے دیکھا تو ریحان اسے گھور رہا تھا۔
“تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی میری کزن سے بات کرنے کی۔” اس نے غصے میں دریافت کیا۔
“اب تمہاری کزن سے بات کرنے کے لیے اجازت لینی پڑے گی کیا؟” اس نے تلخی سے پوچھا تو ریحان نے اس کے منہ پر مکا رسید کیا جواباً فواد نے بھی اس کے منہ پر مکا مارا تو وہ اس پر لپکا کنزہ نے زور سے چیخ ماری تو فواد کے سیکیورٹی گارڈ اس طرف آئے اور انھیں دور کیا راحیل بھی وہاں آیا اور معاملے کو سمجھنے کی کوشش کرنے لگا۔
“تم جاکے کار میں بیٹھو۔” ریحان نے غصے میں کنزہ کی جانب دیکھا تو وہ اسے گھورنے لگی۔
“تم دونوں ایک دوسرے کو جانتے ہو کیا؟” اس نے تفتیشی انداز میں پوچھا تو اسے غصہ ہی آگیا۔
“تمہیں سمجھ نہیں آئی کیا؟” وہ غصے میں دھاڑا تھا جبکہ اسے یوں چلاتے ہوئے دیکھ کر وہ اپنا غصہ ضبط کر کے کار کی جانب بڑھ گئی۔
“تم بھی چلو۔” اس نے راحیل سے کہا اور اپنے قدم آگے بڑھائے تو وہ بھی کار کی جانب بڑھ گیا۔
“سر آپ ٹھیک تو ہیں؟” سیکیورٹی گارڈ نے اس سے پوچھا تو اس نے اثبات میں سر ہلایا اور اپنا چشمہ پہن کر کار کی جانب بڑھ گیا۔
 


وہ آفس میں بیٹھا ہوا کب سے انتظار کر رہا تھا۔ وہ میٹنگ کے سلسلے میں آیا تھا۔ اسے وہاں بیٹھے آدھا گھنٹہ بیت چکا تھا۔ اس نے گھڑی میں ٹائم دیکھا اسے اب یہ میٹنگ اٹینڈ نہیں کرنی تھی وہ کرسی سے اٹھ کر میٹنگ روم سے باہر آیا تو آدمی نے اسے بلایا اس نے پلٹ کر پیچھے نہیں دیکھا وہ غصے میں باہری دروازے کی جانب بڑھ گیا اس کے آدمی باہر کھڑے اس کا انتظار کر رہے تھے اسے غصے میں دیکھ کر اپنی کار میں بیٹھ گئے اس نے موبائل میں نمبر ڈائل کیا جیسے ہی کال اٹینڈ کی گئی اس نے بولنا شروع کیا۔
“میں تمہارا کام نہیں کروں گا، اپنے پیسے اپنے پاس رکھ لو۔” اس نے لفظوں کو چباتے ہوئے کہا تو وہ آدمی پریشان ہی ہو گیا۔
“مجھے کچھ کام تھا اس لیے دیر سے آفس آیا ہوں، میں تمہیں پچاس لاکھ دوں گا تم میرا کام کر لو۔” آدمی نے منت بھرے انداز میں کہا۔
“میں تمہارا کام نہیں کروں گا۔” اس نے کہہ کر رابطہ منقطع کیا اور جاکر کار کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گیا تو ڈرائیور نے کار کو اسٹارٹ کیا۔ اس نے شیشے سے باہر دیکھا اس کے آدمی پیچھے والی گاڑی میں بیٹھے ہوئے تھے اس نے اپنی نظریں سامنے کیں تبھی اسے فواد کا خیال آیا اس نے موبائل میں اس کا نمبر ڈائل کیا کال جا رہی تھی کافی دیر بعد اٹینڈ کی گئی اسے غصہ تو بہت آیا مگر اس نے قابو کیا۔
“ایس ایچ او صاحب کال کیوں کی ہے؟” اس نے سوال پوچھا تو وہ نا چاہتے ہوئے بھی مسکرانے لگا۔
“تم سکھر گئے ہو مجھے بتایا نہیں۔” اس کی بات سن کر فواد نے نفی میں سر ہلایا گویا کہا ہو اس کا کچھ نہیں ہو سکتا۔ اس نے فواد کو تنگ کرنے کے لیے کال کی تھی۔
“تم سے جب میں پوچھتا ہوں تم کس جگہ اسمگلنگ کرنے جا رہے ہو تم مجھے بتاتے نہیں ہو، تو میں کیوں تمہیں بتاؤں میں کہاں جا رہا ہوں۔” اس نے تلخ لہجے میں کہا تو اسے غصہ ہی آگیا۔
“ایس ایس پی فواد میر تم نے بھی اسمگلنگ کرنی ہے تو بتاؤ میں تمہیں ایڈریس بتا دیا کروں گا۔” اس نے تلخی سے کہا تو اس نے زور سے قہقہہ لگایا گویا اس کا تمسخر اڑایا ہو۔
“مجھے اسمگلنگ نہیں کرنی بلکہ اسمگلرز کو پکڑنا ہے، تم مجھے ایڈریس بتا دیا کرو تاکہ اسمگلرز کو جیل تک چھوڑ آؤں۔” اس کی بات سن کر اسے غصہ آرہا تھا۔
“ایس ایس پی صاحب تم اپنی نوکری پر توجہ دو ایسا نہ ہو اسمگلرز کو پکڑنے کے چکر میں اپنی نوکری ہی گنوا دو۔” اس کی بات سن کر فواد کو حیرانی ہوئی وہ کچھ کہتا اس سے قبل ہی اس نے رابطہ منقطع کر دیا تھا۔ گاڑی گھر کے سامنے رکی تو وہ گاڑی سے باہر آیا اور اپنے قدم گھر کی جانب بڑھا گیا۔



وہ صوفے پر بیٹھا ہوا گہری سوچ میں مبتلا تھا۔ ساجد میر اس کا دوست تھا۔ وہ دونوں یونیورسٹی میں ساتھ پڑھتے تھے۔ اس کی دوستی ساجد سے یونیورسٹی میں ہوئی تھی۔ یونیورسٹی میں پروگرام تھا وہ کب سے وہاں ٹہل رہا تھا اس نے گھڑی میں ٹائم دیکھا صبح کے دس بج رہے تھے مگر وہ ابھی تک نہیں آیا تھا اس نے موبائل میں ساجد کا نمبر ڈائل کیا کال جا رہی تھی مگر رسیو نہیں کی گئی تو وہ پریشان ہی ہو گیا وہ ابھی تک یونیورسٹی نہیں آیا تھا اور کال بھی نہیں اٹھا رہا تھا اس نے اپنے قدم پارکنگ ایئریا کی جانب بڑھائے اور کار کا دروازہ کھول کر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا۔ اس نے کار کو اسٹارٹ کیا اور اس کا رخ باہری دروازے کی جانب کیا۔ آدھے گھنٹے کی مسافت کے بعد اس نے کار کو حویلی کے سامنے روکا اور باہر نکل آیا۔ سیکیورٹی گارڈ دروازے پر کھڑا تھا اس نے اپنا نام بتایا اور اندرونی دروازے کی جانب بڑھ گیا۔ وہ حویلی کے اندر داخل ہوا تو ساجد صوفے پر بیٹھا ہوا موبائل استعمال کر رہا تھا اسے آرام سے بیٹھے ہوئے دیکھ کر اسے غصہ ہی آگیا وہ اس کے لیے پریشان تھا جبکہ وہ یہاں بیٹھا ہوا تھا۔
“ساجد سومرو تم نے کال کیوں نہیں اٹھائی؟” اس نے غصے میں پوچھا تو وہ اس کی جانب متوجہ ہوا۔
“میں کال اٹینڈ کرتا تو تم کہتے پروگرام میں آؤ، اس لیے کال اٹینڈ نہیں کی۔” اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا تو وہ حیرانی سے اسے دیکھنے لگا۔
“میں پریشان ہو گیا تھا تم یونیورسٹی بھی نہیں آئے اور میری کال بھی نہیں اٹھا رہے تھے، اس لیے یہاں آگیا۔” اس نے فکرمندی سے کہا تو وہ مسکرانے لگا۔
“اریب سومرو تم نے اچھا کیا یہاں آگئے، اب یونیورسٹی نہیں جانا پڑے گا۔” اس نے موبائل کو ٹیبل پر رکھا۔
“تم میری بات کو سیریس نہیں لے رہے، میں تمہارے لیے پریشان ہو گیا تھا، آئندہ میری کال اٹینڈ کرنا نہیں تو میں انکل کو تمہاری شکایت دوں گا یہ یونیورسٹی کی چھٹی کرکے گھومنے جاتا ہے۔” اس نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا تو اس نے زور سے قہقہہ لگایا۔
“اریب سومرو تم مجھے دھمکی دے رہے ہو، میں بھی انکل کو بتاؤں گا تم مجھے دھمکیاں دیتے ہو۔” اس نے اپنی مسکراہٹ کو روکا تو وہ اسے گھور کر رہ گیا۔
“ساجد میں نوکری کے لیے اپلائی کروں گا، تمہارا کیا خیال ہے؟” اس نے پرسوچ انداز میں پوچھا۔
“میں بابا سے پوچھوں گا۔” اس نے جواب دیا۔
“ریستوران ناشتہ کرنے چلیں؟” اریب نے سوالیہ نگاہوں سے دیکھتے ہوئے پوچھا تو وہ سوچنے لگا۔
“ٹھیک ہے۔” اس نے جواباً کہا اور ٹیبل سے موبائل اٹھا کر اس کے ساتھ باہری دروازے کی جانب بڑھ گیا۔
وہ اس کا دوست تھا اس کے ساتھ گزارے لمحے اکثر اسے یاد آتے تھے اس نے اپنی سوچوں کو جھٹکا اور صوفے سے اٹھ کر اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔
جاری ہے
 
وہ حویلی میں آکر جیسے ہی اپنے کمرے میں جانے لگی جب ریحان نے اسے بلایا تو اس نے ناسمجھی سے اسے دیکھا اسے ریحان سے بات کرنا پسند نہیں تھا اس کا گھور کر دیکھنا اسے غصہ دلا جاتا تھا۔
“تم اس لڑکے سے بات کیوں کر رہی تھی؟” اس نے تفتیشی انداز میں پوچھا تو وہ ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی۔
“کون سے لڑکے کی بات کر رہے ہو؟” اس نے پوچھا تو وہ اسے گھورنے لگا۔
“فواد کی بات کر رہا ہوں۔” ریحان نے بتایا تو اسے کچھ دیر قبل والا منظر یاد آیا۔
“میں اسے جانتی ہوں اس لیے بات کی تھی۔” کنزہ نے اسے بتایا تو اسے غصہ ہی آگیا۔
“کیا جانتی ہو اس کے بارے میں؟” اس نے دبی ہوئی آواز میں پوچھا۔
“میں تم سے پوچھ کر کسی سے بات نہیں کروں گی، سمجھے؟” اس نے جتایا اور سیڑھیوں کی جانب بڑھ گئی جبکہ وہ غصے میں صوفے پر جا بیٹھا وہ اس لڑکے کی وجہ سے اس سے یوں بات کر کے گئی تھی اسے غصہ ہی آگیا وہ اس سے بعد میں بات کرنے کا سوچتا ہوا اپنے کمرے میں چلا گیا۔

اس نے کمرے میں آکر فواد میر کا نمبر ڈائل کیا کال جا رہی تھی کچھ دیر بعد اٹینڈ کی گئی۔
“تم ریحان سے کیوں لڑ رہے تھے؟” اس نے فوراً پوچھا تو اس طرف سے کوئی جواب نہیں آیا۔
“ایس ایس پی فواد میر میں نے تم سے کچھ پوچھا ہے؟” اس نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا۔
“تم کیوں پوچھ رہی ہو؟” اس نے بیزاری سے کہا تو اس نے منہ بنایا۔
“میں وجہ جاننا چاہتی ہوں اس لیے پوچھا۔” اس نے بتایا تو وہ مسکرانے لگا
“اچھا۔” اس نے فقط اتنا کہا۔
“تم بات نہیں کرنا چاہتے ہو تو ٹھیک ہے، مجھے بھی تم سے بات کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔” اس کا بات کرنے کا انداز اسے کشمکش میں مبتلا کر گیا اس لیے کنزہ نے کہا اور جیسے ہی کال کاٹنے لگی جب اس کی بات سن کر اسے غصہ ہی آگیا۔
“تم نے اسی کے کہنے پر وہ نیوز چینل پر دی تھی؟” اس کا انداز گفتگو اسے غصہ دلا گیا۔ اسے جب سے پتا چلا تھا وہ ریحان کی کزن ہے وہ یہی کہتا تھا اس نے ریحان کے کہنے پر وہ خبر نشر کروائی تھی۔ نیوز اینکرز کو اکثر اس بات کے لیے مشہور کیا جاتا ہے کہ وہ کسی کے کہنے پر خبر نشر کرواتے ہیں جبکہ چینل کے بارے میں یہ مشہور کیا جاتا ہے یہ اس (سیاسی پارٹی کا نام لیا جاتا ہے) سیاسی پارٹی کی سپورٹ کرتا ہے اس لیے اس کے حق میں زیادہ اور بہتر خبریں نشر کرواتا ہے جبکہ دوسری پارٹیوں کے بارے میں کہا جاتا ہے اس چینل والوں کی اس سیاسی پارٹی سے دشمنی ہے اس لیے اس کے خلاف خبریں پڑھتا ہے۔ لوگ اس بات سے آشنا نہیں ہوتے کہ نیوز اینکرز صرف اپنی ڈیوٹی سر انجام دیتے ہیں سیاسی پارٹی کا ساتھ دینا یا اس سے دور رہنا اس سب کے ذمہ دار نیوز اینکرز نہیں ہوتے۔ سیاست کرنا سیاستدانوں کا کام ہے نیوز اینکرز کا نہیں۔ نیوز اینکرز کو سیاستدانوں سے اختلاف تو ہو سکتا ہے مگر ان سے دشمنی نہیں ہو سکتی۔
“میں تمہیں بار بار نہیں بتاؤں گی کہ میں نے وہ نیوز کیوں پڑھی تھی۔” کنزہ نے تلخی سے کہا اور کال کاٹ دی جبکہ وہ گہرا سانس ہوا کے سپرد کرتا ہوا کار کی جانب بڑھ گیا۔
 
وہ کچھ دیر قبل ہی حویلی آیا تھا۔ لاؤنج میں عماد بیٹھا ہوا تھا وہ صوفے پر بیٹھ گیا اور موبائل استعمال کرنے لگا۔ عماد نے ناسمجھی سے اسے دیکھا وہ باہر سے آکر موبائل استعمال کر رہا تھا اسے ناگوار لگا۔
“تم ابھی باہر سے آئے ہو اور بات کرنے کے بجائے موبائل استعمال کر رہے ہو۔” عماد کی بات سن کر اس نے موبائل کو ٹیبل پر رکھا اور اس کی جانب متوجہ ہوا۔
“مجھے میسج سینڈ کرنا تھا اس لیے موبائل استعمال کر رہا تھا، تم تو غصہ ہی کر رہے ہو۔” اس نے مسکراتے ہوئے کہا تو وہ منہ بسور کر رہ گیا۔
“تم نے آج کراچی واپس جانا تھا کیوں نہیں گئے؟” عماد نے اس سے سوال پوچھا۔
“مجھے یہاں کچھ کام تھا اس لیے نہیں گیا۔” اس نے کچھ دیر بعد جواب دیا تو وہ مسکراتے ہوئے اسے دیکھنے لگا۔
“کونسا ضروری کام تھا، مجھے بتاتے میں کر لیتا۔”
اس نے شرارتی مسکراہٹ اس پر اچھالی تو وہ گڑبڑا گیا۔
“تم جیسا سمجھ رہے ہو ویسا کچھ بھی نہیں ہے۔” فواد نے کہا اور صوفے سے اٹھ گیا جبکہ عماد نے زور سے قہقہہ لگایا۔
“کیا ہوا؟” فواد نے اسے گھورا۔
“کچھ نہیں ہوا۔” اس نے کہا جبکہ فواد نے یہاں سے جانا ہی بہتر سمجھا اس لیے فیصل صاحب کے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔




رات کے آٹھ بج رہے تھے وہ سب ڈائیننگ ٹیبل کے گرد بیٹھے ہوئے ڈنر کر رہے تھے وہ پانی کا گلاس اٹھا رہی تھی جب ہانیہ کو کچن سے آتے ہوئے دیکھ کر وہ ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی وہ زیادہ تر کام کرنے میں مصروف رہتی تھی ابھی بھی وہ لوازمات سے بھرے ٹرے ٹیبل پر رکھ کر چلی گئی تو کنزہ نے کھانے سے ہاتھ روکا اور اٹھ کر کچن کی جانب بڑھ گئی وہ اندر آئی تو ہانیہ برتن اٹھا رہی تھی۔
“ہانیہ تم ڈنر کب کرو گی؟” اس نے پوچھا تو وہ اچھل ہی پڑی، اس نے پلٹ کر اسے دیکھا اور چائے کے لیے پانی رکھنے لگی۔
“میں چائے بنا لوں پھر ڈنر کروں گی۔” اس نے مصروف انداز میں کہا۔
“یہاں پر کام کرنے کے لیے ملازمہ ہیں، تایا ابو اور تائی امی تمہیں کام کرنے سے منع نہیں کرتے کیا؟” اس نے پرسوچ انداز میں پوچھا تو اس نے نفی میں سر ہلایا۔
“نہیں ماما بابا منع نہیں کرتے۔” اس نے کہا اور کپ اٹھانے لگی جبکہ کنزہ نے غور سے اسے دیکھا
گندمی رنگت، کمر تک آتے لمبے ریشمی بال، وہ نیلے رنگ کے لباس میں ملبوس تھی۔
“چلیں۔” کچھ دیر بعد ہانیہ نے چائے کا ٹرے اٹھاتے ہوئے کہا تو وہ اس کی جانب متوجہ ہوئی اور اثبات میں سر ہلاتی ہوئی کچن سے باہر نکل گئی۔


وہ کمرے میں آکر بیڈ پر بیٹھ گئی۔ اس نے سائیڈ ٹیبل سے موبائل اٹھایا اور سارہ کا نمبر ڈائل کیا کال جا رہی تھی اس نے فوراً اٹینڈ کی تو اس کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی۔
“کیسی ہو سارہ؟” اس نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
“میں ٹھیک ہوں، تم کیسی ہو؟ مجھے بھی سکھر چلنے کا کہتی کالج کی چھٹیاں ہو گئی ہیں میں بھی سکھر شہر دیکھ لیتی۔” اس نے آہستہ سے بات کرتے ہوئے کہا تو کنزہ کو شرمندگی نے آگھیرا۔
“مجھے پتا نہیں تھا تمہارے کالج کی چھٹیاں ہیں۔” اس نے بتایا۔
“کالج کی چھٹیاں آج ہوئی ہیں تم پریشان مت ہو تمہیں تنگ کر رہی تھی، تم بتاؤ کیا کر رہی تھی؟” سارہ نے دلچسپی سے پوچھا۔
“میں نے سمجھا تم ناراض ہو گئی ہو، میں ابھی کمرے میں ہوں، سارہ میں آج گھومنے گئی تھی وہاں مجھے ایس ایس پی فواد میر ملا تھا۔” اس نے ساری بات بتائی تو وہ حیران رہ گئی۔
“ایس ایس پی وہاں کیا کر رہا ہے؟” اس نے سوال کیا۔
“اس کے گھر والے سکھر رہتے ہیں جبکہ وہ خود کراچی میں رہتا ہے ابھی سکھر آیا ہے۔” اس نے جواباً بتایا۔
“اچھا۔” اس نے کہا اور اس سے بات کرنے لگی۔
کچھ دیر بعد اس نے بات کرکے رابطہ منقطع کیا اور بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا کر آنکھیں موند لیں۔





صبح کے آٹھ بج رہے تھے وہ بیڈ سے اٹھ کر ڈریسنگ ٹیبل کی جانب آیا اور شیشے میں دیکھنے لگا اسے بار بار کنزہ کا خیال آرہا تھا نہ جانے کیوں وہ اس کے بارے میں سوچ رہا تھا اس نے جھر جھری لی اور واڈروب سے اپنے کپڑے نکالنے کی غرض سے آگے گیا اس نے کچھ دیر سوچنے کے بعد کپڑے اٹھائے اور فریش ہونے کی غرض سے واش روم کی جانب بڑھ گیا۔ آدھے گھنٹے بعد وہ باہر آیا اور اپنے بالوں کو سنوارنے کی غرض سے ڈریسنگ ٹیبل کے آگے کھڑا ہو گیا۔ نیلے رنگ کی شرٹ پر کالے رنگ کی پینٹ زیب تن کئے، اس نے ہاتھ میں ورسٹ واٹچ پہنی، بالوں کو جیل سے سیٹ کیا اور واڈروب سے کالے رنگ کا جیکٹ نکال کر وہ کمرے سے باہر نکل آیا۔ لاؤنج میں آکر وہ صوفے پر بیٹھ گیا تبھی اسے یاد آیا وہ اپنا موبائل کمرے میں بھول آیا ہے وہ اٹھ کر جانے ہی لگا تھا جب سدرہ بیگم نے اسے بلایا وہ کچن میں جا رہی تھیں جب اسے وہاں دیکھ کر بلایا۔
“صبح سویرے کہاں جا رہے ہو؟” انہوں نے ناسمجھی سے پوچھا۔
“ماما میرے دوستوں نے مجھے بلایا ہے، کافی وقت ہوا ہے ان سے ملاقات نہیں ہوئی تو ان سے ملنے جانا ہے۔” اس نے بتایا۔
“ٹھیک ہے، ناشتہ کرکے جانا۔” سدرہ بیگم نے کہا تو اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
“عماد نہیں اٹھا؟” اس نے یاد آنے پر پوچھا۔
“وہ آج یونیورسٹی نہیں جائے گا۔” انہوں نے بتایا اور کچن میں جانے ہی لگی تھیں جب فواد نے ان سے وجہ دریافت کی۔
“وہ یونیورسٹی کیوں نہیں جائے گا۔” اس نے پوچھا تو ان کو فکر ہونے لگی۔
“میں نے اسے منع کیا ہے آج یونیورسٹی جانے سے۔” انہوں نے کچھ دیر کی خاموشی کے بعد جواب دیا۔
“کیوں ماما؟” اسے کچھ سمجھ نہیں آئی۔
“وہ میرے ساتھ بازار جائے گا۔” انہوں نے اٹکتے ہوئے کہا۔
“وہ یونیورسٹی سے واپس آکر بھی تو بازار جا سکتا ہے۔” اس نے کہا تو وہ پریشان ہوگئیں۔
“مجھے دوپہر کو جانا ہے، وہ دیر سے آتا ہے اس لیے میں نے اسے کہا چھٹی کرو، تم انتظار کرو میں ناشتہ لے کر آتی ہوں۔” انہوں نے کہا اور کچن میں چلی گئیں جبکہ وہ گہری سوچ میں مبتلا ہو گیا اسے کچھ سمجھ نہیں آیا اس نے ورسٹ واٹچ میں ٹائم دیکھا نو بجنے والے تھے وہ اپنا موبائل اٹھانے کی غرض سے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔
 
وہ لاؤنج میں رکھے گئے صوفے پر بیٹھی ہوئی تھی۔ اسے بازار جانا تھا اس لیے تحریم بیگم کا انتظار کر رہی تھی۔ وہ اپنی سوچوں میں مگن تھی جب ریحان نے گلا کھنکارا تو وہ اس کی جانب متوجہ ہوئی۔
“مجھے تم سے بات کرنی ہے۔” ریحان نے بتایا اور سامنے رکھے ہوئے صوفے پر جا بیٹھا۔
“مجھے تمہاری کوئی بات نہیں سننی۔” وہ صوفے سے اٹھ گئی۔
“تم کچھ زیادہ ہی نخرے دکھا رہی ہو، میری بات سنو سمجھی۔” وہ بھی صوفے سے اٹھ گیا اور غصے میں کہنے لگا جبکہ اس کا اس طرح سے بات کرنا اسے شدید ناگوار گزرا تھا۔
“اچھا۔ میں نے تو تمہیں نہیں کہا مجھ سے بات کرو۔” کنزہ نے دبی ہوئی آواز میں کہا تو اس کے غصے کا گراف اور بھی زیادہ بڑھ گیا۔
“چپ رہو۔” اس نے اسے وارن کیا تو وہ اسے چڑانے کی غرض سے مسکرانے لگی۔
“کیا پوچھنا ہے تمہیں؟” کنزہ نے اس کی بات کو نظرانداز کیا تو اس نے اردگرد دیکھا ہانیہ ڈائیننگ ٹیبل سے برتن اٹھا رہی تھی۔
“تم فواد کو کیسے جانتی ہو؟” اس نے اپنے غصے پر قابو کیا۔
“وہ کراچی میں پولیس آفیسر ہے۔” کنزہ نے جان بوجھ کر اسے غصہ دلانا چاہا اس سے قبل کہ وہ کچھ کہتا تحریم بیگم وہاں آئیں تو وہ ان کی جانب متوجہ ہوئے۔
“کنزہ چلیں؟” انہوں نے پوچھا۔
“جی۔” اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
“کہاں جا رہی ہیں؟” ریحان نے ناسمجھی سے پوچھا۔
“بازار جا رہے ہیں۔” تحریم بیگم نے بتایا تو اس نے کنزہ کی جانب دیکھا جو پیلے رنگ کی شرٹ پر کالے رنگ کی پینٹ زیب تن کئے، بالوں کو کھلا چھوڑے، اپنی جانب متوجہ کرنے کا سبب بن رہی تھی۔ اس نے اپنے خیالوں کو جھٹکا۔
“میں ڈرائیور سے کہتا ہوں آپ کو بازار لے جائے۔” اس نے اردگرد دیکھتے ہوئے کہا۔
“اس کی ضرورت نہیں ہے، میں خود ڈرائیونگ کر لوں گی۔” کنزہ نے صوفے سے اپنا بیگ اٹھایا۔
“تمہیں یہاں کے راستوں کا پتا نہیں ہے۔” ریحان نے اسے جتایا تو اس نے چیلنجنگ انداز میں اسے دیکھا۔
“میں نے راحیل سے بازار کے راستے کا پوچھا تھا اس نے مجھے سمجھایا تھا ہاں اگر راستہ بھول گئی تو کسی سے پوچھ لوں گی۔” کنزہ نے اسے چڑانے کی غرض سے کہا اور وہ اپنی عادت کے مطابق چڑ بھی گیا۔
“ماما چلیں دیر ہو رہی ہے۔” اس نے کہا تو تحریم بیگم نے اثبات میں سر ہلایا اور دروازے کی جانب بڑھ گئیں جبکہ وہ بھی مسکراتی ہوئی ان کے پیچھے گئی۔
باہر آکر اس نے ڈرائیور سے چابی لی اور ڈرائیونگ سیٹ پر جا بیٹھی تحریم بیگم فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئیں تو اس نے ڈرائیونگ اسٹارٹ کی اور کار کو آگے بڑھا گئی۔

 
وہ آدھے گھنٹے کا سفر ایک گھنٹے میں طے کرکے بازار پہنچی تھی اسے راستوں کا پتا نہیں تھا اس لیے بازار پہنچنے میں اسے زیادہ وقت لگا تھا۔اس نے کار کو سائیڈ پر پارک کیا اور باہر آکر اردگرد دیکھنے لگی۔ بازار میں بہت ہجوم تھا لوگ خریداری کرنے میں مصروف تھے جبکہ کچھ لوگ واپس جا رہے تھے اس نے تحریم بیگم کی جانب دیکھا جو اپنے پرس میں سے موبائل ڈھونڈ رہی تھیں کچھ دیر بعد انھیں موبائل ملا تو انہوں نے راحیل کے نمبر پر کال ملائی اور اسے بتایا کہ وہ بازار پہنچ گئے ہیں اس سے بات کرکے انہوں نے رابطہ منقطع کیا اور کنزہ کو آگے چلنے کا کہا تو اس نے اپنے قدم آگے کی جانب بڑھائے اور اردگرد کی چیزیں دیکھنے لگی۔
“ماما وہ لڑکی کل بھائی سے بات کر رہی تھی۔” اس نے سامنے کی جانب اشارہ کیا تو سدرہ بیگم نے پلٹ کر اسے دیکھا۔
“تم سیکیورٹی گارڈ سے اس کے متعلق معلومات حاصل کرو۔” انہوں نے پرسوچ انداز میں کہا۔
“ٹھیک ہے میں میسج کرکے پوچھتا ہوں۔” عماد نے کہا اور موبائل اوپن کرکے اس میں ٹائیپنگ کرنے لگا۔ اس نے میسج لکھ کر سینڈ کیا اور جواب کا انتظار کرنے لگا۔
“جو لڑکی کل فواد سے بات کر رہی تھی وہ کنزہ ریاض ہے، کراچی میں رہتی ہے، ریاض صاحب کی بیٹی ہے۔”
کچھ دیر بعد جواب موصول ہوا تو وہ مسکرانے لگا۔
“ماما۔ یہ لڑکی کنزہ ریاض ہے۔” اس نے مسکراتے ہوئے کہا تو وہ سامنے بے یقین نظروں سے دیکھنے لگیں۔
“میں تحریم سے بات کرکے آتی ہوں۔” انہوں نے فوراً کہا تو اس نے اردگرد دیکھا فیصل صاحب نے ان کے ساتھ سیکیورٹی گارڈز بھیجے تھے اس لیے اسے اس وقت کنزہ والوں سے بات کرنا مناسب نہیں لگا۔
“ماما ابھی بات کرنا مناسب نہیں ہے۔” اس نے آہستہ سے بات کی۔
“عماد وہ میری دوست ہے۔” انہوں نے نمی میں گھلی آواز میں بات کی۔
“سیکیورٹی گارڈز بابا کو بتا دیں گے۔” اس نے اردگرد دیکھا تو وہ اداس ہو گئیں۔
“اچھا۔” انہوں نے افسردگی سے کہا۔
“ماما ویسے لڑکی بہت خوبصورت ہے۔” اس نے دانت نکالتے ہوئے کہا تو وہ اسے گھورنے لگیں۔
“عماد تم خوش فہمی میں مبتلا مت ہو۔” انہوں نے اسے گھورا۔
“میں تو صرف بتا رہا ہوں لڑکی بہت خوبصورت ہے۔” اس نے کہا۔
تبھی وہ سامنے دیکھنے لگیں کنزہ کے موبائل پر کال آئی تھی جسے سننے کی غرض سے وہ سائیڈ پر گئی اور بات کرنے لگی تبھی عماد مسکراتا ہوا وہاں گیا اور اس نے جیسے ہی کال کاٹی اس سے مخاطب ہوا۔
“ایکسکیوزمی! کیا آپ نیوز اینکر ہیں؟” عماد نے بات کا آغاز کیا تو وہ ناسمجھی سے اس کی جانب دیکھنے لگی۔ وہ کالے رنگ کی شرٹ پر کالے رنگ کی پینٹ زیب تن کئے، سفید رنگت، براؤن آنکھیں وہ اس سے بات کر رہا تھا۔
“جی لیکن آپ کیوں پوچھ رہے ہیں؟” کنزہ نے تجسس کے سبب پوچھا تو وہ اردگرد دیکھنے لگا اور جواب سوچنے لگا۔
“مجھے آپ سے آٹو گراف لینا ہے۔” اس نے کچھ دیر کی توقف کے بعد کہا تو وہ عجیب نگاہوں سے اسے دیکھنے لگی وہ اتنی مشہور نہیں تھی کہ اس سے آٹوگراف لیا جائے تو پھر وہ لڑکا کیوں آٹوگراف لینے آیا تھا اسے سمجھ نہیں آئی۔
“نیوز اینکرز سے بھی آٹوگراف لیا جاتا ہے کیا؟” اس نے سوال پوچھا تو وہ ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگا۔
“نیوز اینکرز پسندیدہ ہوں تو ان سے آٹوگراف لیا جاتا ہے۔” اس نے خوشی سے جواب دیا تو وہ ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی۔ اس سے قبل کہ وہ کچھ کہتی سدرہ بیگم وہاں آئیں۔
“عماد گھر چلیں؟” انہوں نے مصروف انداز میں پوچھا تو وہ ان کی طرف دیکھنے لگی۔
“جی ماما بس نیوز اینکر سے آٹو گراف لے لوں پھر گھر چلتے ہیں۔” اس نے کہا اور سیکیورٹی گارڈ کو بلا کر اس سے پین مانگا تو اس نے پین دیا جبکہ اس کے پاس فیصل صاحب کی کمپنی کا جو کارڈ پڑا تھا وہ اسے دیا اور اسے آٹو گراف دینے کا کہا وہ منہ کھولے انھیں دیکھ رہی تھی۔
“کیا ہوا آپ ٹھیک تو ہیں؟” عماد نے پوچھا تو وہ ہوش کی دنیا میں واپس آئی۔
“ہاں ٹھیک ہوں۔” اس نے کہا اور اس سے کارڈ اور پین لے کر آٹو گراف دیا وہ جلد از جلد آگے جانا چاہتی تھی۔
“شکریہ!” اس نے جیسے ہی کارڈ واپس دیا عماد نے کہا۔
“کوئی بات نہیں ہے۔” کنزہ نے کہا اور آگے بڑھ گئی جبکہ وہ دونوں اسے دیکھنے لگے۔
“بہت پیاری لڑکی ہے۔” سدرہ بیگم نے مسکراتے ہوئے کہا تو اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
“تو رشتہ لے کر کب جائیں گی؟” اس نے شرارتی لہجے میں پوچھا تو وہ اسے گھورنے لگیں۔
“تم حقیقت سے آشنا ہو، رشتے کے بارے میں سوچنا بھی مت۔” انہوں نے کہا تو اس کے چہرے کی مسکراہٹ سمٹ گئی۔
“ماما۔ میں کونسا رشتہ بھیجنا چاہتا ہوں، مذاق کر رہا تھا۔” اس نے اپنے قدم کار کی جانب بڑھائے تو وہ مسکرانے لگیں۔
“اچھا۔” انہوں نے کہا تو وہ ڈرائیونگ سیٹ پر جا بیٹھا جبکہ سدرہ بیگم فرنٹ سیٹ پر بیٹھی تو اس نے ڈرائیونگ اسٹارٹ کی اور کار کو گھر کی جانب بڑھا گیا جبکہ سیکیورٹی گارڈز کی گاڑی بھی اس کی گاڑی کے پیچھے تھی۔


وہ لاؤنج میں رکھے گئے صوفے پر بیٹھی ہوئی اخبار پڑھ رہی تھی جب مردانہ آواز سن کر وہ بے یقینی سے اسے دیکھنے لگی کالے رنگ کے لباس میں ملبوس، کندھے پر شال رکھے، براؤن آنکھیں سفید رنگت، اس نے گھڑی میں ٹائم دیکھا تو وہ خود کو سنبھال کر اسے جواب دینے کا سوچنے لگی۔
“ریحان کہاں ہے؟” راحیل نے ورسٹ واٹچ میں ٹائم دیکھا۔
“وہ باہر گیا ہے۔” اس نے آہستہ سے بتایا اور اپنی نظریں اخبار پر جما لیں۔
“کب گیا ہے؟” اس نے تفتیشی انداز میں پوچھا تو اسے ناجانے کیوں خوشی محسوس ہوئی وہ اس سے بات کر رہا تھا۔
“بارہ بجے گیا تھا۔” ہانیہ نے بتایا تو اس نے موبائل میں ریحان کا نمبر ڈائل کیا اور سائیڈ پر چلا گیا اس نے جیسے ہی کال اٹینڈ کی راحیل نے اسے جلدی حویلی آنے کا کہا اور رابطہ منقطع کر دیا۔
“آپ کے لیے کھانا لے کر آؤں؟” وہ جیسے ہی جانے لگا ہانیہ نے اس سے پوچھا تو وہ پلٹ کر اسے دیکھنے لگا۔ پیلے رنگ کے لباس میں ملبوس، سر پر دوپٹہ پہنے، گندمی رنگت، پانچ فٹ دو انچ قد، وہ اسی کی جانب دیکھ رہی تھی اس نے اپنی نظروں کا زاویہ تبدیل کیا۔
“ہاں۔” اس نے نارمل انداز میں کہا اور ڈائیننگ ٹیبل کی جانب بڑھ گیا اس نے صبح ناشتہ کیا تھا اس لیے اس وقت اسے بھوک لگی تھی وہ کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گیا تو ہانیہ کھانا لینے کی غرض سے کچن میں چلی گئی اس کے چہرے سے خوشی عیاں تھی۔
کچھ دیر بعد وہ لوازمات سے بھرا ٹرے لے کر آئی اور ٹیبل پر رکھا تو راحیل نے پلیٹ اٹھا کر اس میں کھانا نکالا وہ وہی پر کھڑی تھی اس نے ناسمجھی سے اسے دیکھا تو وہ اردگرد دیکھنے لگی۔
“تم یہاں کیوں کھڑی ہو؟” راحیل نے پوچھا تو وہ گڑبڑا گئی۔
“ایسے ہی۔” اسے جو سمجھ آیا بول دیا جبکہ وہ اسے گھورنے لگا۔
“وہ میں چلتی ہوں۔” اس نے جلدی میں کہا اور اپنے قدم کچن کی جانب بڑھائے جبکہ وہ نفی میں سر ہلاتا ہوا کھانا کھانے لگا۔


دوپہر کا وقت تھا وہ دونوں شاپنگ بیگز ہاتھ میں پکڑے حویلی کے اندر داخل ہوئیں تو اجمل صاحب اور ریاض صاحب لاؤنج میں بیٹھے ہوئے محوِ گفتگو تھے۔ انھیں دیکھ کر ان کی طرف متوجہ ہوئے۔
“تم دونوں کہاں گئی تھیں؟” اجمل صاحب نے سنجیدگی سے پوچھا۔
“بازار گئی تھیں، ہم نے ریاض کو بتایا تھا۔” تحریم بیگم نے کہا تو اجمل صاحب نے ریاض صاحب کی جانب دیکھا انہوں نے اثبات میں سر ہلایا۔
“کنزہ تم نے سیکیورٹی گارڈز کو بازار چلنے سے منع کیوں کیا؟” اجمل صاحب نے سوال پوچھا۔
“تایا ابو مجھے ماما کے ساتھ بازار جانا تھا اس لیے انھیں منع کیا۔” اس نے بتایا۔
“یہ سکھر شہر ہے، تم جانتی ہو ہمارے دشمن ہم پر حملہ کر سکتے ہیں پھر بھی ایسی حرکتیں کر رہی ہو۔” انہوں نے غصے میں کہا تو وہ ناسمجھی سے انھیں دیکھنے لگی۔
“تایا ابو ہم بازار گئے تھے، آپ اتنی سی بات پر غصہ کر رہے ہیں۔” اس نے کہا وہ تھک گئی تھی اور اس وقت آرام کرنا چاہتی تھی۔
“کنزہ تم کمرے میں جاؤ۔” اس کی بات سن کر ریاض صاحب نے کہا تو وہ کچھ دیر تو وہاں کھڑی رہی اس کے بعد سیڑھیوں کی جانب بڑھ گئی جبکہ وہ اجمل صاحب کو سمجھانے لگے۔ تحریم بیگم نے دیکھا وہ اب نارملی بات کر رہے تھے اس لیے وہاں سے چلی گئیں۔
 
شام کے چھ بج رہے تھے وہ کمرے میں بیٹھی ہوئی تھی۔ اس کا موبائل مسلسل بج رہا تھا۔ اس نے ٹیبل سے موبائل اٹھایا اور نمبر دیکھا اس کے آفس سے کال تھی اس نے کچھ دیر سوچنے کے بعد اٹینڈ کی تو اس طرف سے آواز آئی۔
“کنزہ کب واپس آؤ گی؟ تم نے ٹاک شو بھی کرنا ہے۔” اس طرف سے پوچھا گیا۔
“کچھ دن بعد واپسی ہے، ٹاک شو تو اگلے مہینے سے چینل پر اسٹارٹ ہوگا تم پریشان کیوں ہو رہی ہو۔” اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔
“آفس میں آج بات ہو رہی تھی تم کچھ دنوں تک واپس نہیں آئی تو وہ کسی اور کو ٹاک شو کرنے کا کہیں گے۔” اس لڑکی نے بتایا تو اسے اب پریشانی ہونے لگی۔
“میں کال کرکے پوچھتی ہوں، وہ ایسا نہیں کر سکتے۔” اس نے کہا اور کال کاٹ دی اسے اس وقت غصہ آرہا تھا اس نے بیڈ سے اٹھ کر نمبر ڈائل کیا کال جا رہی تھی مگر اس طرف سے اٹینڈ نہیں کی گئی تو کنزہ نے غصے میں بیڈ پر موبائل رکھا اور چپل پہن کر کمرے سے باہر نکل گئی۔
سب لاؤنج میں بیٹھے ہوئے محوِ گفتگو تھے وہ کمرے سے باہر تو آئی تھی مگر سب کو باتیں کرتے ہوئے دیکھ کر اس نے واپس جانا ہی بہتر سمجھا وہ جیسے ہی پلٹی ریحان نے اسے بلایا۔
“کزن صاحبہ کیا ہوا ہے؟” اس نے تجسس کے سبب پوچھا۔
“کچھ نہیں ہوا۔” اس نے لفظوں کو چباتے ہوئے کہا تو اس نے مسکراتے ہوئے اسے دیکھا۔
“میرا ایک کام کرو گی کیا؟” اس نے سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا تو اسے غصہ ہی آگیا۔
“نہیں۔” اس نے کہا اور جیسے ہی جانے لگی ریحان نے اس کا راستہ روکا۔
“نیوز اینکر ہو، میرا کام کرلو اس کے بدلے میں تمہیں پیسے دے سکتا ہوں۔” اس نے آفر دی تو اسے فواد کی بات یاد آئی وہ اس سے کہتا تھا اس نے ریحان کے کہنے پر وہ نیوز نشر کروائی ہے تو اس وجہ سے کہتا تھا ریحان پیسے دے کر چینل پر خبریں دیتا تھا اس لیے اسے بھی کہہ رہا تھا۔ اسے غصہ ہی آگیا۔
“میں تمہارا کام نہیں کروں گی، اور یہ پیسوں کی آفر اپنے پاس رکھو یہ مت سمجھو کہ میں پیسوں کی خاطر تمہارا ساتھ دوں گی۔” کنزہ نے دبی ہوئی آواز میں کہا تو اس کے چہرے پر مسکراہٹ آئی وہ غصے میں اسے دیکھنے لگی۔
“سوچ سمجھ کر جواب دینا، میں تمہیں ویڈیو دوں گا تم نے چینل پر نشر کروانی ہے۔” ریحان نے اسے پھر سے کہا تو وہ حیرانی سے اسے دیکھنے لگی
“میں تایا ابو کو جاکر بتاتی ہوں تم دوسروں کو بلیک میل کرنے کے لیے نیوز چینل پر ویڈیو دیتے ہو۔” اس نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا اور وہاں سے جانے لگی جب اس نے اسے روکا۔
“تم مجھے دھمکی دے رہی ہو، جاکے بابا کو شکایت لگاؤ وہ مجھے کچھ نہیں کہیں گے۔” ریحان نے بتایا تو اسے غصہ ہی آگیا۔
“تم بہت بدتمیز انسان ہو، میں بابا کو بتاؤں گی۔”
اس نے غصے میں جتایا۔
“تم نے چاچو کو بتایا تو میں بھی انھیں بتاؤں گا تم فواد میر سے بات کر رہی تھی اس لیے سوچ سمجھ کر بتانا۔” ریحان نے کہا اور وہاں سے چلا گیا جبکہ وہ غصے میں اسے کوسنے لگی۔


رات کے دس بج رہے تھے وہ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے سائیڈ ٹیبل سے موبائل اٹھایا اور اس میں فواد کا نمبر ڈائل کیا۔ کال جا رہی تھی اس طرف سے اٹینڈ کی گئی۔
“ایس ایچ او صاحب کال کیوں کی ہے؟” اس طرف سے پوچھا گیا تو وہ مسکرانے لگا۔
“تم پر کیس کیا تھا مگر پھر بھی تم اپنی حرکتوں سے باز نہیں آئے۔” اس نے اپنا غصہ ضبط کیا۔
“تم اسمگلنگ کرنا چھوڑ دو تو میں اپنی حرکتوں سے باز آجاؤں گا۔” فواد نے ریستوران سے نکلتے ہوئے کہا اور کار کی جانب بڑھ گیا۔ اس کی بات سن کر اسے غصہ ہی آگیا۔
“فواد میر تم پولیس کی نوکری چھوڑ دو تو میں اسمگلنگ کرنا چھوڑ دوں گا۔” اس کی بات سن کر فواد کے ہونٹوں کی مسکراہٹ سمٹ گئی۔
“میں نوکری نہیں چھوڑوں گا سمجھے؟” اس نے دبی ہوئی آواز میں کہا تو اس نے قہقہہ لگایا۔
“اچھا۔ پھر میں بھی اسمگلنگ نہیں چھوڑوں گا۔”
اس کا انداز چڑانے والا تھا اس نے رابطہ منقطع کر دیا تو وہ مسکرانے لگا اس نے بیڈ پر موبائل رکھا اور سونے کی غرض سے آنکھیں موند لیں۔


رات کے بارہ بج رہے تھے وہ کھڑکی سے گھر کے اندر داخل ہوا سب سو رہے تھے اس لیے اس نے کھڑکی سے آنا ہی ٹھیک سمجھا تھا وہ لاؤنج میں داخل ہوا تھا ساری لائٹس بند تھیں اس نے اپنے قدم سیڑھیوں کی جانب بڑھائے اور اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا
وہ جیسے ہی کمرے میں آیا اس نے لائٹس آن کیں اور ٹیبل پر فون رکھ کر ڈریسنگ ٹیبل کی جانب بڑھ گیا اس نے ورسٹ واٹچ رکھی اور سائیڈ پر جاکر شوز رکھے۔ وہ سارا دن دوستوں کے ساتھ گھوما تھا جس کے باعث اس وقت تھک چکا تھا اس لیے بیڈ پر آکر لیٹ گیا اس نے جیسے ہی سونے کی غرض سے آنکھیں بند کیں اس کے سامنے غصے سے بھرا چہرہ آیا اس نے جلدی سے آنکھیں کھول دیں۔
“یہ مس اینکر صاحبہ کیوں میرے خیالوں میں آرہی ہے۔” وہ آہستہ سے بڑبڑایا تھا۔
اس نے اپنے خیالوں کو جھٹکا اور آنکھیں موند لیں تھکاوٹ کے باعث اسے جلدی نیند آگئی تھی۔

صبح کا آغاز چڑیوں کی چہچہاہٹ سے ہوا وہ نیند سے بیدار ہوئی اور واڈروب میں سے کپڑے نکال کر واش روم کی جانب بڑھ گئی۔ کچھ دیر بعد وہ تیار ہو کر باہر آئی اور ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی ہو گئی۔ نیلے رنگ کی شرٹ پر کالے رنگ کی پینٹ زیب تن کئے، بالوں کو کھلا چھوڑے
اس نے ٹیبل سے کنگھی اٹھائی اور بالوں میں کرنے لگی کندھے تک آتے ریشمی بال وہ اکثر کھلے چھوڑتی تھی اس نے کنگھی کو رکھا اور میک اپ کرنے لگی۔ ڈارک ریڈ لیپسٹک لگا کر اس نے بیڈ سے
شال اور چشمہ اٹھایا اور شوز پہن کر کمرے سے باہر نکل گئی۔
“تائی امی ماما کہاں ہیں؟” اس نے لاؤنج میں آکر پوچھا جہاں اجمل صاحب اور ریاض صاحب بیٹھے ہوئے تھے جبکہ وہ کچن میں جا رہی تھیں کنزہ نے انھیں روکتے ہوئے پوچھا۔
“اپنے کمرے میں ہے، تم بیٹھو میں ناشتہ لے کر آتی ہوں۔” انہوں نے کہا۔
“تائی امی میں ماما سے بات کرکے آرہی ہوں۔” اس نے مسکراتے ہوئے کہا اور سیڑھیوں کی جانب بڑھ گئی۔
“ماما میں باہر جانا چاہتی ہوں، آپ بابا سے اجازت لے کر دیں۔” اس نے کمرے کے اندر داخل ہو کر کہا تو تحریم بیگم اس کی جانب دیکھنے لگیں۔
“میں ریاض سے پوچھتی ہوں، تم نے ناشتہ کیا؟” انہوں نے بیڈ سے اٹھ کر دریافت کیا۔
“ماما میں نے ناشتہ نہیں کیا، ابھی جاکر کروں گی۔” کنزہ نے بتایا۔
“اچھا چلو۔” وہ دروازے کی جانب بڑھیں۔
“ماما۔ تایا ابو، بابا کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں وہ بابا کو منع تو نہیں کریں گے؟” وہ کمرے سے باہر آکر پوچھنے لگی۔
“میں ان کو بتاؤں گی تم نیوز اینکر ہو اس لیے تمہیں ویڈیو بنانے جانا ہے تاکہ تم وہ ویڈیو اپنے ٹاک شو میں دکھا سکو۔” تحریم بیگم نے سیڑھیوں سے اترتے ہوئے کہا تو اسے خوشی محسوس ہوئی۔
“تھینک یو ماما۔” اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔
“تم ناشتہ کرو، میں ریاض سے پوچھتی ہوں۔” انہوں نے کہا اور چلی گئیں جبکہ وہ ڈائیننگ ٹیبل کی جانب آئی اور کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گئی۔


صبح کے دس بج رہے تھے وہ ہاتھ میں کیمرہ لیے اردگرد دیکھ رہی تھی۔ ریاض صاحب نے اسے باہر جانے کی اجازت دے دی تھی اس نے کیمرہ آن کیا اور ویڈیو بنانے لگی ساتھ ساتھ وہ بول بھی رہی تھی۔
“تم یہاں کی ویڈیو بنا کر نیوز میں دو گی؟” فواد میر کی آواز سن کر وہ پلٹ کر پیچھے دیکھنے لگی وہ سفید رنگ کا لباس زیب تن کئے، کالے رنگ کی شال کندھے پر رکھے اسے دیکھ رہا تھا۔
“نیوز میں نہیں دوں گی، میں ٹاک شو کرتی ہوں اس میں دکھاؤں گی۔” اس نے بتایا تو اسے ہنسی آئی جسے بروقت اس نے قابو کیا جبکہ کنزہ کو لگا وہ اس کا تمسخر اڑا رہا ہے۔
“اس میں ہنسنے والی بات تو نہیں ہے۔” اس نے لفظوں کو چباتے ہوئے کہا۔
“اچھا۔ تم نیوز اینکرز کی زندگی صرف خبریں اکھٹی کرنے میں گزرتی ہے کیا؟ کہیں جاؤ وہاں کی ویڈیو بنا کر چینل پر دیتے ہو، کوئی بات کرے اس کی ویڈیو بنا کر نیوز میں دے دیتے ہو، مطلب جہاں جاؤ صرف خبریں ہی اکھٹی کرتے رہو۔” اس نے چڑاتے ہوئے کہا تو اسے غصہ ہی آگیا۔
“تم پولیس آفیسرز کی زندگی صرف پیسے اکھٹے کرنے میں ہی گزرتی ہے، ہم تو نیوز اکھٹی کرتے ہیں جو کہ میرے لیے خوشی کا باعث ہے۔” کنزہ نے فخریہ انداز میں کہا جبکہ پیسوں کی بات سن کر اسے غصہ ہی آگیا۔
“اپنی حد میں رہو سمجھی؟ یہ پیسے لینے والا الزام پولیس آفیسرز پر تم نیوز اینکرز ہی لگاتے ہو، جبکہ ایسا نہیں ہے۔” فواد نے اپنے غصے پر ضبط کیا تو وہ مسکرانے لگی۔
“تم نے نیوز اینکرز کے بارے میں کہا میں نے برداشت کیا، تو اب تم بھی برداشت کرو۔” اس نے تسلی سے کہا اور آگے بڑھ گئی جبکہ وہ اپنے غصے
پر قابو کرتے ہوئے جیسے ہی جانے لگا جب اس کی نظر سامنے رکھے ہوئے موبائل پر گئی وہ کیمرے میں ویڈیو بناتے وقت موبائل کو نیچے گھاس میں رکھ کر اٹھانا بھول گئی تھی فواد نے موبائل اٹھایا اور سامنے دیکھنے لگا وہ وہاں سے چلی گئی تھی اس نے اپنے قدم کار کی جانب بڑھائے اور کار میں آکر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا
اس نے موبائل کو دیکھا اور کار کو آگے کی جانب بڑھا گیا۔
وہ کیمرہ اور پرس اٹھائے اردگرد دیکھتی ہوئی چل رہی تھی اسے ریستوران جانا تھا مگر اسے راستے کا پتا نہیں تھا وہ اپنے ہی خیالوں میں جا رہی تھی جب اسے کار کے ہارن کی آواز سنائی دی اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو اسے غصہ آگیا وہ سائیڈ پر چلنے لگی۔ فواد نے کار کو روکا اور باہر نکل آیا اس نے اپنے قدموں کی رفتار بڑھائی۔
“مس اینکر صاحبہ رکو۔” اس نے بلایا مگر وہ نظرانداز کر گئی اور چلنے لگی۔
“میری بات تو سنو۔” فواد نے اس کے پیچھے چلتے ہوئے کہا تو وہ رک گئی۔
“نیوز اینکرز کے بارے میں بات کرنی ہے؟” اس نے گھورتے ہوئے پوچھا تو وہ نفی میں سر ہلا گیا۔
“تمہارا موبائل دینا ہے، تم وہاں بھول کر آئی تھی۔” فواد نے اسے موبائل دکھایا تو وہ دیکھنے لگی اس کا موبائل تھا اسے شرمندگی محسوس ہوئی وہ کب سے اسے نظرانداز کر رہی تھی۔
اس نے آگے بڑھ کر موبائل لیا اور اردگرد دیکھنے لگی اس وقت روڈ پر کوئی نہیں تھا اور وہ پیدل ہی آگئی تھی۔
“تم کہاں جا رہی ہو؟” اس نے سوالیہ نگاہوں سے دیکھتے ہوئے پوچھا تو اس کا دل چاہا اسے نظرانداز کرکے وہاں سے چلی جائے مگر فواد نے اس کا موبائل دیا تھا اس لیے اس نے غصے پر ضبط کیا۔
“مجھے ریستوران جانا ہے، کیا تمہیں راستہ پتا ہے؟” اس نے اپنے بالوں کو کان کے پیچھے کیا تو اس نے نظریں اردگرد دوڑائیں۔
“ریستوران تو یہاں سے کافی دور ہے، تمہیں کار میں جانا پڑے گا۔” فواد نے بتایا تو اس نے حیرانی سے اسے دیکھا۔
“یہاں سے کار نہیں ملتی کیا؟” کنزہ نے ناسمجھی سے پوچھا۔
“کار یہاں سے ملتی ہے لیکن اس کے لیے تمہیں کافی انتظار کرنا پڑے گا اگر تمہیں ابھی جانا ہے تو میں تمہیں ڈراپ کر دیتا ہوں میں ریستوران ہی جا رہا تھا۔” اس نے کہا تو وہ گہری سوچ میں مبتلا ہو گئی یہ کیوں مجھے ڈراپ کرنا چاہتا ہے کہیں مجھے اغوا تو نہیں کرے گا، اسے لگتا ہے میں نے اس کے بابا کے خلاف خبر نشر کروائی تھی۔ وہ سوچنے لگی۔
“کیا ہوا؟ تمہیں نہیں جانا تو حویلی واپس چلی جاؤ یہاں پر اس وقت کھڑے رہنا مناسب نہیں ہے۔” فواد نے اسے دیکھتے ہوئے کہا وہ نیلے رنگ کی شرٹ پر کالے رنگ کی پینٹ زیب تن کئے، بالوں کو کھلا چھوڑے، ہاتھ میں پرس اور موبائل پکڑے اپنی جانب متوجہ کرنے کا سبب بن رہی تھی اس لیے اس نے کہا۔
“مجھے ریستوران جانا ہے کیونکہ پھر بابا مجھے باہر آنے کی اجازت نہیں دیں گے۔” اس نے بتایا۔
“اچھا تو کار میں بیٹھ جاؤ۔” فواد نے کہا اور ڈرائیونگ سیٹ پر جا بیٹھا جبکہ وہ کچھ دیر سوچنے کے بعد بیک سیٹ پر جا بیٹھی تو اس نے کار کو آگے بڑھایا۔
پندرہ منٹ کی مسافت کے بعد اس نے کار کو ریستوران کے سامنے روکا اور باہر نکل آیا جبکہ وہ بھی دروازہ کھول کر باہر آئی اس نے پرس سے کیمرہ نکالا اور اسے آن کرکے آہستہ سے چلتی ہوئی ویڈیو بنانے لگی یہ سکھر شہر کا مشہور ریستوران تھا لوگ دور دراز سے یہاں آتے تھے۔ ایک طرف پارکنگ ایئریا تھا کچھ لوگ ریستوران سے باہر نکل رہے تھے وہ ویڈیو بنا رہی تھی جب اچانک اس کی نظر سامنے کی جانب گئی وہ ریستوران سے باہر نکل کر پارکنگ ایئریا میں آیا اور موبائل استعمال کرنے لگا اس نے کیمرے کو آف کیا اور پیچھے مڑ کر آئی اور کار میں جا بیٹھی وہ جو کار کو ٹیک لگائے کھڑا تھا ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگا اچانک اسے کیا ہوا تھا جو وہ کار میں جا بیٹھی تھی وہ پوچھنے کی غرض سے شیشے کی جانب آیا۔
“کیا ہوا؟ تم واپس کیوں آگئی؟” اس نے سوالیہ نگاہوں سے دیکھتے ہوئے پوچھا تو وہ گڑبڑا گئی۔
“مجھے کچھ دیر بیٹھنا ہے۔” اس نے جواباً کہا۔
“اچانک تمہیں کچھ دیر بیٹھنا ہے، کیا وجہ ہے؟” فواد نے تفتیشی انداز میں پوچھا تو اس نے غصے میں اسے گھورا۔
“پارکنگ ایئریا میں ریحان کھڑا ہے، اس نے مجھے یہاں دیکھا تو راحیل اور تایا ابو کو بتائے گا تاکہ وہ مجھ پر غصہ کریں جبکہ میں ماما، بابا سے پرمیشن لے کر آئی ہوں۔” اس نے بے دھیانی میں بتایا تو وہ پارکنگ ایئریا کی طرف دیکھنے لگا جہاں ریحان کھڑا تھا۔
“ایسا ہے تو میں اسے ابھی جاکر بتاتا ہوں، تمہاری کزن یہاں ہے۔” اس نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا تو اس نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔
“جاکر اسے بتاؤ میں اسے جواب دے دوں گی۔” اس نے غصے میں کہا اور کار سے باہر نکل آئی۔
ریحان کال پر بات کرتا ہوا کار میں جا بیٹھا اور کار کو آگے بڑھا گیا جبکہ اس نے پلٹ کر فواد کو گھورا اور اپنے قدم آگے بڑھا گئی وہ کچھ دیر تو وہاں کھڑا رہا پھر اپنے دوست کے نمبر پر کال کرنے لگا اس نے جیسے ہی کال اٹینڈ کی فواد نے اس سے پوچھا تو اس نے بتایا وہ ریستوران آگیا ہے اس نے جواب دے کر رابطہ منقطع کیا اور کار کی چابی اٹھا کر ریستوران کی جانب بڑھ گیا۔
وہ ریستوران کے اندر داخل ہوئی اور چاروں اطراف نظر گھمانے لگی۔ بڑا سا ہال نما ریستوران تھا سائیڈ پر سیڑھیاں تھیں جیسے ہی اندر داخل ہو وہاں پر کاؤنٹر بنا ہوا تھا۔ اردگرد ٹیبلز رکھی ہوئیں تھیں اس نے کاؤنٹر پر جاکر اپنے بارے میں بتایا اور ویڈیو بنانے کی اجازت طلب کی تو انہوں نے اجازت دے دی۔ اس نے کیمرہ میں کچھ تصاویر قید کیں اور ویڈیو بنانے لگی وہاں بیٹھے ہوئے لوگ اسے دیکھ رہے تھے اس نے ویڈیو بنا کر کیمرہ پرس میں رکھا اور آگے بڑھ کر کرسی پر بیٹھ گئی۔ ریستوران کا پرسکون ماحول اسے اچھا لگ رہا تھا اس نے ویٹر کو بلا کر کھانا آرڈر کیا اور موبائل استعمال کرنے لگی وہ جو ریستوران کے اندر داخل ہوا تھا اسے دیکھ کر نفی میں سر ہلا کر آگے بڑھ گیا۔
“کیسے ہو؟” اس نے اپنے دوست سے پوچھا جو کب سے اس کا انتظار کر رہا تھا۔
“میں ٹھیک ہوں، تم دیر سے کیوں آئے ہو؟” اس نے دریافت کیا تو وہ سامنے دیکھنے لگا جہاں کنزہ بیٹھی ہوئی موبائل استعمال کر رہی تھی۔
“میں کب سے آگیا تھا باہر کھڑا تھا۔” فواد نے بتایا۔
“باہر کیوں کھڑے تھے؟” اس کے دوست نے وجہ پوچھی۔
“تم اس بات کو چھوڑو اور یہ بتاؤ میں نے جو کام تمہیں دیا تھا اس کا کیا ہوا؟” فواد نے اس کی بات کو نظرانداز کیا۔
“میں نے اپنے آدمیوں کو کہا ہے وہ ریحان کا پیچھا کرتے ہیں لیکن ابھی تک انھیں یہ پتا نہیں چلا وہ کس کے ساتھ ملا ہوا ہے۔” اس نے بتایا۔
“جیسے ہی تمہیں پتا چلے مجھے اطلاع دے دینا۔”
فواد نے کہا تو اس نے اثبات میں سر ہلایا اور کھانے کا آرڈر دیا جبکہ وہ ترچھی نظروں سے بائیں جانب دیکھنے لگا وہ بریانی کھا رہی تھی۔
“کیا ہوا؟ کسے دیکھ رہے ہو؟” اس کے دوست نے مسکراتے ہوئے پوچھا
“ایسی کوئی بات نہیں ہے۔” وہ گڑبڑا گیا
“اچھا تو پھر کیسی بات ہے؟” اس نے شرارتی انداز میں پوچھا تو اس نے غصے میں اسے گھورا۔ تبھی ویٹر نے ان کی ٹیبل پر کھانا رکھا اور وہاں سے چلا گیا۔
“ویسے تم کہو تو میں اس لڑکی سے بات کرکے آؤں؟” اس نے اپنی مسکراہٹ دبائی اور سامنے کی جانب دیکھا جہاں کنزہ بریانی کھانے میں مصروف تھی۔
“تم ادھر دیکھنا بند کرو اور کھانا کھا کر یہاں سے جاؤ، جب دیکھو کسی نہ کسی کو دیکھ رہے ہوتے ہو۔” فواد نے ڈپٹنے کے انداز میں کہا اور بریانی کھانے لگا جبکہ وہ اثبات میں سر ہلا گیا۔
وہ ریستوران سے باہر آئی تو اس وقت وہاں کم لوگ تھے اس نے اردگرد دیکھا اور عورت کی جانب گئی جو سائیڈ پر کھڑی کال پر بات کر رہی تھی اس نے جیسے ہی کال کاٹی کنزہ نے بولنا شروع کیا۔
“کیا آپ بتا سکتی ہیں اجمل حویلی کونسی گاڑی جائے گی؟” کنزہ نے سوالیہ نگاہوں سے دیکھتے ہوئے پوچھا وہ فواد کے ساتھ آئی تھی مگر اسے واپس خود جانا تھا اس لیے وہ پوچھنے لگی۔
“مجھے یہاں کے راستوں کا پتا نہیں ہے۔” اس نے شرمندگی سے کہا۔
“کوئی بات نہیں ہے۔” کنزہ نے مسکراتے ہوئے کہا اور اردگرد دیکھنے لگی تبھی اس کی نظر فواد پر پڑی جو اسی کی طرف دیکھ رہا تھا اسے دیکھ کر اس نے اپنے قدم روڈ کی جانب بڑھائے اور چلنے لگی تو وہ اس کے پیچھے آیا۔
“مس اینکر صاحبہ تم ان سے کیا پوچھ رہی تھی؟” فواد نے اس سے پوچھا۔
“اب تمہیں یہ بھی بتاؤں میں اس سے کیا پوچھ رہی تھی؟” اس نے پلٹ کر غصے میں کہا تو وہ رک گیا۔
“ہاں مجھے بتاؤ۔” اس نے دونوں بازو فولڈ کئے اور اسے دیکھنے لگا۔
“میں نے ان سے صرف راستہ پوچھا تھا، تمہارے بارے میں کچھ نہیں پوچھا جو تم پوچھ رہے ہو۔” اس نے لفظوں کو چباتے ہوئے کہا تو فواد نے غصے میں اسے دیکھا۔
“تمہیں راستہ پتا نہیں تو گھر سے باہر کیوں نکلی تھی؟” اس نے سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا۔
“زندگی میں ہر راستے کا ہمیں پتا نہیں ہوتا، خود ڈھونڈنا پڑتا ہے اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم گھر میں ہی بیٹھ جائیں۔” کنزہ نے اسے کہا اور اپنے قدم آگے بڑھائے۔
“تم کار میں بیٹھو میں تمہیں گھر تک چھوڑ دوں گا۔” اس نے بلایا مگر وہ رکی نہیں۔
“میں چلی جاؤں گی، ویسے بھی تم کچھ دیر قبل مجھ پر طنز کر رہے تھے اس لیے میں نہیں جاؤں گی۔” اس نے چلتے ہوئے کہا تو فواد نے موبائل میں ٹائم دیکھا وہ صبح دس بجے نکلے تھے
اس وقت ساڑھے بارہ بج رہے تھے۔
“تمہیں دیر ہو جائے گی، کار میں بیٹھو۔” اس نے اب غصے میں کہا تو کنزہ نے اپنے قدم روکے اور ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی۔
“مجھے نہیں جانا، تم چلے جاؤ۔” اس نے کہا تو وہ استہزائیہ ہنسنے لگا اس نے غور سے اسے دیکھا۔
“تم جب آرہی تھی تب تو اتنے نخرے نہیں دکھائے تھے خاموشی سے کار میں بیٹھ گئی تھی اب یہ سب کرنے کی وجہ بتا سکتی ہو؟” فواد نے دبی ہوئی آواز میں پوچھا وہ جو اس کی مسکراہٹ دیکھ رہی تھی اسے غصے میں دیکھ کر اس نے اردگرد دیکھا۔
“تمہارے اسی طنزیہ لہجے کی وجہ سے مجھے ابھی تمہاری کار میں نہیں جانا۔” اس نے بتایا۔
“زندگی کی راہ میں کچھ مخلص لوگ مل جاتے ہیں، ان پر اعتماد کرکے ان کے ساتھ سفر طے کر لینا چاہیے ایسے مخلص لوگ بہت کم ملتے ہیں جو راہ میں آپ کو چھوڑنے کے بجائے ساتھ رہیں۔” فواد کی گہری بات سن کر اس نے اپنے قدم روکے اور پلٹ کر اسے دیکھنے لگی وہ غصے میں اسے نظرانداز کرکے کار کی ڈرائیونگ سیٹ پر جا بیٹھا جبکہ وہ کشمکش میں مبتلا ہو کر رہ گئی تو فواد نے کار کا ہارن بجایا اس نے آہستہ سے قدم بڑھائے اور کار کو دیکھنے لگی وہ کار میں بیٹھا ہوا اسی کا انتظار کر رہا تھا اس نے وہاں پہنچ کر بیک سیٹ کا دروازہ کھولا اور خاموشی سے بیٹھ گئی تو فواد نے اپنی نظریں ڈرائیونگ پر مرکوز کر لیں۔
وہ کار میں بیٹھی ہوئی باہر کے مناظر دیکھ رہی تھی جب اس کے موبائل کی رنگ ٹون بجی اس نے پرس سے موبائل نکالا اور نمبر دیکھا تحریم بیگم کے نمبر سے کال تھی اس نے اٹینڈ کی۔
“کنزہ کہاں ہو؟ ہم کب سے تمہارا انتظار کر رہے ہیں؟” انہوں نے پوچھا تو اس نے باہر دیکھا۔
“ماما میں آرہی ہوں، کیا ہوا؟ سب ٹھیک تو ہے؟”
اس نے پریشانی سے پوچھا۔
“ہم رات کو کراچی کے لیے روانہ ہوں گے اس لیے تمہارا انتظار کر رہے تھے تم واپس آکر اپنا سامان پیک کر لینا۔” تحریم بیگم نے بتایا تو وہ حیران رہ گئی۔
“ماما اچانک کراچی کیوں جائیں گے؟” اس نے فوراً پوچھا۔
“ریاض کی کمپنی میں کچھ مسئلہ ہوا ہے، اس لیے جلدی جانا ہے۔” ان کی بات سن کر وہ پریشان ہو گئی تحریم بیگم نے اس سے بات کرکے کال کاٹی جبکہ وہ اداسی سے باہر دیکھنے لگی فواد نے اس کی طرف دیکھا وہ تھکی ہوئی اور پریشان لگ رہی تھی اس نے اپنی نظریں سامنے کیں اور کار کو روکا تو کنزہ نے سامنے دیکھا اجمل
حویلی کے باہر سیکیورٹی گارڈز کھڑے تھے وہ پرس اٹھا کر باہر نکلی تو فواد کار کو آگے بڑھا گیا۔



دوپہر کا وقت تھا وہ کب سے موبائل ہاتھ میں پکڑے کال ملا رہی تھی مگر جواب ندارد اس نے غصے میں موبائل کو ٹیبل پر پٹخا اور صوفے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی اس نے رضوان کو ریستوران چلنے کا کہا تھا وہ جانے کے لیے تیار تھی لیکن وہ کال نہیں اٹھا رہا تھا اسے غصہ آنے لگا اس نے سارہ کو بھی ریستوران جانے کے لیے منایا تھا وہ گہری سوچ میں مبتلا تھی تبھی رنگ ٹون کی آواز گونجی اس نے آگے بڑھ کر موبائل اٹھایا اور نمبر دیکھا رضوان کی کال تھی اس نے اٹینڈ کی۔
“پولیس آفیسر رضوان کال کیوں نہیں اٹھا رہے تھے؟” اس نے تفتیشی انداز میں پوچھا تو اسے ہنسی تو بہت آئی جسے بروقت وہ قابو کر گیا۔
“آفس میں کچھ کام تھا اس لیے کال نہیں اٹھائی۔” اس نے بتایا اور آفس سے باہر نکل کر کار کی جانب بڑھا اس نے کچھ دیر قبل کانسٹیبل کو بتا دیا تھا اس کی ڈیوٹی کا وقت ختم ہو گیا ہے۔
“تم بھول گئے کیا ہمیں ریستوران جانا ہے، میں کب سے تمہیں کال کر رہی تھی اور تم نظرانداز کر رہے تھے۔” وردہ نے لفظوں کو چباتے ہوئے کہا تو وہ کار میں بیٹھ گیا اور ڈرائیونگ اسٹارٹ کی۔
“مجھے یاد تھا ریستوران جانا ہے، فائل کی اسٹڈی کر رہا تھا۔” اس نے کار کو ٹرن کیا۔
“اچھا۔ میری دوست سارہ بھی ریستوران چلے گی، اس کے گھر بھی جانا ہے جلدی آنا۔” وردہ نے یاد آنے پر بتایا۔
“ٹھیک ہے۔” رضوان نے کہا اور رابطہ منقطع کیا جبکہ وہ وجہیہ بیگم سے اجازت لینے کی غرض سے ان کے کمرے میں چلی گئی۔
پندرہ منٹ کی مسافت کے بعد اس نے گھر کے سامنے کار روکی اور ہارن بجایا تو وہ پرس اٹھائے مسکراتی ہوئی باہر آئی۔ کالے رنگ کا لباس زیب تن کئے، دوپٹے کو سر پر پہنے، ہلکا میک اپ کئے وہ مسکراتی ہوئی فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئی تو رضوان نے کار کو آگے بڑھایا وہ نان اسٹاپ بولنا شروع ہو گئی تھی اس نے سارہ کے گھر کا راستہ بتایا اور اس سے باتیں کرنے لگی۔
“کیا ہوا ہے؟ کب سے خاموش ہو؟” وردہ نے اسے ناسمجھی سے دیکھا۔
“کچھ نہیں ہوا۔” اس نے بتایا۔
“پولیس آفیسر رضوان تم اتنے خاموش ہوتے نہیں ہو، کیا ہوا ہے؟” اس نے اسے گھورا۔
“تم اتنا بول رہی ہو مجھے بولنے کا موقع دو گی تو بولوں گا۔” رضوان نے اسے بتایا اور سارہ کے گھر کے سامنے کار روکی جبکہ وہ غصے میں اسے گھورنے لگی۔
“میں نے تمہیں بولنے سے منع تو نہیں کیا۔” وردہ نے کہا اور شیشے سے باہر دیکھنے لگی سارہ نیلے رنگ کے لباس میں ملبوس، سر پر دوپٹہ پہنے، ہاتھ میں پرس اٹھائے گھر سے باہر نکلی اور کار کی جانب آئی تو وہ دونوں اس کی جانب دیکھنے لگے۔
“اسے گھورنا بند کرو، تایا ابو کو بتاؤں گی۔” وردہ نے اسے دھمکی دی تو وہ ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگا۔
“اچھا ٹھیک ہے، تم بابا کو بتاؤ گی تو میرے لیے آسان ہو جائے گا۔” رضوان نے دانت نکالتے ہوئے کہا تو وہ منہ بنا کر رہ گئی۔
“زیادہ خوش فہمی میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ہے، سارہ کا رشتہ ہو گیا ہے اس کی شادی ہونے والی ہے۔” وردہ کی بات سن کر اس نے حیرانی سے اسے دیکھا تو وہ زور سے ہنسنے لگی۔
“سارہ تم تو بہت خوبصورت لگ رہی ہو۔” وہ جیسے ہی آئی وردہ نے بلند آواز میں کہا۔
“شکریہ!” اس نے کہا اور بیک سیٹ پر بیٹھ گئی تو رضوان نے ڈرائیونگ اسٹارٹ کی۔
آدھے گھنٹے کی مسافت کے بعد وہ ریستوران پہنچ گئے تھے۔ دوپہر کے وقت ریستوران میں رش کم تھا وہ اپنی مطلوبہ جگہ پر بیٹھ گئے۔ ویٹر ان سے کھانے کا آرڈر لینے آیا تو وردہ نے اسے بتایا۔
“آج میں گھر کے لیے بھی کھانا پیک کروا کر جاؤں گی میرے کزن نے بل دینا ہے۔” وردہ کی بات سن کر اس نے موبائل سے نظریں ہٹا کر اسے دیکھا تو وہ مسکرانے لگی۔
“ایسی بات ہے تو پھر میں تمہارے ساتھ کبھی ریستوران نہیں آؤں گا۔” رضوان نے اسے بتایا اور اپنی نظریں موبائل پر مرکوز کر لیں۔
“تم لنچ کرنے آئے ہو، موبائل کیوں استعمال کر رہے ہو؟” اس نے تنگ کرنا چاہا وہ بھی ڈھیٹ تھا اس لیے تنگ نہیں ہوا۔
“تم بھی باتیں کرنے نہیں آئی ہو، ریستوران آئی ہو لنچ کرو اور چلو۔” رضوان نے موبائل کو آف کیا اور اسے کہا تو وہ غصے میں سلگ اٹھی اس سے قبل کہ وہ کچھ کہتی سارہ نے اسے خاموش کروایا۔
“تم دونوں یہاں لڑنے آئے ہو کیا؟” اس کی بات سن کر وہ پہلے تو خاموش رہے اس کے بعد زور سے ہنسنے لگے جبکہ وہ ناسمجھی سے انھیں دیکھنے لگی۔
“کیا ہوا؟” اس نے پوچھا تو انہوں نے نفی میں سر ہلایا تبھی ویٹر نے ان کی ٹیبل پر کھانا رکھا۔
“تمہاری اینکر دوست کیوں نہیں آئی؟” رضوان نے بریانی کی پلیٹ اٹھاتے ہوئے پوچھا تو وردہ نے سارہ کی طرف دیکھا۔
“وہ سکھر گئی ہے، تم کیوں پوچھ رہے ہو؟” وردہ نے جوس کا گلاس اٹھایا۔
“ایسے ہی پوچھ لیا۔” رضوان نے بتایا تو انہوں نے کچھ نہیں کہا۔ وہ لنچ کرنے کے بعد اٹھ گئے رضوان نے کاؤنٹر پر جاکر بل ادا کیا اور باہر آیا تو وہ بھی اس کے ساتھ آئیں وردہ نے اسے آئسکریم پارلر چلنے کی ضد کی تو وہ اثبات میں سر ہلا کر ان کے ساتھ آگے بڑھ گیا۔ آئسکریم پارلر ریستوران کے سامنے بنا ہوا تھا اس لیے وہ پیدل آئے۔
“میرے لیے چاکلیٹ فلیور کی آئسکریم لینا۔” وردہ نے بتایا تو اس نے اسے گھورا۔
“اپنی دوست سے بھی پوچھ کر بتاؤ۔” رضوان نے سارہ کی جانب دیکھا تو وہ بھی اس کی طرف دیکھنے لگی وردہ نے گلا کھنکارا تو وہ رخ بدل گئے۔
“سارہ کے لیے بھی چاکلیٹ فلیور کی آئسکریم لینا۔” اس نے کہا تو وہ آگے بڑھ گیا جبکہ وہ دونوں باتیں کرنے لگیں۔ دس منٹ بعد وہ ہاتھ میں آئسکریم پکڑے آیا اور انھیں دیں تو وہ خوش ہو گئیں اور کار کی جانب بڑھ گئیں۔
اس نے کار میں جاکر ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی جبکہ وہ دونوں بیک سیٹ پر بیٹھ گئیں تو اس نے ڈرائیونگ اسٹارٹ کی۔ وہ فرنٹ مرر سے ان کو دیکھنے لگا تبھی سارہ نے سامنے دیکھا تو اس نے گڑبڑاتے ہوئے اپنی توجہ ڈرائیونگ پر مرکوز کرلی۔ راستے میں انہوں نے باتیں کیں جیسے ہی رضوان نے سارہ کے گھر کے سامنے کار روکی تو وہ اپنا پرس اٹھا کر باہر نکل گئی۔
“شکریہ!” اس نے مسکراتے ہوئے کہا تو وہ اس کی جانب دیکھنے لگے۔
“کوئی بات نہیں ہے۔” رضوان نے خوشی سے کہا تو وہ ہلکی مسکراہٹ چہرے پر سجائے وہاں سے چلی گئی جبکہ وہ اس طرف دیکھنے لگا۔
“گھر چلو۔” وردہ نے دانت پیستے ہوئے کہا تو اس
نے اثبات میں سر ہلایا اور کار کو آگے بڑھا گیا۔
کچھ دیر کی مسافت کے بعد اس نے وردہ کے گھر کے سامنے کار روکی۔
“تم گھر نہیں آرہے کیا؟” اس نے پوچھا۔
“مجھے آفس میں کچھ کام ہے، اس لیے وہاں جاؤں گا۔” اس نے بتایا تو وہ کار سے باہر نکلی۔
“ٹھیک ہے۔” اس نے باہر آکر کہا تو رضوان نے کار اسٹارٹ کی اور آگے بڑھ گیا جبکہ وہ گھر چلی گئی۔


وہ اجمل صاحب کے ساتھ باہر آیا تھا۔ وہاں کے لوگ شام کے وقت باتیں کرنے کے لیے باہر آتے تھے اور طویل باتیں کرتے تھے۔ ان کا موضوع گفتگو سیاست، اور سکھر شہر کے حالات ہوتا تھا۔ وہ وہاں بیٹھے محوِ گفتگو تھے جب راحیل کے موبائل کی رنگ ٹون بجی۔ ریاض صاحب کے نمبر سے کال تھی اس نے اٹینڈ کی تو ریاض صاحب نے اسے اپنی کمپنی میں ہونے والے مسئلے کے بارے میں بتایا اسے حیرانی ہوئی۔
“بابا اس نے آپ کے ساتھ ایسا کیوں کیا؟” اس نے ناسمجھی سے پوچھا۔
“اس نے پیسوں کی لالچ کی وجہ سے یہ سب کیا، ہم آج رات کراچی واپس جائیں گے، تم تیار رہنا۔” ریاض صاحب نے آہستہ سے بات کی وہ اس وقت پریشان تھے۔
“بابا آپ پریشان مت ہوں۔” اس نے تسلی سے کہا۔
“ہاں!” انہوں نے کہا اور رابطہ منقطع کر دیا جبکہ اس نے اجمل صاحب کو بتایا اور ان کے ساتھ حویلی چلا گیا۔
اس نے حویلی کے اندر داخل ہو کر اپنے قدم کمرے کی جانب بڑھائے۔ کمرے میں آکر اس نے پیکنگ کی اور بیڈ پر بیٹھ گیا۔ اس نے موبائل میں آدمی کا نمبر ڈائل کیا کال جا رہی تھی مگر اٹینڈ نہیں کی گئی تو وہ اٹھ کر کمرے سے باہر چلا گیا۔ وہ لاؤنج میں آیا تو ملازمہ کچن میں جا رہی تھی اس نے ملازمہ کو بلا کر چائے بنانے کا کہا اور صوفے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا کچھ دیر بعد اس نے ہانیہ کی آواز سنی تو اسے دیکھنے لگا وہ پیلے رنگ کے لباس میں ملبوس، دوپٹہ سر پر پہنے، نظریں جھکائے کھڑی تھی اس کے ہاتھ میں ٹرے تھا۔
“چائے۔” ہانیہ نے ٹرے ٹیبل پر رکھا۔
“میں نے ملازمہ کو چائے بنانے کا کہا تھا۔” راحیل نے اسے جاتے ہوئے دیکھ کر کہا تو وہ رک گئی۔
“وہ کھانا بنا رہی ہیں، چائے اس نے بنائی ہے میں لے کر آگئی۔” ہانیہ نے بتایا۔
“اچھا اور تم نے ایسا کیوں کیا؟” راحیل نے اسے سوالیہ نگاہوں سے دیکھا مگر وہ خاموش رہی۔
“کیا ہوا جواب دو؟” اس نے پھر سے پوچھا تو وہ اسے دیکھنے لگی۔
“ایسے ہی میں چائے لے کر آگئی۔” اس نے آہستہ سے بتایا اور اردگرد دیکھا تو وہ ہنسنے لگا۔
“کسی خوش فہمی میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔” راحیل نے طنزیہ لہجے میں کہا اور اٹھ کر سیڑھیوں کی جانب بڑھ گیا جبکہ وہ اپنی آنکھوں کی نمی کو صاف کرکے کچن میں چلی گئی۔

جاری ہے
 
وہ رات دس بجے کے قریب کراچی کے لیے روانہ ہو گئے تھے ان کے جانے کے بعد ہانیہ اداسی سے لاؤنج میں بیٹھ گئی اسے راحیل کی بات یاد آئی تو ناجانے کیوں اس کی آنکھیں پھر سے نم ہو گئیں اس نے دونوں ہاتھ منہ پر پھیرے اور اٹھ کر کھڑی ہو گئی۔ تبھی اس کا دھیان ریحان کی جانب گیا وہ پریشانی میں ٹہل رہا تھا اس نے آگے
بڑھ کر پوچھنا چاہا تبھی اس نے اپنے قدم روکے وہ اس سے کچھ پوچھتی تو وہ اسے ڈانٹتا وہ دلبرداشتہ ہوتی ہوئی اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔

وہ صوفے پر بیٹھا ہوا اس کے بارے میں سوچ رہا تھا وہ لڑکی حاضرِ جواب اور ذہین تھی، اس نے اپنے خیالوں کو جھٹکا اور ٹیبل سے موبائل اٹھا کر نمبر ڈائل کیا تو کچھ دیر بعد کال رسیو کی گئی۔
“میں نے تمہیں کچھ کام دیا تھا۔” اس نے دبی ہوئی آواز میں کہا۔
“ہاں، ریاض کی فیمیلی کچھ دیر پہلے کراچی کے لیے نکل گئی ہے، میں نے اپنے آدمیوں کو ان کے پیچھے بھیجا ہے۔” اس آدمی نے بتایا۔
“ٹھیک ہے، صرف فائرنگ کرنی ہے کسی کو نقصان مت پہچانا۔” فواد نے اسے یاد دلایا۔
“ہاں ٹھیک ہے۔” اس آدمی نے کہا تو فواد نے کال کاٹی اور اٹھ کر بیڈ کی جانب بڑھ گیا۔ وہ جیسے ہی بیڈ پر بیٹھا اس نے آنکھیں موندیں تبھی ماضی کی کچھ یادیں اس کے ذہن میں گردش کرنے لگیں۔
“فواد جلدی کرو مجھے یونیورسٹی کے لیے دیر ہو رہی ہے۔” ساجد نے گھڑی میں ٹائم دیکھا جہاں صبح کے آٹھ بج رہے تھے۔
“ناشتہ تو کرو، تمہارے حصے کا ناشتہ بھی عماد اٹھا رہا ہے۔” فواد نے مزاحیہ انداز میں کہا تو اسے
ہنسی آگئی۔
“میں یونیورسٹی میں ناشتہ کر لوں گا تم باہر آؤ۔” ساجد نے کہا اور اپنا بیگ اٹھائے باہری دروازے کی جانب بڑھ گیا جبکہ اس نے جلدی سے اپنا بیگ اٹھایا اور باہر آیا تو وہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا ہوا موبائل استعمال کر رہا تھا اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔
“ہونے والی بھابھی سے بات کر رہے ہو کیا؟” فواد کی بات سن کر اس کے چہرے کا رنگ زرد پڑ گیا اس نے موبائل کو رکھا۔
“تمہیں اس بات سے مطلب نہیں ہونا چاہیے سمجھے؟” اس نے غصے میں ڈپٹا تو فواد نے حیرانی سے اسے دیکھا وہ کیوں اسے ڈپٹ رہا تھا اسے سمجھ نہیں آئی۔
“تم غصہ کیوں کر رہے ہو؟ میں نے تو صرف پوچھا ہے۔” فواد نے ناسمجھی سے اسے دیکھا تو اس نے ڈرائیونگ اسٹارٹ کی۔
“تم مجھے یہ بتاؤ، تمہاری کالج کی پڑھائی کیسی ہو رہی ہے؟ پیپرز ہو گئے کیا؟” اس نے اپنے غصے پر قابو کیا اور اس سے پوچھا تو فواد نے منہ بنایا۔
“پڑھائی اچھی ہو رہی ہے، پیپرز ابھی نہیں ہوئے۔”
اس نے بتایا تو ساجد نے اس کے کالج کے سامنے کار روکی وہ بیگ اٹھا کر باہر آیا۔
“اپنی پڑھائی پر توجہ دو۔” ساجد نے مسکراتے ہوئے کہا تو وہ اثبات میں سر ہلا کر چلا گیا
جبکہ اس نے ڈرائیونگ اسٹارٹ کی اور کار کو آگے بڑھا گیا۔
اس کی آنکھوں میں نمی آگئی تو اس نے فوراً آنکھیں کھولیں اور اٹھ کر بیٹھ گیا اس کا بھائی آج اسے شدت سے یاد آرہا تھا اس نے گہرا سانس ہوا کے سپرد کیا نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی وہ اٹھ کر اسٹڈی روم میں چلا گیا۔


رات کے گیارہ بج رہے تھے وہ کراچی جا رہے تھے۔
راحیل ڈرائیونگ کر رہا تھا جبکہ ریاض صاحب فرنٹ سیٹ پر بیٹھے ہوئے پریشان تھے انہوں نے پیچھے دیکھا تحریم بیگم اور کنزہ بیک سیٹ پر بیٹھی ہوئی باتیں کر رہی تھیں۔ اچانک فائرنگ کی آواز گونجی تو راحیل نے بیک ویو مرر سے دیکھا بائیک پر سوار کچھ آدمی فائرنگ کر رہے تھے اس نے کار کی اسپیڈ بڑھائی تو آدمی نے بھی اپنی بائیک کی اسپیڈ بڑھائی۔
“تم راستہ بدلو۔” ریاض صاحب نے کہا تو اس نے گاڑی کو موڑا۔
“بابا یہ فائرنگ کیوں کر رہے ہیں؟” کنزہ نے ناسمجھی سے پوچھا تو وہ اس کی جانب متوجہ ہوئے۔
“مجھے لگ رہا ہے فیصل نے انھیں یہاں بھیجا ہے۔” انہوں نے پرسوچ انداز میں کہا اور باہر دیکھنے لگے بائیک پر سوار آدمی نے بائیک کو ٹرن کیا اور چلا گیا جبکہ انہوں نے پرسکون ہو کر سیٹ سے ٹیک لگا لی۔
“فیصل انکل نے انھیں یہاں کیوں بھیجا ہوگا؟” کنزہ نے ناسمجھی سے پوچھا تو وہ خاموش ہی رہے۔
“تمہیں وجہ نہیں پتا؟” راحیل نے حیرانی سے پوچھا۔
“نہیں۔” اس نے نفی میں سر ہلایا۔
“میں نے کنزہ کو کچھ نہیں بتایا۔” تحریم بیگم نے کہا تو انھیں بات کی سمجھ آئی۔ گاڑی میں خاموشی چھا گئی جبکہ کنزہ نے ناسمجھی سے ان کی جانب دیکھا کسی نے کچھ نہیں بتایا تو اس نے آرام کرنے کی غرض سے آنکھیں موند لیں۔
 

رات کے بارہ بج رہے تھے وہ پولیس یونیفارم میں ملبوس ہاتھ میں گن اٹھائے ہوئے تھے۔ کچھ دیر پہلے ہی وہ اس علاقے میں آئے تھے انھیں بتایا گیا تھا اس علاقے میں رات کے وقت چوری جیسی واردات ہوتی ہیں وہ گلی کے نکر میں کھڑے ہو گئے۔
“رضوان تم اس طرف چلے جاؤ۔” آفیسر نے اسے کہا تو اس نے اثبات میں سر ہلایا اور اپنے قدم آگے بڑھائے وہ اردگرد دیکھتا ہوا چل رہا تھا جب بائیک کی آواز سن کر وہ رک گیا۔ کچھ لوگ بائیک پر سوار تھے۔ ان کے ہاتھ میں گن تھی رضوان سائیڈ میں ہو گیا اور انھیں دیکھنے لگا۔ کچھ دیر بعد وہ بائیک سے اتر کر آئے اور اردگرد دیکھنے لگے۔
“تم اس گھر میں جاؤ، میں وہاں جاتا ہوں۔” آدمی نے سرگوشی کی جبکہ رضوان نے اپنے قدم آگے بڑھائے اور ان کی طرف گیا۔
“کیا کر رہے ہو تم؟” آدمی جیسے ہی گھر کی جانب بڑھا رضوان نے اسے روکتے ہوئے پوچھا تو وہ گھبرا کر اسے دیکھنے لگا۔
“پولیس۔” آدمی منمنایا تھا۔
“ہاں پولیس، گن مجھے دو۔” رضوان نے کہا تو اس نے اردگرد دیکھا اس کے ساتھ جو آدمی آیا تھا وہ اب اسے دیکھ رہا تھا جیسے ہی رضوان نے قدم آگے بڑھائے ان آدمیوں نے فائرنگ کرنا شروع کر دی پولیس آفیسرز بھاگتے ہوئے وہاں آئے۔
“ہمیں جانے دو۔” آدمی نے گن کا رخ رضوان کی جانب کیا تو اس نے حیرانی سے اسے دیکھا۔
“کیوں جانے دوں؟” اس نے سوالیہ نگاہوں سے دیکھتے ہوئے پوچھا تب تک پولیس آفیسرز وہاں آچکے تھے۔ اس آدمی نے جیسے ہی بھاگنے کی کوشش کی پولیس کانسٹیبل نے اسے روکا جبکہ اس کے ساتھ جو آدمی تھا وہ بھاگنے لگا تو رضوان بھی اس کے پیچھے بھاگا اور اسے پکڑ لیا۔
“کیا کر رہے تھے یہاں؟” رضوان نے دبی ہوئی آواز میں دریافت کیا۔
“ہمیں جانے دو۔” اس آدمی نے دھکا دینے کی کوشش کی تو رضوان نے اس کے چہرے پر مکا رسید کیا وہ آدمی چیخنے لگا تو پولیس کانسٹیبل وہاں آیا اور اسے پکڑ کر گاڑی کی جانب بڑھ گیا جبکہ رضوان نے میسج ٹائپ کرکے سینڈ کیا اور ان کے ساتھ گاڑی کی جانب بڑھ گیا۔

صبح کے آٹھ بج رہے تھے وہ کراچی جانے کے لیے تیار تھا اس نے سائیڈ ٹیبل سے موبائل اٹھایا اور پاسورڈ لگایا تو اسکرین پر میسج آیا۔
میرا مشن مکمل ہو گیا ہے۔” رضوان کے نمبر سے میسج تھا۔
اس نے رپلائی کرکے موبائل کو آف کیا تبھی کمرے کا دروازہ نوکڈ ہوا۔
“آجاؤ۔” اس نے اجازت دی تو عماد کمرے کے اندر داخل ہوا۔
“بھائی مجھے آپ سے بات کرنی ہے۔” اس نے آہستہ سے بتایا تو فواد نے ناسمجھی سے اسے دیکھا وہ کب اتنا سنجیدہ ہوتا تھا۔
“ہاں بتاؤ۔” وہ صوفے پر بیٹھ گیا۔
“میری یونیورسٹی کی چھٹیاں ہیں، میں بھی کراچی چلوں گا۔” اس نے بتا کر سامنے دیکھا فواد اسے گھور رہا تھا۔
“کیوں چلو گے؟” اس نے سوالیہ نگاہوں سے دیکھا۔
“کراچی شہر گھوموں گا۔” اس نے جلدی سے جواب دیا۔
“تم نے پچھلی بار بھی یہی جواب دیا تھا۔” فواد نے اسے یاد دلایا۔
“اس بار وجہ کچھ اور ہے۔” اس نے مسکراتے ہوئے
بتایا تو فواد نے ابرو اچکائی۔
“کیا وجہ ہے؟” اس نے تجسس کے سبب پوچھا۔
“مجھے آپ کے لیے لڑکی ڈھونڈنی ہے۔” اس نے کہا اور دروازے کی جانب بھاگا۔
“کیا مطلب ہے؟” فواد نے ناسمجھی سے پوچھا تو اس کا قہقہہ کمرے میں گونجا۔
“آپ نے بتایا نہیں آپ کو کوئی لڑکی پسند ہے۔” اس نے پرسوچ انداز میں کہا تو وہ ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگا۔
“تمہیں کس نے کہا ہے مجھے کوئی لڑکی پسند ہے۔” اس نے ناسمجھی سے پوچھا۔
“مجھے کسی نے نہیں بتایا کہ آپ کو لڑکی پسند ہے آپ نے بھی نہیں بتایا۔ اس لیے تو کراچی چل رہا ہوں تاکہ مجھے پتا چلے کہ کوئی لڑکی آپ کو پسند ہے کیا؟” اس نے بتایا تو وہ حیرانی سے اسے دیکھنے لگا۔
“تم اس لیے کراچی چل رہے ہو؟” اس نے پوچھا تو وہ مسکرانے لگا۔
“ہاں! ویسے نیوز اینکر بھی اچھی ہے۔” عماد نے یاد آنے پر کہا تو وہ حیرانی سے اسے دیکھنے لگا۔
“نیوز اینکر۔” فواد بڑبڑایا تھا۔
“میں بیگ پیک کرنے جا رہا ہوں۔” عماد نے کہا اور کمرے سے باہر چلا گیا جبکہ وہ گہری سوچ میں مبتلا ہو کر رہ گیا۔


وہ لاؤنج میں آیا تو فیصل صاحب صوفے پر براجمان تھے جبکہ سدرہ بیگم کچن میں کام کر رہی تھیں اس نے سلام کیا اور صوفے پر بیٹھ گیا تو فیصل صاحب نے اسے سلام کا جواب دیا اور اخبار کو ٹیبل پر رکھا۔
“تم عماد کو بھی ساتھ لے کر جا رہے ہو کیا؟” انہوں نے پوچھا۔
“جی بابا، وہ کراچی جانا چاہتا ہے۔” اس نے جواباً بتایا۔
“اس کا اور اپنا خیال رکھنا۔” فیصل صاحب نے فکرمندی سے کہا۔
“آپ فکر مت کریں، میں خیال رکھوں گا۔” اس نے
مسکراتے ہوئے کہا اور انھیں اپنی جاب کے بارے میں بتانے لگا۔
“ماما، بابا آپ دونوں بھی کراچی چلیں۔” عماد نے
اپنے کمرے سے باہر نکلتے ہوئے کہا اس کا کمرہ نیچے والے فلور پر تھا۔
“ہم اگلے ہفتے آئیں گے، ابھی مجھے یہاں کام ہے۔”
فیصل صاحب نے بتایا۔
“یہ تو خوشی کی بات ہے۔” فواد نے مسکراتے ہوئے
کہا تو جواباً وہ بھی مسکرا دیے۔
“عماد، فواد کو تنگ مت کرنا، اور اپنا خیال رکھنا۔” فیصل صاحب نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تو اس نے فواد کی طرف دیکھا۔
“میں اسے تنگ کرنے کے لیے ہی کراچی جا رہا ہوں۔” اس نے شرارتی لہجے میں کہا تو وہ دونوں مسکرانے لگے۔
“پھر تو تمہیں نہیں جانا چاہیے۔” فیصل صاحب نے پرسوچ انداز میں کہا تو وہ ناسمجھی سے انھیں دیکھنے لگا۔
“اتنے مہینوں بعد مجھے کراچی جانے کا موقع ملا ہے، پولیس آفیسر فواد کے پیسوں سے خوب شاپنگ کروں گا، ریستوران میں کھانا کھاؤں گا۔” وہ نان اسٹاپ بولنا شروع ہو گیا تھا جبکہ اس کی بات سن کر وہ مسکرانے لگے۔ سدرہ بیگم لوازمات سے بھرا ٹرے لے کر وہاں آئیں اور اسے ٹیبل پر رکھا۔
“فواد کراچی میں رہتا ہے، تم بھی جاؤ گے تو میں اداس ہو جاؤں گی۔” سدرہ بیگم نے نم آنکھوں سے انھیں دیکھا۔
“ماما اگلے ہفتے آپ بھی تو بابا کے ساتھ کراچی آئیں گی، اداس مت ہوں۔” عماد نے سنجیدگی سے کہا تو وہ حیرانی سے اسے دیکھنے لگے کچھ دیر قبل وہ مسکرا رہا تھا اور اب سدرہ بیگم کو اداس دیکھ کر وہ بھی اداس ہو گیا تھا۔
“میں جب سے کراچی گیا ہوں، آپ مجھے بھول گئی ہیں۔” فواد نے شرارتی لہجے میں کہا تو وہ اس کی جانب متوجہ ہوئیں۔
“میں تمہیں کیسے بھول سکتی ہوں، تم مجھے بہت عزیز ہو، تمہیں پتا بھی ہے تم جب سے کراچی گئے ہو میں تمہارے لیے بہت پریشان رہتی ہوں۔” سدرہ بیگم نے روتے ہوئے کہا۔
“ماما میں بھی آپ کو بہت یاد کرتا ہوں، آپ اداس مت ہوں میں کوشش کروں گا ہر ہفتے سکھر آیا کروں۔” اس نے انھیں دلاسہ دینا چاہا تو سدرہ بیگم نے اپنی آنکھوں سے آنسو صاف کئے۔
“اپنا اور عماد کا خیال رکھنا اور کراچی پہنچ کر ہمیں اطلاع دینا۔” انہوں نے فکر مندی سے کہا تو اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
“جی۔” فواد نے کہا اور ان دونوں سے ملا تو عماد
بھی مسکراتا ہوا ان کے پاس آیا۔
“ماما بابا میں تو بہت خوش ہوں آپ دونوں بھی خوش ہو جائیں۔” اس نے شرارتی لہجے میں کہا تو ان کے چہرے پر مسکراہٹ آئی۔
“ہم بھی خوش ہیں۔” فیصل صاحب نے کہا تو وہ ان سے مل کر باہری دروازے کی جانب بڑھ گئے
اور باہر آکر کار میں بیٹھے تو ڈرائیور نے کار اسٹارٹ کی اور کراچی کے لیے روانہ ہو گئے۔
 
وہ گاڑی سے باہر کے مناظر دیکھ رہی تھی جب اس کے موبائل کی رنگ ٹون بجی اس نے پرس سے موبائل نکالا اور دیکھا اس کے آفس سے میسج کیا گیا تھا اس نے بعد میں بات کرنے کا سوچا اور موبائل کو واپس رکھا تبھی راحیل نے گھر کے سامنے کار روکی تو اس نے مسکراتے ہوئے شیشے سے باہر دیکھا ریاض صاحب کار سے باہر نکلے تو ملازم ان کے پاس آیا اور بات کرنے کے بعد اس نے کار سے بیگ نکالے اور گھر کی جانب بڑھ گیا جبکہ وہ باہر آئی اور تحریم بیگم کے لیے کار کا دروازہ کھولا تو انہوں نے خوشی سے اس کی طرف دیکھا اور اس کے ساتھ اندر کی جانب بڑھ گئیں۔ ریاض صاحب نے راحیل کو بلایا تو اس نے ڈش بورڈ سے اپنا موبائل اٹھایا اور باہر آیا۔
“بابا مجھے کچھ کام ہے میں آفس جا رہا ہوں۔”
اس نے پریشانی میں بتایا۔
“ابھی سکھر سے آئے ہو، آرام کرو کل چلے جانا۔”
انہوں نے کہا۔ وہ انھیں کافی پریشان اور تھکا ہوا لگ رہا تھا۔
“بابا ضروری کام ہے، میں کوشش کروں گا جلدی گھر واپس آؤں۔” اس نے فوراً کہا تو ریاض صاحب نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔
“ایسا کونسا ضروری کام ہے جو تم ابھی آفس جا رہے ہو؟” ریاض صاحب نے طنزیہ انداز میں پوچھا تو اس کے چہرے کا رنگ بھک سے اڑ گیا وہ خاموش رہا۔
“جواب دو۔” انہوں نے پوچھنا چاہا۔
“مجھے آفس جاکر فائل اٹھانی ہے۔” اس نے کچھ دیر کی توقف کے بعد کہا تو وہ اسے گھور کر رہ گئے۔
“ٹھیک ہے جلدی واپس آجانا۔” ریاض صاحب نے کہا تو اس نے اثبات میں سر ہلایا اور کار کی جانب بڑھ گیا جبکہ انہوں نے موبائل میں نمبر ڈائل کیا تو فوراً کال اٹینڈ کی گئی۔
“راحیل کی کار کا پیچھا کرو اور مجھے بتاؤ وہ کہاں جا رہا ہے۔” انہوں نے آہستہ سے بات کی اور اپنے قدم گھر کی جانب بڑھائے۔
“ٹھیک ہے۔” آدمی نے جواباً کہا تو ریاض صاحب نے کال کاٹی اور لاؤنج کی جانب بڑھ گئے۔


وہ اپنے کمرے میں آکر سو گئی تھی۔ اس کے موبائل کی رنگ ٹون کب سے بج رہی تھی اس نے اٹھ کر سائیڈ ٹیبل سے موبائل اٹھایا اور کال اٹینڈ
کی۔
“ہم تمہارے گھر آئے ہیں، لاؤنج میں بیٹھے ہوئے کب سے تمہارا انتظار کر رہے ہیں ملازمہ نے بتایا تم سو رہی ہو سارہ نے کہا واپس گھر چلتے ہیں میں نے سوچا تمہیں کال کرکے اطلاع دوں ہم واپس جا رہے ہیں۔” وردہ نے بتایا تو وہ بیڈ سے اتری اور چپل پہن کر کمرے سے باہر آئی۔ خوشی کے سبب اس نے جواب بھی نہیں دیا تھا جبکہ وردہ مسلسل بول رہی تھی۔
وہ لاؤنج میں آئی تو سارہ اور وردہ صوفے پر بیٹھی ہوئی تھیں۔
“میں نے وردہ سے کہا کل کنزہ سے ملنے چلیں گے
لیکن یہ ضد کرنے لگی اس لیے ہم تم سے ملنے آئے۔” سارہ نے بتایا۔
“مجھے کنزہ کی یاد آرہی تھی اس لیے میں نے ضد کی تھی۔” وردہ نے مسکراتے ہوئے بتایا۔
“مجھے بھی تم دونوں کی یاد آرہی تھی۔” کنزہ نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا۔
“اچھا۔ اس لیے ہمیں کال نہیں کرتی تھی؟” وردہ نے اسے گھورا۔
“تم ناراض تو مت ہو۔” کنزہ نے کہا تو وہ ہنسنے
لگی۔
“تم سے ناراض کیوں ہوں گی۔” اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔
“سارہ اس نے تمہیں تنگ تو نہیں کیا؟” کنزہ نے اپنی مسکراہٹ چھپائی اور اس سے پوچھا تو سارہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے وہ ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی۔
“سارہ تم رو کیوں رہی ہو؟” اس نے فکرمندی سے
پوچھا تو وہ دونوں ہاتھوں میں منہ چھپائے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
“سارہ کا رشتہ جس لڑکے سے طے ہوا تھا اس نے شادی کرنے سے انکار کر دیا ہے، یہ اس کی وجہ سے رو رہی ہے۔” وردہ نے بتایا تو وہ حیران ہی رہ گئی۔
“اس نے شادی سے انکار کیوں کیا؟” اس نے غصے
میں دریافت کیا۔
“وہ اپنی کزن سے شادی کرنا چاہتا ہے۔” وردہ نے بتایا۔
“تم مجھے اس لڑکے کا ایڈریس دو۔” اس نے سارہ
سے کہا تو وہ ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی۔
“مجھے اس کے گھر کا ایڈریس نہیں پتا۔” اس نے
بتایا۔
“تم رونا بند کرو، جس انسان کو ہماری قدر نہ ہو اس کے لیے رونا فضول ہے۔” کنزہ نے اسے چپ کرواتے ہوئے کہا تو اس نے اپنے آنسو صاف کئے۔ اس کا رشتہ جس لڑکے سے ہوا تھا وہ اپنی کزن کو پسند کرتا تھا تو وہ اس کے لیے کیوں روتی۔
“جب رشتے والی نے رشتہ کروایا تھا تب اس لڑکے نے کیوں نہیں بتایا وہ اپنی کزن کو پسند کرتا ہے؟” وردہ نے پوچھا تو وہ اس کی طرف دیکھنے لگیں۔
“اس کی والدہ اس رشتے سے ناخوش تھیں اس لیے انہوں نے رشتے والی سے رشتہ کروانے کا کہا تھا۔” سارہ نے بتایا تو انھیں سمجھ آئی۔
ملازمہ نے کچن سے آکر لوازمات سے بھرا ٹرے رکھا
اور کچن میں چلی گئی۔
“مجھے تم دونوں کو کچھ بتانا ہے۔” کنزہ نے کہا تو وہ اس کی جانب دیکھنے لگیں۔
“کیا بتانا ہے؟” سارہ نے تجسس کے سبب پوچھا۔
“فواد سکھر شہر میں رہتا ہے۔” اس نے ساری بات انھیں بتائی تو وہ حیرانی سے اسے دیکھنے لگیں۔
“تم اس کے گھر گئی تھی کیا؟” وردہ نے پوچھا تو وہ اسے گھور کر رہ گئی۔
“میں اس کے گھر کیوں جاؤں گی؟” اس نے منہ
بناتے ہوئے کہا تو وہ ہنسنے لگیں۔
“ویسے پولیس آفیسر ہینڈسم ہے۔” سارہ نے دانت نکالتے ہوئے کہا۔
“میں آنٹی کو بتاؤں گی۔” کنزہ نے غصے میں کہا تو وہ پریشان ہو گئی۔
“تم ماما کو مت بتانا وہ مجھے ڈانٹیں گی۔” اس نے منع کیا۔
“ٹھیک ہے، تم چائے پیو۔” کنزہ نے چائے کا کپ اٹھایا تو انہوں نے بھی کپ اٹھایا تبھی وردہ کے موبائل کی رنگ ٹون بجی تو اس نے پرس سے موبائل نکالا اور نمبر دیکھا۔
“ماما کے نمبر سے کال ہے۔” وردہ نے بتایا اور کال
اٹینڈ کرکے صوفے سے اٹھ گئی اور سائیڈ پر جاکر بات کرنے لگی۔
اس کی والدہ نے بات کرکے رابطہ منقطع کیا تو وہ
صوفے کی طرف جانے لگی تبھی اس کی نظر راحیل پر گئی وہ موبائل میں نظریں کئے آرہا تھا اسے دیکھ کر رک گیا۔
“تم یہاں کیوں آئی ہو؟” اس نے موبائل کو آف کیا اور اس سے پوچھا تو اسے خوشی ہوئی۔
“کنزہ سے ملنے آئی ہوں، تمہیں کوئی مسئلہ ہے کیا؟” اس نے گھورتے ہوئے پوچھا تو وہ غصے میں اسے دیکھنے لگا۔
“وہ تھکی ہوئی ہے اور تم ملنے آگئی۔” اس نے طنزیہ انداز میں کہا تو اس نے کنزہ کی طرف دیکھا جو مسکرا کر سارہ سے بات کر رہی تھی۔
“تم بھی سکھر سے آئے ہو، تھکے ہوئے ہوگے پھر باہر کیوں گئے تھے؟” وردہ نے اس کی بات کو نظرانداز کرکے پرسوچ انداز میں پوچھا۔
“میں تمہیں جواب دہ نہیں ہوں۔” راحیل نے کہا اور اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا جبکہ وہ اپنا غصہ ضبط کرتی ہوئی صوفے کی طرف آئی۔
“گھر چلیں، ماما نے جلدی آنے کا کہا ہے۔” اس نے
بتایا تو سارہ نے اثبات میں سر ہلایا اور صوفے سے اٹھ گئی۔
“اپنا خیال رکھنا۔” کنزہ نے کہا تو وہ مسکرانے لگی۔
“ٹھیک ہے۔” سارہ نے کہا اور وردہ سے بات کرتی ہوئی باہری دروازے کی جانب بڑھ گئی جبکہ کنزہ صوفے پر بیٹھ گئی۔

شام کے چھ بج رہے تھے وہ کراچی پہنچ گئے تھے۔
اس نے اپنے فلیٹ کے سامنے کار روکی اور باہر نکل آیا تو عماد نے اپنا موبائل سیٹ سے اٹھایا اور کار سے باہر آیا۔ گارڈز نے اپنی کار کو پارک کیا اور فواد کی طرف آئے۔
“آرام کرو، کل مجھے آفس جانا ہے تب ڈیوٹی پر آجانا۔” فواد نے انھیں کہا۔
“ٹھیک ہے۔” سیکیورٹی گارڈ نے کہا اور اپنے قدم
آگے بڑھا دیے۔ ان کا گھر اسی گلی میں تھا۔
“رضوان کہاں ہے؟” عماد کے پوچھنے پر وہ اس کی جانب متوجہ ہوا جو اسی کی طرف دیکھ رہا تھا۔
“میں نے اس سے کال کرکے پوچھا تھا وہ ڈیوٹی سے آگیا ہے، فلیٹ میں ہے۔” اس نے بتایا تو عماد نے کار سے اپنا بیگ نکالا اور اسے اٹھا کر اندر کی جانب بڑھ گیا جبکہ وہ بھی اس کے پیچھے چلا گیا۔
فلیٹ کے اندر جیسے ہی داخل ہو لاؤنج بنا ہوا تھا،
اس میں چار کمرے تھے جبکہ سائیڈ پر کچن بنا ہوا تھا۔ دیواروں پر سفید رنگ کیا گیا تھا۔ وہ کمرے کے اندر داخل ہوا وہاں براؤن رنگ کا فرنیچر رکھا گیا تھا۔ اس نے کمرے میں بیگ رکھا اور بیڈ پر بیٹھ گیا۔
طویل سفر طے کرنے کے باعث وہ تھکاوٹ محسوس کر رہا تھا۔ وہ اپنی سوچوں میں مصروف تھا جب کمرے کا دروازہ نوکڈ ہوا۔
“السلام عليكم! کیسے ہو؟” رضوان نے کمرے کے اندر داخل ہوتے ہوئے پوچھا تو وہ اس کی جانب متوجہ ہوا۔
“وعليكم السلام! ٹھیک ہوں۔” اس نے جواباً کہا اور بیڈ سے اٹھ کر اس سے ملا۔
“تم آرام کرو، ڈنر پر بات ہوگی۔” رضوان نے کہا۔
“ٹھیک ہے۔” اس نے مسکراتے ہوئے کہا تو وہ کمرے
سے باہر چلا گیا جبکہ عماد نے سونے کی غرض سے آنکھیں موند لیں۔
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Back
Top